آنسو ---- فوائد ومسائل
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
انسانی جسم سے خارج ہونے والے اجزاء ، اس کی راحت اورنقصان دہ اثرات سے سلامتی کاذریعہ ہوتے ہیں، اگریہ اجزاء جسم انسانی سے باہر نہ آئیں توجسم کئی قسم کی بیماریوں کاشکارہوجاتاہے، پھران میں سے بعض اجزاء توبہت سارے فوائدکے بھی حامل ہوتے ہیں، جس کاصاف مطلب یہ ہوتاہے کہ اگران اجزاء کااخراج نہ ہوتوہم جہاں ان فوائد سے محروم رہیں گے، وہیں ہماراجسم ان کے نقصان دہ اثرات سے غیرمحفوظ رہے گا، جس کانتیجہ کئی قسم کی بیماریوں کے لپیٹ میں آناہے،انھیں اجزاء میں سے ایک آنسوبھی ہے۔
آنسوکوعربی میں’’دمع‘‘ کہتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے،اللہ کے رسول ﷺ نے بھی اسے رحمت قراردیاہے؛ چنانچہ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے، آں حضرت ﷺ کوآپ کی صاحبزادی (حضرت زینبؓ)نے یہ پیغام بھیجاکہ میرے ایک بچہ کاانتقال ہورہاہے، لہٰذا آپ تشریف لائیں، حضوراکرم ﷺ نے انھیں سلام بھجوایااوریہ دعاپڑھی:
إن للہ ماأخذ، ولہ ماأعطی، وکلٌّ عندہ بأجل مسمی۔
بیشک اللہ ہی کاہے، جواس نے لیااوراسی کاہے، جواس نے دیا، اس کے پاس ہرچیزکاایک متعین وقت ہے۔
اور صبرکرنے اورثواب کی امیدرکھنے کاحکم دیا، آپ ﷺکی صاحبزادی نے دوبارہ قسم دے کرکہلا بھیجا کہ ضرورتشریف لائیں، نبی کریمﷺ سعد بن عبادہ، معاذبن جبل، ابی بن کعب اورزیدبن ثابت وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے ہمراہ تشریف لائے، اس وقت بچہ کی سانس اکھڑ اکھڑ کر چل رہی تھی، (یہ دیکھ کر)آپﷺ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے،سعدبن عبادہ نے سوال کیا: یہ کیاہے؟(آپ تومیت پررونے سے منع کرتے ہیں اور خود کی آنکھوں سے آنسورواں ہیں) اس پرآپﷺ نے فرمایا:
ہذہ رحمۃجعلہااللہ فی قلوب عبادہ، وإنمایرحم اللہ من عبادہ الرحماء۔(بخاری، باب قول النبیﷺ: یعذب المیت ببکاء أہلہ علیہ،حدیث نمبر: ۱۲۸۴)
یہ توایک رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے قلوب میں رکھاہے اوراللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پررحم کرتاہے۔
قرآن میں آنسوکاذکر
قرآن واحادیث بھی اس کے ذکرسے خالی نہیں ہیں؛ چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْن۔(المائدۃ: ۸۳)
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (اللہ کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے رب! ہم ایمان لے آئے تو ہمیں ماننے والوں میں لکھ لے ۔
نیز ایک دوسری آیت میںہے:
وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْْہِ تَوَلَّواْ وَّأَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً أَلاَّ یَجِدُواْ مَا یُنفِقُون۔(التوبۃ: ۹۲)
اور نہ ان (بے سرو سامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ اُن کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
احادیث میں آنسو
بہ کثرت احادیث میں آنکھ سے آنسونکلنے کاذکرموجودہے، یہاں دوچارکے ذکرپراکتفاکیاجاتاہے۔
۱- غزوۂ موتہ کے موقع سے میدان کارزارکی حالت بتاتے ہوئے اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
أخذالرایۃ زید، فأصیب ،ثم أخذہا جعفر، فأصیب، ثم أخذہاعبداللہ بن رواحۃ، فأصیب- وإن عینی رسول اللہ ﷺ لتذرفان- ثم أخذہا خالدبن الولیدمن غیرإمرۃ، ففتح لہ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۱۸۹)
زیدنے جھنڈالیا، وہ شہیدہوگئے، پھرجعفرنے جھنڈالیا، وہ(بھی) شہیدہوگئے، پھرعبداللہ بن رواحہ نے جھنڈالیا، وہ(بھی) شہیدہوگئے-(راوی حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ)آپ ﷺکی دونوں آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے- پھربغیرحکم کے حضرت خالدبن ولیدنے جھنڈے کوتھاماتواللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوںفتح عطافرمایا۔
۲- حضرت سائب بن یزیدسے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:
أن النبی ﷺ لماہلک ابنہ طاہر، ذرفت عین النبی ﷺ، فقیل: یارسول اللہ! بکیت؟ فقال النبی ﷺ: إن العین تذرف، وإن الدمع یغلب، وإن القلب یحزن، ولانعصی اللہ عزوجل۔ (معجم الکبیرللطبرانی، حدیث نمبر: ۶۶۶۷)
جب رسول اللہ ﷺکے بیٹے طاہرکی وفات ہوئی توآں حضرت ﷺکی آنکھیں چھلک پڑیں، پوچھاگیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی روئے؟ تواللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: آنکھیں چھلک پڑیں، آنسوغالب آگئے، دل غم زدہ ہے؛ لیکن ہم اللہ عز وجل کی نافرمان نہیں ہیں۔
۳- حضرت جابرعبداللہؓفرماتے ہیں:
دخلنامکۃ عندارتفاع الضحی، فأتی النبیﷺ باب المسجد، فأناخ راحلتہ، ثم دخل المسجد، فبدأبالحجر، فاستلمہ، وفاضت عیناہ بالبکاء، ثم رمل ثلاثاً، ومشی أربعاً؛ حتی فرغ، فلما فرغ قبل الحجر، ووضع یدیہ علیہ ومسح بہما وجہہ۔ (المستدرک للحاکم، حدیث نمبر: ۱۶۷۱)
ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے، آپﷺ مسجد کے دروازہ پرآئے اوراپنی سواری کو بٹھایا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اورحجراسودسے آغازکیا، اس کااستلام کیا، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسورواں تھے، پھرآپ نے تین مرتبہ رمل کیا، اورچارمرتبہ پیادہ پاچلے؛ یہاں تک کہ فارغ ہوئے، فراغت کے بعد حجراسودکوبوسہ دیا، اس پراپناہاتھ رکھااوراپنے چہرے پرپھیرلیا۔
بطورمثال یہاں چند حدیثیں پیش کی گئیں، ورنہ ذخیرۂ احادیث میں آنسوکے ذکرکابھی ذخیرہ موجودہے۔
فوائد
ذہنی تناؤ اوردماغی صحت کوبڑھانے کے لئے ہنسنایقیناً مؤثرکن ہے؛ لیکن جسم انسانی سے نکلنے والایہ نمکین پانی ، جسے ہم بے قدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آج کی جدیدتحقیق نے اس کے بھی اچھے خاصے فائدے ذکرکئے ہیں، حتی کہ جاپانی ماہرین نے یہ مشورہ تک دے ڈالاہے کہ ’’ہرشخص کوذہنی تناؤ کم کرنے کے لئے ہفتے میں کم ازکم پندرہ(۱۵)منٹ روناچاہئے‘‘،لہٰذا آیئے انسانی جسم سے خارج ہونے والے اس نمکین پانی کے کچھ موٹے موٹے فوائد ہم بھی جانتے چلیں:
جسم سے زہریلے مادوں کااخراج
انسانی جسم کے اندرکئی طرح کے ہارومونس(Hormones) ہوتے ہیں، یہ ہارمون کبھی مفید توکبھی مضربھی ہوتے ہیں، ان ہارمونس میں ایک کورٹیسول (Cortisol) بھی ہے، یہ ذہنی دباؤ کے شکاررہنے والے افرادکے دماغ اورجسم کے لئے نقصان کاباعث بنتاہے، رونے سے اس ہارمون میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے انسان اس کے مضراثرات سے محفوظ ہوجاتاہے۔
جذباتی تکالیف سے نجات
جذباتی تکلیف(Emotional Distress) بعض دفعہ جسمانی تکلیف سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، اس تکلیف کوکم کرنے کاقدرتی ذریعہ ’’رونا‘‘ہے؛ کیوں کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ رونے کی وجہ سے دماغ کے اندرموجودجذباتی تکلیف میںاضافہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نیوروٹرانسمیٹرز (Neurotransmitters) میں کمی واقع ہوتی ہے، جس کے سبب انسان کو جذباتی تکلیف سے نجات ملتی ہے۔
جراثیم کش
جسم انسانی میں کئی قسم کے خطرناک بیکٹریاز بھی موجودہیں، جن کے اخراج کے اللہ تعالیٰ نے کئی ذرائع بنائے، جس کی وجہ سے انسان کی صحت متاثر نہیں ہوتی، اگران کااخراج رک جائے توپھرجسم انسانی بیماری کاشکاربن جاتاہے، انسانی جسم کے اندرلائسوزائم(Lysosomes)نامی ایک خطرناک قسم کا بیکٹریابھی ہے، جس کے اخراج کاذریعہ ’’رونا‘‘ہے، لہٰذا روناجراثیم کش بھی ہے، جولائسوزائم نامی بیکٹریاکوانسان کے جسم سے باہرنکالتاہے اوربیماری سے بچاتاہے۔
بوجھل طبیعت سے چھٹکارا
