Wednesday, 14 April 2021

رمضان المبارک میں کرنے کے کام!

 

رمضان المبارک میں کرنے کے کام!

    گیارہ مہینوں کے طویل انتظارکے بعد ایک مقدس مہینہ ہمارے سروں پرسایہ فگن ہونے جارہاہے، جس کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سرکش شیاطین وجنات پابند سلاسل کردئے جاتے ہیں ؛ تاکہ انسان بغیرکسی بہکاوئے کے پورامہینہ اللہ تعالیٰ سے لولگاسکے، اپنے مالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہوسکے اوراپنے اللہ سے اس رشتہ کواستوار کرسکے، جس کوگیارہ مہینہ تک غفلت کی نذرکرکے رکھ چھوڑاتھا۔

اللہ تعالیٰ سے رشتہ کواستوارکرنے اورمالک حقیقی کی عبادت میں مصروف ہونے کے لیے رمضان المبارک کے مہینہ میں درج ذیل امورکاخاص اہتمام کرناچاہیے:

1-  روزے کااہتمام:

    روزہ غیرمعذوراورغیرمسافرمکلف شخص پرفرض ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ’’(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اوّل اوّل) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔ تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کر) ان کا شمار پورا کر لے، اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو۔ ‘‘(البقرۃ:۱۸۵)

جولوگ اس مہینہ میں روزہ رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہوتے ہیں اورانعام واکرام سے نوازتے ہیں، روزہ دارکاسب سے بڑااکرام یہ ہے کہ اس کابدلہ اوراجرخوداللہ تعالیٰ دیتاہے، ارشاد نبوی ہے:یقول اللہ عزوجل:الصوم لی وأنا اجزی بہ۔ (صحیح البخاری،حدیث نمبر:۷۴۹۲)’’روزہ میرے لیے ہے اورمیں خوداس کابدلہ دوں گا‘‘، اس کے علاوہ ایک بڑاانعام یہ بھی کہ بندہ کے پچھلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے: ’’جس نے ایمان اوراحتساب کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۸)۔

2-  نمازوں کی پابندی :

    نماز ہرمکلف پرفرض ہے، قرآن مجید میں دسیوں جگہ اس کی فرضیت کوواضح طورپربتلایاگیاہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ’’اورنمازقائم کرواور زکات اداکرو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘(البقرۃ: ۴۳)، ایک دوسری جگہ نمازوں کی پابندی کرنے کاحکم دیتے ہوئہ فرمایاگیاہے:’’نمازوں کی پابندی کرو، بالخصوص عصرکی نماز کی‘‘(البقرۃ:۲۳۸)،پھرجولوگ نمازقائم کرتے ہیں، وہ اجروثواب کے مستحق قرارپاتے ہیں، ارشاد ہے:’’بلاشبہ جنھوں نے ایمان لایااورنیک اعمال کئے، نمازوں کوقائم کیااورزکات اداکی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجرہے اوران پرنہ توخوف ہوگا اورناہی وہ غم گین ہوں گے‘‘ (البقرۃ:۲۷۷)۔

نمازکی یہ فرضیت سال کے بارہ مہینے ہے؛ لیکن رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں اس کے لیے خصوصی اہتمام ہوناچاہیے کہ اس مہینے کی عبادت ثواب کے لحاظ سے دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں کئی گنابڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

3-  زکوۃکی ادائے گی:

    نماز کی زکات بھی فرض ہے؛ البتہ اس کے لیے شریعت نے ایک نصاب متعین کررکھاہے؛ چنانچہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی() یااس کے برابرمال ہواوراس پرسال گزرجائے توایسے شخص پرزکات فرض ہے، اسے چاہیے کہ وہ مال کاحساب لگاکرمجموعہ کاڈھائی فیصد غریبوں میں تقسیم کرے، رمضان المبارک اس کی ادائے گی کاثواب بڑھاہواہے؛ اس لیے اس مہینہ میں اس کی ادائے گی کازیادہ اہتمام کرناچاہیے۔

