Sunday, 31 January 2021

آنسو ---- فوائد ومسائل

 آنسو  ----  فوائد ومسائل

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


انسانی جسم سے خارج ہونے والے اجزاء ، اس کی راحت اورنقصان دہ اثرات سے سلامتی کاذریعہ ہوتے ہیں، اگریہ اجزاء جسم انسانی سے باہر نہ آئیں توجسم کئی قسم کی بیماریوں کاشکارہوجاتاہے، پھران میں سے بعض اجزاء توبہت سارے فوائدکے بھی حامل ہوتے ہیں، جس کاصاف مطلب یہ ہوتاہے کہ اگران اجزاء کااخراج نہ ہوتوہم جہاں ان فوائد سے محروم رہیں گے، وہیں ہماراجسم ان کے نقصان دہ اثرات سے غیرمحفوظ رہے گا، جس کانتیجہ کئی قسم کی بیماریوں کے لپیٹ میں آناہے،انھیں اجزاء میں سے ایک آنسوبھی ہے۔

آنسوکوعربی میں’’دمع‘‘ کہتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے،اللہ کے رسول ﷺ نے بھی اسے رحمت قراردیاہے؛ چنانچہ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے، آں حضرت ﷺ کوآپ کی صاحبزادی (حضرت زینبؓ)نے یہ پیغام بھیجاکہ میرے ایک بچہ کاانتقال ہورہاہے، لہٰذا آپ تشریف لائیں، حضوراکرم ﷺ نے انھیں سلام بھجوایااوریہ دعاپڑھی:

إن للہ ماأخذ، ولہ ماأعطی، وکلٌّ عندہ بأجل مسمی۔

بیشک اللہ ہی کاہے، جواس نے لیااوراسی کاہے، جواس نے دیا، اس کے پاس ہرچیزکاایک متعین وقت ہے۔

اور صبرکرنے اورثواب کی امیدرکھنے کاحکم دیا، آپ ﷺکی صاحبزادی نے دوبارہ قسم دے کرکہلا بھیجا کہ ضرورتشریف لائیں، نبی کریمﷺ سعد بن عبادہ، معاذبن جبل، ابی بن کعب اورزیدبن ثابت وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے ہمراہ تشریف لائے، اس وقت بچہ کی سانس اکھڑ اکھڑ کر چل رہی تھی، (یہ دیکھ کر)آپﷺ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے،سعدبن عبادہ نے سوال کیا: یہ کیاہے؟(آپ تومیت پررونے سے منع کرتے ہیں اور خود کی آنکھوں سے آنسورواں ہیں) اس پرآپﷺ نے فرمایا: 

ہذہ رحمۃجعلہااللہ فی قلوب عبادہ، وإنمایرحم اللہ من عبادہ الرحماء۔(بخاری، باب قول النبیﷺ: یعذب المیت ببکاء أہلہ علیہ،حدیث نمبر: ۱۲۸۴)

یہ توایک رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے قلوب میں رکھاہے اوراللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پررحم کرتاہے۔

قرآن میں آنسوکاذکر

قرآن واحادیث بھی اس کے ذکرسے خالی نہیں ہیں؛ چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْن۔(المائدۃ: ۸۳)

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (اللہ کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے رب! ہم ایمان لے آئے تو ہمیں ماننے والوں میں لکھ لے ۔

نیز ایک دوسری آیت میںہے: 

وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْْہِ تَوَلَّواْ وَّأَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً أَلاَّ یَجِدُواْ مَا یُنفِقُون۔(التوبۃ: ۹۲)

 اور نہ ان (بے سرو سامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ اُن کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔

احادیث میں آنسو

بہ کثرت احادیث میں آنکھ سے آنسونکلنے کاذکرموجودہے، یہاں دوچارکے ذکرپراکتفاکیاجاتاہے۔

۱-  غزوۂ موتہ کے موقع سے میدان کارزارکی حالت بتاتے ہوئے اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

أخذالرایۃ زید، فأصیب ،ثم أخذہا جعفر، فأصیب، ثم أخذہاعبداللہ بن رواحۃ، فأصیب- وإن عینی رسول اللہ ﷺ لتذرفان- ثم أخذہا خالدبن الولیدمن غیرإمرۃ، ففتح لہ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۱۸۹)

زیدنے جھنڈالیا، وہ شہیدہوگئے، پھرجعفرنے جھنڈالیا، وہ(بھی) شہیدہوگئے، پھرعبداللہ بن رواحہ نے جھنڈالیا، وہ(بھی) شہیدہوگئے-(راوی حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ)آپ ﷺکی دونوں آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے- پھربغیرحکم کے حضرت خالدبن ولیدنے جھنڈے کوتھاماتواللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوںفتح عطافرمایا۔

۲-  حضرت سائب بن یزیدسے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:

أن النبی ﷺ لماہلک ابنہ طاہر، ذرفت عین النبی ﷺ، فقیل: یارسول اللہ! بکیت؟ فقال النبی ﷺ: إن العین تذرف، وإن الدمع یغلب، وإن القلب یحزن، ولانعصی اللہ عزوجل۔ (معجم الکبیرللطبرانی، حدیث نمبر: ۶۶۶۷)

جب رسول اللہ ﷺکے بیٹے طاہرکی وفات ہوئی توآں حضرت ﷺکی آنکھیں چھلک پڑیں، پوچھاگیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی روئے؟ تواللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: آنکھیں چھلک پڑیں، آنسوغالب آگئے، دل غم زدہ ہے؛ لیکن ہم اللہ عز وجل کی نافرمان نہیں ہیں۔

۳-  حضرت جابرعبداللہؓفرماتے ہیں:

دخلنامکۃ عندارتفاع الضحی، فأتی النبیﷺ باب المسجد، فأناخ راحلتہ، ثم دخل المسجد، فبدأبالحجر، فاستلمہ، وفاضت عیناہ بالبکاء، ثم رمل ثلاثاً، ومشی أربعاً؛ حتی فرغ، فلما فرغ قبل الحجر، ووضع یدیہ علیہ ومسح بہما وجہہ۔ (المستدرک للحاکم، حدیث نمبر: ۱۶۷۱)

ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے، آپﷺ مسجد کے دروازہ پرآئے اوراپنی سواری کو بٹھایا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اورحجراسودسے آغازکیا، اس کااستلام کیا، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسورواں تھے، پھرآپ نے تین مرتبہ رمل کیا، اورچارمرتبہ پیادہ پاچلے؛ یہاں تک کہ فارغ ہوئے، فراغت کے بعد حجراسودکوبوسہ دیا، اس پراپناہاتھ رکھااوراپنے چہرے پرپھیرلیا۔

بطورمثال یہاں چند حدیثیں پیش کی گئیں، ورنہ ذخیرۂ احادیث میں آنسوکے ذکرکابھی ذخیرہ موجودہے۔

فوائد

ذہنی تناؤ اوردماغی صحت کوبڑھانے کے لئے ہنسنایقیناً مؤثرکن ہے؛ لیکن جسم انسانی سے نکلنے والایہ نمکین پانی ، جسے ہم بے قدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آج کی جدیدتحقیق نے اس کے بھی اچھے خاصے فائدے ذکرکئے ہیں، حتی کہ جاپانی ماہرین نے یہ مشورہ تک دے ڈالاہے کہ ’’ہرشخص کوذہنی تناؤ کم کرنے کے لئے ہفتے میں کم ازکم پندرہ(۱۵)منٹ روناچاہئے‘‘،لہٰذا آیئے انسانی جسم سے خارج ہونے والے اس نمکین پانی کے کچھ موٹے موٹے فوائد ہم بھی جانتے چلیں:

جسم سے زہریلے مادوں کااخراج

انسانی جسم کے اندرکئی طرح کے ہارومونس(Hormones) ہوتے ہیں، یہ ہارمون کبھی مفید توکبھی مضربھی ہوتے ہیں، ان ہارمونس میں ایک کورٹیسول (Cortisol) بھی ہے، یہ ذہنی دباؤ کے شکاررہنے والے افرادکے دماغ اورجسم کے لئے نقصان کاباعث بنتاہے، رونے سے اس ہارمون میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے انسان اس کے مضراثرات سے محفوظ ہوجاتاہے۔ 

جذباتی تکالیف سے نجات

جذباتی تکلیف(Emotional Distress) بعض دفعہ جسمانی تکلیف سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، اس تکلیف کوکم کرنے کاقدرتی ذریعہ ’’رونا‘‘ہے؛ کیوں کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ رونے کی وجہ سے دماغ کے اندرموجودجذباتی تکلیف میںاضافہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نیوروٹرانسمیٹرز (Neurotransmitters) میں کمی واقع ہوتی ہے، جس کے سبب انسان کو جذباتی تکلیف سے نجات ملتی ہے۔

جراثیم کش

جسم انسانی میں کئی قسم کے خطرناک بیکٹریاز بھی موجودہیں، جن کے اخراج کے اللہ تعالیٰ نے کئی ذرائع بنائے، جس کی وجہ سے انسان کی صحت متاثر نہیں ہوتی، اگران کااخراج رک جائے توپھرجسم انسانی بیماری کاشکاربن جاتاہے، انسانی جسم کے اندرلائسوزائم(Lysosomes)نامی ایک خطرناک قسم کا بیکٹریابھی ہے، جس کے اخراج کاذریعہ ’’رونا‘‘ہے، لہٰذا روناجراثیم کش بھی ہے، جولائسوزائم نامی بیکٹریاکوانسان کے جسم سے باہرنکالتاہے اوربیماری سے بچاتاہے۔

بوجھل طبیعت سے چھٹکارا

فکرکاہجوم، کام کی کثرت اورتسلسل کے ساتھ سعی ناکام انسان کی طبیعت کے اندراضمحلال پیداکردیتاہے، جس کودورکرنے کاایک قدرتی ذریعہ آنسوبہاناہے، اگرطبیعت کی پژمردگی کے باوجودانسان اپنی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتاہے تویہ اس کے جسم کے لئے نقصان دہ ہوسکتاہے، کبھی بلڈپریشر، ذیابطیس اورامراض قلب لاحق ہونے کے خدشات پیداہوجاتے ہیں؛ لیکن آنسوان خدشات سے نجات دے کرطبیعت کے اضمحلال کودورکردیتاہے کہ یہ جسم انسانی میں موجود کولیسٹرول اورذہنی دباؤکوکم کرتاہے، جوان خدشات کے اصل اسباب میں سے ہیں۔

بینائی میں اضافہ

آنسوآنکھ کی پتلی اوردیدے کونمی فراہم کرتاہے، جس سے انسانی بینائی کوتقویت ملتی ہے، نیزآنسوروک کررکھنے سے آنکھوں میں ڈی ہائڈریشن (Dehydration) ہوجاتی ہے، جوبینائی کی کمزوری کاایک سبب ہے،اگرہفتہ میں ایک باررولیاجائے تویہ کمزوری ختم ہوجاتی ہے اوربینائی میں اضافہ ہوجاتاہے۔

نومولودبچوں کی نشوونما

طبی ماہرین کاکہناہے کہ نومولودیا پانچ سال سے کم عمرکے بچوں کے لئے روناصحت مندی کی علامت ہے، جواس کی نشوونماکے لئے نہایت ضروری ہے،نہ رونے والے بچہ کی نشوونمامتاثرہوتی ہے اوروہ جسمانی طورپرکمزورہوجاتاہے۔

قوت مدافعت میں استحکام

انسانی جسم کی صحت کامداراس کی قوت مدافعت پرہوتاہے، قوت مدافعت جتنی طاقت ورہوگی، جسم بیماریوں سے اتناہی دوررہے گا، یہی وجہ ہے کہ جوانسان حادثات پربھی نہیں روتا، وہ ذہنی طورپرمعذورہوتاہے، ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایمونیاسسٹم بنانے کے قدرتی کیمیکلزرونے کی وجہ سے اخراج کرتے ہیں، جس سے قوت مدافعت کے اندراستحکام اورمضبوطی آتی ہے۔

دلی سکون کاذریعہ

بعض دفعہ انسان غم کی شدت میںہوتاہے اوربے کیف طبیعت کے ساتھ وہ الجھن میں پڑجاتاہے، ایسے وقت میں اگرآنکھوں سے آنسو بہالیا جائے تو غم کی شدت کم ہوجاتی ہے اوریہ دلی سکون کاباعث بنتاہے۔

(https://www.urdu.arunews.tv/why-criying-is-good-for-health,https://www.humnews.pk/latest/221648/,https://ww.sunehardaur.com)

آنسوکے فوائدجان لینے کے بعدآیئے اس سے متعلق کچھ مسائل اوران کے احکام پربھی نظرڈال لیتے ہیں:

