Thursday, 17 June 2021

قانون مجرم کی پشت پناہی کے لئے یاسزاکے لئے؟



قانون مجرم کی پشت پناہی کے لئے یاسزاکے لئے؟

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

کتابوں میں قانون کی تعریف Law is nothing but common sense  کے الفاظ سے کی گئی ہے، جس کامطلب ہے کہ قانون عقل سلیم کے علاوہ کچھ نہیں، قانون کاتعلق ایک سے زائدافراد سے ہوتاہے؛ اس لئے ان تمام افرادکے عمومی رجحانات کوسامنے رکھتے ہوئے قانون ایسابنایاجاتاہے، جس سے کسی کوکوئی تکلیف نہ ہو اورعقل میں آسکے، اگرکسی کوتکلیف ہویاعقل میں نہ آسکے تواس کاصاف مطلب ہے کہ قانون میں جھول ہے، اس پرپھرسے غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے، اس وقت بات اس پرنہیں؛ بل کہ اس پرکرنی ہے کہ قانون ہوتاہے کیاہے اوراس کامقصد کیاہے؟ یہ دراصل اجتماعی اصولوں پرمشتمل ایک ایسانظام ہوتاہے، جوملکی سطح پرحکومت کی جانب سے سماج اورمعاشرہ کومنظم اورمربوط کرنے کے لئے نافذکیاجاتاہے، اوراس کے لئے جب جتنی ضرورت پڑے ، طاقت کوبھی بروئے کارلایاجاتاہے۔
قانون کی حقیقت اوراس کامقصد تو یہ ہے؛ لیکن آج کے دور میں حکومتیں چوں کہ عموماًغیرمنصف ہوتی ہیں، اپنے خلاف سننا پسندنہیں کرتیں؛ بل کہ حق بات ہی کوسننے سے وہ انکار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ قانون بھی ایسے بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جویاتوعقل سلیم کے خلاف ہوتے ہیں یاپھرجن کی وجہ سے بہت سارے افراد کوتکلیف ہوتی ہے، کچھ ہی ایام قبل کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں Live in relationship کے جواز پرقانونی مہرلگایاگیا، امریکہ ، فرانس، برطانیہ ، چین وغیرہ جیسے ممالک میں، جن کادعوی ہے کہ وہ امن کے علم بردارہیں، سیکولرذہنیت کے حامل ہیں، وہاں مختلف اوقات میں متعدد ایسے قانون بنائے جاتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، سعودی عرب میں متعدد ایسے قانون بنائے گئے ہیں، جونہ صرف یہ کہ عقل سلیم کے خلاف ہیں؛ بل کہ شریعت بھی ان کی اجازت نہیں دیتی۔
حکومتوں کی یہ حرکتیں اپنے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے ہوتی ہیں، اگرحکومتیں منصف مزاج ہوں توپھرایسی حرکتیں ان سے سرزدنہیں ہوں گی؛ لیکن ظاہرہے کہ آج کے دور میں اس کی تلاش ایسے ہی ہے، جیسے جنگل میں سانپ کی منی تلاش کی جائے ، نتیجہ ظاہرہے کہ ملک انارکی کاشکارہوجاتاہے، قانون توہوتاہے؛ لیکن قانون کے نام پرکہیں ظلم وزیادتی کی جاتی ہے اورکہیں قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جاتی ہیں، قانون ہمیشہ ایساہوناچاہئے، جوملک میں رہنے والے کسی فرد کے لئے ناممکن العمل نہ ہو، ایساقانون بنانے کے لئے دماغ سوزی کی ضرورت پڑے گی اوراس کے ساتھ ایسے انسان کاہونابھی ضروری ہے، جومعتدل مزاج ہو،تب جاکرایساقانون بن سکتاہے،پھر جب ایسا قانون بن جائے  تواس کونافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس قانون کے دائرہ میں پھرتمام افرادکولاناچاہئے، ایسانہ ہوکہ آپ کی پارٹی والے تواس قانون کی گرفت میں نہ آئیں اوردیگرپارٹی کے لوگوں کوزبردستی اس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے، اگرایساہونے لگے توملک سلامت روی کے ساتھ ترقی کرتارہے گا، ورنہ پھرملک کاتواللہ ہی حافظ ہے۔
ہمارے ملک بھارت میں کئی ایسے قانون بنے، جس کی وجہ سے بہت سارے افرادکوسڑکوں پر اترناپڑا،مطلقہ کاتانکاح ثانی نان ونفقہ، تین طلاق،سی اے اے وغیرہ اورزرعی قوانین کے سلسلہ میں توآج بھی لوگ سڑکوں پربیٹھے ہوئے ہیں، ان احتجاجات سے یہ واضح ہے کہ یہ قوانین ایسے ہیں، جن میں صرف اورصرف حکومت نے اپنے مفادات کوسامنے رکھاہے، اگرلوگوں کے مفادات کوسامنے رکھاجاتا تو پھرلوگوں کے لحاظ سے ایسے قوانین بنائے جاتے، جس کی وجہ سے سڑکوں پرلوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ایک طرف یہ حال ہے ہماری حکومت کی۔
دوسری طرف قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اورحکومت ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہی ہے، محسن شیخ کی لنچنگ ہوئی دوہزارچودہ میں، پھرتوایک سلسلہ چل پڑا، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہاہے، اس کی وجہ ظاہرہے کہ براہ راست حکومت ہے اورسوال اسی سے ہوگا؛ کیوں کہ اس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس پولیس اورہوائی، بری اوربحری افواج ہے، وہ روکناچاہے تو فوراً روکاجاسکتاہے؛ لیکن افسوس! حکومت یاتوجان بوجھ کراپنے فائدہ کوسامنے رکھتے ہوئے مجرموں کوچھوٹ دے رہی ہے یاپھرحکومت جس طرح تمام شعبوں میں ناکام ہے، اسی طرح لاء اینڈ آرڈرکے شعبہ میں بھی ناکام ہے، خواہ وہ اس کااعتراف کرے یانہ کرے؛ لیکن واقعات اس ناکامی کی گواہی دے رہے ہیں۔
قانون اسی لئے ہوتاہے کہ نظام کودرست رکھاجاسکے، عدالت کے مسائل کوعدالت میں حل کیاجائے، پولیس اسٹیشن کے مسائل وہیں حل ہوں؛ لیکن بدقسمتی سے ملک کے کچھ افرادنے قانون کواپنے گھرکی لونڈی سمجھ رکھاہے، خودساختہ تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اورمختلف ناموں کااستعمال کرتے ہوئے قانون کادھجیاں اڑاتی ہیں، جس کی سب سے اہم وجہ ایسے افرادکی طرف سے حکومت کی آناکانی ہے؛ بل کہ بعض موقعوں سے یہ بھی دیکھاگیاہے کہ حکومت کے ذمہ دارلوگ ایسے افرادکی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، جواس طرح قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، حکومت کوسمجھناچاہئے کہ مجرم مجرم ہی ہوتاہے، بالکل اسی طرح، جس طرح شیرشیرہوتاہے، جب تک اسے نوالہ ملتارہے، اوراس کاپیٹ بھرارہے، اس وقت تک وہ دم ہلاتا رہتاہے؛ لیکن جب نوالہ ملنا بندہوجائے توپھروہ اسی کواپنانوالہ بنالیتاہے، جوروزاسے نوالہ دیاکرتاتھا، یہی حال مجرمین کاہوتاہے، جب تک نوالہ ملے گا، وہ ٹھیک رہیں گے اورآپ کے آگے پیچھے دم ہلائیں گے، جیسے ہی آپ کی طرف سے نوالہ بندہوا، یاآپ سے زیادہ خوارک کسی نے دیا، بس وہ آپ ہی کوٹپکا کر چھوڑیں گے۔
دنیاکی آنکھ نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہے، خود اس ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ایساہوچکاہے کہ خود اسی کے باڈی گارڈ نے اسے گولیوں سے بھون دیاہے؛ اس لئے مجرموں کی پشت پناہی کی بجائے ان کوکیفرکردارتک پہنچاناحکومت کامقصدہوناچاہئے، نہ کہ اس کی پشت پناہی، ورنہ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ عوام ایک مدت تک ظلم کوبرداشت کرتی ہے، جب پانی سرسے اونچاہوجاتاہے تو پھر تخت وتاج کووہ اچھال دیتی ہے، عرب کے کئی ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جاچکے ہیں، اس ملک کے کئی پڑوسی ممالک میں بھی ایسی صورت پیداہوچکی ہے، بعض ملکوں میں توفوجی انقلاب بھی برپاہوچکاہے، آج برماکی حالت دیکھئے، جوکل نہتی عوام پرگولی چلوارہی تھی، آج وہ خودسلاخوں کے پیچھے ہے، ہمارے ملک میں ایسی نوبت تونہیں آئی ہے اورامیدہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی؛ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مجرمین کوکھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیاجائے کہ وہ جوچاہیں کرتے بھریں؟ اس سے توپھرلاء اینڈ آرڈرکامسئلہ پیداہوگا، اس پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے۔
کل ہی ایک ویڈیودیکھنے میں آئی کہ ایک بزرگ شخص کوکچھ نوجوان مارپیٹ کررہے ہیں، پھراس کی داڑھی بھی کتردی جاتی ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ یہ حرکت کرنے  والے ویڈیوبھی بنارہے ہیں اور اسے وائرل بھی کررہے ہیں، ظاہرہے کہ مجرمین کوایسی جرأ ت کہاں سے ملی؟ یہ حکومت کی پشت پناہی سے ہی توآئی ہے؟ اس کامقصدایک توایک طبقہ کے اندرڈرپیداکرناہے اوردوسرا یہ بھی بتاناہے کہ ہم قانون کونہیں مانتے ہیں یایہ کہ قانون ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتا، یہ کھلے عام حکومت کوچیلینج کرناہے، بشرطیکہ حکومت اسے سمجھ سکے ؛ لیکن اگروہ نہ سمجھے یاسمجھ کرنظرانداز کردے توہم تویہی کہیں گے کہ ’’سمجھ سمجھ کرجونہ سمجھے، مری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے‘‘۔
اس واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے، وہ کم ہے، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نئی نسل کوکس قدربگاڑدیاگیاہے کہ وہ بزرگوں کی قدربھول گئی ہے، ایک بزرگ کے ساتھ مارپیٹ،بدتمیزی اورپھران کی داڑھی کاٹنا، یقینا یہ پود آئندہ کے لئے اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے اوراپنے ملک کے لئے نقصان دہ ہے، ان جیسے جوانوں سے ملک کوادنی فائدہ ہونے والا نہیں، ان سے صرف ملک کونقصان ہی ہوگا،اوریہ توحکومت جانتی ہے؛ بل کہ اگراس کے نظریات کامطالعہ کریں توصاف سمجھ میں آئے گاکہ وہ نسل ہی ایسی تیارکررہے ہی، جوآدراورسمان لفظ سے واقف نہ ہو، جن کے دلوں میں نفرت بھری جارہی ہے؛ لیکن ماں باپ کوتویہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس بچے کے لئے اتنے جوکھم اٹھائے، کیاوہ اسی دن کے لئے تھے کہ وہ مان سمان بھول جائے؟ اورجب باہرکے لوگوں کے ساتھ اس کامان سمان نہیں ہے تواپنے گھرمیں کہاں سے ہوسکتاہے؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی پارٹیوں اورملی تنظیموں کوبھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں، کیاان کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ان جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے کس طرح کے اقدام ضروری ہیں؟ اسے فوری طورپرعمل میں لاناچاہئے؛ تاکہ ہماری نسل بھی خراب نہ ہواوراس طرح کے واقعات بھی رونمانہ ہوں۔jamiljh04@gmail.com