فکرکاہجوم، کام کی کثرت اورتسلسل کے ساتھ سعی ناکام انسان کی طبیعت کے اندراضمحلال پیداکردیتاہے، جس کودورکرنے کاایک قدرتی ذریعہ آنسوبہاناہے، اگرطبیعت کی پژمردگی کے باوجودانسان اپنی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتاہے تویہ اس کے جسم کے لئے نقصان دہ ہوسکتاہے، کبھی بلڈپریشر، ذیابطیس اورامراض قلب لاحق ہونے کے خدشات پیداہوجاتے ہیں؛ لیکن آنسوان خدشات سے نجات دے کرطبیعت کے اضمحلال کودورکردیتاہے کہ یہ جسم انسانی میں موجود کولیسٹرول اورذہنی دباؤکوکم کرتاہے، جوان خدشات کے اصل اسباب میں سے ہیں۔
بینائی میں اضافہ
آنسوآنکھ کی پتلی اوردیدے کونمی فراہم کرتاہے، جس سے انسانی بینائی کوتقویت ملتی ہے، نیزآنسوروک کررکھنے سے آنکھوں میں ڈی ہائڈریشن (Dehydration) ہوجاتی ہے، جوبینائی کی کمزوری کاایک سبب ہے،اگرہفتہ میں ایک باررولیاجائے تویہ کمزوری ختم ہوجاتی ہے اوربینائی میں اضافہ ہوجاتاہے۔
نومولودبچوں کی نشوونما
طبی ماہرین کاکہناہے کہ نومولودیا پانچ سال سے کم عمرکے بچوں کے لئے روناصحت مندی کی علامت ہے، جواس کی نشوونماکے لئے نہایت ضروری ہے،نہ رونے والے بچہ کی نشوونمامتاثرہوتی ہے اوروہ جسمانی طورپرکمزورہوجاتاہے۔
قوت مدافعت میں استحکام
انسانی جسم کی صحت کامداراس کی قوت مدافعت پرہوتاہے، قوت مدافعت جتنی طاقت ورہوگی، جسم بیماریوں سے اتناہی دوررہے گا، یہی وجہ ہے کہ جوانسان حادثات پربھی نہیں روتا، وہ ذہنی طورپرمعذورہوتاہے، ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایمونیاسسٹم بنانے کے قدرتی کیمیکلزرونے کی وجہ سے اخراج کرتے ہیں، جس سے قوت مدافعت کے اندراستحکام اورمضبوطی آتی ہے۔
دلی سکون کاذریعہ
بعض دفعہ انسان غم کی شدت میںہوتاہے اوربے کیف طبیعت کے ساتھ وہ الجھن میں پڑجاتاہے، ایسے وقت میں اگرآنکھوں سے آنسو بہالیا جائے تو غم کی شدت کم ہوجاتی ہے اوریہ دلی سکون کاباعث بنتاہے۔
(https://www.urdu.arunews.tv/why-criying-is-good-for-health,https://www.humnews.pk/latest/221648/,https://ww.sunehardaur.com)
آنسوکے فوائدجان لینے کے بعدآیئے اس سے متعلق کچھ مسائل اوران کے احکام پربھی نظرڈال لیتے ہیں:
اللہ کی یاد میں آنسوبہانا
اس دنیامیں بسنے والے لوگوں میں سے کوئی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتاکہ اس کی آنکھ سے آنسو نہیں نکلتے؛ کیوں کہ یہ آنسوجہاں بات منوانے کاذریعہ ہیں، وہیں غلطیوں کی معافی کاسبب بھی ہیں۔
کچھ لوگ دنیاوی غرض کے لئے آنسوبہاتے ہیں؛ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جن کی آنکھوں سے نمکین پانی کاقطرہ اپنے رب کے ڈرکی وجہ سے نکلتاہے، یہی وجہ ہے کہ خالقِ کائنات کو اپنے بندے کی آنکھوں سے ٹپکنے والاآنسوکاقطرہ بڑاپیارالگتاہے؛ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے:
مامن قطرۃ أحب إلی اللہ عز وجل من قطرۃ دمع من خشیۃ اللہ۔(کتاب الزہدوالرقائق لابن المبارک، باب ماجاء فی الشح، حدیث نمبر: ۶۷۲، نیز دیکھئے: شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر: ۷۹۵۵)
اللہ کے خوف سے ٹپکائے ہوئے آنسوکے قطرہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قطرہ محبوب نہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اس آنسوکی بھی قدردانی کرتاہے، جواس کی یادمیں گرایاجائے؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ کاارشادہے:
سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ، یوم لاظل إلاظلہ …… ورجل ذکراللہ خالیاً ففاضت عیناہ۔(بخاری، باب من جلس فی المسجد ینتظرالصلاۃ ، حدیث نمبر: ۶۶۰)
سات(خوش نصیب)لوگ ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ اپناسایہ اس(قیامت کے)دن نصیب کرے گا، جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا …(ان میں سے )ایک وہ شخص ہوگا، جس نے تنہائی میں اللہ کویادکیا، جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں اشک بارہوگئیں۔
معلوم ہواکہ اللہ کے ڈرسے اوراس کی یادمیں آنسوبہاناایک ایسا مبارک عمل ہے، جس کی بھرپورقدردانی بذاتِ خود اللہ تبارک وتعالیٰ کرتاہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے رہناچاہئے، اللہ عزوجل ہمیں اس کی توفیق دے، آمین!
