Wednesday, 31 March 2021

اپریل فول: جھوٹ کاعالمی دن (تاریخی وشرعی جائزہ)

اپریل فول:  جھوٹ کاعالمی دن

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


ٹرن…ٹرن…ٹرن کی آواز سن کرراکیش نے ریسیور کان سے لگایا، اپنے دوست راجوکی آواز سن خوش ہوگیا، خوشی کوسمیٹنے کی کوشش ہی کررہاتھا کہ ریسیوراس کے ہاتھ سے جھوٹ گرااوروہ بھاگابھاگااوپرکے کمرے میں بند ہوگیا، روتارہاروتارہا، بالآخرپنکھے سے جھولنے میں ہی عافیت سمجھی، راجوکوجب اس کی خبرہوئی توسرپکڑکربیٹھ گیا، اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، وہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اپریل فول کی مناسبت سے دی گئی فیل ہونے کی ایک جھوٹی خبراس کے پیارے دوست کی جان تک لے سکتی ہے۔

راحیل اپنے دوستوں کے ساتھ خوشگپیوں میں مشغول تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ ہوئی، پڑوس کی آنٹی کی بیٹی تھی، چھوٹتے ہی کہا: جلدی سے آؤ، تمہاری ممی کی طبیعت بہت خراب ہے، راحیل دوستوں کویہ خبردیتے ہوئے جھٹ سے اٹھا؛ لیکن دوستوں نے آگاہ کیاکہ آج فرسٹ اپریل ہے، راحیل جھٹکے کے ساتھ بیٹھ گیا اورخوش گپیوں میں مشغول ہوگیا، اِدھرماں زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے ہارگئی، جب راحیل گھرپہنچا توپیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی، گھرمیں کہرام بپاتھا۔

یہ اوراس طرح کے دسیوں واقعات اپریل کی پہلی تاریخ کورونماہوتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجودلوگ اس دن فخرکے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، عجب نہیں کہ کچھ آج کے دن جھوٹ بولنے کوعبادت بھی سمجھتے ہوں، بدقسمتی سے یہ برائی ہمارے مسلم معاشرہ کے روشن خیال گھرانوں میں بھی گھس چکی ہے اوروہ بھی اس دن جھوٹ بول کردوسرے کا مذاق بنانے کی کوشش کرتے ہیں اورخوشی سے نہال ہوجاتے ہیں؛ حالاں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے لوگوں کی جانیں تک چلی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عالمی پیمانہ پراس ایک دن کوجھوٹ بولنے کے لئے کیوں خاص کرلیاگیاہے؟ ظاہرہے کہ یہ چیز مغرب سے آئی ہے؛ اس لئے ہمیں اس دن کی حقیقت سے ضرورواقف ہوناچاہئے، آیئے اس پرایک نظرڈالتے چلیں، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:

بعض مصنفین کاکہناہے کہ فرانس میں سترہویںصدی سے پہلے سال کاآغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کورومی لوگ اپنی دیوی وینس(Venus)کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھاکرتے تھے، وینس کا ترجمہ یونانی زبان میںAphroditeکیاجاتاتھا اورشایداسی یونانی نام سے مشتق کرکے مہینے کانام اپریل رکھ دیا گیا(برٹانیکاپندرہواںایڈیشن: ۸؍۲۹۲)۔

لہٰذا بعض مصنفین کاکہنایہ ہے کہ چوں کہ یکم اپریل سال کی پہلی تاریخ ہوتی تھی اوراس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا؛ اس لئے اس دن لوگ جشن ِمسرت منایاکرتے تھے اوراسی جشن مسرت کاایک حصہ ہنسی مذاق بھی تھا، جورفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیارکرگیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جشن مسرت کے دن لوگ ایک دوسرے کوتحفے دیاکرتے تھے، ایک مرتبہ کسی کے ساتھ تحفہ کے نام پرمذاق کیاگیا، جوبالآخردوسرے لوگوں میں بھی رواج پکڑگیا۔

برٹانیکامیں اس کی ایک اوروجہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۱؍مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آناشروع ہوجاتی ہیں، ان تبدیلیوں کوبعض لوگوں نے اس طرح تعبیرکیا کہ (نعوذباللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے، لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانہ میں ایک دوسرے کوبے وقوف بناناشروع کردیا(برٹانیکا:۱؍۴۹۶)۔

ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا’’لاروس‘‘ نے بیان کی ہے اوراسی کوصحیح قراردیاہے، وہ یہ ہے کہ دراصل یہودیوں اورعیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے، جس میں رومیوں اوریہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوتمسخراوراستہزاء کانشانہ بنایا گیا، موجودہ نام نہادانجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، لوقاکی انجیل کے الفاظ یہ ہیں: ’’اورجوآدمی اسے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)گرفتارکئے ہوئے تھے، اس کوٹھٹھے میں اڑاتے اورمارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس کے منھ پرطمانچے مارتے تھے اوراس سے یہ کہہ کرپوچھتے تھے کہ نبوت (الہام) سے بتاکہ کس نے تجھ کومارا؟ اورطعنے مارمارکربہت سی باتیں خلاف کہیں(لوقا:۲۲؍ ۶۳-۶۵)۔

انجیلوں میں یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کویہودی سرداروں اورفقیہوں کی عدالت عالیہ میں پیش کیاگیا، پھروہ انھیں پیلاطس کی عدالت میں لے گئے کہ ان کافیصلہ وہاں ہوگا، پھرپیلاطس نے انھیں ہیروڈیس کی عدالت میں بھیج دیا اوربالآخرہیروڈیس نے دوبارہ فیصلے کے لئے ان کوپیلاطس ہی کی عدالت میں بھیجا، لاروس کاکہناہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کوایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنااورانھیں تکلیف پہنچاناتھا اورچوں کہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیاتھا؛ اس لئے اپریل فول کی یہ رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعہ کی یادگارہے(دیکھئے: ذکروفکر، ص: ۶۷-۶۸)

مولاناندیم الواجدی صاحب نے اس کی ایک اوروجہ لکھی ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’اسپین پرمسلمانوں نے آٹھ سوسال تک بڑی شان کے ساتھ حکومت کی…؛(لیکن) مسلمانوں کی باہمی چپقلش اورمسلم حکم رانوں کی عیش کوشی نے عیسائیوں کودوبارہ اقتدارمیں آنے کاموقع فراہم کیا، اسپین کی تمام ریاستیں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئیں، پہلے طلیطلہ، پھراشبیلیہ، پھرقرطبہ اورآخرمیں غرناطہ … حالات ایسے پیداہوتے چلے گئے کہ آخری مسلم حکم راں ابوعبداللہ نے الحمراء کی جابیاں کلیساکے حوالہ کردیں، کلیسانے ابوعبداللہ سے ایک معاہدہ کیاتھا، جس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ جومسلمان غرناطہ میں باقی رہ گئے ہیں، ان کی جان، مال اورعزت وآبروکی حفاظت کی جائے گی؛ لیکن اس معاہدہ پرعمل نہیں کیاگیا، اس کے برعکس مسلمانوں کوظلم وتشدد کانشانہ بنایاگیا، انہیں عیسائی مذہب اختیارکرنے پرمجبورکیاگیا، جن لوگوں نے یہ حکم ماننے سے انکارکیا، ان کوباغی قراردے کرسزائیں دی گئیں، بے شمارمسلمانوں کوزندہ جلایاگیا، کچھ لوگ جان بچاکربھاگ گئے اور پہاڑوں اورغاروں میں جاچھپے، ایسے ہی لوگوں کوعیسائیوں نے یہ پیش کش کی کہ ان کوبہ حفاظت مراکش پہنچا دیاجائے گا، مسلمان  ان کے جھانسے میں آگئے، ان کے سامنے اس کے علاوہ کوئی دوسراراستہ بھی نہیں تھا، ایک نئی زندگی پانے کی آرزومیں بچے کھچے اورلٹے پٹے مسلمان عیسائیوں کے فراہم کردہ جہازمیں سوار ہوگئے، جب یہ جہازبحیرۂ روم میں پہنچاتواسے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سمندرمیں غرق کردیاگیا، یہ الم ناک اورانسانیت سوزواقعہ یکم اپریل ۱۴۹۸ء کوپیش آیا، مغربی اقوام یہ دن اس لئے مناتی ہیں؛ تاکہ مسلمانوں کے بے وقوف بنا کرانہیں غرق آب کرنے کے یہ لمحات یادگاربنائے جاسکیں‘‘۔

