Sunday, 30 May 2021
Thursday, 27 May 2021
تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!
تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
دوہزار انیس کے آخری مہینوں میں شروع ہونے والے ’’کورنا ‘‘کی وجہ سے یوں توپوری دنیاپرغم والم کے پہاڑ ٹوٹے، جسم انسانی سے سانس کی ڈوراس طرح کٹی، جیسے مانجھےسے پتنگ کی ڈور کٹتی ہے، آبادیاں ویران ہوگئیں، گھراورخاندان اجڑگئے، معیشت تباہ وبرباردہوگئی، گزشتہ سال اموات کے تعلق سے بھارت کی وہ حالت نہیں تھی، جوامریکہ اوراٹلی وغیرہ تھی؛ لیکن اس سال ان ملکوں کے قریب قریب ہمارادیش پہنچ چکاہے۔
کوروناکی وجہ سے ہرشعبہ میں نقصان ہواہے اورنقصان بھی ایسا، جس کی بھرپائی شاید ممکن نہیں؛ لیکن سب سے زیادہ نقصان تعلیمی شعبہ میں ہواہے، جان کے اعتبارسے بھی، تعلیم کے لحاظ سے بھی اورمال کے اعتبارسے بھی، گزشتہ سال کے مقابلہ میں جان کے لحاظ سے اس سال زیادہ نقصان ہوا، ایک سے بڑھ ایک اساتذہ دنیاسے رخصت ہوگئے، ایک ایک یونیورسٹی میں پچاس پچاس سے زائد اساتذہ کی رحلت ہوئی، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے جوخسارہ تعلیمی شعبہ کاہواہے، اس کی بھرپائی کیسے ہوسکتی ہے؟ یونیورسٹیوں کے علاوہ مدارس، اسکولس اور کالجز کے اساتذہ کی بھی ایک بڑی تعداد دنیاسے رخصت ہوگئی، ان اساتذہ کے جانے سے تعلیمی شعبہ واقعتا یتیم ہوگیاہے۔
تعلیمی اعتبارسے تواتنانقصان ہواہے کہ اس کااندازہ لگاپانامشکل ہے، اکثر طلبہ کی تعلیم ہی منقطع ہوگئی ہے، خواہ وہ اسکول کے ہوں یامدارس کے، خصوصیت کے ساتھ غریب اورمتوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیمی ڈگرسے ہٹ کرمعمولی کام کاج سے جڑگئے ہیں، اورظاہرہے کہ ملک کی اکثریت اسی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، رہے کچھ امیر اوردولت مندلوگ توان کے بچوں کی تعلیم آن لائن اگرچہ چل رہی ہے؛ لیکن یہ طریقۂ کار بھارت میں توکام چلاؤ کی حدتک ہے اورکام چلاؤ تعلیم کے طریقہ سے توکام چلاؤ تعلیم ہی حاصل ہوسکتی ہے، رہے مدارس توان کی ایک بڑی تعدادآن لائن تعلیم ہی کی قائل نہیں، کچھ نے آن لائن تعلیم شروع کررکھی ہے؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے طلبہ کے پاس انرائڈ موبائل نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اس طریقہ سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں۔
تعلیمی ادارے ایک سال سے بندہیں، تعلیم بھی نہیں ہوئی اورامتحانات بھی نہیں ہوئے، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے سال بھی بربادہوگااورحاصل بھی کچھ نہیں؛ اس لئے حکومتی سطح پریہ اعلان کیاگیاکہ طلبہ کوپرموٹ کردیاجائے گا، اس سے سال توبچ جائے گااورسرٹیفیکیٹ بھی مل جائے گی؛ لیکن صلاحیت اوراہلیت کہاں سے پیداہوگی؟ اس طریقہ کی مثال توایسے ہی ہے، جیسے پیسے دے کرسرٹیفیکیٹ حاصل کرلیاجائے، اس سے نقصان صرف بچہ کانہیں؛ بل کہ مستقبل میں بہت ساری چیزوں کاہوگا، پتہ نہیں ہماری حکومتوں کویہ کیوں سمجھ میں نہیں آیاکہ جس طرح گائڈ لائن دے کرتمام شعبہ جات کوکھول دیاگیا، اسی طرح تعلیمی اداروں کوبھی کھول دیاجائے؟ لیکن ہوایہ کہ کچھ کلاسیز توکھولے گئے؛ البتہ اکثرکلاسیز نہیں کھولے گئے، ایسی صورت میں خصوصیت کے ساتھ چھوٹے طلبہ ، جوتعلیمی راستے سے جڑے تھے، بالکل بھٹک گئے، کچھ لوگ ٹیوشن دلاکراپنے بچوں کے تعلیمی سلسلہ کوباقی ضرور رکھے ہوئے ہیں؛ لیکن بہرحال تعلیمی اداروں کاماحول تونہیں دیا جاسکتا ہے نا اوراس کانقصان بڑانقصان ہے۔
مالی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ نقصان اسی شعبہ کوہواہے، جوتعلیمی ادارے حکومتی ہیں، ان کے توبلّے بلّے ہیں، اساتذہ بھی ماشاء اللہ خوش حال ہیں؛ لیکن جوادارے غیرسرکاری ہیں، ان کوکافی نقصان ہواہے، بڑے اداروں کوکچھ کم نقصان ہوا؛ لیکن جوچھوٹے ادارے ہیں، وہ بالکل خسارہ میں رہے، ہزاروں اسکول توبند ہی ہوگئے، جوباقی رہے، وہ لاچاری کی حالت میں ہیں، ان کے اساتذہ بھی لاچارہیں، کچھ اساتذہ توٹیوشن سے کام چلالیتے ہیں؛ لیکن ایک بڑی تعدادایسی ہے، جن کے پاس کوئی ٹیوشن نہیں، ان بے چاروں کی حالت خستہ ہے، اورسب سے زیادہ خستہ حال مدارس کے اساتذہ ہیں، خصوصیت کے ساتھ چھوٹے اورشخصی مدارس کے اساتذہ کی حالت، ان کی اکثریت ایسی ہے، جن کی پشت پرگھریلوسپورٹ نہیں ہے، سال بھرسے زیادہ عرصہ ہوگیا، مدارس سے ان کوتنخواہیں نہیں ملی ہیں، کچھ اساتذہ جیسے تیسے چندہ کرکے سال بھرسے گزارہ کررہے ہیں، کچھ قرض اوراداھارکے سہارے زندگی گزاررہے ہیں؛ لیکن یہ سہارے آخرکب تک کام آئیں گے؟
