Thursday, 17 June 2021

قانون مجرم کی پشت پناہی کے لئے یاسزاکے لئے؟



قانون مجرم کی پشت پناہی کے لئے یاسزاکے لئے؟

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

کتابوں میں قانون کی تعریف Law is nothing but common sense  کے الفاظ سے کی گئی ہے، جس کامطلب ہے کہ قانون عقل سلیم کے علاوہ کچھ نہیں، قانون کاتعلق ایک سے زائدافراد سے ہوتاہے؛ اس لئے ان تمام افرادکے عمومی رجحانات کوسامنے رکھتے ہوئے قانون ایسابنایاجاتاہے، جس سے کسی کوکوئی تکلیف نہ ہو اورعقل میں آسکے، اگرکسی کوتکلیف ہویاعقل میں نہ آسکے تواس کاصاف مطلب ہے کہ قانون میں جھول ہے، اس پرپھرسے غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے، اس وقت بات اس پرنہیں؛ بل کہ اس پرکرنی ہے کہ قانون ہوتاہے کیاہے اوراس کامقصد کیاہے؟ یہ دراصل اجتماعی اصولوں پرمشتمل ایک ایسانظام ہوتاہے، جوملکی سطح پرحکومت کی جانب سے سماج اورمعاشرہ کومنظم اورمربوط کرنے کے لئے نافذکیاجاتاہے، اوراس کے لئے جب جتنی ضرورت پڑے ، طاقت کوبھی بروئے کارلایاجاتاہے۔
قانون کی حقیقت اوراس کامقصد تو یہ ہے؛ لیکن آج کے دور میں حکومتیں چوں کہ عموماًغیرمنصف ہوتی ہیں، اپنے خلاف سننا پسندنہیں کرتیں؛ بل کہ حق بات ہی کوسننے سے وہ انکار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ قانون بھی ایسے بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جویاتوعقل سلیم کے خلاف ہوتے ہیں یاپھرجن کی وجہ سے بہت سارے افراد کوتکلیف ہوتی ہے، کچھ ہی ایام قبل کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں Live in relationship کے جواز پرقانونی مہرلگایاگیا، امریکہ ، فرانس، برطانیہ ، چین وغیرہ جیسے ممالک میں، جن کادعوی ہے کہ وہ امن کے علم بردارہیں، سیکولرذہنیت کے حامل ہیں، وہاں مختلف اوقات میں متعدد ایسے قانون بنائے جاتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، سعودی عرب میں متعدد ایسے قانون بنائے گئے ہیں، جونہ صرف یہ کہ عقل سلیم کے خلاف ہیں؛ بل کہ شریعت بھی ان کی اجازت نہیں دیتی۔
حکومتوں کی یہ حرکتیں اپنے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے ہوتی ہیں، اگرحکومتیں منصف مزاج ہوں توپھرایسی حرکتیں ان سے سرزدنہیں ہوں گی؛ لیکن ظاہرہے کہ آج کے دور میں اس کی تلاش ایسے ہی ہے، جیسے جنگل میں سانپ کی منی تلاش کی جائے ، نتیجہ ظاہرہے کہ ملک انارکی کاشکارہوجاتاہے، قانون توہوتاہے؛ لیکن قانون کے نام پرکہیں ظلم وزیادتی کی جاتی ہے اورکہیں قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جاتی ہیں، قانون ہمیشہ ایساہوناچاہئے، جوملک میں رہنے والے کسی فرد کے لئے ناممکن العمل نہ ہو، ایساقانون بنانے کے لئے دماغ سوزی کی ضرورت پڑے گی اوراس کے ساتھ ایسے انسان کاہونابھی ضروری ہے، جومعتدل مزاج ہو،تب جاکرایساقانون بن سکتاہے،پھر جب ایسا قانون بن جائے  تواس کونافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس قانون کے دائرہ میں پھرتمام افرادکولاناچاہئے، ایسانہ ہوکہ آپ کی پارٹی والے تواس قانون کی گرفت میں نہ آئیں اوردیگرپارٹی کے لوگوں کوزبردستی اس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے، اگرایساہونے لگے توملک سلامت روی کے ساتھ ترقی کرتارہے گا، ورنہ پھرملک کاتواللہ ہی حافظ ہے۔