یہ ہیں وہ اسباب ، جن کی بنیادپرمغربی اقوام ایک اپریل کوبطوریادگارمناتے ہیں اورلطف اندوز ہوتے ہیں؛ لیکن بدقسمتی سے ہم مسلمان(بالخصوص روشن خیال طبقہ) چوں کہ مغربی کلچرسے آئی ہوئی کسی بھی چیز کو صم بکم عمی کی طرح اپنالیتے ہیں، یکم اپریل کے اس عمل کوبھی، یہ سوچے بناکہ یہ توہماری ہی بے وقوفی کی یاد گارہے ، اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی تذلیل کرکے خودہی خوش بھی ہولیتے ہیں۔

اسلام ایک سادہ اورعملی دین ہے، اس کے اندراس جیسی چیزوں کابالکل بھی جواز نہیں، آیئے اپریل فول کاجائزہ شریعت اسلامی کی روسے لیتے ہیں؛ تاکہ ہمارے وہ مسلمان بھائی، جواس عمل میں شریک ہوتے ہیں، ٹھنڈے بیٹوں سوچیں اوراسلامی تعلیمات پرعمل پیراہوں۔

اپریل فول منانادرج ذیل اسباب کی وجہ سے منانابالکل ناجائزہے:

۱-  جھوٹ:اس کے اندرسب سے بڑی خرابی ’’جھوٹ‘‘ کی ہے، جھوٹ بولناحرام ہے، جھوٹوں پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، ارشادہے: لعنۃ اللہ علی الکاذبین،  جھوٹ کو منافقین کی نشانی قراردیاگیاہے، چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد أخلف، واذاائتمن خان۔ (بخاری، باب علامات المنافق،حدیث نمبر:۳۳)’’ منافقین کی تین نشانیاں ہیں: (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲)جب وعدہ کرے تووعدہ توڑدے(۳)اور جب امین بنایاجائے توخیانت کرے‘‘، ایک حدیث میں جھوٹ کواللہ تعالیٰ کی نظرِرحمت سے دوری اوردردناک عذاب کاسبب بتایاگیاہے، آپﷺ کا ارشادہے: ثلاثۃ لایکلمہم اللہ یوم القیامۃ، ولاینظر الیہم، ولہم عذاب ألیم: المنان، والمسبل ازارہ، والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب۔ (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۲۱۱)’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے نہ گفتگو کریں گے اورنہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے:(۱) احسان کرکے جتانے والا(۲)ٹخنے سے نیچے ازار لٹکانے والا(۳) اورجھوٹی قسم کے ذریعہ سے اپناسامان فروخت کرنے والا‘‘۔

جھوٹ بولنے کی سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی سخت ہے، چنانچہ ایک مرتبہ آپﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایاکہ رات میرے پاس دوآدمی آئے اورمجھے ارضِ مقدسہ لے گئے، میں نے وہاں دوآدمیوں کودیکھا، ایک بیٹھا ہواتھا اور دوسراہاتھ میں لوہے کی سلاخ لئے اسی کے قریب کھڑاتھا، اس سلاخ کو بیٹھے ہوئے شخص کے جبڑے میں داخل کرتا؛یہاں تک کہ وہ اس کی گُدی کے پار ہوجاتی، پھردوسرے جبڑے میں یہی عمل دہراتا، پھرجب جبڑے اپنی حالت پر لوٹ آتے تو یہی عمل کرتا، میں نے ان دونوں سے اس کے بارے میں پوچھا، توانھوں نے جواب دیا: أما الذی رأیتہ یشق شدقہ، فکذاب، یحدث بالکذبۃ، فتحمل عنہ حتیٰ بلغ الآفاق، فیصنع بہ مارأیت الیٰ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: ۱۳۸۶)’’ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جس کے جبڑے چیرے جاتے ہوئے آپﷺ نے دیکھا تووہ ایک جھوٹاشخص ہے، جھوٹ بولتا تھا، اس کی جھوٹی بات نقل کی جاتی رہی؛یہاں تک کہ افُق بھرگیا، اب قیامت تک اس کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا‘’۔

اس لئے ہمیں جھوٹ سے بچناچاہئے اورسچ کاراستہ اختیارکرناچاہئے، اللہ ہمیں توفیق عطافرمائے، آمین!

۲-  مشابہت کفارویہودنصاری: اسلام نے عمومی طورپرکفاراوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے منع فرمایا،محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جب بتایاگیاکہ یہودبھی آج کے دن روزہ رکھتے ہیں توآپﷺ نے فرمایا: صومواالتاسع والعاشر، خالفواالیہود(جامع الأصول فی أحادیث الرسول، حدیث نمبر: ۴۴۵۲) ’’نواوردس کوروزہ رکھو، یہودکی مخالفت کرو‘‘۔

مشرکین کی مخالفت کے سلسلہ میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: خالفواالمشرکین، وفروااللحی، وأحفوالشوارب(بخاری، حدیث نمبر: ۵۸۹۲)’’مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں کٹاؤ اورداڑھیاں بڑھاؤ‘‘، ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: أعفوااللحی، وجزواالشوارب، وغیرواشیبکم، ولاتشبہوا بالیہود والنصاریٰ (کنزالعمال عن ابن عمر، حدیث نمبر:۱۷۲۲۲) ’’داڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹاؤ، بوڑھاپے کو(خضاب کے ذریعہ سے) بدل ڈالو اوریہودونصاری کی مشابہت مت اختیارکرو‘‘، ایک روایت میں توآپﷺ نے یہاں تک فرمایا: من تشبہ بقوم، فہومنہم(حدیث) ’’جوشخص جس قوم مشابہت اختیارکرتاہے، (قیامت کے دن ) وہ انہیں میں شمارہوگا‘‘؛ اس لئے کفارومشرکین اوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے ہمیں پرہیزکرنی چاہئے۔

۳-  ایذارسانی:دوسرے کوتکلیف پہنچانابھی بڑاجرم ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، قیل: ومن یارسول اللہ ؟ قال: الذی لایأمن جارہ بوائقہ(بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۷۰) ’’ خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، پوچھاگیا: کون اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: جس کی تکلیف سے اس کاپڑوسی محفوظ نہ ہو‘‘، اس حدیث میں صاف طورپرکہہ دیاگیا، اگرکسی کاپڑوسی اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاہے تواس کاایمان کامل نہیں، یہ پڑوسی خواہ مسلم ہویا غیرمسلم، اگرمسلم ہے تواس کی قباحت اوربڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: من آذی مسلما، فقدآذٓنی، ومن آذانی، فقد آذی اللہ عز وجل (مجع الزوائدللہیثمی، حدیث نمبر: ۳۰۹۲) ’’ جس نے کسی مسلم کی تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اورجس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ عز وجل کوتکلیف پہنچائی‘‘، یعنی مسلمان کوتکلیف پہنچانا بالواسطہ اللہ کوتکلیف پہنچاناہے اورجواللہ کوتکلیف پہنچائے گا، ظاہر ہے کہ اس کی خیرنہیں ہوسکتی؛ اس لئے بھی مسلمانوں کواپریل فول منانے بچناچاہئے۔

