Sunday, 29 November 2020

پریم یُدّھ: ایک لمحہ ٔ فکریہ

 پریم یُدّھ: ایک لمحہ ٔ فکریہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


اگرلڑائی میں دولوگ شریک ہوں توانھیں روکنے کے لئے آپ کوبیچ میں کھڑاہوناہوگا، اگرآپ ایک شخص کا ہاتھ پکڑلیں تودوسرااس پرحملہ آورہوجائے گااوراس طرح آپ ایک کے ساتھ ناانصافی کرنے والے ہوجائیں گے، معاشرہ میں آج کل یہی چل رہاہے، جہاں بھی لڑائی ہوتی ہے، وہاں انصاف کے تقاضوں کوسامنے رکھ کرلڑائی کوروکنے والے کھڑے نہیں ہوتے؛ بل کہ پہلے لڑائی کرنے والوں کوتولتے ہیں اورجب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کون کمزورہے اورکون طاقت ورتو کمزورکاساتھ دینے اورطاقت ورکاہاتھ پکڑنے کی بجائے کمزورکوہی دبوچ لیتے ہیں؛ تاکہ طاقت وراپنی طاقت دکھاسکے اورکمزورمزیدکمزورہوکرزندگی گزارے۔

ابھی یوپی میں قانون بنایاگیا’’غیرقانونی تبدیلی ٔمذہب مانع آرڈیننس2020‘‘کے نام سے ، اس کے پس پردہ اصل مقصد’’لو-جہاد‘‘کوروکناہے، جب کہ آرڈیننس میں بین مذہبی شادی کے لئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے عرضی کاایک ڈرافٹ بھی شامل کیاگیاہے، جس کی روسے شادی سے دومہینے قبل ڈسٹرک مجسٹریٹ کواس کی اطلاع دینی ہوگی، بغیراس اجازت کے 6ماہ سے لے کر3سال تک کی جیل اور10ہزارروپے جرمانہ کی سزاکامستحق ہوگا، اس قانون کی اس ملک میں بالکل ضرورت نہیں تھی، جس ملک کاکوئی مذہب ہی نہیں ہے، جب ملک کاہی کوئی مذہب نہیں اوراس کے آئین اوردستورمیں’’تمام اشخاص کوآزادی ضمیراورآزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی کرنے اوراس کی تبلیغ کرنے کامساوی حق ہے‘‘ توپھراس قانون کاکوئی مطلب سوائے اس کے کہ اس کے ذریعہ سے غلط فائدہ اٹھایاجائے گا، اورکچھ نہیں رہ جاتا۔

جس صوبہ میں یہ قانون بنایاگیاہے، اس کے سی ایم اپنے جلسوں میں مسلسل لوجہادکے تعلق سے بات کرتے رہے ہیں؛ لیکن کبھی بھول کربھی انھوں نے ’’پریم یُدّھ‘‘ کی بات نہیں کی؛ حالاں کہ اس وقت ہمارے ملک میں جس کثرت سے پریم یدھ کی ہواچل رہی ہے کہ اگراس کی طرف توجہ نہ دی گئی تونئی نسل کی تعلیم یافتہ بچیاں اس کی شکارہوکر ارتداد کے راستے پرچل پڑیں گی؛ بل کہ چل پڑی ہیں، خصوصیت کے ساتھ ساؤتھ انڈیااس کازیادہ کاشکارہے، جس کی بنیادی وجہ مارڈن ایجوکیشن ہے، اس کامطلب یہ نہیں کہ بچیوں کوتعلیم سے دور رکھا جائے؛ بل کہ اس کے لئے سنجیدگی کے ساتھ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔

پہلاکام تویہ کرناچاہئے کہ ایسے اسکولوں کاجال بچھایاجائے، جہاں فرض عین کی تعلیم بھی نصاب میں شامل ہو، صرف مارڈن ایجوکیشن نہ ہو؛ بل کہ مارل ایجوکیشن کی بھی تعلیم دی جاتی ہو، اس کے لئے بڑے بڑے بزنس مینوں کومتوجہ کرنے کی ضرورت ہے، جولوگ بزنس میں روپیہ لگاناچاہتے ہیں، انھیں مشورہ دیاجائے کہ اس میں روپیہ لگائیں، تجارت بھی ہوگی اورخدمت بھی، روپیہ بھی ملے گااورثواب بھی۔اگرایسے اسکول قائم کرلئے گئے توان شاء اللہ چند سالوں میں کایاپلٹ ہوگی اورہماری بچیاں پریم یدھ کے شکارہونے سے بچ جائیں گے۔

اس میں وقت لگ سکتاہے؛ کیوں کہ یہ دقت طلب امرہے توایسی صورت میں مکاتب کے نظام کومضبوط کیاجائے، بچے اوربچیوں کے لئے الگ الگ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، ہوتایہ ہے کہ عام طورپرچھوٹے بچے اوربچیاں تومساجد کے صباحی یامسائی مکاتب میں کچھ نہ کچھ سیکھ لیتے ہیں؛ لیکن بڑی بچیاں اس سے محروم رہ جاتی ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ وہ تصورہے، جوہمارے ذہنوں میں بیٹھا ہواہے کہ خواتین کے لئے مسجدآنے کی اجازت نہیں ہے، میں سمجھتاہوں کہ ہرمسجد میں دوسری منزل بھی ہوگی، اس منزل کوبڑی بچیوں کے لئے خاص کیاجائے اوران کی تعلیم کے لئے لیڈی ٹیچرکابندوبست کیاجائے۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہفتہ واری درس قرآن اوردرس حدیث کانظام بھی بنایاجائے، مردوں کے لئے توبہت ساری جگہوں پراس کانظم ہوجاتاہے؛ لیکن بے چاری خواتین کے لئے کوئی نظم نہیں ہوپاتا، یادرکھئے، خواتین کی تعلیم بھی ہماری ذمہ داری ہے اوردینی تعلیم دیناتوفرض میں شامل ہے، جس سے وہ حلال وحرام کی تمیز کرسکے، ایک مرتبہ کاواقعہ ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک وفدحضوراکرم ﷺ کی صحبتِ بابرکت میں بیس دن تک سعادت مندیوں اورخوش بختیوں کی نعمتوں سے بہرہ مندہونے کے بعدگھرواپسی کاارادہ کیا تواللہ کے رسول ﷺ نے زادِ راہ سے سرفراز فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:’’اپنے گھروالوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھیں کے درمیان قیام کرو، انھیں سکھاؤ اورانھیں حکم دو‘‘۔

آج تک ہم لوگوں نے بڑے بڑے جلسوں میں بہت روپے صرف کئے، میں یہ نہیں کہتاکہ جلسے نہیں ہونے چاہئیں؛ لیکن ایک سوال کرتاہوں کہ اس سے فائدہ کتناہوتا ہے؟ اس کے برخلاف اگران روپیوں کواسکول کھولنے اورمکاتب کے نظام کودرست کرنے میں اوران میں تعلیم دینے والوں کے اوپرخرچ کریں توشاید بڑے بڑے جلسوں سے زیادہ مفید ثابت ہو، اورقوم کی بچیاں ارتداد کاراستہ اختیارکرنے سے بچ جائیں، ہزاروں کی تعداد میں مرتد ہونے کی خبرآرہی ہیں، کیایہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ نہیں ہے؟