آنسوپاک ہے یانجس؟
آنسوجسم انسانی سے خارج ہونے والی ان اشیاء میں سے ہے، جسے پاک قراردیاگیاہے، حنلی فقیہ شمس الدین محمد بن عبداللہ زرکشی ؒلکھتے ہیں:
الخارج من الإنسان ثلاثۃ أقسام: (طاہر) بلانزاع، وہوالدمع، والعرق، والریق، والمخاط، والبصاق۔ (شرح الزرکشی، فی بحث بول الآدمی وبول الحیوان غیرمأکول: ۲؍۳۹)
انسان کے جسم سے تین قسم کی چیزیں خارج ہوتی ہیں(پہلی قسم) بغیرکسی اختلاف کے پاک ہے اوروہ آنسو، پسینہ، تھوک، رینٹ ہے۔
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
فإن کان الخارج طاہراً مثل الدمع…لاینقض الوضوء بالإجماع۔ (تحفۃ الفقہاء، باب الحدث:۱؍۱۸)
اگر(سبیلین کے علاوہ جسم کے دوسرے حصے سے)خارج ہونے والی چیزپاک ہے، جیسے: آنسو…توبالاجماع وضو شکست نہیں ہوگا۔
کیاآنسونکلنے سے وضوٹوٹتاہے؟
آنسوکاشماراُن اجزاء میں ہے، جونہ خودنجس ہے اورناہی نجاست والی جگہوں سے گزرکرنکلتاہے؛ اس لئے اس کے نکلنے سے وضونہیں ٹوٹتا، مشہور فقیہ علاء الدین سمرقندیؒ لکھتے ہیں:
فإن کان الخارج طاہراً مثل الدمع والریق والمخاط والعرق واللبن ونحوہا، لانیقض الوضوء بالإجماع۔ (تحفۃ الفقہا، باب الحدث: ۱؍۱۸)
اگر(سبیلین کے علاوہ جسم کے کسی حصہ سے )خارج ہونے والی چیزپاک ہے، جیسے: آنسو، تھوک، رینٹ، پسینہ اوردودھ وغیرہ توبالاجماع وضوشکست نہیں ہوتا۔
لیکن چوں کہ یہ خالص پانی نہیں ہے؛ اس لئے اس سے وضودرست نہیں ہوگا، حضرت عطاؒفرماتے ہیں:
لاوضوء من دمع عین ولامماسال من الأنف۔(مصنف عبدالرزاق، اثرنمبر: ۵۵۹)
نہ توآنکھ کے آنسوسے وضو(درست)ہوگا اورناہی ناک سے بہنے والی چیزسے۔
اگربیماری کی وجہ سے مسلسل آنکھ سے آنسوآئے؟
عموماً جن امراض کی بنیادپرآنکھوں سے مسلسل آنسوبہتارہتاہے، وہ تین ہیں:
۱- ’’رمد‘‘یعنی آشوب چشم، جسے آنکھ آنابھی کہاجاتاہے۔
۲- ’’عمش‘‘ یعنی آنسوکے اکثراوقات بہنے کی وجہ سے ضعف بصارت۔
۳- ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی۔
اگرکسی کو’’رمد‘‘یعنی آشوبِ چشم یا’’عمش‘‘ یعنی آنسوکے اکثراوقات بہنے کی وجہ سے ضعف بصارت کامرض ہوجائے، جس کی وجہ سے مسلسل آنسونکلے، تواس آنسوسے وضوٹوٹ جاتاہے؛ البتہ آنسوکے تسلسل کی وجہ سے یہ شخص ’’معذور‘‘ کے حکم میں ہوگا، ملاخسروؒ لکھتے ہیں:
فی عینہ رمد أوعمش، إن خرج منہا الدمع نقض، وإن استمرصارصاحب عذر۔ (دررالحکام شرح غررالحکام، نواقض الوضوء: ۱؍۱۶)
آنکھ میں رمد(آشوبِ چشم) یاعمش(آنکھوں سے پانی جارہی رہنے کی بیماری )ہو، اگراس سے آنسونکلے تووضوشکست ہوگیا اوراگرآنسونکلنے میں تسلسل ہوجائے تووہ صاحبِ عذرہوگیا۔
علامہ ابن ہمام ؒ فرماتے ہیں کہ آنسوکے تسلسل کی وجہ سے کچ لہوکااحتمال ہوتاہے؛ اس لئے ہرنمازکے وقت کے لئے استحبابی طورپر وضوکرنے کاحکم دیاجائے گا؛ البتہ طبی ذرائع یاعلامات سے غلبۂ ظن ہوجائے کہ یہ کچ لہوہی ہے توپھرہرنماز کے وقت میں وضوکرناواجب ہوگا، وہ رقم طراز ہیں:
فی عینہ رمدیسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا، وأقول: ہذاالتعلیل یقتضی أنہ أمراستحباب، فإن الشک والاحتمال فی کونہ ناقضاً لایوجب الحکم بالنقض، إذالیقین لایزول بالشک، واللہ أعلم، نعم إذٓعلم من طریق غلبۃ الظن بإخبارالأطباء أوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب۔ (شرح فتح القدیر،فصل فی الاستحاضۃ : ۱؍۱۸۷)