۴-  بت پرستی کی حمایت:جیساکہ بتایاگیاکہ ایک اعتبارسے اس دن کی نسبت وینس نامی دیوی کی طرف کی جاتی ہے، ظاہرہے کہ یہ بت پرستانہ عقیدہ داخل ہوناہے، جو اللہ تعالیٰ کوبالکل بھی ناپسندہے، یہی وجہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لایقل أحدکم : أطعم ربک، وضیٔ ربک، واسق ربک، ولیقل: سیدی مولای(بخاری، حدیث نمبر: ۲۵۵۲) ’’کوئی شخص کسی غلام سے نہ کہے کہ تم اپنے رب(آقا) کھلاؤ، اھنے رب(آقا) کووضوکراؤ، اپنے رب(آقا) کوپلاؤ، کہناہی ہے توکہے: سیداورمولاکہے‘‘، لفظ ’’رب‘‘ سے اللہ کی ذات کاشبہ ہورہاتھا؛ اس لئے اس لفظ کے استعمال سے اللہ کے رسولﷺ نے روکا، یہاں بھی بت کے تقدس کامسئلہ ہے تواس سے توبدرجۂ اولیٰ روکاجائے گا۔

۵-  تمسخرواستہزاء:اس میں دوسرے کامذاق اڑایاجاتاہے، جس قرآن نے صراحتاً منع کیاہے، ارشادہے: یاأیہاالذین آمنوالایسخرقوم من قوم(قرآن)’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کامذاق نہ اڑائے‘‘، اپریل فول قرانی آیت کے صریح خلاف ہے؛ اس لئے اس سے بچناہم مسلمانوں کوضروری ہے۔

۶-  نبی کی تضحیک وتوہین:جیساکہ ذکرکیاگیاکہ ایک لحاظ سے یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تضحیک کی یادگارہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، ان کی نبوت پرایمان لاناضروری ہے، نبی کی تضحیک کفرہے، لہٰذا اس اعتبارسے اگردیکھاجائے توہم اس دن کومناکرکفرکے مرتکب ہورہے ہیں، لہٰذا اس سے توبہ کرناضروری ہے۔

۷-  خودکی تضحیک وتذلیل:  اوپرذکرکیاگیاکہ ایک اعتبارسے یہ دن ۱۴۹۸ء میں بے وقوف بنائے گئے مسلمانوں کی یادگارکے طورپرمنایاجاتاہے، ظاہرہے کہ اس لحاظ سے یہ دن مناکرہم خوداپنے باپ داداکی تضحیک اورتذلیل کے مرتکب ہوتے ہیں اوراس سے زیادہ بے شرم اوربے غیرت کون ہوگا، جوخودکے آباواجدادکی تذلیل کامرتکب ہو؟ اس لئے اس دن کومنانے سے ہم مسلمانوں کومکمل طوپرپرہیزکرناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطافرمائے اوراسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل کرنے والابنائے، آمین !


اپریل فول(افسانچے)

 

اپریل فول

 محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

   راحیل اپنے دوستوں کے ساتھ خوشگپیوں میں مشغول تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ ہوئی، پڑوس کی آنٹی کی بیٹی تھی، چھوٹتے ہی کہا: جلدی سے آؤ، تمہاری ممی کی طبیعت بہت خراب ہے، راحیل دوستوں کویہ خبردیتے ہوئے جھٹ سے اٹھا؛ لیکن دوستوں نے آگاہ کیاکہ آج فرسٹ اپریل ہے، راحیل جھٹکے کے ساتھ بیٹھ گیااورخوش گپیوں میں مشغول ہوگیا، اِدھرماں زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے ہارگئی، جب راحیل گھرپہنچاتوپیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی، گھرمیں کہرام بپاتھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپریل فول

 محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

    ٹرن…ٹرن…ٹرن کی آواز سن کرراکیش نے ریسیور کان سے لگایا، اپنے دوست راجوکی آواز سن خوش ہوگیا، خوشی کوسمیٹنے کی کوشش ہی کررہاتھا کہ ریسیوراس کے ہاتھ سے جھوٹ گرااوروہ بھاگابھاگا اوپر کے کمرے میں بندہوگیا، روتارہاروتارہا، بالآخرپنکھے سے جھولنے میں ہی عافیت سمجھی، راجوکوجب اس کی خبرہوئی توسر پکڑکربیٹھ گیا، اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، وہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اپریل فول کی مناسبت سے دی گئی فیل ہونے کی ایک جھوٹی خبراس کے پیارے دوست کی جان تک لے سکتی ہے۔

Saturday, 27 March 2021

شب براءت: جوآج بھی مغفرت سے محروم رہیں گے!

شب براءت: جوآج بھی مغفرت سے محروم رہیں گے!

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


جیل کی سلاخوں کے پیچھے آزادی سے مایوس اورناامید قیدی کواگریہ خوش خبری سنادی جائے کہ آج اسے ’’پروانۂ آزادی‘‘ ملنے والاہے تو اس کی خوشی کی انتہا کیا ہوگی؟ یہ ان کومحسوس نہیں ہوسکتا، جن کے قدم جیل کی چوکھٹ تک نہ پہنچے ہوں؛ لیکن آج (شعبان کی پندرہ تاریخ)کی رات قیدخانۂ دنیامیں محبوس قیدیوں کے لئے اس سے کہیں زیادہ خوشی کا موقع ہے کہ رب کائنات خودآسمانِ دنیا پرنزول اجلال فرماکر’’ألامن مستغفر، فأغفرلہ‘‘ (ہے کوئی مغفرت چاہنے والاکہ اس کی مغفرت کردوں)کی صدائے سرمدی کے ذریعہ گناہ گاروں کو’’پروانۂ خلاصی‘‘ عطافرماتے ہیں؛ لیکن جس طرح جیل خانوں کے ایسے خطرناک قسم کے مجرمین کورہائی کا پروانہ نہیں دیاجاتا، جن سے معاشرہ میں مزید بگاڑ پیداہونے کا اندیشہ ہوتاہے؛ یہاں تک کہ وہ اپنی پرانی روش کو چھوڑدیں، ٹھیک آج کی رات - جس میں بنوکلب کی بکریوں کے بال کی تعداد میں مغفرت ہوتی ہے- کچھ ایسے گنہ گاراورخدائے ذوالجلال کے حکم کی نافرمانی کرنے والے بندے بھی مغفرت ِباری سے محروم رہیں گے، جب تک کہ وہ اپنے ان گناہوں کوترک کرے توبہ نہ کرلیں، آیئے معلوم کرتے چلیں کہ وہ محروم ِمغفرت لوگ کون ہیں؟ تاکہ ہمیں ان سے عبرت حاصل ہو۔

(۱)  شرک کرنے والا:  مغفرت سے محروم شخصوں میں سب سے پہلاشخص وہ ہے، جواللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اورکو بھی متصرف خیال کرتاہو، اللہ تعالیٰ کی کسی صفت میں دوسرے کوشریک ٹھہرانے کا نام ’’شرک‘‘ ہے، گناہوں میں سب سے بڑاگناہ شرک ہے، یہ ایساگناہ ہے، جس کواللہ تعالیٰ کبھی نہیں کرے گا، ارشادباری ہے: اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے کہ اس کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرایاجائے اوراس کے علاوہ جس کوچاہیں گے ، معاف کردیں گے(النساء:۱۱۶)۔

قرآن مجید میں شرک کو’’ظلم عظیم‘‘ سے تعبیرکیاگیا: إن الشرک لظلم عظیم’’بے شک شرک ظلم عظیم ہے‘‘(لقمان: ۱۴)، یقیناً شرک بہت بڑاظلم ہے کہ ہمارے وجودکونیست سے ہست میں لانے والی، ہمیں مسلسل روزی دینے والی، جب ہم بیمارہوجائیں توشفا دینے والی ذات توباری تعالیٰ ہے، بارش برسانے والی اور اولاد عطا کرنے والی ذات تواللہ تعالیٰ کی ہے، پھرہم دوسرے کے لئے یہ خیال کریں کہ وہ بارش برساتاہے اوراولاد دیتاہے، یقینا یہ ایسا ظلم ہے، جو معاف کئے جانے کے لائق نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج جیسی مغفرت والی رات میں بھی اس کے لئے معافی نہیں ہے: فیغفرلجمیع خلقہ؛ إلالمشرک’’تمام مخلوق کومعاف کردیاجائے گا، سوائے مشرک کے‘‘(ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر: ۱۳۹۰)۔