Tuesday, 8 June 2021

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن


محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


بھارت کاوجودایک جمہوری ملک کے طورپر1947ء میں ہواتھااور1949ء کوتمام بھارتیوں کویہ حلف دلایاگیاتھا کہ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں اوراس کے تمام شہریوں کے لئے حاصل کریں: انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اورعبادت، مساوات بہ اعتبار حیثیت اورموقع اوران سب میں ترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اورقوم کے اتحاد اورسا  لمیت کاتیقن ہو، اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج 26؍نومبر 1949ء کویہ آئین ذریعہ ہذااختیارکرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پرنافذ کرتے ہیں‘‘۔
لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھناپڑرہاہے کہ ابھی اس عہداورحلف کے سوسال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ ہم سب خلاف ورزی پراترآئیں ہیں، کوئی کم توکوئی زیادہ؛ کیوں کہ ملک کی سا لمیت اورترقی کے لئے ہم تمام لوگوں نے عزم کیاتھا، اب ہرفردیہ سوچے کہ وہ اپنے اس عزم پرکس حدتک قائم ہے؟ آج اگرایک طبقہ ملک کے کچھ لوگوں پر زیادتی کررہاہے تودیگرلوگ کیاکررہے ہیں؟ اس زیادتی کوبرداشت کیوں کررہے ہیں؟ کیااس زیادتی کی وجہ سے ملک کی سا لمیت باقی رہے گی اورکیاملک کی ترقی ہوگی؟ ظاہرہے کہ نہیں؛ کیوں کہ اس ملک کی خصوصیت ہی گنگا جمنی تہذیب ہے تواس کی ترقی اس تہذیب کوختم کرکے کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟
لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک طبقہ زیادتی پراترتاہے توہم کھڑے تماشائی بن کرکیوں دیکھتے ہیں؟ کیاہم پرضروری نہیں ہے کہ ہم اس زیادتی کرنے والوں کے ہاتھ پکڑیں؟ کیاہم سب نے مل کریہ عزم نہیں کیاہے کہ اس ملک میں اخوت اوربھائی چارگی کوترقی دیں گے؟ توپھرہم کیوں اس زیادتی کے خلاف نہیں کھڑے ہوتے؟ ہم تماش بین کیوں بن جاتے ہیں؟ یادرکھئے! جب زیادتی کرنے والے کوڈھیل دی جاتی ہے تواس کادائرہ وسیع سے وسیع ترہوتاجاتاہے، اس کے اندرغرورآجاتاہے، تکبرآجاتاہے اوروہ خود  کے بارے میں یہ تصورکرنے لگتاہے کہ ہم سے کوئی ٹکرنہیں لے سکتا، پھروہ کمزوروں سے آگے بڑھ کر اپنے برابروالوں سے بھی پنجہ آزمائی شروع کردیتاہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ظلم کرناگناہ ہے، اسی طرح ظلم سہنابھی ایک وقت کے بعدگناہ ہے؛ کیوں کہ اگرظلم سہنے کوشیوہ بنالیاجائے توپھررفتہ رفتہ بزدلی آجاتی ہے، بنی اسرائیل کی مثال اس تعلق سے بالکل واضح ہے، ظلم سہتے سہتے وہ قوم بزدل ہوگئی تھی اورکسی طورجنگ کے لئے تیارنہیں ہوتی، اسی لئے جب انھیں ایک نافرمان قوم سے جنگ کاحکم دیاگیاتوانھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجواب دیا کہ آپ اپنے رب کے ساتھ جائیں اورجنگ کریں، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے، اس جملے میں ان کی سرکشی بھی پائی جارہی ہے؛ لیکن ساتھ میں بزدلی بھی موجودہے۔
نبوت ملنے کے بعدمکہ میں توظالموں کے ظلم کوبرداشت کرنے کاحکم دیاگیا؛ لیکن مدینہ میں ظلم سہنے کانہیں ؛ بل کہ ظلم سے مقابلہ کاحکم دیاگیا، اگرمدینہ میں بھی ظلم کوبرداشت کیاجاتارہتا توخودسوچئے کہ کیااسلام کادائرہ اتناوسیع ہوتا، جتناہوا؟ مکہ فتح ہوتا؟ اورکیامکہ کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے؟ انسانیت کاوہ درس دنیاکے سامنے آپاتا، جوآیا؟ اخوت وبھائی چارگی کاوہ نمونہ دنیادیکھتی، جواسے دیکھنے کوملی؟مظلوموں کوتسلی ملتی، جوملی؟ ظالم کاسرنیچاہوتا، جوہوا؟ظالموں کوسبق ملتا، جوملا؟ دنیاکاقانون بھی یہی ہے کہ ایک مدت کے بعدظلم کامقابلہ ضروری ہے؛ بل کہ اگراس وقت کی دنیاکامطالعہ کریں توبات سمجھ میں آئے گی کہ آج کادورظلم کے برداشت کادورنہیں ہے؛ بل کہ جس طرح حکم اس بات کادیاگیا ہے کہ کہ موذی کوایذاپہنچانے سے قبل ہی مارڈالو، اسی طرح آج کادورہے، ظالم کوظلم کرنے سے پہلے مٹادیناچاہئے، ورنہ ظالم کی طرف سے ایسی تباہی ہوتی ہے کہ بعد میں سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، ہیروشیمااورناگاساکی ظلم کی انتہاکی مثال ہے کہ آج بھی وہاں بچوں کی پیدائش صحیح سالم نہیں ہوتی، جسمانی اعتبارسے کچھ نہ کچھ نقص پایا جاتا ہے، عراق کومکمل طورپرتباہ کردیاگیا، بعدمیں ’’سوری‘‘ کہہ دیاگیا کہ غلطی ہوگئی تھی، افغانستان کوبربادکردیاگیا، اب جاکرصلح صفائی کی گئی، ابھی حال میں غزہ کوتہس نہس کردیاگیا، بعد میں جنگ بندی کی گئی، اب تعمیرنو کی بات کی جارہی ہے۔


یہ سب مثالیں ہیں، جوہمارے سامنے ہیں، ان کے علاوہ دن ورات میں کتنی مثالیں اس کی ہمیں مل جاتی ہیں خود اپنے ملک میں؛ لیکن ہم ان کی طرف توجہ نہیں دیتے، اوریہ آج سے نہیں ہورہاہے؛ بل کہ ایک مدت سے یہ سب چلتاچلاآرہاہے، بھارت کی تاریخ میں فسادات کاایک لمباسلسلہ ہے، جوتقریباتمام کے تمام کانگریس کی قیادت میں انجام دئے گئے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ہم اسی کے دم چھلے بن کررہے اورآج بھی اس کوچھوڑنے کے لئے تیارنہیں، ہم جس کی وجہ سے بیمارہوئے، اسی کے پاس دوا تلاشتے رہے، ہمیں جومارتارہا، ہم اسی سے پناہ مانگتے رہے، جو سانپ ہمیں ڈستارہا، ہم اسی کودودھ پلاتے رہے، آج اسی کانتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
اگرہم ظلم کامقابلہ کرتے رہتے توآج ہماری حالت ویسی نہیں ہوتی، جوآج اپنے ہی ملک میں ہے، ظلم سہتے سہتے اب ہم بزدل ہوچکے ہیں، ہمارے ساتھ کچھ بھی ہوجاتا ہے، ہم جوش میں تھوڑاچلاتے چیختے ہیں، پھرٹھنڈے پڑجاتے ہیں، فسادات کی اتنی تعدادویسے ہی تھوڑے وجود میں آئی ہے؟ ظلم سہنے اوربرداشت کرنے کے نتیجہ میں اتنی تعداد وجودمیں آئی ہے، پھراس کے بعد قانونی کارروائی بھی ہماری طرف سے خاطرخواہ نہیں ہوپاتی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہاشم پورہ کے لوگ انصاف کے منتظرہیں، اس ملک میں سکھ کے ساتھ بھی ایک زمانہ میں ظلم ہوا؛ لیکن اس کے بعدپھرکبھی نہیں سناگیا؛ کیوں؟ کیوں کہ انھوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، انھوں نے بتایاکہ ہم ظلم سہہ کررہنے والی قوم نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے سکھوں پرظلم کیا تھا، انھیں لوگوں نے اس قوم کواپنے سرکاتاج بنایا؛ بل کہ اس پروہ مجبورہوئے۔
دوہزارچودہ میں محسن شیخ کی لنچنگ کی گئی، اس پرہم نے خاطرخواہ ایکشن نہیں لیا، نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک لنچنگ کی ایک طویل فہرست وجودمیں آگئی، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہی ہے، جس وقت ہمارے ملک میں لنچنگ کابازارگرم تھا، ٹھیک اسی زمانہ میں ایک ویڈیووائرل ہوئی تھی، جس میں دکھایاگیا تھا کہ ایک سکھ ڈرائیورکے ساتھ کچھ لوگوں نے زیادتی کی کوشش کی تواس نے اینٹ کاجواب پتھرسے دیتے ہوئے اپنی گاڑی سے لاٹھی اورتلوارنکال لی، بس پھرکیاتھا، غنڈوں کی بھیڑ چھٹ گئی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج کی دنیامیں طاقت کامظاہرہ ضروری ہے، دنیاطاقت کے سامنے جھکتی ہے، خواہ وہ طاقت مالی ہو، جسمانی ہو، تعلیمی ہویا پھر اسلحہ جاتی ہو اورہمارا ملک تواس تعلق سے کافی آگے ہے، ہراس چیز کے سامنے جھکاجاتاہے؛ بل کہ سرجھکایاجاتاہے، جس کے اندرکسی بھی قسم کا نفع یانقصان پہنچانے کی صلاحیت ہو اوراس بات سے ہم سب واقف بھی ہیں؛ لیکن معلوم نہیں کہ اس کے باوجود آج تک ہم لوگوں کی توجہ اس طرف کیوں نہیں گئی؟
ماضی میں ہم نے کئی مواقع سے بھیڑ تواکھٹی کی ہے، چندمواقع پرفائدہ بھی ہواہے؛ لیکن اب اس بھیڑکافائدہ نہیں ہورہاہے؛ اس لئے ہمیں چال بدلنے کی ضرورت ہے، اب صرف بھیڑ جمع کرنے سے مسئلہ کاحل نہیں ہونے والا، یوں بھی بھیڑکے ذریعہ سے مسائل بہت زیادہ حل نہیں ہوتے، مسائل وقت کے حساب سے چال چلنے سے حل ہوتے ہیں، جنگ آزادی میں بکسروبنگال کی جنگوں میں بھارتیوں کوکیوں شکست ہوئی تھی؟ تعدادتوتھی؛ لیکن فریق مخالف کے لحاظ سے ہمارے پاس اسلحہ جات نہیں تھے، جنگ میں ترکوں کوجوشکست ہوئی، اس کی بھی ایک بڑی وجہ جدیداسلحہ جات کی کمی بتائی جاتی ہے، اگران کے پاس وقت کے لحاظ سے اسلحہ جات کی کھیپ تیارہوتی توشکست کاسامنا شاید نہیں کرناپڑتا؛ اس لئے ہم سب کوسرجوڑ کرسوچناچاہئے کہ ماضی کی کن کن غلطیوں کے نتیجہ میں ہماری طاقت ختم ہوگئی ہے؟ پھران غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے، اگراب بھی اس کی طرف ہماری توجہ ہوجائے توبہت جلد ہم سراٹھاکرجینے کے قابل ہوجائیں گے، ورنہ اسی طرح ہم پرزیادتی کی جاتی رہے گی، جوآج رواہے؛ کیوں کہ کہنے کوتو یہ ملک جمہوری ملک ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ :
جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن
اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888