ہمارے ملک بھارت میں کئی ایسے قانون بنے، جس کی وجہ سے بہت سارے افرادکوسڑکوں پر اترناپڑا،مطلقہ کاتانکاح ثانی نان ونفقہ، تین طلاق،سی اے اے وغیرہ اورزرعی قوانین کے سلسلہ میں توآج بھی لوگ سڑکوں پربیٹھے ہوئے ہیں، ان احتجاجات سے یہ واضح ہے کہ یہ قوانین ایسے ہیں، جن میں صرف اورصرف حکومت نے اپنے مفادات کوسامنے رکھاہے، اگرلوگوں کے مفادات کوسامنے رکھاجاتا تو پھرلوگوں کے لحاظ سے ایسے قوانین بنائے جاتے، جس کی وجہ سے سڑکوں پرلوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ایک طرف یہ حال ہے ہماری حکومت کی۔
دوسری طرف قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اورحکومت ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہی ہے، محسن شیخ کی لنچنگ ہوئی دوہزارچودہ میں، پھرتوایک سلسلہ چل پڑا، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہاہے، اس کی وجہ ظاہرہے کہ براہ راست حکومت ہے اورسوال اسی سے ہوگا؛ کیوں کہ اس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس پولیس اورہوائی، بری اوربحری افواج ہے، وہ روکناچاہے تو فوراً روکاجاسکتاہے؛ لیکن افسوس! حکومت یاتوجان بوجھ کراپنے فائدہ کوسامنے رکھتے ہوئے مجرموں کوچھوٹ دے رہی ہے یاپھرحکومت جس طرح تمام شعبوں میں ناکام ہے، اسی طرح لاء اینڈ آرڈرکے شعبہ میں بھی ناکام ہے، خواہ وہ اس کااعتراف کرے یانہ کرے؛ لیکن واقعات اس ناکامی کی گواہی دے رہے ہیں۔
قانون اسی لئے ہوتاہے کہ نظام کودرست رکھاجاسکے، عدالت کے مسائل کوعدالت میں حل کیاجائے، پولیس اسٹیشن کے مسائل وہیں حل ہوں؛ لیکن بدقسمتی سے ملک کے کچھ افرادنے قانون کواپنے گھرکی لونڈی سمجھ رکھاہے، خودساختہ تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اورمختلف ناموں کااستعمال کرتے ہوئے قانون کادھجیاں اڑاتی ہیں، جس کی سب سے اہم وجہ ایسے افرادکی طرف سے حکومت کی آناکانی ہے؛ بل کہ بعض موقعوں سے یہ بھی دیکھاگیاہے کہ حکومت کے ذمہ دارلوگ ایسے افرادکی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، جواس طرح قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، حکومت کوسمجھناچاہئے کہ مجرم مجرم ہی ہوتاہے، بالکل اسی طرح، جس طرح شیرشیرہوتاہے، جب تک اسے نوالہ ملتارہے، اوراس کاپیٹ بھرارہے، اس وقت تک وہ دم ہلاتا رہتاہے؛ لیکن جب نوالہ ملنا بندہوجائے توپھروہ اسی کواپنانوالہ بنالیتاہے، جوروزاسے نوالہ دیاکرتاتھا، یہی حال مجرمین کاہوتاہے، جب تک نوالہ ملے گا، وہ ٹھیک رہیں گے اورآپ کے آگے پیچھے دم ہلائیں گے، جیسے ہی آپ کی طرف سے نوالہ بندہوا، یاآپ سے زیادہ خوارک کسی نے دیا، بس وہ آپ ہی کوٹپکا کر چھوڑیں گے۔