(۲)  بغض وعداوت رکھنے والا:  مغفرت سے محروم شخصوں میں سے دوسراشخص وہ ہے، جودشمنی رکھتاہے، دوسرے کے خلاف اپنے دل میں بغض ونفرت رکھتاہے، دشمنی ایک ایسی چیزہے، جودین توبرباد کرتی ہی ہے، دنیا میں بھی چین کی سانس نہیں لینے دیتی، جب دوفریق ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں توگویا انسانیت کا ہاراپنے گلے سے اتارپھینکتے ہیں، پھرجانی نقصان بھی ہوتا اورمالی خسارہ بھی سہنا پڑتا ہے اوردشمنی کانتیجہ ہمیشہ یہی برآمدہوتاہے۔

دوسرے کے لئے اپنے دل میں ناحق بغض رکھنا بھی ایک ناقابل معافی جرم ہے اورشب براء ت جیسی رات میں بھی ایسے شخص کے لئے معافی دروازہ نہیں کھلتا؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ جب دوسروں کومعاف کریں گے، اس وقت اس کومعاف نہیں کریں گے: فیغفرلعبادہ؛ إلالإثنین: مشاحن…’’چنانچہ (اللہ تعالیٰ) اپنے بندوں کومعاف کردیں گے، سوائے دولوگوں کے، (ان میںسے ایک) دشمنی رکھنے والا (ہے)(مسنداحمد:۲؍۲۳۴، حدیث نمبر: ۶۶۳۹)۔

(۳)  قاتل:  ناحق کسی کوجان سے ماردینے کوپوری انسانیت کے قتل کے مرادف قراردیاگیاہے: جس نے کسی انسان کوخون کے بدلہ کے بغیریا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیاتوگویااس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا(المائدۃ:۳۲)، اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص سے قصاص لینے کاحکم دیاہے(البقرۃ: ۱۷۸)، ناحق کسی قتل کرنابھی ان جرموں میں سے ہے، جس کے معافی نہیں: فیغفرلعبادہ؛ إلالإثنین: مشاحن وقاتل نفس’’ چنانچہ(اللہ تعالیٰ) اپنے بندوں کومعاف کردے گا، سوائے دولوگوں کے، ایک دشمنی رکھنے والا اوردوسرا(ناحق) کسی کوقتل کرنے والا‘‘(مسنداحمد:۲؍۲۳۴، حدیث نمبر: ۶۶۳۹)۔

قتل نفس میں صرف دوسرے انسان کوقتل کرناہی مرادنہیں؛ بل کہ خوداپنے آپ کوقتل کرنابھی شامل ہے، جسے خودکشی کہاجاتاہے، جس طرح دوسرے کوقتل کرناحرام ہے، اسی طرح اپنے آپ کومارنابھی حرام ہے۔

(4)  زناکار:  اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی بقا کا ظاہری سبب مردوعورت کے شرعی طریقہ پراتصال کو قرار دیاہے، شریعت کی اصطلاح میں اسی کو’’نکاح‘‘ کہتے ہیں، اس کے برخلاف شرعی طریقہ سے ہٹ کرمردوعورت اتصال کرتاہے تواسے’’سفاح‘‘ یعنی زناکہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے زناسے بہت سختی کے ساتھ منع کیاہے اوراسے براراستہ قراردیا ہے، ارشادہے: اوربدکاری کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اوربہت ہی بری راہ ہے‘‘(الإسراء: ۳۲)۔

زناایک خلاف فطرت عمل اورایسی برائی ہے، جس سے پورامعاشرہ متاثرہوتاہے، طرح طرح کی موذی بیماریاں بھی اس سے پیدا ہوتی ہیں، آج مغرب زناکی کثرت کی وجہ سے جن بیماریوں میں مبتلاہے، کوئی بھی پڑھا لکھا شخص اس سے ناواقف نہیں ہے اوریہ مغرب ہی پرمحدود نہیں؛ بل کہ اب توپوری دنیااس کے لپیٹ میں آچکی ہے، یہ بھی انہی بڑے گناہ میں سے ہے، جس کی معافی آج کی رات میں بھی نہیں، جس میں مغفرت کا دریا ٹھاٹھیں ماررہاہے: فلایسأل أحد؛إلاأعطی؛ إلازانیۃ بفرجہا’’ (آج کی رات) ہرشخص کواس کی مانگی ہوئی چیز ملے گی، سوائے زانیہ کے(اسے نہیںملے گی)(شعب الإیمان للبیہقی، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر: ۳۸۳۶)۔

(۵)  رشتوں کوتوڑنے والا:  اللہ تعالیٰ نے پوری دنیاکے انسانوں کوایک ہی باپ اورماں سے پیدا کیاہے، پھر خاندانوں اورقبیلوں میں تقسیم فرمادیا(الحجرات:۱۳)؛ تاکہ ایک دوسرے کوپہچان سکیں، رشتوں کاپاس ولحاظ کریں، ایک دوسرے کی خوشی اورغم میں شریک ہوں۔

رشتہ داری نباہنا بلاشبہ بڑاکٹھن کام ہے؛ لیکن برتنے والے کے لئے اسی قدرثواب بھی ہے؛ لیکن اگرکوئی شخص رشتوں کا خیال نہیں کرتااورصلہ رحمی کرنے کے بجائے قطع رحمی کرتاہے توایساشخص بڑاگناہ گارہے، ایساگناہ گارکہ مغفرت والی رات بھی اس کی معافی نہیں۔

اب ہمیں غورکرناچاہئے کہ ہم رشتوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایساتونہیں کہ آج جیسی فضیلت والی رات میں بھی ہم مغفرت خداوندی سے محروم ہوجائیں؟

(6)  ٹخنے سے نیچے ازارلٹکانے والا:  ٹخنے سے نیچے ازارلٹکانے والے کے لئے بڑی سخت وعید آئی ہے، آپﷺ نے ارشادفرمایا: ٹخنے کے نیچے جتنے حصہ میں ازار ہوگا، وہ حصہ جہنم میں جائے گا(بخاری، حدیث نمبر: ۵۷۸)، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین لوگوں کی طرف نظررحمت نہیں فرمائے گا، نہ ان کاتزکیہ کرے گا اوران کے لئے دردناک عذاب ہوگا، ایک احسان کرکے جتانے والا، دوسراٹخنے سے نیچے ازارلٹکانے والا اورتیسراجھوٹی قسمیں کھاکراپناسامان فروخت کرنے والا(ترمذی، حدیث نمبر:۱۲۱۱)۔

غورکیجئے! ایک بڑی تعدادایسی ملے گی، جن کاازارٹخنے سے نیچے ہوتاہے؛ حالاں کہ علماء نے ٹخنے سے نیچے ازارلٹکانے کوحرام لکھاہے(عارضۃ الاحوذی: ۷؍۱۷۴)، نیز یہ بھی ان گناہوں میں سے ہے، جس کی معافی آج جیسی مغفرت والی رات میں بھی نہیں ہے۔

(۷)  والدین کی نافرمانی کرنے والا:  اللہ تعالیٰ کے حق کے بعداگرانسان پرکسی کاحق ہے تووہ والدین کے حقوق ہیں کہ انہیں کے واسطہ سے اس کاوجود ہواہے، قرآن مجید میں کئی جگہ والدین کے ایک احسان کو بتلا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کاحکم دیاہے(العنکبوت: ۸، الأحقاف: ۱۵)؛ حتی کہ اگروالدین شرک- جوسب سے بڑاگناہ ہے-  پرمجبورکریں توبات توان کی نہیں مانی جائے گی؛ لیکن حسن سلوک برابرکیاجاتارہے گا(لقمان:۱۵)۔