Sunday, 30 May 2021

امریکی وزیرخارجہ کادورۂ مشرق وسطیٰ: جوڑ کی بجائے توڑ کی کوشش

امریکی وزیرخارجہ کادورۂ مشرق وسطیٰ: جوڑ کی بجائے توڑ کی کوشش


محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


اس دنیامیں بہت ساری باتیں عجیب وغریب دیکھنے کوملتی ہیں، ایسی چیزیں ، جن کے بارے میں آپ کا تصورکچھ اورہوتاہے؛ لیکن وہ نکلتی کچھ اورہیں، انسانوں میں بھی ایسے بہت سارے ہیں، جن کے تعلق سے یہی چیز دیکھنے کوملتی ہے، ان کوہم سمجھتے کچھ ہیں اوروہ نکلتے کچھ ہیں، اس دنیامیں کچھ حکومتیں بھی ایسی ہی ہیں، جواپنے بارے میں بتاتی کچھ ہیں؛ لیکن کام وہ کچھ اورکرتی ہیں، گویا’’ہیں کواکب کچھ، نظرآتے ہیں کچھ‘‘ کے عملی نمونے۔
اس وقت دنیامیں جواپنے آپ کوعالمی طاقت کہلوانے پرتلے ہوئے ہیں، ان کی حرکتیں بھی انھیں عجیب وغریب اورمتضاد چیزوں پرمشتمل ہیں، جب وہ خود کسی پرحملہ آورہوتے ہیں توقیام امن کی لڑائی اسے قراردیتے ہیں، خواہ اس کی وجہ سے امن پارہ پارہ ہی کیوں نہ ہوجائے؟ لوگوں کی جانیں کتنی بھی چلی جائیں، اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں، بموں کی بارش برساکرنہتے شہریوں کوہلاک کریں اوران کی رہائش گاہوں کوتباہ وبربادکریں، اس کے باوجودوہ امن پسند ہیں اورقیام امن کے لئے ہی ان کی لڑائی ہے، جب کہ جولوگ ان کی اس بے جاحرکت سے بیزارہوکراپنی دفاع کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، تودہشت گرد بن جاتے ہیں، پوری دنیامیں ان دفاع کرنے والوں کے تعلق سے یہ ڈھنڈورا پیٹ دیاجاتاہے کہ وہ دہشت گرد ہیں، دنیاکی آنکھ نے اس کی بہت ساری مثالیں دیکھی ہیں، جن کے بیان کی ضرورت نہیں ہے۔
ابھی کچھ دنوں پہلے اسرائیل نے کوشش کی کہ شیخ جراح کی پوری بستی کوفلسطینیوں سے خالی کراکے وہاں یہودیوں کوآبادکردیاجائے، جس کے لئے اس نے شیخ جراح پرحملہ کردیا، نہتے فلسطینیوں کی مددکے لئے پوری دنیاکوکھڑا ہونا چاہئے تھا اوراسرائیل کوسرزنش کرنی چاہئے تھی؛ لیکن کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی، اس کودیکھ کرحماس نے ان کی طرف سے دفاعی حملہ کیااوراس شدت کے ساتھ کیاکہ اسرائیل جنگ بندی پرمجبورہوا، حماس کے اس دفاعی کارروائی سے اسرائیل کی طاقت کاغرہ چکناچورہوگیا اوراس کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہوا فلسطینی اتھاریٹی اورحماس کے مابین جاری چشمک ماند پڑگئی اوردونوں گویا دوسرے کے حلیف بن گئے، اسی کانتیجہ تھا کہ جب امام اقصیٰ نے خطبہ میں حماس کے ذکرسے گریز کیاتو فلسطینی اتھاریٹی کے جوانوں نے امام کومنبرسے کھینچ لیا، یہ واضح علامت تھی اس بات کی دونوں کے مابین چشمک ختم ہوگئی ہے، ظاہرہے کہ امن پسندی کے دعویداروں کویہ کیسے راس آسکتاتھا؟ ان کی تودلی خواہش یہ ہے کہ فلسطینی اورحماسی آپس میں مصالحت بالکل بھی نہ کریں ؛ بل کہ ان کے مابین کشمکش جاری رہے اورہم ’’امن پسند‘‘ اس کافائدہ اٹھاکر دونوں پرحملہ کرتے رہیں اوران کوجان سے بھی مارتے رہیں، ان کی معیشت بھی تباہ کرتے رہیں اورکی رہائشی عمارتوں کو بھی ملبہ میں بدلتے رہیں۔
یہ پلاننگ تو مسلمانوں کے خلاف صدیوں سے چلتی چلی آرہی ہے اورقائدین کواس تعلق سے سوچنے اورسمجھنے کی ذرا بھی مہلت نہیں دی جارہی ہے، اسی پلاننگ کے تحت اسرائیل اورحماس کی جنگ بندی کے فوراً بعد ’’انکل سام‘‘میدان میں اترگئے اوراپنے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کومشرق وسطیٰ کے دورہ پربھیج دیا، وزیرخارجہ انٹونی نے رملہ کا دورہ کیا اورنتن یاہوسے ملاقات کی؛ بل کہ اگلامنصوبہ سمجھایا، پھرفلسطینی اتھاریٹی کے صدرمحمودعباس سے ملاقات کی، اس کے بعدوہ مصرگئے اورسیسی کی پیٹھ تھپکی، پھراردن بھی گئے، ان علاقوں کادورہ کیا اوراس دورہ کانام’’جنگ بندی کومستحکم کرنے کے لئے علاقائی دورہ‘‘ رکھاگیا، اس دورہ میں اس نے یقین دہانی کرائی کہ اسرائیلی جارحیت میں جونقصان ہواہے، اس کی تعمیرنوکی جائے گی؛ تاہم اس یقین دہانی کے ساتھ ایک شوشہ بھی چھوڑدیاکہ اس تعمیرنوسے حماس کوالگ تھلگ رکھاجائے گا اوریہ تعمیرنوفلسطینی اتھاریٹی کے ذریعہ انجام دی جائے گی۔
اس شوشہ کی ضرورت بالکل بھی نہیں تھی؛ کیوں کہ یہ توپہلے سے طے ہے کہ تعمیرنوکے لئے جوبھی تعادن انکل سام کے توسط سے آئے گا، وہ حماس تک پہنچ ہی نہیں سکتا ہے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ تودہشت گرد تنظیم ہے اوران کی دہشت گردی کی آڑ لے کر نہتی عوام کوتومارا جاسکتا ہے، ان کی رہائشی عمارتوں کوملبہ میں بدلاجا سکتاہے؛ لیکن ان کوتعاون نہیں دیاجاسکتا، آپ غورکیجئے کہ اس جنگ کوبراہ راست حماس سے جوڑا گیا؛ لیکن اسرائیل کی طرف سے جوبھی حملے ہوئے، وہ کہاں ہوئے؟ اس صورت حال میں اسرائیل کوتوبین الاقوامی عدالت میں گھسیٹا جانا چاہئے کہ جب جنگ حماس سے چل رہی ہے تونہتے فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟ انکل سام کواسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کی بجائے پھٹکارلگانی چاہئے؛ لیکن وہ توخود ہی پلاننگ کرتاہے اوررنگ بھرائی اسرائیل سے کرواتاہے۔
پھرامریکی وزیرخارجہ کے دورہ کی عجیب بات یہ ہے کہ جنگ بندی حماس اوراسرائیل کے مابین ہوئی ہے، جس میں بتایاجاتاہے کہ ثالثی کارول مصرنے اداکیاہے، اب آپ خود سوچئے کہ جنگ بندی کومستحکم کرنے کے لئے وزیر خارجہ کوبات اورملاقات کس سے کرنی چاہئے؟ حماس اوراسرائیل کے درمیان یا اسرائیل، فلسطینی اتھاریٹی اورمصرواردن کے درمیان؟ یہ واضح طورپردال میں کالے والامعاملہ ہے، ایک طرف ان کا دعوی ہے کہ یہ جنگ حماس اوراسرائیل کے درمیان چل رہی تھی اوردوسری طرف جنگ بندی کا استحکام اسرائیل اوردیگرلوگوں سے کررہے ہیں، حماس کاذکرتک نہیں کیا؛ بل کہ الٹاایک شوشہ چھوڑدیاکہ غزہ کی تعمیرنومیں فلسطینی اتھاریٹی کوشامل کیاجائے گا، حماس کونہیں، انکل سام کے اس رویہ پراسی لئے حماس نے شدید تنقید کی ہے اوریہ بات بھی قابل غورہے کہ غزہ پرکنٹرول حماس کاہے اوروہاں انکل سام فلسطینی اتھاریٹی کوتعمیر نوذریعہ بنارہاہے، اس سے بات بالکل واضح ہے کہ فلسطینی اتھاریٹی اورحماس کے درمیان حالیہ جنگ کے نتیجہ میں جودوستی سامنے آئی ہے، وہ ان عالمی طاقتوں کوبرداشت نہیں ہورہاہے اوروہ اس بات کی کوشش میں لگ گئے ہیں کہ دونوں کے درمیان اسی طرح کی چشمک چلتی رہے، جوگزشتہ سالوں میں چلتی رہی ہے  اور’’پھوٹ ڈالو، حکومت کرو‘‘ توان کاہمیشہ سے شیوہ رہاہے، یہی چال یہاں چلی جارہی ہے۔
فلسطینی اتھاریٹی تواوسلومعاہدہ کے بعدسے ہی امریکہ کے اشارہ پرکام کرتی ہے؛ لیکن حالیہ جنگ کی وجہ سے عوام حماس کے ساتھ مل گئی ہے، جس کی ایک جھلک امام کومنبرسے اتارنے کے وقت دیکھنے کوملی، ایسی صورت میں انکل سام کی طرف سے جوتوڑنے کی کوشش ہورہی ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اورخصوصیت کے ساتھ فلسطینی اتھاریٹی کویہ بات سمجھنی چاہئے ؛ کیوں کہ ایک توغزہ حماس کے زیرتسلط ہے ، دوسرے حماس نے اس جنگ میں ان کی کلی طورپرمددکی ہے اورتیسرے یہ کہ عوام بھی حماس کے ساتھ ہے، پھرحماسی وزیرنے یہ صاف بھی کردیاہے کہ تعاون کے طورپرملنے والا ایک پیسہ حماس یااس کی ملٹری ونگ کونہیں جائے گا، ایسے میں صدرمحمودعباس کوبہت سوچ سمجھ کرفیصلہ کرناہے کہ خطہ میں امن کوباقی رکھنے کے لئے حماس اورفلسطینی اتھاریٹی کی آپسی کشمکش نقصان دہ ہے، آپسی دوستی ہی ان کے حق میں مفید ہے اوراسی افادیت کوامریکہ اوراسرائیل نے حالیہ جنگ میں بھانپ لیاہے؛ اسی لئے امریکی وزیرخارجہ نے غزہ کی تعمیرنومیں شوشہ چھوڑ دیاکہ حماس کواس سے بالکل الگ تھلگ رکھاجائے گا، حماس نے بھی اس کاصحیح جواب دیا ، جودیاجاناچاہئے تھا۔jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888



Thursday, 27 May 2021

تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!

تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

دوہزار انیس کے آخری مہینوں میں شروع ہونے والے ’’کورنا ‘‘کی وجہ سے یوں توپوری دنیاپرغم والم کے پہاڑ ٹوٹے، جسم انسانی سے سانس کی ڈوراس طرح کٹی، جیسے مانجھےسے پتنگ کی ڈور کٹتی ہے، آبادیاں ویران ہوگئیں، گھراورخاندان اجڑگئے، معیشت تباہ وبرباردہوگئی، گزشتہ سال اموات کے تعلق سے بھارت کی وہ حالت نہیں تھی، جوامریکہ اوراٹلی وغیرہ تھی؛ لیکن اس سال ان ملکوں کے قریب قریب ہمارادیش پہنچ چکاہے۔
کوروناکی وجہ سے ہرشعبہ میں نقصان ہواہے اورنقصان بھی ایسا، جس کی بھرپائی شاید ممکن نہیں؛ لیکن سب سے زیادہ نقصان تعلیمی شعبہ میں ہواہے، جان کے اعتبارسے بھی، تعلیم کے لحاظ سے بھی اورمال کے اعتبارسے بھی، گزشتہ سال کے مقابلہ میں جان کے لحاظ سے اس سال زیادہ نقصان ہوا، ایک سے بڑھ ایک اساتذہ دنیاسے رخصت ہوگئے، ایک ایک یونیورسٹی میں پچاس پچاس سے زائد اساتذہ کی رحلت ہوئی، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے جوخسارہ تعلیمی شعبہ کاہواہے، اس کی بھرپائی کیسے ہوسکتی ہے؟ یونیورسٹیوں کے علاوہ مدارس، اسکولس اور کالجز کے اساتذہ کی بھی ایک بڑی تعداد دنیاسے رخصت ہوگئی، ان اساتذہ  کے جانے سے تعلیمی شعبہ واقعتا یتیم ہوگیاہے۔