اللہ کی یاد میں آنسوبہانا

اس دنیامیں بسنے والے لوگوں میں سے کوئی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتاکہ اس کی آنکھ سے آنسو نہیں نکلتے؛ کیوں کہ یہ آنسوجہاں بات منوانے کاذریعہ ہیں، وہیں غلطیوں کی معافی کاسبب بھی ہیں۔

کچھ لوگ دنیاوی غرض کے لئے آنسوبہاتے ہیں؛ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جن کی آنکھوں سے نمکین پانی کاقطرہ اپنے رب کے ڈرکی وجہ سے نکلتاہے، یہی وجہ ہے کہ خالقِ کائنات کو اپنے بندے کی آنکھوں سے ٹپکنے والاآنسوکاقطرہ بڑاپیارالگتاہے؛ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے: 

مامن قطرۃ أحب إلی اللہ عز وجل من قطرۃ دمع من خشیۃ اللہ۔(کتاب الزہدوالرقائق لابن المبارک، باب ماجاء فی الشح، حدیث نمبر: ۶۷۲، نیز دیکھئے: شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر: ۷۹۵۵)

اللہ کے خوف سے ٹپکائے ہوئے آنسوکے قطرہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قطرہ محبوب نہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ اس آنسوکی بھی قدردانی کرتاہے، جواس کی یادمیں گرایاجائے؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ کاارشادہے:

سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ، یوم لاظل إلاظلہ …… ورجل ذکراللہ خالیاً ففاضت عیناہ۔(بخاری، باب من جلس فی المسجد ینتظرالصلاۃ ، حدیث نمبر: ۶۶۰)

سات(خوش نصیب)لوگ ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ اپناسایہ اس(قیامت کے)دن نصیب کرے گا، جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا …(ان میں سے )ایک وہ شخص ہوگا، جس نے تنہائی میں اللہ کویادکیا، جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں اشک بارہوگئیں۔

معلوم ہواکہ اللہ کے ڈرسے اوراس کی یادمیں آنسوبہاناایک ایسا مبارک عمل ہے، جس کی بھرپورقدردانی بذاتِ خود اللہ تبارک وتعالیٰ کرتاہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے رہناچاہئے، اللہ عزوجل ہمیں اس کی توفیق دے، آمین!

آنسوپاک ہے یانجس؟

آنسوجسم انسانی سے خارج ہونے والی ان اشیاء میں سے ہے، جسے پاک قراردیاگیاہے، حنلی فقیہ شمس الدین محمد بن عبداللہ زرکشی ؒلکھتے ہیں:

الخارج من الإنسان ثلاثۃ أقسام: (طاہر) بلانزاع، وہوالدمع، والعرق، والریق، والمخاط، والبصاق۔ (شرح الزرکشی، فی بحث بول الآدمی وبول الحیوان غیرمأکول: ۲؍۳۹)

انسان کے جسم سے تین قسم کی چیزیں خارج ہوتی ہیں(پہلی قسم) بغیرکسی اختلاف کے پاک ہے اوروہ آنسو، پسینہ، تھوک، رینٹ ہے۔

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

فإن کان الخارج طاہراً مثل الدمع…لاینقض الوضوء بالإجماع۔ (تحفۃ الفقہاء، باب الحدث:۱؍۱۸)

اگر(سبیلین کے علاوہ جسم کے دوسرے حصے سے)خارج ہونے والی چیزپاک ہے، جیسے: آنسو…توبالاجماع وضو شکست نہیں ہوگا۔

کیاآنسونکلنے سے وضوٹوٹتاہے؟

آنسوکاشماراُن اجزاء میں ہے، جونہ خودنجس ہے اورناہی نجاست والی جگہوں سے گزرکرنکلتاہے؛ اس لئے اس کے نکلنے سے وضونہیں ٹوٹتا، مشہور فقیہ علاء الدین سمرقندیؒ لکھتے ہیں:

فإن کان الخارج طاہراً مثل الدمع والریق والمخاط والعرق واللبن ونحوہا، لانیقض الوضوء بالإجماع۔ (تحفۃ الفقہا، باب الحدث: ۱؍۱۸)

اگر(سبیلین کے علاوہ جسم کے کسی حصہ سے )خارج ہونے والی چیزپاک ہے، جیسے: آنسو، تھوک، رینٹ، پسینہ اوردودھ وغیرہ توبالاجماع وضوشکست نہیں ہوتا۔

لیکن چوں کہ یہ خالص پانی نہیں ہے؛ اس لئے اس سے وضودرست نہیں ہوگا، حضرت عطاؒفرماتے ہیں:

لاوضوء من دمع عین ولامماسال من الأنف۔(مصنف عبدالرزاق، اثرنمبر: ۵۵۹)

نہ توآنکھ کے آنسوسے وضو(درست)ہوگا اورناہی ناک سے بہنے والی چیزسے۔

اگربیماری کی وجہ سے مسلسل آنکھ سے آنسوآئے؟

عموماً جن امراض کی بنیادپرآنکھوں سے مسلسل آنسوبہتارہتاہے، وہ تین ہیں:

۱-  ’’رمد‘‘یعنی آشوب چشم، جسے آنکھ آنابھی کہاجاتاہے۔

۲-  ’’عمش‘‘ یعنی آنسوکے اکثراوقات بہنے کی وجہ سے ضعف بصارت۔

۳-  ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی۔

اگرکسی کو’’رمد‘‘یعنی آشوبِ چشم یا’’عمش‘‘ یعنی آنسوکے اکثراوقات بہنے کی وجہ سے ضعف بصارت کامرض ہوجائے، جس کی وجہ سے مسلسل آنسونکلے، تواس آنسوسے وضوٹوٹ جاتاہے؛ البتہ آنسوکے تسلسل کی وجہ سے یہ شخص ’’معذور‘‘ کے حکم میں ہوگا، ملاخسروؒ لکھتے ہیں:

فی عینہ رمد أوعمش، إن خرج منہا الدمع نقض، وإن استمرصارصاحب عذر۔ (دررالحکام شرح غررالحکام، نواقض الوضوء: ۱؍۱۶)

آنکھ میں رمد(آشوبِ چشم) یاعمش(آنکھوں سے پانی جارہی رہنے کی بیماری )ہو، اگراس سے آنسونکلے تووضوشکست ہوگیا اوراگرآنسونکلنے میں تسلسل ہوجائے تووہ صاحبِ عذرہوگیا۔

علامہ ابن ہمام ؒ فرماتے ہیں کہ آنسوکے تسلسل کی وجہ سے کچ لہوکااحتمال ہوتاہے؛ اس لئے ہرنمازکے وقت کے لئے استحبابی طورپر وضوکرنے کاحکم دیاجائے گا؛ البتہ طبی ذرائع یاعلامات سے غلبۂ ظن ہوجائے کہ یہ کچ لہوہی ہے توپھرہرنماز کے وقت میں وضوکرناواجب ہوگا، وہ رقم طراز ہیں:

فی عینہ رمدیسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا، وأقول: ہذاالتعلیل یقتضی أنہ أمراستحباب، فإن الشک والاحتمال فی کونہ ناقضاً لایوجب الحکم بالنقض، إذالیقین لایزول بالشک، واللہ أعلم، نعم إذٓعلم من طریق غلبۃ الظن بإخبارالأطباء أوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب۔ (شرح فتح القدیر،فصل فی الاستحاضۃ : ۱؍۱۸۷)

آشوبِ چشم کی وجہ سے آنسوبہتاہوتوخون ملی پیپ کے احتمال کی وجہ سے ہر(نمازکے)وقت کے لئے وضوء کاحکم دیاجائے گا، میں(علامہ ابن ہمامؒ) کہتاہوں: یہ علت استحبابی حکم کاتقاضہ کرتی ہے؛ کیوں کہ ناقض ہونے کے سلسلہ میں شک و احتمال نقض کے حکم کوواجب نہیں کرتا کہ یقین شک کے ذریعہ سے ختم نہیں ہوتا، واللہ أعلم، ہاں غلبۂ ظن سے معلوم ہوجائے اس طورپرکہ ڈاکٹروں نے بتلایاہو یا ایسی علامات ہوں، جن سے مبتلی (مریض) کوغلبۂ ظن حاصل ہوجائے تو (ہرنمازکے وقت کے لئے وضو) واجب ہے۔

جہاں تک ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی کاتعلق ہے تواس سے نکلنے والے پانی سے بھی وضوٹوٹ جائے گا اورتسلسل کے ساتھ نکلنے کی صورت میں وہ شخص بھی ’’معذور‘‘ کے حکم میں ہوکر ہر نماز کے وقت کے لئے وضوکرے گا، علامہ ابن ہمام ؒ لکھتے ہیں:

وفی التجنیس: الغَرَب فی العین إذاسال منہ ماء نقض؛ لأنہ کالجرح ولیس بدمع۔ (شرح فتح القدیر، فی نواقض الوضوء: ۱؍۶۲)

’’تجنیس‘‘ میں ہے کہ آنکھ کے ’’غرَب‘‘ (یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی)سے جب پانی بہے تووضوشکست ہوجاتاہے؛ کیوں کہ یہ زخم کی طرح ہے ، آنسونہیں۔

اگردوران نماز آنسونکل آئے؟

اگردورانِ نماز آنسونکل آئے تواس کی دوصورتیں ہیں:

۱-  آنسوبغیرآواز کے نکلے، ایسی صورت میں نمازفاسد نہیں ہوگی۔

۲-  آنسوآواز کے ساتھ نکلے اورآواز اتنی بلندہوکہ حروف ظاہرہوجاتے ہوںتواس کی دونوعیتیں ہیں:

(الف)  جنت اوردوزخ کے ذکرکی وجہ سے ہو، ایسی صورت میں نمازفاسد نہیں ہوگی۔

(ب)  مصیبت اورتکلیف کی وجہ سے ہو، ایسی صورت میں نماز فاسدہوجائے گی، علامہ اوزجندیؒ رقم طراز ہیں:

ولوبکی فی صلاتہ، فإن سال دمعہ من غیرصوت، لاتفسد صلاتہ، وإن ارتفع صوتہ فحصل بہ حروف، إن کان من ذکرالجنۃ والنار، لم تفسد صلاتہ، وإن کان من وجع، أومصیبۃ تفسد صلاتہ۔ (فتاوی قاضی خاں علی ہامش الہندیۃ، فصل فیمایفسد الصلاۃ: ۱؍۱۳۶)

اگرنمازمیں روئے، پس اگرآنسوبغیرآواز کے نکلے تونماز فاسد نہیں ہوگی، (لیکن) اگرآواز اتنی بلند ہوکہ حروف ظاہر ہو جاتے ہوں تواگرجنت ودوزخ کے ذکرکی وجہ سے ہوتونماز فاسد نہیں ہوگی اوراگرکسی دردوتکلیف کی وجہ سے ہوتونماز فاسد ہوجائے گی۔

اگرروزہ کی حالت میں آنسومنھ میں داخل ہوجائے؟

اگرروزہ کی حالت میں آنسومنھ میں چلاجائے اوراس کی نمکینیت محسوس ہوتوروزہ ٹوٹ جائے گا، اگرنمکینیت محسوس نہ ہوتوروزہ نہیں ٹوٹے گا، علامہ اوزجندیؒ لکھتے ہیں:

ولودخل دمعہ، أوعرق جبہتہ، أودم رعافہ حلقہ فسدصومہ۔(فتاوی قاضی خاں علی ہامش الہندیۃ، فیمایفسد الصوم: ۱؍۲۱۱)

اگر(روزہ دارکے)حلق میں آنسویاپیشانی کاپسینہ یانکسیرکاخون داخل ہوجائے توروزہ ٹوٹ جائے گا۔

حلق میں ان چیزوں کے داخل ہونے کامطلب یہ ہے کہ نمکینیت محسوس کی جائے؛ چنانچہ علامہ ابن ہمامؒ لکھتے ہیں:

 والأولی عندی الاعتبار بوجدان الملوحۃ لصحیح الحس؛ لأنہ لاضرورۃ فی أکثر من ذلک القدر۔ (شرح فتح القدیر، کتاب اکصوم، مایوجب القضاء والکفارۃ:۲؍۳۳۷)

میرے نزدیک صحیح الحس شخص کے لئے نمکینیت محسوس ہونے کااعتبارزیادہ بہترہے؛ کیوںکہ اس سے زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں آنسوسے مرادوہ آنسوہے، جوظاہری آنکھ سے آنے والاہو، اگرمسامات کے ذریعہ سے حلق میں پہنچے تو تواس کاحکم تھوک کاہوگا اگرچہ کہ اس کا مزاپورے منھ میں محسوس کیاجائے، علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

ثم فی التعبیر بالقطرۃ إشارۃ إلی أن المراد الدمع النازل من ظاہرالعین، أماالواصل إلی الحلق من المسام، فالظاہرأنہ مثل الریق، فلایفطر، وإن وجدطعمہ فی جمیع فمہ۔ (ردالمحتار،کتاب الصوم:۳؍۳۷۸)