جہاں تک لوجہادکے خلاف قانون کی بات ہے تواس کے ذریعہ سے کمزوروں پررعب جھاڑاجائے گا، اگرکوئی غیرمسلم لڑکی اپنی خوشی سے مذہب تبدیل کرے گی تواسے بھی لوجہاد میں شامل کردیاجائے گا اوراگرکوئی مسلم لڑکی ڈراوخوف کی وجہ سے بھی کسی غیرمسلم لڑکے ساتھ جانے پرمجبورہوگی تواسے پریم یدھ میں شامل نہیں کیاجائے گا، ایسے بہت سارے واقعات پیش آچکے ہیں، بے چاری ہادیہ کوکورٹ کے ذریعہ سے لڑائی لڑنی پڑی، ثناخان اورزائرہ وسیم نے صرف پردۂ سیمیں سے توبہ کیا توان کے خلاف ٹرینڈ چلائے گئے اورانتہاء تواس وقت ہوگئی، جب ثناخان نے ایک مفتی سے شادی رچالی، محسوس یوں ہونے لگا، جیسے بھوکم آگیاہو، جب ایک مسلم لڑکی کے سدھرنے اور توبہ کرنے سے یہ حالت ہوسکتی ہے توایک غیرمسلم لڑکی کے اسلام میں داخل ہونے سے کیانہیں ہوسکتا؟ اس لئے خصوصیت کے ساتھ ہمارے نوجوانوں کوبھی سوچنا چاہئے اورکوئی بھی ایساقدم اٹھانے سے باز رہناچاہئے، جس کی وجہ سے آپ خود بھی مصیبتوں کے شکار ہوجائیں، آپ کے گھروالے بھی پریشان ہوں اورجس کی وجہ سےآپ کی قوم پرداغ لگے۔

jamiljh04@gmail.com / 8292017888


حلالہ: عورت کے حق حفاظت کا ایک ذریعہ

حلالہ: عورت کے حق حفاظت کا ایک ذریعہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

    اللہ تعالیٰ نے انسان کوجن صفات سے نوازاہے، ان میں سے ایک غصہ بھی ہے، غصہ نعمت بھی ہے اورزحمت بھی، اگریہ حق کے لیے ہوتونعمت اورقابل قدرہے؛ لیکن اگر یہ ناحق ہوتوپھرزحمت اورناقابل قبول ہے،انسان چوں کہ جلدبازپیداکیاگیاہے؛ اس لیے عمومی طورپراپنے غصہ کی صفت کا استعمال ناحق کربیٹھتاہے، پھرندامت کے آنسوبہاتاہے؛ لیکن ’’اب کیاہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘، ایسے موقع پرضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی اس کی ڈھارس بندھائے، اگرڈھارس بندھانے والاکوئی نہیں ملتاتوانسان مزیدغلطیوں کاارتکاب کرتاہے، پھرغلطیوں کے دلدل میں ایساپھنستاہے کہ سوائے اللہ کے کوئی وہاں سے نہیں نکال سکتا۔

    ’’حلالہ‘‘ بھی انسان کی ایسی ہی غلطیوں کے بعدمزیدغلطیوں کے ارتکاب سے بچانے کاایک بڑااوراہم ذریعہ ہے، جب انسان غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کوایسی طلاق دے دیتاہے، جس کے بعدرجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی(طلاق مغلظہ)، پھراسے پچھتاواہوتاہے توچوں کہ اللہ تعالیٰ سترماؤوں سے زیادہ مہربان ہے؛ اس لیے بندہ پررحم کرتے ہوئے اس نے ایک طریقہ بتایا، جسے ’’حلالہ‘‘ کہاجاتاہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق مغلظہ()کے بعد بیوی اپنے شوہرکے لیے حرام ہوجاتی ہے،اس کے ساتھ کسی قسم کاتعلق نہیں رکھ سکتا، اب اگرشوہراس حرمت کوختم کرناچاہتاہے تواس کے لیے طریقہ یہ بتایاگیاکہ اس عورت کودوسرے مردسے شادی کرنی ہوگی، پھرشادی کے بعدشوہرثانی اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرے، پھراسے طلاق دیدے توعدت گزارنے کے بعدوہ عورت اپنے پہلے شوہرکے لیے نئے نکاح کے ذریعہ حلال ہوجائے گی، قرآن مجید میں ہے: ’’پھر اگر مرد نے تیسری بار طلاق دے ڈالی تو اب یہ عورت اس کے لیے حلال نہ رہی، ہاں اس کے بعد دوسرے مرد سے اس عورت نے نکاح کر لیا ہو اور وہ بھی اس کو طلاق دے ڈالے تو اب ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر مل جائیں اگر دو نوں خیال رکھیں کہ وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق تعلقات ٹھیک ٹھاک رکھیں گے یہ سب اللہ کے قاعدے ہیں بیان فر ما تا ہے جاننے والوں کے لیے‘‘(البقرۃ: ۲۳۰)۔

    حلالہ شریعت کی طرف سے ’’اجازت‘‘ اورپہلی بیوی کی گھرواپسی کی ایک شکل ہے، یہ کوئی لازمی حکم نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ محلل(حلالہ کرنے والے) اورمحلل لہ(جس کے لیے عورت کاحلالہ کیاجائے) پرلعنت کی گئی ہے، اللہ کے رسول ﷺکاارشادہے کہ: ’’محلل(حلالہ کرنے والے) اورمحلل لہ(جس کے لیے حلالہ کیاجائے) پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے‘‘(ابوداود، باب فی التحلیل، حدیث نمبر:۲۰۷۸)؛لیکن واویلاایسامچایاجارہاہے، جیسے یہ ایک لازمی حکم ہو، اورحلالہ کے بغیرکسی مسلم عورت کی عزت محفوظ نہ ہو۔
    پھراس کی حکمتوں پربھی ہمیں غورکرناچاہیے؛ تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ یہ حکم مبنی برانصاف ہے اوراس کے ذریعہ عورتوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔

    علامہ ابن عاشورؒ اس کی حکمتوں پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں : اس عظیم قانون کی حکمت یہ ہے کہ اس میں بیویوں کے حقوق کی پامالی اورگھروں میں انھیں کھلواڑ بنالینے پرشوہروں کوزجراورتوبیخ کی گئی ہے؛ چنانچہ پہلی طلاق کونادانی، دوسری کوتجربہ اورتیسری کوجدائے گی قراردیاگیاہے۔۔۔ پھرتیسری طلاق کے ساتھ دوحکم متعلق کئے ہیں : ایک یہ کہ شوہرسے مراجعت کاحق چھین لیاگیا، دوسرے یہ کہ بیوی سے بغیردوسرے مردسے نکاح کے پہلے شوہرکے پاس واپسی کے حق سے محروم کردیاگیا، پھردوسرے شوہرسے نکاح کی شرط اس لیے لگائی؛ تاکہ شوہروں کواس بات سے روکاجائے کہ وہ تین طلاق دینے میں جلدبازی سے کام نہ لے(التحریروالتنویر:۲؍۴۱۵)، ورنہ بیوی سے محروم کردئے جاؤگے، بہرحال ! حلالہ کے ذریعہ عورتوں کے حقوق پامال کرنے والے شوہرکوتکلیف میں مبتلا کیا جاتاہے اوراس کی غیرت کوللکاراجاتاہے کہ تمہاری بیوی، جس کے ساتھ تم نے کئی مدت گزاری ہے، تمہاری غلطی کے نتیجہ میں اب دوسرے کے بسترکی زینت بننے جارہی ہے۔

    حلالہ کوئی بچوں کاکھیل نہیں۔ بل کہ یہ ایک دشوارکن عمل ہے، کسی بھی باغیرت شخص کے رونگٹے اس کے تصورسے ہی کھڑے ہوجائیں گے، اورظاہر ہے کہ جب اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے توپھرکوئی بھی باغیرت شخص طلاق مغلظہ دینے کی سوچ بھی نہیں سکتا، یہ دراصل شوہرکے حق میں تازیانۂ عبرت ہے، جواس کی قبیح حرکت کے مقابلہ میں اسے دی گئی ہے۔

 

Friday, 27 November 2020

زعفرانی خوف(افسانہ)