تعلیمی اعتبارسے تواتنانقصان ہواہے کہ اس کااندازہ لگاپانامشکل ہے، اکثر طلبہ کی تعلیم ہی منقطع ہوگئی ہے، خواہ وہ اسکول کے ہوں یامدارس کے، خصوصیت کے ساتھ غریب اورمتوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیمی ڈگرسے ہٹ کرمعمولی کام کاج سے جڑگئے ہیں، اورظاہرہے کہ ملک کی اکثریت اسی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، رہے کچھ امیر اوردولت مندلوگ توان کے بچوں کی تعلیم آن لائن اگرچہ چل رہی ہے؛ لیکن یہ طریقۂ کار بھارت میں توکام چلاؤ کی حدتک ہے اورکام چلاؤ تعلیم کے طریقہ سے توکام چلاؤ تعلیم ہی حاصل ہوسکتی ہے، رہے مدارس توان کی ایک بڑی تعدادآن لائن تعلیم ہی کی قائل نہیں، کچھ نے آن لائن تعلیم شروع کررکھی ہے؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے طلبہ کے پاس انرائڈ موبائل نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اس طریقہ سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں۔
تعلیمی ادارے ایک سال سے بندہیں، تعلیم بھی نہیں ہوئی اورامتحانات بھی نہیں ہوئے، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے سال بھی بربادہوگااورحاصل بھی کچھ نہیں؛ اس لئے حکومتی سطح پریہ اعلان کیاگیاکہ طلبہ کوپرموٹ کردیاجائے گا، اس سے سال توبچ جائے گااورسرٹیفیکیٹ بھی مل جائے گی؛ لیکن صلاحیت اوراہلیت کہاں سے پیداہوگی؟ اس طریقہ کی مثال توایسے ہی ہے، جیسے پیسے دے کرسرٹیفیکیٹ حاصل کرلیاجائے، اس سے نقصان صرف بچہ کانہیں؛ بل کہ مستقبل میں بہت ساری چیزوں کاہوگا، پتہ نہیں ہماری حکومتوں کویہ کیوں سمجھ میں نہیں آیاکہ جس طرح گائڈ لائن دے کرتمام شعبہ جات کوکھول دیاگیا، اسی طرح تعلیمی اداروں کوبھی کھول دیاجائے؟ لیکن ہوایہ کہ کچھ کلاسیز توکھولے گئے؛ البتہ اکثرکلاسیز نہیں کھولے گئے، ایسی صورت میں خصوصیت کے ساتھ چھوٹے طلبہ ، جوتعلیمی راستے سے جڑے تھے، بالکل بھٹک گئے، کچھ لوگ ٹیوشن دلاکراپنے بچوں کے تعلیمی سلسلہ کوباقی ضرور رکھے ہوئے ہیں؛ لیکن بہرحال تعلیمی اداروں کاماحول تونہیں دیا جاسکتا ہے نا اوراس کانقصان بڑانقصان ہے۔
مالی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ نقصان اسی شعبہ کوہواہے، جوتعلیمی ادارے حکومتی ہیں، ان کے توبلّے بلّے ہیں، اساتذہ بھی ماشاء اللہ خوش حال ہیں؛ لیکن جوادارے غیرسرکاری ہیں، ان کوکافی نقصان ہواہے، بڑے اداروں کوکچھ کم نقصان ہوا؛ لیکن جوچھوٹے ادارے ہیں، وہ بالکل خسارہ میں رہے، ہزاروں اسکول توبند ہی ہوگئے، جوباقی رہے، وہ لاچاری کی حالت میں ہیں، ان کے اساتذہ بھی لاچارہیں، کچھ اساتذہ توٹیوشن سے کام چلالیتے ہیں؛ لیکن ایک بڑی تعدادایسی ہے، جن کے پاس کوئی ٹیوشن نہیں، ان بے چاروں کی حالت خستہ ہے، اورسب سے زیادہ خستہ حال مدارس کے اساتذہ ہیں، خصوصیت کے ساتھ چھوٹے اورشخصی مدارس کے اساتذہ کی حالت، ان کی اکثریت ایسی ہے، جن کی پشت پرگھریلوسپورٹ نہیں ہے، سال بھرسے زیادہ عرصہ ہوگیا، مدارس سے ان کوتنخواہیں نہیں ملی ہیں، کچھ اساتذہ جیسے تیسے چندہ کرکے سال بھرسے گزارہ کررہے ہیں، کچھ قرض اوراداھارکے سہارے زندگی گزاررہے ہیں؛ لیکن یہ سہارے آخرکب تک کام آئیں گے؟ 
اس وقت مساجدمیں بھی جگہیں خالی نہیں ہیں اوراگرکہیں خالی بھی ہے جگہ توکمیٹی والے پانچ لوگوں کی خاطرامام بحال کرنے کے روادارنہیں، پھربعض مدارس کے ذمہ دار توایسے ہیں کہ سال بھرسے اپنے اساتذہ کی خیریت تک نہیں پوچھی، حالاں کہ یہ اخلاقی فرض تھا، یہ بات توماننے کی ہے کہ کچھ مدارس ایسے ہیں، جن کے پاس اساتذہ کودینے کے لئے پیسے نہ ہوں؛ لیکن اکثرمدارس ایسے ہیں، جن کے پاس پوری تنخواہ نہ سہی؛ لیکن سدرمق کے بقدرتنخواہ دینے کی طاقت ضرور ہے، ایسے مدارس کے ذمہ داروں پرفرض تھاکہ وہ اپنے اساتذہ کی فکرکرتے؛ لیکن ایسانہیں ہوا۔
یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ وہ گاؤں اورمحلہ میں تقسیم ہونے والی خیراتی لائن میں لگ جائیں اورچوں کہ ان کارہن سہن معاشرہ میں ٹھیک ٹھاک ہی رہتاہے؛ اس لئے سماج کے لوگ انھیں پوچھتے تک نہیں، ان کے گھرکے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرتے اوران کی طرف دست تعاون دراز نہیں کرتے، کچھ پوچھنے والے یہ ضرورپوچھیں گے کہ سال بھرسے مدرسہ بندہے توکیسے چل رہاہے؟ لیکن ظاہرہے کہ اس سوال کاجواب ’’اللہ کاشکرہے‘‘ کے سواکچھ نہیں نکلتا، سوال کرکے خاموش رہنے والے ؛ بل کہ دل میں کچوکے لگانے والے توملتے ہیں؛ لیکن تعاون کرنے والے نہیں ملتے۔
کوروناکی اس مہاماری میں بہت ساری تنظیموں نے امدادی دروازے کھولے؛ لیکن وہاں کے لئے ، جہاں وہ تصاویرلے سکیں اوراخبارات وشوسل میڈیاز پرشیئر کرسکیں، اب یہ اساتذہ اتنے توبہرحال خوددارہیں کہ اس طرح کے تعاون سے دوررہتے ہیں اوراسی لئے ان کاتعاون نہیں ہوپاتا، اب ایسی صورت میں یاتووہ بھی خودداری کو بیچ کرنکل آئیں یاپھرمحتاجی کی زندگی گزاریں، ایسے حالات میں ہماری ملی تنظیمیں، جومصیبت اورآفت کے وقت بڑھ چڑھ کرحصہ لیتی ہیں اورجن کے پاس قوم کے روپے پیسے صدقات، عطیات اورزکات کے مدات کی شکل میں کافی مقدارمیں پہنچتے ہیں، قوم ان پراعتماد کرکے انھیں چندہ دیتی ہے، ان کوتوکم سے کم ان اساتذہ کا درد سمجھناچاہئے اوران کے لئے کوئی مشکل کام نہیں کہ ان کے نمائندے ہرعلاقہ؛ بل کہ ہرگاؤں میں ہیں، وہ ان اساتذہ تک براہ راست پہنچ سکتے تھے؛ لیکن افسوس! وہ بھی آج تک ان کے درد کوسمجھنے کے لئے تیار نہیں، اس پرجس قدرافسوس کیاجائے کم ہے۔
اب ان اساتذہ کی حالت بہت ہی خستہ ہے، ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ اپنے بچوں سے منھ چھپانا پڑرہاہے، بیوی کے سامنے جانے سے شکستگی کی کیفیت چھاجاتی ہے، کئی اساتذہ نے اپنادرددل بیان کیا، کئی نے اس پرمضامین لکھے؛ لیکن ابھی تک ان کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے، یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ کوئی تجارت شروع کرسکیں کہ پونچی اتنی ان کے پاس نہیں، کہیں مزدوری بھی نہیں کرسکتے کہ یہ کام کبھی کیاہی نہیں ہے، محلہ محلہ پھرکربھی کچھ بیچ نہیں سکتے کہ معاشرہ خود اسے پسند نہیں کرتا، ٹیوشن بھی نہیں کرسکتے کہ آج کل دینی تعلیم کے لئے ٹیوشن کون دلاناچاہتاہے؟ اوراگردلابھی دیں تومزدوری اتنی کم کہ استاذ سن کردل برداشتہ ہوجاتاہے، ایسے میں یہ کیاکریں؟ کہاں جائیں؟ بال بچوں کو کیسے پالیں؟ بیماری کاعلاج کس طرح کروائیں؟ آخریہ کیاکریں؟؟؟
ایسی صورت حال میں ملی تنظیموں کوان کی طرف متوجہ ہوناچاہئے اوران کاتعاون کرناچاہئے، اسی کے ساتھ معاشرہ میں صاحب مال ہیں، جن کے پاس اللہ کا دیابہت کچھ ہے، انھیں آگے آناچاہئے اوران جیسے اساتذہ کی خبرگیری کرنی چاہئے، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے خاموشی کے ساتھ ان کاتعاون کرناچاہئے، یہ قوم کی اس وقت کی بڑی ذمہ داری ہے، اگریہ اساتذہ کسی اورکام سے جڑگئے، اورایک بڑی تعداد جڑبھی چکی ہے توآئندہ تعلیم دلانی بھی مشکل ہوجائے گی اورپھرامام وخطیب بھی ملنامشکل ہوسکتاہے؛ اس لئے خدارااس تعلق سے فکرکیجئے اوران اساتذہ کی بھرپورطریقے سے مددکیجئے، اللہ تعاون کرنے والوں کوبہترین اجردے گا۔
jamiljh04@gmail.com Mob: 8292017888


Saturday, 22 May 2021

فلسطین: مسئلہ اورحل (تیسری اورآخری قسط)

 

فلسطین: مسئلہ اورحل

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

(قسط: ۳ ۔  آخری قسط)


اس وقت ہفتہ بھر جوجنگ چلی، وہ شیخ جراح کے علاقہ پرچلی، یہ ایک چھوٹاساقصبہ ہے، یہاں تقریباً پانچ سو فلسطینی آبادہیں، اب اسرائیلیوں کاکہناہے کہ وہ یہاں سے اپنے گھربارکوچھوڑیں اورکہیں اورجابسیں، ظاہرہے کہ اسے کیسے برداشت کیاجاسکتاہے؟ اورجوقومیں زندہ ہوتی ہیں، وہ توکبھی بھی اسے برداشت نہیں کرسکتیں، خبروں کے مطابق اس جنگ میں حماس کی طرف سے راکٹ بھی داغے گئے، یعنی غلیل اورپتھرسے شروع ہونے والی جنگ اب راکٹ تک پہنچ چکی ہے، اس کے جواب میں اسرائیل نے وہی طریقہ اختیارکیا اورنہتے فلسطینیوں اوران کے رہائشی علاقوں پربم باری کی، ہونا تویہ چاہئے کہ اسرائیل کے اس حملہ کے خلاف پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی؛ لیکن ظاہرہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، کم از کم عربوں کوتواپنے فلسطینی بھائیوں کی امدادکرنی ہی چاہئے کہ وہ عرب ہی ہیں اورگزشتہ دہائیوں میں قومیت عربیہ کانعرہ بھی لگایا گیاتھا(جوسراسر اسلامی تعلیم کے خلاف تھا)؛ لیکن پتہ نہیں اس وقت وہ قومیت عربیہ کانعرہ کہاں دم توڑچکاہے کہ اپنے عربی بھائیوں کوبموں کے سائے میں چھوڑ کرآرام دہ ایئرکنڈیشن روم میں دادعیش دیاجارہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!

Friday, 21 May 2021

فلسطین: مسئلہ اورحل (قسط: ۲)

 


فلسطین: مسئلہ اورحل

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

(قسط: ۲)

اگربات یہیں پرختم ہوجاتی توشایدعرب فلسطینی آنسوبہاکرکچھ سالوں کے بعد خاموش ہوبیٹھتے؛ لیکن اسرائیلیوں نے اس حدپراکتفانہیں، جتنی زمین پر ریاست اسرائیل کوقائم کرکے یہودیوں کے حوالہ کیاگیا، انھوں نے اپنی سرحدوں کووسیع کرناشروع کردیا، جس کا خطرہ اردن، مصراورشام نے محسوس کیا، لہٰذا ان لوگوں نے اپنی سرحدوں پرفوجیں تعینات کردیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹی موٹی چھڑپیں اسرائیل کے ساتھ ہوتی رہتی تھیں، ایک بڑی جنگ عربوں اوراسرائیل کے درمیان 1967ء میں ہوئی، جس میں مصر، عراق، اردن اورشام کومل کراسرائیل پرحملہ کرناتھا، ان کے جہاز اڑنے کے لئے ایئر بیس پرتیارتھے؛ لیکن قبل اس کے کہ وہ اڑتے، اسرائیل کے بمبارطیاروں نے ان کو تباہ وبربادکردیااوراسرائیل کو اس میں بڑی کامیابی ملی، جس کی وجہ سے اس کا سینہ چھپن انچ کاہوگیااورپھراس نے اردن، شام اورمصرتمام ممالک سے کچھ نہ کچھ زمینیں چھین لیں، پھر1973ء میں ایک اورجنگ ہوئی دونوں کے مابین؛ لیکن اس میں اسرائیل کوپہلے کی طرح کامیابی نہیں ملی، عربوں نے بھی اپنی بعض ان زمینوں کو واپس لے لیا، جن کو اسرائیل نے چھین لیا تھا۔
اس جنگ کے بعداسرائیل نے امریکہ کے توسط سے اپناطریقۂ کاربدل دیا اور سیاسی بات چیت کی طرف قدم بڑھایا، اس تعلق سے پہلی کامیابی اس وقت ملی، جب  مصر سے یہ طے ہوگیا کہ صحرائے سینا، جسے اسرائیل نے چھین لیاتھا، اسے واپس کردیاجائے گا، اس کے بدلہ میں مصراسرائیل کوایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلے، اس کامیابی کو ’’کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ‘‘ (Camp David Agreement)کے نام سے جاناجاتاہے،یہ انورسادات کے زمانہ میں 17؍دسمبر1978ء میں یہ اگریمنٹ ہوا، اس میں بھی اسرائیل نے چالاکی کی اورپورے صحرائے سینادینے کی بجائے صرف مشرقی حصہ ان کے حوالہ کیا اورمغربی حصہ کواپنے ہی پاس رکھا، اس کے بعدایک ایک کرکے ان تمام عربوں کوفلسطینیوں کے تعاون سے کاٹ لیا، جوان کی مددکیاکرتے تھے اور گزشتہ سالوں میں تواس تعلق سے حدہی پارکردی گئی،کئی خلیجی ملکوں نے بھی اسے تسلیم کرلیا۔
کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ کی کامیابی کے بعد دیگروہ لوگ بھی جب فلسطینیوں کے تعاون سے پیچھے ہٹ گئے ، جوان کے شانہ بہ شانہ کھڑے تھے توفلسطینی یہ سمجھ گئے کہ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے اب جوکچھ بھی کرناہے، خود ہی کرناہے، اس کے لئے کئی گروپ وجود میں آئے، جن میں سے ایک یاسرعرفات کی ’’الفتح‘‘ بھی تھی، ابتدا میں تواس نے کچھ کام کیا؛ لیکن بعد میں یہ جماعت بالکل ناکارہ ہوکررہ گئی اور13؍ستمبر1993ء میں اسرائیل اوریاسرعرفات کے درمیان ’’اوسلو‘‘ معاہدہ کے ہونے کے بعدتووہ امریکہ کے ہی پٹھوہوکررہ گئی تھی، جس کی وجہ سے دوسری تحریک شروع ہوئی، شیخ احمدیاسین نے فلسطینیوں کے سرد پڑتے ہوئے جذبوں کوحوصلہ دیا،ان کو 1987ء میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی، جب وہ انتفاضہ اول کے وقت سامنے آئے، اس وقت فلسطینی اسلامی تحریک نے ’’حماس‘‘کانام اختیارکیا، ان کانظریہ یہ تھا کہ اگرہمارے پاس ہتھیارنہیں ہیں تو کیاہوا؟ ہمارے پاس پتھرہیں، ہم وہی ماریں گے، غلیل ہیں، ان سے حملہ کریں گے اورپھرزمانہ نے دیکھا کہ ایک طرف اسرائیل کی بکتربندگاڑیاں ہوتیں اوردوسری طرف لوگوں کے ہاتھ میں پتھرہوتے اوروہ ان سے بکتربندگاڑیوں پرحملہ کرتے، اس طریقہ سے ظاہرہے کہ جدید دورکے ہتھیارسے لیس اسرائیلیوں سے جنگ جیتی نہیں جاسکتی ہے؛ لیکن دراصل اس کے ذریعہ سے انھوں نے عالمی برادری کویہ جتلایا اوران کی سوئی ہوئی ضمیرکوجگانے کی کوشش کی کہ ہم نہتے لوگ ہیں، ہمارے پاس کسی قسم کاہتھیارنہیں ہے، ہم ظالم نہیں ہے، ہم دہشت گرد نہیں ہیں، جیسا کہ یہودی نژاد عالمی ہمیں بناکر پیش کررہا ہے؛ بل کہ ہم مظلوم ہیں، ہم تو اپنا دفاع بکتربندگاڑیوں کے مقابلہ میں پتھر سے کررہے ہیں، اگرہم ظالم ہوتے توہمارے پاس بھی ہتھیارہوتے، ظالم وہ لوگ ہیں، جوہم پرہتھیارلے کرچڑھ آئے ہیں؛ لیکن عالمی برادری کاضمیرمردہ ہوچکا تھا، یاپھروہ لوگ جاگتے ہوئے بھی سونے کاناٹک کررہے تھے، جس کی وجہ سے اس پیغام کونظرانداز کردیا گیا اورالٹے فلسطینیوں پرہنسنے لگے کہ یہ پاگل ہیں، بکتربندگاڑیوں اورٹینکوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کررہے ہیں۔
اس کے بالمقابل اسرائیل کیاکررہاہے؟ ایک تووہ ہتھیارسے لیس ہے اوروہ بھی جدیدترین ہتھیارسے، پھراس کے ساتھ وہ صرف ان لوگوں پرحملہ آور نہیں ہو رہا ہے، جوان کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں؛ بل کہ نہتے لوگوں پروہ بموں کی بارش کررہاہے، عمارتیں تباہ کررہاہے، پوری پوری پستیوں کووہ اجاڑتا جارہاہے، صابرہ اورشتیلہ ، جودومہاجرفلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ تھے، جن کے پاس چاقونام کی چیز بھی نہیں تھی، ان دونوں کیمپوں پربم گراگروہاں کے تمام پناہ گزینوں کوختم کردیا، اسے توظلم اوربربریت سے ہی تعبیرکریں گے، اسی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فلسطینیوں کوان کے اپنے ذاتی گھروں سے بھگاتارہاہے اوران کی زمینوں پرقبضہ کرتارہاہے، یہی وجہ ہے کہ جس وقت اسرائیل کاوجودہواتھا، اس وقت (1948ء) اس کارقبہ7,993مربع میل یعنی 12,863کلومیٹرتھا، جب کہ آج اس کے پاس 13,760 مربع میل یعنی 22,145کلومیٹرسے بھی زیادہ ہے، نقشہ کودیکھ کر اس کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وجود کے وقت اس کانقشہ کیساتھا اورآج کیساہے؟ یہ رقبہ اسے کہاں سے حاصل ہوا؟ نہتے فلسطینیوں کودربدراوربے گھرکرکے، اب خود ہی فیصلہ کیاجائے کہ فلسطینی اپنی زمین کے لئے مزاحمت کریں گے یانہیں؟ اوراس مزاحمت میں وہ مظلوم ہیں یاظالم؟

(جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

Thursday, 20 May 2021

فلسطین: مسئلہ اورحل (قسط:۱)

فلسطین: مسئلہ اورحل

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

(قسط: ۱)

اگرآپ کسی کے ہاتھ اپنی زمین کاایک ٹکڑا بیچیں اوروہ شخص خریدکی ہوئی زمین کی بجائے اس حصہ پربھی قبضہ کرلے، جوآپ نے اس کے ہاتھوں بیچی نہیں ہے توآپ کارویہ اس شخص کے ساتھ کیارہے گا؟آپ اپنی زمین پراسے قبضہ کرنے دیں گے یااپنی زمین کی حفاظت کے لئے تگ ودو کریں گے؟ اوراگروہ شخص آپ کی تمام زمینوں کوہتھیا لینا چاہے توپھرآپ کیاکریں گے؟ اسے طاقت ورسمجھ کرچپ ہوجائیں گے اوراپنی زمین وجائیداد؛ بل کہ اپنے رہائشی مکانات سے دست برداری اختیارکرلیں گے یاممکن حد تک اپنی زمینوں کی حفاظت کی کوشش کریں گے؟پھراس کوشش میں آپ ظالم اورمفسد کہلائیں گے یامظلوم اورمجبور؟
اگراس سوال کاجواب آپ کومل جائے توفلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ میں بھی ظالم ومظلوم کی پہچان کرلیں گے اورذہن کے پردہ میں ابھرتے ہوئے اس سوال کاجواب بھی مل جائے گاکہ ٹینک وبکتربندگاڑیوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کیوں کیاجاتاہے؟ لیکن پوری طرح سے اس مسئلہ کوسمجھنے کے لئے 1914ء سے شروع ہوئی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی تھی، جس میں ایک طرف الائنس(Alliance)طاقتیں( امریکہ، برطانیہ، روس ، فرانس اوراٹلی وغیرہ )شامل تھیں، جب کہ دوسری طرف (Ottoman Empire) جرمنی اورعثمانی سلطنت تھے، اس جنگ میں جرمنی اورعثمانی سلطنت کاپلڑابھاری تھا، اس جنگ کے مغربی محاذ(یعنی شام اورترکی وغیرہ کے علاقوں)کوترک فوجوں نے سنبھال رکھاتھا، جب کہ عراق وغیرہ کے علاقوں میں عرب فوجیں برسرپیکارتھیں، ترک کواس زمانہ میں ’’مردبیمار‘‘ کہاجاتاتھا؛ لیکن اس کے باوجود انھوں سال بھر کی لڑائی میں الائنس کے دانت کھٹے کردئے تھے، ترک فوجوں نے Dardanelles, Gallipoliاورقلعہ چناق میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کیں، جن کودیکھ کربرطانیہ اورالائنس طاقتوں نے اندازہ لگالیاکہ اس طرح ان لوگوں سے جنگ جیتنابہت مشکل ہے، لہٰذا انھوں نے اپنی شرست کے مطابق عربوں کوترکوں سے بھڑانے کافیصلہ کیا اوراس کے لئے انھوں نے عربوں کے سامنے ’’عرب نیشیلزم‘‘(قومیت عربیہ) کا صور پھونکا، اس کے لئے T.E. Lawrence(جوبرطانیہ افواج کاایک معروف افسرتھا) کا انتخاب عمل میں آیا، اس نے پہلے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کوغداری پرابھارنے کے لئے خطیررقم کی پیش کش کی، جسے اس نے ٹھکرادیا اوردھکے مارکرلارنس کواپنے یہاں سے نکلوادیا، یہ دیکھ کراس نے عرب کارخ کیا اوربصرہ کو اپنا ہدف بنایا، اسلامی لباس پہن کراس نے اسلام قبول کرنے کاڈھونگ کیا اورعوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے وہاں کے بدوؤں میں ماہانہ دولاکھ پونڈ تک تقسیم کرناشروع کیا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب پٹرو ڈالرکاآغاز نہیں ہواتھا؛ اس لئے عوام بہ آسانی اس کے دام فریب میں آگئے اوراس طرح اس نے مکہ کے گورنرحسین ہاشمی تک رسائی حاصل کی، اس سے بات چیت کی اور حکومت کالالچ دیتے ہوئے اس نے حسین شریف مکہ سے یہ کہاکہ اگرآپ اس جنگ میں ترکوں کے خلاف ہمارا ساتھ دیں توہم جنگ جیتنے کے بعد عرب علاقوں کے اندرآپ کی ایک آزادریاست بنادیں گے اورآپ کووہاں کابادشاہ بنادیں گے، ان کے مابین جوبات چیت ہوئی،وہThe Hussein-McMahon Correspondence-1915/16  نام سے معروف ہے، پھرجون 1916ء میں شریف مکہ کے بیٹے امیرفیصل اورلارنس کی کمان میں عرب فوجیں عراق کی طرف پہنچ گئیں اوربرطانیہ کے ساتھ مل کرترکوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں ترکوں کوشکست ہونے لگی۔
دوسری طرف 1917ء میں روس اپنے ملکی حالات کے وجہ سے جنگ سے پیچھے ہٹ گیا، جس کودیکھ شام وفلسطین کے محاذ پرموجودترکی کمانڈرانورپاشااپنی فوج کاایک حصہ لے کرکوہ قاف کی طرف بڑھا؛ تاکہ روس کے پیچھے ہٹنے سے جوکمزوری آئی ہے، اس کافائدہ اٹھایاجاسکے ؛ لیکن اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہواکہ شام کے علاقوں میں برطانیہ کی افواج کاپلڑابھاری ہوگیا؛ چنانچہ اس نے نومبر 1917ء کوغزہ(Gaza)پراوردسمبر1917ء میں یروشلم اور بیت المقدس پرقبضہ کرلیا اور1918ء میں شام کے دیگر علاقے، فلسطین،لبنان، حلب اورحمص وغیرہ علاقے برطانیہ افواج زیرنگین آگئے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنگ عظیم اول کے دوران (مئی 1916ء) ہی برطانیہ اورفرانس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ ہواتھا، جسے The Secret Sykes-Picot Agreement کہاجاتاہے، جس کی روسے علاقے تقسیم کئے گئے تھے کہ جنگ جیتنے کے بعدفلاں فلاں علاقے برطانیہ کے پاس رہیں گے اورفلاں فلاں علاقے فرانس کے پاس، فلسطین پردونوں کی نظرتھی؛ اس لئے معاملہ کے حل کے لئے یہ کہاگیا ہم فلسطین کوایک آزادعلاقہ کے طورپرباقی رکھیں گے، یہ معاہدہ برطانیہ کی خست اورخباثت کی اعلیٰ مثال ہے؛ کیوں کہ ایک طرف تواس نے شریف مکہ سے یہ کہاکہ ترکوں کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں ہم عرب کی بادشاہت آپ کے سپردکریں گے، جب کہ خفیہ طورپربرطانیہ اپنے حلیف فرانس کے ساتھ مل کریہ معاہدہ کررہاہے کہ جنگ جیتنے کے بعدعرب کے فلاں علاقے آپ کے ہوں گے اورفلاں علاقے ہمارے، دوسری طرف یہودیوں کوبھی یہ لالچ دیتے رہے کہ اگرہم جیت جائیں گے توفلسطین میں یہودیوں کی ایک ریاست بنادیں گے؛ چنانچہ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس بالفورنے 2؍نومبر1917ء کوصہیونی تنظیم کے نمائندہ Lord Rothschild  کوایک خط لکھا، جس میں یہ بات واضح کی کہ حکومت برطانیہ  پوری ذمہ داری کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کاارادہ رکھتی ہے، یہی وہ خط ہے جس کی بنیاد پراسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔
بہرحال! اپنوں کی دغابازی کی وجہ سے اتحادی افواج نے جنگ جیت لیااورSykes-Picot Agreementکے معاہدہ کے برخلاف برطانیہ نے فرانس کواس بات پرراضی کرلیا کہ فلسطین کوبرطانیہ کے ماتحت ہی رہنے دیاجائے، برطانیہ نے فلسطین میں اپناہائی کمشنر قائم کیا، جس کوتمام طرح کے اختیارات حاصل تھے، اس نے یہودیوں کو اس بات کی اجازت دی اگرآپ یہاں آکرآبادہوناچاہتے ہیں تویہاں کے باشندوں سے یہاں کی زمینیں خرید سکتے ہیں، انھیں کاشت کاری کے لئے قرضے اوردیگرسہولیات بھی فراہم کیاگیا، جب کہ دوسری طرف عربوں پربھاری ٹیکس لگائے گئے اورٹیکسوں کی وصولی کے بہانے پر عدالتوں نے زمینیں ضبط کرنے کے فیصلے صادر کئے، ضبط شدہ زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کی گئیں، نیز سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے بھی کہیں مفت اورکہیں معمولی قیمتوں پریہودیوں کودئے گئے، بعض مقامات پرحیلے بہانے سے پورے عرب گاؤں کا صفایا کردیا گیااوروہاں یہودی بستیاں بسادی گئیں، اس طرح یہودیوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہوتاگیا، 1922ء میں وہ 82؍ہزار سے کچھ زائد تھے، 1936جب کہ ء میں ان کی تعداد ساڑھے چارلاکھ کے قریب پہنچ گئی۔
جنگ عظیم سے پہلے فلسطین میں جویہودی آباد تھے، ان کے پاس فلسطین کی 11%زمین تھی اورباقی 89%عرب فلسطینیوں کے پاس تھی؛ لیکن تیس سالوں کی کوشش اورمحنت سے یہودیوں کے پاس فلسطین کی 55%زمین چلی گئی، پھردوسری جنگ عظیم(1939-1945ء) کی وجہ سے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کابے حد اضافہ ہوگیا؛ کیوں کہ ہٹلرنے جرمنی سے ان کامکمل صفایاکرناشروع کردیاتھا، جس کی وجہ سے وہ لوگ بھاگ بھاگ کروہاں پناہ گزین ہوگئے، جس کی وجہ سے زمینی تبدیلی کے ساتھ ساتھ آبادی کاتناسب بھی مکمل طور پربدل گیااور یہودیوں کی رہائش کے لئے تہتر(73)نئی بستیاں بسائی گئیں، اس صورت حال کودیکھ کر فلسطینی پریشان ہوئے اوراس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً جھگڑے بھی ہونے لگے، آہستہ آہستہ یہ جھگڑے خوفناک ہوتے گئے۔
اسرائیلی اورفلسطینیوں کے درمیان رونماہونے والے فسادات کودیکھ کرامریکہ اوربرطانیہ نے ایک رائل کمیشن قائم کی، جس نے صورت حال کاجائزہ لے کربتایاکہ اسرائیلی ظلم کرتے ہوئے فلسطینیوں کودبانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہ فسادات رونماہوتے ہیں، یہ بات بھی کہی گئی کہ اس مسئلہ کاحل بس یہ ہے کہ دوریاستیں قائم کردی جائیں، ایک اسرائیلیوں کے لئے اوردوسری فلسطینیوں کے لئے، جس کواسرائیلی اورفلسطینی دونوں نے رد کردیا، پھراسرائیلی اورفلسطینی دونوں کی طرف سے اپنے اپنے تحفظ کے لئے مزاحمتی جماعتیں قائم ہونے لگیں، جن کے درمیان ٹکراؤبھی کافی خوفناک ہوتا تھا، ان سب چیزوں سے برطانیہ کافی پریشان تھا ؛ چنانچہ جیسے ہی تیس سالہ معاہدہ اس کاختم ہوا، اس نے وہاں سے اپنے جانے کافیصلہ کیا؛ لیکن خاموشی کے ساتھ چلے نہیں گئے؛ بل کہ فلسطین کے امن کوغارت کرنے کے لئے 14؍مئی1948ء کورات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے وجود کااعلان کردیا، اس کوقبول بھی کرلیا، امریکہ نے بھی قبول کیا اوران کے جوحلیف ممالک تھے، ان میں بہتوں نے اس کوقبول کرلیا، پھریہ قراداداقوام متحدہ میں پیش کیاگیااوروہاں بھی اسے تسلیم کرلیاگیا؛ لیکن عربوں کویہ تسلیم نہیں تھا۔