پھر’’قطرۃ‘‘ کی تعبیراختیارکرنے میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ’’دمع‘‘سے مرادظاہری آنکھ سے اترنے والا آنسو ہے، اگرمسامات کے ذریعہ سے حلق میں پہنچے تو تواس کاحکم تھوک کاہوگا اگرچہ کہ اس کامزاپورے منھ میں محسوس کیاجائے۔

میت پرآنسوبہانا

کسی کی موت کے بعداس پررونے اورآنسوبہانے کی دوصورتیں ہیں:

۱-  دھاڑیں مارکریا لوگوں کوجمع کرکے یاپھرمیت کی وصیت کی وجہ سے رونا: حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے تعلق سے فرمایا:

إن المیت لیعدب ببکاء أہلہ علیہ۔ (بخاری،باب قول النبی ﷺ: یعذب المیت ببعض بکاء أہلہ علیہ…، حدیث نمبر: ۱۲۸۶، مسلم، حدیث نمبر: ۹۲۷)

بلاشبہ میت پرگھروالوںکے رونے کی وجہ سے اس پرعذاب ہوتاہے۔

چوں کہ ایساکرنانوحہ کے قبیل سے ہے، جوزمانۂ جاہلیت کے غلط رسوم میں سے ہے؛ اس لئے آں حضرت ﷺ نے منع فرمایاہے۔

۲-  شدتِ غم کی وجہ سے آنسو نکل آنا: یہ اُس رحم دلی کا تقاضہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں ودیعت کررکھی ہے، خود آپ ﷺ کی آنکھوں سے بھی آنسوجاری ہوئے ہیں، جس کی تفصیل پیچھے حدیث میں گزرچکی ہے، اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے:

ألاتسمعون؟إن اللہ لایعذب بدمع العین ولابحزن القلب۔ (بخاری، باب البکاء عندالمریض، حدیث نمبر: ۱۳۰۴)

کیاتم سنتے نہیں؟ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسواوردل کے غم کی وجہ سے عذاب نہیں دیتا۔

فقہائے کرام ؒ لکھتے ہیں:

ولابأس بإرسال الدمع والبکاء من غیرنیاحۃ۔ (فتح القدیر، الصلاۃ علی المیت: ۳؍۳۹۵، البحرالرائق، شروط صلاۃ الجنازۃ: ۲؍۱۹۵)

بغیرنوحہ کے رونے اورآنسوبہانے میں کوئی حرج نہیں۔

معلوم ہواکہ اگرکسی کاانتقال ہوجائے توخاموش آنسؤوں کے ساتھ رونے کی ممانعت نہیں ہے، چیخ چلاکررونے کی ممانعت ہے کہ نوحہ کے مشابہ ہے ۔  

اجازتِ نکاح کے وقت آنسونکلنا

اگراجازتِ نکاح کے وقت لڑکی کی آنکھوں سے آنسونکلے توکیا اسے اجازت سمجھا جائے گا یا نکاح کو رد کرنا تصورکیاجائے گا؟ اس سلسلہ میں مسئلہ کی دوصورتیں ہیں:

۱-  آنسوبغیرآواز کے نکلے، ایسی صورت میں اجازت سمجھی جائے گی اوراس کوگھروالوں کی جدائے گی پرآنسو بہانا سمجھا جائے گا، علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

وأماإذاخرج الدمع من غیرصوت، لایکون رداً؛ لأنہا تحزن علی مفارقۃ بیت أبویہا، وعلیہ الفتوی، وإنمایکون ذلک عندالإجازۃ۔ (منحۃ الخالق علی ہامش البحرالرائق، باب الأولیاء والأکفاء:۳؍۱۹۹)

جہاں تک اس کاتعلق ہے کہ آنسوبغیر آواز کے نکلے تویہ ردکرنا نہیں ہوگا؛ بل کہ اسے والدین کے گھر کو چھوڑنے پرغم کی وجہ سے سمجھاجائے گا، اسی پرفتوی ہے، اوریہ مسئلہ اجازت کے وقت کاہے۔

۲-  آنسوآواز کے ساتھ نکلے، ایسی صورت میں اجازت نہیں سمجھی جائے گی کہ عموماً ایسی شکل ناراضگی اورناپسندیدگی کے وقت پیش آتی ہے، علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں: 

وإن کان بصوت فلیس بإذن؛ لأنہ دلیل السخط والکراہۃ غالباً۔( البحرالرائق، باب الأولیاء والأکفاء:۳؍۱۹۹)

اگرآواز کے ساتھ ہوتویہ اجازت نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ عموماً یہ راضگی اورناپسندیدگی کی دلیل ہوتی ہے۔

اس سلسلہ میں علامہ ابن ہمام ؒ کی رائے کوپرعمل کرنامناسب معلوم ہوتاہے، وہ فرماتے ہیں:

والمعول اعتبار قرائن الأحوال فی البکاء والضحک، فإن تعارضت، أو أشکلت احتیط۔ (فتح القدیر:۳؍۲۵۶)

ہنسنے اوررونے کے سلسلہ میں معتمدعلیہ بات قرائن احوال کااعتبارکرناہے، پس اگرتعارض یااشکال واقع ہوتواحتیاط بہتر ہے۔

دعاکے وقت آنسوبہانا

دعا مانگنے اورگناہوں کی بخشش کاایک اہم ذریعہ ہے، لہٰذا دعامانگتے وقت جس قدر مسکینیت ، عاجزی ، درماندگی اورخوشامدہوگی، قبولیت کے امکانات زیادہ ہوں گے، اپنی بے مائے گی کے اظہارکاایک طریقہ گڑگڑانا اور آنسوبہانا بھی ہے؛ اس لئے دعامیں آنسو بہانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ علاماتِ قبولیت میں سے ہے، حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

ویجتہدعلی أن یخرج من عینیہ قطرات من الدمع، فإنہ دلیل القبول۔ (حاشیۃ الطہطاوی علی مراقی الفلاح،ص: ۷۳۵، رد المحتار، کتاب الحج: ۹؍۱۷۶، فتح القدیر، کتاب الحج، مسائل منثورۃ: ۶؍۲۵۷)

اوردعاکے وقت آنکھوں سے آنسونکالنے کی کوشش کرے کہ یہ قبولیت کی دلیل ہے۔

ایسی تلاوت، جولوگوں کی آنکھوں سے آنسوجاری کردے

تلاوتِ قرآن کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ :

زینوالقرآن بأصواتکم۔ (سنن أبی داود، حدیث نمبر: ۱۴۶۸)

قرآن کواپنی آواز سے مزین کرو۔

یعنی قرآن ایسی آواز میں پڑھو، جوسننے والے کے دل کوموہ لے، یہی وجہ ہے کہ تحسینِ صوت اورتزئین ِ قراء ت کوفقہاء نے مستحب قراردیاہے، علامہ عالم بن علاء دہلویؒ لکھتے ہیں:

إن کان الألحان لایغیرالکلمۃ عن موضعہا، ولایؤدی التغنی بہا إلی تطویل الحروف التی حصل التغنی بہا حتی لایصیر الحرف حرفین؛ بل یحسنہ تحسین الصوت وتزیین القراء ۃ، لایوجب ذلک فساد الصلاۃ، وذلک مستحب عندنافی الصلاۃ وخارجہا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ:۱؍۳۱۱)

اگرلحن کلمہ کواس کی جگہ سے نہ تبدیل کرے اورغنائیت حرف کواتناطویل نہ کرے کہ ایک حرف دومعلوم ہونے لگے؛ بل کہ اس کی وجہ سے تحسینِ صوت اورتزئینِ قراء ت ہوتی ہو، یہ فساد نماز کولازم نہیں کرتے، اوریہ ہمارے نزدیک نماز کے اندراورباہر(دونوں جگہوں میں) مستحب ہے۔

جس طرح علماء نے تحسینِ صوت اورتزئینِ قراء ت کومستحب قراردیاہے، اسی طرح ایسی قراء ت کرنے کوبھی مستحب قراردیاہے، جولوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگادے، علامہ تورپشتیؒ فرماتے ہیں:

القراء ۃ علی الوجہ الذی یہیج الوجدفی قلوب السامعین، ویورث الحزن، ویجلب الدمع مستحبۃ مالم یخرجہ التغنی عن التجوید، ولم یصرفہ عن مراعاۃ النظم فی الکلمات والحروف۔ (بریقۃ محمودیۃفی شرح طریقۃ محمدیۃ وشریعۃ نبویۃ فی سیرۃ أحمدیۃ لأبی سعیدمحمدبن محمدالخادمی الحنفی: ۳؍۲۱۸)

ایسے طریقہ پرقراء ت کرنا، جوسامعین کے دلوں میں غم اورگھٹن پیداکردے اورآنسوؤں کی لڑی لگادے، مستحب ہے، جب تک غنائیت تجوید(کے حدود)سے باہر اورحروف وکلمات میں نظم کی رعایت سے دورنہ کردے( ورنہ قراء ت مکروہ تحریمی ہوگی)۔

آنسوکی طرف طلاق کی اضافت(نسبت) کرنا

اگرطلاق دینے میں اعضاء واجزائے جسم کی طرف طلاق کی نسبت کرکے الفاظ استعمال کرے تواس کی دوصورتیں ہیں:

۱-  ان اعضاء کی طرف طلاق کی نسبت کرے، جن سے پوراجسم مرادلیاجاتاہے، ایسی صورت طلاق واقع ہوجائے گی۔

۲-  ان اعضاء(اجزاء) کی طرف طلاق کی نسبت کرے، جن سے لطف اندوزنہیں ہواجاتا، ایسی صورت طلاق واقع نہیں ہو گی، علامہ ابن مازہ بخاریؒ لکھتے ہیں:

أن کل مایعبربہ عن جمیع البدن نحوالرأس، والرقبۃ، والفرج، والوجہ یصح إضافۃ الطلاق إلیہ، وکل جزء لایعتبربہ عن جمیع البدن، إن کان جزء اً لایستمتع بہ نحو الدمع، والریق ،والدم لایصح إضافۃ الطلاق إلیہ بالاتفاق۔ (المحیط البرہانی، فیمایرجع إلی صریح الطلاق: ۳؍۲۱۴)

ہروہ عضو، جس سے پورے جسم کی تعبیرہوتی ہے، جیسے: سر، گردن، شرم گاہ اورچہرہ، ان کی طرف طلاق کی اضافت کرنا درست ہے اورہروہ جزء، جس سے لطف اندوز نہیں ہواجاتا،جیسے: آنسو، تھوک اورخون، ان کی طرف طلاق کی اضافت درست نہیں۔

لہٰذا آنسوکی طرف طلاق کی اضافت(نسبت)کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اگرکھانے پینے کی چیز وں میں آنسو گرجائے؟

اگرکھانے اورپینے کی کسی چیز میں آنسوگرجائے توان چیزوں کوکھانا اورپینادرست ہے یانہیں؟ اس سلسلہ میں مسئلہ کی دونوعیتیں ہیں:

۱-  عام حالت کے آنسوکھانے اورپینے کی اشیاء میں گریں، ایسی صورت میں کھانے اورپینے کی گنجائش ہے، فتاوی ہندیہ میں ہے:

ویجوز أکل مرقۃ یقع فیہا عرق الآدمی، أونخامتہ، أودمعہ۔ (الفتاوی الہندیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہۃ فی الأکل ومایتصل بہ: ۵؍۴۱۸)

ایسے شوربے کااستعال جائز ہے، جس میں انسان کاپسینہ یابلغم یاآنسوگرجائے۔

۲-  امراض کی وجہ سے نکلنے والے آنسوکھانے اورپینے کی چیزوں میں گریں، ایسی صورت میں چوں کہ پیپ اورخون وغیرہ کی آمیزش کااحتمال رہتاہے، جس کی وجہ سے ایسے آنسوکونجس بھی قراردیاگیاہے؛ چنانچہ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

وفی الخانیۃ: الغرب فی العین بمنزلۃ الجرح، فمایسیل منہ فہونجس۔ (ردالمحتار، نواقض الوضوء: ۱؍۲۸۰)

خانیہ میں ہے کہ ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کا اندرونی ورم یاپھنسی زخم کے درجہ میں ہے، پس جوکچھ اس سے بہے، وہ نجس ہے۔

  اس لئے ایسی صورت میں کھانے پینے کی چیزوں کوکھانے اورپینے کی اجازت نہیں ہوگی؛ البتہ کھانا اگر خشک اشیاء میں سے ہوتوآنسوگرنے کی جگہ اوراس کے اطراف کودورکرنے کے بعدکھانے کی گنجائش ہوگی، واللہ أعلم بالصواب!


