Monday, 28 September 2020

جس کی محنت سے پھبکتا ہے تن آسانی کا باغ

 جس کی محنت سے پھبکتا ہے تن آسانی کا باغ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اورملک بھی ایسا، جسے دنیاکاایک بڑاجمہوری ملک ہونے کاشرف حاصل ہے، اب سوال یہ ہے کہ جمہوریت کامطلب کیاہے؟ جمہوریت انگریزی لفظDemocracyکاترجمہ ہے، جودراصل یونانی زبان سے منتقل ہوکرآیاہے، یونانی زبان میںDemoعوام کوکہتے ہیں، جب کہ Cracyحاکمیت کوکہتے ہیں، یونانی مفکرہیروڈوٹس کے مطابق اس کامفہوم یہ ہے: ’’ایک ایسی حکومت، جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طورپرپورے معاشرہ کوحاصل ہوتے ہیں‘‘، اس تعلق سے سابق امریکی صدرابراہم لنکن کاقولgovernment of the people, by the people, for the people’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ، عوام پر‘‘کافی مشہورہے، جمہوریت کی جامع تعریف کے سلسلہ میں علمائے سیاست کابڑااختلاف ہے؛ لیکن مجموعی اعتبارسے جمہوریت ایک ایسے نظام حکومت کوکہتے ہیں، جس میں عوام کی رائے کوکسی ناکسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لئے بنیاد بنایا گیا ہو(ویکی پیڈیا)۔

لیکن جب ہم اپنے ملک ہندوستان پرنظرڈالتے ہیں اورخصوصیت کے ساتھ برسراقتدارحکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کاگہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں توصاف محسوس ہوتاہے کہ جمہوریت کاجنازہ اوراس کی ارتھی کاندھوں پراٹھ چکی ہے،بس اب قبرمیں دفن کرنے یااسے جلادینے کی کسرباقی رہ گئی ہے،2014کے قومی انتخاب سے پہلے پہلے تک کچھ امید باقی اورکچھ ایمان جمہوریت پرقائم تھا؛ لیکن2019کے انتخاب کے بعد امید کی ڈورٹوٹ چکی ہے اورایمان اٹھ چکاہے اوریہ میراہی مسئلہ نہیں ہے، یہاں کے فلمی دنیاکے لوگوں نے بھی اس تعلق سے بے اطمینانی کااظہارکیاہے، یہاں کے ادباء نے بھی، یہاں کے ججزنے بھی، یہاں کے نوجوانوں نے بھی، یہاں کے بوڑھوں نے بھی، یہاں کی خواتین نے بھی، یہاں کے بچوں نے بھی، اوراگریہ کہاجائے کہ پورے ملک کے لوگ بے چینی کے شکارہیں توبے جانہ ہوگا۔

برسراقتدارحکومت نے پہلے تومسلم دشمنی کاثبوت دیااورایسے فیصلے کئے، جن سے ان کے مذہب پرچوٹ پڑرہی تھی؛ حتی کہ ملک بدر کرنے کی پلاننگ بھی کردی گئی، کالے دھن کے نام پرنوٹ بندی کی گئی اورتمام لوگوں کوپریشانی میں مبتلا کیا گیا، نوٹ بندی کے تعلق سے جودعوے کئے گئے تھے، وہ سب کھوکھلے نکلے، دقت اورپریشانی میں عوام مبتلاہوئی، کتنوں نے خودکشی کرلی، کتنوں کی جانیں بینک کی لائنوں میں چلی گئیں؛ لیکن حکومت پرکوئی اثرنہیں ہوا، جی ایس ٹی لاگوکیاگیا، اس کی وجہ سے بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا، گیس ، ڈیزل اورپٹرول مہنگے کردئے گئے، جس کے بوجھ سے لوگوں کی کمرجھک گئی، اشیائے خودنی کی قیمتیں آسمان تک جاپہنچیں، چاول مہنگے، دالیں مہنگیں، سبزیاں مہنگیں، آلواورپیاز نے تورلاکرہی چھوڑا، آج بھی پیاز 45اورآلو35روپے کیلوخریدنے پرعوام مجبورہے، پھربل پاس کراکے آلوپیاز وغیرہ کوضروری اشیائے خودنی سے خارج کروا دیا گیا، جوچیز سالہاسال سے اشیائے خوردنی میں شامل ہواورواقعی لوگ اسے اشیائے خوردنی کے طورپراستعمال کرتے ہوں، ان چیزوں کواشیائے خوردنی سے خارج کردینے کافائدہ کیا؟صاحب کے مشروم کی قیمت ہی صرف8000بتائی جاتی ہے؛ لیکن بے چاری عوام پیازبھی نہیں کھاسکتی۔

2019کے آواخرمیںCABلایاگیااورآناً فاناً CAAمیں تبدیل کردیاگیا، ابھی حال ہی میں زرعی بل لایاگیا اور ہزاراحتجاجات کے باوجودقانون بنادیا گیا؛ بل کہ آج بھی لوگ ریل کی پٹریوں پراحتجاج میں بیٹھے ہیں، ٹرینیں بند ہیں، پورے ملک کے کسان اوران کے لیڈران اورماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قانون سے کسانوں کاکم، کارپوریٹ سیکٹرکا فائدہ زیادہ ہے؛ لیکن پی ایم یہی سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ آپ کے حق میں مفید ہے، وہ قانون کیسے ان کے حق میں مفید ہے، جس کے تعلق سے وہ مطمئن نہیں، یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کے تعلق سے قانون بنایا گیا، ان سے کوئی مشورہ ہی نہیں لیاگیا، اس سے قبل مسلم قوم کے تعلق سے کئی فیصلے سپریم کورٹ کے ذریعے کروائے گئے، اسلامی شریعہ کے ماہرین سے کوئی مشورہ نہیں لیاگیا، آج کل اگرباپ گھرکے تعلق سے کوئی فیصلہ کرتاہے توپہلے گھروالوں سے مشورہ کرلیتا ہے، بیٹے یابیٹی کی اگرشادی کرنی ہو توپہلے ان سے پوچھاجاتاہے، اورتعلیم یافتہ لوگوں کی یہی پہچان ہے؛ لیکن جن گھروں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے یاوہ فرسودہ ذہن کے ہوتے ہیں، وہ فیصلے تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی تناظرمیں ملک کے فیصلوں کوبھی دیکھا جائے، یہ ملک جمہوری ہے، عوام نے آ پ کونمائندہ بنا کر بٹھایا ہے، کوئی بھی قانون لانے سے پہلے اس قانون سے متعلق لوگوں سے رائے لینی چاہئے تھی، تعلیم سے جوبہرہ ورہوتے ہیں، وہ اپنی رائے تھوپتے نہیں، ملک کے لوگوں کے لئے آپ قانون بنارہے ہیں توپہلے عوامی سطح پراس کی تشہیرہونی چاہئے اورخوبی وخامی پربحث ہونی چاہئے، پھرجاکرقانون بناناچاہئے، یہ جمہوریت کے نام پرآمریت ہے کہ ہزاراحتجاجات کے باجود آپ قانون تھوپ رہے ہیں، یہ عوام کی حکومت کہاں رہی؟ یہ تو ڈکٹیٹرشپ ہے، اورجمہوری ملک میں ڈکٹیٹرشپ نہیں چلتی۔

اس ملک کے کسان آج سے نہیں؛ بل کہ زمیں داری کے زمانہ سے ہی مختلف قسم کے مسائل سے جھوجھ رہے ہیں، زمیں داری ختم ہوئی تویہ سوچا گیا کہ کسانوں کے مسائل حل ہوں گے، کچھ حل ہوئے بھی ؛ لیکن اب اس سے زیادہ مسائل پیداہوگئے ہیں، اگران کے مسائل حل ہوتے تووہ خودکشی کیوں کرتے؟ کسانوں کی خودکشی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے مسائل ابھی حل نہیں ہوئے ہیں، ان کے مسائل حل کرنے کی فکرکرنی چاہئے، نہ کہ ان کے مسائل بڑھانے کی کوشش ہونی چاہئے۔

جس طرح ڈاکٹروں کی ضرورت جسمانی علاج کے لئے ضروری ہے، اسی طرح جسم کی خوراک کے لئے کسانوں کا ہونا بھی ضروری ہے، اگرکسان نہ ہوں توہمیں کھانا کہاں سے میسرہوگا؟ جسم کواصل طاقت غذاسے حاصل ہوتی ہے، دواسے نہیں، اصل طاقت پہنچانے والے گرے پڑے لوگ سمجھے جاتے ہیں، وہ طرح طرح کے مسائل سے دوچارہیں اوردواداروکرنے والے دادعیش دے رہے ہیں، ان کے پاس پیسوں کی کمی نہیں اوریہ بدن ڈھکنے کے لئے کپڑوں کے بھی محتاج، کیاکبھی سناہے کہ کسی ڈاکٹرنے اپنے پیشہ سے تنگ آکرخودکشی کرلی ہو؟ لیکن بے چاے کسان! ہزاروں نے اپنے پیشہ سے تنگ آکرخودکشی کرلی ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں، صرف اس لئے کہ وہ جسمانی طاقت کی اصل غذائیں فراہم کرتے ہیں، سچ بھی یہی ہے، یہ دنیابدل چکی ہے، دنیاوالوں کی سوچ بدل چکی ہے، جھوٹ کوسچ ماناجاتاہے اورسچ کوجھوٹ، جولوگ دھوپ اوربارش کی پرواہ کئے بغیرمٹی سے سونا نکالتے ہیں، ان کی کوئی قدرنہیں اورجولوگ نقلی دوائیں دے کرمریض اورلاچارکردیتے ہیں، وہ بھگوان ہیں، بھگوان!

    حکومت نے کسانوں کے تعلق سے تین طرح کے بل پاس کئے ہیں: (۱) کسانوں کی پیداواری تجارت(فروغ اورسہولت کاری) بل 2020(۲) کسان(خودمختاری اورتحفظ) قیمتوں کے تیقن اورکھیتی سے متعلق خدمات بل2020(۳) لازمی اشیاء (ترمیمی) بل2020، حکومت کاکہناہے کہ ان بلوں کے ذریعہ سے کھیتی باڑی کے سیکٹرکی ترقی اورکسانوں کے مفادات کویقینی بنانے میں مدد ملے گی، اس سے مارکیٹ سے بچولیوں کاخاتمہ ہوگا، ایک قومی منڈی تشکیل پائے گی، کسان اپنی پیداوارکوکہیں بھی اورکسی سے بھی فروخت کرسکیں گے، پیداوارکی قیمت اچھی حاصل کی جاسکے گی اوراس طرح کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگاکسانوں کوسب سے زیادہ دقت کسان(خودمختاری اورتحفظ) قیمتوں کے تیقن اورکھیتی سے متعلق خدمات بل2020کولے کرہے؛ کیوں کہ اس کا تعلق کانٹریکٹ فارمنگ سے ہے، جس کاسیدھامطلب یہ ہے کہ کارپوریٹ کمنیوں کی جے جے ہوجائے گی اورایک وقت ایساآسکتاہے، جب کسانوں کواپنے قرضوں کی ادائے گی کے لئے اپنی زمینوں کوان کمپنیوں کے حوالہ کردیناپڑے۔

اگرکسان کاشت کاری چھوڑدیں توملک میں اجناس کی قلت ہوگی یانہیں؟ دوسرے ملکوں سے اجناس کی خریداری کی جائیگی یانہیں؟ ملک کی خوش حالی کامدارانھیں سے توہے، روپے پیسوں سے اجناس خریدسکتے ہیں، پیٹ نہیں بھرسکتے، کسی زمانہ میں تقریباً دیہات کے تمام ہی لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے، اب نہیں کرتے، اب وہ کہتے ہیں کہ کوئی فائدہ ہی نہیں، اناج سے زیادہ خرچ ہی ہوجاتاہے، توپھرکھیتی کرکے فائدہ کیا؟ زرعی قانون کے ذریعہ سے بھی ایساہی ہونے والاہے، آہستہ آہستہ لوگ کھیتی کرناچھوڑدیں گے، جب کھیت سے انھیں پونجی ہی حاصل نہیں ہوگی اورنفع بھی نہیں ہوگا تووہ کھیتی کرکے کریں گے کیا؟ جب کھیت سے انھیں روزی ہی نہیں ملے گی توخوشۂ گندم کوجلانے کے سواان کے پاس چارہ کیاہے؟ ان کااحتجاج بے سبب نہیں ہے، حکومت کوکیا؟ ویسے بھی وہ ملک کی ایک ایک اینٹ کوبیچنے میں دلچسپی رکھتی ہے، اگرکسان کسانی چھوڑدیں گے توان کی زمین ہڑپ کرکے بڑی کمپنیوں کی دی جاسکتی ہے؛ تاکہ وہ کاشت کاری کریں اورحکومت کوزیادہ فائدہ پہنچائیں اورعوام کوغلامی سے بدترزندگی جینے پرمجبورکردے۔

jamiljhh04@gmail.com / Mob:8292017888



دھویں کے مرغولے(افسانہ)