ایک مرتبہ آپﷺ نے فرمایا: اس شخص کی ناک خاک آلودہو، اس شخص کی ناک خاک آلودہو، اس شخص کی ناک خاک آلودہو، پوچھاگیا: کس کی اے اللہ کے رسول؟ جواب دیا: جس نے اپنے والدین یاان میں سے کسی ایک كوبوڑھاپے کی حالت میں پائے ، پھرجنت میں داخل نہ ہو(مسلم، حدیث نمبر: ۶۵۱۰)، یعنی بوڑھاپے کی حالت میں بچوں کی سخت ضر ورت ہوتی ہے؛ بل کہ بچے والدین کے لئے بیساکھی کاکام دیتے ہیں؛ لیکن آج کی ترقی یافتہ دنیاکافی بدل چکی ہے، انسان اتنامصروف ہوگیا کہ والدین کی خیرخیریت بھی روز نہیں پوچھ سکتے اوراب تواولڈ ایج ہوم جگہ جگہ قائم کئے جارہے ہیں؛ تاکہ بوڑھے جسم کے بوجھ کوبھی اپنے گھرمیں نہ رہنے دیں، غورکیجئے اورخودفیصلہ کیجئے کہ کیاہم ایسے ہیں کہ ہمیں معاف کردیاجائے؟؟

(۸)  شراب کاعادی شخص:  شراب ایک ایسی چیز ہے، جس کے پینے سے انسان عقل وہوش کھوبیٹھتاہے، پھروہ کچھ کرتاہے، جس کاتصورہی رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے، ایسے واقعات بھی سامنے شراب کے نشہ میں بدمست ہوکرسب سے پاکیزہ رشتہ(ماں وبیٹی) کی بھی پامالی کی گئی ہے، ایک سروے کے مطابق جنسی جرائم کے ۷۰؍فیصد واقعات شراب کی وجہ سے پیش آتے ہیں اور۹۰؍فیصد سڑک حادثات اسی وجہ سے رونما ہوتے ہیں، شراب پینے کی عادت بہت ہی بری عادت ہے، اس سے مختلف قسم کے جسمانی نقصانات بھی ہوتے ہیں، اس کے ذریعہ سے جسم کا پورادفاعی نظام کمزور ہوجاتاہے، معدہ، گردے اوردماغ کی خلیوں میں سوجن پیدا ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے خطرناک قسم کے امراض پیداہوجاتے ہیں، جگراس حدتک متاثر ہو جاتا ہے کہ اپناکام کرناہی بندکردیتاہے، جسے(Liver Cirrhosis)کہاجاتاہے اوریہ بہت ہی خطرناک ہوتاہے، اعصابی تناؤ اورجنسی کمزوریوں کاباعث بھی ہوتاہے،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قراردیاہے(المائدۃ: ۹۰)۔

اوراللہ کے رسولﷺ نے انہی گناہوں میں شمارکیاہے، جن کی معافی آج جیسی رات میں بھی نہیں، ارشادہے: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اورفرمایا: آج کی رات شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس رات قبیلۂ بنوکلب کی بکریوں کے بال کی تعدادمیں لوگوں کواللہ تعالیٰ جہنم سے آزادی دیں گے؛ لیکن شرک کرنے والے، بغض وعداوت رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ٹخنے سے نیچے ازارلٹکانے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے اورشراب کے عادی شخص کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں(شعب الإیمان للبیہقی، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر: ۳۸۳۷)۔

ہمیں اپنے معاشرہ کاجائزہ لیناچاہئے کہ کتنے ناواقف بھائی اس بری عادت میں مبتلاہیں؟ کچھ جانتے بوجھتے بھی برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے اس لت میں پڑ گئے ہیں، ایسے بھائیوں کواس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے پختہ عزم کرناہوگااورصدق دل سے توبہ کرکے آج کی رات  رب کائنات سے مغفرت طلب کرنی ہوگی، ایسا نہیں ہے کہ ان گناہوں کی وجہ سے توبہ کادروازہ بند ہوگیاہے، وہ تو کھلاہواہے اورنرخرہ سے آواز نکلنے تک کھلاہی رہے گا، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوجائیں اورآج کی رات سے بہتراس کے لئے اورکونسی رات ہوسکتی ہے؟ لہٰذا دیرکس بات کی؟ جوبڑھ کرخوداٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کاہے، اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو ان برائیوں سے حفاظت فرمائے، آمین یارب العالمین!

jamiljh04@gmail.com / 8292017888


Saturday, 6 March 2021

انتخابی جملے: کبھی چہرہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا

 انتخابی جملے: کبھی چہرہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


بھارت ایک بڑاجمہوری ملک ہے؛ لیکن اگرروئے زمین پرنظرڈالیں تو جس طرح جمہوریت کی یہاں دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، کسی بھی ملک میں ایسی صورت حال نہ ہوگی، یہاں کے سیاست دانوں کواگرگرگٹ سے مشابہ قراردیاجائے توبے جانہ ہوگا، پل پل میں رنگ بدلنے میں انھیں بھی مہارت حاصل ہوتی ہے، کبھی یہ عہدہ نہ ملنے کی وجہ سے ایک پارٹی کوچھوڑکردوسری پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں، کبھی پیسوں کی خاطراورکبھی اپنے جرم پرپردہ ڈالنے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں۔

پہلے کے سالوں میں ایسا تھوڑا کم ہوتا تھا؛ لیکن آج کے دورمیں یہ کثرت سے ہوتاہے، جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ انھیں ملک اورملک کی عوام سے کوئی سروکارنہیں ہے، ملک ڈوبے توڈوبے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اپنی نیا نہیں ڈوبنی چاہئے، عوام مرتی ہے تومرے، تاہم اپنی کرسی پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنی چاہئے؛ بل کہ بعض سیاست داں توبسااوقات جان بوجھ کرعوام کوقتل کروادیتے ہیں، کبھی فسادات بھڑکاکر، کبھی پولیس کے ذریعہ انکاؤنٹر کرواکر، کبھی کہیں دھماکہ کرواکے، کبھی گائے کے نام پر، کبھی دھرم کے نام پر، کبھی مندر ومسجد کے نام پراورنہ جانے اس طرح کے کتنے اسباب ہیں اور یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں؛ بل کہ اس طرح کے دسیوں واقعات آنکھوں کے سامنے ہیں۔

لیکن جب سے ایک خاص نظریات کی حامل جماعت کاغلبہ سیاست میں ہواہے، اس وقت سے یہ ساری چیزیں اپنے حدوں کوپارکرتی جارہی ہیں، اس جماعت کا طرۂ امتیاز یہی ہے کہ وہ ملک اورعوام کی بھلائی نہیں چاہتی، اس کامقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا نظریہ ملک پرغالب آجائے، خواہ اس کے لئے کچھ بھی کرناپڑجائے، یہی وجہ ہے کہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ انتہائی بے شرم ہوتے ہیں، جگہ جگہ اوروقت وقت کے اعتبارسے یہ اپنے بیان بدلتے ہیں، جس وقت یہ جماعت اقتدارپرنہیں بیٹھی تھی، اس وقت اس جماعت کے نام زد وزیراعظم نے ملک کے ہرباشندے کے کھاتے ہیں پندرہ پندرہ لاکھ دینے کاوعدہ کیاتھا؛ لیکن جب ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آگئی تواپنے وعدہ کوبھول گئی؛ بل کہ پوری بے شرمی کے ساتھ اس جماعت کے ایک اعلیٰ رکن نے یہ کہہ کراس وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ : ’’یہ توعوام کولبھانے کے لئے ایک جملہ کہاگیاتھا اوربس‘‘۔

یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک بڑی جمہوریت میں سیاست کواس رخ پرڈال دیاگیاہے، جس میں ملک کی ادنی ترقی ممکن نہیں ہے، اس کی وجہ سے ملک سراسر نقصان ہی میں رہے گا، بہت دورجانے کی بات نہیں ہے، بس ابھی چند سالوں کا جائزہ ہی لے لیجئے، جس وقت ملک برسراقتدارجماعت کے سپرد کیاگیا تھا، اس وقت ملک کی جی ڈی پی 9 + تھی؛ لیکن سیاسی شعبدہ بازیوں اوراپنی من مانی کی وجہ سے برسراقتدارپارٹی کے زمانہ میں ماقبل کورونا- 4پرآگئی تھی اوراس وقت توبس اللہ کی پناہ! یہ ایک چھلک ہے، یہ ایک ٹریلرہے، سوچئے کہ اگر یہ پارٹی دس پندرہ سال مزید اقتدار میں رہی تویقین ہے کہ ملک کوہی نیلام کردیاجائے گا اوراس کے خریداروہی لوگ ہوں گے، جن کوہمارے اباء واجداد نے اپنی جان دے کریہاں سے کھدیڑاتھا، نیلامی کاآغا ز ہوہی چکاہے اورملک کے کئی سیکٹرس کوبعض دولت مندوں کے ہاتھوں بیچاجاچکاہے، بس آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

اس ملک کی سیاست کس رخ پرجاچکی ہے، اس کوآسانی سے سمجھنے کے لئے آج کل کے الیکشن ریلیوں میں سیاست دانوں کے خطابات سے لگایا جاسکتاہے، اس وقت ملک کے تین صوبوں میں الیکشن کی ریلیاں چل رہی ہیں، مغربی بنگال، آسام اورکیرالا، مغربی بنگال میں سب سے زیادہ دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے اورہرپارٹی کے سیاست داں اپنی اپنی سوچ اوروچار کے مطابق عوام کورجھانے میں لگے ہوئے ہیں؛ لیکن سیاست میں سب سبے زیادہ دورخاپن بھارتیہ جنتاپارٹی میں دیکھنے کوملتی ہے، ان کے لیڈران کورنگ بدلتے دیرنہیں لگتی، ’’جیسا دیس ، ویسا بھیس‘‘ پریہ لوگ کاربند ہیں، مغربی بنگال میں اپنی پارٹی کی تشہیرکے لئے بھارتیہ جنتاپارٹی کے ایک لیڈر آئے توانھوں نے ہانک لگائی کہ اگربھارتیہ جنتاپارٹی جیت جاتی ہے توبنگال میں چوبیس گھنٹے کے اندر بیف پرپابندی لگادیں گے، اسی پارٹی کے دوسرے لیڈر جب انتخابی تشہیرکے لئے کیرالہ پہنچے تویہ وعدہ کرتے دیکھے گئے کہ اگریہ پارٹی جیت گئی توصاف ستھرے سلائٹر ہاؤس بنوائیں گے؛ تاکہ عوام کواچھابیف دستیاب ہوسکے، اس سے قبل اسی پارٹی کے گوا سی ایم نے بھی یہ بات کہی تھی کہ گوامیں بیف میں کمی نہیں آنے دیں گے۔

یہ اس پارٹی کامنافقانہ چہرہ ہے کہ ایک طرف تو’’گائے‘‘ کے ذبیحہ پرپابندی کے نام پرسیاست کرتی ہے تودوسری طرف ’’گائے‘‘ کے گوشت میں کمی نہ ہونے دینے پر سیاست کرتی ہے، ایک خطہ میں ایک جانور کو ’’ماتا‘‘ کادرجہ دے کراس کاپوجاکرواتی ہے، اس کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں اس قدرعقیدت بھردیتی ہے کہ اس کی وجہ سے لوگ قتل بھی کرنے سے نہیں چوکتے، جب کہ دوسری طرف اسی جانورکے گوشت کو مہیا کرانے کی بات کرتی ہے، مطلب صاف ہے کہ گائے بس بہانہ ہے، اقتداراصل نشانہ ہے۔

اسی طرح کانگریس پارٹی کی پرینکانے آسام میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگرہماری جیت ہوئی تو ہم این آرسی کوختم کردیں گے، ظاہرہے کہ یہ بھی ’’پندرہ لاکھ‘‘ کی طرح ہی کاایک جملہ ہے، وجہ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ آج کانہیں ہے؛ بل کہ آسام کے تعلق سے 1985ء میں خودراجیوگاندھی نے جو سمجھوتہ کیاتھا، اس کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ 1966سے1971کے درمیان جن لوگوں کے نام رائے دہندگان کی فہرست میں جڑے ہوں گے، ان کو ہٹایاجائے گا اوراگلے دس سالوں تک ان کاحق رائے دہی چھین لیاجائے گا، این آرسی کامسئلہ اسی سمجھوتے سے جڑاہواہے۔

اسی سمجھوتے کوسامنے رکھ کر1999میں واجپائی حکومت نے این آرسی اپ ڈیٹ کرنے کامدعا اٹھایاتھا؛ لیکن 2004میں حکومت بدل جانے کی وجہ سے اس طرف مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، مئی 2005میں منموہن سنگھ حکومت میں آسام حکومت اورآسورہنماؤں کے اجلاس ہوئے اوراین آرسی اپ ڈیٹ کرنے کافیصلہ لیاگیا، 2009میں آسام پبلک ورکس نام کے ایک این جی او کی عرضی کی وجہ سے سپریم کورٹ بھی اس میں شامل ہو گیا، جون 2010میں ریاست کے دواضلاع میں این آرسی اپ ڈیٹ کاکام شروع کیا گیا؛ لیکن بعض وجوہات کی بنیاد پربند کردینا پڑا، جولائی 2011میں اس عمل کومزید آسان بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی، مئی 2013 میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کواین آرسی کے متعلق طورطریقوں کوآخری خاکہ دینے کی ہدایت دی اور2014میں کورٹ نے این آرسی اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کوشروع کرنے کاحکم دیا، جس کانتیجہ بھی سامنے آچکاہے۔

اس تفصیل کوغورسے دیکھئے اوربتایئے کہ کیاپرینکا این آرسی ختم کرنے کی جوبات کررہی ہیں، اس میں وہ سچی ہیں؟ قطعاً نہیں؛ کیوں کہ جس کام کوان محترمہ کے اباجان نے سرانجام دیاہے اورجس کام کوخود اس کی پارٹی نے شروع کیاہے، وہ اس کے خلاف کیسے جاسکتی ہیں؟ اس سے صاف ظاہرہے کہ این آرسی ختم کرنے کے جملہ اورپندرہ لاکھ دینے کے جملے میں کوئی فرق نہیں ہے، سوائے اس کے ایک جملہ کانگریس پارٹی کی طرف سے ہے، جب کہ دوسرا جملہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی طرف سے۔