Saturday, 30 January 2021

کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟

 کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


26؍جنوری کے بعدسے تین واقعات ایسے پیش آئے، جس کی وجہ سے دہلی پولیس پرسوالات اٹھ رہے ہیں اوراٹھنابھی چاہئے؛ کیوں کہ یہ دیش کی حفاظت کاسوال ہے، پہلاواقعہ وہ ہے ، جس کی وجہ سے کچھ لوگ کسانوں پرسوال اٹھارہے ہیں؛ حالاں کہ سوال پولیس کی سیکوریٹی پرہوناچاہئے؛ لیکن گودی میڈیا اور برسراقتدار پارٹی کے آئی ٹی سیل کی وجہ سے سوال کسانوں پراٹھ رہاہے، کسانوں کوٹریکٹرپریڈ کی اجازت دی گئی، اسی وقت سے خدشہ تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا؛ لیکن پھرجب ایک تخریب کارکوپکڑلیاگیا اورسازش بے نقاب ہوگئی تواس خدشہ کوکھرچ دیاگیا، جس کی وجہ سے ساؤدھانی ہٹادی گئی اورادھرساؤدھانی ہٹی اوراُدھردرگھٹناگھٹی۔

لال قلعہ پرترنگاکی بجائے نشان صاحب کاجھنڈالہرایاجانااوروہ بھی اس دن، جس دن پورے ملک میں جشن جمہوریہ منایا جارہاتھا، اپنے اندرایک سوال رکھتاہے؛ بل کہ بڑاسوال رکھتاہے، کسان آندولن میں جولوگ شریک ہیں، ظاہرہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پرشریک نہیں ہیں، تواگرکسان آندولن میں شریک افرادکی یہ حرکت ہوتی تووہ نشان صاحب کا جھنڈا کیوں لہراتے؟ کسان لیڈران اتنے توبے وقوف نہیں ہیں کہ جس بات کے لئے دومہینے سے دھرنے پربیٹھے ہیں، اس دھرنے کواس طرح مذہبی رنگ دے کرختم کردیں، یا اس ملک کے ترنگا کا اپمان کریں، جس کی دھرتی میں وہ اناج اگاتے ہیں اورجس کے لئے وہ اس کڑا کے کی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں، اگرکسان لیڈران اتنے بے وقوف ہوتے توحکومت کے ساتھ گیارہ دورکی بات چیت ناکام نہیں ہوتی، اگروہ اتنے بے وقوف ہوتے توتبادلۂ خیال کی جگہ پراپنا کھانا لے جاکرنہیں کھاتے؛ بل کہ حکومت کی طرف سے شانداردعوت کی پیش کش کا فائدہ اٹھاتے؛ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کسانوں کی طرف سے کیا گیا عمل ہے۔

پھریہ بات اس وقت مزیدصاف ہوجاتی ہے، جس وقت جھنڈا لہرانے والااقرارکرلیتا ہے کہ یہ کام اس نے کیا، کس کے اشارہ پرکیا؟ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کیوں کہ اس شخص کی تصاویر اس کے گروگھنٹالوں کے ساتھ وائرل ہوچکی ہیں؛ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اسے گرفتارکیوں نہیں کیا گیا؟ ایک غلط حرکت کرنے کے بعد پوری ڈھٹائی کے ساتھ ویڈیووائرل کرتاہے اورپولیس اسے گرفتارنہیں کرپاتی، اسے حفاظتی دستہ کی ناکامی کہا جائے یاسوچی سمجھی پلاننگ، یہ پولیس تووہ ہے، جومجرم کووہاں سے پکڑکرمیڈیاکے سامنے پیش کردیتی ہے، جہاں کسی کاخیال تک نہیں پہنچتا، توپھراتنے بڑے مجرم کوکیوں چھوڑدیاگیا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جانا چاہئے کہ جب ٹریکٹرپریڈ کولال قلعہ تک جانے کی اجازت نہیں تھی تووہ لوگ، جوٹریکٹر پریڈ میں شامل ہوکرایسی حرکت کرنے کی پلاننگ کرکے آگے بڑھ رہے تھے، انھیں روکا کیوں نہیں گیا؟ انھیں اس جگہ تک پہنچنے کیوں دیاگیا؟ یہ بھی کسی پلاننگ کاحصہ ہی معلوم ہوتاہے۔

اس بات پربھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح لال قلعہ کے سامنے جھنڈا لہرائے جانے پرسوال اٹھایا جارہاہے، کیااسی طرح اس پربھی سوال نہیں اٹھایا جانا چاہئے کہ حکومت کی اس پراپرٹی کوایک نجی کمپنی کے حوالہ کیوں کیا گیا؟ کیایہ اسی طرح جرم نہیں، جس طرح جھنڈا لہرایاجانا؟ اس کے لئے لوگوں کی آواز کیوں بلند نہیں ہوئی؟ کیایہ دیش بھگتی ہے کہ حکومت کی ایسی پراپرٹی کو، جوملک کی پہچان ہے، اسے کسی نجی کمپنی کے سپردکردیاجائے؟ وہ اس وقت کہاں سورہے تھے، جوآج دیش بھگتی کے نعرے بلندکررہے ہیں؟ اس پربھی توایف آئی آر کٹنی چاہئے؟ 

دوسرا واقعہ کل دوپہرکے وقت سنگھوبارڈرپرپیش آیا، وہاں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، اس قدر کہ دہلی جل بورڈ کے پانی ٹینکرکوبھی اس جگہ تک جانے سے روک دیا گیا، جہاں احتجاجی بیٹھے ہوئے ہیں، کسی بھی گاڑی کوآگے جانے نہیں دیاجارہاہے، ایسے حفاظتی انتظام کے باوجود ایک بھیڑآتی ہے اورپولیس اسے نہیں روکتی، پولیس آگے بڑھنے دیتی ہے، وہ بھیڑ آگے پہنچ کراحتجاجیوں کے خیموں کواکھاڑدیتی ہے اورہلڑ مچاتی ہے اورحفاظتی دستہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، اس پرگودی میڈیا سوال نہیں اٹھارہی ہے، سوال اس پر اٹھ رہاہے کہ ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا ، یہ کانسٹیبل زخمی کیسے ہوا؟ جواب دیاجاتاہے کہ احتجاجی کی تلوارسے، یہ غلط ہے؛ لیکن سوال یہ اٹھناچاہئے کہ یہ بھیڑوہاں تک پہنچی کیسے؟ یہ توبالکل وہی ماڈل اختیار کیا جارہا ہے، جوسی اے اے کے خلاف احتجاجیوں کے ساتھ کیاجارہاتھا، اسے کپل مشراماڈل بھی کہاجاسکتاہے، اس ماڈل کے پیچھے کس کاہاتھ ہے؟ یہ سب جانتے ہیں؛ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ حفاظتی دستہ کی تنخواہ عوامی پیسوں سے پوری کی جاتی ہے تویہ بے ایمانی نہیں تواورکیاہے کہ جس کے پیسے سے تنخواہ ملے، اس کی حفاظت کرنے کے بجائے اس کی بات سنی جائے، جواقتدار پرہیں؟

تیسراواقعہ کل شام پانچ بج کرپانچ منٹ پرپیش آیا، اے پی جے عبدالکلام روڈ پرجندل ہاؤس کے قریب اسرائیلی سفارت خانہ کے سامنے معمولی دھماکہ ہوا، جس سے کوئی جانی نقصان تونہیں ہوا؛ لیکن تین گاڑیوں کے شیشے چٹخ گئے، یہ واقعہ جس جگہ پیش آیاہے، وہ سخت حفاظت والی جگہ ہے، پھراس سے صرف دو کیلو میٹر دورپرپرگرام بھی چل رہاتھا، جس میں صدرجمہوریہ اوروزیراعظم بھی شریک تھے، ایسے علاقہ میں یہ دھماکہ کیسے ہوا؟ ہماری انٹلیجنس تواتنی تیز ہے کہ ملک کے کسی بھی خطہ میں کوئی دہشت گرد داخل ہوتاہے توانھیں پتہ چل جاتاہے اورپورے علاقہ کوہائی الرٹ کردیاجاتاہے، اس دھماکہ کے تعلق سے انھیں بے خبری کیوں رہی؟ دھماکہ کرنے والے اس جگہ پرپہنچے کیسے، جوہائی سیکوریٹی جگہ ہے؟ یہاں تک پہنچنے سے پہلے ہرفرد کی چیکنگ ہوتی ہے، اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ اس میں یاتوسستی کی گئی ہے یاجان بوجھ کرپاس کیا گیا ہے، تبھی یہ دھماکہ ممکن ہوسکا، ورنہ دھماکہ ممکن ہی نہیں تھا۔

یہ تینوں واقعات دراصل لوگوں کے ذہنوں کوبھٹکانے کے لئے رونماکئے گئے ہیں؛ کیوں کہ اس وقت پورے ملک میں کسان آندولن عروج پرہے ، 26؍ جنوری کے واقعہ کی وجہ سے کچھ سیدھے سادھے کسان ناراض ہوکراپنے گھروں کوواپس لوٹ گئے تھے ، بس اب غازی پور بارڈرکااحتجاج ختم ہونے والاتھا اورراکیش ٹکیت گرفتاری دینے والے تھے کہ وہ سازش کوسمجھ گئے اوراپنے مورچہ پرجم گئے اورپھرروروکردہائی دی، جس کی وجہ سے ٹوٹتا ہواموچہ مزید طاقت ورہوگیا، یہاں چارۂ کارنہ پاکرسنگھوبارڈرپرغنڈے بھیجے گئے؛ لیکن جب وہاں بھی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہواتواسرائیلی سفارت خانہ کے سامنے معمولی قسم کادھماکہ کردیاگیا، ان تینوں واقعات کی کڑیاں اگرملا کردیکھیں گے توایک ہی بات نظرآئے گی کہ کسی طرح کسان آندولن کوبدنام اورختم کیاجائے اوربس۔

لیکن ان کی وجہ سے کسان آندولن توختم نہیں ہوا، الٹا دہلی پولیس سوالات کے گھیرے میں آگئی؛ لیکن سوالات ان سے پوچھے گا کون؟ میڈیا توان کی ہے، وہ توسوال کرنے سے رہی، اپوزیشن نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، لہٰذا ادھرسے بھی سوالات نہیں ہوسکتے، باقی اکا دکاایم پی کی بات کوسنتا کون ہے؟ بہرحال یہ تینوں واقعات ملک کی حفاظتی دستہ پرسوالیہ نشان ہیں، جس کے تعلق سے چین سے ٹکرانے کی بات کی جاتی ہے کہ ہم ہرطرح سے مقابلہ کے لئے تیارہیں، یہ سوال ہرعام وخاص کو اٹھانا چاہئے کہ حفاظتی دستہ کی موجودگی میں یہ سارے واقعات کیسے پیش آرہے ہیں؟ اس کو کیا سمجھا جائے؟ ناکامی یا پلاننگ، آخرکون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟؟؟

jamiljh04@gmail.com / 8292017888




تعلیمی قرض(Education Loan)

 تعلیمی قرض

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

قرض ایک ضرورت ہے، جوایسے وقت میں لیناجائزہے، جس میں انسان محتاج ہواورقرض نہ لینے کی صورت میں ضررکااندیشہ ہو؛ کیوں کہ شریعت انسانی ضررکودورکرنے کاحکم دیتی ہے، آپﷺکاارشاد ہے:

 لاضرر ولاضرار(مؤطا امام مالک، باب القضاء فی المرفق، حدیث نمبر:۱۴۲۹)۔

نہ نقصان اٹھاناہے نہ نقصان پہنچانا۔

اسی وجہ سے ’’الضرریزال‘‘ اور’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے اصول بنائے گئے ہیں،اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ ضرورت کیاہے،جس میں ہمارے لئے سودی قرض لینے کی گنجائش ہے؟اس سلسلہ میں احکام کے ان مدارج کوسامنے رکھناضروری ہے، جوفقہاء کرام نے بتلائے ہیں، علامہ حمویؒ نے فتح القدیرکے حوالہ سے احکام کے پانچ مدارج لکھے ہیں، لکھتے ہیں:

فی فتح القدیر: ہناخمسۃ مراتب: ضرورۃ، وحاجۃ، ومنفعۃ، وزینۃ، وفضول، فالضرورۃ بلوغہ حداً إن لم یتناول الممنوع ہلک إذاقاربہ، وہذا یبیح تناول الحرام، والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجدمایأکلہ لم یہلک، غیرأنہ یکون فی جہد ومشقۃ، وہذا لایبیح الحرام، ویبیح الفطر فی الصوم، والمنفعۃ کالذی یشتہی خبز البر ولحم الغنم والطعام الدسم، والزینۃ کالمشتہی الحلوی والسکر، والفضول التوسع بأکل الحرام والشبہۃ(غمزعیون البصائر:۱؍۲۷۷)۔ 