دھویں کے مرغولے

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

دھویں کے اٹھتے کثیف مرغولوں نے افق کی لالی کوتیرگی میں بدل دیاتھا، جسے دیکھ کرپیپل کی شاخ نازک پرآشیانہ بنانے والی مین انہ صرف یہ کہ سہم گئی؛ بل کہ تنکاتنکاجوڑکرہفتوں اورمہینوں کی محنت سے تیارکئے ہوئے اپنے اس مالوف اورمحبوب آشیانہ پربہتے آنسؤوں کے ساتھ الوداعی نظرڈالتے ہوئے اڑگئی اوراس فلک بوس عمارت کی منڈیرپرجابیٹھی، جوشہرکے بیچوں بیچ پہاڑی عفریت کی طرح کھڑی تھی،وہ معاملہ کوسمجھنا اوراپنے سرکی آنکھوں سے دیکھناچاہتی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے دھویں کے مرغولوں کے درمیان سے شعلے بھی بلندہونے لگے، کتنی بھیانک تھی آگ! بالکل نارنمرودکی کی طرح، نہ جانے کتنی جانیں اس کی لپیٹ میں آئی ہوں گی؟ کتنے ذی روح کے گھراس کی زدآئے ہوں گے؟کتنے مال ومتاع کاضیاع ہواہوگا؟ وہ تڑپ اٹھی کہ اس کے پاس ایک دھڑکتادل تھا، وہ سوچ رہی تھی کہ کاش! وہ کچھ کرسکتی، اس کے پروں میں اتنی طاقت ہوتی ، جس کی مددسے وہ اس شعلہ زاآگ کوبجھاسکتی، اس کے پیروں میں اتنازورہوتا، جس کے تعاون سے اس آتش نمرودپرپانی ڈال سکتی۔

وہ ہمت جٹانے لگی کہ کچھ توکرناچاہئے، اس کے پیش نظریہ اصول تھا کہ ’’اگرکوئی کام مکمل طورپرانجام نہ دیاجاسکے توپوراچھوڑابھی نہ جائے‘‘، وہ اڑنے کے لئے اپنے پر تولنے لگی کہ سامنے سے ایک بھڑ آتی ہوئی نظرآئی، اُف …! اس آگ کی وجہ سے کتنے لوگ مصیبت میں پڑگئے، کتنوں کو اپنا گھربار چھوڑ کربھاگنا پڑرہا ہے، کس طرح یہ لوگ بے تحاشا بھاگ رہے ہیں، خدا ان پرر…ر…رحم ک…ک…ک…کرے، اس کی زبان گنگ ہونے لگی، وہ حیران وششدر تھی کہ بھیڑ آگ کی مصیبت کی ماری نہیں؛ بل کہ خود آگ لگانے والی تھی، ان کے ہاتھوں میں پیٹرول بم تھے،لہکتے آگ کی مشعلیں تھیں، ہتھیاربھی تھے، وہ آ گ ہی لگانے  پر اکتفا نہیں کررہی تھی؛ بل کہ لوگوں کے جسموں کوچھلنی اوران کی گردنوں کوکاٹ کرخون کے چھرے بھی بہارہی تھی، اچانک اس کی نظر ایک پچاسی سالہ بوڑھی پرپڑی، جوچلنے کے بجائے ڈول رہی تھی، پھرزمین پرڈھہ بھی گئی اورہاتھ جوڑ کربھیڑ سے رحم کی اپیل کرنے لگی؛ لیکن اُف…! یہاں رحم کہاں تھا؟ یہاں توبس درندگی تھی، یہاں توبس حیوانیت کاننگا ناچ تھا، اک لمحہ کے لئے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں کہ تاب دید نہیں تھی، آنکھ کھلی توبڑھیابے حس وحرکت تھی اوربھیڑ خوشی سے ناچتے گاتے اورنعرے لگاتے آگے کوجارہی تھی۔

یہ ایسادل دوز نظارہ تھا، جواس نے پہلی باراپنی سرکی آنکھوں سے دیکھاتھا، اس سے پہلے تواس کے کانوں نے ہمیشہ ’’ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، آپس میں ہیں سب بھائی بھائی‘‘کا ہی گیت سناتھا، اس نے ہمیشہ ’’ہندی ہیں، ہم وطن ہیں، ہندوستاں ہمارا‘‘ ہی کانعرہ سناتھا،اس نے ہمیشہ یہی دیکھاکہ ہر 15؍اگست اور26؍ جنوری کے دن ملک کے سارے لوگ’’مذہب نہیں سکھاتا، آپس میں بیررکھنا‘‘ایک قطارمیں کھڑے ہوکرگاتے ہیں اورترنگے کوایک ساتھ مل کرسلام کرتے ہیں، اسے اپنی دادی سے سنی ہوئی کہانی بھی یادتھی کہ کس طرح سب دھرم کے لوگوں نے مل کرظالم انگریزوں سے لڑائی کی تھی اور انھیں ملک چھوڑکربھاگنے پرمجبورکیاتھا، اس وقت انقلاب کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، اس وقت ملااورپنڈت ایک ہی چارپائی پرایک پلیٹ میں کھالیا کرتے تھے، دادی کی کہانی اورآنکھوں دیکھی حالت کے درمیان اس نے موازنہ کی کوشش کی؛ لیکن کہیں سے بھی کوئی جوڑ نہیں مل رہاتھا۔

وہ مزیدنظارہ دیکھنے کے لئے بھیڑکے پیچھے اڑنے لگی، سڑک در سڑک، چوراہادرچوراہا اورگلی درگلی بھیڑ گزرتی جاتی اورکچھ نشان زد مکانات و دوکانات کوآگ کے حوالے کرتی جاتی، ناگاہ اس کی نظر ایک اونچے مینارپرپڑی، جس پربھیڑسے نکل کر کچھ لوگ چڑھنے کی کوشش کررہے تھے، ان کے ہاتھوں میں ایک خاص قسم کاجھنڈا تھا، بالآخر ایک نے اس جھنڈے کواس مین ارپرباندھ ہی دیا، جب کہ دوسرے نے اس کے کچھ حصہ کونقصان پہنچایا، پھرایک خاص نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

وہ بھی بے کیفی کے ساتھ اڑاڑکران کے پیچھے جارہی تھی، وہ دیکھناچاہ رہی تھی کہ آج انسانیت کی سطح کس قعرمذلت تک جاگرے گی؟ کہ ٹھائیں کی آواز آئی، وہ آواز کی طرف مڑنے کی ہی کوشش کررہی تھی کہ کوئی تیزدھاروالی چیزاس کے جسم کے ایک حصہ کوچھوتی ہوئی آگے کوگزرگئی اوروہ دنیاومافیہاسے بے خبرگرپڑی، جب آنکھ کھلی توسارامنظرنگاہوں کے سامنے اس طرح گردش کرنے لگا، جیسے کہ اسکرین پر ویڈیو چل رہی ہو اوروہ سوچنے لگی کہ کیایہی وہ مخلوق ہے، جسے بہت ساری مخلوقات پرفوقیت وبرتری دی گئی ہے؟ اگرایساہی ہے توہم بے فوقیت وبے برتر مخلوق ہی بھلے، پھروہ ایک دوسرے آشیانہ بنانے کے لئے جگہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔

 

Saturday, 26 September 2020

برتری(ایک پرلطف تحریر)

برتری 

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


فطرتِ انسانی کاایک اہم خاصہ یہ بھی ہے کہ جس چیز سے روکاجاتاہے، اُس چیزکو کرڈالنے کاجذبہ دوچند ہوجاتاہے اوراپنی پوری کوشش اُس کے پیچھے صرف کردیتاہے، اب دیکھئے کہ خالقِ ارض وسمانے مردوں کوعورتوں پریک گنافضیلت عطاکی ہے؛ لیکن یہ کیسے ہوسکتاتھا کہ فطرتِ انسانی اس کے خلاف بغاوت پرآمادہ نہ ہو؟اوراُس کے خلاف نہ سوچے؟ سوچناتھا، سوچااورایساسوچا کہ بس ہرجگہ فضیلت کے ثبوت کے طورپراب وہی ہیں، ماچس کی ڈبیاسے لے کربڑے بڑے پوسٹروں اورہورڈنگس تک، ایک ہی جنس مختلف روپ میں، کبھی سایہ میں توکبھی دھوپ میں، مختلف رنگ میں، کبھی اکیلے میں توکبھی کسی کے سنگ میں،  مختلف کردارمیں، کبھی ماں کے روپ میں گھرمیں توکبھی آوارۂ فطرت کی طرح بازارمیں، مختلف رفتارمیں، کبھی بائیک پرتوکبھی کارمیں، مختلف چال میں، کبھی وقاروتمکنت کے ساتھ توکبھی شرابیوں جیسی چال میں، مختلف حال میں، کبھی پورے اورساترلباس میں توکبھی صرف رومال میں، مختلف ڈھنگ میں، مختلف آہنگ میں، جہاں بھی دیکھو، وہ تفوق وبرتری اورفضیلت وبلندی کے ’’اعلیٰ نمونہ‘‘پرہیں۔

اب دیکھئے! کہ اُن کی برتری کوثابت کرنے کے لئے کون کون سے حربے اپنائے اور کون کون سے طریقے اختیارکئے گئے؟ برسوں تک دنیا’’حسینۂ کائنات‘‘(Miss Universe)اور’’حسینۂ عالم‘‘(Miss World)جیسے خطابات سے ناآشناتھی؛ لیکن ترقی کی راہ پرگامزن لوگوں کے عزم ِمبارک کی وجہ سے یہ منصۂ شہودپرآئے، جس کے حصول کے لئے پہناوے کاتومشاہدہ کیاہی جاتاہے، پنہائی بھی باریک بینی کے ساتھ دیکھی جاتی ہے، پھر جاکر خطاب کے لئے سیلیکشن کیاجاتاہے، مردوں کے لئے آج تک ایسے خطابات وجودمیں نہیں آئے، یہ برتری نہیں تواورکیاہے؟

برتری کوثابت کرنے کے لئے دنیاوالوں نے کیاکچھ نہیں کیا؟ ہوٹلوں میں ملازتیں دلوائیں، جہاں گاہکوں سے مسکرامسکراکرباتیں کرنی ہوتی ہیں، جام وخمورنوش جان کرانے کے لئے لوگوں کے سامنے بہت ہی ادب کے ساتھ، سلیقہ سے بن سنورکرکہ دیکھنے والوں کی نگاہیں چشمِ آہوسے سیرابی حاصل کرکے چاہ غبغب اورچاہ زنخداں پربراجمان ہوسکے، انداز میں خرام پیداکرکے، گردن ذراساخم کرکے کہ سامنے والا سوسوجان سے قربان ہوجائے، آناپڑتاہے، مرداپنی چال میں ایسی لچک پیداہی نہیں کرسکتاکہ دیکھنے والوں کی نیندحرام ہوجائے، توہوٹلوں کی ملازمت اُن کے حصہ میں کیوں کرآسکتی ہے؟ ہاں! ایسااُس وقت ہوسکتاہے، جب کوئی نگاہِ جوشؔ سے کسی مردکی چال کودیکھے۔

مردوں کے شانہ بہ شانہ دفاترمیں نوکریاں دلوائیں، جہاں دن بھرتھکتی رہتی ہیں، شام آتے ہی اپنے گھروں کولوٹ کر’’بال وپر‘‘سنبھالتی ہیں، پھربچوں اورشوہرکے لئے ڈنرتیارکرتی ہیں، واقعی صاحب! یہ برتری ہی توہے کہ بے چارے مردوں کی توایک ہی ذمہ داری نباہنے میں نانی مرنے لگتی ہے، جب کہ عورتیں دوہری ذمہ داری اپنے دامنِ نازک میں سمیٹ کربخوبی نباہ رہی ہیں۔