(جاری ۔۔۔۔۔۔)

Wednesday, 14 April 2021

رمضان المبارک میں کرنے کے کام!

 

رمضان المبارک میں کرنے کے کام!

    گیارہ مہینوں کے طویل انتظارکے بعد ایک مقدس مہینہ ہمارے سروں پرسایہ فگن ہونے جارہاہے، جس کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سرکش شیاطین وجنات پابند سلاسل کردئے جاتے ہیں ؛ تاکہ انسان بغیرکسی بہکاوئے کے پورامہینہ اللہ تعالیٰ سے لولگاسکے، اپنے مالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہوسکے اوراپنے اللہ سے اس رشتہ کواستوار کرسکے، جس کوگیارہ مہینہ تک غفلت کی نذرکرکے رکھ چھوڑاتھا۔

اللہ تعالیٰ سے رشتہ کواستوارکرنے اورمالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہونے کے لیے رمضان المبارک کے مہینہ میں درج ذیل امورکاخاص اہتمام کرناچاہیے:

1-  روزے کااہتمام:

    روزہ غیرمعذوراورغیرمسافرمکلف شخص پرفرض ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ’’(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اوّل اوّل) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔ تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کر) ان کا شمار پورا کر لے، اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو۔ ‘‘(البقرۃ:۱۸۵)

جولوگ اس مہینہ میں روزہ رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہوتے ہیں اورانعام واکرام سے نوازتے ہیں، روزہ دارکاسب سے بڑااکرام یہ ہے کہ اس کابدلہ اوراجرخوداللہ تعالیٰ دیتاہے، ارشاد نبوی ہے:یقول اللہ عزوجل:الصوم لی وأنا اجزی بہ۔ (صحیح البخاری،حدیث نمبر:۷۴۹۲)’’روزہ میرے لیے ہے اورمیں خوداس کابدلہ دوں گا‘‘، اس کے علاوہ ایک بڑاانعام یہ بھی کہ بندہ کے پچھلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے: ’’جس نے ایمان اوراحتساب کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۸)۔

2-  نمازوں کی پابندی :

    نماز ہرمکلف پرفرض ہے، قرآن مجید میں دسیوں جگہ اس کی فرضیت کوواضح طورپربتلایاگیاہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ’’اورنمازقائم کرواور زکات اداکرو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘(البقرۃ: ۴۳)، ایک دوسری جگہ نمازوں کی پابندی کرنے کاحکم دیتے ہوئہ فرمایاگیاہے:’’نمازوں کی پابندی کرو، بالخصوص عصرکی نماز کی‘‘(البقرۃ:۲۳۸)،پھرجولوگ نمازقائم کرتے ہیں، وہ اجروثواب کے مستحق قرارپاتے ہیں، ارشاد ہے:’’بلاشبہ جنھوں نے ایمان لایااورنیک اعمال کئے، نمازوں کوقائم کیااورزکات اداکی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجرہے اوران پرنہ توخوف ہوگا اورناہی وہ غم گین ہوں گے‘‘ (البقرۃ:۲۷۷)۔

نمازکی یہ فرضیت سال کے بارہ مہینے ہے؛ لیکن رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں اس کے لیے خصوصی اہتمام ہوناچاہیے کہ اس مہینے کی عبادت ثواب کے لحاظ سے دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں کئی گنابڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

3-  زکوۃکی ادائے گی:

    نماز کی زکات بھی فرض ہے؛ البتہ اس کے لیے شریعت نے ایک نصاب متعین کررکھاہے؛ چنانچہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی() یااس کے برابرمال ہواوراس پرسال گزرجائے توایسے شخص پرزکات فرض ہے، اسے چاہیے کہ وہ مال کاحساب لگاکرمجموعہ کاڈھائی فیصد غریبوں میں تقسیم کرے، رمضان المبارک اس کی ادائے گی کاثواب بڑھاہواہے؛ اس لیے اس مہینہ میں اس کی ادائے گی کازیادہ اہتمام کرناچاہیے۔

جوشخص زکات فرض ہونے کے باوجودزکات ادانہیں کرتا، قیامت کے دن اسے سخت عذاب دیاجائے گا، اللہ تعالیٰ ارشاد ہے:’’ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کرتے اُن کو اس دن کے دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ٭ جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیاجائے گا پھر اُس سے ان (بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے ـ(اب) اس کامزہ چکھو ‘‘ (التوبۃ:۳۴-۳۵)۔

4-  تلاوت قرآن:

    قرآن کریم کے ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں، اللہ کے رسول ﷺ ارشاد ہے: ’’جس نے کتاب اللہ کاایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اورایک نیکی کابدلہ دس گناملتاہے، میں نہیں کہتاکہ آلم ایک حرف ہے؛ بل کہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اورمیم ایک حرف ہے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۹۱۰)،یعنی اگرکوئی صرف آلم پڑھ لیتاہے تووہ تیس نیکیوں کامستحق ہوجاتاہے۔

قرآن کریم نزول رمضان المبارک میں ہواہے(البقرۃ:۱۸۵)،پھررمضان میں کئے ہوئے نیک کام کااجردوسرے دنوں کے مقابلہ میں کئی گنازیادہ ہوتاہے؛ اس لیے رمضان کامہینہ اس بات کاحق دارہے کہ اس میں خوب خوب تلاوت کی جائے، خود اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپﷺ اس مہینہ میں قرآن کودہراتے تھے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ’’حضرت جبرئیل ؑ رمضان المبارک کی ہررات میں حضروﷺ سے ملتے اورقرآن کادورکرتے‘‘(بخاری، حدیث نمبر: ۶)۔

5-  صدقات وخیرات :

    صدقات وخیرات کاعام حکم دیاگیاہے، یہ اللہ تعالیٰ کی ناراض گی کودورکرتے ہیں اوربری موت سے بچاتے ہیں (جامع الأصول، حدیث نمبر: ۷۲۵۵)؛ چوں کہ رمضان میں ہرنیکی کاثواب زیادہ ہوتاہے؛ اس لیے رمضان میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرناچاہیے، خود اللہ کے رسول ﷺ دوسرے دنوں کے مقابلہ میں رمضان میں زیادہ سخاوت کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:’’رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اورخاص طورپررمضان میں جب جبرئیل ؑآپﷺ سے ملتے توآپﷺ کی اورزیادہ سخی ہوتے تھے‘‘(بخاری، حدیث نمبر:۶)۔

6-  ذکرواذکار:

    ذکرسے دل کواطمینان حاصل ہوتا ہے(الرعد: ۲۸)، گیارہ مہینے فکرمعاش میں جوبے اطمینانی رہتی ہے، وہ ڈھکی چھپی بات نہیں، رمضان المبارک کا مہینہ دل کواطمینان دینے کامہینہ ہے؛ اس لیے ادھرادھرکی باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ذکرواذکارمیں مشغول رہناچاہیے، اس سے دل کواطمینان توحاصل ہوگا ہی، ثواب بھی خوب خوب ملے گا، ویسے بھی لایعنی باتوں میں مشغول ہونے سے روکاگیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے: ’’آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے لایعنی باتوں کا ترک دیناہے‘‘(سنن الترمذی:۲۳۱۸)۔

7-  نوافل کی کثرت:

    نوافل فرائض میں کمی کوتاہی کی تلافی کرتے ہیں، عام دنوں میں بھی اس کااہتمام کرناچاہیے، رمضان المبارک میں اس کاخاص اہتمام اس لیے کرنا چاہیے کہ اس میں نوافل کاثواب عام دنوں کے فرائض کے برابرہوتاہے(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر: ۱۸۸۷)۔

پھرنوافل میں تمام نمازوں سے پہلے اوربعدکی سنتوں کے ساتھ ساتھ تہجدبھی شامل ہے، گیارہ مہینہ اس سے غفلت رہتی ہے؛ لیکن رمضان میں اللہ تبارک وتعالیٰ ایک اچھاموقع ہمیں عطاکرتاہے، ہم سحری کے لیے اٹھتے ہی ہیں، دس منٹ پہلے اٹھ جائیں اورجتنامیسرہو، تہجد پڑھ یں اوراللہ تعالیٰ کے سامنے بخشش چاہیں ؛ اس لیے کہ وقت ایساہوتاہے، جس میں اللہ رب العالمین آسمان ِدنیاپرنزول اجلال فرماتاہے اورکہتاہے کہ’’کون مجھ سے دعاکرتاہے کہ میں اس کی دعاقبول کروں ؟کون مجھ سے مانگتاہے کہ میں اسے نوازوں ؟ کون مجھ سے مغفرت چاہتاہے کہ میں اسے بخش دوں ؟‘‘(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۳۱۷)۔

8-   اعتکاف :

    رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں اعتکاف کرناچاہیے، یہ سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگرمحلہ کی مسجدمیں کوئی بھی شخص اعتکاف نہ کرے توسارے محلہ والے گناہ گار ہوں گے، حضورﷺ اعتکاف کاخاص اہتمام فرماتے تھے اورآپﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی تھیں ؛ اس لیے ہمیں بھی اس کاخاص اہتمام کرناچاہیے۔

9-  شب قدرکی تلاش:

    رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں ایک رات ایسی آتی ہے، جوہزارمہینوں سے بہتررات ہوتی ہے(القدر:۳)، اگرکوئی اس رات میں عبادت کرلے توہزارمہینے عبادت کرنے کاثواب ملے گا، اس رات کوتلاش کرناچاہیے اوراس میں عبادت کرنی چاہیے، اللہ کے رسولﷺ اس رات کوتلاش کرتے تھے اورصحابہ کوبھی اسے تلاش کرنے کاحکم فرماتے تھے۔

 10-  دینی کتب کامطالعہ:

    مذکورامورسے اگروقت فارغ بچے تودینی کتب کامطالعہ کرناچاہیے، تفسیر، سیرت اورفقہ اسلامی پرخاص توجہ دینی چاہیے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کوعمل کی توفیق عطافرمائے، آمین یارب العالمین!!!



