Friday, 26 February 2021

احترام شوہر کانفرنس (ایک فکاہیہ تحریر)

  احترام شوہر کانفرنس

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


آج صبح دم ہی پروفیسرٹامک ٹوئیاں ڈوربیل سے اس طرح چپک گئے، جیسے جونک، تسلسل کے ساتھ گھنٹی کی ٹن ٹن نے خواب خرگوش سے اٹھاکرہی دم لیا، تہہ بند تہہ کرتے ہوئے دروازہ کھولاتوپروفیسر کی شکل دیکھ کریقین ہی نہیں آرہاتھا، اتنی صبح! آخربات کیاہے؟پروفیسر نے چہرے کے سامنے ہاتھ نچاتے ہوئے میری سوچ کی ڈور کوتوڑتے کہا: اماں! یہ میں ہوں، تمہارا دوست، پروفیسر، اندرآنے کونہیں کہوگے کیا؟چونکتے ہوئے میں نے آں اوں کیا اورپروفیسر کوڈرائنگ روم میں بٹھایا۔

پروفیسر کے بغل میں گول لپیٹے ہوئے اخبار پرنظرپڑی توسمجھ گیاکہ آج کچھ نیاہے، ورنہ پروفیسر اتنی صبح نہیں آدھمکتے، ابھی انھوں نے بغل کی طرف ہاتھ ہی بڑھایاتھا کہ میں نے کہا: آپ تشریف رکھ کرسانسیں درست کریں، تب تک میں تقاضائے بشریت سے نمٹتے ہوئے حلیہ درست کرآتاہوں، پھرگفتگو کریں گے، ’’اماں! چائے وغیرہ ساتھ میں لانا نہ بھولنا‘‘کے جملہ کااضافہ کرتے ہوئے وہ صوفہ پردراز ہوگئے اورباقاعدہ سانسیں اس انداز میں درست کرنے لگے، جیسے رام دیوکے مایہ ناز شاگرد ہوں۔

کچھ دیرکے بعدجب میں کمرے میں داخل ہوا توکمرے میں ایسی آوازیں گونج رہی تھیں، جیسے سانپ سیٹی بجارہاہو، اول وہلہ میں توچونکنالازم تھا؛ لیکن جب آواز کی طرف کان لگایاتوطمانینت حاصل ہوئی کہ یہ سانپ نہیں؛ بل کہ پروفیسرصاحب کی سانسیں درست کرنے کی آواز تھی، جواس لاشعوری کی حالت میں نکل رہی تھی، جس میں وضوبھی شکست ہوجایاکرتاہے، میں نے انھیں آواز دی تووہ ہڑبڑا اٹھے اورمعذرت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’ میں اتنی لمبی سانسیں درست کرنے کاعادی نہیں ہوں، وہ توتمہارے صوفہ کاکمال ہے کہ اتنا وقت لگ گیا‘‘، پھرٹرے پرنظرڈالتے ہوئے کہا: ہاں ! اب بیٹھو اطمینان سے ، میں بھی اطمینان سے آیاہوں اوردانستہ طور پرفون بھی ساتھ میں نہیں لایاہوں۔

اطمینان سے آئے وہ توٹھیک ہے؛ لیکن آج کے زمانہ میں فون کے بغیرآئے، جب کہ لوگ فون کے ساتھ اس طرح چپکے رہتے ہیں، جیسے ہاتھی پارک میں سویٹ سکسٹین (Sweet Sixteen) کے ساتھ سالٹی ٹوینٹی ٹو(Salty Twenty Two)چپکارہتاہے، یہ ذراباؤنس کررہاہے، ذرا تفصیل کیجئے، تفصیل کانام سنتے ہی پروفیسر صاحب کی بانچھیں کھل گئیں؛ کیوں کہ انھیں سب سے زیادہ اس وقت غصہ آتاہے، جب کوئی انھیں وقت کی تقیید کے ساتھ کچھ کہنے کے لئے کہے ، ان کاماننا ہے کہ وقت کی تقیید اوروہ بھی اسٹیج پر مائک سامنے بالکل ایساہی ہے، جیسے بلاغت میں ’’تعقید‘‘ ، وہ اسے ’’تنافرکلمات‘‘ سے تعبیرکرتے ہیں؛ بل کہ جب انھیں کوئی دعوت اسٹیج دیتاہے توپہلاسوال یہ کرتے ہیں کہ ’’ہمیں بولنے کے لئے وقت ملے گا یانہیں؟ اوردوسرا سوال یہ ہوتاہے کہ اگروقت ملے گاتوتقیید تونہیں ہوگی؟‘‘، اگرجواب ہاں اورنہیں میں(لف ونشرمرتب طورپر) ہوتاہے تودعوت قبول کرتے ہیں، ورنہ ان شاء اللہ تعالیٰ کی جگہ ان شاء اللہ ٹالا کہہ دیتے ہیں۔

کھلی بانچھوں کے ساتھ انھوں نے کچھ اس طرح تفصیل بتائی: ’’برخوردار! تمہیں تومعلوم ہے کہ میں ایک عدد اکلوتی بیوی کا بے چارہ شوہرہوں اورویمن امپاورمینٹ کے اس زمانہ میں شوہرکی مثال بالکل ایسی ہی ہے، جیسے اسرائیلی فوج کے سامنے فلسطینی معصوم بچہ، اگربے چارہ شوہرکسی طرح چھپ چھپاکراپنے دوست سے بھی ملنے جاتاہے توبیوی کی طرف سے فون پر وہ تابڑتوڑڈرونی حملے ہوتے ہیں کہ بے چارہ انرائیڈ موبائل بھی سوچنے لگتاہے کہ عنکبوتی جنجال میں کہاں پھنس گئے ہیں؟ کبھی کبھی تووہ زبان قال سے کہہ اٹھتا ہے کہ کاش ! میری تخلیق(Creation)ہی نہیں ہوئی ہوتی، ایسے ڈرونی حملے سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے؛ لیکن’’ نسوانی جاسوسیت‘‘ کی وجہ سے اکثرجھوٹ پکڑا جاتاہے ، پھر جوسننی پڑتی ہے، وہ توالگ، اوپرسے بطورسزا کئی کیلومیٹردورچلنے کے بعد بھی جب خالی ہاتھ گھرمیں داخل ہوتے ہیں تو’’آپ کسی کام کے نہیں، کچھ بھی کہولانے کے لئے، آپ کوملتا ہی نہیں‘‘ کے بم کی وجہ سے احساسات پرجوزخم لگتے ہیں، اس کے درد کااحساس کسی بے چارے شوہرسے ہی جاناجاسکتاہے۔

اچھاوہ کیالانے کی لئے کہتی ہے؟ اس پرجوانھوں نے جواب دیا، اسے سن کریہی محسوس ہوتا ہے کہ اگروہ جیو انتقام پراترآئے تواللہ کی پناہ! اس کاسامان کسی بھی پرچون کی دوکان میں مل جائے گا؛ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ خودلانے کے لئے جائے یاسیدھے منھ اس کانام بتادے؛ لیکن جب سزادیناچاہتی ہے تومنجھے ہوئے حکیم کی طرح ایسانام بتاتی ہے، جس کاسمجھ پاناعام آدمی کے لئے ہی نہیں، عام دوکان داروں کے بھی بس کاروگ نہیں۔

وقت کافی ہوگیا تھا اورکافی بھی ختم ہوچکی تھی؛ اس لئے پروفیسرصاحب نے اپنے بغل سے مدور اخبار کا بنڈل نکالا اورایک اشتہاردکھایا،’’بتقریب شادی خانہ آبادی عظیم الشان اجلاس عام‘‘، پھردوسرااخبارکھولااوراس کے اشتہارکی طرف توجہ دلائی، ’’بہ تقریب عقیقہ عظیم الشان اصلاح معاشرہ کانفرنس‘‘، ایک اوراخبارنکالا، جس میں اشتہارتھا: ’’بتقریب ختنہ عظیم الشان تعلیمی بیداری کانفرنس‘‘، یہ سب دکھانے کے بعدکہنے لگے: میں بھی ایک اشتہاردینا چاہتاہوں، کیسا اشتہار؟ میں نے سوال کیا، کہنے لگے: برخوردار! تم جانتے ہو، اب میرا ریٹائرمنٹ کاوقت قریب ہے اوراب میں بھی اکبرالسن ہوچکاہوں، بیوی کے نخرے ؛ بل کہ اس کے ڈرونی حملے اب برداشت سے باہرہیں، میں کوئی ہالی ووڈ کاہلک(Hulk) تھوڑاہی ہوں کہ کتنوں ہی حملے ہوں؛ لیکن اثرنہ ہو، میں توگوشت پوست کاانسان ہوں؛ اس لئے صرف ایک اشتہارہی نہیں دینا چاہتاہوں؛ بل کہ ایک کانفرنس بھی اپنے پیسے پرمنعقد کرنا چاہتا ہوں، جس کااشتہارہوگا: ’’بتقریب ریٹائرمنٹ عظیم الشان احترام شوہر کانفرنس‘‘، جس میں مقررین اس امرپراظہارخیال فرمائیں گے کہ کم از کم ریٹائرمنٹ کے بعد بے چارے شوہروں کوربوٹ نہ سمجھاجائے اوربے گودے ڈھانچے کے باہرجانے کوشک وشبہ سے بالاترسمجھاجائے،اورحکومتی طورپرتسلیم شدہ شخص کے ساتھ اب احترام کیاجائے، ورنہ ’’بوڑھوں کے گھر‘‘میں ہی سہی ،سکھ کی سانس لینے کے لئے انتقال فرمادیاجائے۔

میں پروفیسرصاحب کی تخلیقی صلاحیت کاپہلے بھی قائل تھا اورآج اس عنوان کوسن کرمزیدقائل ہوگیا،اگرپروفیسرصاحب ایساکرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں(کیوں کہ اسپانسرتوبہرحال ہوم منسٹرکوہی کرناہے)تو یقیناکچھ بے چاروں کابھلاہوجائے گا، میں ان بے چاروں میں توشامل نہیں؛ لیکن دوسروں کی بھلائی کے مدنظر اس کی کامیابی کے لئے ضرور دعاکرتارہوں گا۔ jamiljh04@gmail.com / 8292017888 




Tuesday, 23 February 2021

جنسی تعلیم: ایک جائزہ Sex Education

 

جنسی تعلیم: ایک جائزہ

    تعلیمی موضوعات سے متعلق ایک مسئلہ جنسی تعلیم کاہے، آیابچوں کواس کی تعلیم دی جائے یانہیں ؟یااگردی جائے توکیااس کے لیے عمروغیرہ کی تحدید ہونی چاہیے یانہیں ؟ ذیل میں انہی باتوں کاشرعی نقطۂ نظرسے جائزہ لیاگیاہے۔

     جنسی تعلیم کے سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہرچیز کے لیے ایک وقت ہوتاہے، قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْْء ٍ قَدْراً (الطلاق:۳) اوروقت سے پہلے اس چیزکاحصول نقصان دہ ثابت ہوتاہے، کوئی بھی شخص بخارکی دوابخارلاحق ہونے سے پہلے نہیں کھاتا، جنسی تعلیم کے لیے بھی ایک عمرہوتی ہے، اس اعتبارسے اس مسئلہ کے دوصورتیں ہوتی ہیں :

          ۱-  بلوغ سے پہلے جنسی تعلیم دی جائے۔

          ۲-  بلوغ کے بعدجنسی تعلیم دی جائے۔

    پہلی صورت میں جنسی تعلیم کی بالکل گنجائش نہیں ؛ کیوں کہ یہ عمر اس تعلیم کی متحمل نہیں اورعلماء نے لکھاہے کہ تحمل نہ کرنے والے سامع کوعلم دینا درست نہیں، ابن عقیل ؒ کاقول ہے:

یحرم إلقاء علم لایحتملہ السامع لاحتمال أن یفتنہ۔ (شرح الکوکب المنیر، فصل:للمفتی رد الفتوی: ۴؍۵۸۷) ’’سامع کوایسی تعلیم دینادرست نہیں، جس کاوہ متحمل نہ ہو، فتنہ کی وجہ سے‘‘۔

 ابن جوزیؒ فرماتے ہیں :

لاینبغی إلقاء علم لایحتملہ السامع۔((شرح الکوکب المنیر، فصل:للمفتی رد الفتوی: ۴؍۵۸۷)

’’سامع کوایسی تعلیم دینامناسب نہیں، جس کاوہ متحمل نہ ہو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کاقول ہے:

    ماأنت بمحدث قوماً حدیثاً لاتبلغہ عقولہم؛ إلاکان فتنۃ لبعضہم۔ (مقدمہ مسلم، باب النہی عن الحدیث بکل ماسمع)

غیرپختہ عقل لوگوں کوحدیث سنانے میں یہ خطرہ ہے کہ ان میں سے بعض کے لیے یہ فتنہ ہوجائے۔

    خوداللہ کے رسول ﷺنے ’’غلوطات‘‘ (ایسے مسائل، جن کے ذریعہ سے مغالطہ ہو)سے منع فرمایاہے، حضرت معاویہؓ مروی ہے:

نہی رسول اللہ ﷺ عن الغلوطات۔ (ابوداود، باب التوقی فی الفتیا، حدیث نمبر: ۳۶۵۸، مسندأحمد، حدیث نمبر: ۲۳۶۸۷)

رسول اللہ ﷺ غَلوطات(مشکل اورمغالطہ میں ڈالنے والے مسائل) سے منع فرمایاہے۔

    نیز بلوغ سے پہلے جنسیات کی تعلیم غیرنافع ہے اوراللہ کے رسول ﷺ نے غیرنافع علم سے پناہ مانگی ہے، حضرت زیدبن ارقمؓ ّسے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ دعا فرماتے تھے:

اللہم إنی أعوذ بک من علم لاینفع۔ (مسلم، حدیث نمبر:۲۷۲۲)