جوشخص زکات فرض ہونے کے باوجودزکات ادانہیں کرتا، قیامت کے دن اسے سخت عذاب دیاجائے گا، اللہ تعالیٰ ارشاد ہے:’’ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کرتے اُن کو اس دن کے دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ٭ جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیاجائے گا پھر اُس سے ان (بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے ـ(اب) اس کامزہ چکھو ‘‘ (التوبۃ:۳۴-۳۵)۔

4-  تلاوت قرآن:

    قرآن کریم کے ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں، اللہ کے رسول ﷺ ارشاد ہے: ’’جس نے کتاب اللہ کاایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اورایک نیکی کابدلہ دس گناملتاہے، میں نہیں کہتاکہ آلم ایک حرف ہے؛ بل کہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اورمیم ایک حرف ہے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۹۱۰)،یعنی اگرکوئی صرف آلم پڑھ لیتاہے تووہ تیس نیکیوں کامستحق ہوجاتاہے۔

قرآن کریم نزول رمضان المبارک میں ہواہے(البقرۃ:۱۸۵)،پھررمضان میں کئے ہوئے نیک کام کااجردوسرے دنوں کے مقابلہ میں کئی گنازیادہ ہوتاہے؛ اس لیے رمضان کامہینہ اس بات کاحق دارہے کہ اس میں خوب خوب تلاوت کی جائے، خود اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپﷺ اس مہینہ میں قرآن کودہراتے تھے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ’’حضرت جبرئیل ؑ رمضان المبارک کی ہررات میں حضروﷺ سے ملتے اورقرآن کادورکرتے‘‘(بخاری، حدیث نمبر: ۶)۔

5-  صدقات وخیرات :

    صدقات وخیرات کاعام حکم دیاگیاہے، یہ اللہ تعالیٰ کی ناراض گی کودورکرتے ہیں اوربری موت سے بچاتے ہیں (جامع الأصول، حدیث نمبر: ۷۲۵۵)؛ چوں کہ رمضان میں ہرنیکی کاثواب زیادہ ہوتاہے؛ اس لیے رمضان میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرناچاہیے، خود اللہ کے رسول ﷺ دوسرے دنوں کے مقابلہ میں رمضان میں زیادہ سخاوت کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:’’رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اورخاص طورپررمضان میں جب جبرئیل ؑآپﷺ سے ملتے توآپﷺ کی اورزیادہ سخی ہوتے تھے‘‘(بخاری، حدیث نمبر:۶)۔

6-  ذکرواذکار:

    ذکرسے دل کواطمینان حاصل ہوتا ہے(الرعد: ۲۸)، گیارہ مہینے فکرمعاش میں جوبے اطمینانی رہتی ہے، وہ ڈھکی چھپی بات نہیں، رمضان المبارک کا مہینہ دل کواطمینان دینے کامہینہ ہے؛ اس لیے ادھرادھرکی باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ذکرواذکارمیں مشغول رہناچاہیے، اس سے دل کواطمینان توحاصل ہوگا ہی، ثواب بھی خوب خوب ملے گا، ویسے بھی لایعنی باتوں میں مشغول ہونے سے روکاگیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے: ’’آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے لایعنی باتوں کا ترک دیناہے‘‘(سنن الترمذی:۲۳۱۸)۔

7-  نوافل کی کثرت:

    نوافل فرائض میں کمی کوتاہی کی تلافی کرتے ہیں، عام دنوں میں بھی اس کااہتمام کرناچاہیے، رمضان المبارک میں اس کاخاص اہتمام اس لیے کرنا چاہیے کہ اس میں نوافل کاثواب عام دنوں کے فرائض کے برابرہوتاہے(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر: ۱۸۸۷)۔