 زعفرانی خوف

    ’’ش ش شٹرگرایئے شٹرگرایئے‘‘، اس نے ہانپتے ہوئے دکان کے مالک سے کہااوروہیں زمین پرڈھہ گیا، اس کی دگرگوں حالت کودیکھتے ہوئے بناکچھ پوچھے دکان دارنے شٹرکھینچ لیا،باہربھاگتے قدموں اور’’ماروسالے کو‘‘کی آواز سن کروہ اوربھی سہم گیاتھا،دکان دارنے ترحم کی نظرڈالتے ہوئے اس کی طرف پانی کابوتل بڑھایا، ایک ہی سانس میں غٹاغٹ آدھی بوتل حلق سے نیچے انڈیل گیا، اب وہ کچھ پرسکون نظرآرہاتھا۔

            دکان دارایک میٹرک پاس شخص تھا، وہ روزانہ اخبارپڑھتاتھااورہرروز ایک نئے ہجومی قتل کی خبرپڑھ کراس کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں،  اسے اس دن کی یادآجاتی،  جب وہ چھ سال کاتھا، گھرمیں ماں اورایک بڑی اورایک چھوٹی دوبہنوں کے ساتھ رہتاتھا، والدصاحب گاؤں کے ایک زمیندارکی کھیت میں کام کرتے تھے، اور اپنے پریوارکوخوش دیکھنے کے لیے کبھی بھی محنت سے جی نہیں چراتے تھے، روزانہ صبح اپنے کالے رنگ کے گمچھے میں تھوڑاسا ستویا چوڑاباندھ لیاکرتے تھے،  جوان کے دوپہرکے کھانے میں کام آتاتھا، کھیت کی محنت سے جوکچھ ملتا، بیٹی کے بیاہ کے لیے دوچارپیسے اٹھاکررکھ لیاجاتا۔

            بڑی بہن اب بارہ سال کی ہوچکی تھی،گاؤں کی آب وہوانے اس کاجسم بھی بھردیاتھا، وہ بالکل جوان لگتی تھی، کھیتوں میں جاتے ہوئے کبھی کبھارلڑکے چھیڑنے بھی لگے تھے، ایک دن وہ کھیت سے آرہی تھی کہ اس پرزمیندارکے سالے کی نظرپڑگئی، زمیندارکاسالاایک بدفطرت انسان تھا، گاؤں کا ہرباپ اپنی بیٹی کواس کی نظرسے اس طرح چھپاکر رکھنے کی کوشش کرتاتھا، جیسے وہ زیورات رکھتاہے، اس لڑکی کوبدقسمت سمجھاجاتاتھا، جس پراس کی نظرجااٹکتی تھی، اب تک کئی لڑکیاں بدقسمت بن چکی تھیں،  اب بدقسمتی کے کالے ناگ کاسایہ اِس پرپڑچکاتھا۔

            زمیندارکاسالا اپنے گرگوں کی مددسے اس کی تاک میں لگ گیا، تقریباً دوہفتے بعدجب وہ کھیت سے لوٹ رہی تھی، اچانک زمیندارکے سالے نے اس کاراستہ روک لیا، اس نے راستہ کاٹ کرجانے کی کوشش کی توایک گرگا بول اٹھا:

            ’’کہاں جائے گی چھمیا؟ میرے صاحب کوخوش کردواورچلی جاؤ‘‘۔

            دکان دارکی کی بہن اس سچویشن سے گھبراگئی اورپیچھے ہٹنے لگی،  پیچھے ہٹتے ہوئے وہ ایک پتھرسے ٹکرائی اورزمین پرگرگئی؛ لیکن جلدہی سنبھالالیااورپتھرکوہاتھ میں لیے ہوئے اٹھی، جیسے ہی سالے نے قدم بڑھایا، اس نے ہاتھ کاپتھردے مارا، سالابلبلااٹھا، اس کے سرکے اگلے حصہ سے خون بہہ رہاتھا، دکان دارکی بہن اپنی پوری رفتارکے ساتھ بھاگی ؛ لیکن نہ تووہ پٹی اوشاتھی اورناہی کھیت کی پکڈنڈیاں ریس کامیدان، سالے کے گرگروں نے اسے جنگلی کتوں کی طرح گھیرلیا، سالابھی اول فول بکتاوہاں پہنچا، اس بھاگ دوڑکے نتیجہ میں کھیتوں میں کام کرنے والے کچھ مزدوربھی وہاں پہنچے؛ لیکن زمیندارکے سالے کودیکھ کردم سادھ کررہ گئے۔

            دکاندارکی بہن کوسالے کے گرگوں کی بھیڑ نے دبوچ کرمارناشروع کردیا، وہ چلاتی رہی، مددکی دہائی دیتی رہی؛ لیکن کھیت کے مزدورآگے نہیں بڑھے،کھیت سے کام کرکے لوٹتے ہوئے دکاندارکاباپ بھیڑ چیرتے ہوئے آگے بڑھاتواس کاہوش اڑگیا، وہ سالے کے پیروں پرگرکرگڑگڑانے لگا، اپنی ایمانداری اوروفاداری کاواسطہ دینے لگا؛ لیکن ایمانداری اوروفاداری کاواسطہ کچھ کام نہ آیا، سالے نے ایسی کک ماری کہ وہ دورایک پتھر سے جاٹکرایااوراس کے سرسے خون ابلنے لگا، اپنے بہتے خون کی پروانہ کرتے ہوئے مارکھاتے خون کوبچانے کے لیے پھرلپکا؛ لیکن تب تک کافی دیرہوچکی تھی۔

            دکاندار کی آنکھوں سے نمکین پانی کاچشمہ باقاعدہ بہہ رہاتھا، وہ سوچ رہاتھا کہ طاقت کازوراس دن بھی چلاتھا اورآج بھی چل رہاہے، کمزوراس دن بھی دبک گئے تھے اورآج بھی ڈرے سہمے ہیں،  دکاندارکوسوچوں میں گم آنسوبہاتے دیکھ کراس نے ہمت جٹائی اورماجرا پوچھا، اس نے بیتی کہانی شفاف آئینہ کی طرح اس کے گوش گزارکردئے۔

             باہرکی ہنگامہ خیزی دم توڑچکی تھی، شورتھم گیاتھا، دکان دارنے اس کے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی:

            ’’تم کون ہو؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟ اوریہ لوگ تمہارے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں ؟‘‘۔

            ’’میں یہاں سے پانچ کلومیٹردور…بستی کارہنے والاہوں،  میرانام …ہے، میں بازارسے آرہاہوں،  دوسال سے پیٹ کاٹ کاٹ کر کچھ پیسے جمع کئے تھے، اس سے ایک گائے خریدی تھی؛ تاکہ اس کادودھ استعمال بھی کروں اوربیچ کرکچھ پیسے بھی کماؤوں ؛ لیکن ابھی آدھاراستہ ہی طے ہواتھاکہ سرپرزعفرانی پگڑی باندھے ہاتھ میں ڈنڈے لیے ہوئے چھ سات لوگوں کواپنی طرف آتے دیکھااوردوسال سے پیٹ کاٹ کرجمع کئے ہوئے پیسوں سے خریدی گائے کی رسی کوچھوڑچھاڑکرسرپٹ بھاگ کھڑاہوا‘‘۔

آخری پیغمبر (مختصر سیرت رسولﷺ)





Tuesday, 24 November 2020

ایک سکہ دورخ(افسانچہ)

 

ایک سکہ دورخ


محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

وہ ’’شمع انجمن‘‘تھی، اس کے بے لباس، برہنہ اورعریاں جسم کودیکھ کرلوگ اپنی چشم ہائے ہوس ناک کی تشنگی بجھاکرایک لمبی سانس لیا اورٹھنڈی آہ بھراکرتے تھے۔