آشوبِ چشم کی وجہ سے آنسوبہتاہوتوخون ملی پیپ کے احتمال کی وجہ سے ہر(نمازکے)وقت کے لئے وضوء کاحکم دیاجائے گا، میں(علامہ ابن ہمامؒ) کہتاہوں: یہ علت استحبابی حکم کاتقاضہ کرتی ہے؛ کیوں کہ ناقض ہونے کے سلسلہ میں شک و احتمال نقض کے حکم کوواجب نہیں کرتا کہ یقین شک کے ذریعہ سے ختم نہیں ہوتا، واللہ أعلم، ہاں غلبۂ ظن سے معلوم ہوجائے اس طورپرکہ ڈاکٹروں نے بتلایاہو یا ایسی علامات ہوں، جن سے مبتلی (مریض) کوغلبۂ ظن حاصل ہوجائے تو (ہرنمازکے وقت کے لئے وضو) واجب ہے۔
جہاں تک ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی کاتعلق ہے تواس سے نکلنے والے پانی سے بھی وضوٹوٹ جائے گا اورتسلسل کے ساتھ نکلنے کی صورت میں وہ شخص بھی ’’معذور‘‘ کے حکم میں ہوکر ہر نماز کے وقت کے لئے وضوکرے گا، علامہ ابن ہمام ؒ لکھتے ہیں:
وفی التجنیس: الغَرَب فی العین إذاسال منہ ماء نقض؛ لأنہ کالجرح ولیس بدمع۔ (شرح فتح القدیر، فی نواقض الوضوء: ۱؍۶۲)
’’تجنیس‘‘ میں ہے کہ آنکھ کے ’’غرَب‘‘ (یعنی آنکھ کااندرونی ورم یاپھنسی)سے جب پانی بہے تووضوشکست ہوجاتاہے؛ کیوں کہ یہ زخم کی طرح ہے ، آنسونہیں۔
اگردوران نماز آنسونکل آئے؟
اگردورانِ نماز آنسونکل آئے تواس کی دوصورتیں ہیں:
۱- آنسوبغیرآواز کے نکلے، ایسی صورت میں نمازفاسد نہیں ہوگی۔
۲- آنسوآواز کے ساتھ نکلے اورآواز اتنی بلندہوکہ حروف ظاہرہوجاتے ہوںتواس کی دونوعیتیں ہیں:
(الف) جنت اوردوزخ کے ذکرکی وجہ سے ہو، ایسی صورت میں نمازفاسد نہیں ہوگی۔
(ب) مصیبت اورتکلیف کی وجہ سے ہو، ایسی صورت میں نماز فاسدہوجائے گی، علامہ اوزجندیؒ رقم طراز ہیں:
ولوبکی فی صلاتہ، فإن سال دمعہ من غیرصوت، لاتفسد صلاتہ، وإن ارتفع صوتہ فحصل بہ حروف، إن کان من ذکرالجنۃ والنار، لم تفسد صلاتہ، وإن کان من وجع، أومصیبۃ تفسد صلاتہ۔ (فتاوی قاضی خاں علی ہامش الہندیۃ، فصل فیمایفسد الصلاۃ: ۱؍۱۳۶)
اگرنمازمیں روئے، پس اگرآنسوبغیرآواز کے نکلے تونماز فاسد نہیں ہوگی، (لیکن) اگرآواز اتنی بلند ہوکہ حروف ظاہر ہو جاتے ہوں تواگرجنت ودوزخ کے ذکرکی وجہ سے ہوتونماز فاسد نہیں ہوگی اوراگرکسی دردوتکلیف کی وجہ سے ہوتونماز فاسد ہوجائے گی۔
اگرروزہ کی حالت میں آنسومنھ میں داخل ہوجائے؟
اگرروزہ کی حالت میں آنسومنھ میں چلاجائے اوراس کی نمکینیت محسوس ہوتوروزہ ٹوٹ جائے گا، اگرنمکینیت محسوس نہ ہوتوروزہ نہیں ٹوٹے گا، علامہ اوزجندیؒ لکھتے ہیں:
ولودخل دمعہ، أوعرق جبہتہ، أودم رعافہ حلقہ فسدصومہ۔(فتاوی قاضی خاں علی ہامش الہندیۃ، فیمایفسد الصوم: ۱؍۲۱۱)
اگر(روزہ دارکے)حلق میں آنسویاپیشانی کاپسینہ یانکسیرکاخون داخل ہوجائے توروزہ ٹوٹ جائے گا۔
حلق میں ان چیزوں کے داخل ہونے کامطلب یہ ہے کہ نمکینیت محسوس کی جائے؛ چنانچہ علامہ ابن ہمامؒ لکھتے ہیں:
والأولی عندی الاعتبار بوجدان الملوحۃ لصحیح الحس؛ لأنہ لاضرورۃ فی أکثر من ذلک القدر۔ (شرح فتح القدیر، کتاب اکصوم، مایوجب القضاء والکفارۃ:۲؍۳۳۷)