Saturday, 3 April 2021

ولی رحمانی: تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جوحزیں نہیں ہے؟

 ولی رحمانی: تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جوحزیں نہیں ہے؟

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

یہ دنیاایک سرائے ہے، جہاں لوگ آتے ہیں، ٹھہرتے ہیں اورچلے جاتے ہیں اوربحیثیت مسلمان ہمیں حکم بھی یہی دیاگیاہے کہ ہم اس کوسرائے ہی سمجھیں، دارقرار نہ سمجھیں، نبی کافرمان ہے: ’’دنیامیں اس طرح رہو، جیسے پردیسی یاراہ گزر‘‘، یہی قانونِ الٰہی بھی ہے کہ انسان کی پیدائش ہوتی ہے، وہ جوان ہوتاہے، اس پر بڑھاپا چھاتاہے، پھرموت آجاتی ہے اورجب تک دنیاقائم ہے، یہ سلسلہ چلتاہی رہے گا، یہ ایک اٹل حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ کا محکم فیصلہ ہے، ’’ہرشخص کوموت کامزہ چکھناہے‘‘۔

 موت سے کس کورست گاری ہے

آج اس کی کل ہماری باری ہے

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی موت آتی ہے تواپنے پیچھے بہت سوں کوسوگوارکرجاتی ہے، خواہ وہ آدمی ہم انسانوں کی نگاہ میں مجنون ہو، کسی کام کانہ ہو؛ بل کہ اس کی زندگی میں لوگ اس کے مرنے کی دعائیں کرتے ہوں؛ تاکہ وہ مجنون، جوزندگی جی رہاہے، جسے دیکھ کرہرصاحب دل کی آنکھ بھرآتی ہے، اس زندگی سے اسے چھٹکارہ مل جائے، ایسے مجنون کی موت پربھی آنسوبہانے والے ملتے ہیں اوراس کی موت پربھی کچھ لوگ سوگوار ہوتے ہیں، اورکسی کی موت پررونااورآنکھوں سے آنسوجاری ہوناکوئی معیوب بات بھی نہیں، یہ توفطری بات ہے، محبت اورتعلق کی بات ہے، نبی کی آنکھ سے بھی آنسورواں ہوئے ہیں۔

لیکن زیادہ درد، غم، افسوس، رنج اورقلق اس وقت ہوتاہے، جب کسی گھرکاکوئی ایسافرداٹھ جائے، جوعاقل ہو، فہیم ہو، ذہین ہو، فطین ہو، پوراگھرجس کے بھروسہ پرہو، جوگھرکاسہاراہو، جس کے بغیرگھرکے افراد یتیم کی مانند ہوں، اگرایسے فردکی موت واقع ہوجائے تویہ واقعی افسوس کی بات ہے؛ لیکن سوچئے کہ اگرایسی شخصیت کا انتقال ہوجائے، جس پرگھرنہیں، محلہ نہیں، ضلع نہیں؛ بل کہ امت کی ذمہ داری ہو، جوقوم کے لئے اس تناوردرخت کی مانند ہو، جس سے لوگ سایہ بھی حاصل کرتے ہوں اورپھل بھی، جواس چٹان کی طرح ہو، جس کے سامنے سیلاب ِبلاخیز دم توڑدے، اگرایسی شخصیت کی وفات ہوجائے، توغم کاکوئی اندازہ کرسکتاہے بھلا؟ 

امیرشریعت، مفکراسلام حضرت مولاناسیدولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیثیت بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک تناوردرخت اورچٹان کی ہی تھی، ان کے جانے سے آج پوری امت یتیم ہوگئی ہے، قوم کی بنیادڈھہہ گئی ہے اوران پرعربی شاعر کایہ شعرصادق آرہاہے:

وماکان قیس ہلکہ ہلک واحد

ولکنہ بنیان قوم تہدما

حضرت مولانابھارتی مسلمانوں کے ایک مضبوط آواز تھے، ان کی بے باکی اورجراء ت مشہورتھی، وہ حق کے بولنے میں کسی ملامت گرکی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے، بہت سارے ایسے مواقع آئے، جب انھوں نے امت کے ہچکولے کھاتے ناؤ کوساحل تک پہنچایا، طلاق ثلاثہ بل پرپرزورآواز بلندکی، بابری مسجد کے فیصلہ پر بھی وہ خاموش نہیں رہے، حالیہ حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے کئی مواقع ایسے آئے، جہاں امت انتشار ذہنی میں مبتلاہوکر مایوسی کی شکار ہوئی، ایسے موقع پرمولاناکے بیانات نے امیدکی کرن جگائی ۔

مولاناکی پیدائش 1943ء کی ہے،انھوں نے ریمانیہ اردواسکول خانقاہ رحمانی، جامعہ رحمانی مونگیر، دارالعلوم ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند اورتلکامانجھی یونیورسٹی بھاگلپور سے تعلیم حاصل کی، تعلیم سے فراغت کے بعد سے مولاناقومی مسائل کے ساتھ جڑگئے، چوں کہ آپ ایک قابل تقلید ملی رہنمامولانا منت اللہ رحمانیؒ کے فرزندتھے، مولاناکے ساتھ بھی سفروحضرمیں رہے؛ اس لئے فطری طورپر انھیں بھی ملت کے مسائل سے دلچسپی پیداہوئی اورتادم آخریں وہ ملی قائد ورہنمابن کرہی رہے۔

حضرت مولانا1974ء سے لے کر1996ء تک بہارقانون ساز کونسل کے رکن رہے؛ اس لئے قانونی باریکیوں سے خوب واقف تھے اورحکومت کی قانون سازی کے مواقع سے امت کوقانون کی باریکیوں سے واقف کرتے رہتے، آپ ایک ماہرتعلیم بھی تھے اوردینی وعصری تعلیم کے بڑے حامی تھے، ایک طرف وہ خود جامعہ رحمانی مونگیرکے سرپرست تھے تودوسری طرف انھوں نے رحمانی 30کی بنیادرکھی، جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم اورقومی مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے طلبہ کوتیار کیا جاتا ہے، جہاں سے ہرسال تقریباً NEETاورJEEمیں100سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں، رحمانی 30کاقیام ان کی سوچ کوواضح کرتاہے کہ وہ قوم کوکس طرح کی تعلیم سے آراستہ کرناچاہتے تھے؟

اس وقت ملک کے جوحالات ہیں اورخصوصیت کے ساتھ برسراقتدارپارٹی جس طرح مسلمانوں کونشانہ بنارہی ہے، جوبھی وہ فیصلہ کرتی ہے، مسلمانوں کو سامنے رکھ کرتی ہے، بھارت میں آج جس طرح کے حالات برسراقتدارپاٹی نے پیداکردئے ہیں اورجس طرح مذہبی عصبیت کی کھیتی اگانے کام اس نے کیا ہے، ایسے ماحول میں مسلمان خوف وہراس کی زندگی گزاررہے ہیں، اس خوف اورہراس کی زندگی سے قوم کوباہرنکالنے والی شخصیات میں مولاناایک بڑی شخصیت تھے، ایسے قحط الرجال کے زمانہ میں ان کااٹھ جاناخاندان کے لئے ہی نہیں؛ بل کہ پوری قوم کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے، ایساخسارہ ، جس کی بھرپائی شاید ہوسکے۔

اس وقت بھارتی مسلمانوں کوان کی سخت ضرورت تھی؛ لیکن قضا وقدر کے فیصلہ پرسرتسلیم خم کرنے کے سواچارہ بھی نہیں، تقدیرنے انھیں اپنے پاس بلایالیا، وہ چلے گئے؛ لیکن اپنے پیچھے ایسے نقوش ثبت کرگئے، جن کی وجہ سے وہ تاریخ میں یادرکھے جائیں گے، آج ہراس شخص کی آنکھ اشک بارہے، جس نے ان کی وفات کی خبرسنی، اورکیوں ایسانہ ہو؟ وہ سب کے تھے، امت کے تھے، قوم کے تھے، قوم کے لئے جیتے تھے اورقوم کے لئے مرتے تھے، وہ سچ مچ قومی قائد اورملی رہنماتھے، وہ ہند میں سرمایہ ملت کے نگہبان تھے، ان کی وفات واقعتا بہت بڑا خسارہ ہے، بس یوں سمجھئے کہ آج پھرسے بھارتی مسلمانوں کے آزاد کی وفات ہوگئی ہے اوران وفات پرآغاشورش کاشمیری کاوہ مرثیہ صادق آتاہے، جوانھوں نے مولاناآزاد کی وفات کہاتھا:

عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے

زمیں کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

اگرچہ حالات کا سفینہ اسیر گرداب ہو چکا ہے

اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے

اگرچہ قدرت کا ایک شاہکار آخری نیند سو چکا ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے تک یقیں نہیں ہے

کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے

قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں کا زور بیاں گیا ہے

اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا کارواں گیا ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکشتہ دل، خستہ گام پہنچے

جھکاکے اپنے دلوں کے پرچم، خواص پہنچے، عوام پہنچے

تری لحدپہ خدا کی رحمت ، تری لحد کو سلام پہنچے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

jamiljh04@gmail.com / 8292017888


Wednesday, 31 March 2021

اپریل فول: جھوٹ کاعالمی دن (تاریخی وشرعی جائزہ)

اپریل فول:  جھوٹ کاعالمی دن

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


ٹرن…ٹرن…ٹرن کی آواز سن کرراکیش نے ریسیور کان سے لگایا، اپنے دوست راجوکی آواز سن خوش ہوگیا، خوشی کوسمیٹنے کی کوشش ہی کررہاتھا کہ ریسیوراس کے ہاتھ سے جھوٹ گرااوروہ بھاگابھاگااوپرکے کمرے میں بند ہوگیا، روتارہاروتارہا، بالآخرپنکھے سے جھولنے میں ہی عافیت سمجھی، راجوکوجب اس کی خبرہوئی توسرپکڑکربیٹھ گیا، اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، وہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اپریل فول کی مناسبت سے دی گئی فیل ہونے کی ایک جھوٹی خبراس کے پیارے دوست کی جان تک لے سکتی ہے۔

راحیل اپنے دوستوں کے ساتھ خوشگپیوں میں مشغول تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ ہوئی، پڑوس کی آنٹی کی بیٹی تھی، چھوٹتے ہی کہا: جلدی سے آؤ، تمہاری ممی کی طبیعت بہت خراب ہے، راحیل دوستوں کویہ خبردیتے ہوئے جھٹ سے اٹھا؛ لیکن دوستوں نے آگاہ کیاکہ آج فرسٹ اپریل ہے، راحیل جھٹکے کے ساتھ بیٹھ گیا اورخوش گپیوں میں مشغول ہوگیا، اِدھرماں زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے ہارگئی، جب راحیل گھرپہنچا توپیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی، گھرمیں کہرام بپاتھا۔

یہ اوراس طرح کے دسیوں واقعات اپریل کی پہلی تاریخ کورونماہوتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجودلوگ اس دن فخرکے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، عجب نہیں کہ کچھ آج کے دن جھوٹ بولنے کوعبادت بھی سمجھتے ہوں، بدقسمتی سے یہ برائی ہمارے مسلم معاشرہ کے روشن خیال گھرانوں میں بھی گھس چکی ہے اوروہ بھی اس دن جھوٹ بول کردوسرے کا مذاق بنانے کی کوشش کرتے ہیں اورخوشی سے نہال ہوجاتے ہیں؛ حالاں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے لوگوں کی جانیں تک چلی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عالمی پیمانہ پراس ایک دن کوجھوٹ بولنے کے لئے کیوں خاص کرلیاگیاہے؟ ظاہرہے کہ یہ چیز مغرب سے آئی ہے؛ اس لئے ہمیں اس دن کی حقیقت سے ضرورواقف ہوناچاہئے، آیئے اس پرایک نظرڈالتے چلیں، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:

بعض مصنفین کاکہناہے کہ فرانس میں سترہویںصدی سے پہلے سال کاآغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کورومی لوگ اپنی دیوی وینس(Venus)کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھاکرتے تھے، وینس کا ترجمہ یونانی زبان میںAphroditeکیاجاتاتھا اورشایداسی یونانی نام سے مشتق کرکے مہینے کانام اپریل رکھ دیا گیا(برٹانیکاپندرہواںایڈیشن: ۸؍۲۹۲)۔

لہٰذا بعض مصنفین کاکہنایہ ہے کہ چوں کہ یکم اپریل سال کی پہلی تاریخ ہوتی تھی اوراس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا؛ اس لئے اس دن لوگ جشن ِمسرت منایاکرتے تھے اوراسی جشن مسرت کاایک حصہ ہنسی مذاق بھی تھا، جورفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیارکرگیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جشن مسرت کے دن لوگ ایک دوسرے کوتحفے دیاکرتے تھے، ایک مرتبہ کسی کے ساتھ تحفہ کے نام پرمذاق کیاگیا، جوبالآخردوسرے لوگوں میں بھی رواج پکڑگیا۔

برٹانیکامیں اس کی ایک اوروجہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۱؍مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آناشروع ہوجاتی ہیں، ان تبدیلیوں کوبعض لوگوں نے اس طرح تعبیرکیا کہ (نعوذباللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے، لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانہ میں ایک دوسرے کوبے وقوف بناناشروع کردیا(برٹانیکا:۱؍۴۹۶)۔

ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا’’لاروس‘‘ نے بیان کی ہے اوراسی کوصحیح قراردیاہے، وہ یہ ہے کہ دراصل یہودیوں اورعیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے، جس میں رومیوں اوریہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوتمسخراوراستہزاء کانشانہ بنایا گیا، موجودہ نام نہادانجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، لوقاکی انجیل کے الفاظ یہ ہیں: ’’اورجوآدمی اسے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)گرفتارکئے ہوئے تھے، اس کوٹھٹھے میں اڑاتے اورمارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس کے منھ پرطمانچے مارتے تھے اوراس سے یہ کہہ کرپوچھتے تھے کہ نبوت (الہام) سے بتاکہ کس نے تجھ کومارا؟ اورطعنے مارمارکربہت سی باتیں خلاف کہیں(لوقا:۲۲؍ ۶۳-۶۵)۔