اس وقت وہ بے غبار، دودھ کی دھلی ؛ بل کہ آب زمزم سے نہائی ہوئی لگتی تھی؛ لیکن…

اب اس نے ’’چراغ خانہ‘‘بننے کافیصلہ ، تن عریاں کوڈھاپنے کاارادہ اوربرہنہ جسم کوچھپانے کاعزم کیا، جس کوسن کر’’آہ بھرنے والے‘‘ کراہ اٹھے اورکراہتی زبان سے بولے:

’’نوسوچوہے کھاکربلی چلی حج کو‘‘۔

Monday, 23 November 2020

ہندوستانی معاشرہ کے لئے ’’میٹھا زہر‘‘



 ہندوستانی معاشرہ کے لئے ’’میٹھا زہر‘‘


محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


ملک کی آزادی کے وقت کسی نے یہ سوچابھی نہیں ہوگاکہ ہماراملک ایک دن طبقہ واریت کی بھینٹ چڑھ جائے گااوراس شدت کے ساتھ چڑھے گاکہ پولیس اورعدالت بھی اس کی چپیٹ میں رہیں گے، ورنہ ملک کی آزادی کی بجائے انگریزوں کی غلامی کوہی شاید ترجیح دی جاتی ؛ کیوں کہ ان کے دربارمیں کم از کم تمام ہندوستانی برابرتوتھے، ان کی نگاہ میں یہ طبقہ واریت تونہیں تھی، مصیبتیں تھیں، پریشانیاں تھیں، تکلیفیں تھیں، حیوانوں کی طرح کام بھی کرناپڑتاتھا، ماربھی کھانے پڑتے تھے، کھانے کومحتاج ہوجاتے تھے، منڈیوں پرانگریزوں کاقبضہ تھا؛ لیکن تمام ہندوستانی ان کی نگاہ میں برابرتھے، کتناہی بڑافسرکیوں نہ ہو، وہ بس ایک محکوم تھا، وہ ملازم تھااوروہ غلام تھا، بس غلام۔

ادھرچندسالوں سے ملک کے اندردوطرح کی نفرتیں شدت کے ساتھ پھیلائی گئی ہیں، ایک تومسلم کمیونٹی کے خلاف اوردوسرے دلت اورکمزوروں کے خلاف، مسلمانوں کے خلاف جونفرت پھیلائی گئی ہے، وہ بالکل سورج کی روشنی کی طرح واضح ہے، اس پربہت کچھ لکھاگیاہے اورلکھاجارہاہے اورلکھاجاتارہے گا؛ لیکن دلتوں کے خلاف بھی نفرت کی کم بیج نہیں بوئی گئی ہے، دراصل ملک میں ایک طبقہ ایساہے، جس کی ذہنیت یہودیوں جیسی ہے، وہ یہودیوں کی طرح سوچتی ہے اوراسی طرح معاشرہ میں فسادمچاتی ہے، اوریہ سب اس چالاکی کے ساتھ کرتے ہیں کہ لوگوں کویہ محسوس بھی نہیں ہوپاتا، حقیقت میں یہ لوگ ہندوستانی معاشرہ کے لئے ’’میٹھازہر‘‘ہیں۔

آزادی کے بعدتمام لوگوں نے مل کریہ طے کیاتھاکہ اس ملک کا کوئی اپنامذہب نہیں ہوگا؛ تاکہ یہاں پربسنے والے تمام لوگ اپنے اپنے طورطریقے سے جی سکیں، ’’جیو اورجینے دو‘‘ کی پالیسی پرتمام لوگ عمل کرسکیں، ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہوسکیں، ایک دوسرے کے تعلق سے بھلائی سوچیں، کسی کے دل میں کسی کے خلاف کوئی نفرت نہ ہو، گاؤں میں پہلے بھی مجلسیں لگتی تھیں، رات رات بھرچلتی تھیں، اس مجلس میں مسلم بھی ہوتے، برہمن بھی ہوتے، چماربھی رہتے، موچی بھی رہتے، تیلی بھی رہتے؛ بل کہ ہرعلاقہ کا راجہ تلاش کرکرکے تمام طبقات کے لوگوں کواپنی زمین دے دے کربساتاتھا، یہ تھی ہندوستان کی اصل روایت اورآج بھی بہت سارے دیہاتوں میں یہی روایت چلتی چلی آرہی ہے۔

لیکن اب ہندوستانی قوم بٹ چکی ہے اوراس بٹوارے کا کام یہاں کے نیتاؤں نے اپنے مفادکے لئے کیاہے، مذہب اوردھرم کے تعلق سے ہرشخص حساس ہوتاہے، وہ شخص بھی، جوکبھی دھارمک کام اورمذہبی امورانجام بھی نہیں دیتا، جب اس کے دھرم  کے خلاف بات کی جاتی ہے تووہ اسے برداشت نہیں کرپاتا، یہاں کے نیتاؤں نے سب سے زیادہ اسی کافائدہ اٹھایاہے، ایک نیتاجب مسلمان سے ملتاہے توٹوپی اوررومال ڈال لیتاہے اورجب غیرمسلموں سے ملتاہے توصرف مسلمانوں کو ختم کردینے کی بات کرتاہے، یہاں کی عوام بہت سیدھی سادی ہے، وہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ نیتاؤں کے دوہرے رویے اوردوغلے پن کوسمجھ نہیں پاتی اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتی ہے، اورپھر اس وقت پچتاتی ہے، جب سب کچھ جل کرخاکسترہوچکاہوتاہے۔

بدقسمتی سے اس ملک کی سیاست کواتنا گندا بنادیا گیا ہے کہ کوئی بھی شریف انسان جلدی اس میں قدم نہیں رکھنا چاہتا؛ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگرہرانسان گندگی کے سامنے سے ناک سکیڑ کرگزرجائے، کوئی اس کوصاف کرنے کے لئے تیارنہ ہوتوپھرسارے لوگ اس گندگی کی زد آجائیں گے، گندگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے شکار ہوجائیں گے، یہی اس ملک کی سیاست کے ساتھ ہوا، اچھے ہٹتے گئے، برے گھستے گئے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے، اچھے کام کرتے ہیں، لوگ ان کے کام کودیکھ کرخود منتخب کرتے ہیں، برے کام نہیں کرتے ہیں، وہ ڈرپیدا کرتے ہیں اورلوگ ڈرکی وجہ سے انھیں ووٹ دیتے ہیں، نیم میں مٹھاس کی تلاش بیکار بات ہے توپھربرے میں اچھے کام کہاں تلاشتے پھریں گے؟

برے لوگ کام توکرتے نہیں؛ اس لئے ایسے ایسے موضوعات ڈھونڈکرلاتے ہیں، جن کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے قریب نہ جاسکیں، اب دیکھئے کہ ملک کے کئی صوبوں میں اس وقت بے وقت کی راگ’’لو-جہاد‘‘ پرقانون بنانے کی بات چل رہی ہے، جب کہ ان صوبوں میں خصوصیت کے ساتھ دلت طبقے کی بیٹیوں اوربہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں، ان کاریپ کرکے ماردیا جاتاہے، کوئی صوبہ اس پرقانون بنانے کی بات نہیں کرتا، کیوں؟ کیوں کہ اکثرنیتاؤں کے دامن اس قسم کے کیسزسے داغ دار ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پاورکاغلط استعمال کرکے خاطیوں کوہی بچانے کی فکرمیں لگ جاتے ہیں، ہاتھرس کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے اورابھی گلناز کا معاملہ بھی تازہ ہے اورانصاف کامنتظر۔