اے اللہ! میں غیرنافع علم سے پناہ چاہتاہوں۔

    مذکورہ تمام باتوں سے معلوم ہواکہ بلوغ سے پہلے جنسیات کی تعلیم کسی بھی طورپردرست نہیں۔

    جہاں تک دوسری صورت(بلوغ کے بعدجنسی تعلیم دیئے جانے ) کاتعلق ہے توچندشرطوں کے ساتھ اس کی گنجائش ہونی چاہیے:

          ۱-  بلوغ کے بعداس عمرمیں دی جائے، جس میں اس کی ضرورت محسوس ہو۔

          ۲-  لڑکوں کولڑکیوں سے الگ مرد استاذ کے ذریعہ دی جائے اورلڑکیوں کولڑکوں سے الگ عورت معلمہ کے ذریعہ دی جائے۔

          ۳-  ضرورت کے بقدر دی جائے کہ اصول ہے: ماأبیح للضرورۃ یقدر بقدرہا۔ (الأشباہ والنظائر،ص: ۱۰۷)

          ۴-  مصوراورمتحرک شکل میں ہرگزنہ دی جائے؛ البتہ میڈیکل کی تعلیم (جوکہ فرض کفایہ ہے)میں حد بندیوں کے ساتھ گنجائش ہے۔

          ۵-  کھلے الفاظ کے بجائے الفاظ کنائی کازیادہ سے زیادہ استعمال ہو۔

          ۶-  ایسے قابل اعتماداساتذہ کاانتخاب کیاجائے، جومذکورہ باتوں کا مکمل طورپرخیال رکھیں۔

          ۷-  اس موضوع پرکتابوں کے انتخاب میں بھی خاص خیال رکھاجائے؛ بل کہ مناسب عمروں کاخیال رکھتے ہوئے مکمل نصاب تیار کیاجائے۔

    اگرمذکورہ شرائط کاخیال رکھ کرجنسیات کی تعلیم دی جائے توراقم کی نظرمیں حرج نہیں ؛ کیوں کہ عمرکی ایک حد تک پہنچنے کے بعدجنسیات کی تعلیم دینا بھی موجودہ زمانہ میں ضروری ہے؛ تاکہ بچے جنسی خرافات سے بچ سکیں، اس سلسلہ میں ہمیں سیرت نبوی ﷺ سے بھی نمونہ ملتاہے؛ چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ ام سلیمؓ اللہ کے رسول ﷺکی خدمت میں حاضرہوئیں اورکہا:

یارسول اللہ! إن اللہ لایستحیی من الحق، فہل علی المرأۃ من غسل إذااحتلمت ؟ قال النبی ﷺ: إذارأت الماء۔ (بخاری، باب الحیاء فی العلم، حدیث نمبر: ۱۳۰)

اے اللہ کے رسولﷺ! اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، توکیااحتلام کی وجہ سے عورت پرغسل ہے؟ اللہ کے رسولﷺ کے جواب دیا: جب پانی دیکھے۔

    معلوم ہوا کہ فی نفسہ جنسی تعلیم اس طرح شجر ممنوعہ نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے معاشرہ میں سمجھ لیاگیاہے اورجس کے نتیجہ میں بالخصوص ہمارے نوخیز جوان غلط کاری کے شکارہورہے ہیں، اگرانھیں دائرہ میں رہتے ہوئے جنسی تعلیم دی جائے توجنسی بیماریوں سے بھی بچایاجاسکتاہے، اسی لیے ڈاکٹرآفتا ب احمدشاہ کی کتاب ’’آداب مباشرت‘‘ میں تقریظ لکھتے ہوئے فقیہ الامت حضرت مولانامفتی محمودحسنؒ فرماتے ہیں :

رسالہ’’آداب مباشرت‘‘ نظرسے گزرا، ماشاء اللہ بہت اہم ضروری مسائل ومعلومات پرمشتمل ہے، اس پرفتن دورمیں، جب کہ جنسیات کی طرف بہت رجحان ہے، غلط طریقوں کواستعمال کرکے شہوات کی تسکین کی جاتی ہے اوربے حیائی کے گھناؤنے طریقے صحبت وجماع میں استعمال کئے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف قسم کے امراض پیداہوتے ہیں، نیز آنے والی نسلوں پربھی خراب اثرظاہرہوتاہے۔

امیدہے کہ یہ رسالہ عہدحاضرکے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کوراہ راست دکھانے میں بہت مفیدثابت ہوگا، اللہ تعالیٰ اس کے نفع کوعام وتام فرمائے اورمؤلف محترم کو جزائے خیردے اوردارین کی ترقیات سے نوازے، آمین! (آداب مباشرت، ص: ۸)

اورحضرت مولانامنظورنعمانی ؒ اسی رسالہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

اتفاق سے کتاب ہاتھ آگئی، میں نے اس میں حضرت مولانامفتی محمودحسن گنگوہی دامت فیوضہم کی تقریظ پڑھی، پھربعض عنوانات کے تحت جوکچھ لکھا ہے، وہ بھی پڑھ لیاتواندازہ ہواکہ کتاب بفضلہ تعالیٰ مفیدہے۔ (آداب مباشرت،ص:۱۳)




Monday, 22 February 2021

بدلے گی کیسے صورت حالات خودبخود؟Badlegi kese surat e halat Khud bakhud

 بدلے گی کیسے صورت حالات خودبخود؟

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


مومن کی فراست بہت مشہورچیز ہے؛ حتی کہ حدیث میں کہاگیاہے: ’’مومن کی فراست سے ڈرو؛ کیوں کہ وہ اللہ کے نورسے دیکھتاہے‘‘، اب سوال یہ ہے کہ فراست کسے کہتے ہیں؟ فراست دراصل کسی کے رنگ ڈھنگ کودیکھ کرکسی بات کے پتہ لگا لینے کوکہتے ہیں، ظاہرہے کہ یہ چیز ہرانسان کے اندرایک جیسی نہیں ہوتی؛ بل کہ اشخاص ، احوال، قوت قلب، پاکیزگی دل، قوت ایمان اورضعف ایمان کے لحاظ سے یہ مختلف ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس کابراہ راست تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے، لہٰذا جس قدرتعلق اس سے مضبوط ہوگا، یہ صفت اسی مقدارمیں کسی کے اندرپائی جائے گی۔

مولانامونگیری کی فراست ایمانی کے تعلق سے ایک واقعہ نقل کیاجاتاہے کہ ایک مرتبہ گاندھی جی ان سے ملنے مونگیرگئے، انھوں نے پیغمبراسلام اورقرآن کی تعریف کی، مولانا خاموشی سے سنتے رہے، جب گاندھی جی اپنی بات کہہ چکے تومولانانے کہا: مجھے آپ اسلام کی وہ باتیں بتائیں، جوآپ کوپسند نہیں آئیں اورپیغمبرکے اس پہلوسے آگاہ کیجئے، جسے آپ نے اچھا نہیں سمجھا، انھوں نے کہا: ایساتوکوئی پہلومیری نظرمیں نہیں آیا، اس پرمولانانے کہا: پھرآپ نے ابھی تک اسلام قبول کیوں نہیں کیا؟ گاندھی جی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، مولانانے خفگی کے ساتھ فرمایا: آپ نے جوکہا، وہ غلط ہے، آپ ہمیں صرف پھانسناچاہتے ہیں، صیاد بھی پرندوں کو پکڑنے کے لئے انہیں کی بولیاں بولتاہے۔

مولانامونگیری بہت قدیم زمانہ کے نہیں ہیں، ۱۹۲۷ء میں ان کی وفات ہوئی ہے، یعنی ابھی ان کے گزرے مکمل ایک صدی بھی نہیں ہوئی ہے، اب ہم صرف ان کے اس واقعہ کونقل کرتے ہیں، پڑھتے ہیں اورخوش ہوتے ہیں؛ لیکن جب ہم اپنے کودیکھتے ہیں اوراپنے زمانہ کے راہنماؤں کودیکھتے ہیں اورملک کے حالات کودیکھتے ہیں تواس فراست سے کافی دورپاتے ہیں، پھریہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس فراست میں کمی آج کی پیداوارنہیں ہے؛ بل کہ اس کی جڑیں پچاس سال پہلے تک گڑی ہوئی ہیں، اس کامطلب ہرگزیہ نہیں کہ تمام مسلمان ہی فراست سے خالی ہوگئے یاخالی ہیں؛ لیکن اکثریت اس سے محروم ہے؛ بل کہ اگریہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ آج فراست کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے اوریہی وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے ہماری یہ درگت بنی ہوئی ہے، مصلحت یقینا ایک بڑی چیز ہے اوراس سے کام بھی لیاجاتاہے ؛ لیکن ہرہرچیزمیں مصلحت، جہاں اس کی ضرورت نہیں، وہاں بھی مصلحت، یہ اچھی چیز نہیں ہے، اس کی وجہ سے جوقومی نقصان ہواہے، اس کی تلافی ممکن نہیں۔

ملک کی آزادی کے وقت دوطرح کے نظریات سامنے آئے، جس کی وجہ سے ملک کی تقسیم عمل میں آئی؛ لیکن بہرحال آزادی کی فضا ہمیں نصیب ہوئی، آزادی کے فوراً بعد اس میں توضرور مصلحت تھی کہ قومی سطح پرخالص مسلمانوں کی سیاسی جماعت نہیں ہونی چاہئے، ورنہ مزید فسادات کے اندیشے تھے؛ لیکن جب امن ہوگیا اورشانتی مل گئی توپھراس میں مصلحت تھی کہ اپنی سیاسی جماعت بنالی جائے؛ لیکن یہ اسی وقت ہوتا، جب فراست کی آنکھ سے آج کے حالات کودیکھ لیاجاتا؛ لیکن ایسانہیں ہوا، جن کے اندر قوت فراست تھی، انھوں نے سیاست میں قدم رکھنے کودرست نہیں سمجھا اورجنھوں نے اس کی ضرورت کومحسوس کیا اورسیاست میں انھوں نے قدم اتارے، انہیں اپنوں ہی کی سننی پڑی۔

یہ توہمیں ازبریاد تھا کہ’’جدا ہودیں سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی‘‘؛ لیکن پھربھی ہم نے اسی میں مصلحت سمجھاکہ ایک پارٹی کی دم کوہی پکڑ کرآگے بڑھتے رہیں، دوسری پارٹی کی طرف ذرابھی توجہ نہیں دیناہے، حالاں کہ ہونایہ چاہئے تھا کہ اگراپنی پارٹی نہیں وجود میں لاسکتے تھے توبقدرضرورت ہرپارٹی سے تعلق بنائے رکھتے، کبھی اِس کوجیت دلاتے اورکبھی اُس کو، اس طرح بیلنس برابر رہتا؛ لیکن افسوس ! ایسانہیں ہوا، آج ہمیں اسی کاخمیازہ بھگتنا پڑرہاہے؛ لیکن اس کے باوجود آج بھی ہماری حالت وہی ہے، ہماری ایک بڑی تعداد اس کی دم کوچھوڑنے کے لئے تیارنہیں، اس پرجتنا افسوس کیاجائے کم ہے۔

آج تومسلمانوں کی اکثریت دین بیزار ہے، نہ اعمال ہمارے اسلام کے مطابق ہیں، ظاہرہے کہ ایسے میں توفراست ایمانی آنے سے رہی، ایک بزرگ ہیں شاہ کرمانی، انھوں نے لکھاہے کہ ’’نظرکی حفاظت، نفسانی خواہشات سے دوری، باطنی مراقبہ، اتباع سنت اوراکل حلال کی وجہ سے فراست آتی ہے‘‘ ، اب دیکھئے اوراپنا جائزہ لیجئے، اگرایک میں ٹھیک ہیں تودوسرے میں کوتاہ ، ایک عمل درست ہے تودوسرا عمل بودا، ایسے میں فراست آنے سے رہی کہ یہ اللہ کانورہے، جوہرایک کو نصیب نہیں ہوتا، نصیب اسے ہوتا ہے، جواللہ سے تعلق قائم کرتاہے، جب کہ آج ہماری اکثریت اللہ کی بجائے بندہ سے رابطہ استوارکرنےمیں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہماری توجہ اصل چیز کی طرف نہیں ہے۔

اب اس وقت کے حالات کودیکھئے، کیا ہماری ایک بڑی تعدادایسی نہیں ہے، جواس چیز کوشیئرکرنافرض عین سمجھتی ہے، جس میں کسی غیرکی طرف سے اسلام یا پیغمبر کی تعریف ذرابھی ہو؟ کیاایسے لوگوں کوہم دعوت اسٹیج نہیں دیتے رہتے ہیں، جن کی زبان سے اسلام اوراہل اسلام کے سلسلہ میں کچھ پھول جھڑتے ہوں؟ لیکن کیاکبھی ان سے یہ سوال کیا کہ پھرآپ اسلام میں داخل کیوں نہیں ہوجاتے؟ جب اس کے اندرخرابی نہیں ہے توپھرعقل مندی کاتقاضا کیاہے؟ یہ سوال ہم نہیں کرتے، کیوں کہ ہمارے اعتقاد ’’ڈوبتے کوتنکے کے سہارے‘‘ پرہے، مولانامونگیری کی طرح ہم کہاں کہ سوال کرسکیں؟