پھرنوافل میں تمام نمازوں سے پہلے اوربعدکی سنتوں کے ساتھ ساتھ تہجدبھی شامل ہے، گیارہ مہینہ اس سے غفلت رہتی ہے؛ لیکن رمضان میں اللہ تبارک وتعالیٰ ایک اچھاموقع ہمیں عطاکرتاہے، ہم سحری کے لیے اٹھتے ہی ہیں، دس منٹ پہلے اٹھ جائیں اورجتنامیسرہو، تہجد پڑھ یں اوراللہ تعالیٰ کے سامنے بخشش چاہیں ؛ اس لیے کہ وقت ایساہوتاہے، جس میں اللہ رب العالمین آسمان ِدنیاپرنزول اجلال فرماتاہے اورکہتاہے کہ’’کون مجھ سے دعاکرتاہے کہ میں اس کی دعاقبول کروں ؟کون مجھ سے مانگتاہے کہ میں اسے نوازوں ؟ کون مجھ سے مغفرت چاہتاہے کہ میں اسے بخش دوں ؟‘‘(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۳۱۷)۔

8-   اعتکاف :

    رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں اعتکاف کرناچاہیے، یہ سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگرمحلہ کی مسجدمیں کوئی بھی شخص اعتکاف نہ کرے توسارے محلہ والے گناہ گار ہوں گے، حضورﷺ اعتکاف کاخاص اہتمام فرماتے تھے اورآپﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی تھیں ؛ اس لیے ہمیں بھی اس کاخاص اہتمام کرناچاہیے۔

9-  شب قدرکی تلاش:

    رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں ایک رات ایسی آتی ہے، جوہزارمہینوں سے بہتررات ہوتی ہے(القدر:۳)، اگرکوئی اس رات میں عبادت کرلے توہزارمہینے عبادت کرنے کاثواب ملے گا، اس رات کوتلاش کرناچاہیے اوراس میں عبادت کرنی چاہیے، اللہ کے رسولﷺ اس رات کوتلاش کرتے تھے اورصحابہ کوبھی اسے تلاش کرنے کاحکم فرماتے تھے۔

 10-  دینی کتب کامطالعہ:

    مذکورامورسے اگروقت فارغ بچے تودینی کتب کامطالعہ کرناچاہیے، تفسیر، سیرت اورفقہ اسلامی پرخاص توجہ دینی چاہیے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کوعمل کی توفیق عطافرمائے، آمین یارب العالمین!!!



Saturday, 3 April 2021

ولی رحمانی: تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جوحزیں نہیں ہے؟

 ولی رحمانی: تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جوحزیں نہیں ہے؟

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

یہ دنیاایک سرائے ہے، جہاں لوگ آتے ہیں، ٹھہرتے ہیں اورچلے جاتے ہیں اوربحیثیت مسلمان ہمیں حکم بھی یہی دیاگیاہے کہ ہم اس کوسرائے ہی سمجھیں، دارقرار نہ سمجھیں، نبی کافرمان ہے: ’’دنیامیں اس طرح رہو، جیسے پردیسی یاراہ گزر‘‘، یہی قانونِ الٰہی بھی ہے کہ انسان کی پیدائش ہوتی ہے، وہ جوان ہوتاہے، اس پر بڑھاپا چھاتاہے، پھرموت آجاتی ہے اورجب تک دنیاقائم ہے، یہ سلسلہ چلتاہی رہے گا، یہ ایک اٹل حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ کا محکم فیصلہ ہے، ’’ہرشخص کوموت کامزہ چکھناہے‘‘۔