فتح القدیرمیں ہے: یہاں پانچ مراتب ہیں: ضرورت، حاجت، منفعت، زینت اورفضول، ضرورت اس حدتک پہنچ جانے کو کہتے ہیں کہ اگرممنوع شئی کواستعمال نہ کرے توہلاک ہوجائے، یہ (صورت) حرام کے استعمال کومباح کردیتی ہے، حاجت کی مثال اس بھوکے کی سی ہے کہ اگراسے کھانے کی چیز نہ ملے تو ہلاک تونہ ہو؛ البتہ مشقت اورتکلیف میں مبتلاہوجائے، یہ (صورت) حرام کومباح نہیں کرتی ہے، تاہم روزہ افطار کرنے کومباح کرتی ہے، منفعت جیسے کوئی گیہوں کی روٹی، بکری کاگوشت اورمرغن غذاکھانے کی خواہش کرے، زینت جیسے میٹھی اورشیریں کھانوں کی خواہش اورفضول یہ کہ حرام ومشتبہ کھانے میں وسعت (پیداکرلی جائے)۔

اس سے معلوم ہواکہ فضول، زینت اورمنفعت کے لئے سودی قرض کی گنجائش نہیں؛ البتہ اضطراری حالت میں سودی قرض لینادرست ہے، اسی طرح حاجت میں بھی سودی قرض سے پرہیز بہترہے؛ البتہ حاجت کوکبھی کبھی ضرورت کے درجہ میں تسلیم کرلیاجاتاہے، ایسی صورت میں سودی قرض لینے کی گنجائش ہوگی، علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:

السادسۃ: الحاجۃ تنزل منزلۃ الضرورۃ، عامۃ کانت أوخاصۃ، ولہذا جوزت الإجارۃ علی خلاف القیاس للحاجۃ… وفی القنیۃ والبغیۃ: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح(الأشباہ والنظائر:۱؍۱۰۰)۔ 

چھٹاقاعدہ یہ ہے کہ حاجت (کبھی کبھار) ضرورت کے درجہ میں اترآتی ہے، عام ہو یاخاص، یہی وجہ ہے کہ اجارہ کوحاجت کی وجہ سے خلاف قیاس جائزقراردیاگیاہے… اور’’قنیہ‘‘ و’’بغیہ‘‘ میںہے کہ محتاج کے لئے نفع(کی شرط)کے ساتھ قرض لیناجائز ہے۔

معلوم ہواکہ سودی قرض کے علاوہ کوئی اورشکل مسئلہ کے حل کی نہ نکلتی ہوتوسودی قرض لینادرست ہے، اب سوال یہ ہے کہ تعلیمی قرض لینادرست ہے یانہیں؟ 

اس سلسلہ میں دوباتوں میں غورکرنے کی ضرورت ہے:

۱-  جس تعلیم کے لئے قرض لیاجارہاہے، وہ فرض کفایہ میں سے ہے اورقرض لینے والے شخص کے علاقہ میں فرض کفایہ کی ادائے گی کرنے والا کوئی نہیں۔

۲-  وہ تعلیم ، جس کے لئے قرض لیاجارہاہے، ہے توفرض کفایہ ؛ لیکن اس کی ادئے گی کرنے والے موجود ہوں۔

پہلی صورت میں قرض لینے کی گنجائش ہونی چاہئے، بالخصوص موجودہ زمانہ میں اور ہمارے ملک میں، جہاں فرقہ پرستی کاعفریت راج کرتاہے، گنجائش کی یہ بات اس مسئلہ کی روشنی میں بھی کہی جاسکتی ہے، جس میں’’یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح‘‘ کے ذریعہ محتاج کے لئے سودی قرض لینے کی بات کہی گئی ہے ، فرض کفایہ کی تعلیم، جب کہ پوراعلاقہ خالی ہو، ایک دینی اور قومی ضرورت ہے، جوذاتی ضرورت سے کہیں بڑھی ہوئی ہے؛ اس لئے اس کی گنجائش ہونی چاہئے۔

جہاں تک دوسری صورت کاتعلق ہے تواس میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ یہاں نہ دینی ضرورت ہے اورناہی قومی ضرورت، واللہ أعلم بالصواب!


Thursday, 28 January 2021

تعلیم کے لئے حکومتی اسکیم سے استفادہ

 تعلیم کے لئے حکومتی اسکیم سے استفادہ

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

حکومت کی بعض اسکیمیں ایسی ہوتی ہیں، جن میں وہ تعلیم کے لئے بینک سے قرض دلاتی ہے اوراس پرجوانٹرسٹ عائدہوتا ہے، وہ خود مقروض کواداکرنا نہیں ہوتاہے؛ بل کہ اس کی طرف سے حکومت ادا کرتی ہے، یا اس کابڑاحصہ حکومت اداکرتی ہے اوربہت تھوڑا سا حصہ خود مقروض کواداکرنا ہوتا ہے، کیاایسی اسکیم سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

اگرحکومت تعلیم کے لئے کسی کوبینک سے قرض دلاکربینک انٹرسٹ خود اداکرے تو اس طرح کی اسکیم سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز اوردرست ہے؛ کیوں کہ حکومت جوزائدرقم ہماری طرف سے اداکررہی ہے، وہ ہمارے لئے اعانت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ایک جائز عمل ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے اپنی رعایاکی امدادوتعاون ہے، جوحکومت کی ذمہ داری ہے، آپﷺکا ارشادہے:

 کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ، الإمام راع ومسئول عن رعیتہ…(بخاری، باب الجمعۃ فی القری والمدن، حدیث نمبر: ۸۹۳)۔

تم سب ذمہ دارہو اورتم سب سے اس کی رعیت کے بارے میںپوچھ ہوگی، امام(حاکم) ذمہ دارہے اوراس سے اس کی رعیت کے بارے میںپوچھ ہوگی۔

اِس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ لکھتے ہیں:

قال العلماء: الراعی ہوالحافظ المؤتمن الملتزم صلاح ماقام علیہ وماہوتحت نظرہ، ففیہ أن کل من تحت نظرہ شیٔ فہومطالب بالعدل فیہ والقیام بمصالحہ فی دینہ ودنیاہ ومتعلقاتہ(شرح النووی علی مسلم، باب فضیلۃ الأمیرالعادل وعقوبۃ الجائر: ۱۲ /۲۱۳ )۔ 

علماء فرماتے ہیں کہ ’راعی‘اس امانت دارنگراںکوکہتے ہیں، جواپنی ذمہ داری اوراپنے ماتحت کی درستگی اورسلامتی کاالتزام کرتاہو؛ چنانچہ اس میںیہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص اپنے ماتحت کے ساتھ عدل وانصاف کامعاملہ کرے اوراس کے دینی ودنیوی مصلحتوں کو انجام دے۔

علامہ عینیؒ لکھتے ہیں: 

قال بعض اہل العلم: یجب علی الإمام أن یقضی من بیت المال دین الفقراء … کماأن علی الإمام أن یسد رمقہ، ویراعی مصلحتہ الدنیویۃ(عمدۃ القاری، باب إذاأحال دین المیت علی رجل جاز، حدیث نمبر:۲۲۸۹)۔ 

بعض اہل علم کاکہناہے کہ امام (حاکم) پرلازم ہے کہ وہ فقراء کا قرض بیت المال سے اداکرے…جیساکہ اس پران کی دنیاوی مصالح کی رعایت اوربقدرکفاف روزی مہیاکرنا ضروری ہے۔

معلوم ہواکہ اپنی رعایاکی اعانت حکومت کی ذمہ داری ہے اوریہ اسی قبیل سے ہے؛ اس لئے ایسی رقوم کاحصول اوران کااستعمال دونوں جائز ہیں۔

البتہ اگر حکومت پورابینک انٹرسٹ ادانہ کرے؛ بل کہ اس کابڑا حصہ اداکرے تو چوں کہ اس میں سود ادا کرنا پڑتاہے، خواہ جس مقدارمیں بھی ہو؛ اس لئے ایسے قرض لینے کے وقت یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جس تعلیم کے لئے اسکیم سے فائدہ اٹھایاجارہاہے، وہ فرض کفایہ(جس کوہم دوسرے الفاظ میں دنیاوی تعلیم کہتے ہیں) میں سے ہے اور لینے والے شخص کے علاقہ میں اس کی ادائے گی کرنے والا کوئی نہیں، ایسی صورت میں گنجائش ہے؛ لیکن اگر اس کی ادئے گی کرنے والے موجود ہوں توپھرگنجائش نہیں، واللہ اعلم بالصواب!

اسکیم کے تعلق سے حکومت کی بعض اسکیمیں ایسی بھی ہیں، جن میں اس نے ایک محفوظ فنڈقائم کردیا ہے، جس کو بینک میں ڈپازٹ کردیا گیا ہے اورانٹرسٹ سے جورقم حاصل ہوتی ہے، اس سے تعلیمی ورفاہی اداروں اورافراد واشخاص کاتعاون کیاجاتاہے، گویاحکومت یاحکومت کاادارہ انٹرسٹ وصول کرتاہے،وہ اس کا مالک ہوتاہے اور پھروہ اسکیم سے استفادہ کرنے والے حضرات کی مددکرتاہے توکیایہ صورت درست ہوگی؟

اس طرح کی اسکیموں سے استفادہ کرناجائزہے؛ کیوں کہ ایساہوسکتاہے کہ ایک چیز کے اندردوچیزوں کی صلاحیت اوراس کی دومختلف حیثیتیں ہوں، جیسے: ولایتِ نکاح کا ایک مسئلہ بیان کیاجاتاہے کہ اگرکسی صغیرہ لڑکی کاولی اس کاچچازادبھائی ہواوروہ چچازادبھائی اپنی چچازادبہن سے نکاح کرلے توجائز ہے، یہاں اس کی دوحیثیتیں بتلائی گئی ہیں: 

فیکون أصیلاً من جانب، ولیامن جانب أخر(  اللباب فی شرح الکتاب، کتاب النکاح: ۱؍۲۵۹)۔ 

وہ ایک جانب سے اصیل(بذاتِ خود) ہوتاہے، جب کہ دوسرے جانب(لڑکی کی جانب)سے وکیل ۔

اس طرح کی واضح مثال حدیث شریف میں وارد ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں:

اُتی النبی ﷺ بلحم، فقیل: تصدق علی بریرۃ، قال: ہولہا صدقۃ، ولنا ہدیۃ(بخاری، باب قبول الہدیۃ، حدیث نمبر: ۲۵۷۷، نسائی، باب خیار الأمۃ، حدیث نمبر: ۳۴۴۷)۔ 

آں حضرت اکے پاس گوشت لایاگیااوربتلایاگیاکہ یہ بریرہ کوصدقہ کیاگیاہے، آپ ا نے فرمایا: وہ اس کے لئے صدقہ اورہمارے لئے ہدیہ ہے۔

اس حدیث کے ضمن میں علامہ نورالدین سندیؒ لکھتے ہیں:

(ولناہدیۃ) فبین أن العین الواحدۃ یختلف حکمہا باختلاف جہات الملک(حاشیۃ السندی علی النسائی:۶؍۱۶۲)۔ 

(اورہمارے لئے ہدیہ ہے) اس میں واضح کیا کہ عینِ واحدکاحکم جہت ِملک کے اختلاف سے مختلف ہوتاہے۔

آپﷺ پرصدقہ حرام تھا، اسی لئے آپ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، حضرت بریرہ ؓ پر حرام نہیں تھا، اس لئے ان کے پاس صدقہ بھیجاگیاتھا، آں حضرتﷺ کے سامنے گوشت کے اس صدقہ والے تحفہ کوپیش کیاگیا، جواصل کے اعتبارسے آپ کے لئے درست نہیں تھا؛ لیکن آپﷺنے جہت ِملک کے بدلنے سے حکم کے بدلنے کی بات بتلائی اورفرمایاکہ یہ ہمارے حق میں(حضرت بریرہؓ کی طرف سے)ہدیہ ہے، علامہ عینیؒ لکھتے ہیں:

المتصدق علیہ زال عنہا وصف الصدقۃ، وحلت لکل واحدممن کانت الصدقۃ محرمۃ علیہ(شرح أبی داود، باب فی فقیریہدی إلی غنی من الصدقۃ، (حدیث نمبر: ۱۷۷۵): ۶؍۴۰۸)۔

متصدق علیہ سے صدقہ کی صفت ختم ہوگئی اورہراس شخص کے لئے جائز ہوگیاجس پرصدقہ حرام تھا۔

مذکورہ مسئلہ کی مزیدوضاحت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک فتوے سے ہورہی ہے:

عن ابن مسعودأنہ سئل عمن لہ جاریأکل الرباعلانیۃ، ولایتحرج من مال خبیث یأخذہ یدعوہ إلی طعام، قال: أجیبوہ ، فإنما المہنألکم، والوزرعلیہ(جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلی،ص:۷۱)۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھاگیاکہ جس کاپڑوسی علانیہ سودکھاتاہو اورمال خبیث لینے میں ہچکچاتا نہ ہو، وہ (اگر) کھانے کی دعوت کرے(توکیاکرنا چاہئے)انھوں نے جواب میں فرمایا: اسے جواب دو کہ تمہارے لئے خوش گوارہے اورگناہ اُس پرہے۔

مذکورہ عبارات سے یہ بات آشکارہوگئی کہ اس طرح کی حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ہذاماعندی، واللہ أعلم بالصواب، وعلمہ أتم وأحکم!!