دنیاکی آنکھ نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہے، خود اس ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ایساہوچکاہے کہ خود اسی کے باڈی گارڈ نے اسے گولیوں سے بھون دیاہے؛ اس لئے مجرموں کی پشت پناہی کی بجائے ان کوکیفرکردارتک پہنچاناحکومت کامقصدہوناچاہئے، نہ کہ اس کی پشت پناہی، ورنہ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ عوام ایک مدت تک ظلم کوبرداشت کرتی ہے، جب پانی سرسے اونچاہوجاتاہے تو پھر تخت وتاج کووہ اچھال دیتی ہے، عرب کے کئی ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جاچکے ہیں، اس ملک کے کئی پڑوسی ممالک میں بھی ایسی صورت پیداہوچکی ہے، بعض ملکوں میں توفوجی انقلاب بھی برپاہوچکاہے، آج برماکی حالت دیکھئے، جوکل نہتی عوام پرگولی چلوارہی تھی، آج وہ خودسلاخوں کے پیچھے ہے، ہمارے ملک میں ایسی نوبت تونہیں آئی ہے اورامیدہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی؛ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مجرمین کوکھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیاجائے کہ وہ جوچاہیں کرتے بھریں؟ اس سے توپھرلاء اینڈ آرڈرکامسئلہ پیداہوگا، اس پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے۔
کل ہی ایک ویڈیودیکھنے میں آئی کہ ایک بزرگ شخص کوکچھ نوجوان مارپیٹ کررہے ہیں، پھراس کی داڑھی بھی کتردی جاتی ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ یہ حرکت کرنے  والے ویڈیوبھی بنارہے ہیں اور اسے وائرل بھی کررہے ہیں، ظاہرہے کہ مجرمین کوایسی جرأ ت کہاں سے ملی؟ یہ حکومت کی پشت پناہی سے ہی توآئی ہے؟ اس کامقصدایک توایک طبقہ کے اندرڈرپیداکرناہے اوردوسرا یہ بھی بتاناہے کہ ہم قانون کونہیں مانتے ہیں یایہ کہ قانون ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتا، یہ کھلے عام حکومت کوچیلینج کرناہے، بشرطیکہ حکومت اسے سمجھ سکے ؛ لیکن اگروہ نہ سمجھے یاسمجھ کرنظرانداز کردے توہم تویہی کہیں گے کہ ’’سمجھ سمجھ کرجونہ سمجھے، مری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے‘‘۔
اس واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے، وہ کم ہے، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نئی نسل کوکس قدربگاڑدیاگیاہے کہ وہ بزرگوں کی قدربھول گئی ہے، ایک بزرگ کے ساتھ مارپیٹ،بدتمیزی اورپھران کی داڑھی کاٹنا، یقینا یہ پود آئندہ کے لئے اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے اوراپنے ملک کے لئے نقصان دہ ہے، ان جیسے جوانوں سے ملک کوادنی فائدہ ہونے والا نہیں، ان سے صرف ملک کونقصان ہی ہوگا،اوریہ توحکومت جانتی ہے؛ بل کہ اگراس کے نظریات کامطالعہ کریں توصاف سمجھ میں آئے گاکہ وہ نسل ہی ایسی تیارکررہے ہی، جوآدراورسمان لفظ سے واقف نہ ہو، جن کے دلوں میں نفرت بھری جارہی ہے؛ لیکن ماں باپ کوتویہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس بچے کے لئے اتنے جوکھم اٹھائے، کیاوہ اسی دن کے لئے تھے کہ وہ مان سمان بھول جائے؟ اورجب باہرکے لوگوں کے ساتھ اس کامان سمان نہیں ہے تواپنے گھرمیں کہاں سے ہوسکتاہے؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی پارٹیوں اورملی تنظیموں کوبھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں، کیاان کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ان جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے کس طرح کے اقدام ضروری ہیں؟ اسے فوری طورپرعمل میں لاناچاہئے؛ تاکہ ہماری نسل بھی خراب نہ ہواوراس طرح کے واقعات بھی رونمانہ ہوں۔jamiljh04@gmail.com