اس وقت مساجدمیں بھی جگہیں خالی نہیں ہیں اوراگرکہیں خالی بھی ہے جگہ توکمیٹی والے پانچ لوگوں کی خاطرامام بحال کرنے کے روادارنہیں، پھربعض مدارس کے ذمہ دار توایسے ہیں کہ سال بھرسے اپنے اساتذہ کی خیریت تک نہیں پوچھی، حالاں کہ یہ اخلاقی فرض تھا، یہ بات توماننے کی ہے کہ کچھ مدارس ایسے ہیں، جن کے پاس اساتذہ کودینے کے لئے پیسے نہ ہوں؛ لیکن اکثرمدارس ایسے ہیں، جن کے پاس پوری تنخواہ نہ سہی؛ لیکن سدرمق کے بقدرتنخواہ دینے کی طاقت ضرور ہے، ایسے مدارس کے ذمہ داروں پرفرض تھاکہ وہ اپنے اساتذہ کی فکرکرتے؛ لیکن ایسانہیں ہوا۔
یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ وہ گاؤں اورمحلہ میں تقسیم ہونے والی خیراتی لائن میں لگ جائیں اورچوں کہ ان کارہن سہن معاشرہ میں ٹھیک ٹھاک ہی رہتاہے؛ اس لئے سماج کے لوگ انھیں پوچھتے تک نہیں، ان کے گھرکے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرتے اوران کی طرف دست تعاون دراز نہیں کرتے، کچھ پوچھنے والے یہ ضرورپوچھیں گے کہ سال بھرسے مدرسہ بندہے توکیسے چل رہاہے؟ لیکن ظاہرہے کہ اس سوال کاجواب ’’اللہ کاشکرہے‘‘ کے سواکچھ نہیں نکلتا، سوال کرکے خاموش رہنے والے ؛ بل کہ دل میں کچوکے لگانے والے توملتے ہیں؛ لیکن تعاون کرنے والے نہیں ملتے۔
کوروناکی اس مہاماری میں بہت ساری تنظیموں نے امدادی دروازے کھولے؛ لیکن وہاں کے لئے ، جہاں وہ تصاویرلے سکیں اوراخبارات وشوسل میڈیاز پرشیئر کرسکیں، اب یہ اساتذہ اتنے توبہرحال خوددارہیں کہ اس طرح کے تعاون سے دوررہتے ہیں اوراسی لئے ان کاتعاون نہیں ہوپاتا، اب ایسی صورت میں یاتووہ بھی خودداری کو بیچ کرنکل آئیں یاپھرمحتاجی کی زندگی گزاریں، ایسے حالات میں ہماری ملی تنظیمیں، جومصیبت اورآفت کے وقت بڑھ چڑھ کرحصہ لیتی ہیں اورجن کے پاس قوم کے روپے پیسے صدقات، عطیات اورزکات کے مدات کی شکل میں کافی مقدارمیں پہنچتے ہیں، قوم ان پراعتماد کرکے انھیں چندہ دیتی ہے، ان کوتوکم سے کم ان اساتذہ کا درد سمجھناچاہئے اوران کے لئے کوئی مشکل کام نہیں کہ ان کے نمائندے ہرعلاقہ؛ بل کہ ہرگاؤں میں ہیں، وہ ان اساتذہ تک براہ راست پہنچ سکتے تھے؛ لیکن افسوس! وہ بھی آج تک ان کے درد کوسمجھنے کے لئے تیار نہیں، اس پرجس قدرافسوس کیاجائے کم ہے۔
اب ان اساتذہ کی حالت بہت ہی خستہ ہے، ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ اپنے بچوں سے منھ چھپانا پڑرہاہے، بیوی کے سامنے جانے سے شکستگی کی کیفیت چھاجاتی ہے، کئی اساتذہ نے اپنادرددل بیان کیا، کئی نے اس پرمضامین لکھے؛ لیکن ابھی تک ان کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے، یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ کوئی تجارت شروع کرسکیں کہ پونچی اتنی ان کے پاس نہیں، کہیں مزدوری بھی نہیں کرسکتے کہ یہ کام کبھی کیاہی نہیں ہے، محلہ محلہ پھرکربھی کچھ بیچ نہیں سکتے کہ معاشرہ خود اسے پسند نہیں کرتا، ٹیوشن بھی نہیں کرسکتے کہ آج کل دینی تعلیم کے لئے ٹیوشن کون دلاناچاہتاہے؟ اوراگردلابھی دیں تومزدوری اتنی کم کہ استاذ سن کردل برداشتہ ہوجاتاہے، ایسے میں یہ کیاکریں؟ کہاں جائیں؟ بال بچوں کو کیسے پالیں؟ بیماری کاعلاج کس طرح کروائیں؟ آخریہ کیاکریں؟؟؟
ایسی صورت حال میں ملی تنظیموں کوان کی طرف متوجہ ہوناچاہئے اوران کاتعاون کرناچاہئے، اسی کے ساتھ معاشرہ میں صاحب مال ہیں، جن کے پاس اللہ کا دیابہت کچھ ہے، انھیں آگے آناچاہئے اوران جیسے اساتذہ کی خبرگیری کرنی چاہئے، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے خاموشی کے ساتھ ان کاتعاون کرناچاہئے، یہ قوم کی اس وقت کی بڑی ذمہ داری ہے، اگریہ اساتذہ کسی اورکام سے جڑگئے، اورایک بڑی تعداد جڑبھی چکی ہے توآئندہ تعلیم دلانی بھی مشکل ہوجائے گی اورپھرامام وخطیب بھی ملنامشکل ہوسکتاہے؛ اس لئے خدارااس تعلق سے فکرکیجئے اوران اساتذہ کی بھرپورطریقے سے مددکیجئے، اللہ تعاون کرنے والوں کوبہترین اجردے گا۔