  

حکومت کی اسکیموں کے تعلق سے مزید مسائل جاننے کے لئے نیچے کی کتاب سے استفادہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں

https://archive.org/details/SarkariSchemesSeIstefada


Wednesday, 27 January 2021

زخمی جمہوریت کی صورت حال

 زخمی جمہوریت کی صورت حال

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


ایک سال پہلے کی بات ہے، سی اے اے کے خلاف احتجاج کیاگیا، احتجاجی شاہین باغ میں بیٹھے، اس احتجاج میں صرف مسلمان ہی شریک نہیں تھے؛ بل کہ سکھ، سادھو اوردلت قوم کے لوگ بھی شریک تھے، ہاں یہ ضرورہے کہ چوں کہ قانون مسلم قوم کے خلاف تھا؛ اس لئے ان کی تعداد زیادہ تھی، جس طرح آج کسانوں کے احتجاج میں ہے، سارے لوگ شریک ہیں؛ لیکن کسانوں کی تعداد زیادہ ہے اوروہ بھی اس جگہ کے کسان زیادہ ہیں، جہاں کھیتی باڑی زیادہ ہوتی ہے، شاہین باغ کے احتجاج کی شروعات جامعہ ملیہ کے ہنگامہ سے ہوئی، طلبہ نے اس قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا، جس کودبانے کے لئے دہلی پولیس نے ایسی کارروائی کی، جسے دیکھ کرجمہوریت شرم سارہوئی، نہتے طلبہ پر آنسو گیس ہی نہیں چھوڑے گئے؛ بل کہ بندوق کی نال سے گولیاں بھی داغی گئیں، بلااجازت جامعہ کے کیمپس میں پولیس گھسی اورلائبریری کوتہس نہس کردیا، ہاتھ گولے بھی داغے گئے، پولیس کی ان کارروائیوں کی وجہ سے طلبہ زخمی توہوئے ہی، کئی کی جانیں بھی گئیں، اس کے بعد باقاعدہ احتجاج کے لئے شاہین باغ وجود میں آیا۔

شاہین باغ سے لوگوں کوکافی تکلیفیں تھیں؛ لیکن صرف ان لوگوں کو، جوبرسراقتدارپارٹی کے ہم نواہیں، باقی لوگوں کوکوئی تکلیف نہیں تھی، شاہین باغ آنے جانے کے لئے راستہ بھی پورے طورپربند نہیں تھا، لوگ آجا رہے تھے، ایک طرف کاراستہ مکمل طورپرکھلاتھا، گاڑیوں پرپابندی پولیس کی طرف سے لگائے گئے بریگیڈس کی وجہ سے تھی اوروہ کئی کیلومیٹرپہلے سے ہی ان لوگوں نے ایساکیاتھا؛ تاکہ شاہین باغ کوبدنام کیاجائے، شاہین باغ کوختم کرانے کے لئے بہت سارے حربے استعمال کئے گئے، بم پھینکے گئے، گولیاں چلائی گئیں، دھمکیاں دی گئیں، ٹیوٹرٹرینڈ چلایاگیا، شوسل میڈ یاز کے ذریعہ سے دہشت گرد اورنہ جانے کیاکیانہ کہاگیا؛ لیکن شاہین باغ کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں ہوئی، اس کے باوجود اس کا آڑلے کردہلی کوفساد میں جھونک دیاگیا اورکروڑوں کی املاک تباہ کردی گئی، جانیں بھی گئیں، پھراس کے خلاف جوکارروائی ہوئی، وہ بھی ناانصافی پرمبنی تھی، جس کے تعلق سے قومی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ بھی آچکی ہے۔



شاہین باغ کے ٹھیک ایک سال بعد کسان آندولن شروع ہوا، حکومت نے ان کے ساتھ روابط قائم کئے اوراس تعلق سے گیارہ دورمیں تبادلۂ خیال ہوا، کل یوم جمہوریہ کو کسانوں کی طرف سے ٹریکٹرپریڈ کی بھی اجازت دی گئی ؛ حالاں کے اس سے قبل سی اے اے کے خلاف مارچ کے لئے بھی اجازت مانگی گئی تھی؛ لیکن دہلی پولیس نے اجازت نہیں دی تھی، کسانوں کواجازت دی گئی ، کسانوں کا ٹریکٹرپریڈ ہوا، اترپردیش بارڈر پرپولیس کے ساتھ کسانوں کی جھڑپ بھی ہوئی، کئی لوگ زخمی بھی ہوئے اورایک کی موت کی بھی خبر ہے، ایک سال قبل سی اے اے کے خلاف احتجاجیوں پرپولیس کی بے رحمی ؛ بل کہ ان کی غنڈہ گردی صاف دکھ رہی تھی ، جس کی وجہ سے نہتے طلبہ کی شہادت ہوئی، آج پولیس والوں کے اندروہ جوش نہیں نظرآرہاتھا؛ بل کہ اگریہ کہاجائے توبے جانہیں ہوگاکہ ان کے اندروہ دم خم تھاہی نہیں، وجہ صاف ہے کہ وہ لوگ کپڑے دیکھ کارروائی کرتے ہیں۔

کل 26؍جنوری کولال قلعہ میں جوکچھ ہوا، اس کی مذمت جتنی بھی کی جائے ، کم ہے، ایسابالکل بھی نہیں ہونا چاہئے تھا؛ لیکن اس کی وجہ سے کئی قسم کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ایک تودہلی پولیس کادورخاپن صاف نظرآیا، ورنہ کیامجال کہ پولیس کا گھیراتوڑکرکوئی لال قلعہ میں جھنڈا لہرائے؟ اس کی وجہ سے جمہوریت بھی شرم سارہوئی ہے اوردیش واسیوں کوتکلیف بھی ہوئی ہے کہ لال قلعہ جیسی جگہ پر، جہاں بھارت کاپرچم لہراتاہے، وہاں دوسراپرچم لہرایاگیا، یہ کیسے ہوا؟ دہلی پولیس اس کے لئے جواب دہ ہے، یہ کس نے کیا؟ اس سے زیادہ سوال اس پراٹھناچاہئے کہ یہ کیسے ہوا؟بتایاجاتاہے کہ ہمارے ملک کاسب سے زیادہ صرفہ حفاظتی دستوں پرہوتاہے، توکیایہی وہ حفاظتی دستے ہیں، جو جھنڈے کولہرانے سے بھیڑکوقابومیں نہیں لاسکے؟ توپھران سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ چین کے مقابلہ میں کھڑے ہوسکیں گے؟ یوں بھی خبروں کے مطابق چین نے پوری کالونی آباد کرلی ہے بھارت کی سرزمین پر اوریہ صرف عوام کوبے وقوف بنانے کے لئے روزانہ ایک دھمکی آمیز جملہ پریس کی نذرکردیتے ہیں، باقی اندرسے یہ ڈھول کے پول ہیں۔

کل کے واقعہ سے یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ جس پولیس نے جے این یو، جامعہ ملیہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اوربنارس یونیورسٹی میں بربریت کامظاہرہ کیاتھا، وہ کیاتھا؟ طلبہ پرتوجم کرلاٹھی چارج ہوئی اورکل خود دم دباکربھاگنے لگے، مطلب صاف ہے کہ طاقت کے آگے یہ ٹھہرنے والے نہیں، کسانوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے پولیس بھاگ کھڑی ہوئی توچین کے سامنے ڈٹنے کی ان کے اندرہمت ہے؟ پھریہ سوال بھی اہم ہے کہ جب معلوم تھا کہ ٹریکٹرپریڈ ہوگا اوراتنے بڑے پیمانہ پرپریڈ ہونے میں کچھ کھلبلی بھی مچ سکتی ہے توپھرپولیس نے اس کے لئے کیا تیاری کی تھی؟ اورکتنی؟ یہ تووہ ہیں، جونیشنل ہائی ویز پربھی گڑھے کھوددیتے ہیں؛ تاکہ لوگوں کوآگے نہ بڑھنے دیں، واٹرکین سے حملے کرتے ہیں؛ لیکن عجیب بات ہے کہ کل کہیں بھی واٹرکین سے حملے کی خبرنہیں آئی، اس سے یہ سوال پیداہوتاہے کہ یہ ساراڈرامہ کہیں باقاعدہ طور پر کروا یاتونہیں گیاہے؟ جیسا کہ دودن پہلے ایک شخص کی گرفتاری بھی ہوئی تھی اوراس نے میڈیاکے سامنے بیان بھی دیاتھا۔

اس ملک میں کچھ لوگ ہیں، جوجمہوریت کونیست ونابودکرناچاہتے ہیں؛ بل کہ کافی حدتک کربھی چکے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنھوں نے مہاتماگاندھی کوقتل کیاتھا، جنھوں نے بابری مسجد کوشہید کیاتھا، جنھوں نے مالی گاؤں میں بم بلاسٹ کیاتھا اوروہاں نقلی داڑھی اورٹوپیاں بھی دستیاب ہوئی تھیں، جنھوں نے مکہ مسجد میں دھماکہ کیاتھا، جنھوں نے پلوامہ میں حملہ کرایاتھا، یہ وہ لوگ ہیں، جنھیں ملک سے ذرابھی محبت نہیں ہے، اگرملک سے انھیں محبت ہوتی توملک کی ترقی کے لئے ہمیشہ سوچتے، ایسے فیصلے لیتے، جوملک کو جوڑ کر رکھے، یہاں توخانہ جنگی کی کیفیت پیداہوگئی ہے، ترنگاکے سامنے دوسراپرچم لہرایا جارہاہے؛ لیکن یہ کیوں ہورہاہے؟ اس پرغورکرنے کی ضرورت ہے۔

جمہوریت زخمی ہوچکی ہے، اس کے پورے جسم سے لہوٹپک رہاہے اورمرہم لگانے والاکوئی نہیں ہے؛ لیکن جمہوریت کوزخمی کس نے کیا؟ اوپرسے لے کرنیچے تک ہرعہدہ دارکرپشن کاشکارہے(سوائے چندکے)، ہرکام کے لئے رشوت ضروری ہے، جس کے پاس دولت ہے، وہ کچھ بھی کرسکتاہے، تازہ خبرہے کہ کوروناکی مہاماری میں پورے ملک کی معیشت تباہ ہوگئی، ہرشخص پریشان ہے؛ لیکن امبانی گروپ فائدے میں رہا اورہرگھنٹے 90کروڑکمائی کی، یعنی دن بھرمیں2160کروڑروپے کی کمائی، یہ کیسے اورکیوں کر؟ ملکی معیشت ڈانواڈول اوراڈانی وامبانی کے فائدے ہی فائدے، کتنی کمپنیاں بندہوگئیں، کتنے اسکول بندہوگئے، سیکڑوں لوگوں نے خوکشی کرلی، لاکھوں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں، اس پرمہنگائی کی مار، یہ ہے زخمی جمہوریت کی صورت حال ۔

کل کے واقعہ نے زخمی جمہوریت پرایک اورزخم لگایا، یہ زخم تیروتفنگ کے زخم سے زیادہ گہراہے؛ لیکن ایساہونے کیوں دیاگیا؟ کسان دومہینے سے سڑکوں پراترے ہوئے ہیں، معاملہ کوحل کیوں نہیں کیاگیا؟ لگتا ایساہے کہ کل کا واقعہ بھی کسی پلاننگ کاحصہ تھا، اوراسی پلاننگ کوانجام دینے کے لئے ٹریکٹرپریڈ کی اجازت بھی دی گئی، اور پھر اس کا فائدہ اٹھاکر کسان آندولن کوبدنام کردیاگیا، ظاہرہے کہ ملک کاکوئی باشندہ اس بات کوگوارہ نہیں کرے گا کہ کوئی بھی شخص ترنگاکے مقابلہ میں اپنا جھنڈا لہرائے؟ یہ ملک کے لئے ایک بدنما داغ ہے، جسے دھلانہیں جاسکے گا، ہاں! لیکن اس کی وجہ سے گرفتاریاں ہوں گی اورایسے ایسے لوگوں کی ہوں گی، جن کے تصور میں ایسانہیں ہوگا کہ وہ ایساکچھ کرے گا، واقعی اس ملک کی سیاست اتنی گندی ہوچکی ہے کہ اس کی صفائی ممکن نہیں، جس نے صاف کرنے کی کوشش کی، اسے ہی صاف کردیاگیا۔

jamiljh04@gmail.com




Sunday, 17 January 2021

پیارومحبت کی کھیتی کی ضرورت

 