اس وقت ملک کے اندررونی حالات کشیدہ ہیں، ایسے میں ہمارا فرض کیاتھا؟ کیا یہ فرض نہیں تھاکہ ان حالات سے مسلمانوں کوآگاہ کریں؟ اوران کے تعلق سے انھیں کیاکرناچاہئے، اس کی طرف رہنمائی کریں؟ لیکن ہم کرکیارہے ہیں؟ بعض لوگ ایسے وقت میں تعلیمی بیداری کانفرنسیں کررہے ہیں، وہ بھی اس وقت، جب کے اسکولس اورمدارس بند پڑے ہیں، بعض لوگ اصلاح معاشرہ کاپروگرام منعقد کررہے ہیں، یہ واقعی ضروری ہے؛ لیکن کیااس وقت اس سے زیادہ کچھ اورضروری نہیں ہے؟ کسان آندولن چل رہاہے اوربات گردش میں ہے کہ اگریہ آندولن ناکام ہوجاتاہے توشاید برسراقتدارپارٹی کے رہتے اورکوئی آندولن نہیں ہوسکے گا، اسی کے ضمن میں سی اے اے اوراین آرسی کی تلوارابھی تک لٹکی ہوئی ہے اوربنگال میں خصوصیت کے ساتھ اس کی دہائی دی جارہی ہے، کیاایسے وقت میں حالات حاضرہ سے باخبرکرنااورقوم کی رہنمائی سے زیادہ اصلاح معاشرہ پر کانفرنسیں کرنے کی ضرورت ہے؟ بعض لوگ مشاعرے منعقد کررہے ہیں اورلذت کام ودہن کاسامان فراہم کررہے ہیں، کیاملک کے موجودہ حالات اس کی اجازت دیتے ہیں؟ ہرچیز کاایک وقت ہوتاہے اوروقت پراگرکام کیاجائے توپھراس کانتیجہ درست آتا ہے، سی اے اے کے تعلق سے بات کیجئے، راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے پہلے وہ احتجاج منعقد نہیں کئے گئے، جوہونے چاہئے تھے، اس وقت صرف بل تھا، ایکٹ نہیں بناتھا؛ لیکن اس وقت ہم بھروسہ کرکے بیٹھ گئے، بل کوکالعدم کرنااتنامشکل کام نہیں تھا، جتناایکٹ کوختم کرنامشکل کام ہے، پھر ہوا کیا؟ جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوادے گئے، کچھ واک آؤٹ کرگئے، کچھ حاضر ہی نہیں ہوئے، نتیجہ وہی ہوا، جوہوناتھا۔

آج کے ملکی حالات یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم حالات حاضرہ پرتقریں کریں، صحیح حالات سے لوگوں کوباخبر کریں، لوگ حالات کی سنگینی سے بے خبر ہیں، اسی لئے دادعیش دے رہے ہیں، قوم کوایسے وقت میں جس رہنمائی کی ضرورت ہے، اس کی رہنمائی ہم نہیں کررہے ہیں، کیایہ فراست ہے کہ ملک کے رنگ ڈھنگ دیکھ کربھی اندازہ نہیں لگاپارہے ہیں اورحالات کے خلاف مورچہ نہیں سنبھال رہے ہیں؟ کیا یہ مصلحت ہے کہ ہم مشاعرے، تعلیمی بیداری کانفرنسیں اوراصلاح معاشرہ کے پروگرام اس وقت کریں؟ یقیناان کے لئے یہ صحیح وقت نہیں ہے، ہمیں حالات کے رخ کوسمجھ کرفیصلہ کرناچاہئے کہ کیاکرناہے؟ ایسے وقت میں ہمیں فہم وفراست اورعقل ودانش سے کام لیناچاہئے، ورنہ حالات نہیں بدلیں گے:

جب تک نہ لیں گے فہم وفراست سے کام ہم

بدلے گی کیسے صورت حالات خودبخود؟


jamiljh04@gmail.com / 8292017888



Wednesday, 17 February 2021

رسول اللہ ﷺ شوہرکے روپ میں

 

رسول اللہ ﷺ  شوہرکے روپ میں

محمد جميل أختــر جليلي ندوی

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کائنات کو نیست سے ہست میں لایا، پھر اس کا بناؤ سنگھار کیا، زمین کو پیڑ پودوں سے آراستہ کیا، پرشکوہ پربت نصب کرکے اس کے اندر قوت و طاقت بخشی، نہریں اور میٹھے میٹھے چشمے جاری کرکے اس کے حسن میں اضافہ کیا۔ عارضِ سماکو چمکتے ہوئے ستاروں سے سجایا، اس کی جبین پر قُرصِ ابیض رکھ کر قابل تعریف اور لائق صد تحسین بنایا، اس کے ہونٹوں پر سرخی کا غازہ لگا کر شعرا کی غزل گوئی، ادباء کی ادب نوازی اور خطباء کی خطابت آفرینی کے لیے کئی حسین پہلو دئے۔ اور یہ ساری چیزیں صرف اُس کے استقبال کے لیے تھیں، جسے رب العالمین اپنا خلیفہ اور جانشین بنانا چاہتا تھا۔

     اب غور کرنے کی بات ہے کہ جس جانشین کے استقبال کے لیے اس قدر سجاوٹ اور جس خلیفہ کی آمد کے لیے اس طرح سنگھار اللہ تعالیٰ نے کیا، اسی جانشین اور خلیفہ کی زندگی کو خوشیوں سے بے بہرہ کیسے رہنے دیتا؟ اُس کی حیات کو کیوں کر بے کیف اور بے سرور ہونے دیتا؟ اور اس کی زیست کو شادمانیوں سے خالی رہنا کیسے وہ پسند کرتا؟ چنانچہ اسے بھی عقل کی دولت سے مالا مال کیا، ثروت و سطوت عطا کی اور خوشیوں کی انتہائی نعمت ’’بیوی‘‘سے بھی نوازا اور اسے قابل ِسکون اور لائقِ قرار بتایا:…(الروم:۲۰)

     انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ ایسے ہم مزاج اور ہم مذاق کی جستجو کرتی ہے، جو ایک طرف اس کی طرب کی محفل کو سنوار اور خوشی کی بزم کو سجا سکے، مزاح کی مجلس کو گرم اور مذاق کی انجمن کو آراستہ کرسکے تو دوسری طرف پشت ِ ناتواں پر ٹوٹے ہوئے کوہِ الم کے تحمل میں تعاون اور غم کے چھائے ہوئے بادل کو دور کرنے میں مدد دے سکے، روٹھی ہوئی مسکراہٹ کو بحال اور رنج کے اشکوں کو ٹال سکے، جو اس کے درد کا درماں اور اس کے دکھ کا مداوا بن سکے، قرآن مجید نے اپنی بلیغ تعبیر میں اس کو اس طرح ادا کیا ہے: ھُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنّّْ(البقرۃ: ۱۸۷ ) ’’وہ تمہارے لیے لباس اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘۔

     لباس انسان کے لیے زینت کا باعث بھی ہے اور سرد و گرم سے حفاظت کا ذریعہ بھی، اسی طرح وہ اس کے عیوب کے لیے پردہ پوش بھی ہوتا ہے اور سلامتیِ فکر کے لیے حجت اور دلیلِ عقل و ہوش بھی  —— میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے مانندِ لباس ہیں ، ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی کرتے ہیں ، ایک دوسرے کے غم کو ہلکا اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں ، کارزارِ حیات میں مصائب و مشکلات کا سامنا مل کر کرتے ہیں ، دائمی مصاحبت کی وجہ سے کبھی معمولی رنجش بھی پیداہوجاتی ہے؛ لیکن ترک ِگفتگو اور ہجر کے نتیجے میں اسی قدر ؛بل کہ اِس سے کہیں زیادہ ٹیس بھی پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ کوئی قابل ِ مذمت بات بھی نہیں کہ فطرت انسانی کے یہ مطابق ہے۔

      حضور ﷺ کو ہمارے لیے بہترین اسوہ اور نمونہ قرار دیا گیا ہے، ارشاد ہے :  …(الأحزاب: ۲۱)’’رسول اللہ ا میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘۔ آپ اکی یہ مثالیت زندگی کے تمام شعبوں میں ہے۔ اس حیثیت سے آپ اکی حیات، ازدواجی زندگی میں بھی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آئیے ہم دیکھتے چلیں کہ آپ اہمارے لیے ’’شوہر کے روپ‘‘ میں کس طرح نمونہ ہیں ؟

خاطرداری

    مرد کی شادی ایک ایسی عورت سے ہوتی ہے، جو دوسرے خاندان، دوسرے محلہ اور دوسرے کی تربیت میں پلی بڑھی ہوتی ہے۔ شادی کے بعد وہ ایک ایسے اجنبی ماحول میں آجاتی ہے، جہاں کا کبھی اُس نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا ہے، جہاں کی ہر چیز نامانوس ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں دلداری کی ضرورت پڑتی ہے، خصوصیت کے ساتھ اس خاتون کے ساتھ، جو ناکتخدا ہو، شوہر دیدہ خواتین کے ساتھ ایسا معاملہ اس لیے کم پیش آتا ہے کہ وہ کسی قدر سسرالی ماحول سے واقف ہوچکی ہوتی ہیں ۔

     آپﷺکی گیارہ بیویاں تھیں ، جن میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)واحد ناکتخدا تھیں ؛ چنانچہ آپ ﷺنے شادی کے بعد یہاں کے ماحول سے مانوس کرنے کے لیے ان کی کافی دل جوئی کی، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)خود فرماتی ہیں : کنت العب بالبنات عندالنبیا، وکان لی صواحب یلعبن معی، فکان رسول اللّٰہ ﷺ اذا دخل یتقمّعن منہ، فیسرّبھن الیّ، فیلعبن معی(بخاری، باب الانبساط الی الناس، حدیث نمبر:۶۱۳۰، مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۵۹۶۸، صحیح ابن حبان، باب اللعب واللھو، حدیث نمبر:۵۸۶۳)’’میں آپ اکے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہوتی تھیں ، جب رسول اللہ ا گھر میں داخل ہوتے، تو وہ شرماتیں اور پردہ میں داخل ہوجاتیں ، آپ ا انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں ‘‘۔علامہ عینیؒ اس حدیث کے ضمن میں لکھتے ہیں : ’’حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے ساتھ آپ ا کی اس طور پر دل جوئی تھی کہ آپ اان کے گڑیوں سے کھیلنے پر راضی تھے اور ان کی سہیلیوں کو ان کے پاس کھیلنے کے لیے بھیجتے تھے‘‘(عمدۃ القاری، باب الانبساط الی الناس:حدیث نمبر:۶۱۳۰ )

    ایک مرتبہ آپ ا نے حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا)کے باری کے دنوں میں اُن کے حجرے میں اپنی باندی سے تعلق قائم فرمایا، حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہا) نے اس کو محسوس کرکے کہا: اے اللہ کے نبی ا! آپ نے میرے ساتھ میرے حجرے میں اور میرے بستر پر وہ کام کیا ہے، جو اپنی کسی دوسری بیوی کے ساتھ نہیں کیا۔ آپ انے جواب میں فرمایا: کیا تم اس سے راضی نہیں کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرلوں اور اس کے قریب نہ جاؤں ؟حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا)نے کہا: کیوں نہیں (میں اس سے راضی ہوں )آپ ا نے فرمایا: اس کا تذکرہ دوسرے سے نہ کرنا، حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہا) نے اس کا تذکرہ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) سے کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) کی یہ بات آپ اپر ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے نبی آپ اس چیزکو اپنی ازواج کی خوشنودی چاہتے ہوئے اپنے لیے کیوں حرام کرتے ہیں ، جسے اللہ نے حلال کیا ہے‘‘؟(کنزل العمال، سورۃ التحریم، حدیث نمبر:۴۶۶۸)آپ انے اپنی جائز باندی کو صرف اس لیے اپنے اوپر حرام قرار دیا؛ تا کہ حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہا)کا دل نہ ٹوٹے، یہی وجہ ہے کہ آپ انے ان سے یہ کہا: کیا تم اس سے راضی نہیں کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرلوں اور اس کے قریب نہ جاؤں ؟

     حضرت سودہ بنت زمعہ(رضی اللہ عنہا) حدت مزاج تھیں اور دیگر ازواج کے مقابلے میں جسیم اور کبیرالسن بھی تھیں ، آپ ا نے (کسی وجہ سے)انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آپ اسے عرض کیا:لا تطلقنی و امسکنی، واجعل یومی لعائشۃ۔(ترمذی، کتاب التفسیر،سورۃ النساء، حدیث نمبر:۳۰۴۰، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر:۱۱۷۴۶)’’مجھے طلاق مت دیجئے اور اپنے نکاح میں روکے رکھئے اور میری باری عائشہ (رضی اللہ عنہا)کو دے دیجئے‘‘۔ آپ انے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایسا ہی کیااوراُن کوطلاق نہیں دیا۔

     حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ امیرے دروازے پر کھڑے تھے اور حبش کے لوگ نیزہ بازی کررہے تھے، آپ انے اپنی چادر میں مجھے چھپالیا؛تا کہ میں آپ اکے کانوں اور گردن کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھ سکوں ، آپ امیری وجہ سے کھڑے رہے ؛یہاں تک کہ میں خود لوٹ آئی۔(مسند احمد،حدیث نمبر:۲۵۳۳۳، مصنف ابن عبدالرزاق، باب اللعب، حدیث نمبر:۱۹۷۲۱)  —–بیویوں کے ساتھ آپ ا کی دلجوئی اورخاطرداری کی یہ کچھ مثالیں ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شوہر کی حیثیت سے آپ اپنی ازواج کی کس قدردلجوئی فرماتے تھے۔

     آج ہم اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں کہ کتنے ایسے لوگ ہیں ، جو اپنی بیوی کی دلجوئی کرتے ہیں ؟ ان کی ہر بات کی تردید کیا ہماری ہابی نہیں بن چکی ہے؟ کیا ہم نے انہیں فقط کام کرنے کا پرزہ تصور نہیں کرلیاہے؟ اگر وہ کسی بات پر ناراض ہوجائے تو کیا ہمیں اس کی رضامندی کی فکر ہوتی ہے؟ کاش ! ہم بھی اپنی بیویوں کے ساتھ آپ ا کا سا سلوک کرتے!!