jamiljh04@gmail.com Mob: 8292017888
Saturday, 22 May 2021
فلسطین: مسئلہ اورحل (تیسری اورآخری قسط)
فلسطین: مسئلہ اورحل
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
(قسط: ۳ ۔ آخری قسط)
اس وقت ہفتہ بھر جوجنگ چلی، وہ شیخ جراح کے علاقہ پرچلی، یہ ایک چھوٹاساقصبہ ہے، یہاں تقریباً پانچ سو فلسطینی آبادہیں، اب اسرائیلیوں کاکہناہے کہ وہ یہاں سے اپنے گھربارکوچھوڑیں اورکہیں اورجابسیں، ظاہرہے کہ اسے کیسے برداشت کیاجاسکتاہے؟ اورجوقومیں زندہ ہوتی ہیں، وہ توکبھی بھی اسے برداشت نہیں کرسکتیں، خبروں کے مطابق اس جنگ میں حماس کی طرف سے راکٹ بھی داغے گئے، یعنی غلیل اورپتھرسے شروع ہونے والی جنگ اب راکٹ تک پہنچ چکی ہے، اس کے جواب میں اسرائیل نے وہی طریقہ اختیارکیا اورنہتے فلسطینیوں اوران کے رہائشی علاقوں پربم باری کی، ہونا تویہ چاہئے کہ اسرائیل کے اس حملہ کے خلاف پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی؛ لیکن ظاہرہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، کم از کم عربوں کوتواپنے فلسطینی بھائیوں کی امدادکرنی ہی چاہئے کہ وہ عرب ہی ہیں اورگزشتہ دہائیوں میں قومیت عربیہ کانعرہ بھی لگایا گیاتھا(جوسراسر اسلامی تعلیم کے خلاف تھا)؛ لیکن پتہ نہیں اس وقت وہ قومیت عربیہ کانعرہ کہاں دم توڑچکاہے کہ اپنے عربی بھائیوں کوبموں کے سائے میں چھوڑ کرآرام دہ ایئرکنڈیشن روم میں دادعیش دیاجارہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!
Friday, 21 May 2021
فلسطین: مسئلہ اورحل (قسط: ۲)
فلسطین: مسئلہ اورحل
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
(قسط: ۲)
اگربات یہیں پرختم ہوجاتی توشایدعرب فلسطینی آنسوبہاکرکچھ سالوں کے بعد خاموش ہوبیٹھتے؛ لیکن اسرائیلیوں نے اس حدپراکتفانہیں، جتنی زمین پر ریاست اسرائیل کوقائم کرکے یہودیوں کے حوالہ کیاگیا، انھوں نے اپنی سرحدوں کووسیع کرناشروع کردیا، جس کا خطرہ اردن، مصراورشام نے محسوس کیا، لہٰذا ان لوگوں نے اپنی سرحدوں پرفوجیں تعینات کردیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹی موٹی چھڑپیں اسرائیل کے ساتھ ہوتی رہتی تھیں، ایک بڑی جنگ عربوں اوراسرائیل کے درمیان 1967ء میں ہوئی، جس میں مصر، عراق، اردن اورشام کومل کراسرائیل پرحملہ کرناتھا، ان کے جہاز اڑنے کے لئے ایئر بیس پرتیارتھے؛ لیکن قبل اس کے کہ وہ اڑتے، اسرائیل کے بمبارطیاروں نے ان کو تباہ وبربادکردیااوراسرائیل کو اس میں بڑی کامیابی ملی، جس کی وجہ سے اس کا سینہ چھپن انچ کاہوگیااورپھراس نے اردن، شام اورمصرتمام ممالک سے کچھ نہ کچھ زمینیں چھین لیں، پھر1973ء میں ایک اورجنگ ہوئی دونوں کے مابین؛ لیکن اس میں اسرائیل کوپہلے کی طرح کامیابی نہیں ملی، عربوں نے بھی اپنی بعض ان زمینوں کو واپس لے لیا، جن کو اسرائیل نے چھین لیا تھا۔
اس جنگ کے بعداسرائیل نے امریکہ کے توسط سے اپناطریقۂ کاربدل دیا اور سیاسی بات چیت کی طرف قدم بڑھایا، اس تعلق سے پہلی کامیابی اس وقت ملی، جب مصر سے یہ طے ہوگیا کہ صحرائے سینا، جسے اسرائیل نے چھین لیاتھا، اسے واپس کردیاجائے گا، اس کے بدلہ میں مصراسرائیل کوایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلے، اس کامیابی کو ’’کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ‘‘ (Camp David Agreement)کے نام سے جاناجاتاہے،یہ انورسادات کے زمانہ میں 17؍دسمبر1978ء میں یہ اگریمنٹ ہوا، اس میں بھی اسرائیل نے چالاکی کی اورپورے صحرائے سینادینے کی بجائے صرف مشرقی حصہ ان کے حوالہ کیا اورمغربی حصہ کواپنے ہی پاس رکھا، اس کے بعدایک ایک کرکے ان تمام عربوں کوفلسطینیوں کے تعاون سے کاٹ لیا، جوان کی مددکیاکرتے تھے اور گزشتہ سالوں میں تواس تعلق سے حدہی پارکردی گئی،کئی خلیجی ملکوں نے بھی اسے تسلیم کرلیا۔
کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ کی کامیابی کے بعد دیگروہ لوگ بھی جب فلسطینیوں کے تعاون سے پیچھے ہٹ گئے ، جوان کے شانہ بہ شانہ کھڑے تھے توفلسطینی یہ سمجھ گئے کہ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے اب جوکچھ بھی کرناہے، خود ہی کرناہے، اس کے لئے کئی گروپ وجود میں آئے، جن میں سے ایک یاسرعرفات کی ’’الفتح‘‘ بھی تھی، ابتدا میں تواس نے کچھ کام کیا؛ لیکن بعد میں یہ جماعت بالکل ناکارہ ہوکررہ گئی اور13؍ستمبر1993ء میں اسرائیل اوریاسرعرفات کے درمیان ’’اوسلو‘‘ معاہدہ کے ہونے کے بعدتووہ امریکہ کے ہی پٹھوہوکررہ گئی تھی، جس کی وجہ سے دوسری تحریک شروع ہوئی، شیخ احمدیاسین نے فلسطینیوں کے سرد پڑتے ہوئے جذبوں کوحوصلہ دیا،ان کو 1987ء میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی، جب وہ انتفاضہ اول کے وقت سامنے آئے، اس وقت فلسطینی اسلامی تحریک نے ’’حماس‘‘کانام اختیارکیا، ان کانظریہ یہ تھا کہ اگرہمارے پاس ہتھیارنہیں ہیں تو کیاہوا؟ ہمارے پاس پتھرہیں، ہم وہی ماریں گے، غلیل ہیں، ان سے حملہ کریں گے اورپھرزمانہ نے دیکھا کہ ایک طرف اسرائیل کی بکتربندگاڑیاں ہوتیں اوردوسری طرف لوگوں کے ہاتھ میں پتھرہوتے اوروہ ان سے بکتربندگاڑیوں پرحملہ کرتے، اس طریقہ سے ظاہرہے کہ جدید دورکے ہتھیارسے لیس اسرائیلیوں سے جنگ جیتی نہیں جاسکتی ہے؛ لیکن دراصل اس کے ذریعہ سے انھوں نے عالمی برادری کویہ جتلایا اوران کی سوئی ہوئی ضمیرکوجگانے کی کوشش کی کہ ہم نہتے لوگ ہیں، ہمارے پاس کسی قسم کاہتھیارنہیں ہے، ہم ظالم نہیں ہے، ہم دہشت گرد نہیں ہیں، جیسا کہ یہودی نژاد عالمی ہمیں بناکر پیش کررہا ہے؛ بل کہ ہم مظلوم ہیں، ہم تو اپنا دفاع بکتربندگاڑیوں کے مقابلہ میں پتھر سے کررہے ہیں، اگرہم ظالم ہوتے توہمارے پاس بھی ہتھیارہوتے، ظالم وہ لوگ ہیں، جوہم پرہتھیارلے کرچڑھ آئے ہیں؛ لیکن عالمی برادری کاضمیرمردہ ہوچکا تھا، یاپھروہ لوگ جاگتے ہوئے بھی سونے کاناٹک کررہے تھے، جس کی وجہ سے اس پیغام کونظرانداز کردیا گیا اورالٹے فلسطینیوں پرہنسنے لگے کہ یہ پاگل ہیں، بکتربندگاڑیوں اورٹینکوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کررہے ہیں۔
اس کے بالمقابل اسرائیل کیاکررہاہے؟ ایک تووہ ہتھیارسے لیس ہے اوروہ بھی جدیدترین ہتھیارسے، پھراس کے ساتھ وہ صرف ان لوگوں پرحملہ آور نہیں ہو رہا ہے، جوان کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں؛ بل کہ نہتے لوگوں پروہ بموں کی بارش کررہاہے، عمارتیں تباہ کررہاہے، پوری پوری پستیوں کووہ اجاڑتا جارہاہے، صابرہ اورشتیلہ ، جودومہاجرفلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ تھے، جن کے پاس چاقونام کی چیز بھی نہیں تھی، ان دونوں کیمپوں پربم گراگروہاں کے تمام پناہ گزینوں کوختم کردیا، اسے توظلم اوربربریت سے ہی تعبیرکریں گے، اسی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فلسطینیوں کوان کے اپنے ذاتی گھروں سے بھگاتارہاہے اوران کی زمینوں پرقبضہ کرتارہاہے، یہی وجہ ہے کہ جس وقت اسرائیل کاوجودہواتھا، اس وقت (1948ء) اس کارقبہ7,993مربع میل یعنی 12,863کلومیٹرتھا، جب کہ آج اس کے پاس 13,760 مربع میل یعنی 22,145کلومیٹرسے بھی زیادہ ہے، نقشہ کودیکھ کر اس کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وجود کے وقت اس کانقشہ کیساتھا اورآج کیساہے؟ یہ رقبہ اسے کہاں سے حاصل ہوا؟ نہتے فلسطینیوں کودربدراوربے گھرکرکے، اب خود ہی فیصلہ کیاجائے کہ فلسطینی اپنی زمین کے لئے مزاحمت کریں گے یانہیں؟ اوراس مزاحمت میں وہ مظلوم ہیں یاظالم؟
(جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
Thursday, 20 May 2021
فلسطین: مسئلہ اورحل (قسط:۱)
فلسطین: مسئلہ اورحل
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
(قسط: ۱)
اگرآپ کسی کے ہاتھ اپنی زمین کاایک ٹکڑا بیچیں اوروہ شخص خریدکی ہوئی زمین کی بجائے اس حصہ پربھی قبضہ کرلے، جوآپ نے اس کے ہاتھوں بیچی نہیں ہے توآپ کارویہ اس شخص کے ساتھ کیارہے گا؟آپ اپنی زمین پراسے قبضہ کرنے دیں گے یااپنی زمین کی حفاظت کے لئے تگ ودو کریں گے؟ اوراگروہ شخص آپ کی تمام زمینوں کوہتھیا لینا چاہے توپھرآپ کیاکریں گے؟ اسے طاقت ورسمجھ کرچپ ہوجائیں گے اوراپنی زمین وجائیداد؛ بل کہ اپنے رہائشی مکانات سے دست برداری اختیارکرلیں گے یاممکن حد تک اپنی زمینوں کی حفاظت کی کوشش کریں گے؟پھراس کوشش میں آپ ظالم اورمفسد کہلائیں گے یامظلوم اورمجبور؟