پیارومحبت کی کھیتی کی ضرورت

 محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


خصوصیت کے ساتھ ملک کے دوصوبوں میں سیاست کی ہلچل چل پڑی ہے، ایک بنگال میں اوردوسرے یوپی میں، اورسب سے زیادہ ہلچل اے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے دیکھنے کومل رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کے صدرکئی طرح کے سوالات کے گھیرے میں ہیں، کوئی بی جے پی کاایجنٹ کہہ رہاہے، کوئی بی جے پی کی بی ٹیم بتارہی ہے اورحد تواس وقت ہوگئی، جب بی جے پی کے نیتاشاکشی مہاراج نے یہ بیان دیاکہ بھگوان اس کوطاقت دے، اس کی وجہ سے ہی ہماری جیت ہوتی ہے؛لیکن کیا حقیقت بھی ایساہی کچھ ہے؟ اس کا توکسی کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ واقعتاًاے آئی ایم آئی ایم اوربی جے کے درمیان کوئی معاہدہ ہواہے، کوئی ڈیلنگ ہوئی ہے، اگرکسی کے پاس کوئی ثبوت ہوتاتوآج تک پیش کیاجاچکاہوتا، جب کہ اس سے قبل مہاراشٹرکے الیکشن میں ایک مسلم تنظیم کی طرف سے باقاعدہ یہ اعلان کیاگیاتھا کہ اے آئی ایم آئی ایم کوووٹ نہ دیاجائے، اس کے باوجود اس کی پارٹی کے کئی امیدوار وہاں کامیاب ہوئے۔

ابھی چند مہینوں پہلے بہارکا الیکشن ہوا، وہاں بھی اے آئی ایم آئی ایم کے پانچ نمائندوں کوکامیابی ملی، اس کواے آئی ایم آئی کی بڑی کامیابی کے طورپردیکھاجاتاہے؛ لیکن دوسری طرف اس پریہ الزام بھی دیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے تقریباً پندرہ مہاکٹھ بندھن کے امیدوارہارگئے اوروہ بھی معمولی ووٹوں کے ساتھ، اگراے آئی ایم آئی ایم بہارالیکشن میں نہیں کودتی تو مہاکٹھ بندھن کی جیت یقینی تھی اوراس وقت بہارکے وزیراعلی نتیش کمارکی بجائے تیجسوی یادوہوتے، اس الزام کے لگانے میں سیاسی جماعتیں توپیش پیش ہیں ہی، بہت سارے مسلمانوں کابھی یہی مانناہے، اسی لئے بنگال الیکشن میں ان کے اترنے کو اچھی نظرسے نہیں دیکھا جارہاہے اورشاکشی مہاراج کے بیان کے بعد تو اس الزام میں شدت آگئی ہے۔

 

ایسی صورت میں کئی طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں، جن کاجواب اے آئی ایم آئی ایم کوہی نہیں؛ بل کہ دیگرپارٹیوں کوبھی دیناچاہئے اوران لوگوں کوبھی دینا چاہئے، جواے آئی ایم آئی ایم کوموردالزام ؛ بل کہ مجرم گردانتے ہیں، پہلاسوال تواے آئی ایم آئی ایم سے ہے کہ اس وقت ملک کی کیاصورت حال ہے؟ وہ آپ جیسے سیاست داں سے چھپی ہوئی نہیں ہے، کیاایسے وقت میں ’’پہچان‘‘ کی سیاست مناسب ہے؟ اورکیا اس کی وجہ سے خودمسلم قوم کو ہی تونقصان نہیں ہورہاہے؟ اوراس وقت اس طرح کی سیاست سے کہاں تک فائدہ ہورہاہے؟ یہ سوالات اس بنیاد پرہیں کہ سیاسی مبصرین کامانناہے کہ اس وقت ملک میں خصوصیت کے ساتھ دوپارٹیاں ’’پہچان‘‘ کی سیاست کررہی ہیں، ایک بی جے پی اوردوسری اے آئی ایم آئی ایم، ایک پارٹی ’’مسلم پہچان‘‘ کے طورپرابھررہی ہے، جب کہ دوسری پارٹی’’ہندوپہچان‘‘ بن کرسامنے کھڑی ہے۔

یہ توسب کومعلوم ہے کہ جب سے بی جے پی نے سیاست میں قدم رکھاہے، اس وقت سے ہی اس نے ’’پہچان‘‘ کی سیاست کی ہے؛ بل کہ سیاست کے میدان میں اس کی آمداسی کے لئے ہوئی ہے ، پہلے وہ یہ کہہ کرووٹ بٹوراکرتی تھی کہ اس ملک میں’’ہندوخطرہ میں ہے‘‘، اوراب یہ کہتی ہے کہ ’’ہمیں مسلمانوں سے خطرہ ہے‘‘، اس کے ثبوت کے لئے اے آئی ایم آئی ایم کے صدراوران کے بھائی کی تصویرپیش کی جاتی ہے اوران کے وہ بیانات سنائے جاتے ہیں، جن میں بی جے پی لیڈران کی آتش بیانی کے جواب کے طورپرکچھ سخت کہہ دیاگیاہے؛ لیکن اے آئی ایم آئی ایم کے تعلق سے بھی یہی بات کہی جارہی ہے کہ وہ بھی ’’پہچان‘‘ کی سیاست کررہی ہے، اب پتہ نہیں اس پارٹی کے ذہن میں بھی یہی ہے یاکچھ اور؛ لیکن اتنی بات توضرور ہے کہ اس پارٹی کو’’پہچان‘‘ کی سیاست کرنے والی پارٹی بناکرپیش کیاجاچکاہے اورگودی میڈیا؛ بل کہ بی جے پی کی آئی ٹی سیل اسی کاہوابنارہی ہے اورشاکشی مہاراج کے بیان نے توگویااس کاثبوت فراہم کرکے دیگرسیاسی پارٹیوں کے حوالہ کردیاہے، خواہ یہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہواوریقین ہے کہ یہ جھوٹ ہی ہوگا، مگرکڑواسچ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے براہ راست فائدہ بی جے پی کوضرورہورہاہے، وجہ اس کی وہی ہے ، جواوپرذکرکی گئی۔

لیکن مہاکٹھ بندھن سے بھی یہ سوال کیاجاناچاہئے کہ جب آپ دیگرپارٹیوں کوجوڑتے ہیں ، اس وقت اے آئی ایم آئی ایم کواپنے ساتھ کیوں شامل نہیں کرتے؟ اس میں کیارازچھپاہواہے؟ الیکشن کمیشن نے اس کو بھی الیکشن لڑنے کی اسی طرح اجازت دے رکھی ہے، جس طرح دیگرپارٹیوں کواجازت دی ہوئی ہے، اے آئی ایم آئی ایم کواپنے ساتھ ملانے کی کوشش سے کیانقصان ہورہاہے؟ بعض سیاسی مبصرین کاکہناہے کہ دیگرپارٹیاں بھی دراصل ’’پہچان‘‘ کی ہی سیاست کرناچاہتی ہیں؛ لیکن ان کے یہاں ایک سافٹ کارنر بھی ہے، جومسلمانوں کے ووٹ کوحاصل کرنے کے کام آتاہے، یہ وہی سافٹ کارنرہے، جس کی وجہ ملک کے باپوکوقتل کیاگیا، اے آئی ایم آئی ایم چوں کہ مسلم چہرہ بن چکی ہے اوربی جے پی نے مسلم چہرہ بنانے میں کوئی کسربھی نہیں چھوڑی ہے، اب اگراسے مہاکٹھ بندھن میں شامل کیا جاتا ہے تونام نہاد سیکولرپرحرف آئے گااور’’پہچان‘‘والوں کے ووٹ بھی بی جے پی کے کھاتے میںجائیںگے؛ اس لئے اے آئی ایم آئی ایم کواپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے اورمیدان میں اس کے کودنے کی وجہ سے ووٹوں کی ایک بڑی تعداد مہاکٹھ بندھن کا کٹ جاتاہے۔


  ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ جوپارٹیاں مہاکٹھ بندھن کے نام سے الیکشن لڑتی ہیں، کیاوہ پارٹیاں اے آئی ایم آئی ایم سے پہلے نہیں تھیں؟ کیاآج سے پہلے تک مسلمان ان کا ساتھ نہیں دیتے رہے؟ لیکن اس کے بدلہ میں انھوں نے کیادیا؟ بابری مسجد92میں شہید ہوئی، اس وقت مرکز میں کس کی حکومت تھی؟ اس کے اندرمورتیاں کس کی حکومت میں رکھی گئیں؟ شیلانیاس کس کی حکومت میں ہوا؟ گیان واپسی مسجد کا معاملہ کب سے چل رہاہے؟ آج تک حل کیوں نہیں ہوا؟ اس وقت کس کی حکومت تھی، جب بھاگل پور میں فساد ہو؟ جب جمشیدپورمیں فساد ہوا؟ جب جبل پورمیں فسادہوا؟ جب مرادبادمیں فساد ہوا؟ جب ہاشم پورہ فساد ہوا؟ اوران فسادات کے تعلق سے اس حکومت نے کیاایکشن لیا؟یہ سارے فسادات توسیکولر حکومت میں ہوئے؛ لیکن سیکولرحکومت نے کیا کیا؟ اورسب سے بڑاسوال یہ ہے کہ اب ان پارٹیوں کے ووٹرس کیوں کم ہورہے ہیں؟ ان پارٹیوں کواس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے اوریہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ آج تک جولوگ ہمیں ووٹ دے رہے تھے، اب وہ کیوں ہماراساتھ چھوڑرہے ہیں؟ ہمارے اندرکیا خامیاں ہیں؟ ان خامیوں کودورکرنے کی کوشش کرنی چاہئے، نہ کہ اے آئی ایم آئی ایم پراپنی شکست کا ٹھیکرا پھوڑنا چاہئے، بہارالیکشن میں نتیش کمارکی سیٹیں بہت کم آئیں؛ حالاں کہ ایسانہیں ہوناچاہئے تھا، کیایہ بھی اے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے ہوا؟ وہ توبی جے پی کے ساتھ تھے، اس کی حکومت بھی تھی، اس کے باوجوداس کی سیٹیں کیوں کم ہوگئیں؟ اس کی طرف کسی کادھیان کیوں نہیں جاتا؟ 

ان تمام کے باوجود ملک کی سالمیت اوربقاء کے لئے ’’پہچان‘‘ کی سیاست نقصان دہ ہے اورمسلمانوں کے حق میں کچھ زیادہ ہی نقصان دہ ہے، اس لئے ایسی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ’’پہچان‘‘ کی سیاست ختم ہوجائے اورایک جمہوری ملک میں جس طرح عمومی سیاست ہوتی ہے، سیاست اسی سمت پرآجائے، اسی میں ملک کی بھلائی ہے، اسی میں ملک کی ترقی ہے؛ کیوں کہ ’’پہچان‘‘ کی سیاست سے نفرت کی کھیتی ہوتی ہے، اوراس ملک میں نفرت کی کھیتی کی نہیں؛ بل کہ پیارومحبت کی کھیتی کی ضرورت ہے۔ jamiljh04@gmail.com / 8292017888


 


Wednesday, 13 January 2021

صالح اورباشعور قیادت کی ضرورت


 صالح اورباشعور قیادت کی ضرورت

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


قوم کی طاقت اس کے اتحادمیں ہے اوریہ اتحاد اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس قوم میں کوئی ایسا فرد نہ ہو، جواس اتحاد کوقائم کرے، اسی اتحادکو قائم کرنے والے کوبہ الفاظ دیگر’’قائد‘‘ کہاجاتاہے، اقوام وملل کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ جاہل سے جاہل اورتہذیب وتمدن سے کوسوں دوررہنے والی قوموں نے بھی اپنے آپ کوبغیرقائد کے رکھنا گوارانہیں کیا، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے انتخاب کے طریقۂ کارمیں اختلاف رہاہے؛ لیکن قوم بغیرقائد کے نہیں رہی ہے۔