نفقہ کی ادائے گی

      ازدواجی بندھن میں بندھ جانے کے بعد بیوی کا نفقہ ہر مرد پر لازم ہوجاتا ہے، آپ ا اپنی بیویوں کا نفقہ قبل ازوقت دے دیا کرتے تھے۔ حضرت عمرص فرماتے ہیں کہ بنونضیرسے جومالِ غنیمت آتا، وہ آپ ا کے لیے خاص تھااورآپ ا اس سے سال بھراپنی ازواج پرخرچ کرتے تھے۔(مسلم، باب حکم الفیٔ، حدیث نمبر:۱۷۵۷)

    آج جب ہم اپنے معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں توبہت سارے افرادایسے نظرآتے ہیں ، جن کی بیویاں کئی کئی برسوں سے میکے والوں کے اخراجات پراپناگزربسرکررہی ہیں ، نہ انہیں شوہرکی طرف سے خرچ ملتاہے اورناہی شوہرانہیں اپنے گھرلاتاہے، ظاہرہے کہ آج کل کے ہوش رباگرانی کے زمانے میں وہ خودہی میکے والوں پراپنے آپ کوبوجھ سمجھنے لگتی ہیں ، جس کی وجہ سے وہ ذہنی خلجان میں مبتلاہوکربسااوقات خودکشی تک پراترآتی ہیں اورخدانخواستہ اگرمیکے والے بھی تنگ گزران اورخستہ حالی کے شکارہوں توبسااوقات یہ خواتین آتش بھوک کومٹانے کے لیے غلط راستے اختیارکرنے پربھی مجبورہوجاتی ہیں ۔ایسے شوہروں کوآپ ا کے اِس عمل سے سبق حاصل کرناچاہیے اوراپنے اوپرلازم ذمہ داری کے عدمِ ادائے گی پراللہ تعالیٰ کی پکڑسے ڈرتے رہناچاہیے کہ ’’ہرشخص سے اُس کے ماتحت کے بارے پوچھاجائے گا‘‘۔

مشورہ

    عورتوں کو مردوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے، آپ ا کا ارشاد ہے: إن النساء شقائق الرجال۔( ترمذی،باب ماجاء فیمن یستیقظ فیری بللا، ولایذکراحتلاما، حدیث نمبر:۱۱۳) ’عورتیں مردوں کے ہم مثل ہیں ‘‘۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مردوں کو اس بات کا اعتراف ہونا چاہیے کہ عورتیں ان سے کم رتبہ نہیں ہیں ۔ بیوی جب اپنے شوہر کے گھر قدم رکھتی ہے تو یہ سوچ کررکھتی ہے کہ میری حیات اسی کے ساتھ گذرے گی اور میری موت بھی اسی کے گھر میں آئے گی۔میری خوشیاں اور میرے غموں کا ساتھی یہی میرا شوہر ہے، پھربیوی ایفائے عہد کا پتلا بن جاتی ہے، مار کھاتی اور مشقت برداشت کرتی ہے ؛ لیکن کبھی بھی اپنے شوہر کے خلاف اپنی زبان سے ایک لفظ نکالنا گوارا نہیں کرتی، ایسی بیوی سے گھرکے کسی معاملہ میں اگر گفتگو نہ کی جائے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟

     آپ ﷺ بسااوقات بہت ہی اہم امور پر بھی اپنی بیویوں سے مشورہ لیتے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع سے صحابہ نے گھٹن کی کیفیت میں مبتلا ہوکر آپ اکے کہنے کے باوجود جب حلق نہیں کرایا تو حضرت امِ سلمہ (رضی اللہ عنہا)نے آپ اکو یہ مشورہ دیاکہ آپ خود حلق کرائیں اور ان سے ایک لفظ کہے بغیر ہدی کے جانور نحرکریں ، آپ ا نے ان کے اس مشورہ پر عمل کیا، جب صحابہ ثنے آپ کو حلق کرائے جانور نحر کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی حلق کرالیا اور اپنے ہدی کے جانور ذبح کئے(بخاری، باب الشروط فی الجھاد، حدیث نمبر:۲۷۳۲)

      آج ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم بھی بیوی کے کسی مشورہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ کیا ہم نے انہیں بے عقل نہیں سمجھ لیاہے؟ اور ان کی ہر بات پر قد غن لگانے نہیں بیٹھ جاتے ہیں ؟ کیا ہم نے انہیں وہ حیثیت دی ہے، جو قرآن اور زبانِ نبوت نے دی ہے؟ انہیں مردوں کا ہم مثل قرار دیا گیاہے، کیا ہم نے انہیں اپناہم مثل مانا ہے؟ ہم نے تو یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کی کوئی بھی بات قابل اعتنا نہیں ہوتی؛ حالانکہ بہت سارے امور ایسے ہو سکتے ہیں ، جن میں ان کی رائے ہی درست ہو؛ اس لیے ان کی ہر بات کو غور کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالنا چاہیے اور آپ ا کے عمل کو اپنے لیے راہِ عمل بنانا چاہیے۔

باری کی تقسیم

    حضور اکرم ﷺ کی ازواج کی تعداد گیارہ تھی؛لیکن ایک وقت میں آپ اکے پاس نوسے زیادہ نہیں رہیں ، آپ انے ہر ایک کے لیے باری متعین کررکھی تھی؛ تا کہ کسی بھی بیوی کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو؛ البتہ آخر ی عمرمیں حضرت سودہ (رضی اللہ عنہا)نے اپنی باری حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کو دے دی تھی؛چنانچہ آپ ا ان کے پاس دو دن تشریف لے جاتے تھے۔(شرح مشکل الاثار، باب بیان مشکل ماروی عن رسول اللہ ا فی التی کان لایقسم لہامن النساء، حدیث نمبر:۲۳۶۰)

      آج ہمارے معاشرہ میں بہت سارے ایسے افراد ہیں ، جو ایک سے زائد شادیاں کرلیتے ہیں ؛ لیکن ان کے مابین باری کی تقسیم نہیں کرتے، ایک بیوی کو بالکل کالمعلقہ بناکر رکھ دیتے ہیں ، جب کہ دوسری بیوی کے ساتھ دادِ عیش دیتے رہتے ہیں ۔ کاش ایسے لوگ آپ ا کے عمل سے نصیحت حاصل کرتے۔

بیویوں کے مابین عدل

      آپ ﷺکے پاس نو بیویاں تھیں ؛ لیکن کسی کو یہ شکایت کبھی نہیں ہوئی کہ آپ اہمارے درمیان عدل نہیں کرتے، خود حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) اپنے بھانجے عروہ کو مخاطب کرکے فرماتی ہیں : کان رسول اللّٰہا لا یفضل بعضنا علی بعض فی القسم من مکثہ عندنا۔(ابوداؤد، باب فی القسم بین النساء،حدیث نمبر:۲۱۳۷)’’رسو ل اللہ ا ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے تھے‘‘؛حتی کہ ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی سے مس تک گوارا نہیں فرماتے؛ چنانچہ حضرت انسص ایک مرتبہ کا وقعہ نقل کرتے ہیں کہ آپ ا حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر تشریف فرما تھے، حضرت زینب (رضی اللہ عنہا)نے آپ اکی طرف اپنا ہاتھ دراز کیا، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے آگاہ کرتے ہوئے کہا:یہ زینب ہیں ، آپ ا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔(مسلم، باب القسم بین الزوجات…، حدیث نمبر:۱۴۶۲)؛البتہ آپ اکا یہ عدل مقدور چیزوں (باری، کھانا، کپڑا، رہائش وغیرہ) میں تھا، غیر مقدور چیزوں کے سلسلہ میں آپ اخود دعاء فرماتے تھے:اللّٰھم ھذا قسمی فیما املک، فلا تلمنی فیما تملک ولا املک۔(السنن الکبری للبیھقی، باب ماجاء فی قول اللہ عزوجل :ولن تستطیعواأن تعدلو ابین النساء …، حدیث نمبر:۱۵۱۴۲)’’اے اللہ اس چیز میں یہ میری تقسیم ہے، جس پر میں قدرت رکھتا ہوں ، آپ اس چیز پر میری ملامت نہ کیجئے، جس پر آپ قدرت رکھتے ہیں ، میں نہیں ‘‘۔

     ہم اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں ۔ کیا ایسے افراد نہیں ملتے، جو ایک سے زائدبیویاں رکھتے تو ہیں ؛لیکن ان کے درمیان عدل کا معاملہ نہیں کرتے؟ کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک بیوی کو تو سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، جب کہ دوسری بیوی کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک کیا جاتا ہے؟ ایک بیوی کے لیے تو بہترین رہائش اور دنیاوی آسائشیں مہیاکی جاتی ہیں ، جب کہ دوسری بیوی دانے دانے کی محتاج ہوتی ہے؟ ایک بیوی کے لیے تو ہزار سے اوپر کے کپڑے زائد از ضرورت خریدے جاتے ہیں ، جب کہ دوسری بیوی کو ڈیڑھ سوروپے والے ضرورت کے کپڑے بھی نہیں دیے جاتے؟ کاش ! ایسے لوگ آپ اکے عمل سے سبق لیتے اور آپ اکے اس فرمان پر توجہ دیتے، جس میں بیوی کے درمیان عدل نہ کرنے کی صورت میں تہدید آئی ہے، آپ اکا فرمان ہے: من کانت لہ امرأتا ن، فمال الی أحدھما، جاء یوم القیامۃ، وشقہ مائل۔(سنن الدارمی، باب فی العدل بین النساء، حدیث نمبر:۲۲۰۶)’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلوگرا ہوا ہوگا‘‘۔

مارپیٹ سے اجتناب

     بیوی بھی ایک انسان ہوتی ہے، لہٰذا انسانیت کے ناتے کبھی کبھی غلطیاں اس سے بھی سرزد ہوجاتی ہیں ، غلطیاں کبھی ایسی ہو تی ہیں کہ انسانی فطرت رکھنے والا شوہر قابو سے باہر ہوجاتا ہے اور بیوی پر ہاتھ چھوڑ بیٹھتا ہے۔ حضور ا کثیرالزوجات تھے، انسانی مزاج رکھنے والی ازواج سے کیا کیا لغزشیں وجود میں نہیں آتی ہوں گی؟ لیکن قربان جائیے ذات اقدس پر!کیسی بھی غلطی ہوتی، اس کی اصلاح میں کبھی بھی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں :ماضرب رسول اللہ ا خادما ولا امرأۃ قط۔ (ابوداؤد، باب فی العفو والتجاوزفی الامر، حدیث نمبر:۴۷۸۸، ابن ماجہ، باب ضرب النساء، حدیث نمبر:۱۹۸۴) ’’آپ انے کبھی بھی کسی خادم کو اور ناہی کسی بیوی کو مارا‘‘۔تاہم آپ ا نے بطور سرزنش بیوی کے لیے ہلکی مار کی اجازت بھی دی ہے؛ لیکن یہ سرزنش ہر چھوٹی بات پر نہیں ؛ بل کہ عدم اطاعت، سوء عشرت اور زبان درازی جیسے افعال پر ہے؛چنانچہ آپ ا نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو، بلاشبہ وہ تمہارے پاس مددگار ہیں ، تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں ، اگر وہ ایسا کریں تو ان کے بستروں پر الگ چھوڑ دواور ان کو غیر تکلیف دہ مار مارو۔(ترمذی، باب ماجا ء فی حق المرأۃ علی زوجھا، حدیث نمبر: ۱۱۶۳، ابن ماجہ، باب حق المرأۃ علی زوجھا، حدیث نمبر:۱۸۵۱)اس حدیث میں آپ انے تکلیف دہ مار مارنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ انے چہرے پر بھی مارنے سے روکا ہے، آپ انے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے پرہیز کرے اور ’’اللہ تیرے چہرے کو قبیح بنائے‘‘ جیسے جملے بھی نہ کہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ں کو اس کی صورت پر بنایاہے۔(مسند احمد، احادیث ابوہریرہ، حدیث نمبر:۹۶۰۴)

    آج ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں ۔ کتنے ایسے لوگ ملیں گے، جواپنی بیویوں پر بات بے بات ہاتھ نہیں اٹھاتے؟ اور ایسی تکلیف دہ مار نہیں مارتے، جس سے جسم کے مختلف حصوں پر نشان ابھرآتے ہیں ؟ ہاتھ پیراور لاٹھی ڈنڈے سے تجاوز کرکے اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ چھتوں کی سیڑھیوں پر سے دھکا دے دیتے ہیں اور بعض ناہنجار اور خدا ناترس ایسے بھی ہیں جو آگ لگاکر جان ہی سے مارڈالتے ہیں ۔ ایسے خداناترس لوگوں کو آپ ا کے عمل سے موعظت حاصل کرنی چاہیے اور بیویوں پر ہاتھ اٹھانے سے توبہ کرنا چاہیے۔ اللہ اس کی توفیق دے، آمین!