اگراس سوال کاجواب آپ کومل جائے توفلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ میں بھی ظالم ومظلوم کی پہچان کرلیں گے اورذہن کے پردہ میں ابھرتے ہوئے اس سوال کاجواب بھی مل جائے گاکہ ٹینک وبکتربندگاڑیوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کیوں کیاجاتاہے؟ لیکن پوری طرح سے اس مسئلہ کوسمجھنے کے لئے 1914ء سے شروع ہوئی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی تھی، جس میں ایک طرف الائنس(Alliance)طاقتیں( امریکہ، برطانیہ، روس ، فرانس اوراٹلی وغیرہ )شامل تھیں، جب کہ دوسری طرف (Ottoman Empire) جرمنی اورعثمانی سلطنت تھے، اس جنگ میں جرمنی اورعثمانی سلطنت کاپلڑابھاری تھا، اس جنگ کے مغربی محاذ(یعنی شام اورترکی وغیرہ کے علاقوں)کوترک فوجوں نے سنبھال رکھاتھا، جب کہ عراق وغیرہ کے علاقوں میں عرب فوجیں برسرپیکارتھیں، ترک کواس زمانہ میں ’’مردبیمار‘‘ کہاجاتاتھا؛ لیکن اس کے باوجود انھوں سال بھر کی لڑائی میں الائنس کے دانت کھٹے کردئے تھے، ترک فوجوں نے Dardanelles, Gallipoliاورقلعہ چناق میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کیں، جن کودیکھ کربرطانیہ اورالائنس طاقتوں نے اندازہ لگالیاکہ اس طرح ان لوگوں سے جنگ جیتنابہت مشکل ہے، لہٰذا انھوں نے اپنی شرست کے مطابق عربوں کوترکوں سے بھڑانے کافیصلہ کیا اوراس کے لئے انھوں نے عربوں کے سامنے ’’عرب نیشیلزم‘‘(قومیت عربیہ) کا صور پھونکا، اس کے لئے T.E. Lawrence(جوبرطانیہ افواج کاایک معروف افسرتھا) کا انتخاب عمل میں آیا، اس نے پہلے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کوغداری پرابھارنے کے لئے خطیررقم کی پیش کش کی، جسے اس نے ٹھکرادیا اوردھکے مارکرلارنس کواپنے یہاں سے نکلوادیا، یہ دیکھ کراس نے عرب کارخ کیا اوربصرہ کو اپنا ہدف بنایا، اسلامی لباس پہن کراس نے اسلام قبول کرنے کاڈھونگ کیا اورعوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے وہاں کے بدوؤں میں ماہانہ دولاکھ پونڈ تک تقسیم کرناشروع کیا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب پٹرو ڈالرکاآغاز نہیں ہواتھا؛ اس لئے عوام بہ آسانی اس کے دام فریب میں آگئے اوراس طرح اس نے مکہ کے گورنرحسین ہاشمی تک رسائی حاصل کی، اس سے بات چیت کی اور حکومت کالالچ دیتے ہوئے اس نے حسین شریف مکہ سے یہ کہاکہ اگرآپ اس جنگ میں ترکوں کے خلاف ہمارا ساتھ دیں توہم جنگ جیتنے کے بعد عرب علاقوں کے اندرآپ کی ایک آزادریاست بنادیں گے اورآپ کووہاں کابادشاہ بنادیں گے، ان کے مابین جوبات چیت ہوئی،وہThe Hussein-McMahon Correspondence-1915/16 نام سے معروف ہے، پھرجون 1916ء میں شریف مکہ کے بیٹے امیرفیصل اورلارنس کی کمان میں عرب فوجیں عراق کی طرف پہنچ گئیں اوربرطانیہ کے ساتھ مل کرترکوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں ترکوں کوشکست ہونے لگی۔
دوسری طرف 1917ء میں روس اپنے ملکی حالات کے وجہ سے جنگ سے پیچھے ہٹ گیا، جس کودیکھ شام وفلسطین کے محاذ پرموجودترکی کمانڈرانورپاشااپنی فوج کاایک حصہ لے کرکوہ قاف کی طرف بڑھا؛ تاکہ روس کے پیچھے ہٹنے سے جوکمزوری آئی ہے، اس کافائدہ اٹھایاجاسکے ؛ لیکن اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہواکہ شام کے علاقوں میں برطانیہ کی افواج کاپلڑابھاری ہوگیا؛ چنانچہ اس نے نومبر 1917ء کوغزہ(Gaza)پراوردسمبر1917ء میں یروشلم اور بیت المقدس پرقبضہ کرلیا اور1918ء میں شام کے دیگر علاقے، فلسطین،لبنان، حلب اورحمص وغیرہ علاقے برطانیہ افواج زیرنگین آگئے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنگ عظیم اول کے دوران (مئی 1916ء) ہی برطانیہ اورفرانس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ ہواتھا، جسے The Secret Sykes-Picot Agreement کہاجاتاہے، جس کی روسے علاقے تقسیم کئے گئے تھے کہ جنگ جیتنے کے بعدفلاں فلاں علاقے برطانیہ کے پاس رہیں گے اورفلاں فلاں علاقے فرانس کے پاس، فلسطین پردونوں کی نظرتھی؛ اس لئے معاملہ کے حل کے لئے یہ کہاگیا ہم فلسطین کوایک آزادعلاقہ کے طورپرباقی رکھیں گے، یہ معاہدہ برطانیہ کی خست اورخباثت کی اعلیٰ مثال ہے؛ کیوں کہ ایک طرف تواس نے شریف مکہ سے یہ کہاکہ ترکوں کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں ہم عرب کی بادشاہت آپ کے سپردکریں گے، جب کہ خفیہ طورپربرطانیہ اپنے حلیف فرانس کے ساتھ مل کریہ معاہدہ کررہاہے کہ جنگ جیتنے کے بعدعرب کے فلاں علاقے آپ کے ہوں گے اورفلاں علاقے ہمارے، دوسری طرف یہودیوں کوبھی یہ لالچ دیتے رہے کہ اگرہم جیت جائیں گے توفلسطین میں یہودیوں کی ایک ریاست بنادیں گے؛ چنانچہ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس بالفورنے 2؍نومبر1917ء کوصہیونی تنظیم کے نمائندہ Lord Rothschild کوایک خط لکھا، جس میں یہ بات واضح کی کہ حکومت برطانیہ پوری ذمہ داری کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کاارادہ رکھتی ہے، یہی وہ خط ہے جس کی بنیاد پراسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔
بہرحال! اپنوں کی دغابازی کی وجہ سے اتحادی افواج نے جنگ جیت لیااورSykes-Picot Agreementکے معاہدہ کے برخلاف برطانیہ نے فرانس کواس بات پرراضی کرلیا کہ فلسطین کوبرطانیہ کے ماتحت ہی رہنے دیاجائے، برطانیہ نے فلسطین میں اپناہائی کمشنر قائم کیا، جس کوتمام طرح کے اختیارات حاصل تھے، اس نے یہودیوں کو اس بات کی اجازت دی اگرآپ یہاں آکرآبادہوناچاہتے ہیں تویہاں کے باشندوں سے یہاں کی زمینیں خرید سکتے ہیں، انھیں کاشت کاری کے لئے قرضے اوردیگرسہولیات بھی فراہم کیاگیا، جب کہ دوسری طرف عربوں پربھاری ٹیکس لگائے گئے اورٹیکسوں کی وصولی کے بہانے پر عدالتوں نے زمینیں ضبط کرنے کے فیصلے صادر کئے، ضبط شدہ زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کی گئیں، نیز سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے بھی کہیں مفت اورکہیں معمولی قیمتوں پریہودیوں کودئے گئے، بعض مقامات پرحیلے بہانے سے پورے عرب گاؤں کا صفایا کردیا گیااوروہاں یہودی بستیاں بسادی گئیں، اس طرح یہودیوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہوتاگیا، 1922ء میں وہ 82؍ہزار سے کچھ زائد تھے، 1936جب کہ ء میں ان کی تعداد ساڑھے چارلاکھ کے قریب پہنچ گئی۔
جنگ عظیم سے پہلے فلسطین میں جویہودی آباد تھے، ان کے پاس فلسطین کی 11%زمین تھی اورباقی 89%عرب فلسطینیوں کے پاس تھی؛ لیکن تیس سالوں کی کوشش اورمحنت سے یہودیوں کے پاس فلسطین کی 55%زمین چلی گئی، پھردوسری جنگ عظیم(1939-1945ء) کی وجہ سے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کابے حد اضافہ ہوگیا؛ کیوں کہ ہٹلرنے جرمنی سے ان کامکمل صفایاکرناشروع کردیاتھا، جس کی وجہ سے وہ لوگ بھاگ بھاگ کروہاں پناہ گزین ہوگئے، جس کی وجہ سے زمینی تبدیلی کے ساتھ ساتھ آبادی کاتناسب بھی مکمل طور پربدل گیااور یہودیوں کی رہائش کے لئے تہتر(73)نئی بستیاں بسائی گئیں، اس صورت حال کودیکھ کر فلسطینی پریشان ہوئے اوراس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً جھگڑے بھی ہونے لگے، آہستہ آہستہ یہ جھگڑے خوفناک ہوتے گئے۔
اسرائیلی اورفلسطینیوں کے درمیان رونماہونے والے فسادات کودیکھ کرامریکہ اوربرطانیہ نے ایک رائل کمیشن قائم کی، جس نے صورت حال کاجائزہ لے کربتایاکہ اسرائیلی ظلم کرتے ہوئے فلسطینیوں کودبانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہ فسادات رونماہوتے ہیں، یہ بات بھی کہی گئی کہ اس مسئلہ کاحل بس یہ ہے کہ دوریاستیں قائم کردی جائیں، ایک اسرائیلیوں کے لئے اوردوسری فلسطینیوں کے لئے، جس کواسرائیلی اورفلسطینی دونوں نے رد کردیا، پھراسرائیلی اورفلسطینی دونوں کی طرف سے اپنے اپنے تحفظ کے لئے مزاحمتی جماعتیں قائم ہونے لگیں، جن کے درمیان ٹکراؤبھی کافی خوفناک ہوتا تھا، ان سب چیزوں سے برطانیہ کافی پریشان تھا ؛ چنانچہ جیسے ہی تیس سالہ معاہدہ اس کاختم ہوا، اس نے وہاں سے اپنے جانے کافیصلہ کیا؛ لیکن خاموشی کے ساتھ چلے نہیں گئے؛ بل کہ فلسطین کے امن کوغارت کرنے کے لئے 14؍مئی1948ء کورات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے وجود کااعلان کردیا، اس کوقبول بھی کرلیا، امریکہ نے بھی قبول کیا اوران کے جوحلیف ممالک تھے، ان میں بہتوں نے اس کوقبول کرلیا، پھریہ قراداداقوام متحدہ میں پیش کیاگیااوروہاں بھی اسے تسلیم کرلیاگیا؛ لیکن عربوں کویہ تسلیم نہیں تھا۔