یہ ہے اس وقت ایک بڑے جمہوری ملک کی سیاست کامکروہ چہرہ، جس کی وجہ سے عوام ایک دوسرے سے لڑتی بھڑتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے بیسیوں افراد کوموت کے گھاٹ اتاردیا گیا؛ بل کہ ابھی حال میں اسی کومدعا بناکر ایک خاتون کا گینگ ریپ تک کردیاگیا، یہ کیسی ماتاہے کہ ایک جگہ تواس کی وجہ سے گلاتک ریت دیاجاتاہے ، جب کہ دوسری جگہ اس کومہیا کرانے کی بات کی جاتی ہے؟ دوسری طرف این آرسی ختم کرانے کی بات کی جارہی ہے، جب کہ اسی کے پوروجوں نے اس کافیصلہ کیا ہے، سیاست کوگندا اسی لئے تو کہا گیاہے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اسی گندگی سے نکلنے والی بات سے ہم خوش ہوجاتے ہیں، عوام کو کالانعام اسی لئے توکہا گیاہے، وہ کچھ نہیں سمجھتی، وہ صرف نعروں کے پیچھے بھاگتی ہے، حقیقت سے منھ موڑے رہتی ہے، جب تک عوام حقیقت کونہیں سمجھے گی، اس وقت تک یہ سیاسی بازی گر ہمیں کھلادھوکہ دیتے رہیں گے؛ اس لئے عوام کو چاہئے اس حقیقت تک پہنچیں اوردوسروں تک پہنچائیں اورالیکشن کے موقع پر زبان سے نکلنے والی سیاسی جملہ بازیوں سے ہوشیاررہیں؛ کیوں کہ ان کے کبھی چہرے نہیں ملتے اورکبھی درپن نہیں ملتے۔

jamiljh04@gmail.com / 8292017888



Monday, 1 March 2021

درخت پرلگے ہوئے پھلوں کی خرید وفروخت

 درخت پرلگے ہوئے پھلوں کی خرید وفروخت 

مذاہب اربعہ کی روشنی میں

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


 موجودہ زمانہ کاایک عام رواج درخت پر لگے ہوئے پھلوں کی خرید وفروخت کا ہے، شریعت کی روسے یہ جائز ہے یانہیں ؟ بحیثیت مسلمان ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے، اسی کی صراحت اس مضمون میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    اس بابت سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ خریدوفروخت کے لحاظ سے درختوں پرلگے ہوئے پھلوں کی دوقسمیں ہوتی ہیں: 

۱-  پھل ظاہرہونے سے پہلے بیع کی جائے۔

۲-  پھل ظاہرہونے کے بعدبیع کی جائے ۔

پہلی صورت میں بیع کرنے سے حدیث میں روکاگیاہے، حضرت حکیم بن حزامؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا:

یارسول اللہ! یأتینی الرجل فیریدمنی البیع لیس عندی، فأبتاعہ لہ من السوق؟ فقال: ’’لاتبع مالیس عندک‘‘۔(سنن أبی داود، باب فی الرجل یبیع لالیس عندہ، حدیث نمبر:۳۵۰۳)

اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پاس آدمی آتاہے اورمجھ سے ایسی چیز کی بیع چاہتاہے، جومیرے پاس نہیں ہے توکیامیں اس کے لئے بازارسے خریدکرلوں؟ جواب دیا: ’’ایسی چیزمت فروخت کرو، جو تمہارے پاس نہ ہو‘‘۔

  مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایسے پھلوں کی بیع کے نادرست ہونے پرفقہاء نے اجماع کیاہے، جوابھی ظاہرنہیں ہوئے ہوں، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: 

أجمع الفقہاء علی عدم صحۃ بیع الثمارقبل ظہورہا؛ لأنہامعدومۃ، وبیع المعدوم غیرجائز للغرر۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ: ۱۵؍۱۳، لفظ: ثمار)

 ظاہرہونے سے پہلے پھلوں کی بیع کے عدم جواز پرفقہاء کااجماع ہے؛ کیوں کہ یہ معدوم ہے اورمعدوم کی بیع دھوکہ کی وجہ سے ناجائزہے۔

جہاں تک دوسری صورت(پھل ظاہرہونے کے بعدبیع کی جائے)کاتعلق ہے تواس کی دوصورتیں ہیں:

(الف)  درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع کی جائے۔

(ب)   درخت کے ساتھ پھلوں کی بیع کی جائے۔

پھرپہلی صورت کی تین شکلیں ہیں:

(الف)  پھلوں کوکاٹ لینے کی شرط کے ساتھ بیع کی جائے۔

(ب)  پھلوں کودرختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیع ہو۔

(ج)  یہ بیع بغیرکسی شرط(نہ درختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹ لینے )کے مطلق ہو۔

جہاں تک پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع ) کی پہلی شکل(پھلوں کوکاٹ لینے کی شرط کے ساتھ بیع )کاتعلق ہے تویہ ائمۂ اربعہ اور جمہورفقہاء کے نزدیک حضرت انسؓ کی حدیث کی وجہ سے درست ہے،جس میں انھوں نے فرمایا: 

أن رسول اللہ ﷺنہی عن بیع ثمر التمر؛ حتی یزہو، فقلنالأنس: مازہوہا؟ قال: تحمروتصفر، أرأیت إن منع اللہ الثمرۃ، بم تستحل مال أخیک؟ (صحیح البخاری، باب بیع المخاضرۃ، حدیث نمبر: ۲۲۰۸) 

رسول اللہ ﷺنے زہوسے پہلے کھجورکے پھل کی بیع سے منع فرمایاہے، (حضرت انس ؓ کے شاگردان کہتے ہیں کہ) ہم نے (حضرت) انسؓ سے پوچھا: زہوکیاہے؟ جواب دیا:اس کا لال یازرد ہونا، (مزیدفرمایا): تمہاراکیاخیال ہے اگراللہ تعالیٰ پھل روک لے توتم کس بنیاد پراپنے بھائی کامال حلال کروگے؟

حضرت انسؓ کے قول(بم تستحل مال أخیک؟) کامطلب یہ ہے کہ اگرپھل ضائع ہوجائیں توخریدنے والے کے دئے ہوئے مال کے بدلہ میں کچھ بھی نہیں بچے گااورظاہر ہے کہ یہ صورت اس وقت پائی جائے گی، جب کاٹنے کی شرط نہ لگائے(شرح الزرقانی، باب النہی عن بیع الثمارحتی یبدوصلاحہا: ۳؍۳۳۶، حاشیۃ السندی علی النسائی:۷؍۲۶۴)؛ لیکن اگرکاٹنے کی شرط لگادے توپھریہ شکل نہیں پائی جائے گی، اسی لئے ائمۂ اربعہ اورجمہورفقہاء کے نزدیک ایسی صورت میںبیع درست ہوگی، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:

الأولی: أن یشترط البائع علی المشتری أن یقطعہافوراً، ولایترکہا علی الأشجار، وہذہ الصورۃ جائزۃ بإجماع الأئمۃ الأربعۃ وجمہورفقہاء الأمصار۔ 

پہلی صورت یہ ہے کہ بیچنے والاخریدنے والے پریہ شرط لگائے کہ وہ پھل فوراً توڑلے گا، درخت پرنہیں چھوڑے گاتویہ بہ اجماع ائمہ اربعہ اورجمہورفقہائے امصار جائزہے۔

رہی بات پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع) کی دوسری شکل(پھلوں کودرختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیع )کی تو یہ تمام کے نزدیک درست نہیں؛ کیوں کہ حدیث میں اس کی ممانعت واردہوئی ہے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

أن رسول اللہ ﷺ نہی عن بیع الثمرحتی یبدوصلاحہا، نہی البائع والمبتاع۔ (صحیح مسلم، باب النہی عن بیع الثمارقبل بدوصلاحہا، حدیث نمبر: ۳۷۴۵)

رسول اللہ ﷺ نے بدوصلاح سے پہلے پھل کی بیع کومنع فرمایاہے، خریدنے اوربیچنے والے دونوںکومنع کیاہے۔

اسی حدیث کی بنیادپرجمہورفقہاء کے نزدیک یہ دوسری شکل ممنوع ہے، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:

والصورۃ الثانیۃ: أن یشترط المشتری ترک الثمارعلی الأشجار حتی حین الجذاذ، وہذہ الصورۃ باطلۃ بالإجماع۔(تکملۃ فتح الملہم، باب النہی عن بیع التمرحتی یبدوصلاحہا: ۱؍ ۳۸۶،نیز دیکھئے: فقہ حنفی: فتح القدیر، کتاب البیوع: ۶؍۲۶۸، فقہ شافعی: المجموع:۱۱؍۱۱۸، ط: مکتبۃ الإرشاد، جدہ، فقہ مالکی: الذخیرۃ للقرافی،اللفظ العاشر:الثمارفی رؤوس النخل : ۵؍۱۸۳، فقہ حنبلی: الکافی لابن قدامۃ، باب بیع الثمار: ۳؍۱۱۰)