انجیلوں میں یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کویہودی سرداروں اورفقیہوں کی عدالت عالیہ میں پیش کیاگیا، پھروہ انھیں پیلاطس کی عدالت میں لے گئے کہ ان کافیصلہ وہاں ہوگا، پھرپیلاطس نے انھیں ہیروڈیس کی عدالت میں بھیج دیا اوربالآخرہیروڈیس نے دوبارہ فیصلے کے لئے ان کوپیلاطس ہی کی عدالت میں بھیجا، لاروس کاکہناہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کوایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنااورانھیں تکلیف پہنچاناتھا اورچوں کہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیاتھا؛ اس لئے اپریل فول کی یہ رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعہ کی یادگارہے(دیکھئے: ذکروفکر، ص: ۶۷-۶۸)

مولاناندیم الواجدی صاحب نے اس کی ایک اوروجہ لکھی ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’اسپین پرمسلمانوں نے آٹھ سوسال تک بڑی شان کے ساتھ حکومت کی…؛(لیکن) مسلمانوں کی باہمی چپقلش اورمسلم حکم رانوں کی عیش کوشی نے عیسائیوں کودوبارہ اقتدارمیں آنے کاموقع فراہم کیا، اسپین کی تمام ریاستیں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئیں، پہلے طلیطلہ، پھراشبیلیہ، پھرقرطبہ اورآخرمیں غرناطہ … حالات ایسے پیداہوتے چلے گئے کہ آخری مسلم حکم راں ابوعبداللہ نے الحمراء کی جابیاں کلیساکے حوالہ کردیں، کلیسانے ابوعبداللہ سے ایک معاہدہ کیاتھا، جس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ جومسلمان غرناطہ میں باقی رہ گئے ہیں، ان کی جان، مال اورعزت وآبروکی حفاظت کی جائے گی؛ لیکن اس معاہدہ پرعمل نہیں کیاگیا، اس کے برعکس مسلمانوں کوظلم وتشدد کانشانہ بنایاگیا، انہیں عیسائی مذہب اختیارکرنے پرمجبورکیاگیا، جن لوگوں نے یہ حکم ماننے سے انکارکیا، ان کوباغی قراردے کرسزائیں دی گئیں، بے شمارمسلمانوں کوزندہ جلایاگیا، کچھ لوگ جان بچاکربھاگ گئے اور پہاڑوں اورغاروں میں جاچھپے، ایسے ہی لوگوں کوعیسائیوں نے یہ پیش کش کی کہ ان کوبہ حفاظت مراکش پہنچا دیاجائے گا، مسلمان  ان کے جھانسے میں آگئے، ان کے سامنے اس کے علاوہ کوئی دوسراراستہ بھی نہیں تھا، ایک نئی زندگی پانے کی آرزومیں بچے کھچے اورلٹے پٹے مسلمان عیسائیوں کے فراہم کردہ جہازمیں سوار ہوگئے، جب یہ جہازبحیرۂ روم میں پہنچاتواسے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سمندرمیں غرق کردیاگیا، یہ الم ناک اورانسانیت سوزواقعہ یکم اپریل ۱۴۹۸ء کوپیش آیا، مغربی اقوام یہ دن اس لئے مناتی ہیں؛ تاکہ مسلمانوں کے بے وقوف بنا کرانہیں غرق آب کرنے کے یہ لمحات یادگاربنائے جاسکیں‘‘۔

یہ ہیں وہ اسباب ، جن کی بنیادپرمغربی اقوام ایک اپریل کوبطوریادگارمناتے ہیں اورلطف اندوز ہوتے ہیں؛ لیکن بدقسمتی سے ہم مسلمان(بالخصوص روشن خیال طبقہ) چوں کہ مغربی کلچرسے آئی ہوئی کسی بھی چیز کو صم بکم عمی کی طرح اپنالیتے ہیں، یکم اپریل کے اس عمل کوبھی، یہ سوچے بناکہ یہ توہماری ہی بے وقوفی کی یاد گارہے ، اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی تذلیل کرکے خودہی خوش بھی ہولیتے ہیں۔

اسلام ایک سادہ اورعملی دین ہے، اس کے اندراس جیسی چیزوں کابالکل بھی جواز نہیں، آیئے اپریل فول کاجائزہ شریعت اسلامی کی روسے لیتے ہیں؛ تاکہ ہمارے وہ مسلمان بھائی، جواس عمل میں شریک ہوتے ہیں، ٹھنڈے بیٹوں سوچیں اوراسلامی تعلیمات پرعمل پیراہوں۔

اپریل فول منانادرج ذیل اسباب کی وجہ سے منانابالکل ناجائزہے:

۱-  جھوٹ:اس کے اندرسب سے بڑی خرابی ’’جھوٹ‘‘ کی ہے، جھوٹ بولناحرام ہے، جھوٹوں پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، ارشادہے: لعنۃ اللہ علی الکاذبین،  جھوٹ کو منافقین کی نشانی قراردیاگیاہے، چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد أخلف، واذاائتمن خان۔ (بخاری، باب علامات المنافق،حدیث نمبر:۳۳)’’ منافقین کی تین نشانیاں ہیں: (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲)جب وعدہ کرے تووعدہ توڑدے(۳)اور جب امین بنایاجائے توخیانت کرے‘‘، ایک حدیث میں جھوٹ کواللہ تعالیٰ کی نظرِرحمت سے دوری اوردردناک عذاب کاسبب بتایاگیاہے، آپﷺ کا ارشادہے: ثلاثۃ لایکلمہم اللہ یوم القیامۃ، ولاینظر الیہم، ولہم عذاب ألیم: المنان، والمسبل ازارہ، والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب۔ (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۲۱۱)’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے نہ گفتگو کریں گے اورنہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے:(۱) احسان کرکے جتانے والا(۲)ٹخنے سے نیچے ازار لٹکانے والا(۳) اورجھوٹی قسم کے ذریعہ سے اپناسامان فروخت کرنے والا‘‘۔

جھوٹ بولنے کی سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی سخت ہے، چنانچہ ایک مرتبہ آپﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایاکہ رات میرے پاس دوآدمی آئے اورمجھے ارضِ مقدسہ لے گئے، میں نے وہاں دوآدمیوں کودیکھا، ایک بیٹھا ہواتھا اور دوسراہاتھ میں لوہے کی سلاخ لئے اسی کے قریب کھڑاتھا، اس سلاخ کو بیٹھے ہوئے شخص کے جبڑے میں داخل کرتا؛یہاں تک کہ وہ اس کی گُدی کے پار ہوجاتی، پھردوسرے جبڑے میں یہی عمل دہراتا، پھرجب جبڑے اپنی حالت پر لوٹ آتے تو یہی عمل کرتا، میں نے ان دونوں سے اس کے بارے میں پوچھا، توانھوں نے جواب دیا: أما الذی رأیتہ یشق شدقہ، فکذاب، یحدث بالکذبۃ، فتحمل عنہ حتیٰ بلغ الآفاق، فیصنع بہ مارأیت الیٰ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: ۱۳۸۶)’’ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جس کے جبڑے چیرے جاتے ہوئے آپﷺ نے دیکھا تووہ ایک جھوٹاشخص ہے، جھوٹ بولتا تھا، اس کی جھوٹی بات نقل کی جاتی رہی؛یہاں تک کہ افُق بھرگیا، اب قیامت تک اس کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا‘’۔

اس لئے ہمیں جھوٹ سے بچناچاہئے اورسچ کاراستہ اختیارکرناچاہئے، اللہ ہمیں توفیق عطافرمائے، آمین!

۲-  مشابہت کفارویہودنصاری: اسلام نے عمومی طورپرکفاراوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے منع فرمایا،محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جب بتایاگیاکہ یہودبھی آج کے دن روزہ رکھتے ہیں توآپﷺ نے فرمایا: صومواالتاسع والعاشر، خالفواالیہود(جامع الأصول فی أحادیث الرسول، حدیث نمبر: ۴۴۵۲) ’’نواوردس کوروزہ رکھو، یہودکی مخالفت کرو‘‘۔

مشرکین کی مخالفت کے سلسلہ میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: خالفواالمشرکین، وفروااللحی، وأحفوالشوارب(بخاری، حدیث نمبر: ۵۸۹۲)’’مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں کٹاؤ اورداڑھیاں بڑھاؤ‘‘، ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: أعفوااللحی، وجزواالشوارب، وغیرواشیبکم، ولاتشبہوا بالیہود والنصاریٰ (کنزالعمال عن ابن عمر، حدیث نمبر:۱۷۲۲۲) ’’داڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹاؤ، بوڑھاپے کو(خضاب کے ذریعہ سے) بدل ڈالو اوریہودونصاری کی مشابہت مت اختیارکرو‘‘، ایک روایت میں توآپﷺ نے یہاں تک فرمایا: من تشبہ بقوم، فہومنہم(حدیث) ’’جوشخص جس قوم مشابہت اختیارکرتاہے، (قیامت کے دن ) وہ انہیں میں شمارہوگا‘‘؛ اس لئے کفارومشرکین اوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے ہمیں پرہیزکرنی چاہئے۔

۳-  ایذارسانی:دوسرے کوتکلیف پہنچانابھی بڑاجرم ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، قیل: ومن یارسول اللہ ؟ قال: الذی لایأمن جارہ بوائقہ(بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۷۰) ’’ خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، پوچھاگیا: کون اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: جس کی تکلیف سے اس کاپڑوسی محفوظ نہ ہو‘‘، اس حدیث میں صاف طورپرکہہ دیاگیا، اگرکسی کاپڑوسی اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاہے تواس کاایمان کامل نہیں، یہ پڑوسی خواہ مسلم ہویا غیرمسلم، اگرمسلم ہے تواس کی قباحت اوربڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: من آذی مسلما، فقدآذٓنی، ومن آذانی، فقد آذی اللہ عز وجل (مجع الزوائدللہیثمی، حدیث نمبر: ۳۰۹۲) ’’ جس نے کسی مسلم کی تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اورجس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ عز وجل کوتکلیف پہنچائی‘‘، یعنی مسلمان کوتکلیف پہنچانا بالواسطہ اللہ کوتکلیف پہنچاناہے اورجواللہ کوتکلیف پہنچائے گا، ظاہر ہے کہ اس کی خیرنہیں ہوسکتی؛ اس لئے بھی مسلمانوں کواپریل فول منانے بچناچاہئے۔

۴-  بت پرستی کی حمایت:جیساکہ بتایاگیاکہ ایک اعتبارسے اس دن کی نسبت وینس نامی دیوی کی طرف کی جاتی ہے، ظاہرہے کہ یہ بت پرستانہ عقیدہ داخل ہوناہے، جو اللہ تعالیٰ کوبالکل بھی ناپسندہے، یہی وجہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لایقل أحدکم : أطعم ربک، وضیٔ ربک، واسق ربک، ولیقل: سیدی مولای(بخاری، حدیث نمبر: ۲۵۵۲) ’’کوئی شخص کسی غلام سے نہ کہے کہ تم اپنے رب(آقا) کھلاؤ، اھنے رب(آقا) کووضوکراؤ، اپنے رب(آقا) کوپلاؤ، کہناہی ہے توکہے: سیداورمولاکہے‘‘، لفظ ’’رب‘‘ سے اللہ کی ذات کاشبہ ہورہاتھا؛ اس لئے اس لفظ کے استعمال سے اللہ کے رسولﷺ نے روکا، یہاں بھی بت کے تقدس کامسئلہ ہے تواس سے توبدرجۂ اولیٰ روکاجائے گا۔

۵-  تمسخرواستہزاء:اس میں دوسرے کامذاق اڑایاجاتاہے، جس قرآن نے صراحتاً منع کیاہے، ارشادہے: یاأیہاالذین آمنوالایسخرقوم من قوم(قرآن)’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کامذاق نہ اڑائے‘‘، اپریل فول قرانی آیت کے صریح خلاف ہے؛ اس لئے اس سے بچناہم مسلمانوں کوضروری ہے۔

۶-  نبی کی تضحیک وتوہین:جیساکہ ذکرکیاگیاکہ ایک لحاظ سے یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تضحیک کی یادگارہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، ان کی نبوت پرایمان لاناضروری ہے، نبی کی تضحیک کفرہے، لہٰذا اس اعتبارسے اگردیکھاجائے توہم اس دن کومناکرکفرکے مرتکب ہورہے ہیں، لہٰذا اس سے توبہ کرناضروری ہے۔

۷-  خودکی تضحیک وتذلیل:  اوپرذکرکیاگیاکہ ایک اعتبارسے یہ دن ۱۴۹۸ء میں بے وقوف بنائے گئے مسلمانوں کی یادگارکے طورپرمنایاجاتاہے، ظاہرہے کہ اس لحاظ سے یہ دن مناکرہم خوداپنے باپ داداکی تضحیک اورتذلیل کے مرتکب ہوتے ہیں اوراس سے زیادہ بے شرم اوربے غیرت کون ہوگا، جوخودکے آباواجدادکی تذلیل کامرتکب ہو؟ اس لئے اس دن کومنانے سے ہم مسلمانوں کومکمل طوپرپرہیزکرناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطافرمائے اوراسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل کرنے والابنائے، آمین !