 موت سے کس کورست گاری ہے

آج اس کی کل ہماری باری ہے

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی موت آتی ہے تواپنے پیچھے بہت سوں کوسوگوارکرجاتی ہے، خواہ وہ آدمی ہم انسانوں کی نگاہ میں مجنون ہو، کسی کام کانہ ہو؛ بل کہ اس کی زندگی میں لوگ اس کے مرنے کی دعائیں کرتے ہوں؛ تاکہ وہ مجنون، جوزندگی جی رہاہے، جسے دیکھ کرہرصاحب دل کی آنکھ بھرآتی ہے، اس زندگی سے اسے چھٹکارہ مل جائے، ایسے مجنون کی موت پربھی آنسوبہانے والے ملتے ہیں اوراس کی موت پربھی کچھ لوگ سوگوار ہوتے ہیں، اورکسی کی موت پررونااورآنکھوں سے آنسوجاری ہوناکوئی معیوب بات بھی نہیں، یہ توفطری بات ہے، محبت اورتعلق کی بات ہے، نبی کی آنکھ سے بھی آنسورواں ہوئے ہیں۔

لیکن زیادہ درد، غم، افسوس، رنج اورقلق اس وقت ہوتاہے، جب کسی گھرکاکوئی ایسافرداٹھ جائے، جوعاقل ہو، فہیم ہو، ذہین ہو، فطین ہو، پوراگھرجس کے بھروسہ پرہو، جوگھرکاسہاراہو، جس کے بغیرگھرکے افراد یتیم کی مانند ہوں، اگرایسے فردکی موت واقع ہوجائے تویہ واقعی افسوس کی بات ہے؛ لیکن سوچئے کہ اگرایسی شخصیت کا انتقال ہوجائے، جس پرگھرنہیں، محلہ نہیں، ضلع نہیں؛ بل کہ امت کی ذمہ داری ہو، جوقوم کے لئے اس تناوردرخت کی مانند ہو، جس سے لوگ سایہ بھی حاصل کرتے ہوں اورپھل بھی، جواس چٹان کی طرح ہو، جس کے سامنے سیلاب ِبلاخیز دم توڑدے، اگرایسی شخصیت کی وفات ہوجائے، توغم کاکوئی اندازہ کرسکتاہے بھلا؟ 

امیرشریعت، مفکراسلام حضرت مولاناسیدولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیثیت بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک تناوردرخت اورچٹان کی ہی تھی، ان کے جانے سے آج پوری امت یتیم ہوگئی ہے، قوم کی بنیادڈھہہ گئی ہے اوران پرعربی شاعر کایہ شعرصادق آرہاہے:

وماکان قیس ہلکہ ہلک واحد

ولکنہ بنیان قوم تہدما

حضرت مولانابھارتی مسلمانوں کے ایک مضبوط آواز تھے، ان کی بے باکی اورجراء ت مشہورتھی، وہ حق کے بولنے میں کسی ملامت گرکی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے، بہت سارے ایسے مواقع آئے، جب انھوں نے امت کے ہچکولے کھاتے ناؤ کوساحل تک پہنچایا، طلاق ثلاثہ بل پرپرزورآواز بلندکی، بابری مسجد کے فیصلہ پر بھی وہ خاموش نہیں رہے، حالیہ حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے کئی مواقع ایسے آئے، جہاں امت انتشار ذہنی میں مبتلاہوکر مایوسی کی شکار ہوئی، ایسے موقع پرمولاناکے بیانات نے امیدکی کرن جگائی ۔

مولاناکی پیدائش 1943ء کی ہے،انھوں نے ریمانیہ اردواسکول خانقاہ رحمانی، جامعہ رحمانی مونگیر، دارالعلوم ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند اورتلکامانجھی یونیورسٹی بھاگلپور سے تعلیم حاصل کی، تعلیم سے فراغت کے بعد سے مولاناقومی مسائل کے ساتھ جڑگئے، چوں کہ آپ ایک قابل تقلید ملی رہنمامولانا منت اللہ رحمانیؒ کے فرزندتھے، مولاناکے ساتھ بھی سفروحضرمیں رہے؛ اس لئے فطری طورپر انھیں بھی ملت کے مسائل سے دلچسپی پیداہوئی اورتادم آخریں وہ ملی قائد ورہنمابن کرہی رہے۔