میرے نزدیک صحیح الحس شخص کے لئے نمکینیت محسوس ہونے کااعتبارزیادہ بہترہے؛ کیوںکہ اس سے زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں آنسوسے مرادوہ آنسوہے، جوظاہری آنکھ سے آنے والاہو، اگرمسامات کے ذریعہ سے حلق میں پہنچے تو تواس کاحکم تھوک کاہوگا اگرچہ کہ اس کا مزاپورے منھ میں محسوس کیاجائے، علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
ثم فی التعبیر بالقطرۃ إشارۃ إلی أن المراد الدمع النازل من ظاہرالعین، أماالواصل إلی الحلق من المسام، فالظاہرأنہ مثل الریق، فلایفطر، وإن وجدطعمہ فی جمیع فمہ۔ (ردالمحتار،کتاب الصوم:۳؍۳۷۸)
پھر’’قطرۃ‘‘ کی تعبیراختیارکرنے میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ’’دمع‘‘سے مرادظاہری آنکھ سے اترنے والا آنسو ہے، اگرمسامات کے ذریعہ سے حلق میں پہنچے تو تواس کاحکم تھوک کاہوگا اگرچہ کہ اس کامزاپورے منھ میں محسوس کیاجائے۔
میت پرآنسوبہانا
کسی کی موت کے بعداس پررونے اورآنسوبہانے کی دوصورتیں ہیں:
۱- دھاڑیں مارکریا لوگوں کوجمع کرکے یاپھرمیت کی وصیت کی وجہ سے رونا: حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے اس کے تعلق سے فرمایا:
إن المیت لیعدب ببکاء أہلہ علیہ۔ (بخاری،باب قول النبی ﷺ: یعذب المیت ببعض بکاء أہلہ علیہ…، حدیث نمبر: ۱۲۸۶، مسلم، حدیث نمبر: ۹۲۷)
بلاشبہ میت پرگھروالوںکے رونے کی وجہ سے اس پرعذاب ہوتاہے۔
چوں کہ ایساکرنانوحہ کے قبیل سے ہے، جوزمانۂ جاہلیت کے غلط رسوم میں سے ہے؛ اس لئے آں حضرت ﷺ نے منع فرمایاہے۔
۲- شدتِ غم کی وجہ سے آنسو نکل آنا: یہ اُس رحم دلی کا تقاضہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں ودیعت کررکھی ہے، خود آپ ﷺ کی آنکھوں سے بھی آنسوجاری ہوئے ہیں، جس کی تفصیل پیچھے حدیث میں گزرچکی ہے، اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے:
ألاتسمعون؟إن اللہ لایعذب بدمع العین ولابحزن القلب۔ (بخاری، باب البکاء عندالمریض، حدیث نمبر: ۱۳۰۴)
کیاتم سنتے نہیں؟ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسواوردل کے غم کی وجہ سے عذاب نہیں دیتا۔
فقہائے کرام ؒ لکھتے ہیں:
ولابأس بإرسال الدمع والبکاء من غیرنیاحۃ۔ (فتح القدیر، الصلاۃ علی المیت: ۳؍۳۹۵، البحرالرائق، شروط صلاۃ الجنازۃ: ۲؍۱۹۵)
بغیرنوحہ کے رونے اورآنسوبہانے میں کوئی حرج نہیں۔
معلوم ہواکہ اگرکسی کاانتقال ہوجائے توخاموش آنسؤوں کے ساتھ رونے کی ممانعت نہیں ہے، چیخ چلاکررونے کی ممانعت ہے کہ نوحہ کے مشابہ ہے ۔
اجازتِ نکاح کے وقت آنسونکلنا
اگراجازتِ نکاح کے وقت لڑکی کی آنکھوں سے آنسونکلے توکیا اسے اجازت سمجھا جائے گا یا نکاح کو رد کرنا تصورکیاجائے گا؟ اس سلسلہ میں مسئلہ کی دوصورتیں ہیں:
۱- آنسوبغیرآواز کے نکلے، ایسی صورت میں اجازت سمجھی جائے گی اوراس کوگھروالوں کی جدائے گی پرآنسو بہانا سمجھا جائے گا، علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
وأماإذاخرج الدمع من غیرصوت، لایکون رداً؛ لأنہا تحزن علی مفارقۃ بیت أبویہا، وعلیہ الفتوی، وإنمایکون ذلک عندالإجازۃ۔ (منحۃ الخالق علی ہامش البحرالرائق، باب الأولیاء والأکفاء:۳؍۱۹۹)