غصہ اور ناراضگی

    میاں بیوی ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور جہاں دائمی مصاحبت ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی آپس میں اَنْ بَنْ بھی ہوجایا کرتی ہے، آپ ا یوں تو اپنی ازواج کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے؛ لیکن بے جا ضد اور اصرار پر ان سے ناراض بھی ہوتے تھے؛ چنانچہ جب ایک مرتبہ ازواج مطہرات نے نفقہ وغیرہ کے مطالبہ پر اصرار کیا تو آپ ا ان سے ناراض ہوگئے اور ایک مہینے تک ایلاء (گھرکی بالائی حصہ پرقیام فرمایا اوراس دوران کسی بھی زوجہ کسی طرح کاربط نہیں رکھا)فرمالیا۔(بخاری، باب الصلاۃ فی السطوح…،حدیث نمبر:۳۷۸)

    آپﷺ کے اس عمل سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بیوی کی ہر جائز اور ناجائز بات اور مطالبہ کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور جہاں پر بیوی کی طرف سے اس طرح کی بیجاضد اور ہٹ دھرمی نظرآئے، وہاں پر برسبیلِ اصلاح اور تنبیہ ناراضگی کا اظہار بھی کیا جاناچاہیے کہ اعتدال کی راہ یہی ہے۔

قصہ گوئی

     بیوی انسانی مزاج رکھتی ہے اور انسانی مزاج کبھی کبھی مزاح اور قصہ گوئی جیسی دل چسپییوں کا خواہشمند ہوتا ہے، آپ ا نے اپنی ازواج کے ساتھ اس کی بھی رعایت کی ہے؛چنانچہ ایک رات آپ ا نے اپنی بیویوں کو ایک قصہ سنایا، یہ قصہ تعجب خیزتھا، چنانچہ بیویوں میں سے کسی نے کہا یہ تو (تعجب میں ) خرافہ کے قصوں کی طرح ہے، آپ ا نے اس پر خرافہ سے متعلق دریافت فرماکراس کے بارے میں بتایا کہ وہ بنوعذرہ کا ایک شخص تھا،زمانۂ جاہلیت میں جنات اسے پکڑکر لے گئے تھے، پھرایک مدت کے بعد اسے انسانوں میں لاکر چھوڑدیا، اب وہ وہاں کی عجیب عجیب باتیں بتایا کرتا تھا(مسند احمد، احادیث عائشہ، حدیث نمبر:۲۵۲۴۴، کنزالعمال، حدیث خرافہ، حدیث نمبر:۸۲۴۴)۔اسی طرح حضرت عائشہ ؓ نے بھی آپ کو یمن کی گیارہ عورتوں کے بارے میں قصہ سنایا تھا(شمائل ترمذی، باب حدیث ام زرع، حدیث نمبر:۲۵۴)اورآپ ا نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی یہ پوری کہانی بھی سنی تھی اور اخیرمیں یہ فرمایا تھا کہ میں تمہارے لیے ابوذرع کی طرح ہوں ؛البتہ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔

      آپﷺ کے اس قصہ گوئی اور قصہ سننے کے عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیویوں کی دلجوئی اور خاطرداری کے لیے کبھی کبھی صدق پر مبنی قصے اور کہانیاں بھی سنانے چاہئیں کہ یہ چیزیں محبت اور الفت میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں ۔

عبادت کی ترغیب

     آپﷺجس طرح دیگرچیزوں میں ازواج مطہرات کی رعایت اورخیال فرماتے تھے، عبادت کے باب میں بھی ان کاخیال فرماتے تھے۔ آپ ا کی ذاتِ گرامی توعبادت کی مشقتوں کے تحمل میں اعلیٰ نمونہ تھی ہی، آپ ا کی ازواج بھی اِس باب میں پیچھے نہیں رہتی تھیں ؛ چنانچہ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ آپ ا نے اعتکاف کے لیے خیمہ لگوایا، آپ اکودیکھ کرکئی ازواج نے بھی خیمے نصب کروالیے۔ (الموطاء للإمام مالک، باب قضاء الإعتکاف، حدیث نمبر: ۶۹۰)آپ ا خود بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ حضرت ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ ایک رات آپ انے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے! کیسے کیسے خزا نے اورفتنے اللہ نے اتارے! حجرے والیوں کوجگاؤ۔(صحیح ابن حبان، باب الفقروالزہدوالقناعۃ، حدیث نمبر:۶۱۹)، حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)  فرماتی ہیں کہ جب رمضان کاآخری عشرہ آجاتاتوآپ ا ازارکس لیتے، خودشب بیداری فرماتے اوراپنی ازواج کوبھی جگاتے۔( بخاری، باب العمل فی العشر الأواخر من رمضان، حدیث نمبر:۲۰۲۴)

     آج ہم دنیاوی معاملات میں اپنی بیویوں کی فکرتوبہت زیادہ کرتے ہیں ؛ لیکن دین کے باب یاتوفکرہی نہیں کرتے یاتساہل پسندی سے کام لیتے ہیں ؛ حالاں کہ یہی آخرت کے سفرمیں کام آنے والا توشہ اورزادِراہ ہے۔آپ ا کے اسوہ سے ہمیں عبادت کے باب میں اپنی بیویوں کے رعایت کرنے کاسبق حاصل کرناچاہیے اوراس باب میں دنیاوی توجہات سے کہیں زیادہ فکرکرنی چاہیے۔

     یہ تھی آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی اوربیویوں کے ساتھ سلوک کی ایک جھلک! اگرپوری زندگی کااحاطہ کیاجائے اورازواج مطہرات کے ساتھ آپ ا کے سلوک؛ بل کہ حسنِ سلوک کاجائزہ لیاجائے توہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن نے بیویوں کے ساتھ جو’’حسنِ معاشرت‘‘ کاحکم دیاہے، آپ ا نے اُسے برت کرہمیں دکھادیااوراُس حکم کی عملی تفسیرہمارے سامنے پیش کرکے بتایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ا کے نقشِ قدم پرچلنے کی توفیق دے، آمین!

Sunday, 14 February 2021

حکایاتِ غم کی تصویر: ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ

 

حکایاتِ غم کی تصویر: ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

    ہرذی روح طبیعت مقفی اورمسجع کلام کی طرف فطرتاً مائل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عرب کے ان پڑھ شتربان اپنے اونٹوں کوسرمستی کے ساتھ چلانے کے لیے حدی خوانی کیاکرتے تھے،جوترقی کے مدارج طے کرتی ہوئی اصطلاحی شعرکی شکل میں بامِ عروج تک پہنچ چکی ہے، انسان کوچوں کہ دوسرے ذی روح پرمجموعی تفوق وبرتری حاصل ہے؛ اس لیے اس کی طبیعت اس سلسلہ میں کچھ زیادہ ہی جذباتیت کی حامل واقع ہوئی ہے، جس سے نہ عام آدمی بچ سکاہے، نہ خاص؛ حتی کہ صوفی منش اورزاہدشب زندہ داربھی ؛ چنانچہ ’’محفل سماع‘‘ کاانعقاداسی ’’جذب مقناطیسی‘‘کی کرشمہ سازی ہے۔

    خُرد سالی کے زمانہ میں تعلیمی آغاز کے لیے جب میراداخلہ ’’جامعہ سیداحمدشہیدؒکٹولی، ملیح آباد‘‘ میں ہوا، اس وقت نہ توشعرکی تعریف سے واقف تھا اورناہی شاعرکی تعریف سے، اردوکی درسی کتابوں کے ذریعہ ان دونوں سے شناسائی ہوئی،پھرایک دن ’’بیت بازی‘‘کے اعلان پرنظرپڑی، ظاہرہے کہ یہ لفظ بھی ناواقفیت کی بناپرمیرے لیے اول وہلہ میں ’’سمع خراشی‘‘ کے مترادف تھا؛ لیکن جب تفصیل معلوم ہوئی توطبعی طورپریک گونہ مسرت حاصل ہوئی، بالآخرمقررہ تاریخ پردومتحارب جماعتیں رودررو اپنی اپنی نشست گاہوں پربیٹھیں، صدرمحترم نے غالباً اقبال کاکوئی شعرپڑھا، پھر بیت بازی کاسلسلہ شروع ہوگیا، ہرفریق کبھی دوسرے پراشعارکے پھول نچھاورکرتاتوکبھی اس کے بم برساتا، انھیں پھولوں اوربموں کے درمیان ’’اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلوہو‘‘ کامصرعہ سماعت سے ٹکرایا، یقین مانئے کہ صغرسنی کے باوجود’’جذب مقناطیسی‘‘ نے ایسااثرکیاکہ محظوظ ہوئے بغیرنہ رہ سکا، اختتام مجلس کے بعدمعلوم کیاکہ یہ کس کاشعرہے؟ جواب ملا: کلیم عاجزؔ صاحب کا، شعرکے ذریعہ ان سے اس دن جوشناسائی ہوئی، وہ بڑھتی رہی؛ یہاں تک کہ طویل مدت تک زیورطباعت سے محروم رہنے کے بعدجب’’وہ جوشاعری کا سبب ہوا…‘‘ پورے آب وتاب کے ساتھ منصہ شہودپرجلوہ افروزہوا، پرانے’’جذب مقناطیسی‘‘ کے نتیجہ میں حیدرآبادسے منگوایا اوربہت ساری غزلوں کوازبرکرلیا، بعدمیں ’’جب فصل بہاراں آئی تھی‘‘، ’’جہاں خوشبوہی خوشبوتھی‘‘، ’’دیوانے دو‘‘، ’’کوچۂ جاناں جاناں ‘‘،’’ایک دیس ایک بدیسی‘‘، ’’یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ‘‘ اور’’میری زباں، میراقلم‘‘ کوبھی پڑھ ڈالا اورنثر ونظم پریکساں قدرت ؛ بل کہ کمال قدرت پرعش عش کرتارہا، شوق لقا نے کئی بارانگڑائی لی؛ لیکن بخت خفتہ جواں نہ ہوسکا۔

     ڈاکٹرکلیم احمدعاجزؔ ؒ کی شاعری سے میں ہی نہیں، میرے جیسے نہ جانے کتنے اورمتاثرہوئے ہوں گے، خواہ وہ ڈاکٹرصاحب سے واقف ہوں یانہ ہوں، وجہ صرف اس کی یہ ہے کہ ’’ان کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے، ان کے الفاظ جانے پہچانے، ان کی ترکیبیں ایس سیدھی سادھی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشین ہوجاتاہے، یہ نہیں کہ ان کے اشعارسطحی ہوتے ہیں ؛ بل کہ الفاظ اورترکیبوں اورمعانی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ؛ بل کہ یوں کہئے کہ ان کے الفاظ ایسے شفاف ہیں کہ معانی کوایک نگاہِ غلط اندازبھی پالیتی ہے‘‘۔

    کلیم عاجزؒ کی پیدائش 11؍اکتوبر1926ء میں بہارپربہارکے ایک زرخیز علاقہ’’عظیم آباد‘‘کے اطراف ’بہارشریف‘ کے ایک دیہات ’’تیلہاڑہ‘‘ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے نانامولوی ضمیرالدین صاحب سے حاصل کی، جوتقریباً تین سال تک جاری رہی، اس دوران اپنے ناناکے کتب خانہ سے مطالعہ شوق پیداہوا، اس کے بعدان کے والد صاحب نے اپنے پاس کلکتہ بلوالیا، جہاں ’’دوریٔ وطن کی تپش، گھرکی محبت اورماں کی محبت کے سوز‘‘ نے ’’مطالعہ‘‘کے شوق میں اضافہ اور’’تماش بینی‘‘کا چسکا لگادیا، اللہ تبارک وتعالیٰ نے چوں کہ ذہانت کی وافرمقدارودیعت کی تھی؛ اس لیے تیرہویں (1937ء )بہارکی دہلیز پرقدم رکھتے رکھتے ’اردوادب‘ کی ڈھیرساری کتابیں، مشہورشعراء کے دیوان اوراپنے زمانہ کے مشہورادبی رسائل کوکھنگھال ڈالا، تھیٹرکے چوکھٹ کوپاراورڈراموں کی شبستان کی سیرکی، جس کے نتیجہ میں ’’ادب وشاعری کاذوق، طبیعت کی نفاست، وضع کی متانت، خیال کی سنجیدگی اوردل کے گدازکاخاصہ حصہ حاصل ہوا‘‘،تعلیمی کارروائی کوآگے بڑھانے کے لیے 1939ء میں کلکتہ ہی کے ایک اسکول میں داخلہ دلوایاگیا، جہاں سے انٹرنس تک تعلیم حاصل کی، پھرپٹنہ واپس آگئے اور1944ء میں بڑی امتیازی شان سے میٹریکولیشن پاس کیا، اسی سال والدصاحب کاانتقال ہوگیا، والدصاحب کے انتقال کے کچھ ہی دن بعد چھوٹے بھائی علیم احمدکودق کاعارضہ لاحق ہوا اورتقریباً ڈھائی سال بعد’’کچھ نہ دوانے کام کیا‘‘ اورستمبر1946ء میں اس کابھی انتقال ہوگیا، والدصاحب کے انتقال سے پہلے بڑے بھائی اوربڑی بہن بھی اس دنیاسے رخصت ہوچکے تھے، ان سلسلہ وارغم کے پہاڑکے نیچے دب کرکلیم عاجزؒ کی حالت دگرگوں ہوگئی، ’’مزاج میں خشکی اورچڑچڑاپن پیداہوگیا اوراپنے آبائی وطن ’’تیلہاڑہ‘‘سے چھوٹے بھائی بہن اورماں کوساتھ لے کرایک کرائے کے چھوٹے سے مکان میں پٹنہ چلے آئے‘‘؛ لیکن والدہ محترمہ کو’’تیلہاڑہ‘‘کی دھوپ چھاؤں، سرور اورخمار، خوشی اورملال کی فضاؤوں کی زندگی زیادہ پسندتھی؛ اس لیے وہ کہتی کہ’’اب ہماراسن پٹنہ رہنے کاہے؟ ماں باپ کی ڈیوڑھی چھوڑکریہاں بیٹھے ہیں ‘‘، بالآخر 26؍ اکتوبر1946ء مطابق 29؍ ذی قعدہ 1365ھ کوبقرعید منانے کی غرض سے وہ گھرواپس آنے کوتیارہوگئیں، کیامعلوم تھا کہ ان کی روانگی ابدی ہے، ان کی روانگی ’’تیلہاڑہ‘‘ کے لیے نہیں ؛ بل کہ اس گھرکے لیے ہے، جس کوآج تک نہ توکسی آنکھ نے دیکھاہے، نہ کسی کان نے سناہے اورناہی کسی کے دل میں اس کاخیال گزراہے، انسان کافیصلہ کچھ ہوتاہے، قضا وقدر کافیصلہ کچھ اور، یہ گئیں توتھیں بقرعیدمنانے کی غرض سے؛ لیکن چھری خودانھیں کی گردنوں پرچلادی گئی، ان کی روانگی توتھی جانورقربان کے لیے؛ لیکن انھیں خوداپنی جانوں کانذرانہ پیش کرناپڑا، ایسانذرانہ، جس نے کلیم کوماہی بے آب بناکرچھوڑدیا، ایسی قربانی، جس نے کلیم کومرغ بسمل بناکررکھ دیا، اس قربانی نے کلیم کے دل میں ایسی چنگاری لگائی، جوموت تک سلگتی رہی، چھپرہ میں فسادکی جوآگ سلگائی گئی تھی، وہ ’’تیلہاڑہ‘‘ تک جاپہنچی، جس نے تیلہاڑہ میں موجود حامیان اسلام کوجلاکرخاکسترکردیا، عید قرباں کی آمد سے جو گاؤں سرخوش تھا، وہ گاؤں عین خوشی کے ایام میں اجڑگیا،پوراقافلہ عین فصل بہارمیں لٹ گیا:

قافلہ کا قافلہ لٹ گیا بہار میں

     یہی وہ خوں چکاں حادثہ ہے، جس نے کلیم کوکلیم عاجزؔ بنادیا، یہی وہ جاں کاہ واقعہ ہے، جس نے کلیم کے دل کوچھلنی کردیا، جس نے غم کاایسالبادہ اسے پہنایا، جوموت تک اتارا نہ گیا، جس نے ایساکاری زخم لگایا، جوہزارتسلیوں کے مرہم اورہزارایوارڈوں کے پھاہوں کے ذریعہ بھی مندمل نہ ہوسکا، جس نے خوشی کی بزم میں بھی اسے بیگانہ بناکررکھا، یہ حادثہ اتنا بڑا تھا، جس کے سامنے بعدکے سارے حادثے بونے نظرآنے لگے، اسی غم کی بدولت اردوادب کوکلیم عاجز کاادبی سرمایہ ہاتھ لگا کہ’’سرمایۂ غم مفت کہاں ہاتھ لگے ہے‘‘:

نہ خوشی یاد رہی مجھ کو نہ غم یاد رہا

ہاں ترا سلسلۂ حسنِ کرم یاد رہا

نہ مجھے جام رہا یاد نہ جم یاد رہا

کچھ نہ ساقی تری آنکھوں کی قسم یاد رہا

      کہتے ہیں کہ چوٹ جتنی بڑی ہوتی ہے اوردردجتناعظیم ہوتاہے، کلام کے اندرعملیت اوراثرانگیزی اسی مناسبت سے پائی جاتی ہے، یہاں تودردہی درد، کراہ ہی کراہ اور ٹیس ہی ٹیس ہے، یہاں رقص وسرود کی باتیں، گل وبلبل کی حکایتیں اورجام وسبوکی شکایتیں کہاں سے آسکتی ہیں ؟

سنبھلنے ہی نہیں دیتا غم یاران میخانہ

کہاں کی میکشی، کیسی صراحی، کیسا پیمانہ؟

    یہاں تو’’دکھ بھروں کی حکایتیں ‘‘ اور’’دل جلوں کی کہانیاں ‘‘ ملیں گی، یہاں آہ وکراہ ملے گی، یہاں نالہ وشیون سے سابقہ پڑے گا، یہاں دردوکرب نظرآئیں گے:

میری شاعری میں نہ رقص جام نہ مئے کی رنگ فشانیاں

وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

یہ جوآہ ونالہ ودردہیں کسی بے وفاکی نشانیاں

یہی میرے دن کے رفیق ہیں یہی میری رات کی رانیاں

     ’’تیلہاڑہ‘‘ کوئی ایسی بستی نہیں تھی، جہاں کی تاریخ رقم کی جاتی؛ کیوں کہ تاریخ رقم کرنے کے لیے تاریخی بنیادیں یاتاریخی شخصیتیں درکارہوتی ہیں ؛ لیکن فرقہ پرست ذہنیت نے اس گاؤں کے اندرایسی خون افشانی کی، جس نے وہاں کے ایک کم سخن بلبل کے آراستہ چمن کوتاراج کرکے رکھ دیا،تاراجی چمن کے بعدبلبل ناشاد غم والم سے چورچور ہوکر’’خموشی گفتگوہے، بے زبانی ہے، زباں میری‘‘کے مصداق بن کررہ گئی، تاہم اس اجڑے چمن کے زخم اورہم نوابلبلوں سے بچھڑنے کے غم نے ’’اسے وہ آنکھیں عطا کیں اوروہ نظریں بخشیں، جن سے وہ اوروں کے زخم دیکھنے کے قابل ہوا اورزخموں نے آپس میں رابطہ پیداکیا اوریہ فن کے لیے راستہ بنا، اسی ترتیب کانام غم دل اورغم دوراں کا امتزاج، غم جاں اورغم جاناں کااشتراک، غم عشق اورغم روزگارکااتحادہے‘‘، وہ بلبلِ کم سخن چوں کہ ’’سراپادردہوں، حسرت بھری داستاں میری‘‘ کاایک نمونہ بن چکی تھی، لہٰذا کب تک اس دردکوتنہاسہتی رہتی؟ بالآخر ’’دل کے پھپھولے کھل اٹھے سینے کے داغ سے‘‘، بلبل کم گوفغاں سنج ہوئی اور’’اجڑے دیار‘‘ کی داستاں ایسے پرسوز لب ولہجہ میں بیان کرنا شروع کیا، جس نے ہراس شخص کی آنکھ سے نمکین پانی کاچشمہ جاری کردیا، جس کے سینے میں دھڑکتادل تھا:

رب ورقاء ہتوف فی الضحا

ذات شجو صدحت فی فنن

(بسااوقات غمگین خاکسترمائل سفیدکبوتری چاشت کے وقت شاخ پربیٹھ کرچہچہائی)

ذکرت إلفاً ودہراًسالفا

فبکت حزنا فہاجت حزنی

(اپنے محبوب اورگزرے زمانہ کواس نے یادکیا؛ چنانچہ مارے غم کے وہ خودروپڑی اوراس نے میرے غم کوبھی بھڑکادیا)

     کلیم عاجزؔ صاحب نے اپنی شاعری میں ’’غزلوں کی قدیم تکنیک اوراس کی قدیم اصطلاحات واستعاروں میں جذبۂ زندگی کی نئی معنویت سموکرانہیں نئے زمانہ کے ساتھ پوری توانائی، حسن اورتأثرکے ساتھ سفرکرنے پرآمادہ کردیاہے‘‘، یہی وجہ ہے کہ ہم ان غزلوں کے الفاظ میں ایک تو’’سطحی مفہوم‘‘پاتے ہیں اوراس کے ساتھ ’’ایک دوسرا مفہوم‘‘ بھی پاتے ہیں، سطحی مفہوم کوتوہرایراغیرانتھوخیرااپنی اپنی سوچ کی سطح کے اعتبارسے اپنے اپنے گوشۂ ذہن میں ترتیب دے لیتاہے؛ لیکن اس دوسرے مفہوم کوسمجھنے  والے خال خال ملتے ہیں ؛ حالاں کہ عاجزؔصاحب کامقصود اس دوسرے مفہوم کوسامع وقاری کے ذہن کے پردۂ سیمیں میں داخل کرناہوتاہے، اسی دوہری معنویت کی شاعری کی وجہ سے ہی ان کی اشعارمیں ’’پھول‘‘ بھی ملتے ہیں اور’’پتھر‘‘ بھی، ’’خندہ روی‘‘ بھی ملتی ہے اور’’تھپڑ‘‘ بھی، شربت کی ’’شیرنی‘‘ بھی ملتی ہے اورزہر کی’’تلخی‘‘ بھی، بادصباکی’’خوشبو‘‘ بھی ملتی ہے اوربادسموم کی’’گرمی‘‘ بھی، زخم زدہ انسانیت کی ’’کراہ‘‘ بھی ملتی ہے اورصبروشکیبائی کی’’چاہ‘‘ بھی؛ لیکن یہ سب چیزیں اس سلیقہ مندی کے ساتھ مرتب اورمسلسل شکل میں ملتی ہیں، جوصرف انہیں کاخاصہ ہے، وہ خودکہتے ہیں :

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم

بات کہنے کا سلیقہ چاہیے

    کلیم عاجزؔنے اپنے سوزش دل کوکم کرنے کے لیے شاعری کے جس لب ولہجہ کاانتخاب کیا، وہ ہزاروں میں پہچاناجاتاہے، ان کے اشعارادھرہونٹوں سے تجاوز نہیں کرتے کہ ادھردل کے تاربجنے لگتے ہیں اورشاعری سے ادنی تعلق رکھنے والوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، آیئے ان کے اشعارکے ذریعہ سے ان کے اس لب ولہجہ کودیکھتے چلیں :

اے عشق! مل سکیں گے نہ ہم جیسے سرپھرے

برسوں چراغ لے کے زمانہ اگرپھرے

وہ دردمندہیں کہ گئے جس چمن میں ہم

پھولوں کوبانٹتے ہوئے خونِ جگرپھر

٭٭٭

اس ناز اس اندازسے تم ہائے چلو ہو

روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو

رکھناہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا

تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو

وہ شوخ ستم گر توستم ڈھائے چلے ہے

تم ہوکہ کلیم اپنی غزل گائے چلوہ و

٭٭٭

رقیبوں میں رہے یادوستوں کے درمیاں پہونچے

کہیں بھی چین سے رہنے نہ پائے ہم جہاں پہونچے

چمن میں یادکرکے اپنے ویرانے کوروتاہوں

وہاں غم اس قدرپہونچے نہ تھے جتنے یہاں پہونچے

سناہے لوگ فن سے صاحبِ فن تک پہونچتے ہیں

مگرہم تک ہمارے ڈھونڈھنے والے کہاں پہونچے؟

٭٭٭

جب دورمیں شیشہ رہے ہے جام رہے ہے

کیاجانے کہاں گردش ایام رہے ہے

اک دردہے جوشام سے اٹھے ہے سحرتک

اک سوز ہے جوصبح سے تاشام رہے ہے

بدکاربہت لوگ زمانہ میں رہے ہیں

پکڑاوہی جائے ہے جوبدنام رہے ہے

تم بھی نہیں سمجھوں تم بڑاظلم ہے پیارے

ہرشعرمیں دل کاکوئی پیغام رہے ہے

٭٭٭

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کاغم نہیں لیں گے

گریباں چاک تک کرنہ لیں گے دم نہیں لیں گے

لہودیں گے تولیں گے پیارموتی ہم نہیں لیں گے

ہمیں پھولوں کے بدلے پھول دو شبنم نہیں لیں گے

یہ غم کس نے دیاہے پوچھ مت اے ہم نشیں ہم سے

زمانہ لے رہاہے نام ہم نہیں لیں گے

محبت کرنے والے بھی عجب خوددارہوتے ہیں

جگرپرزخم لیں گے زخم پرمرہم نہیں لیں گے

غم دل ہی کے ماروں کوغم ایام بھی دے دو

غم اتنالینے والے کیااب اتناغم نہیں لیں گے؟

سنوارے جارہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیں

تم اپنے ذمہ لواب یہ بکھیڑاہم نہیں لیں گے

شکایت ان سے کرناگومصیبت مول لیناہے

مگرعاجزؔغزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

      ہمارے ملک ہندوستان میں یوں توشعراء ؛ بل کہ اساتذہ شعراء، کہنہ مشق شعراء اورماہرفن شعراء کی کمی نہیں ؛ لیکن کم ہی شعراء ایسے ملیں گے، جن کی نسبت ’’درکف جام شریعت، درکف سندان عشق‘‘ کی تعبیراختیارکی جاسکے، کلیم صاحب کے یہاں دونوں چیزیں کمال درجہ کی ملتی ہیں، شاعری بھی ٹوٹ ٹوٹ کرکی اوردین داری بھی کوٹ کوٹ کربھری رہی، انھوں نے دونوں کوجدانہیں کیا، جیساکہ اکثرشعراء جداکردیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ادب نواز حلقہ میں بھی خوب جانے گئے اورمصلی وجائے نمازمیں بھی خوب پہچانے گئے، پھرایک وقت وہ آیا، جب انھیں بہارکی تبلیغی جماعت کی امارت سونپی گئی، جس کوانھوں نے خوب خوب نبھا کردکھایا۔

    کلیم عاجزؔ کی شاعری کے بارے میں اکثرحضرات کا یہ خیال ہے کہ وہ ’’اپنی کیفیات تغزل میں میرؔکے فرماں بردارپیروہیں ‘‘؛ البتہ بعض حضرات اس کو’’تقلیدجامد‘‘ نہیں سمجھتے؛ بل کہ ان کی غزلوں میں ’’تغزل جدیدکاپرتو‘‘بھی تسلیم کرتے ہیں ؛ تاہم کلیم صاحب خودکیاکہتے ہیں ؟ آیئے دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں : ’’الفاظ کی بات آگئی تویہ بات عرض کردوں کہ میری زندگی میں خیال، بات اورشعرمیں کوئی بعدیافرق نہیں، میں جس طرح جن الفاظ میں سونچتاہوں، ان ہی الفاظ میں باتیں کرتاہوں اورجن الفاظ میں باتیں کرتا ہوں ان ہی لفظوں میں شعرکہتاہوں، فرق صرف ترتیب اورترکیب کاہوتاہے، اس ترتیب اورترکیب کومیں نے کتابوں سے حاصل نہیں کیاہے، یہ میرااپناہے اوراورکسی کے مشورے سے بھی نہیں اپنایاگیاہے، یہ میرؔ کی پیروی نہیں، میں پیروکسی کانہیں، میں نے میرؔکوکالج کالکچرربننے کے بعدجانا اور پہچانا اورسمجھا، اوریہ بات 1966ء کے بعدکی ہے، اس سے قبل میں میرؔ کے چنداشعارجانتاتھا، کچھ حالات سے واقفیت تھی، میرے کالج کے دوران تعلیم بی اے آنرس اورایم اے کے نصاب میں میرشامل نہیں تھے …میرسے جوکسی قدر مشابہت ہے، یہ مشابہت فن سے نہیں، زندگی سے آئی ہے، جس کاشعوری احساس بہت بعدمیں مجھے ہوا‘‘، اس سلسلہ میں میں سمجھتاہوں کہ شاعرکی بات ’’اعتراف حق‘‘ کے مترادف ہے؛ کیوں کہ ایساممکن ہے کہ جس تیکنک کااستعمال میرؔ نے کی، وہی تیکنک خودبخودکلیم عاجزسے ظہورمیں آجائے، جب کہ ہم اس بات کے خوب معترف ہیں کہ ایک ہی مضمون دوافرادکوسوجھ سکتاہے اورایک ہی مصرعہ دوشاعروں کے ذہن میں آسکتاہے، جس کا نام ہم نے اصطلاح میں ’’توارد‘‘ دے رکھاہے،اوراس کوہم ایک دوسرے کی پیروی قرارنہیں دیتے توپھریہ کیوں ممکن نہیں کہ ایک ہی لب ولہجہ، جب کہ حالات ِزندگی میں یکسانیت بھی پائی جارہی ہو، دواشخاص سے ظہورمیں آئے؟ اوراس کوہم کوپیروی کیوں قراردیں ؟