برہمن کی بیٹی بھی بیٹی ہوتی ہے اوردلت کی بیٹی بھی بیٹی ہوتی ہے، دونوں ماں کے پیٹ میں نومہینے رہنے کے بعد بہت تکلیفوں سے دنیا میں آتے ہیں، اس موقع سے وہ واقعہ یاد آتاہے، جس میں ایک شخص پیغمبراسلام کے سامنے حاضرہوکرزناکی اجازت مانگتاہے توپیغمبراسلام جواب میں فرماتے ہیں: کیا تم چاہوگے کہ کوئی تمہاری بیٹی، بہن اورماں وغیرہ کے ساتھ زناکرے؟ وہ کہتاہے: نہیں! توپیغمبرکہتے ہیں: تم جس کے ساتھ زناکروگے، وہ بھی توکسی کی بیٹی، بہن یاماں ہوگی؟ اورظاہرہے کہ وہ نہیں چاہے گاکہ اس کی بیٹی، بہن یاماں کے ساتھ زناکیاجائے، جیساکہ تم نہیں چاہتے۔

لوگوں کے ذہن ودماغ میں اسی سوچ کوبٹھانے کی ضرورت ہے کہ دلت کی بیٹی، مسلم کی بیٹی اورچمارکی بیٹی بھی بیٹی ہوتی ہے، اس کی اسی طرح قدرکرنے کی ضرورت ہے، جس طرح اپنی بیٹی کی قدرکرتے ہو، اوریہ اسی وقت ہوگا، جب اس طرح کے معاملات میں سخت رویہ اپنایاجائے، اگربیٹابھی خاطی نکلے تواسے بچانے کی بجائے مجرم کی طرح سزادی جائے، اوریہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ اسی وقت ہوگا، جب کہ پاورپرامانت دارودیانت دار لوگ رہیں گے؛ اس لئے اس وقت خصوصیت کے ساتھ اس ملک کی ضرورت یہ ہے کہ یہاں کے عہدہ داروں میں اچھے لوگ آئیں، اس کے لئے ہم سب کومل کرکوشش کرنی چاہئے، سیاست کے میدان کوگندہ کہہ کرصرف نظرکرنابالکل بھی درست نہیں؛ بل کہ اس گندی کی صفائی ضروری ہے، اورصاف کرنے کے لئے گندگی میں اترناہی پڑے گا، جس راستہ نے طبقہ واریت کوجنم دیاہے، اسی راستے سے اسے ختم بھی کرناچاہئے۔

jamiljh04@gmail.com/ 8292017888



Saturday, 21 November 2020

شخص وعکس(افسانچہ)

 

شخص وعکس

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
    حنا کی شادی سے اس کے گھروالے بڑے خوش تھے، خوشی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ لڑکابڑامالدارتھا؛ بل کہ وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن وحدیث کااچھاعلم رکھنے والاتھا، جلسے جلوس میں بھی معاشرتی اصلاح کی باتیں کیاکرتاتھا، ظاہرہے کہ ایسے شخص کے گھرمیں لڑکی کے ساتھ گنواروں والی حرکت ہوہی نہیں سکتی ہے؛ اس لئے سارے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔
    حناکے والدایک دن اس کے سسرال کی طرف ہی تھے، سوچا…کیوں نہ ایک جھلک بیٹی کی بھی دیکھ لی جائے… وہ حناکے گھرپہنچ گئے، بیٹی کے چہرے پرخوشی دیکھ کردل کوکچھ سکون ملا؛ لیکن یہ کیا؟ خاطرتواضع کے لوازمات ڈائنگ ٹیبل پررکھنے میں صرف ایک ہی ہاتھ کااستعمال کررہی ہے اوروہ بھی بایاں،جب کہ اسے بچپن سے یہ تعلیم دی گئی تھی کہ دایاں ہاتھ کااستعمال کیاجائے! …چہرے پرتفکرکے کچھ آثارابھرے، پوچھا: کیابات ہے؟ کیادائیں ہاتھ میں تکلیف ہے؟ جواب آنکھوں کے نمکین پانی کے قطروں نے دیا، ہاتھ میں درد نہیں، پلاسٹرچڑھاہواتھا؛ مگرکیسے؟
    ایک دن شوہرنامدارکوکہیں ایمرجنسی تقریرکے لئے جاناتھا، پہلے سے اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے کپڑوں میں آئرن نہیں کیاجاسکا، بس آپے سے باہر، بالکل سوکھی ہوئی لال مرچ اورپھر…ہڈی …ٹ و ٹ …گئی۔

Tuesday, 17 November 2020

غیرمسلموں کے تہواروں میں مبارک باد دینے کی شرعی حیثیت


 غیرمسلموں کے تہواروں میں مبارک باد دینے کی شرعی حیثیت


محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


جولوگ غیرمسلم ممالک اورخطوں میں رہتے ہیں، ان کے لئے ایک بڑامسئلہ اس وقت پیداہوجاتاہے، جب ان کے تہوراآتے ہیں؛ کیوں کہ غیرمسلم دوست بھی ہوتے ہیں اوروہ مسلمانوں کے تہواروں میں انھیں مبارک باددیتے رہے ہیں تواب مسلمان اپنے غیرمسلم دوست کومبارک باددے یا نہ دے؟اس تعلق سے علماء کے دورجحانات ہیں:

(الف)  ان کے تہوراوں میں مبارک باد دینادرست نہیں؛ کیوں کہ مبارکباد دینے کامطلب ہے تہواروں کی تائید اورتوثیق اورچوں کہ ان کے تہوار شرک پرمشتمل ہوتے ہیں؛ اس لئے مبارک باددیناشرک کی تائیدہوگی اوریہ نادرست ہے، علامہ ابن قیم ؒ فراماتے ہیں:

وأماالتہنئۃ بشعائرالکفرالمختصۃ بہ، فحرام بالاتفاق، مثل أن یہنئہم بأعیادہم وصومہم، فیقول: عید مبارک علیک، أوتہنأبہذا العید، فہذا وإن سلم قائلہ من الکفرفہو من المحرمات، وہوبمنزلۃ أن یہنئہ بسجودہ للصلیب؛ بل ذلک أعظم إثماعنداللہ وأشد مقتاً من التہنئۃ بشرب الخمر وقتل النفس وارتکاب الفرج الحرام ونحوہ، وکثیر ممن لاقدرللدین عندہ یقع فی ذلک، ولایدری قبح مافعل، فمن ہنأعبدابمعصیۃ أوبدعۃ أوکفر فقد تعرض لمقت اللہ وسخطہ۔(  أحکام أہل الذمۃ: ۱؍۲۰۶) 

کفرکے ساتھ مخصوص شعائرکی مبارک باددینابالاتفاق حرام ہے، مثلاً: ان کے تہواروں اورروزوں کی مبارک باددے اورکہے: تمہاری عیدمبارک ہویا یہ عید تمہیں رأس آئے، تواگرچہ کہ اس کاکہنے والاکفرسے مامون رہے گا؛ لیکن یہ محرمات میں سے ہے اوریہ صلیب کے سجدہ کی مبارک باد دینے کے درجہ میں ہے؛ بل کہ گناہ کے اعتبارسے اللہ کے نزدیک اس سے بڑھاہواہے اورحرام شرم گاہ کے ارتکاب، ناحق کسی کوقتل کرنے اورشراب نوشی کی مبارک باد دینے سے زیادہ قبیح ہے، اوربہت سارے وہ لوگ ایساکرتے ہیں، جن کے پاس دین نہیں ہوتا اورجواس کی شناعت سے واقف نہیں ہوتے، لہٰذا جس نے کسی کومعصیت ، بدعت یاکفرکی مبارک باددی تواس نے اپنے آپ کواللہ کی ناراض گی کے سامنے پیش کیا۔

برصغیرکے علماء بھی اسی کے قائل ہیں؛ چنانچہ دارالافتاء دارالعلوم دیوبندکے ویب سائٹ میں ایک سوال کاجواب یوں دیاگیاہے:

غیرمسلم حضرات کے تہواروغیرہ ان کے مشرکانہ اعتقاد پرمبنی ہوتے ہیں؛ اس لئے ہمارے لئے مشرک سے براء ت اوربے تعلقی کااظہارضروری ہے اورچوںکہ مبارکبادی دینے میں ان کے فکروعقیدے کی توثیق وتائیدہوتی ہے؛ اس لئے اس سے احتراز ضروری ہے، بسااوقات یہ سلب ایمان کابھی باعث ہوسکتاہے(جواب نمبر:145649، Fatwa ID: 103-121/L=1438، https://darulifta-deoband.com/home/ur/world-religions/145649)۔ 

ان حضرات کی نمایاں دلائل یہ ہیں:

۱-  مبارکبادی دیناشعائرکفرکااقراراوراس سے رضامندی کی دلیل ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے: 

إِن تَکْفُرُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنکُمْ وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ ۔(الزمر: ۷) 

اگرتم کفرکروتواللہ تم سے بے نیازہے اوروہ اپنے بندہ کے کفرسے راضی نہیں ہوتا۔

۲-  غیرمسلم کے تہوارمیں مبارک بادی دینے سے غیرمشروع چیز کی تائید، توثیق اورایک غیرمشروع چیز کی پیروی کے مترادف ہے،جب کہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے: 

وَمَن یَبْتَغِ غَیْْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْن۔(آل عمران: ۸۵) 

 او رجو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو گا وہ اُس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہو گا ۔

۳-  دین اسلام کواللہ تعالیٰ نے مکمل کردیاہے، جس میںعیدوتہوارکے تعلق سے بھی رہنمائیاں موجودہیں، ان میں غیروں کے اعمال نہیں ہیں تو مبارک بادی دینا گویاایک ایسی چیزکی ایجاد کی تائیدہے، جوممنوع ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: 

الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً۔(المائدۃ: ۳)

(اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا۔

(ب)  دوسرارجحان یہ ہے کہ جن کافروں سے مصالحت ہو، ان کومبارک باددیناجائزہے؛ کیوں کہ یہ صرف زبان سے اداکئے جانے والے کلمات ہیں، ان کے مشرکانہ عقائدسے رضامندی اوراس کے اقرارکی دلیل نہیں ہیں، یہ بس بھائی چارگی اوراچھے سلوک کی بات ہے؛ البتہ اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ مبارک بادی کے کلمات ایسے نہ ہوں، جومبادیات اسلام سے متعارض ہوں، اسی رائے کے قائل عالم اسلام کے مشہورفقیہ ڈاکٹریوسف القرضاوی بھی ہیں؛ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

فلامانع إذن أن یہنئہم الفردالمسلم، أو المرکز الإسلامي بہذہ المناسبۃ مشافہۃ أوبالبطاقات التی لاتشتمل علی شعائرأوعبارات دینیۃ تتعارض مع مبادی الإسلام … والکلمات المعتادۃ للتہنئۃ فی مثل ہذہ المناسبات لاتشتمل علی أي إقرارلہم علی دینہم، أورضاً بذلک، إنماہی کلمات مجاملۃ تعارفہاالناس۔ (  فی فقہ الأقلیات المسلمۃ، ص: ۱۴۹) 

بس کوئی چیز اس بات سے مانع نہیں ہے کہ مسلم فرد، یا اسلامی مرکزکی جانب سے سے ان کے تہواروں میں زبانی طور پر یا تہنیتی کارڈس(Greeting Cards)کے ذریعہ سے مبارک باد دی جائے، بشرطیکہ ایسے دینی شعائر یا عبارات پر مشتمل نہ ہو، جو اسلامی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہو…اوران مواقع پرمبارک بادی کے لئے مستعمل ہونے والے الفاظ نہ توان کے دین کی تائیدپرمشتمل ہوتے ہیں اورناہی ان سے رضامندی کا اقرار ہوتا ہے، یہ توبس خوش اخلاقی کے ساتھ پیش کئے جانے والے چندکلمات ہوتے ہیں۔

ان حضرات کی نمایاں دلائل درج ذیل ہیں:

۱-  اللہ تعالیٰ نے مصالحت کرنے والے کفارسے عدل واحسان کاحکم دیاہے؛ چنانچہ ارشادباری ہے:لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ٭إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ ۔(الممتحنۃ: ۸-۹) ’’ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تم کو منع نہیں کرتا اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے٭ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں‘‘، مبارک بادی بھی اسی قبیل سے ہے۔

۲-  حضرت اسماءؓ بنت ابوبکرؓ کی ماں آئیں توانھوں نے آپﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں، وہ مشرکہ ہیں، وہ کچھ امیدرکھتی ہیں توکیامیں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟‘‘تواللہ رسول ﷺ نے جواب دیا: صلی أمک۔’’اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو‘‘(  صحیح  البخاری، حدیث نمبر: ۲۶۲۰)۔

۳-  اللہ رسول ﷺ نے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے معاملہ کرنے کاحکم فرمایاہے، حضرت معاذؓ کووصیت کرتے ہوئے فرمایا: اتق اللہ حیثما کنت، وأتبع السیئۃ الحسنۃ تمحہا، وخالق الناس بخلق حسن۔ (مسندأحمد، حدیث نمبر: ۲۲۰۶۰) ’’جہاں کہیں بھی رہو، اللہ سے ڈرواورغلط کام کے بعدنیکی کرو، وہ برائی کومٹادیتی ہے اورلوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آؤ‘‘۔

۴-  اللہ تعالیٰ نے اچھائی کابدلہ اچھائی سے اورسلام وتحیۃ کابدلہ بہترسلام وتحیۃ سے دینے کاحکم فرمایاہے: وَإِذَا حُیِّیْْتُم بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْہَا أَوْ رُدُّوہَا إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ حَسِیْباً۔(النساء: ۸۶) ’’اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اُس سے بہتر (کلمے) سے (اُسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے‘‘، اور مبارک بادی دینا بھی اسی قبیل سے ہے۔

تاہم دونوں گروہ نے ان کے تہواروں میں شرکت کی اجازت نہیں دی ہے( فی فقہ الأقلیات المسلمۃ، ص: ۱۵۰، الموسوعۃ المیسرۃ فی فقہ القضایا المعاصرۃ(قسم فقہ الأقلیات المسلمۃ)،ص: ۳۴۱)۔ 

قول راجح

راقم حروف کے نزدیک راجح یہ ہے کہ نہ توکھلے عام مبارک باد دینے کی اجازت دی جائے اورناہی کلیۃً ممنوع قراردیاجائے؛ بل کہ جہاںمبارک بادی نہ دینے پرخطرہ ہوجان کا، فتنہ کا، انتشارکا، مال کا، یاپھرحالات اورماحول اس کامتقاضی ہوتووہاں مبارک بادی دینے کی گنجائش ہے، ہذاماعندی، واللہ أعلم بالصواب!