بہرحال! بات عورتوں کی برتری کی ہورہی تھی، اب دیکھئے کہ بے چارے مردحضرات اتنے کمزورہوچکے ہیں کہ بس، جب بھی گھرسے باہرجاناپڑتاہے توبے چاروں کوبہت اہتمام کرناپڑتاہے، ٹی شرٹ کے اوپرکوٹ، ٹائی اوراب توکچھ لوگ پاجامہ کرتامیں دوپٹہ بھی استعمال کرنے لگے ہیں، پینٹ، پھرجوتے کے ساتھ موزے لازم؛ لیکن عورتیں! نہ دوپٹہ کی ضرورت، نہ آنچل کی حاجت، لباس سے جسم جتنا جھلکتاہو، اتنااچھا، شلوارکی جگہ اسکرٹ اوروہ بھی گھنٹے کے اوپرتک، صاحب ! یہ برتری ہی توہے کہ بے چارہ مرد جب راستہ چلتاہے توشرماتے ہوئے، لجاتے ہوئے، نگاہیں بالکل نیچی ، جیسے کوئی نئی نویلی دلہن ہو؛ لیکن ہماری عورتیں! حسن کاجلوہ بکھیرتے ہوئے، ہونٹوں پرسرخی کی لپائی کرکے، پورے طورپرحسن کی دیوی اور’’قتالۂ عالم‘‘بن کر، خواہ ’’لیلیٰ‘‘ جیسی ہی کیوں نہ ہو، سڑکوں پرنزول اجلال فرماتی ہیں، مردبے چارہ سوچتاہی رہتاہے کہ سامنے سے آنے والی قتالۂ عالم سے کنی کاٹے یا اس سے مس ہوکر’’لمسِ بہار‘‘ کااحساس جگائے کہ اس قدرزورسے دھکاملتاہے کہ اگر’’ہجومِ بے کراں‘‘پیچھے نہ رہے توگرتے ہی بنے، اگرآپ کے دہنِ مکروب سے ’’اُف‘‘ کی آواز بھی نکلی( آہ تودورکی بات ہے) تونازک ہتھیلیوں کی چٹاخ اورسینڈل کی تڑا خ سے اردگردگونج جائے گی، ایسے موقع پراگرپولیس آجائے تو کچھ ’’مٹھی بند‘‘دے دلاکردُم دباکربھاگ نکلنے کی کوشش کیجئے، ورنہ ’’حبسِ بے جا‘‘کے لئے تیار رہئے؛ کیوں کہ بات برترکی سنی جاتی ہے، کم ترکی نہیں۔

برتری کی یہ کھلی اورواضح دلیل ہے کہ عورتیں دنیا کے کسی کونہ میں صدرعالی مرتبت کے عہدۂ جلیلہ پرفائزہیں، کہیں وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنالوہا(خام ہی سہی) منوارہی ہیں، کسی ملک کی وزیراعظم ، کہیں وزیراعلی اورنہ جانے کون کون سے عہدوں پرفائز ہیں، انہی عہدوں کی بدولت کبھی گارڈ آف آنرسے بھی محظوظ ہوتی ہیں اورمسرت کی کلیاں اُس وقت چٹخنے لگتی ہیں، جب مردحضرات گارڈ آف آنرپیش کرتے ہیں، (شاید ان کادل بھی اس وقت دوڈھائی کیلوکا ہوجاتاہوہوگا)، یہ توتسلیم شدہ برتری ہے۔

’’جادووہ، جوسرچڑھ کربولے‘‘، اب توواعظانِ حرم اوردردمندانِ امم نے بھی ان کی برتری کوتسلیم کرلیاہے، چنانچہ جب بھی مائیک پرآنے کااتفاق ہوتاہے، جھپٹ کردھاڑتے ہیں ’’خواتین وحضرات!‘‘، یعنی پہلے خواتین، پھرحضرات، یہ بھی برتری کی ایک کھلی مثال ہے۔

٭٭٭

Thursday, 24 September 2020

بزدلی ہی ہماری اصل کمزوری ہے



 بزدلی کا شکار ہیں ہم لوگ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


اس وقت پوری دنیامیں195ممالک ہیں، جن میں سے 57صرف مسلم ممالک ہیں، اگرآبادی پرنظرڈالیں توپوری دنیامیں تقریباً1.9بلین مسلمانوں کی آبادی ہے، جوعیسائیوں کے بعد دوسری بڑی آبادی ہے، پھرجوممالک مسلم ہیں، ان میں بھی اکثر قدرتی ذخائرسے مالامال ہیں اوریہ سن کرتعجب ہوگا کہ International Monetary Fund, World Economic Outlook October 2019کے مطابق اقتصادی ترقی کی رینکنگ میں قطرپہلے نمبرپرہے،وہ  GDP-PPP($) 1,32,886کامالک ہے، جب کہ برونئی ، یونائیٹیڈ عرب امارت اورکویت ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ، سعودی عرب سولہ ، بحرین تئیس، عمان اٹھائیس اورملیشیاانچاس نمبر پر ہیں(https://www/gfmag.com/global-data/economic-data/richest-countries-in-the-world)، اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اقتصادی اعتبارسے بھی مسلم ممالک کمزورنہیں ہیں۔

لیکن اس کے باوجوددنیاکے اطلس پرسب سے زیادہ کمزورمسلم قوم ہی ہے، اس کی حیثیت اس یتیم کی سی ہوکررہ گئی ہے، جوکمینہ کے دسترخوان پربیٹھاہو، لوگ اس کامذاق اڑارہے ہوں، منھ چڑارہے ہوں اوربے چارہ اپنی ناتوانی اورکمزوری کی وجہ سے دل مسوس کررہ جائے، اخبارکے پہلے صفحہ پر اس کی کمزوری کی داستان روزانہ چھپتی نظرآتی ہے؛ حالاںکہ یہ وہی قوم ہے، جس نے اپنے زمانے کے سپرپاورطاقتوں سے ٹکرلیااورانھیں گھٹنوں کے بل چلنے پرمجبورکردیا، یہ وہی قوم ہے، جس کے سامنے سمندرکی طغیانی بھی بے بس نظرآئی، جس کاراستہ افریقہ کے جنگلات میں بسنے والے خطرناک اورموذی درندے وچرندے بھی نہیں روک سکے، جس کے جوانوںنے خشکی میں کشتیاں چلائیں، جس کے طالع آزماؤں نے دشمن کے علاقہ میں پہنچ کراپنی کشتیاں جلادیں؛ تاکہ شہادت یاسروخ روئی کے علاوہ ذہن ودماغ میں کوئی اورخیال نہ آئے۔

آج اسی قوم کی حالت انتہائی خستہ ہے، ہرکوئی اس پرانگلیاں اٹھادیتاہے، ہرکوئی اس کے منھ پرطمانچہ جڑدیتاہے؛ لیکن آخروجہ کیاہے؟ جب غورکیاجاتاہے تواس کی بنیادی وجہ ’’بزدلی‘‘ نظرآتی ہے، باعزم اورہمت کے پیکرلوگوں کی طرف کوئی بھی نگاہ اٹھاکردیکھتاہے کیا؟ چاہے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو؛ لیکن بس بزدلی سے دورہو، بہادر ہو، حوصلہ مندہو، سمندرکی لہروں سے ٹکرانے اورپہاڑوں کے سینوں پراپناپرچم لہرانے کاجذبہ رکھتے ہوں، ہواؤں کے رخ کوموڑدینے اورآندھیوں کے منھ کوپھیردینے کاجذبہ ہوتو پھر کوئی طاقت اس کی طرف آنکھ دکھانے؛ بل کہ آنکھ ملانے کی جرء ت وجسارت نہیں کرپاتا۔

آج ہماری اکثریت بزدل ہوچکی ہے، جودراصل پیش خیمہ ہے ’’دنیاکی محبت‘‘ اور’’موت کے خوف‘‘ کا، انسان کے اندرجب یہ دوچیزیں داخل ہوجاتی ہیں تووہ بزدل ہوجاتاہے اورجب کوئی بزدل ہوجاتاہے توایک چھوٹاسا بچہ بھی اسے اپناغلام اورمطیع بنالیتاہے، تاریخ کے صفحات میں یہ درج ہے کہ ایک تاتاری عورت بیسیوں مسلم مردوں کو ایک  قطار میں جمع کرکے کہتی کہ تم لوگ رکو، میں تلوارلے کرآتی ہوں، پھروہ جاتی اوراطمینان کے ساتھ تلوارلے کرآتی، پھرایک ایک کرکے سب کاسرقلم کرتی، بزدلی اتنی گھس چکی تھی کہ کوئی ایک فرد قطار سے ہٹنے کی جرء ت نہیں کرتاتھا، یہ تھی بزدلی کی انتہا۔

آج پھرہمارے اندربزدلی گھس چکی ہے، اپنے ملک کی حالت کولیجئے، سیکڑوں کی موب لنچنگ کردی گئی اورآج بھی یہ جاری ہے؛ لیکن ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، قانونی کارروائی تک کرنے کے لئے تیارنہیں، آواز اٹھانے کے لئے تیارنہیں، سربرآوردہ لوگوں کی زبانوں پرتالے لٹک گئے ہیں، سیاسی قائدین کی زبانیں گنگ ہیں، سی اے اے کا قانون بنا، عورتیں محاذ میں ڈٹ گئیں، ہم پشت پرکھڑے ہونے سے گھبراگئے، نوجوانوں نے مورچہ سنبھالا، ہم نے نہ توان کی حوصلہ افزائی کی اورناہی ان کے شانہ بہ شانہ جاکرکھڑے ہوئے، آج ان کوجیلوں میں بند کردیاگیااورخطرناک قسم کے مقدمات ان کے خلاف قائم کردئے گئے، ہم ابھی تک ان کی مددکے لئے آگے نہیں بڑھ سکے۔

عالم عرب یکے بعدد یگرے اس سے ہاتھ ملارہاہے، جو سترسالوں سے ہمارے اپنوں کے لہوسے اپنا پیاس بجھاتارہاہے، جس نے نہ توانسانیت کاخیال کیااور ناہی عبادت گاہوں کاپاس ولحاظ رکھا، جس نے بوڑھوں، بچوں اورخواتین تک کواپنانشانہ بنایا، جھوٹی سی ناجائزریاست، اس کے حوصلے اتنے بلندکہ وہ تمہارے گھرمیں گھس کرتم کوماررہاہے اورتم ہوکہ اسی کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھارہے ہو؛ لیکن یہ ہاتھ بڑھانابے مقصد نہیں ہے، پھرکیاہے اس کامقصد؟ شکیل احمداعظمی ندوی نے اس کاتجزیہ کیاہے، جس کاخلاصہ یہ ہے کہ: ’’بین الاقوامی طاقتیں اس وقت ترکی کوگھیرنے ، جھکانے اورگرانے کے عمل میں مصروف ہیں، اصل کھلاڑی اسرائیل ہے، اس کے ہم نوایوروپ کے چندممالک ہیں، جوترکی کی صنعتی ، معاشی، عسکری اورسیاسی قوت اوربڑھتے ہوئے اثرات سے خائف ہیں، معاہدۂ لوزان کے اختتام کاوقت بھی قریب آلگاہے، اس سے قریبی ممالک یونان اور قبرص بہت خائف ہیں، فرانس انتہائی خبیث ملک ہے، ماضی میں بھی وہ استعماری قوت رہاہے، الجزائراورتیونس میں عربی زبان تقریباً ختم ہوکررہ گئی تھی، فرانسسی زبان ہی سرکاری زبان تھی، فرانس آج بھی میڈیٹرانین میں مدفون قدرتی ذخائرمیں اپناحصہ حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے؛ مگرترکی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، خاص طورپرلیبیاکی تسلیم شدہ حکومت سے معاہدات کرنے کے بعدفرانس کاگیم ختم اوریونان کادائرہ محدودہوگیاہے، لیبیاکے مقابل ساحل پراٹلی ہے، اٹلی کاسامراج لیبیاپررہاہے؛ لیکن اب اٹلی میں دم خم نہیں ہے،اسے ترکی اورلیبیاکے تعلقات پرکوئی اعتراض نہیں ہے، لیبیا میں اثرورسوخ بڑھانے کے بعدخطرہ کی گھنٹی مصراوراسرائیل میں بج گئی ہے، مصرمیں سیاسی استحکام اور سیسی اقتدارکوخطرات لاحق ہیں، اسرائیل کی للچائی نظریں میڈیٹرانین پرتھیں، اس کے سارے امکانات ختم ہوجائیں گے، دوسری طرف ترکی نے روس سے اپنے تعلقات مضبوط کئے ہیں اورS-400جیسے رشین دفاعی نظام کی خریداری نے خصوصیت کے ساتھ امریکہ کی نیند حرام کردی ہے، تویہ اصل میں مصر، فرانس اوراسرائیل کاترکی کے خلاف سرگرم عمل ہے، جس کواسرائیل اورعرب ممالک کے درمیان معاہدے اوردوطرفہ خودشگوارتجارتی ، معاشی اورثقافتی معاہدہ وغیرہ کا نام دیا جارہے‘‘، عالم عرب اس معاہدہ پریاتومجبورہے یاپھرانھیں بھی خطرہ ہے اپنے تخت وتاج کے تعلق سے ، اسی لئے وہ بھی خوش ہے اس معاہدہ سے، اس سے پہلے بھی مرسی حکومت کے بے دخلی میں عالم عرب کے ہی بعض ممالک کاہاتھ رہ چکاہے۔