Tuesday, 8 June 2021

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن


محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


بھارت کاوجودایک جمہوری ملک کے طورپر1947ء میں ہواتھااور1949ء کوتمام بھارتیوں کویہ حلف دلایاگیاتھا کہ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں اوراس کے تمام شہریوں کے لئے حاصل کریں: انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اورعبادت، مساوات بہ اعتبار حیثیت اورموقع اوران سب میں ترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اورقوم کے اتحاد اورسا  لمیت کاتیقن ہو، اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج 26؍نومبر 1949ء کویہ آئین ذریعہ ہذااختیارکرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پرنافذ کرتے ہیں‘‘۔
لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھناپڑرہاہے کہ ابھی اس عہداورحلف کے سوسال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ ہم سب خلاف ورزی پراترآئیں ہیں، کوئی کم توکوئی زیادہ؛ کیوں کہ ملک کی سا لمیت اورترقی کے لئے ہم تمام لوگوں نے عزم کیاتھا، اب ہرفردیہ سوچے کہ وہ اپنے اس عزم پرکس حدتک قائم ہے؟ آج اگرایک طبقہ ملک کے کچھ لوگوں پر زیادتی کررہاہے تودیگرلوگ کیاکررہے ہیں؟ اس زیادتی کوبرداشت کیوں کررہے ہیں؟ کیااس زیادتی کی وجہ سے ملک کی سا لمیت باقی رہے گی اورکیاملک کی ترقی ہوگی؟ ظاہرہے کہ نہیں؛ کیوں کہ اس ملک کی خصوصیت ہی گنگا جمنی تہذیب ہے تواس کی ترقی اس تہذیب کوختم کرکے کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟
لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک طبقہ زیادتی پراترتاہے توہم کھڑے تماشائی بن کرکیوں دیکھتے ہیں؟ کیاہم پرضروری نہیں ہے کہ ہم اس زیادتی کرنے والوں کے ہاتھ پکڑیں؟ کیاہم سب نے مل کریہ عزم نہیں کیاہے کہ اس ملک میں اخوت اوربھائی چارگی کوترقی دیں گے؟ توپھرہم کیوں اس زیادتی کے خلاف نہیں کھڑے ہوتے؟ ہم تماش بین کیوں بن جاتے ہیں؟ یادرکھئے! جب زیادتی کرنے والے کوڈھیل دی جاتی ہے تواس کادائرہ وسیع سے وسیع ترہوتاجاتاہے، اس کے اندرغرورآجاتاہے، تکبرآجاتاہے اوروہ خود  کے بارے میں یہ تصورکرنے لگتاہے کہ ہم سے کوئی ٹکرنہیں لے سکتا، پھروہ کمزوروں سے آگے بڑھ کر اپنے برابروالوں سے بھی پنجہ آزمائی شروع کردیتاہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ظلم کرناگناہ ہے، اسی طرح ظلم سہنابھی ایک وقت کے بعدگناہ ہے؛ کیوں کہ اگرظلم سہنے کوشیوہ بنالیاجائے توپھررفتہ رفتہ بزدلی آجاتی ہے، بنی اسرائیل کی مثال اس تعلق سے بالکل واضح ہے، ظلم سہتے سہتے وہ قوم بزدل ہوگئی تھی اورکسی طورجنگ کے لئے تیارنہیں ہوتی، اسی لئے جب انھیں ایک نافرمان قوم سے جنگ کاحکم دیاگیاتوانھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجواب دیا کہ آپ اپنے رب کے ساتھ جائیں اورجنگ کریں، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے، اس جملے میں ان کی سرکشی بھی پائی جارہی ہے؛ لیکن ساتھ میں بزدلی بھی موجودہے۔