حضرت مولانا1974ء سے لے کر1996ء تک بہارقانون ساز کونسل کے رکن رہے؛ اس لئے قانونی باریکیوں سے خوب واقف تھے اورحکومت کی قانون سازی کے مواقع سے امت کوقانون کی باریکیوں سے واقف کرتے رہتے، آپ ایک ماہرتعلیم بھی تھے اوردینی وعصری تعلیم کے بڑے حامی تھے، ایک طرف وہ خود جامعہ رحمانی مونگیرکے سرپرست تھے تودوسری طرف انھوں نے رحمانی 30کی بنیادرکھی، جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم اورقومی مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے طلبہ کوتیار کیا جاتا ہے، جہاں سے ہرسال تقریباً NEETاورJEEمیں100سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں، رحمانی 30کاقیام ان کی سوچ کوواضح کرتاہے کہ وہ قوم کوکس طرح کی تعلیم سے آراستہ کرناچاہتے تھے؟

اس وقت ملک کے جوحالات ہیں اورخصوصیت کے ساتھ برسراقتدارپارٹی جس طرح مسلمانوں کونشانہ بنارہی ہے، جوبھی وہ فیصلہ کرتی ہے، مسلمانوں کو سامنے رکھ کرتی ہے، بھارت میں آج جس طرح کے حالات برسراقتدارپاٹی نے پیداکردئے ہیں اورجس طرح مذہبی عصبیت کی کھیتی اگانے کام اس نے کیا ہے، ایسے ماحول میں مسلمان خوف وہراس کی زندگی گزاررہے ہیں، اس خوف اورہراس کی زندگی سے قوم کوباہرنکالنے والی شخصیات میں مولاناایک بڑی شخصیت تھے، ایسے قحط الرجال کے زمانہ میں ان کااٹھ جاناخاندان کے لئے ہی نہیں؛ بل کہ پوری قوم کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے، ایساخسارہ ، جس کی بھرپائی شاید ہوسکے۔

اس وقت بھارتی مسلمانوں کوان کی سخت ضرورت تھی؛ لیکن قضا وقدر کے فیصلہ پرسرتسلیم خم کرنے کے سواچارہ بھی نہیں، تقدیرنے انھیں اپنے پاس بلایالیا، وہ چلے گئے؛ لیکن اپنے پیچھے ایسے نقوش ثبت کرگئے، جن کی وجہ سے وہ تاریخ میں یادرکھے جائیں گے، آج ہراس شخص کی آنکھ اشک بارہے، جس نے ان کی وفات کی خبرسنی، اورکیوں ایسانہ ہو؟ وہ سب کے تھے، امت کے تھے، قوم کے تھے، قوم کے لئے جیتے تھے اورقوم کے لئے مرتے تھے، وہ سچ مچ قومی قائد اورملی رہنماتھے، وہ ہند میں سرمایہ ملت کے نگہبان تھے، ان کی وفات واقعتا بہت بڑا خسارہ ہے، بس یوں سمجھئے کہ آج پھرسے بھارتی مسلمانوں کے آزاد کی وفات ہوگئی ہے اوران وفات پرآغاشورش کاشمیری کاوہ مرثیہ صادق آتاہے، جوانھوں نے مولاناآزاد کی وفات کہاتھا:

عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے

زمیں کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

اگرچہ حالات کا سفینہ اسیر گرداب ہو چکا ہے

اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے

اگرچہ قدرت کا ایک شاہکار آخری نیند سو چکا ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے تک یقیں نہیں ہے

کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے

قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں کا زور بیاں گیا ہے

اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا کارواں گیا ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکشتہ دل، خستہ گام پہنچے

جھکاکے اپنے دلوں کے پرچم، خواص پہنچے، عوام پہنچے

تری لحدپہ خدا کی رحمت ، تری لحد کو سلام پہنچے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

jamiljh04@gmail.com / 8292017888