Sunday, 15 November 2020

ہندوستانی مٹی میں زعفرانی کھیتی

  ہندوستانی مٹی میں زعفرانی کھیتی

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی


کہنے کوتویہ ملک 1947میں آزاد ہوا؛ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کی حالت آج بھی غلاموں جیسی ہے، فرق بس اتناہے کہ پہلے انگریز کے غلام تھے اورآج اپنے ہی لوگوں کے غلام ہیں؛ حالاں کہ آزادی کے بعد جب26ٌٌ/نومبر 1949میں ہمارے ملک کاقانون اوردستورپاس کیاگیا، اس وقت ہم تمام نے یہ عہد کیا تھا کہ ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں اوراس کے تمام شہریوں کے لئے حاصل کریں: انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی آزادیٔ خیال، اظہار، عقیدہ، دین اورعبادت؛ مساوات بہ اعتبار حیثیت اورموقع اوران سب میں اخوت کوترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اورقوم کے اتحاد اورسالمیت کاتقین ہو، اپنی آئین سازاسمبلی میں آج 26/نومبر1949کویہ آئین ذریعہ ہذااختیارکرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پرنافذکرتے ہیں‘‘(بھارت کاآئین، ص: ۳۵)۔

لیکن آج اس ملک میں ایسے لوگوں کازورپکڑرہاہے؛ بل کہ پکڑچکاہے، جوقومیت کے اعتبارسے تو ’’ہندوستانی‘‘ ہیں؛ مگرسوچ اورذہنیت کے لحاظ سے وہ ’’زعفرانی‘‘ ہیں اوران کی خواہش یہ ہے کہ اس پورے ملک کوبھی ’’زعفران زار‘‘ بناکررکھ دیں، یہ لوگ آج کی پیداوار نہیں ہیں، ہاں آج کل اس کی کھیتی خوب خوب کی گئی، جس کی کونپلوں نے اب سرنکالنا شروع کردیاہے؛ بل کہ بعض کھیتیاں توپک کرتیاربھی ہوچکی ہیں اور کہیں کہیں کٹائی کاکام جاری ہے، تعدادکے لحاظ سے یہ توبہت کم لوگ ہیں؛ لیکن پکڑکے اعتبارسے کافی مضبوط ہیں اوراسی پکڑکانتیجہ ہے کہ آج ان کی آواز پرہزاروں کی بھیڑ اکٹھی ہوجاتی ہے، پھر وہ اس سے جس طرح کا کام لیناچاہتے ہیں، لے لیتے ہیں، تاہم یہ سوچنے والی بات ہے کہ ’’گاندھی کے ملک میں گوڈسے کیسے پیدا ہورہے ہیں؟‘‘۔

جس وقت ہندوستان میں انگریزوں کااقتدارمستحکم اورہندوستانی اقتدارکاخاتمہ ہوااورپوری قوم غیرمسلح کردی گئی، اسی وقت سے دوقسم کے رجحان والے لوگ وجود میں آئے، ایک گاندھیائی سوچ والے اوردوسرے زعفرانی سوچ والے؛ لیکن زعفرانی سوچ والوں نے اتنی محنت اورکوشش کی کہ آج تقریباً ایک صدی کے بعدوہ غالب آگئے اورنہ صرف غالب آگئے؛ بل کہ ملک کے تمام سیکٹراورشعبہ جات میں کامیابی کے ساتھ ان کی نمائندگی ہورہی ہے اوراس ڈھٹائی ؛ بل کہ غنڈہ گردی کے ساتھ ہورہی ہے کہ اس کے خلاف ایک لفظ نکالنابھی مشکل ہے، ان کویہ کامیابی’’ اپنے نظریات،نظم وضبط، نظام تعلیم وتربیت اورلگن وجدوجہد‘‘کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔

اپنے نظریات اورآئیڈیالوجی کوپھیلانے کے لئے ان کے داعی اورپرچارک گھرگھرگئے ، نظم وضبط اور تربیت کے لئے شاکھاؤں کاقیام عمل میں لایا گیا، تعلیم کے لئے اسکولس اورکالجز بنائے گئے؛ حتی کہ اس وقت پورے ملک میں تقریباً ان کے 25/ہزارسے زائداسکولس ہیں،ظاہرہے کہ ان اداروں سے بڑھ کرنکلنے والوں کا ذہن بھی تووہی ہوگا، جوان ادروں میں ذہن سازی کی جائے گی، ان لوگوں نے تعلیم پرخصوصی توجہ دی، تربیت پرتوجہ مرکوزکی، بچوں کی ذہن سازی کی اوربڑوں، بوڑھوں اورعورتوں تک اپنے نظریات اوراپنی آئڈیالوجی کواس انداز میں پہنچایا، جس نے لوگوں کواپنی طرف متوجہ کرلیا اوررفتہ رفتہ گاندھیائی سوچ دم توڑنے لگی۔

آج اقتدارانہی زعفرانی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اقتدارکے نشہ میں وہ چورہیں، جوچاہ رہے ہیں، وہ کررہے ہیں، نہ اس عہد کا پاس ہے، جو26/نومبر1949کو کیا گیا تھا، نہ یہ خیال کہ وہ جس ڈھرے پرملک کولے جارہے ہیں، اس سے ملک کوترقی نہیں؛ بل کہ زوال آئے گا، انگریزوں کے قبضہ سے قبل اس ملک کو’’سونے کی چڑیا‘‘ کہاجاتا تھا؛ لیکن سونے کی چڑیایہ ملک بنا کیسے؟ نفرت کی کھیتی اوربغض کی بیج بوکرنہیں؛ بل کہ مساوات اوربھائی چارہ کے ذریعہ سے، مسلمانوں نے یہاں صدیوں حکومت کی، ان کے درباراوران کی فوج کے سپہ سالارصرف مسلم ہی نہیں ہواکرتے تھے، غیرمسلم بھی ہوتے تھے، اکبرتواس تعلق سے کچھ زیادہ ہی وسیع القلب واقع ہواتھا۔

آج یہ زعفرانی سوچ رکھنے والے لوگ ملک اورملک کے باشندوں پراپنی سوچ اورآئیڈیالوجی کوتھوپ کر انھیں غلام بنانا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ ہراس شخص کی آواز کودبا دینا چاہتے ہیں، جواس غلامی کے خلاف آواز بلند کررہاہے، اس کی وجہ سے وہ پولیس ، سی بی آئی، اے ٹی ایس اوردیگرشعبوں کوبھی استعمال کرنے سے نہیں چوک رہے ہیں، عدلیہ کوتوپہلے ہی وہ غلام بناچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنے ’’من کی بات‘‘کے مطابق وہاں سے فیصلے صادرکرواتے انھیں دیرنہیں لگتی، اب یہی دیکھئے کہ ارنب کوراحت مل گئی اور آزادی رائے اورخیال پرحکومت کے شب خون مارنے پرآواز اٹھانے والوں کی شنوائی تودور، ان کی درخواست کوقبول تک نہیں کیاجارہاہے، یہ آزاد ملک میں غلامی کی زندگی نہیں تو اورکیاہے؟

مگراتنی بات یادرکھنے کی ہے کہ دنیا کا اصول کچھ اورہے، یہاں ہرچیزکوزوال ہے، نمرودکی دہکائی ہوئی آگے جلی نہیں رہی؛ بل کہ جلتے ہونے کے باوجودحضرت ابراہیمؑ کے ایک بال تک کوجلا نہیں سکی، فرعون نے توبڑے رب ہونے کادعوی کیاتھا؛ لیکن دریابردکردیاگیا، شداد نے جنت بنوائی تھی؛ لیکن خودہی نہ دیکھ سکا اور دنیا سے چل بسا،چنگیز وہلاکواور ہٹلرو مسولینی دنیاکے اسٹیج پر نمودارہوئے؛ لیکن زمیں بوس ہوگئے، سرمایہ دارانہ نظام نے بھی دم توڑااوراشتراکیت نے بھی، ہرایک کو زوال ہوا؛ کیوں کہ یہ دنیاہے ہی فانی تو یہاں کی ہرشئی بھی ہوگی آنی جانی، باقی توصرف وہ ہستی رہے گی، جس نے اس دنیاکووجود بخشاہے؛ اس لئے خوف کھانے اورگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے بجائے زمینی سطح پرگاندھیائی کام کرنے کی ضرورت ہے، باقی زعفرانی لوگ ہیں توان کوایک دن زوال ہوگا۔jamiljh04@gmail.com/ 8292017888