نبوت ملنے کے بعدمکہ میں توظالموں کے ظلم کوبرداشت کرنے کاحکم دیاگیا؛ لیکن مدینہ میں ظلم سہنے کانہیں ؛ بل کہ ظلم سے مقابلہ کاحکم دیاگیا، اگرمدینہ میں بھی ظلم کوبرداشت کیاجاتارہتا توخودسوچئے کہ کیااسلام کادائرہ اتناوسیع ہوتا، جتناہوا؟ مکہ فتح ہوتا؟ اورکیامکہ کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے؟ انسانیت کاوہ درس دنیاکے سامنے آپاتا، جوآیا؟ اخوت وبھائی چارگی کاوہ نمونہ دنیادیکھتی، جواسے دیکھنے کوملی؟مظلوموں کوتسلی ملتی، جوملی؟ ظالم کاسرنیچاہوتا، جوہوا؟ظالموں کوسبق ملتا، جوملا؟ دنیاکاقانون بھی یہی ہے کہ ایک مدت کے بعدظلم کامقابلہ ضروری ہے؛ بل کہ اگراس وقت کی دنیاکامطالعہ کریں توبات سمجھ میں آئے گی کہ آج کادورظلم کے برداشت کادورنہیں ہے؛ بل کہ جس طرح حکم اس بات کادیاگیا ہے کہ کہ موذی کوایذاپہنچانے سے قبل ہی مارڈالو، اسی طرح آج کادورہے، ظالم کوظلم کرنے سے پہلے مٹادیناچاہئے، ورنہ ظالم کی طرف سے ایسی تباہی ہوتی ہے کہ بعد میں سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، ہیروشیمااورناگاساکی ظلم کی انتہاکی مثال ہے کہ آج بھی وہاں بچوں کی پیدائش صحیح سالم نہیں ہوتی، جسمانی اعتبارسے کچھ نہ کچھ نقص پایا جاتا ہے، عراق کومکمل طورپرتباہ کردیاگیا، بعدمیں ’’سوری‘‘ کہہ دیاگیا کہ غلطی ہوگئی تھی، افغانستان کوبربادکردیاگیا، اب جاکرصلح صفائی کی گئی، ابھی حال میں غزہ کوتہس نہس کردیاگیا، بعد میں جنگ بندی کی گئی، اب تعمیرنو کی بات کی جارہی ہے۔


یہ سب مثالیں ہیں، جوہمارے سامنے ہیں، ان کے علاوہ دن ورات میں کتنی مثالیں اس کی ہمیں مل جاتی ہیں خود اپنے ملک میں؛ لیکن ہم ان کی طرف توجہ نہیں دیتے، اوریہ آج سے نہیں ہورہاہے؛ بل کہ ایک مدت سے یہ سب چلتاچلاآرہاہے، بھارت کی تاریخ میں فسادات کاایک لمباسلسلہ ہے، جوتقریباتمام کے تمام کانگریس کی قیادت میں انجام دئے گئے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ہم اسی کے دم چھلے بن کررہے اورآج بھی اس کوچھوڑنے کے لئے تیارنہیں، ہم جس کی وجہ سے بیمارہوئے، اسی کے پاس دوا تلاشتے رہے، ہمیں جومارتارہا، ہم اسی سے پناہ مانگتے رہے، جو سانپ ہمیں ڈستارہا، ہم اسی کودودھ پلاتے رہے، آج اسی کانتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