جوقوم بغیرقائد کے ہوتی ہے، وہ منتشرہوتی ہے، اس کے اندراختلاف کی بھرمارہوتی ہے، اس قوم کی مثال شتربے مہارکی سی ہوتی ہے، ہرایک کا راستہ الگ ہوتاہے، ہرایک کاگھاٹ جداہوتاہے، اس قوم پرطاقت ورقبیلہ کے لوگ ظلم بھی ڈھاتے ہیں، جفابھی کرتے ہیں، بیگاری کاکام بھی لیتے ہیں؛ لیکن جس قوم کاکوئی قائدہوتاہے، رہبرہوتاہے، وہ منتشر قوم نہیں ہوتی ہے، اس قوم پرطاقت ورقبیلہ بھی ظلم کرنے سے ڈرتاہے، اس کی واضح مثال خود ہماری تاریخ میں ملتی ہے،غزوۂ تبوک میں اپنی سستی اورکاہلی کی وجہ سے بعض سچے مسلمان بھی شریک نہیں ہوسکے تھے، انھیں میں ایک حضرت کعب بن مالکؓ بھی تھے، انھیں سماجی بائیکاٹ کی سزاسنائی گئی، جس کی مدت پچاس دن تھی، یہ مقاطعہ اس قدر سخت تھا کہ زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ معلوم ہونے لگی، رشتہ داروں نے منھ موڑلیا، دوست یاروں نے بات کرناچھوڑدیا، مدینہ کی گلیوں میں کوئی ایک فرد ایسا نہیں تھا، جوحال چال پوچھتا اورنہ وہاں کے بازاروں میں کوئی ایک شخص ایساتھا، جوخیرخیریت دریافت کرتا، اپنے ہی شہرمیں بیگانگی کی حالت میں زندگی گزررہی تھی۔

انسانی فطرت یہ چاہتی ہے کہ کوئی تسلی دینے والاہو، کوئی پرسان حال ہو، اوراس طرح کے نازک وقت میں توبدرجۂ اولیٰ طبیعت اس کا تقاضا کرتی ہے؛ حتی کہ ایسے وقت میں دشمن کی تسلی بھی اس طرح سکون بخش ہوتی ہے، جس طرح موسم گرمامیں روح افزا کی شربت،دشمن بھی اس طرح کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، یہاں بھی ایساہی ہوا، دشمن کوبھنک لگی اوردشمن بھی ایساویسا نہیں، غسان کابادشاہ، اس نے ایک خط لکھا: أمابعد! فإنہ قد بلغناأن صاحبک قد جفاک، ولم یجعلک اللہ بدارہوان ، ولامضیعۃ، فالحق بنا نواسک۔ ’’ہمیں خبرملی ہے کہ آپ کے سردار نے آپ پرظلم کیاہے، جب کہ اللہ نے آپ کوذلت اٹھانے اورضائع ہونے کے لئے نہیں پیدا کیاہے، لہٰذا ہم سے آکرمل جایئے، ہم آپ کے ساتھ ہم دردی کریں گے‘‘۔

ہم آپ جیسے لوگ ہوتے توشاید بادشاہ غسان کی دعوت قبول کرنے میں دیرنہیں کرتے، آج بھی ہم میں سے کتنے ہیں، جب دشمن انھیں اپنے مطلب کی خاطراستعمال کرلیتا ہے اورہم آسانی کے ساتھ استعمال بھی ہوجاتے ہیں، اسی استعمال ہونے کی وجہ سے ہی آج روئے زمین پرہمیں’’ماء مستعمل‘‘ سمجھ لیاگیاہے، حضرت کعب بن مالکؓ نے ایک جھٹکے میں اس خط کونذرآتش کردیا؛ لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخرغسان کے بادشاہ کویہ جراءت کیسے ہوئی کہ ایک ایسے مسلمان کو دعوت شیراز دے ڈالے، جواپنی غلطی کی سزا کے طورپر بائیکاٹ کیا گیا ہو؟ شاید اس وجہ سے کہ اس نے یہ سوچا ہوکہ یہ شخص اتنی سخت سزاکی وجہ سے اپنے قائد سے دوری اختیارکرنے پرمجبورہوجائے اوراس طرح ہم فائدہ اٹھالیں؛ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ان کاتعلق اس جماعت سے ہے،جو اپنی ہرسانس کے بدلے ’’احد‘‘ کانعرہ لگاتی ہے، ان کاتعلق اس گروہ سے ، جوتختۂ دار میں بھی جھومتے ہوئے کہتاہے:

فلست أبالی حین أقتل مسلماً

علی أی جنب کان للہ مصرعی

وذلک فی ذات الإلٰہ وإن یشأ

یبارک علی أوصال شلو ممزع

(میں حالت اسلام میں شہید ہوجاؤں تومجھے اس کی کیاپرواہ کہ میں کس پہلوپرگرتاہوں، جب کہ میری موت اللہ کی راہ میں ہے، میری شہادت صرف رضائے الٰہی کے لئے ہے، اگر وہ چاہے گاتومیرے بکھرے ہوئے اعضاء کے جوڑوں میں برکت عطاکرے گا)

یہاں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم بھی اسی قوم کی اولاد ہیں، جس نے اپنے پاؤں تلے شاہوں کے تاجوں کوروند دیاتھا، جس نے رستم کے دربار کے مخملیں فرش کو تار تار کردیاتھا، ہمارے آباء وہی ہیں، جن کی ایک آواز سے جنگلی جانوروں نے پوراجنگل خالی کردیاتھا، جن کے راستے کودریاکی طغیانی بھی نہیں روک سکی؛ لیکن آج ہماری حالت یتیم کے دسترخوان پرلئیم کی سی ہے،جس کی بنیادی وجہ قیادت کا فقدان ہے، دشمن نے اسی قیادت کے قبا کوترک ناداں کے ذریعہ سے چاک کروایا، کم از کم مسلمان اس کی وجہ سے یک جٹ توتھے اورمسلمانوں کی اس یکجائی کی وجہ سے دشمن آنکھ اٹھاکردیکھنے سے بھی ڈرتاتھا۔

کوئی یہ سوال کرسکتاہے کہ عالمی سطح پراگردیکھاجائے تومسلمانوں کے 56، 57ممالک ہیں، ان میں ان کی حکومت بھی ہے، اورملکی پیمانہ پردیکھاجائے تومسلمانوں کی کئی غیرسیاسی تنظیمیں ہیں،کئی سیاسی تنظیمیں ہیں، کئی امیرالمؤمنین ہیں، کئی قائدہیں، جومسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں ، انھیں حل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، پارلیامنٹ میں بھی آواز بلند کرتے ہیں، پھرتوقیادت کے فقدان کاشکوہ بے جاہے، تواس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں مطلق قیادت کی شکایت نہیں ہے، وہ توہے، ہمیں شکایت یہ ہے کہ ہمارے پاس صالح قیادت نہیں ہے ، یہ بھی شکوہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے باشعورقائدین کافقدان ہے، جوحمیت اسلامی اورغیرت دینی کے بھی حامل ہوں، جوایمانی فراست سے بھی متصف ہوں، جو اللہ کے راستے میں کسی ملامت گرکی ملامت کی پرواہ بھی نہیں کرتے ہوں، جن کے سامنے قومی مفاداصل کی حیثیت رکھتے ہوں، جوبے لوث اوربے غرض ہوں اورذاتی مفاد کے تعلق سے سوچتے بھی نہیں ہوں، جن کے اندراعتدال اورتوازن ہو، جواپنی ہی رائے پر اصرار کرنے والے نہ ہوں،جولوگوں کے مابین انصاف ومساوات سے کام لیتے ہوںاور جو احوال زمانہ سے بھی واقف ہوں۔

کیاآج ایسی قیادت ہے؟ کیاآج ایسے قائدین ہیں؟جوممالک اسلامی کہلاتے ہیں، کیاوہاں کے حکمراں قوم کے تئیں بے لوث ہیں؟ اسلام کی بابت وہ بے غرض ہیں؟ جوسیاسی اورغیرسیاسی تنظیمیں ہمارے ملک میں ہیں، ان کے صدورایسے ہیں؟ ان کے رہنما اورقائدین ایسے ہیں؟ یہاں توقیادت ایسی ملتی ہے، جس کے سامنے قومی مفادات کے مقابلہ میں ذاتی مفادات اہم ہوتے ہیں، قائدین ایسے ہوتے ہیں، جوشعورسے نابلد ہوتے ہیں، کس وقت کون ساکام کرناچاہئے؟ اس کاخیال رکھنے کی بجائے، اس بات پرزوردیتے ہیں کہ بس ہم ہی ہم رہیں، چاہے قوم کی کشتی ڈوب جائے، کوئی حرج کی بات نہیں ہے، ہماری اپنی نیا پارلگنی چاہئے، حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں جس صالح قیادت کی ضرورت ہے، اس سے ہم محروم ہیں اوراسی محرومی کی وجہ سے ہم پرحالات طاری ہیں۔

اس واقعہ پربھی غورکیجئے! جب حضرت امیرمعاویہ ؓ اور حضرت علیؓ  کے درمیان مشاجرہ چل رہاتھا، رومیوں کی طرف سے حضرت امیرمعاویہؓ کے نام خط آیاکہ آپ چاہئیں توہم آپ کے ساتھ مل کرعلی سے جنگ کرسکتے ہیں، جس کے نتیجہ میں آپ کی فتح یقینی ہے، ہمارے اورآپ کے جیسے لوگ ہوتے توخوش ہوجاتے اوراس تعاون کومخلص جان کرقبول کرلیتے؛ لیکن قربان جایئے حضرت امیرمعاویہؓ پر! انھوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ ’’اورومی مردود! اگرتم نے علی کی طرف آنکھ اٹھاکردیکھنے کی جراء ت بھی کی توتم مجھے علی کے لشکرکا ادنیٰ سپاہی پاؤگے‘‘۔

آپسی لڑائی، آپسی ناچاقی اورباہم دست وگریباں کودیکھ کرہی رومیوں کویہ جراء ت ہوئی کہ وہ ایک مسلم قائد کودوسرے مسلم قائد کے تعلق سے توڑنے کی کوشش کرے؛ لیکن وہ چراغ مصطفوی سے کسب فیض اٹھائے ہوئے لوگ تھے، ان کے سامنے قومی مفاد عزیزتھا،دشمن ان کوتوڑ نہیں سکا، کاش !ہمارے پاس بھی ایسے قائدین ہوتے، جودشمن کی چال کوسمجھتے، جوآج کے حالات کے مطابق قوم کی رہنمائی کرتے، دنیاوی لحاظ سے بھی اوردینی لحاظ سے بھی، جواپنے بھائی کے خلاف کمپین نہیں کرتے؛ بل کہ اپنے بھائی کے حق میں آواز بلند کرتے، آج بہت سارے میدانوں میں لوگ کام کررہے ہیں؛ لیکن قومی سطح پرقائد نہ ہونے کی وجہ سے تمام لوگ ایک ہی جیسے کام میں لگے ہوئے ہیں، اگرقیادت ہوتی توکام کی تقسیم ہوتی، جس سے قوم کوزیادہ فائدہ پہنچتا۔

آج کسان آندولن کودیکھ کرلگتاہے کہ ہم اتنی بڑی تعدادمیں ہونے کے باوجودخوف وہراس میں کیوں مبتلا ہیں؟ سکھ لوگوں کی تعریف اس تعلق سے کرنی چاہئے کہ پورے ملک کے سکھوں کوجوڑکررکھنے کی کوشش  انھوں نے کررکھی ہے اوراس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں، اسی جوڑ کانتیجہ آج آپ کے سامنے ہے، سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پراسٹے لگا دیا ہے، ایک لحاظ سے یہ بھی کامیابی ہے، اس سے قبل سی اے اے کے سلسلہ میں بھی آندولن ہواتھا، ایک سوایک دن تک چلتارہا، اسی شدومد یا اس سے بھی زیادہ شدومد سے چلتا رہا، حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگیں، وجہ قیادت کافقدان، طلبہ نے آغاز کیا؛ لیکن قائدین اپنی قیادت کوبچانے کے چکرمیں سینہ سپرنہیں ہوئے، ان طلبہ کااس طرح سپورٹ نہیں کیاگیا، جس طرح کیا جانا چاہئے تھا، نتیجہ آپ کے سامنے ہے، ان سب کے باوجود بھی اگرصالح قیادت کی ضرورت محسوس نہ کی جائے اوراس کے لئے کوششیں نہ ہوں توپھرقوم کومردہ ہی سمجھاجائے گا۔

اس کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ قائدین کوہرحال میں قیادت سے محروم کردیاجائے اورہرحال میں ایک نئی قیادت لائی جائے؛ بل کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قائدین اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالیں، زمانہ کے تقاضے کے  لحاظ سے اپنی سوچ وفکر میں تبدیلی لائیں، جس وقت جس چیز کی ضرورت ہے، اس وقت وہی چیز قوم کے سامنے پیش کریں، ایک قائد کی مثال ایک ڈاکٹر کی سی ہوتی ہے، صحیح وقت پرعلاج اورصحیح وقت پرصحیح دوا کی تجویز سے ہی مریض کے مرض کوٹھیک کیاجاسکتاہے، ورنہ بعد محرم یاحسین اورThe patient is no more سے کوئی فائدہ نہیں۔