     بہرحال! کلیم عاجزؔ بہت سارے ’’کارہائے نمایاں ‘‘ انجام دینے کے بعد15؍فروری 2015ء کی صبح کواس دارفانی سے داربقاکی طرف یہ درس دیتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ یہ دنیاداراالامتحان ہے، یہاں غم کے کوہ گراں کوبھی برداشت کرناچاہیے اورایک غم کی وجہ سے دوسرے اہم کاموں کونظراندازنہیں کرناچاہیے، قضا وقدرکے فیصلوں پر صبروشکیبائی مؤمن کی تسلی کے لیے بڑاکارگرہتھیارہے، اس کوہمیشہ پیش نظررکھناچاہیے، اس سے زندگی میں اطمینان قلب حاصل ہوتاہے، ’’آسماں تیری لحدپرشبنم افشانی کرے‘‘۔



Saturday, 13 February 2021

یوم محبت: دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے(Valentine's Day)

 یوم محبت: دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


وہ تاریخ آچکی ہے، جس کاانتظار وہ لوگ مہینوں سے کررہے ہیں، جن کے دلوں میں ہوس کابچاری صبح وشام گھنٹیاں بجاتاہے، جن کی آنکھوں کی چمک اس تاریخ کو سوچ کربڑھ جاتی ہے، جس کے تصورسے ایک لمبی سی مسکان ان کے ہونٹوں پرکھیلنے لگتی ہے، جس کے خیال سے ان کے چہرے گلاب ہوجاتے ہیں، جس کی تیاری اس طرح کی جاتی ہے، جیسے عیدکی کی جاتی ہے، اس کے لئے ہفتوں پہلے سے بازاروں کے چکر لگائے جاتے ہیں؛ تاکہ عمدہ سے عمدہ ایسے کارڈز خرید ے جاسکیں، جوظاہری اعتبارسے اتنے حسین ہوں کہ حسن کی پری بھی اسے دیکھ کربے ساختہ ’’ہاں‘‘ میں سرہلادے، یہ تاریخ 14؍ فروی کی تاریخ ہے، جسے یوم محبت(Valentine's Day ) اورمحبت کرنے والوں کا تہوار (Lover's Festival)کے طورپرمنایا جاتا ہے۔

محبت کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ساتھ دشمنی کی جائے، اس سے دشمنی کوئی کٹھوردل ہی کر سکتا ہے، پوری دنیامیں لوگ یہی توچاہتے ہیں کہ لوگ محبت کے ساتھ رہیں، اس کے لئے کانفرنسیں کی جاتی ہیں، اس کے لئے جلسے جلوس منعقد کئے جاتے ہیں، پھراس کا دشمن کوئی کیسے ہوسکتاہے؟ ہاں اتنی بات ضرورہے کہ ہرکوئی اس کے لئے دائرہ کی تحدید کرناچاہتاہے، حدود میں رہ کراگرمحبت کی جائے تولوگ اسے سراہتے ہیں، اس کی قدردانی کرتے ہیں، ماں سے محبت کی جائے، باپ سے محبت کی جائے، بہن سے محبت کی جائے، دیگررشتہ داروں سے محبت کی جائے، بیوی سے محبت کی جائے ، اولاد سے محبت کی جائے، ہرکوئی اسے قدرکی نگاہ سے دیکھے گا، کوئی اس کومنع نہیں کرے گا، ایسی محبتوں کے لئے کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی؛ بل کہ اس کے لئے تودعائیں کی اورکرائی جاتی ہیں۔

ان محبتوں کے لئے دن کی تعیین کی ضرورت نہیں، نہ کوئی دن کی قیدکوایسی محبتوں کے لئے پسندکرے گا، دنیا کے کسی مذہب اورقانون میں یہ نہیں ہے کہ مذکورہ لوگوں سے محبت کے لئے ہفتہ ، مہینہ یاسال میں کسی ایک دن کی تعیین کی جائے؛ بل کہ ایسی محبتیں بے قید ہوتی ہیں اوربے قید ہونی بھی چاہئیں، اگران محبتوں کوقید کردیاجائے توپھرانسان اورحیوان میں کیافرق باقی رہ جائے گا؟ ان کے لئے سال میں پیارومحبت کاموسم آتاہے، اسی موسم میں وہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں، وہ بھی سب حیوان نہیں؛ بل کہ صرف نراورمادہ، باقی جانوروں کے اندروہ پیاربھی نہیں ہوتا، توکیا انسانوں کو بھی حیوان بن جاناچاہئے اورڈارون کے نظریہ کومعکوسی طریقہ پرثابت کیاجاناچاہئے اورپیارومحبت کے لئے سال میں ایک دن کی تعیین کرلینی چاہئے؟ یا ایسی محبتوں کووقت اوردن کی تعیین سے آزادرکھاجاناچاہئے؟

محبت کے دن کی تعیین کاتصورمغرب سے آیاہے اورہم رہے مغرب کے نرے مقلد، وہاں کی ہرچیز کو اپنانا اپنے لئے باعث فخرسمجھتے ہیں، اب اسی یوم محبت کولیجئے! جس طرح آج اس کاتصورنئی نسل میں ہے، ویسا تصوراس سے پہلے نہیں رہاہے، اگرہم اپنے باپ دادوں کواس تعلق سے سوال کریں تووہ لاعلمی کااظہارکریں گے، اس کا تصور اس وقت سے زیادہ ہوگیاہے، جب سے کیبل اور انٹرنیٹ نے ہرگھرمیں اپنا قدم جمایاہے؛ کیوں کہ مغرب کے شاطرلوگ مشرق کے لوگوں کواپنے یہاں کی ہربرائی کوپہلی فرصت میں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے برخلاف اپنے یہاں کی اچھائیوں کے قریب بھی لوگوں کوبھٹکنے نہیں دیتے، ہم جنس پرستی اورلیوان ریلیشن شپ کوتوپہنچادیا اورمشرق میں بھی اس کے ہم نوا پیدا ہوگئے ؛ بل کہ کورٹ اورکچہریوں میں ان کے تعلقات کوسند جواز بخش دیاگیا؛ لیکن محنت ولگن اورایمانداری جیسی چیزوں کوفروغ نہیں دیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے ملک میں ترقی ہوجائے گی۔

جن برائیوں کومغرب نے مشرق میں فروغ دیاہے، ان میں سے ایک’’ یوم عاشقاں‘‘(Valentine's Day) بھی ہے، خصوصیت کے ساتھ مشرق کی نئی پود نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیاہے؛ حالاں کہ اس کی حقیقت سے بھی وہ لوگ واقف نہیں؛ لیکن چوں کہ یہ نفس اورخواہش کے مطابق چیز ہے؛ اس لئے اس کواس طرح لپک لیاگیاہے، جیسے باز اپنے شکار پر لپکتاہے، تاریخ کی مناسبت سے بہترمعلوم ہورہاہے کہ اس کی حقیقت پربھی روشنی ڈالی جائے۔

اس کی حقیقت کی تعلق سے کئی باتیں کہی جاتی ہیں:  ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ جس وقت روم میں بت پرستوں کی حکومت تھی، ویلینٹائن نامی شخص نے بت پرستی کو چھوڑکرنصرانیت اختیارکرلیاتھا، جس کے نتیجہ میں اس وقت کی حکومت نے اسے جیل میں قیدکردیاتھا، اس پادری کوجیلرکی بیٹی سے محبت ہوگئی تھی اوروہ اسے خط لکھاکرتاتھا، جس کی پاداش میں اسے پھانسی دی گئی، پھرجب روم میں نصرانی حکومت قائم ہوئی توویلینٹائن کویادرکھنے کے لئے اس دن کو’’یادگاردن‘‘ قراردیاگیا۔

دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ رومیوں کے عقیدے کے مطابق ان کے معبودوں کی ملکہ(یونو) کی وجہ سے 14؍فروری ان کے یہاں مقدس ماناجاتاہے، اسی کی مناسبت سے ان لوگوں نے اس دن کوشای بیاہ اورپیارومحبت کے لئے جشن کادن قراردیا۔

تیسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ رومیوں کے یہاں لیسیوس نام کا ایک معبودپایا جاتاہے، جودراصل ایک بھیڑیاہے، یہ معبوداس لئے ماناجاتاہے کہ شہرروم کے بانی رومیولوس اورریموس کواس نے بچپن میں دودھ پلاکران کی جان بچائی تھی، اسی مناسبت سے وہ لوگ 15؍ فروری کوجشن کادن مناتے تھے، جواب بدل کر14؍ فروری ہوگیاہے۔

چوتھی بات یہ کہی جاتی ہے کہ روم کے بادشاہ کلاڈیوس کوفوج میں جانے کے لئے لوگ نہیں ملنے لگے ، جس کی وجہ لوگوں کی شادی شدہ زندگی معلوم ہوئی تواس نے شادی بیاہ پرپابندی لگادی، اس حکم کی خلاف ورزی ویلینٹائن نامی پادری نے کی اورگرجاگھرمیں چھپ چھپاکرلوگوں کی شادی کرنے لگا، جس کی اطلاع بادشاہ کوہوگئی، بادشاہ نے اس پادری کو14؍فروری 269ء کوقتل کروادیا، اسی کی یادکے طورپراس کے ماننے والوں آج کے دن کوبطورجشن کے منایا، جوآج اس شکل میں منایاجاتاہے۔

پانچویں بات یہ کہی جاتی ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں روم کے ایک پادری ویلینٹائن کوایک نن سے محبت ہوگئی ، چوں کہ ان کے مابین مذہبی پابندی کی وجہ سے شادی نہیں ہوسکتی تھی؛ اس لئے ویلینٹائن نے اس نن سے کہا کہ اسے خواب میں بشارت دی گئی ہے کہ اگرراہب اورراہبہ 14؍فروری کوجسمانی تعلق قائم کرلیں توکوئی گناہ نہیں ہوگا، راہبہ اس کے جھانسے میں آگئی اورگرجاکے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دونوں نے جسمانی تعلق استوارکرلیا، افشائے راز کے بعد دونوں کوقتل کردیا گیا، بعد میں لوگوں نے انھیں ’’شہید محبت‘‘ قراردے کراس دن کوان کی یادوں کاجشن مناناشروع کردیا۔

انسائیکلوپیڈیاآف بریٹانیکامیں اس کاجوپس منظر یہ بتایاگیاہے ، اس سے مذکورہ واقعات کی تردید ہوتی ہے؛ چنانچہ اس میں لکھاہواہے کہ ’’اس کاتعلق یاتورومیوں کے دیوتا لوپرکالیاکے حوالہ سے 14؍فروری کومنائے جانے والے تہواربارآوری یاپرندوں کے موسم اختلاط (Mating Season) سے ہے۔

انسائیکلوپیڈیاآف کیتھولک ازم کے بیان سے بھی ان واقعات کی تردیدہوتی ہے اورمعلوم یہ ہوتاہے کہ ان واقعات کوان لوگوں نے گڑھا ہے، جوحقیقت میں ان جیسی چیزوں کونئی نسل میں فروغ دیناچاہتے ہیں اورجن کے دلوں میں ہوس کاعفریت چھپا ہواہے، اس میں لکھا ہے کہ ’’ویلینٹائن نام کے دومسیحی بزرگ کاذکرملتاہے، ان میں سے ایک متعلق یہ بیان کیاجاتاہے کہ وہ روم کاپادری تھا، جسے رومی دیوتاؤں کی پوجاسے انکارکرنے پر269ء میں بادشاہ کلاڈیئس دوم(Cladius-II)کے حکم پرموت کی سزادی گئی، دوسراطرنی(Terni)کاایک پادری تھا، جس کو لوگوں کوشفابخشنے کی روحانی طاقت حاصل تھی، اسے بھی کئی سال پہلے شہید کردیاگیاتھا، ابھی تک تویہی سوال قائم ہے کہ ویلینٹائن نام کے دوافرادتھے یاایک ؛ البتہ یہ ایک طے شدہ بات ہے ان دونوں کامحبت کرنے والے جوڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، محبت کے پیغامات یاتحائف بھیجنے کارواج بعد میں غالباً ازمنۂ وسطی میں اس خیال کے تحت شروع ہواکہ 14؍ فروری پرندوں کی جنسی مواصلت کادن ہے، مسیحی کلینڈر میں یہ دن کسی بزرگ کی یاد میں تہوارکے طورپرنہیں منایاجاتا‘‘ (The Harber Collins Encyclopedia of Catholicism: p: 1294)