اگرہم ظلم کامقابلہ کرتے رہتے توآج ہماری حالت ویسی نہیں ہوتی، جوآج اپنے ہی ملک میں ہے، ظلم سہتے سہتے اب ہم بزدل ہوچکے ہیں، ہمارے ساتھ کچھ بھی ہوجاتا ہے، ہم جوش میں تھوڑاچلاتے چیختے ہیں، پھرٹھنڈے پڑجاتے ہیں، فسادات کی اتنی تعدادویسے ہی تھوڑے وجود میں آئی ہے؟ ظلم سہنے اوربرداشت کرنے کے نتیجہ میں اتنی تعداد وجودمیں آئی ہے، پھراس کے بعد قانونی کارروائی بھی ہماری طرف سے خاطرخواہ نہیں ہوپاتی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہاشم پورہ کے لوگ انصاف کے منتظرہیں، اس ملک میں سکھ کے ساتھ بھی ایک زمانہ میں ظلم ہوا؛ لیکن اس کے بعدپھرکبھی نہیں سناگیا؛ کیوں؟ کیوں کہ انھوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، انھوں نے بتایاکہ ہم ظلم سہہ کررہنے والی قوم نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے سکھوں پرظلم کیا تھا، انھیں لوگوں نے اس قوم کواپنے سرکاتاج بنایا؛ بل کہ اس پروہ مجبورہوئے۔
دوہزارچودہ میں محسن شیخ کی لنچنگ کی گئی، اس پرہم نے خاطرخواہ ایکشن نہیں لیا، نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک لنچنگ کی ایک طویل فہرست وجودمیں آگئی، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہی ہے، جس وقت ہمارے ملک میں لنچنگ کابازارگرم تھا، ٹھیک اسی زمانہ میں ایک ویڈیووائرل ہوئی تھی، جس میں دکھایاگیا تھا کہ ایک سکھ ڈرائیورکے ساتھ کچھ لوگوں نے زیادتی کی کوشش کی تواس نے اینٹ کاجواب پتھرسے دیتے ہوئے اپنی گاڑی سے لاٹھی اورتلوارنکال لی، بس پھرکیاتھا، غنڈوں کی بھیڑ چھٹ گئی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج کی دنیامیں طاقت کامظاہرہ ضروری ہے، دنیاطاقت کے سامنے جھکتی ہے، خواہ وہ طاقت مالی ہو، جسمانی ہو، تعلیمی ہویا پھر اسلحہ جاتی ہو اورہمارا ملک تواس تعلق سے کافی آگے ہے، ہراس چیز کے سامنے جھکاجاتاہے؛ بل کہ سرجھکایاجاتاہے، جس کے اندرکسی بھی قسم کا نفع یانقصان پہنچانے کی صلاحیت ہو اوراس بات سے ہم سب واقف بھی ہیں؛ لیکن معلوم نہیں کہ اس کے باوجود آج تک ہم لوگوں کی توجہ اس طرف کیوں نہیں گئی؟
ماضی میں ہم نے کئی مواقع سے بھیڑ تواکھٹی کی ہے، چندمواقع پرفائدہ بھی ہواہے؛ لیکن اب اس بھیڑکافائدہ نہیں ہورہاہے؛ اس لئے ہمیں چال بدلنے کی ضرورت ہے، اب صرف بھیڑ جمع کرنے سے مسئلہ کاحل نہیں ہونے والا، یوں بھی بھیڑکے ذریعہ سے مسائل بہت زیادہ حل نہیں ہوتے، مسائل وقت کے حساب سے چال چلنے سے حل ہوتے ہیں، جنگ آزادی میں بکسروبنگال کی جنگوں میں بھارتیوں کوکیوں شکست ہوئی تھی؟ تعدادتوتھی؛ لیکن فریق مخالف کے لحاظ سے ہمارے پاس اسلحہ جات نہیں تھے، جنگ میں ترکوں کوجوشکست ہوئی، اس کی بھی ایک بڑی وجہ جدیداسلحہ جات کی کمی بتائی جاتی ہے، اگران کے پاس وقت کے لحاظ سے اسلحہ جات کی کھیپ تیارہوتی توشکست کاسامنا شاید نہیں کرناپڑتا؛ اس لئے ہم سب کوسرجوڑ کرسوچناچاہئے کہ ماضی کی کن کن غلطیوں کے نتیجہ میں ہماری طاقت ختم ہوگئی ہے؟ پھران غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے، اگراب بھی اس کی طرف ہماری توجہ ہوجائے توبہت جلد ہم سراٹھاکرجینے کے قابل ہوجائیں گے، ورنہ اسی طرح ہم پرزیادتی کی جاتی رہے گی، جوآج رواہے؛ کیوں کہ کہنے کوتو یہ ملک جمہوری ملک ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ :
جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن
اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888