Sunday, 8 November 2020

لو، جہاد اورمدرسہ

 لو، جہاد اورمدارس

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

شایدآج کل بی جے پی لیڈران کے پاس کوئی خاص ایسامدعارہ نہیں رہ گیاہے، جولوگوں کے من کوموہ سکے؛ اس لئے وہ ایسے مدعے پربات کررہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب دیکھئے کہ بہارالیکشن میں پاکستان اٹھ کرآگیا، شاہ صاحب بنگال پہنچے توپھراین آرسی کی بات ستانے لگی اوراس کے نفاذ کی بات کرنے لگے، یوپی کے سی ایم یوگی جی لوجہاد پرقانون بنابیٹھے اوراسی کے قدم بہ قدم ایک دواورصوبوں میں بھی لوجہاد پرقانون بنانے کی بات چل پڑی، اگرواقعتاً ان کے پاس کوئی حقیقی مدعاہوتا تووہ الٹے سیدھے قانون اوراٹ پٹانگ باتیں نہیں کرتے۔

بی جے پی کے ایک لیڈرہیں سادھوی پراچی، وہ کہہ رہی ہے کہ لوجہاد کوفروغ دینے میں مدارس اہم کردارنبھارہے ہیں، مدارس میں لوجہادکاسبق پڑھایاجاتاہے اوراس کے لئے عرب ممالک سے پیسہ آتاہے، یہ بھی کہاکہ برہمن، کشتر، ویشیہ اورشودرکی بیٹیوں کے حساب سے 10لاکھ سے 25لاکھ روپے تک لوجہاد کے لئے دئے جاتے ہیں، پراچی کی اس بات کو اٹ پٹانگ بھی کہہ سکتے ہیں اور’’مجذوب کی بڑ‘‘بھی؛ کیوں کہ اگرزمینی سطح پراترکردیکھاجائے توبات بالکل اس کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ اس وقت سیکڑوں مسلم لڑکیوں کی درخواستیں کورٹ میں پڑی ہوئی ہیں، جواپنے غیرمذہب کے لڑکوں سے شادی رچاناچاہتی ہیں اورایک رپورٹ کے مطابق ادھرچندسالوں میں صرف ساؤتھ انڈیا کی ہزاروں لڑکیوں نے غیرمسلم لڑکوں سے شادی کرلی ہے، کیایہ لوجہاد نہیں ہے؟ اگرہے تواسے لوجہاد کیوں نہیں کہاجاتاہے؟ یہ درصل ایک سازش  ہے، جسے’’چور مچائے شور‘‘ سے تعبیرکرسکتے ہیں۔

پراچی کی کچھ باتیں توصحیح ہیں؛ لیکن کچھ باتیں ہزارفیصدغلط، مدارس میں’’لو‘‘ اور’’جہاد‘‘دونوں کے تعلق سے تعلیم دی جاتی ہے؛ لیکن اس طرح نہیں، جوآ پ کے ذہن میں ہے یاجومیڈیا بتا اوردکھارہی ہے، کبھی آپ مدرسہ میں جاکرتودیکھئے، لوبھی دیکھیں گی اورجہاد بھی، مدارس میں سکھایاجاتاہے کہ ’’لو‘‘کرنا ہے؛ لیکن یہ بھی بتایاجاتاہے کہ کس کے ساتھ کرناہے؟ وہاں سکھایا جاتا ہے کہ ’’لو‘‘ماں سے کرناہے، باپ سے کرناہے، جب بوڑھے ہوجائیں توزیادہ ’’لو‘‘ کرناہے، اولڈ ایج ہوم میں نہیں بھیجناہے، ان کومارنانہیں ہے؛ بل کہ انھیں اف بھی نہیں کہناہے، وہاں سکھایاجاتاہے کہ بھائی بہن سے لوکرناہے، اپنی اولاد سے کرناہے اوراپنے رشتہ داروں سے کرناہے، یہ سکھایاجاتاہے مدارس میں، یہ نہیں سکھایاجاتاہے کہ کسی کی بیٹی اورکسی کی بہن سے پینکیں بڑھاؤ اوراس کے ساتھ لوشوکرو، مدارس تواس سے کوسوں دورہیں، وہاں لڑکیوں کی انٹری ہی نہیں توپھریہ لوجہاد کہاں سے کریں گے؟لوشووہاں ہوتاہے، جہاں لڑکے لڑکیاں ساتھ پڑھتی ہوں، یہاں تویہ ممنوع ہے توپھریہ کہناکہ مدارس میں لوجہاد کی تعلیم ہوتی ہے، یہ سراسرالزام ہے۔

رہی بات جہادکی تویہ بھی اس کی بھی تعلیم ہوتی ہے مدارس میں؛ لیکن ویسی بالکل بھی نہیں، جیسی آرایس ایس کے اسکولوں میں دی جاتی ہے، یہاں توبس جہاد زندگی کی تعلیم ہوتی ہے، مدارس میں پڑھنے والوں کی اکثریت غریب طبقہ سے تعلق رکھتاہے، ان کے پاس لوشوکرنے اورگل چھرے اڑانے کے لئے پیسے نہیں ہوتے، کتنے توبے چارے بغیرناشتے کے درجے میں حاضرہوتے ہیں، جب کہ آج کل کا لوروپے پیسے کی چمک کے بغیرممکن نہیں، جہاد زندگی کی تعلیم میں یہ لڑائی جھگڑے کی بات نہیں سکھائی جاتی؛ بل کہ زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایاجاتاہے، عملی زندگی میں کیسے محنت اورکوشش کی جائے اس کی تعلیم ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اکثرمدارس سے فارغ ہونے والے امامت وخطابت اورتدریس سے جڑتے ہیں، جہاں کی تنخواہیں نہایت معمولی، ایک یومیہ مزدورسے بھی کم، ایسے میں بے چارہ لوجہادکی سوچے گابھی کیسے؟

باہرسے روپے پیسے والی بات بھی غلط ہے، کیوں کہ جن ممالک کی بات کی جارہی ہے، وہاں توخود اتنی پابندیاں ہیں اورمانگنے والوں کے لئے جیل کی سلاخ بھی ہے، پھروہاں سے کیسے روپے پیسے آئیں گے؟ اورآج کل کی حکومت توطرح طرح کے ٹیکسوں کے ذریعہ خود کام کرنے والوں سے پیسے وصول رہی ہے، وہ بھلا یہاں کے لوگوں کی کیا مددکریں گے؟ بل کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے،ان لوگوکواسرائیل اورامریکہ جیسے ممالک سے خود امدادآتی ہے اوریہ لوگ پورے ملک میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں،اور 10لاکھ سے 25لاکھ والی جوبات پراچی کہہ رہی ہے، وہ دراصل اپنے یہاں کاریٹ بتا رہی ہیں، کئی لوگوں نے اس کااقراربھی کیاہے کہ انھیں اس کام کے لئے پیسے دئے جاتے ہیں، اب بات توکھل کرکہہ نہیں سکتی؛ اس لئے دوسروں کے کندھوں پربندوق رکھ کراپناکام چلارہی ہے اوریہ اس پارٹی سے جڑے تمام لوگوں کاشیوہ ہے۔

بہرحال یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب بی جے پی کے پاس کوئی مدعاباقی نہیں رہا؛ اس لئے سٹھیائے ہوئے لوگوں کی طرح ان کے لیڈران اناپ شناپ بکے جارہے ہیں، اورجوکہناچاہئے، اس سے مکررہے ہیں اورجوقانون بناناچاہئے، وہ نہیں بنارہے ہیں، یوپی میں ابھی موقع ریپ کے خلاف قانون سازی کاہے؛ لیکن اس سے ہندومسلم کی بات نہیں آسکتی تھی؛ اس لئے قانون بنایاگیا لوجہاد پر، بی جے پی کے اس گھناؤنی سیاست کونہ صرف یہ کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے ؛ بل کہ معتدل مزاج تمام لوگوں کوسمجھانے کی بھی ضرورت ہے، اب بھی وقت گیا نہیں ہے، چال بدل سکتی ہے، بس چال چلنے والے کی ضرورت ہے۔

jamiljh04@gmail.com/ 8292017888