اگراس سوال کاجواب آپ کومل جائے توفلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ میں بھی ظالم ومظلوم کی پہچان کرلیں گے اورذہن کے پردہ میں ابھرتے ہوئے اس سوال کاجواب بھی مل جائے گاکہ ٹینک وبکتربندگاڑیوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کیوں کیاجاتاہے؟ لیکن پوری طرح سے اس مسئلہ کوسمجھنے کے لئے 1914ء سے شروع ہوئی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی تھی، جس میں ایک طرف الائنس(Alliance)طاقتیں( امریکہ، برطانیہ، روس ، فرانس اوراٹلی وغیرہ )شامل تھیں، جب کہ دوسری طرف (Ottoman Empire) جرمنی اورعثمانی سلطنت تھے، اس جنگ میں جرمنی اورعثمانی سلطنت کاپلڑابھاری تھا، اس جنگ کے مغربی محاذ(یعنی شام اورترکی وغیرہ کے علاقوں)کوترک فوجوں نے سنبھال رکھاتھا، جب کہ عراق وغیرہ کے علاقوں میں عرب فوجیں برسرپیکارتھیں، ترک کواس زمانہ میں ’’مردبیمار‘‘ کہاجاتاتھا؛ لیکن اس کے باوجود انھوں سال بھر کی لڑائی میں الائنس کے دانت کھٹے کردئے تھے، ترک فوجوں نے Dardanelles, Gallipoliاورقلعہ چناق میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کیں، جن کودیکھ کربرطانیہ اورالائنس طاقتوں نے اندازہ لگالیاکہ اس طرح ان لوگوں سے جنگ جیتنابہت مشکل ہے، لہٰذا انھوں نے اپنی شرست کے مطابق عربوں کوترکوں سے بھڑانے کافیصلہ کیا اوراس کے لئے انھوں نے عربوں کے سامنے ’’عرب نیشیلزم‘‘(قومیت عربیہ) کا صور پھونکا، اس کے لئے T.E. Lawrence(جوبرطانیہ افواج کاایک معروف افسرتھا) کا انتخاب عمل میں آیا، اس نے پہلے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کوغداری پرابھارنے کے لئے خطیررقم کی پیش کش کی، جسے اس نے ٹھکرادیا اوردھکے مارکرلارنس کواپنے یہاں سے نکلوادیا، یہ دیکھ کراس نے عرب کارخ کیا اوربصرہ کو اپنا ہدف بنایا، اسلامی لباس پہن کراس نے اسلام قبول کرنے کاڈھونگ کیا اورعوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے وہاں کے بدوؤں میں ماہانہ دولاکھ پونڈ تک تقسیم کرناشروع کیا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب پٹرو ڈالرکاآغاز نہیں ہواتھا؛ اس لئے عوام بہ آسانی اس کے دام فریب میں آگئے اوراس طرح اس نے مکہ کے گورنرحسین ہاشمی تک رسائی حاصل کی، اس سے بات چیت کی اور حکومت کالالچ دیتے ہوئے اس نے حسین شریف مکہ سے یہ کہاکہ اگرآپ اس جنگ میں ترکوں کے خلاف ہمارا ساتھ دیں توہم جنگ جیتنے کے بعد عرب علاقوں کے اندرآپ کی ایک آزادریاست بنادیں گے اورآپ کووہاں کابادشاہ بنادیں گے، ان کے مابین جوبات چیت ہوئی،وہThe Hussein-McMahon Correspondence-1915/16 نام سے معروف ہے، پھرجون 1916ء میں شریف مکہ کے بیٹے امیرفیصل اورلارنس کی کمان میں عرب فوجیں عراق کی طرف پہنچ گئیں اوربرطانیہ کے ساتھ مل کرترکوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں ترکوں کوشکست ہونے لگی۔
دوسری طرف 1917ء میں روس اپنے ملکی حالات کے وجہ سے جنگ سے پیچھے ہٹ گیا، جس کودیکھ شام وفلسطین کے محاذ پرموجودترکی کمانڈرانورپاشااپنی فوج کاایک حصہ لے کرکوہ قاف کی طرف بڑھا؛ تاکہ روس کے پیچھے ہٹنے سے جوکمزوری آئی ہے، اس کافائدہ اٹھایاجاسکے ؛ لیکن اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہواکہ شام کے علاقوں میں برطانیہ کی افواج کاپلڑابھاری ہوگیا؛ چنانچہ اس نے نومبر 1917ء کوغزہ(Gaza)پراوردسمبر1917ء میں یروشلم اور بیت المقدس پرقبضہ کرلیا اور1918ء میں شام کے دیگر علاقے، فلسطین،لبنان، حلب اورحمص وغیرہ علاقے برطانیہ افواج زیرنگین آگئے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنگ عظیم اول کے دوران (مئی 1916ء) ہی برطانیہ اورفرانس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ ہواتھا، جسے The Secret Sykes-Picot Agreement کہاجاتاہے، جس کی روسے علاقے تقسیم کئے گئے تھے کہ جنگ جیتنے کے بعدفلاں فلاں علاقے برطانیہ کے پاس رہیں گے اورفلاں فلاں علاقے فرانس کے پاس، فلسطین پردونوں کی نظرتھی؛ اس لئے معاملہ کے حل کے لئے یہ کہاگیا ہم فلسطین کوایک آزادعلاقہ کے طورپرباقی رکھیں گے، یہ معاہدہ برطانیہ کی خست اورخباثت کی اعلیٰ مثال ہے؛ کیوں کہ ایک طرف تواس نے شریف مکہ سے یہ کہاکہ ترکوں کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں ہم عرب کی بادشاہت آپ کے سپردکریں گے، جب کہ خفیہ طورپربرطانیہ اپنے حلیف فرانس کے ساتھ مل کریہ معاہدہ کررہاہے کہ جنگ جیتنے کے بعدعرب کے فلاں علاقے آپ کے ہوں گے اورفلاں علاقے ہمارے، دوسری طرف یہودیوں کوبھی یہ لالچ دیتے رہے کہ اگرہم جیت جائیں گے توفلسطین میں یہودیوں کی ایک ریاست بنادیں گے؛ چنانچہ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس بالفورنے 2؍نومبر1917ء کوصہیونی تنظیم کے نمائندہ Lord Rothschild کوایک خط لکھا، جس میں یہ بات واضح کی کہ حکومت برطانیہ پوری ذمہ داری کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کاارادہ رکھتی ہے، یہی وہ خط ہے جس کی بنیاد پراسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔
بہرحال! اپنوں کی دغابازی کی وجہ سے اتحادی افواج نے جنگ جیت لیااورSykes-Picot Agreementکے معاہدہ کے برخلاف برطانیہ نے فرانس کواس بات پرراضی کرلیا کہ فلسطین کوبرطانیہ کے ماتحت ہی رہنے دیاجائے، برطانیہ نے فلسطین میں اپناہائی کمشنر قائم کیا، جس کوتمام طرح کے اختیارات حاصل تھے، اس نے یہودیوں کو اس بات کی اجازت دی اگرآپ یہاں آکرآبادہوناچاہتے ہیں تویہاں کے باشندوں سے یہاں کی زمینیں خرید سکتے ہیں، انھیں کاشت کاری کے لئے قرضے اوردیگرسہولیات بھی فراہم کیاگیا، جب کہ دوسری طرف عربوں پربھاری ٹیکس لگائے گئے اورٹیکسوں کی وصولی کے بہانے پر عدالتوں نے زمینیں ضبط کرنے کے فیصلے صادر کئے، ضبط شدہ زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کی گئیں، نیز سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے بھی کہیں مفت اورکہیں معمولی قیمتوں پریہودیوں کودئے گئے، بعض مقامات پرحیلے بہانے سے پورے عرب گاؤں کا صفایا کردیا گیااوروہاں یہودی بستیاں بسادی گئیں، اس طرح یہودیوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہوتاگیا، 1922ء میں وہ 82؍ہزار سے کچھ زائد تھے، 1936جب کہ ء میں ان کی تعداد ساڑھے چارلاکھ کے قریب پہنچ گئی۔
جنگ عظیم سے پہلے فلسطین میں جویہودی آباد تھے، ان کے پاس فلسطین کی 11%زمین تھی اورباقی 89%عرب فلسطینیوں کے پاس تھی؛ لیکن تیس سالوں کی کوشش اورمحنت سے یہودیوں کے پاس فلسطین کی 55%زمین چلی گئی، پھردوسری جنگ عظیم(1939-1945ء) کی وجہ سے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کابے حد اضافہ ہوگیا؛ کیوں کہ ہٹلرنے جرمنی سے ان کامکمل صفایاکرناشروع کردیاتھا، جس کی وجہ سے وہ لوگ بھاگ بھاگ کروہاں پناہ گزین ہوگئے، جس کی وجہ سے زمینی تبدیلی کے ساتھ ساتھ آبادی کاتناسب بھی مکمل طور پربدل گیااور یہودیوں کی رہائش کے لئے تہتر(73)نئی بستیاں بسائی گئیں، اس صورت حال کودیکھ کر فلسطینی پریشان ہوئے اوراس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً جھگڑے بھی ہونے لگے، آہستہ آہستہ یہ جھگڑے خوفناک ہوتے گئے۔
اسرائیلی اورفلسطینیوں کے درمیان رونماہونے والے فسادات کودیکھ کرامریکہ اوربرطانیہ نے ایک رائل کمیشن قائم کی، جس نے صورت حال کاجائزہ لے کربتایاکہ اسرائیلی ظلم کرتے ہوئے فلسطینیوں کودبانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہ فسادات رونماہوتے ہیں، یہ بات بھی کہی گئی کہ اس مسئلہ کاحل بس یہ ہے کہ دوریاستیں قائم کردی جائیں، ایک اسرائیلیوں کے لئے اوردوسری فلسطینیوں کے لئے، جس کواسرائیلی اورفلسطینی دونوں نے رد کردیا، پھراسرائیلی اورفلسطینی دونوں کی طرف سے اپنے اپنے تحفظ کے لئے مزاحمتی جماعتیں قائم ہونے لگیں، جن کے درمیان ٹکراؤبھی کافی خوفناک ہوتا تھا، ان سب چیزوں سے برطانیہ کافی پریشان تھا ؛ چنانچہ جیسے ہی تیس سالہ معاہدہ اس کاختم ہوا، اس نے وہاں سے اپنے جانے کافیصلہ کیا؛ لیکن خاموشی کے ساتھ چلے نہیں گئے؛ بل کہ فلسطین کے امن کوغارت کرنے کے لئے 14؍مئی1948ء کورات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے وجود کااعلان کردیا، اس کوقبول بھی کرلیا، امریکہ نے بھی قبول کیا اوران کے جوحلیف ممالک تھے، ان میں بہتوں نے اس کوقبول کرلیا، پھریہ قراداداقوام متحدہ میں پیش کیاگیااوروہاں بھی اسے تسلیم کرلیاگیا؛ لیکن عربوں کویہ تسلیم نہیں تھا۔
(جاری ۔۔۔۔۔۔)
Subscribe to:
Posts (Atom)