جہاں تک اس کاتعلق ہے کہ آنسوبغیر آواز کے نکلے تویہ ردکرنا نہیں ہوگا؛ بل کہ اسے والدین کے گھر کو چھوڑنے پرغم کی وجہ سے سمجھاجائے گا، اسی پرفتوی ہے، اوریہ مسئلہ اجازت کے وقت کاہے۔
۲- آنسوآواز کے ساتھ نکلے، ایسی صورت میں اجازت نہیں سمجھی جائے گی کہ عموماً ایسی شکل ناراضگی اورناپسندیدگی کے وقت پیش آتی ہے، علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:
وإن کان بصوت فلیس بإذن؛ لأنہ دلیل السخط والکراہۃ غالباً۔( البحرالرائق، باب الأولیاء والأکفاء:۳؍۱۹۹)
اگرآواز کے ساتھ ہوتویہ اجازت نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ عموماً یہ راضگی اورناپسندیدگی کی دلیل ہوتی ہے۔
اس سلسلہ میں علامہ ابن ہمام ؒ کی رائے کوپرعمل کرنامناسب معلوم ہوتاہے، وہ فرماتے ہیں:
والمعول اعتبار قرائن الأحوال فی البکاء والضحک، فإن تعارضت، أو أشکلت احتیط۔ (فتح القدیر:۳؍۲۵۶)
ہنسنے اوررونے کے سلسلہ میں معتمدعلیہ بات قرائن احوال کااعتبارکرناہے، پس اگرتعارض یااشکال واقع ہوتواحتیاط بہتر ہے۔
دعاکے وقت آنسوبہانا
دعا مانگنے اورگناہوں کی بخشش کاایک اہم ذریعہ ہے، لہٰذا دعامانگتے وقت جس قدر مسکینیت ، عاجزی ، درماندگی اورخوشامدہوگی، قبولیت کے امکانات زیادہ ہوں گے، اپنی بے مائے گی کے اظہارکاایک طریقہ گڑگڑانا اور آنسوبہانا بھی ہے؛ اس لئے دعامیں آنسو بہانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ علاماتِ قبولیت میں سے ہے، حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
ویجتہدعلی أن یخرج من عینیہ قطرات من الدمع، فإنہ دلیل القبول۔ (حاشیۃ الطہطاوی علی مراقی الفلاح،ص: ۷۳۵، رد المحتار، کتاب الحج: ۹؍۱۷۶، فتح القدیر، کتاب الحج، مسائل منثورۃ: ۶؍۲۵۷)
اوردعاکے وقت آنکھوں سے آنسونکالنے کی کوشش کرے کہ یہ قبولیت کی دلیل ہے۔
ایسی تلاوت، جولوگوں کی آنکھوں سے آنسوجاری کردے
تلاوتِ قرآن کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ :
زینوالقرآن بأصواتکم۔ (سنن أبی داود، حدیث نمبر: ۱۴۶۸)
قرآن کواپنی آواز سے مزین کرو۔
یعنی قرآن ایسی آواز میں پڑھو، جوسننے والے کے دل کوموہ لے، یہی وجہ ہے کہ تحسینِ صوت اورتزئین ِ قراء ت کوفقہاء نے مستحب قراردیاہے، علامہ عالم بن علاء دہلویؒ لکھتے ہیں:
إن کان الألحان لایغیرالکلمۃ عن موضعہا، ولایؤدی التغنی بہا إلی تطویل الحروف التی حصل التغنی بہا حتی لایصیر الحرف حرفین؛ بل یحسنہ تحسین الصوت وتزیین القراء ۃ، لایوجب ذلک فساد الصلاۃ، وذلک مستحب عندنافی الصلاۃ وخارجہا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ:۱؍۳۱۱)
اگرلحن کلمہ کواس کی جگہ سے نہ تبدیل کرے اورغنائیت حرف کواتناطویل نہ کرے کہ ایک حرف دومعلوم ہونے لگے؛ بل کہ اس کی وجہ سے تحسینِ صوت اورتزئینِ قراء ت ہوتی ہو، یہ فساد نماز کولازم نہیں کرتے، اوریہ ہمارے نزدیک نماز کے اندراورباہر(دونوں جگہوں میں) مستحب ہے۔
جس طرح علماء نے تحسینِ صوت اورتزئینِ قراء ت کومستحب قراردیاہے، اسی طرح ایسی قراء ت کرنے کوبھی مستحب قراردیاہے، جولوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگادے، علامہ تورپشتیؒ فرماتے ہیں:
القراء ۃ علی الوجہ الذی یہیج الوجدفی قلوب السامعین، ویورث الحزن، ویجلب الدمع مستحبۃ مالم یخرجہ التغنی عن التجوید، ولم یصرفہ عن مراعاۃ النظم فی الکلمات والحروف۔ (بریقۃ محمودیۃفی شرح طریقۃ محمدیۃ وشریعۃ نبویۃ فی سیرۃ أحمدیۃ لأبی سعیدمحمدبن محمدالخادمی الحنفی: ۳؍۲۱۸)
ایسے طریقہ پرقراء ت کرنا، جوسامعین کے دلوں میں غم اورگھٹن پیداکردے اورآنسوؤں کی لڑی لگادے، مستحب ہے، جب تک غنائیت تجوید(کے حدود)سے باہر اورحروف وکلمات میں نظم کی رعایت سے دورنہ کردے( ورنہ قراء ت مکروہ تحریمی ہوگی)۔
آنسوکی طرف طلاق کی اضافت(نسبت) کرنا
اگرطلاق دینے میں اعضاء واجزائے جسم کی طرف طلاق کی نسبت کرکے الفاظ استعمال کرے تواس کی دوصورتیں ہیں:
۱- ان اعضاء کی طرف طلاق کی نسبت کرے، جن سے پوراجسم مرادلیاجاتاہے، ایسی صورت طلاق واقع ہوجائے گی۔
۲- ان اعضاء(اجزاء) کی طرف طلاق کی نسبت کرے، جن سے لطف اندوزنہیں ہواجاتا، ایسی صورت طلاق واقع نہیں ہو گی، علامہ ابن مازہ بخاریؒ لکھتے ہیں:
أن کل مایعبربہ عن جمیع البدن نحوالرأس، والرقبۃ، والفرج، والوجہ یصح إضافۃ الطلاق إلیہ، وکل جزء لایعتبربہ عن جمیع البدن، إن کان جزء اً لایستمتع بہ نحو الدمع، والریق ،والدم لایصح إضافۃ الطلاق إلیہ بالاتفاق۔ (المحیط البرہانی، فیمایرجع إلی صریح الطلاق: ۳؍۲۱۴)
ہروہ عضو، جس سے پورے جسم کی تعبیرہوتی ہے، جیسے: سر، گردن، شرم گاہ اورچہرہ، ان کی طرف طلاق کی اضافت کرنا درست ہے اورہروہ جزء، جس سے لطف اندوز نہیں ہواجاتا،جیسے: آنسو، تھوک اورخون، ان کی طرف طلاق کی اضافت درست نہیں۔
لہٰذا آنسوکی طرف طلاق کی اضافت(نسبت)کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اگرکھانے پینے کی چیز وں میں آنسو گرجائے؟
اگرکھانے اورپینے کی کسی چیز میں آنسوگرجائے توان چیزوں کوکھانا اورپینادرست ہے یانہیں؟ اس سلسلہ میں مسئلہ کی دونوعیتیں ہیں:
۱- عام حالت کے آنسوکھانے اورپینے کی اشیاء میں گریں، ایسی صورت میں کھانے اورپینے کی گنجائش ہے، فتاوی ہندیہ میں ہے:
ویجوز أکل مرقۃ یقع فیہا عرق الآدمی، أونخامتہ، أودمعہ۔ (الفتاوی الہندیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہۃ فی الأکل ومایتصل بہ: ۵؍۴۱۸)
ایسے شوربے کااستعال جائز ہے، جس میں انسان کاپسینہ یابلغم یاآنسوگرجائے۔
۲- امراض کی وجہ سے نکلنے والے آنسوکھانے اورپینے کی چیزوں میں گریں، ایسی صورت میں چوں کہ پیپ اورخون وغیرہ کی آمیزش کااحتمال رہتاہے، جس کی وجہ سے ایسے آنسوکونجس بھی قراردیاگیاہے؛ چنانچہ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
وفی الخانیۃ: الغرب فی العین بمنزلۃ الجرح، فمایسیل منہ فہونجس۔ (ردالمحتار، نواقض الوضوء: ۱؍۲۸۰)
خانیہ میں ہے کہ ’’غرَب‘‘ یعنی آنکھ کا اندرونی ورم یاپھنسی زخم کے درجہ میں ہے، پس جوکچھ اس سے بہے، وہ نجس ہے۔
اس لئے ایسی صورت میں کھانے پینے کی چیزوں کوکھانے اورپینے کی اجازت نہیں ہوگی؛ البتہ کھانا اگر خشک اشیاء میں سے ہوتوآنسوگرنے کی جگہ اوراس کے اطراف کودورکرنے کے بعدکھانے کی گنجائش ہوگی، واللہ أعلم بالصواب!

