اوردوسری صورت یہ ہے کہ خریدنے والاپھل کے تیارہونے تک درخت پرچھوڑے رکھنے کی شرط لگائے تویہ صورت بالاجماع باطل ہے۔

اب مسئلہ پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع)کی تیسری شکل( بغیرکسی شرط(نہ درختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹ لینے )کے مطلق)کاہے تواس سلسلہ میں فقہاء کی دورائیں ہیں:

۱-  یہ بیع نادرست ہے  ----  اس کے قائلین میں حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی ،حضرت امام احمدبن حنبل، اسحاق بن راہویہ، سفیان ثوری اورامام ابواللیث رحمہم اللہ ہیں  ----  یہ حضرات ایک تو بدوصلاح سے قبل پھل کی بیع کی ممانعت والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں، دوسرے یہ کہتے ہیں کہ مطلق ،ابقاء کاتقاضاکرتاہے اورجب بشرط الابقاء بیع درست نہیں تویہ بھی درست نہیں، امام نوویؒ فرماتے ہیں:

(القسم الثالث) أن یبیعہا مطلقاً لابشرط القطع ولابشرط التبقیۃ، فمذہبناأن البیع باطل للأحادیث، وبہ قال مالک وأحمد واسحاق وداود… وعندنا:الإطلاق یقتضی التبقیۃ۔ (المجموع: ۱۱؍۱۲۰، بدایۃ المجتہد، الباب الثالث: وہی البیوع المنہی عنہا من قبل الغبن الذی سببہ الغرر: ۲؍۱۴۹، المغنی لابن قدامۃ،مسئلہ نمبر: ۷۲۲: وإذااشتری الثمرۃ دون الأصل، ولم یبدصلاحہاعلی الترک… : ۶؍۱۴۹)

(تیسری قسم) یہ ہے کہ اس کی بیع مطلق کرے، نہ کاٹنے کی شرط لگائے اورناہی باقی رکھنے کی، تواحادیث کی وجہ سے ہمارامذہب یہ ہے کہ بیع باطل ہے، اسی کے قائل امام مالک، امام اسحاق اورامام داؤد ہیں … (کیوں کہ) ہمارے نزدیک مطلق لفظ ابقاء کاتقاضاکرتاہے۔

۲-  یہ بیع درست ہے  ----   اس کے قائلین میں حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام بخاری اورحضرت امام زہری رحمہم اللہ ہیں  ----  یہ حضرات  کہتے ہیں کہ مطلق کی صورت بشرط القطع کی صورت میں داخل ہے؛ کیوں کہ جب لفظ مطلق ہے تواگربائع کاٹنے کاحکم دے تومشتری پرکاٹنالازم ہے ، تویہ بشرط القطع میں داخل ہوگیا؛ لیکن اگربائع کانٹے کاحکم نہ دے تومشتری پرکاٹناضروری نہیں کہ قطع تقاضائے بیع نہیں ہے، پس اس کی مثال ایسی ہوئی کہ بائع نے پہلے توبشرط القطع بیچا، پھرسستی برتی اورکاٹنے کاحکم نہیں دیا، لہٰذا نتیجہ کے اعتبارسے پہلی اورتیسری صورت میں کوئی فرق نہیں ہے، مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں:

والصورۃ الثالثۃ: أن یقع البیع مطلقاً، ولایشترط فیہ قطع ولاترک، فہذہ الصورۃ محل خلاف بین الأئمۃ…قال ابوحنیفۃ رحمہ اللہ: البیع فیہاجائز کالصورۃ الأولیٰ، ویجوز للبائع أن یجبرالمشتری علی قطع الثمارفی الحال، وإلی ہذاالمذہب یظہرجنوح البخاری کماأشار إلیہ الحافظ، وہومذہب الزہری کماحکی عنہ البخاری … لنا: أن صورۃ الإطلاق وہی الصورۃ الثالثۃ داخلۃ فی الصورۃ الأولیٰ فی الحقیقۃ؛ لأنہ إطلاق فی اللفظ فقط، فإن أمرہ البائع وجب علیہ القطع فی الحال، فکأنہ قد شرط فیہ القطع، وأماإذالم یأمرہ بالقطع فلایجب علی المشتری أن یقطع الثمار، لأن القطع لیس بمقتضی البیع؛ بل لأن البائع قد تساہل فی أمرہ، فصارکأنہ باع بشرط القطع، ثم تساہل ولم یأمرہ بالقطع، فلافرق بین الصورۃ الأولیٰ والثالثۃ فی المآل۔(تکملۃ فتح الملہم: ۱؍۳۸۶-۳۸۷، نیز دیکھئے: تحفۃ الفقہاء، بیع الثمارعلی الأشجار…: ۲؍۵۵-۵۶)

تیسری صورت یہ ہے کہ بیع مطلق ہو، نہ کاٹنے کی شرط لگائی گئی ہواورناہی چھوڑنے کی تویہ صورت ائمہ کے درمیان اختلاف کامحل ہے…امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں: اس صورت میں بیع پہلی صورت کی طرح جائزہے اوربائع کے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ فی الفورپھل کاٹنے پرخریدارکومجبورکرے، اسی مذہب کی طرف امام بخاریؒ کاجھکاؤ ہے، جیساکہ حافظ ابن حجرؒنے اشارہ کیاہے اورامام بخاریؒ کے بقول امام زہریؒ کابھی یہی مسلک ہے… ہماری دلیل یہ ہے کہ مطلق کی صورت اوروہ تیسری صورت ہے، حقیقتاً پہلی صورت میں داخل ہے؛ کیوں کہ یہ صرف لفظ میں اطلاق ہے؛ چنانچہ اگربیچنے والاخریدارکوحکم دے تواس پرفی الحال کاٹناواجب ہے، پس یہ گویاایساہی ہواجیسے قطع کی شرط لگائی ہو، اورجہاں تک اس صورت کاتعلق ہے ، جس میں بیچنے والے نے خریدارکوکاٹنے کاحکم نہ دیا ہوتوخریدارپرپھلوں کا کاٹنا واجب نہیں؛ کیوں کہ قطع تقاضائے عقدمیں سے نہیں ہے؛ بل کہ اس لئے ہے کہ بیچنے والے نے اپنے حکم کے (نفاذ) میں سستی برتی، پس یہ ایساہی ہوگیا، جیسا کہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیچاہو، پھراس نے سستی برتی اورکاٹنے کاحکم نہیں دیا، لہٰذا نتیجہ کے اعتبار سے پہلی اورتیسری شکل میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اب جہاں تک تعلق ہے دوسری صورت(پھلوں کودرخت کے ساتھ بیچنے)کا تواس سلسلہ میں تمام فقہاء اس بات پرمتفق ہیں کہ یہ بیع درست ہے؛ کیوں کہ قاعدہ ہے: یغتفرفی التوابع مالایغتفرفی غیرہا(الأشباہ والنظائرلابن نجیم،ص:۱۰۳)، علی بن عباس حکمی لکھتے ہیں: 

فأماإن کان البیع للثمرۃ مع أصلہا، فلاخلاف فی جوازہ لدخول الثمرۃ تبعاً لأصلہا، فلایضراحتمال الغرر۔ (البیوع المنہی عنہانصا فی الشریعۃ الإسلامیۃ…، ص: ۱۴۶)

جہاں تک اس صورت کاتعلق ہے، جس میں پھل کی بیع درخت کے ساتھ ہوتوپھل کے درخت کے تابع ہونے کی وجہ سے اس کے جائز ہونے میں کسی کااختلاف نہیں ہے ، لہٰذا دھوکہ کااحتمال نقصان دہ نہیں ہے۔

ھذاماعندی واللہ أعلم بالصواب!