دونوں انسائیکلوپیڈیاز کی وضاحت کی تائیداس سے بھی ہوتی ہے کہ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دئے؛ بل کہ اس سے آگے بڑھ کر بینکاک میں ایک مسیحی پادری نے اپنے بعض ہم نواؤوں کے ساتھ مل کرایک ایسی دوکان کونذرآتش کردیا، جہاں ویلینٹائن کارڈ س فروخت ہورہے تھے، سوچئے اورغورکیجئے! جس کے لئے خودپادری احتجاج کررہے ہیں، جس کے لئے دوکان جلارہے ہیں، ہم مقلدین اس کواپنانے پرتلے ہوئے ہیں۔

جولوگ اس دن کوبطورتہوارمناتے ہیں، ان میں بعض ’’ایسے روشن خیال‘‘ بھی ہیں، جوان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جواس دن کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ اس دنیامیں نفرتیں کافی بڑھ گئی ہیں، اگرایک دن پیارومحبت کے نام کردیاجائے تواس میں برائی ہی کیاہے؟ یہ دلیل غوروفکرکے قابل ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں جس طرح نفرت عام ہے، اس کی مثال ماضی میں ملنی مشکل ہے؛ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہے کہ کیااس ایک دن کی وجہ سے نفرت میں کچھ کمی ہوگی؟ اگرکمی نہیں ہوگی توپھرفائدہ کیا؟ اس کی بجائے ایسی فضاقائم کیوں نہ کی جائے، جونفرت کے ماحول کوختم کردے، جوپیارومحبت کوبڑھاوادے؟ اس کے لئے مہم چلانے کی ضرورت ہے، نصاب میں جس طرح مارڈن ایجوکیشن داخل ہے، اسی طرح مارل ایجوکیشن کوبھی شامل کیاجائے، ان سیریلس اورفلموں پرپابندی لگائی جائے، جن میں نفرت عام کرنے کے موادپائے جاتے ہیں، ان لوگوں کی لگام بھی کسی جائے، جن کی زبان سے شعلے نکلتے ہیں، ان چیزوں کی وجہ سے واقعی طورپربدلاؤ آئے گا، ورنہ ایک دن کی’’یوم محبت ‘‘ سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔

دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ محبت کے نام سے چڑکیوں ہے؟ محبت کے لفظ سے صرف جنس کے معنی ہی تونہیں پائے جاتے ہیں؟ محبت ماں، باپ، بھائی بہن اورآل واولاد سے بھی توکی جاسکتی ہے؟ پھراس میں اعتراض کیوں ہے؟ یہ دلیل بھی ٹھیک ہے؛ لیکن اس پرسوال اٹھتاہے کہ ماں، باپ، بھائی بہن اورآل واولاد سے محبت کے لئے سال میں ایک ہی دن کوکیوں چناجائے؟ اورکیاان لوگوں کے تعلق سے ایک دن کی محبت کافی ہوجائے گی؟ جس ماں نے نومہینے بیٹ میں رکھا، اس ماں کے لئے سال بھر میں صرف ایک دن کی محبت نچھاورکی جائے؟ اس سے کیاماں کاحق اداہوجائے گا؟جس باپ نے پال پوس کربڑاکیا، بچپن سے جوانی تک پوراخیال رکھا، کیااس کے لئے بھی ایک دن کی محبت کافی ہوجائے گی؟ یاانھیں ہمیشہ کاپیارچاہئے؟ 

پھر اس دن جوخرافات ہوتے ہیں، ان سے جنس کاتصورنہ آئے توکیاآئے؟ کیایہ سچ نہیں ہے کہ اس دن نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ہی آپس میں پیارومحبت کااظہارنہیں کرتے؟ کتنے لوگ ایسے ملیں گے، جواس دن ماں، باپ، بھائی بہن اورآل واولاد سے پیارجتاتے ہیں؟ ان کے لئے پھول اورکارڈز خریدتے ہیں؟ پھرجنس کاتصورنہیں ابھرے گاتواورکیاابھرے گا؟ اس لئے ڈنکے کی چوٹ پریہ کہاجاسکتاہے کہ 14؍ فروری کو یوم محبت منانے کی آڑمیں جواوباشی اورفحاشی ہوتی ہے، وہ مغرب کے ننگی تہذیب(Nude Culture)کی بھونڈی مثال ہے، مشرق جس سے ناواقف تھا؛ لیکن اب مشرق کاجنازہ بھی نکلتاجارہاہے۔

jamiljh04@gmail.com / 8292017888





Friday, 12 February 2021

اعضاء و تصاویروالی نصابی کتابیں : شرعی جائزہ

 اعضاء و تصاویروالی نصابی کتابیں : شرعی جائزہ


محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


بچوں کی کشش اوراخذ کرنے میں سہولت کے لئے آج کل نصابی کتابوں میں انسانی اعضاء اور دیگر حیوانات کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا نصاب میں اعضائے انسانی اور جانوروں کی تصاویروالی کتابوں کوشامل کرناشرعی اعتبارسے درست ہے؟

اس کے جواب کوسمجھنے کے لئے سوال کودوشقوں میں تقسیم کیاجاتاہے:

پہلی شق:   نصابی کتابوں میں اعضائے انسانی کی شمولیت کی شرعی حیثیت۔

دوسری شق:   نصابی کتابوں میں جانوروں کی تصاویرکی شرعی حیثیت۔

جہاں تک پہلی شق کاسوال ہے توچوں کہ اس میں پوری تصویرابھرتی نہیں؛ اس لئے اس کی گنجائش ہونی چاہئے ؛ کیوں کہ حدیث میں ہے، اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:

أتانی جبریل، فقال: إنی أتیت البارحۃ، فلم یمنعنی أن أکون دخلت علیک البیت الذی فیہ؛ إلاأنہ کان فی باب البیت تمثال الرجال، وکان فی البیت قرام ستر فیہ تماثیل، وکان فی البیت کلب، فمربرأس التمثال الذی بالباب، فلیقطع فلیصرکھیئۃ الشجرۃ، ومربالستر، فلیقطع ویجعل منہ وسادتین منتبذتین یوطآن ، ومر بالکلب فیخرج(سنن الترمذی، باب ماجاء أن الملائکۃ لاتدخل بیتاًفیہ صورۃ ولاکلب، حدیث نمبر: ۲۸۰۶)۔ 

میرے پاس جبرئیل ؑ آئے اورکہا: میں گزشتہ رات آیا تھا؛ لیکن گھرکے دروازے میں مردوں کے مجسمے ہونے کی وجہ سے داخل نہیں ہوا، (اسی طرح) گھرمیں جوپردہ تھا، اس میں مجسمے بنے ہوئے تھے، اورگھرمیں کتا (بھی) تھا؛ چنانچہ آپ دروازے کے مجسمے کے سرکو کاٹنے کاحکم دیجئے؛ تاکہ درخت کی طرح ہوجائے، پردے کے بارے میں حکم دیجئے کہ اس کے دوٹکڑے کرکے دوتکئے بنالئے جائیں، جنھیں رونداجائے، اورکتے کے بارے میں حکم دیں کہ اسے نکال دیاجائے۔

اس حدیث میں صاف طورپرلکھاہوا ہے کہ اگرتصویرکے سرکوکاٹ دیاجائے تواس کی حیثیت تصویرکی نہیں رہتی، جب صرف سرکے کاٹنے سے ہی اس کی ہیئت بدل جاتی ہے اورگنجائش نکل آتی ہے توصرف اعضاء کی حیثیت بدرجۂ اولیٰ تصویرکی نہیں رہے گی اورجب تصویرکی حیثیت باقی نہیں رہی تو گنجائش ہونی چاہئے،شیخ عبدالرحمن مبارک پوریؒ ابن عربی ؒکے حوالہ سے لکھتے ہیں:

إ ن الصورۃ التی لاظل لہاإذابقیت علی ہیئتہاحرمت، سواء کانت ممایمتہن، أم لا، وإن قطع رأسہا، أو فرقت ہیئتہا جاز(تحفۃ الأحوذی، باب ماجاء فی الصورۃ:۵؍۳۵۰)۔ 

جس تصویرکاسایہ نہ ہو، جب وہ اپنی ہیئت پرباقی رہے توحرام ہے، خواہ اس میں سے ہو، جس کوپامال کیا جاتا ہو یا پامال نہ کیاجاتاہو، اور اگراس کے سرکوکاٹ دیاجائے، یااس کی ہیئت میں تبدیلی کردی جائے تو جائز ہے۔

اب رہی بات دوسری شق کی توراقم الحروف کے نزدیک احادیث، شروحاتِ احادیث اورفقہائے کرام کی عبارتوں سے جوبات مترشح ہوتی ہے، وہ یہ کہ ہیئت، جگہ اورمقصدکے فرق سے تصویرکاحکم بدل جاتاہے،ہیئت کی بات پیچھے گزری،مقصد کے سلسلہ میں علامہ محمدبن عبدالہادی سندیؒ ’’لاتدخل الملائکۃ بیتاً فیہ صورۃ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أی: کصور، والمعنی فیہ أن متخذہا قدتشبہ بالکفار؛ لأنہم یتخذون الصورفی بیوتہم یعظمونہا، فکرہت الملائکۃ ذلک، فلم تدخل بیتہ ہجراً لہ لذلک(حاشیۃ السندی علی صحیح البخاری: ۴؍۴۵)۔ 

یعنی آدمی وغیرہ میں سے جاندارکی تصویرکی طرح، جب تک کہ اس کاسر کاٹ نہ دیاجائے، یا اس کوپامال نہ کردیاجائے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بنانے والے کوکفارکے مشابہ قرار دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں تصویریں تعظیم کے لئے بناتے ہیں، پس ملائکہ کویہ پسند نہیں؛ اس لئے اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے فرشتے گھرمیں داخل نہیں ہوئے۔

اس تشریح سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگرمقصد تعظیم نہ ہوتوگنجائش ہے؛ کیوں کہ بہت سارے مسائل ایسے ہیں، جن میں مقاصد کااعتبارکیاگیاہے؛ چنانچہ حدیث میں ہے:

فإن کانت ہجرتہ لدنیایصیبہاأوامرأۃ یتزوجہا، فہجرتہ إلیٰ ماہاجرإلیہ(بخاری، باب ماجاء إن الأعمال بالنیۃ…، حدیث نمبر: ۵۴)۔ 

اگراس کی ہجرت دنیاکمانے یاکسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہے تواس کی ہجرت اسی کے لئے ہے، جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔

صاحب فتح القوی المبین لکھتے ہیں:

فأخبرالنبیﷺ أن ہذہ الہجرۃ تختلف باختلاف النیات والمقاصدبہا(  فتح القوی المبین فی شرح الأربعین،ص: ۹)۔

چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے خبردی کہ یہ ہجرت نیتوں اور مقاصد کے بدلنے سے بدلتی ہے۔

اورمشہوراصول ہے: 

الأموربمقاصدہا(  الأشباہ والنظائر، القاعدۃ الثانیۃ،ص: ۳۹)۔ 

امورکاحکم اس کے مقاصدکے اعتبار سے ہوتاہے۔

اسی کوسامنے رکھتے ہوئے علامہ شامیؒ آلاتِ لہوکے سلسلہ میں رقم طراز ہیں:

اقول: وہذایفید أن آلۃ اللہولیست محرمۃ لعینہا؛ بل لقصد اللہومنہا، إمامن سماعہا، أو من المشتغل بہا، وبہ تشعرالإضافۃ، آلاتری أن ضرب تلک الآلۃ بعینہاحل تارۃ، وحرم تارۃ اخری باختلاف النیۃ بسماعہا، والأموربمقاصدہا(حاشیۃ ابن عابدین:۶؍۳۵۰)۔ 

میں کہتاہوں: اوریہ اس بات کافائدہ دیتاہے کہ آلاتِ لہوحرام لعینہ نہیں ہے؛ بل کہ اس سے لہوکا قصد کرنے کی وجہ سے ہے، خواہ اسے سن کریا اس میں مشغول ہوکر، …کیاتم دیکھتے نہیں کہ عین اس آلہ کوبجانا سماع کی نیت کے اختلاف کے اعتبارسے کبھی جائزہوتاہے اورکبھی حرام ہوتاہے، اورامورکاحکم اس کے مقاصد کے اعتبارسے لگایاجاتاہے۔

جانوروں والی تصاویرکی کتابوں کوبھی اسی ’مقصد ‘کے تحت دیکھاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ اس کا مقصد تعظیم وغیرہ بالکل نہیں؛ بل کہ اس کامقصد بچوں کے اذہان میں لفظ کے ہیولیٰ کوبٹھاناہوتاہے، ظاہرہے کہ اس میں حرج کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے، شیخ ابن عثیمنؒ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

الکتب التی بہاصورۃ تنقسم إلی قسمین: قسم موضوع للصور…فلایجوز شراؤہا، ولااقتناؤہا؛ لأنہ المقصود بہا أولاً وآخراً الصور، وقسم آخر، لایقصد بہا الصور، إنما یقصد بہ الفائدۃ؛ لکن قدیشتمل علی صورۃ الذی کتب المقال، فہذہ لابأس من اقتنائہا؛ لأن منہاشاق، وبیعہاجائز؛ لأنہ متی جاز استعمالہاجازبیعہا(  لقاء الباب المفتوح، حکم شراء الکتب المشتملۃ علی صور: ۱۱۵؍۲۲)۔ 

تصویروالی کتابوں کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ، جس کاموضوع ہی تصویرہے…اس کابیچنااورخریدنادونوں ناجائز ہیں؛ کیوں کہ اس کااول اورآخرمقصد تصویرہی ہے، دوسری وہ، جس میں تصویر مقصودنہیں ہوتی، اس کے ذریعہ سے فائدہ مقصودہوتاہے؛ البتہ موضوع کے اعتبارسے تصویرپرمشتمل ہوتی ہے، پس اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اس میں حرج ہے اوراس کی بیع درست ہے؛ اس لئے کہ جب اس کااستعمال جائز ہے تواس کی بیع بھی درست ہوگی۔