یہ ہے ہماری بزدلی، کہ آج تک جس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، آج اسی سے ہاتھ ملارہے ہیں؛ لیکن اس ہاتھ ملانے کے پیچھے وہی بزدلی ہے، جونتیجہ ہے ’’دنیاکی محبت‘‘اور’’موت کے خوف‘‘ کا، خودنبی کریم ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاہے: قریب ہے کہ تمہارے اوپرقومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی، جیسے بھوکے کھانے کے پیالے پرٹوٹ پڑتے ہیں، پوچھاگیا: کیااس وقت ہم تعدادمیں کم رہیں گے؟ جواب ملا: نہیں؛ بل کہ تم تعداد میں زیادہ رہوگے؛ لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مثل ہوگے اوراللہ تعالیٰ دشمن کے سینوں سے تمہارارعب چھین لے گااورتمہارے دلوں میں وہن(بزدلی) ڈال دے گا، پوچھاگیا: وہن کیاہے؟ جواب ملا: دنیاکی محبت اورموت کاخوف‘‘ (ابوداود، حدیث نمبر: 4297)۔

دنیاکی محبت توہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اس پرروشنی ڈالنے کی زیادہ ضرورت نہیں، موت کاخوف حقیقی بھی ہے اورمعنوی بھی، تخت وتاج کاچھن جانااور چودراہٹ کاچلاجانامعنوی موت ہی توہے؟ اورآج انھیں دونوں چیزوں کی وجہ سے ہماری اکثریت بزدل ہوگئی ہے، دنیاکی محبت میں ایسے ہم غرق ہیں کہ فرائض تک کی فکرنہیں رہتی اور موت کاخود اتناہے کہ ہمیشہ جینے کی تمناہی کرتے رہتے ہیں اورمعنوی موت کااندیشہ بھی ایساہے کہ اس کی خاطرہم قوم کوبیچنے کے لئے بھی تیارہوجاتے ہیں، پوری قوم کوہم پراعتمادہے اورہم اس اعتماد کا فائدہ غلط طورپراپنے مفادکے لئے اٹھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی پیمانہ پرہماری کوئی آواز نہیں ہے کہ آواز بلند کرنے والے خودسوچکے ہیں، اس نیندسے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ،بزدلی سے اپنے آپ کوآزادکرنے کی ضرورت ہے، ورنہ: 

اپنی حالت سنور نہیں سکتی

بزدلی کاشکارہیں ہم لوگ



jamiljh04@gmail.com / Mob: 8292017888


Tuesday, 22 September 2020

ماہِ صفرکے توہمات ----- شریعت اسلامی کی روشنی میں

ماہِ صفرکے توہمات 

شریعت اسلامی کی روشنی میں

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

                                    jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888                                                                                         

کائنات کی ساری چیزیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق کردہ ہیں، جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ ان کے اندربذات خودکوئی صلاحیت نہیں ہے، بس اتنی ہی صلاحیت ان کے اندرہے، جتنی ان کے خالق نے دے رکھی ہے، اس اعتبارسے اگردیکھاجائے توچیزوں کے اندر، خواہ وہ انس ہو یا جن، پانی ہو یا ہوا، شجرہو یا حجر، دریا ہو یا پہاڑ، چاند ہو یا سورج، ستارے ہوں یا سیارے، دن ہویارات، ماہ ہوسال، کسی کے اندریہ صلاحیت نہیں ہے کہ کچھ کرسکے، کسی کونقصان یافائدہ پہنچاسکے، اس حقیقت کی طرف اشارہ قرآن مجید کے ایک مختصر جملہ میں واضح کیاگیاہے، ارشادہے: لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (الکهف:۳۹) ’’کوئی طاقت نہیں ہے؛ مگراللہ کی توفیق سے‘‘،مفسرخازنؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

إقراراً بأن ماقویت به علی عمارتها، وتدبیرامرہا بمعونة اللہ، وتأییدہ، ولاأقدرعلی حفظ مالی، ودفع شئی عنه إلاباللہ۔(تفسیرخازن:4؍213)

یہ اس بات کا اقرارہے کہ تعمیروتدبیرکی جوبھی قوت مجھے حاصل ہے، وہ اللہ کی توفیق سے ہے اوراس کے بغیرمیں اپنے مال کے تحفظ پرقادرنہیں ہوں۔

  یہ توبات انسان کی کی جارہی ہے، جواشرف المخلوقات ہے، توجواشرف المخلوقات نہیں ہیں، ان کے اندرظاہرہے کہ کسی قسم کی کوئی صلاحیت کیسے ہوسکتی ہے؟ ہاں، اتنی صلاحیت ہرایک میں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے۔

اسی کااظہارحضرت عمرفاروقؓ نے ان الفاظ میں کیاہے:

إنی لأعلم أنک حجر، لاتضر ولاتنفع، ولاأنی رأیت النبی ﷺ یقبلک، ماقبلتک۔(بخاری، باب ماذکرفی الحجرالأسود، حدیث نمبر:۱۵۹۷)

مجھے خوب معلوم ہے کہ توایک پتھرہے، نہ نقصان پہنچاسکتاہے اورنہ نفع، اگرمیں نے نبی کریمﷺ کوتجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھاہوتاتومیں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔

اس کی تشریح میں علماء نے لکھاہے کہ :

وفیه دفع ماوقع لبعض الجهال من أن فی الحجرخاصیة ترجع إلی ذاتة۔(دلیل الفالحین:۲؍۱۱۹)

اس کے اندرجاہلوں کے اس تصورکودورکرنابھی ہے کہ پتھرمیں بذات خودکوئی خاصیت ہے۔

دن ورات اورماہ وسال بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہیں، ظاہرہے کہ ان کے اندربھی بذات خودکوئی ایسی صلاحیت نہیں ہے، جس کونفع ونقصان کا ترازوبنایاجاسکے؛ لیکن بہت سارے مسلمان بھائی بالخصوص ہمارے برصغیرہندوپاک میں ایسے عقائدپرجمے ہوئے ہیں، جوسراسربے بنیاد ہیں، جیسے: محرم الحرام کامہینہ غم کامہینہ ہے، اس میں خوشی کاکوئی کام نہیں کیاجاسکتا، اماوس کی رات میں یہ نہیں کرناچاہئے یایہ کرناچاہئے وغیرہ، ایساہی کچھ عقیدہ ماہ صفرکے بارے میں بھی ہے۔

بعضوں کاخیال یہ ہے کہ چوں کہ اس مہینہ میں حضوراکرمﷺ کومرض الوفات پیش آیاتھا؛ اس لئے یہ نحوست کامہینہ ہے، بعضوں کاخیال یہ ہے کہ جس طرح محرم کامہینہ حضرت حسین ؓ کی شہادت کی وجہ سے ماتم کامہینہ ہے، اسی طرح صفرکامہینہ بھی ماتم کامہینہ کہ اس میں حضرت حسنؓ کی وفات ہوئی، بعضوں کاخیال یہ ہے کہ اس مہینہ کے ابتدائی تیرہ دنوں تک نئے شادی شدہ جوڑوں کوساتھ ساتھ نہیں رہناچاہئے، جب کہ بعضوں کا خیال ہے کہ یہ مہینہ بلاؤں کامہینہ ہے اورصرف اس مہینہ میں نولاکھ بیس ہزاربلائیں دنیامیں اترتی ہیں۔

اس ماہ کے بارے میں یہ اوراس قسم کے الٹے سیدھے خیالات بہت ساری عوام کے ذہنوں میں بسے ہیں؛ چنانچہ جن کے خیالات میں یہ نحوست کامہینہ ہے، وہ اس ماہ میں کوئی ایساکام نہیں کرتے، جس میں خوشی کی جھلک بھی پائی جائے، اورجن کے خیالات میں یہ مصائب کامہینہ ہے، وہ مصائب کودورکرنے کے لئے کچھ خاص قسم کے ٹوٹکے بھی کرتے ہیں، مثلا: اس مہینہ کے آخری بدھ کوروزہ رکھنے کااہتمام ، اورسلام قولامن رب رحیم، سلام علی نوح فی العالمین، سلام علی ابراهیم، سلام علی موسی وهارون، سلام علی المرسلین، سلام علیکم طبتم فادخلوهاخالد ین، سلام هی حتی مطلع الفجر لکھواکرپانی میں گھول کردفع بلیات کے لئے پینے کااہتمام وغیرہ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی اساس، یہ بالکل لوگوں کی من گھڑت باتیں اوران کے دماغ کی اپچ ہیں، شریعت سے ان باتوں کاکوئی تعلق نہیں؛ بل کہ اس طرح جوباتیں حدیث کے نام سے موسوم ہیں، وہ موضوع روایتیں ہیں، جن کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے:

لاتکذبوا علی، فإنه من کذب علی فلیلج النار۔(بخاری، باب اثم من کذب علی النبیﷺ، حدیث نمبر:106)

مجھ پرجھوٹ نہ کہو؛ کیوںکہ جو مجھ جھوٹ کہے گا، وہ جہنم میں جائے گا۔

اوران جیسی روایتوں سے کسی قسم کااستدلال نہیں کیاجاسکتا؛ بل کہ ان کابیان کرنابھی حرام ہے، محمدبن ابراہیم حلبیؒ لکھتے ہیں:

وحکم روایة الموضوع مطلقاتحریمهاعلی من علم أوظن أنه موضوع؛ إلامع بیان حاله۔(قفوالأثر فی علوم صفوۃ علوم الأثر، فصل فی الحدیث المردود، ص:14)

جاننے یاموضوع گمان کرنے والے شخص پرموضوع حدیث کابیان کرنامطلق حرام ہے؛ الایہ اس کی حیثیت بھی بیان کردے۔

ماہ صفرکے تعلق سے یہ سب باتیں صرف اسی زمانہ کے لوگوں میں نہیں پائی جاتیں؛ بل کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی پائی جاتی تھیں؛ چنانچہ ابن وہب کہتے ہیں:

کان أهل الجاہلیة یقولون: إن الصُفارالتی فی الجوف، تقتل صاحبها، وهي التی عدت علیه إذامات۔ (المنتقی شرح الموطأ :4/366)

اہل جاہلیت کہتے تھے کہ پیٹ میں موجودصفارنامی کیڑاآدمی کی جان لیتاہے اوراس کی موت کے بعدوہ اس پرمتعدی ہوتاہے۔

عرب کے لوگ بھی اس مہینہ کونہ صرف یہ کہ منحوس سمجھتے تھے ؛ بل کہ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اس مہنہ میں کثرت سے بلائیں اترتی ہیں، علامہ سندیؒ لکھتے ہیں:

انهم یتشاء مون به، ویریدون أنه یکثرفیه الدواهی والفتن۔(حاشیة السندی علی ابن ماجة، باب من کان یعجبه الفأل …:4؍662)

وہ لوگ اس مہینہ کومنحوس سمجھتے تھے اورکہتے تھے کہ اس ماہ میں مصیبتوں کی کثرت ہوتی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺنے صفرکے مہینے کے تعلق سے لوگوں کے اس تصورکی بنیادہی ٹھادی ہے، اللہ کے رسولﷺ نے ارشادفرمایا:

لاعدوی،ولاطیرۃ، ولاهامة، ولاصفر۔(بخاری، حدیث نمبر:۵۷۵۷)

چھوت چھات، پرندوں اورالوکی کھوپڑی کی بدفالی اورصفرکی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

علامہ مناویؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

قال البیضاوی: ویحتمل أن یکون نفیا لما یتوهم  أن شهرصفرتکثرفیه الدواهی والفتن۔(فیض القدیر؍6؍433)

امام بیضاویؒ کہتے ہیں: اس بات کابھی احتمال ہے کہ صفرکے مہینے میں مصائب وآلام کی کثرت کی نفی کی جارہی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ماہ صفرکے تعلق سے ہمارے جوخیالات ہیں، وہ بے بنیادہیں؛ اس لئے ہمیں ان سے بچناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین !




Saturday, 19 September 2020

یکساں سول کوڈ کا خطرہ



 بڑے خطرہ میں ہے حسن گلستاں

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


آہستہ آہستہ ہندوتوااپنے ایجنڈے کوآگے بڑھارہاہے؛ بل کہ بہت د ورتک پہنچ چکاہے، خاکہ توآزادی سے پہلے تیارکرلیاگیاتھا، اب رنگ بھرائی کاکام چل رہاہے، رنگ بھرائی کاکام بھی صرف بی جے پی کے برسر  اقتدارآنے کے بعد سے شروع نہیں ہواہے؛ بل کہ اسی وقت سے شروع ہوگیاتھا، جب سے اس ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیاگیا اور14/اگست کوپاکستان کے نام سے الگ ملک بنادیاگیا، ظاہرہے کہ ان لوگوں کوبڑاغصہ آیا، جواس وقت کے سرکردہ لیڈرتھے؛ لیکن اس وقت کچھ کرنہیں سکتے تھے؛ اس لئے کھل کرتواس طرح کوئی کام نہیں کیا،ہاں فسادات کاسلسلہ دراز ہوتاگیا، جوآج تک بھی جاری ہے، اورایک بڑا ایساکام کیا، جواس ملک میں رہ جانے والے بالخصوص مسلمانوں کے سرپرننگی تلواربن کرلٹکتی رہی ہے اورہمیشہ سے اس کے ذریعہ سے انھیں ٹارچرکیاجاتارہاہے، وہ کام تھاملکی قانون میں ایک ایسے دفعہ کوداخل کرنے کا،جو اس جمہوری ملک میں’’مذہبی آزادی‘‘ہونے کے باوجودبھی مذہب پرعمل درآمدگی کوختم کرنے کی ایک کوشش تھی؛ چنانچہ دستورکے دفعہ نمبر(44)میں لکھاگیا: ’’مملکت یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقہ میں شہریوں کے لئے یکساں سول کوڈکی ضمانت ہو‘‘(بھارت کاآئین(مترجم)، ص: 62)۔

عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہوگاکہ ’’یکساں سول کوڈ‘‘کیاہے؟ اس سوال کاجواب جاننا ضروری ہے؛ تاکہ مسئلہ کی نزاکت کوسمجھاجاسکے، اس سے مرادوہ قوانین ہیں، جن کے ذریعہ سے ملک کے تمام باشندوں کی سماجی اورعائلی مسائل یکساں طورپرحل کیاجائے، اس قانون کے تحت ہرفردکی شخصی اورخاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اورنکاح وطلاق ، فسخ وہبہ، وصیت ووراثت اورتبنیت(لے پالک بنانا)جیسے مسائل اسی قانون کے تحت حل ہوتے ہیں، اس قانون کے نفاذ کا مطلب یہ ہواکہ ان امورکے حل میں کسی بھی مذہب اوررسم ورواج کی رعایت نہیں کی جائے گی۔

یہ ملک مختلف مذاہب کے ماننے والوں کاملک ہے، جن کے اپنے الگ رسوم ہیں، جن کی روشنی میں شادی بیاہ اورطلاق وغیرہ کے مسائل حل کئے جاتے ہیں، یہ اوربات ہے کہ وہ سارے مذاہب اصحاب شریعت نہیں ہیں، اصحاب شریعت صرف مسلم قوم ہے، جن کے پاس دستورکے روپ میں آسمانی کتاب بغیرکسی تحریف کے موجودہے، پھراس کی تشریح کے لئے احادیث کابڑاذخیرہ اورفقہاء کے اجتہادات بھی موجودہیں، جن کی بنیادقرآن اوراحادیث ہی ہیں، ظاہرہے کہ دوسری اقوام کواس قانون سے زیادہ نقصان تونہیں ہوگا؛ لیکن مسلمانوں کے لئے سرتاسرنقصان کاباعث ہوگا، یہی وجہ ہے کہ دووسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمان ہی زیادہ اس کے خلاف آواز بلندکرتے رہے ہیں، یہ اوربات ہے کہ دیگراقوام بھی دشواری سے بچ نہیں سکتیں؛ لیکن انھیں اپنے رسومات کوچھوڑنے میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوگا، یوں بھی نئی نسل آزادی کی قائل ہے، مسئلہ مسلم قوم کاپھنسے گا؛ کیوں کہ یہ جان تودے سکتی ہے؛ لیکن اپنے مذہب کے دائرہ سے ایک انچ ہٹناگوارہ نہیں کرتی اورنہ اس کے لئے اس کی گنجائش دی گئی ہے۔

ادھرجب سے بی جے حکومت آئی ہے، کوئی نہ کوئی ایسامسئلہ ضرورکھڑاکردیتی ہے، جس سے محسوس ہوتاہے کہ یہ لوگ اس کوشش میں ہے کہ یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے، اس سے پہلے بھی(بی جے پی حکومت سے پہلے بھی) کئی مسئلوں میں ایسے فیصلے کئے گئے ہیں اورپھرباقاعدہ اعلان بھی کیاگیاکہ یہ یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتاہواایک قدم ہے؛ چنانچہ 1972ء میں مرکزی وزیرقانون مسٹرگوکھلے نے Adoption of Children Bill 1972کوپارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا: ’’یہ مسودہ قانون یونیفارم سول کوڈ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے‘‘، شاہ بانوکے کیس(1985ء) میں بھی کافی ہنگامہ آرائی رہی اوراب جب سے بی جے پی آئی ہے، وہ بھی اسی طرف قدم بڑھارہی ہے، اس نے طلاق ثلاثہ بل پرپہلے دھاوابولا، پھرمحرم کے بغیرعورتوں کے لئے حج میں جانے کاقانون بنایااورآج کل مرکزکی توجہ اس طرف ہورہی ہے، اس نے اشارہ دیاہے کہ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے وسیع پیمانہ پرمشاورت کی ضرورت ہے؛ لیکن کیااس مشورہ میں ملک کی دوسری بڑی اکثریت کوبھی شامل کیاجائے گا؟ یہ حکومت کے ’’فیصلوں‘‘کودیکھتے ہوئے یقینی طورپرکہانہیں جاسکتا۔

اس وقت ملک میں کئی بڑے مسائل اژدہے کی طرح منھ کھولے ہوئے ہیں، ان کی طرف توجہ دینے اوران پربات کرنے کی بجائے ایسے مسائل زیربحث لائے جارہے ہیں اورایسے مسائل چھیڑے جارہے ہیں، جوبہرصورت بے موقع کی راگ ہیں، خبروں کے مطابق کوروناسے متاثرین کی تعدادیومیہ لاکھ کے قریب ہوچکی ہے، اس تعلق سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے؛ لیکن دعوے حقیقت میں تبدیل نہیں ہوئے، اگردعوے حقیقت میں تبدیل ہوتے توآج یومیہ اتنی بڑی تعدادنہ پہنچتی، معیشت تباہ ہوچکی ہے اوردوسرے کسی بھی ملک کے لحاظ سب سے زیادہ گراوٹ ہمارے ملک میں ہی ہے، اس پرکسی قسم کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے؛ بل کہ عین اس وقت، جب کہ معیشت پربات ہونی چاہئے، ملک کے تقریباً تمام نیوز چینلوں میں ششانت سنگھ اورکنگنا رناوت کی خبریں چھائی رہیں، بے روزگاری اپنے عروج پرپہنچ چکی ہے، بے روزگارسڑکوں پراحتجاج کررہے ہیں، اس پرکوئی گفتگونہیں جارہی ہے، کسان دھرنے پربیٹھے ہیں، وہ خودکشی پرمجبورہیں، ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے،  چین 38؍ہزارکیلومیٹراندرآچکاہے، وہ سرحدپراپنی فوج بھی تعینات کرچکاہے اورفوجی اسلحہ جات کی مسلسل نقل وحرکت کرہاہے، اس تعلق سے اب جاکروزیرخارجہ کی چپی ٹوٹی ہے ؛ لیکن ٹھوس قدم کی بجائے بس باتیں ہی باتیں ہیں، اِدھرنیپال مسلسل ایسی حرکت کررہاہے، جوقابل اعتراض ہے؛ لیکن اس پرکوئی بات نہیں۔

اس وقت موقع تھاان امورپربات کرنے کا، ان امورپرتبادلۂ خیال کرنے کا، ان امورپرڈبیٹ کرنے کا، ان امورپرتوجہ دینے کا؛ لیکن بات کیاہورہی ہے؟ اورکام کونسے کئے جارہے ہیں؟ بات ہورہی ہے یکساں سول کوڈ کے تعلق سے ، کام ہورہاان لوگوں کی گرفتاری کا، جوہندوستان کے قانون کی حفاظت کے لئے سڑکوں پراترے تھے، ان نوجوانوں کوجیل میں ڈالنے کا، جوحکومت کی غلط پالیسیوں پربات کرنے کے لئے آگے بڑھے تھے، جنھوں نے حکومت کی غلط حرکتوں پرآواز بلندکی تھی، پھران کی گرفتاری بھی کس قانون کے تحت ہورہی ہے؟ UAPA (Unlawful Activities (Prevention) Act)کے تحت، جس کی روسے یہ لوگ ملک کے غدارقراردئے جارہے ہیں، کیاحق کے لئے لڑنااوراس کے لئے آواز بلندکرناملک سے غداری ہے؟ جولوگ پرامن احتجاج کررہے ہیں، وہ ملک کے غدارہیں اورجن لوگوں نے سرعام بندوقیں تانیں، گولیاں برسائیں، کھلے عام دھمکیاں دیں اورجواصل مجرم ہیں دہلی فسادکے بھڑکانے کا، وہ دیش بھگت ہیں، یہ ہے ہندوستان ، یہ ہے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کاحال!

ایسے وقت میں بہت زیادہ افسوس ان لوگوں پربھی ہوتاہے، جوہمارے قائدین کہلاتے ہیں، جن کوہم ہمیشہ سیکولرسمجھتے رہے ہیں اورجن کی وجہ سے آج تک ہم نے کسی قسم کی سیاسی پیش رفت نہیں کی ہے، ان کی زبانوں پرتالے ہیں، ان کے یہاں مکمل طورپرخاموشی ہے، اوران کی خاموشی توسمجھ میں بھی آنے والی ہے کہ کبھی بھی ہمارے وفادارنہیں رہے، ہم ہی ان کے وفاداربن کررہے ہیں، ان کی خواہش توہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کودبا کرہی رکھاجائے، دستورسازی کے وقت اسی لئے تویکساں سول کوڈ کی وہ شق رکھی گئی، ورنہ جس ملک میں کئی مذاہب کے ماننے والے بستے ہوں اورجس ملک کاکوئی مذہب متعین نہ کیاجاسکے، وہاں کے دستورمیں، وہاں کے قانون میں اس شق کاکیامطلب ہوتاہے؟ جب ملک ہی لامذہب ہے توپھربھارت کے پورے علاقہ میں شہریوں کے لئے یکساں سول کوڈکی ضمانت کے کیامعنی؟ 

آج ہمیں اس پربولناہوگااورجولوگ اس پربول رہے ہیں، ان کاساتھ دیناہوگا، آج اگرنہیں بولے توزبان تک کاٹ لی جائے گی، آج اگرخاموش رہے توطبقاتی نظام مسلط کردیاجائے گا، آج اگرلب نہیں کھولے توپھرتومذہب پرعمل دشواررترین ہوجائے گا، بول کہ اس وقت تیرے لب آزادہیں، خطرہ کی گھنٹی نہیں، گھنٹہ بج چکاہے؛ لیکن ہم خاموش ہیں، ہم بھی ایسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جو چودہ سوسال سے حل نہیں ہوئے، جوبکتے ہیں ان مسائل پر، انھیں بکنے دیجئے، اس میں الجھنے کی بجائے ، ملک کی صحیح صورت حال پرغورکیجئے، اس کااحساس کیجئے، ملک میں آپ رہیں گے توآئندہ بھی ان مسائل پربات کرسکتے ہیں؛ لیکن جب آپ ہی نہ ہوں گے، آپ کومذہب پرعمل کی آزادی نہیں ہوگی، توپھر بات کس پرکریں گے؟ اس لئے اس وقت مسلکی، مذہبی اوران مسائل کوچھوڑیئے،جوناتوحل ہوسکتے ہیں اورنہ جن کے تعلق سے ہمیں حشرکے دن پوچھاجائے گا، خطرہ  کا احساس کیجئے، وہ نشان سے اوپرآچکاہے، اسی میں ہماری بھلائی ہیں۔

ہمیں کیاہوگیاہے کہ ہمارے خلاف توسازشیں چل رہی ہیں، ہمیں اس ملک سے دربدرکرنے کامنصوبہ بنایا جا رہا ہے، ہماری شناخت مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہماری آزادی چھیننے کے چرچے ہورہے ہیں، ہمارے خلاف نفرت کی کھیتی کی جارہی ہے اوران لوگوں کے ذہن کومسموم کیاجارہاہے، جوبالکل سادہ لوح اورسادہ ذہن ہیں، اسکولی نصاب میں تبدیلی کردی گئی ہے، تعلیمی پالیسیوں میں بدلاؤلایاجاچکاہے؛ لیکن ہمیں کچھ بھی فکرنہیں، ہم ایسے حالات میں بھی کفرکفر، شیعہ شیعہ، رفض رفض، درباری اورغیردرباری مولوی اوراس طرح کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، حسن گلستاں ابھی خطرہ میں ہے،کاش! ہمیں اس حقیقی خطرہ کااحساس ہوجائے، اس کوبچانے کے تعلق سوچناچاہئے اوردین ودینی تشخصات کوبچانے کی فکرکرنی چاہئے اوراس کے لئے اس طرح کمرکس لینی چاہئے، جس طرح وقت کے لحاظ سے غیرضروری چیزوں میں خکس رہے ہیں، کاش ! کاش! کاش!

jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888 


Wednesday, 16 September 2020

پروفیسریسین مظہرصدیقی ندوی مرحوم

 اب دیکھنے کوجن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

                                (پروفیسریسین مظہرصدیقی ندوی مرحوم)

                                          

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


موت توبرحق ہے، وہ آکررہے گی، آج آئے یاکل، اسے آنی ہے، ’’موت سے کس رستگاری ہے؟‘‘،جوبھی آیاہے، جانے کے لئے آیاہے،وہ بھی یہاں سے گیا، جس کے لئے بزم کائنات سجائی گئی، وہ بھی گیا، جسے عمردرازملی، وہ بھی گیا،جو خلاق عالم کا’’خلیل‘‘تھا، وہ بھی گیا، جس کی حکومت کائنات کی تمام مخلوقات پرتھی، وہ بھی گیا، جو صبر کا پہاڑ تھا، وہ بھی گیا، جس کاحسن بے مثال تھا، وہ بھی گیا، جس کالقب’’کلیم‘‘ تھا، وہ بھی گیا ، جووجہِ تخلیقِ کائنات تھا،پھرہماشماکیا؟ کل نفس ذائقة الموت۔

لیکن کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں، جوروحانی وجسمانی دونوں لحاظ سے جانے کے بعد بھی اپنے کاروکارنامے، اپنے عمل واعمال نامے اوراپنے نقوش ونگارشات کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں؛ بل کہ مردہ دلوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرتے رہتے ہیں،لوگ ان کی زندگیوں اوران کارناموں کودیکھتے ہیں، سنتے ہیں، پڑھتے ہیں، سناتے ہیں، خودبھی گرمی حاصل کرتے ہیں، دوسروں کوبھی گرما تے ہیں، ساکت وصامت زندگی میں ان کے کام، ان کے اعمال اوران کے نقوش ونگارشات کے ذریعہ سے تموج اورتلاطم پیداکرتے ہیں اوریہی وہ امورہیں، جن کی وجہ سے موت کے بعدبھی وہ زندہ رہتے ہیں، ان کے جانے پرلوگ اظہارافسوس کرتے ہیں:

موت اس کی ہے، کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے

ایسے ہی جانے والوں میں’’پروفیسرڈاکٹریسین مظہرصدیقی ندوی‘‘ ہیں،۱۵؍ستمبر۲۰۲۰ء کوٹھیک ایک بجے کے قریب ان کی وفات کی خبرملی، دل پرگہرااثرہوا، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہم لوگ کئی بڑے اوراہم لوگوں کی وفات کاغم بھولنے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ ان کی وفات کی خبرصاعقہ اثربن کرگری، پھرموت بھی ایسے شخص کی ، جس نے سیرت اورتاریخ اسلام پرخاصاکاکیا، جس نے بعض ایسے موضوعات پرقلم اٹھایا، جن کوہرقاری صرف پڑھ کرگزرجاتاتھااوراس کے تعلق سے کسی قسم کی تلاش وجستجوکی ضرورت محسوس نہیں کرتاتھا۔

میں ان کے نام سے واقف تھا؛ بل کہ ان کی بعض تحریروں کااپنے بعض مضامین میں حوالہ بھی دے چکاتھا؛ لیکن ان کی ذات سے زیادہ واقفیت تھی اورناہی سعادتِ ملاقات، پھرآہستہ آہستہ ان کے کاموں کے ذریعہ سے ان کی ذات سے واقفیت ہوئی اورسب سے زیادہ ان سے اس وقت متاثرہوا، جب ان سے دارالعلوم اسلام نگر، رانچی (۲۰۱۸ء)کے ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی، ان کے کام کی وجہ سے ذہن میں جوہیئت اورہیولیٰ بیٹھا ہواتھا، بالکل اس کے برخلاف، ایک سیدھاسادھاانسان، نہ تام نہ جھام، لباس میں سادگی، طبیعت میں ظرافت، گفتگوزیادہ ترعلمی، جھوٹوں سے بھی بے تکلف۔

پتہ نہیں کیوں بڑوں سے بات کرنے میں جھجھک سی محسوس ہوتی ہے، آج بھی اساتذہ سے بھی گفتگوکرتے ہوئے دس دفعہ سوچنا پڑتاہے، پھرایسے میں بڑوں کے پاس جاکربیٹھنااوروہ بھی ایسے بڑے، جن کے تعلق سے ذہن میں علمی ہیبت بیٹھی ہوئی ہو، میرے لئے بڑامشکل کام ہوتاہے، پھربھی ہمت جٹاکراس کمرے کارخ کیا، جوپروفیسر صاحب کے قیام کے لئے منتخب کیاگیاتھا، سلام کے بعد کچھ سوالات کئے، پھراس کے بعدگفتگوکاسلسلہ آگے بڑھا، کئی باتیں دریافت کیں، بڑی دلچسپی کے ساتھ جواب عنایت فرمایاگیا، میں نے جب اپنی کتاب’’غزوات نبوی-اسباق وموعظت کے چندپہلو‘‘ کاذکرکیاتوبہت مسرورہوئے، پرشوق لہجہ میں مطالبہ کیا؛ لیکن اس وقت دستیاب نہ ہونے کے باعث معذرت کرلی، حکم دیاکہ مجھ تک ضرور کتاب بھجوانا، کتاب کایہ مطالبہ اس لئے تھاکہ وہ سیرت کے ایک طالب علم تھے، ان کی تحقیق وتلاش کابڑادائرہ گوشۂ سیرت ہی رہاہے، یہ ان کی دلچسپی کاسامان تھا، پھراس میں حوصلہ افزائی بھی تھی اورمیں سمجھتاہوں کہ اصل مطالبہ اسی لئے تھا، ورنہ ایک محقق ، ایک سیرت نگاراوردرجنوں ایسی کتابوں کے مصنف ، جواپنے موضوع پرنئی ہونے کے ساتھ ساتھ مستند بھی ہوں، ان کومیری کتاب سے کیافائدہ حاصل ہوتا؟ 

پروفیسرصاحب کی پیدائش اترپردیش کے ضلع لکھیم پورکھیری کے ایک گاؤں’’گولا‘‘میں 26؍دسمبر1944ء کوہوئی،بلاشبہ وہ ’’قدیم صالح ، جدیدنافع‘‘کی اعلی مثال تھے، انھوں نے دارارلعلوم ندوۃ العلماء سے فراغت(1959ء)اورلکھنؤیونیور سٹی سے فاضل ادب(1960ء)کرنے کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی اے(1965ء)اور بی ایڈ(1966ء)کیا، پھرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے(1968ء)اورایم فل(1969ء)اورپی ایچ ڈی(1975ء)تک کسب فیض کرکے ’’فرض عین‘‘ کے ساتھ ساتھ’’فرض کفایہ‘‘کی بھی تعلیم حاصل کی ،وہ ندوی بھی تھے ، جامعی بھی تھے اورعلیگ بھی،گویاوہ تعلیم اوراس کی اسنادکے لحاظ سے ’’مجمع البحار‘‘تھے، جوکہ بہت ہی کم لوگوں کے حصہ میں آپاتاہے، یہی وجہ ہے کے ان کے اندرتینوں اداروں کی خصوصیات پائی جاتی تھیں پھرعلی گڑھ ہی میں تدریس کے لئے تقرری عمل میں آئی اورتادم آخریں وہیں رہے۔

آپ کے رودباراشہبِ قلم سے سیکڑوں تحقیقی مقالے منصۂ شہود میں آئے اوراہل علم وفن سے دادِ تحسین اورخراج آفرین وصول کئے، وہ یقینی طورپرشبلی وسلیمان کے حقیقی جاںنشین تھے، سیرت کے موضوع کواپناپسندیدہ مشغلہ بنارکھاتھا، اس تعلق سے انھوں نے جوکام کئے ہیں، ان کااجمالی خاکہ ڈاکٹرمحمدعبداللہ صالح (شیخ زایداسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی، لاہورنے اس طرح تیارکیاہے:

۱-  مآخذسیرت:  (۱) تاریخ یعقوبی- سیرت نبوی کاایک قدیم مآخذ(نقوش رسول نمبر:۱، ۱۹۸۲ء(۲) واقدی بطورسیرت نگار(۳) خطبات سیرت، زیراہتمام: ادارہ تحقیقات اسلامی(اسلام آباد) منعقدہ:۲۵-۲۹مارچ ۲۰۱۳ء، اس میں’’مآخذ سیرت کاتنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے لیکچرز دئے۔

۲-  رسول اکرم ﷺ کامکی عہد: (۱) مکی عہدنبوی میںاسلامی احکام کاارتقاء (۲)وحی حدیث(۳) مکی عہدنبوی میں مسلم آبادی: ایک تجزیاتی مطالعہ (4) بعثت سے قبل عصمت نبوی ﷺ(۵) عہدجاہلی میںتحنث کی اسلامی روایت (6) نبوت محمدی کی آفاقیت: آغاز، اعلان ، توقیت۔

۳-  عہدنبوی ﷺکی تنظیم وریاست:  (۱)Organization of Government Under the Prophet(SAW)(اردو میں’’عہدنبویﷺ کانظام حکومت‘‘ اور’’عہدنبویﷺ میں تنظیم وریاست‘‘ کے نام سے نقوش رسول نمبر(۱۹۸۸ء) میں موجودہے) (۲) عہدنبویﷺ فوجی تنظیم(۳) عہدنبویﷺ کی انتظامیہ (4) عہدنبویﷺ کامالی نظام (۵) عہدنبویﷺ کامذہبی نظام۔

4-  عہدنبوی کے غزوات:  (۱) عہدنبوی ﷺکی ابتدائی مہمیں (۲) عہدنبویﷺکی اقتصادی جہات (۳) عہدنبوی ﷺ کی مسلم معیشت میں احوال غنیمت کا تناسب (4) محدثین کرام کی توقیت غزوات کاایک تجزیہ۔

۵-  اسرۃ النبیﷺ :  عبدالمطلب ہاشمی :رسول اکرم ﷺ کے دادا (۲) نبوعبدمناف: عظیم ترمتحدہ خاندان رسالت (۳) بنوہاشم اورنبوامیہ کی رقابت کاتاریخی پس منظر (4) بنوہاشم اورنبوامیہ کے ازدواجی تعلقات (۵)عم نبویﷺ زبیربن عبدالمطلب اورسیرت نبویﷺ (6) رسول اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں۔

۶-  معاشرت وتہذیب نبویﷺ :  (۱) عہدنبوی کاتمدن (۲) نبی اکرم ﷺ اورخواتین: ایک سماجی مطالعہ (۳) عہدنبویﷺ میںسماجی تحفظ کانظام (4) معیشت نبویﷺ مکی عہد میں (۵) معیشت نبویﷺ مدینہ منورہ میں (6) مکی مواخات: اسلامی معاشرہ کی اولین تنظیم (۷) مکہ اورمدینہ کے تعلقات (۸)ازواج مطہرات کے مکانات: ایک تجزیاتی مطالعہ (۹) کیامہاجرین خالی ہاتھ مدینہ آئے تھے؟ (۱۰) تاریخ اسلام کے عہدساز موڑ(بعثت نبوی، پیغام الٰہی، تبلیغ واشاعت اسلام کاتجربہ)۔

سیرت نبوی پرکئے ہوئے کام کے اس خاکہ سے یہ اندازہ لگاناکوئی مشکل کام نہیں کہ کس طرح انھوں نے اس موضوع کواپنے لئے اوڑھنااوربچھونا بنا لیا تھا؟ اور ان عناوین پرقلم اٹھایا، جن سے سیرت نگارعمومی طورپرسرسری اندازمیں گزرجاتے ہیں، ڈاکٹرصاحب کے بعض مقالات کی بنیاد پربعض حضرات نے ان پر’’ناصبی‘‘ ہونے کا بھی فتویٰ لگایا ہے اوریہ تواس دنیا میں ہوتاآیا ہے، بڑے بڑوں کونہیں چھوڑاگیا، امام اابوحنیفہؒ کومرجئہ کہہ دیاگیااورامام شافعیؒ کوتشیع زدہ، ان کی جان توامام محمدؒ کی سفارش سے بچی؛ لیکن الزام لگانے والے بھی ان کے قدردان تھے، ان کی کتابوں اورتحاریرکی ستائش کرتے تھے اوران کی تحقیقات کوسراہتے اوراس سے استفادہ کرتے تھے۔

ایسی شخصیت کے جانے سے گلستان علم ، اس کے باغباں اوراس کے خوشہ چیں سب سوگوارہیں، سبھوں کے چہروں پرسوال ہے کہ اب ایسے محقق کابدل کون ہوگا؟ سیرت کے موضوع پراس طرح گہرائی کے ساتھ کون کام کرے گا؟ تشنگان علم کوکون سیراب کرے گا؟ اورسبھوں کے لب پردعا کہ اے اللہ! تیرے دربارمیں وہ جارہاہے، جس نے تیرے محبوب کی سیرت پرخاصاکام کیا،یہ تیرے محبوب سے اس کی محبت کی دلیل ہے اورجوتیرے محبوب سے محبت کرتارہاہے توبھی تواس سے محبت کر، اے اللہ! اس کے حسنات کوقبول فرما، اس کے سیئات سے درگزفرما، اس کے کئے ہوئے کام کواس کے لئے ذریعۂ بخشش ونجات بنا، اس کے پسماندگان کوصبر کی توفیق عطا فرمااوراے خلاق عالم! اس کانعم البدل عطافرما، آمین!

یہ جانے والااپنے پیچھے ہزاروں سوگواروں کوچھوڑکرچلاگیا؛ لیکن یہ لوگوں کے دلوں میں اپنی تحریروں اورتحقیقات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گا؛ کیوں کہ یہ وہ اثاثے ہیں، جواولاد سے بھی زیادہ لوگوں کوزندہ رکھتے ہیں، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرؔنے کہاہے:

اولاد سے توبس یہی دو پشت چار پشت

تحریر زندہ رہتی ہے برسوں تلک امیر

                                  jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888                                                                                              



Sunday, 13 September 2020

الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

 الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


ہم نے آج تک بوڑھے پرکھوں سے بھی یہ بات نہیں سنی کہ دریائے’’گنگا‘‘ یا’’جمنا‘‘ نے اپنی سیدھی روانی کوچھوڑکراُلٹی چال چلناشروع کردیاہو، ایک لمحہ کے لئے ہی سہی! یا تاریخ کی تہوں میں غواصی کرکے درنایاب نکالنے والوں نے بھی ایسی کوئی بات نہ کہی نہ لکھی؛ لیکن آج ہم بہت سارے ایسے  افراد کودیکھتے ہیں، جواپنی ناموری اورسُمعہ خواہی کے لئے ایسے الٹے امورانجام دیتے  ہیں، جن کوسن کرہی دماغ جھُنجھُنا جاتا ہے، شاید شاعر نے انھیں کی نسبت یہ کہاہو:

 الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

 آیئے! ہم بھی ’’چلوتم اُدھر کوہوا ہو جدھر کی‘‘ پرعمل پیرا ہونے والے کچھ لوگوں کے نمونے دیکھتے چلتے ہیں۔

اگرآپ کویہ دعویٰ کرناہو(اوروہ بھی ببانگِ دُہل)کہ ہم اس دنیامیں امن کے سب سے بڑے علم بردارہیں تواس کی تصدیق کے لئے اتنی دہشت پھیلانی ہوگی کہ لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں، بموں کی اتنی بارش کرنی پڑے گی کہ لوگ اپنے ہی خون میں نہا جائیں؛ بل کہ خون کے دریا میں ڈوب کرغریقِ رحمت ہوجائیں اوربرسوں کے بعد پیداہونے والے بچے بھی اس سے متاثرنظرآئیں۔

اگرآپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ ’’ہم دہشت گردی کے خلاف برسرپیکارہیں‘‘تواس کوثابت کرنے کے لئے شریف ترین آدمی کوڈھونڈ کر(دن میں بھی چراغ لے کر)، جس نے کبھی جرم کاارتکاب توکیا؟ جرم کاتصوربھی جس کے لئے لرزہ خیزہو، سخت ترین قانون(جیسے: ,UPA, Pota) کے تحت گرفتارکرناپڑے گااوراُن لوگوں کو’’آزاد پنچھی‘‘کی طرح آزادچھوڑدینا ہوگا، جو معصوموں کی گردن توڑنے میں اپناثانی نہیں رکھتے؛ تاکہ وہ ان کے ’’خونِ حلال‘‘سے ہولی کھیل سکیں اور شہرشہر، گا ؤں گاؤں ایک ’’مقدس‘‘اورمہاتما شخص کی حیثیت سے دند ناتے پھریں۔

اگرآپ پولیس والے ہیں اوراپنی فرض شناسی کی دادوصول کرکے عہدہ میں ترقی کے آرزومند ہیں توراہ چلتے بے قصورلوگوں کو’’انکاؤنٹر‘‘کے نام پرہلاک کرناہوگا، مذہبی امورانجام دے کرواپس آنے والوں کویہ کہہ کر گرفتارکرناہوگاکہ’’یہ فسادی ہیں، غارت گری مچانے اورشہرکے امن وامان کودرہم برہم کرنے کے لئے آئے ہیں‘‘، جائزحقوق کے مطالبے کرنے ولے نہتے شہریوں کوگولیوں سے بھوننا ہوگا، تب کہیں جاکرترقی کی راہ پرگامزن ہوسکیں گے۔

اگراپنے آپ کوقوم کا سب سے بڑاہمدردی کرنے والالیڈرثابت کرناہوتوسچ کے قریب بھی نہ بھٹکئے، اردگرد غنڈوں کی پوری جمعیت رکھئے؛ تاکہ لوگوں کوآپ کی شرفِ باریابی حاصل کرنے کے لئے خوب پاپڑ بیلنے پڑیں، پاپڑبیلنے کے بعد بھی ’’خط مستقیم‘‘سے آگے نہ بڑھنے پائیں، اگرکوئی راہ گم کردہ پہنچ جائے اورکچھ مدعاسنانے کی ’’سعی ناکام‘‘کرے توراستہ سے اس طرح ہٹادیاجائے کہ فرشتوں کوبھی ہوانہ لگ سکے کہ ’’اِدھرسے گزراہے یار! ابھی کوئی‘‘۔

اگرآپ بہت ہی ماہرڈاکٹرکی حیثیت سے اپنی پہچان بناناچاہتے ہوں توسب سے پہلے اپنی فیس دوچند کیجئے، خون چوسنے کے طریقے اپنایئے، کچھ بھی ہوجائے انجکشن ضروردیجئے، خواہ انفکشن ہی کیوں نہ ہوجائے، پیٹ میں دردبھی ہوتوگلوکوز چڑھایئے، بلاوجہ چیک اپ اورٹسٹ لکھئے اوراس کے لئے اس Labمیں بھیجئے، جہاں سے آپ کوکمیشن کی رقم زیادہ ملتی ہو، پھردوچار روز کے لئے ایڈمٹ ضرورکیجئے۔

اگرآپ کی آرزوئے خفتہ یہ ہوکہ آپ سماحۃ الشیخ کہلائیں تواس کے لئے جبہ ودستارسے لیس ہوناپڑے گا، عمدہ عمدہ اسپرے سے اپنے جسم اورکپڑوں کومعطرکرناہوگا، خوب چوڑے مہری والاپاجامہ پہننا ہوگا، حوالی مولی کاایک جمگھٹا بھی ہونا ضروری ہے، خواہ آپ ’’جاہل کے لٹھ‘‘ ہی کیوں نہ ہوں۔

اگرآپ ’’اہل دانش وبینش‘‘میں اپناشمارکراناچاہتے ہوں تواپنے سے بڑوں کی مجلس میں کچھ نہ کچھ ضرور اظہارخیال کرتے رہناچاہئے اورایسے موضوع پرکرناچاہئے، جس کے ’’میم‘‘ سے بھی آپ واقف نہ ہوں، کبھی کبھاراسلامی تعلیمات کی فرسودگی پربھی گفتگوکرنی چاہئے، خواہ اس کی حیثیت ’’مجذوب کی بڑ‘‘کی ہی کیوں نہ ہو۔

اگرخواتین کے لئے آپ کے دل میں ہمدردی کی ’’بھرمار‘‘ہواورآپ اُنھیں عزت کی چوٹی پربٹھاناچاہتے ہوں اور(بزعم ان کے)اسلام کے Out of date نظام سے اُنھیں باہر نکالناچاہتے ہوں تو’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک کے ’’نقشِ پا‘‘ پرچلناہوگا، لباس جتناتنگ، مختصراورچست اُنھیں پہناسکتے ہوں، پہناناہوگا کہ ایک ہی نظرمیں کوہِ ہمالہ کی برفیلی چوٹی بھی نظرآجائے اور’’سینا‘‘کی وادی بھی نگاہوں کے سامنے عیاں ہوجائے۔

شائداسی ’’اُلٹی گنگا‘‘کی رومیں بہہ کرہمارے ملک کے ’’دوررس‘‘ اور’’دوربیں‘‘ حضرات نے ایڈز جیسی موذی بیماری سے نوجوانوں کوبچانے کے لئے اسکولوں میں جنسی تعلیم کو لازمی جزء قراردئے جانے کی بات کہہ رہے ہیں،انھیں لوگوں کے لئے کہاگیاہے: ’’کواچلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا‘‘۔

٭٭٭

Saturday, 12 September 2020

من کی بات اورہوم منسٹر


 من کی بات اورہوم منسٹر

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


آج بڑے دنوں کے بعد بازارجاتے ہوئے دورسے ایک مردآدمی پرنظرپڑی، جولانبے لانبے ڈگ بھرتے ہوئے تیزگامی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے، تھے توساٹھے پاٹھے کے پھیرمیں؛ لیکن چال سے ایسا لگ  نہیں رہاتھا، ہاں، تھوڑھے لچک گئے تھے، اس سے صاف محسوس ہورہاتھا کہ چال اورعمرمیں کافی فرق ہے، میں بھی کہاں ماننے والاتھا،شک کی سوئی جواٹک چکی تھی، بس رفتار میں گیئر لگا کرآگے بڑھا اوربندۂ خدا کواورٹیک کرلیا، نئی نویلی دوشیزاکی مانند گھونگھٹ بھی ڈالے ہوئے تھے، پہلے توجھجھکا کہ کس کواورٹیک کرلیاہے؟ لیکن مخاطب کی آواز نے واضح کردیاکہ یہ پروفیسرٹامک ٹوئیاں ہیں، کچھ حیران سے، کچھ پریشان سے، وجہ پوچھی توفرمانے لگے:

’’لوگ کہتے ہیں کہ خوشی یاغم سے آنکھ کے پھڑکنے کابڑاتعلق ہوتاہے، اگردائیں آنکھ پھڑکے تومطلب کوئی خوشی کی بات آپ تک پہنچنے والی ہے، جھوا لے کرتیار رہیں ؛ لیکن اگربائیں آنکھ پھڑکے توکچھ تو گڑبڑ ہے، آج دودن سے دائیں آنکھ پھڑک رہی تھی؛ بل کہ بسااوقات توایسامحسوس ہوتا، جیسے پھدک رہی ہو، ایسے میں کھٹکا بھی آگھیرتاہے کہ کہیں  پھدک کرباہرکی طرف دوڑنہ لگادے اورپھرلوگ ایک نئی ہیئت کی چیزکوبھاگتے ہوئے دیکھ کرکورونانہ سمجھ لیں، پھرتوبے چاری کاکچومبربننے سے کوئی نہیں بچاسکتا، ویسے بھی لوگ آج کل ہمارے دیش میں پٹتے ہؤوں کوکہاں  بچاتے ہیں؟ بس تصویرنکالنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں؛ تاکہ سوشل میڈیا میں’’بریکنگ نیوز‘‘بناکرجلدی شیئرکرسکیں‘‘۔

’’توآپ جا کہاں رہے ہیں؟‘‘، میں نے ان کی تقریرکوسن کرسوال کیا، کہنے لگے : 

’’تم توجانتے ہی ہو، میں اپنی کسی بھی جسمانی تبدیلی کے علاج کے لئے اپنے گھریلوحکیم صاحب کی ہی پاس جاتاہوں، بس توآنکھ کے علاج کے لئے انہی حکیم صاحب کے پاس جارہاہوں‘‘۔

    ’’آپ کے کوئی گھریلوحکیم بھی ہیں؟‘‘، توپھرگھرہی میں کیوں نہیں دکھایا؟ گھریلوتوگھرمیں ہی رہتتے ہیں نا پروفیسر صاحب؟ میں نے چٹکی لینے کے لئے کہہ تودیا؛ لیکن پھر جوپروفیسرٹامک ٹوئیاں شروع ہوئے توبس اللہ کی پناہ؛ لیکن …اب پچھتائے کیاہوت، جب چڑیاں جگ گگئیں کھیت‘‘؟

    لفظ گھریلوکے معنی بتانے میں لگ گئے، اضافتی معنی، صفاتی معنی، مرکب معنی، مفردمعنی،اس لغت سے ، اُس لغت سے، پھران لغات کے درمیان مقارنہ اورموازنہ، اس کے بعدراجح مرجوح کاعمل، پھراسکے استعمالات، استشہاد کے لئے قدیم اردوشعراء کے کئی حوالے، پروفیسرصاحب اٹکے بغیر، روانی کے ساتھ بولے جارہے ہیں، منھ سے بعض دفعہ فوارے بھی نکل رہے ہیں، کئی مرتبہ توصاف شفاف دستی سے چہرہ کوصاف بھی کرناپڑا،  میں نے کنی کاٹنے کی کوشش کئی بارکی ؛ لیکن… اُف… ارے کہاں؟ ابھی توفلاں لغت کی بات رہ گئی، اوردیکھواس فلاں لغت میں یہ ہے اورفلاں ماہر لسانیات نے اس تعلق سے یہ لکھاہے وغیرہ وغیرہ۔

بھلا ہواس ’’بھول‘‘ کاجس کی وجہ سے پروفیسرصاحب کی یہ معنی خیز سمع خراشی سننی پڑی، ورنہ پروفیسرصاحب کبھی بھی اپنے کام کومؤخرنہیں کرتے، پہلے کام، پھرکلام، یہ اصول ہے ان کا، آپ چاہے جتنے موڈ ہوں؛ لیکن ان کاموڈ بن ہی نہیں سکتا، بولتے بولتے زبان کوایسے لگام دیا ، جیسے اچانک فورویلرکے سامنے کوئی بچہ آپڑاہو ، دراصل اب انھیں یہ یاد آچکاتھا کہ وہ کس کام سے نکلے تھے، بس پھرچلتے بنے؛ چلتے چلتے بول گئے کہ : کہاں تمہارے چکرمیں پھنس گیا، میں توحکیم چری کے پاس جارہاتھا۔

پروفیسرصاحب کی’’ تحقیق انیق‘‘ کے چکرمیں خودبھول گیاکہ کیاکیاسوداسلف لیناتھا؟ یادداشت کی بدولت کچھ لیااورگھرکے لئے روانہ ہوا، جیسے ہی گھرپہنچا’’ہوم منسٹر‘‘ کی آنکھیں چڑھی ہوئی نظرآئیں، میں توگھبراہی گیا، بڑے پیارسے پوچھا: یہ آپ کوکیاہوا؟بس جووہ پھٹی ہیں توگرتے گرتے بچا،اب یادآیاکہ یہاں مچھلی کامسالہ تیارہے اورمچھلی بے چاری بازارمیں، الٹے قدم واپس بازارآیاتویہاں مچھلی ختم، تین چارمچھلی بیچنے والوں کے پاس گیا؛ لیکن آج …آہ… نہ ملنی تھی، نہ ملی، مرتاکیانہ کرتا، مظلوم پولٹری فارم ہی سے کام چلانے کاارادہ کیا۔

کالی پالی تھین دیکھ کران کی آنکھوں کی چڑھائی کچھ  اتری ؛ لیکن کھول کردیکھتے ہی پارا پھر سے گرم ہوگیا اورقبل اس کے کہ وہ زبان کوبے لگام کرتیں اچانک پڑوس کے ایک صاحب ٹپک پڑے، وہ کچھ پوچھنے آئے تھے اوراکثرآتے ہی رہتے ہیں، ان کودیکھ کرہوم منسٹرکچن میں جاگھسیں؛ البتہ وہاں سے کچھ آوازیں ایسی آرہی تھیں، جیسے مکھی بھنبھنارہی ہو، میں سمجھ گیا، وہ من ہی من میں میری خاطرتواضع کرہی تھیں، میں نے بھی اس طرف کان نہیں دیااور’’ٹھینگے سے‘‘ کہہ کرڈرائنگ روم کی طرف چل پڑا، جہاں پڑوسی انتظارمیں تھا، اس کے ساتھ بات کرنے میں قصداً نصف گھنٹہ صرف کیا، پھرجب وہ چلاگیا تومیں نے یہ سوچتے ہوئے کہ ہوم منسٹرکے من کی بات کا کیا بکھیڑاکرنا، من کی بات کی آج کل قدرکہاں رہی، پی ایم صاحب کے من کی بات ہی کولیجئے، ڈس لائک نے توریکارڈ توڑدیا، بس یہ سووچ کرسیدھے ڈائنگ ٹیبل پرآدھمکا، جہاں ہوم منسٹر کھاناسجائے انتظارمیں اونگھ رہی تھی۔

jamiljh04@gmail.com  / Mob:8292017888


Friday, 11 September 2020

تم توچالاک ہو، چال بدل دیتے ہو



 تم توچالاک ہو، چال بدل دیتے ہو

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


کیلیفورنیا، مغربی اوریگون اورمغربی نیواڈاکے جنگلات اورچراگاہوں میں ایک چھوٹاساجانوررہتاہے، جسے ’’زمینی گلہری‘‘کہاجاتاہے، اس جانورکاایک خاص دشمن’’چکی ناگ‘‘(Rattle Snake)ہے، یہ ایساسانپ ہے، جوسونگھ کرشکارکرتاہے اوراگرایک مرتبہ اپنے شکارکے پیچھے پڑجائے توشکارکے لئے اس سے پیچھا چھڑانااور اس سے بچ پانامشکل ہوجاتاہے؛ لیکن کیلیفورنین زمینی گلہری اپنے اس خطرناک دشمن سے بچنے کے لئے عجیب وغریب چالاکی سے کام لیتی ہے، ایسی چالاکی کہ سونگھ کرشکارکرنے والاشکاری دشمن بھی اس تک نہیں پہنچ پاتا، وہ چالاکی یہ ہے کہ اسی چکی ناگ کی کینچلی کواستعمال کرکے اپنی بوکوچھپالیتی ہے اوراس طرح اپنے خطرناک دشمن سے وہ بچ جاتی ہے۔

یہ توخیرجانورہے، جس کواللہ نے عقل سے محروم رکھاہے؛ لیکن اس کے اس عمل سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس مخلوق کوعقل دی گئی ہے، وہ کتنی چالاکی دکھا سکتی ہے؟ اوراپنی چالاکی سے کیسے کیسے کام انجام دے سکتی ہے؟ دنیامیں اس کی بہت ساری مثالیں موجودہیں؛ لیکن باعقل وبے عقل کی چالاکی میں بڑافرق ہوتاہے، بے عقل کی چالاکی عمومی طورپرذاتی حفاظت کے لئے ہوتی ہے، جب کہ باعقل کی چالاکی ذاتی نفع کے لئے ہوتی ہے، مفاد کے لئے ہوتی ہے،ایک دوسرے کونیچا دکھانے کے لئے ہوتی ہے، دوسرے کوکمزور کرنے کے لئے ہوتی ہے، دوسرے کونقصان پہنچانے کے لئے ہوتی ہے، جس کے لئے وہ دوسروں کے لہوبہانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

برسہابرس سے عقل والوں کی طرف سے اسی قسم کی چالاکیاں ہوتی آئی ہیں،جس کی وجہ سے جنگ عظیم اول اوردوم وجود میں آئیں،جس کی وجہ سے ہیرو شیما اور ناگاساکی پرایٹم بم داغے گئے، جس کی وجہ سے بریطانیہ نے بیسیوں ممالک پرقبضہ جمایاتھا، جس کی وجہ سے نیوکلیرہتھیاربنائے گئے، جس کی وجہ سے عالم عرب کے خزانوں پررعب ودبدبہ قائم رکھاگیا، جس کی وجہ سے بعض نے بعض کودہشت گردقراردیااوراس کی آڑ لے کراینٹ سے اینٹ بجادی گئی، اس کوعقل والوں نے چالاکی سے تعبیرکیا؛ حالاں کہ اگر غورکیاجائے توان کی اس چالاکی میں تباہی اوربربادی کے سواکچھ بھی نہیں۔

ہمارے ملک میں بھی اسی قسم کی چالاکیاں شروع ہوئی ہیں، جب برسراقتدارپارٹی سے اس کے وعدے کے بارے میں سوال کئے جاتے ہیں توچالاکی سے موضوع بدل دیاجاتاہے، جب اس سے جواب مانگاجاتاہے توسوال کارخ پھیردیاجاتاہے، جب چین اورنیپال کی دراندازی پربات کی جاتی ہے تووہ پاکستان کی بات کرنے لگتے ہیں، جب الیکشن کاموقع آجاتاہے اوراندیشہ ہوتاہے کہ لوگ اس سے کئے ہوئے وعدوںسے متعلق سوال کریں گے توملک کے کسی گوشہ میں دہشت گردانہ حملہ کروادیاجاتاہے، جب ووٹ کا وقت آتاہے اوورخوف ہوتاہے کہ لوگ ووٹ نہیں دیں گے توفرقہ وارانہ کھیل کھیل دیاجاتاہے، جب موب لنچنگ پرسوال کھڑے کئے جاتے ہیں تووطن پرستی کی بات کی جانے لگتی ہے، جب عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے توطلاق پرمباحثے کئے جانے لگتے ہیں، جب بڑے مجرموں کے پول کھلنے کی نوبت آنے لگتی ہے توچھوٹے مجرموں کاانکاؤنٹر کردیاجاتاہے اوراسے چالاکی سمجھی جاتی ہے۔

اس وقت ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، بے روزگاری انتہاکوپہنچی ہوئی ہے، تعلیم یافتہ نوجوان مرکز سے سوال کررہے ہیں، نوکری کامطالبہ کررہے ہیں، اس کے لئے سڑکوں پراترے ہوئے ہیں، حکومت کے پاس جواب نہیں، حکومت کے پاس نوکری نہیں، ان سوالوں کے جواب سے چھٹکارہ کے لئے بہت ہاتھ پیرمارے گئے، لوگوں کے ذہنوں کوبدلنے کی بہت کوش کی گئی، کبھی مورمونی کاکھیل دکھا کر، کبھی کھلونوں سے جی بہلاکر؛ لیکن جب بات نہیں بنی توپھرچالاکی نہیں؛ چالاکیاں دکھائی گئیں، معیشت کی تباہی کی بات دب گئی، بے روزگاروں کے دھرنوں کاذکرہٹ گیا، اخبارات سے بھی اورنیوزچینلوں سے بھی۔

ریاچکرورتی گرفتارکرلی گئی، ڈرگس کے تعلق سے اس پرکیس فائل کیاگیاہے، اسے چودہ دن کے لئے پولیس کی تتحویل میں دے دیاگیاہے، جب پولیس گرفتارکرنے آئی تھی، اس وقت وہ جنس کرتی میں پہنے ہوئے تھی، جب پوچھ تاچھ کے بعدباہرآئی تواس نے ہاتھ سے اشارہ کیا، یہ وہ لڑکی ہے، جس نے آٹھ سالوں میں سات فلاپ فلمیں عوام کودی ہیں ، اوریہ… اوریہ…اوروہ …اوروہ…

پنگاگرل اورمہاراشٹراحکومت آمنے سامنے، پنگاگرل نے ممبئی کوPOKیعنی پاک مقبوضہ کشمیرسے تشبیہ دیا، کنگنارناوت کے آفس پرانہدامی کارروائی شروع، پنگاگرل کوجان سے مارنے کی ملی دھمکی، مرکز نے اس کودی سیکوریٹی، چاروں طرف سے گھری جھانسی کی رانی، کنگنا رناوت کے خلاف ایف آئی آردرج، کئی معاملات میں ہورہی جانچ، ڈرگس کے سلسلہ میں بھی ہوسکتی ہے جانچ اورالّم …اورغلّم…

آج کل تمام نیوز چینلوں میں چوبیس گھنٹے بس یہی ہے، کیب ڈرائیورآفتاب کی لنچنگ ہوگئی، ایک چھوٹی سی خبر، پانی مانگنے کے بدلے آرے سے سلمانی کاہاتھ کاٹ دیاگیا، ایک چھوٹی سی خبر، بے روزگارنوجوان تالی اورتھالی کے ساتھ سڑکوں پر، خبرغائب، معیشت کی تباہی ، اسکرین سے غائب، یہ ہے وہ چالاکی، جس کے ذریعہ سے صرف اورصرف پارٹی مفادسوچاجارہاہے، ملک کی فکرکسے ہے؟ شسانت سنگھ ، ریاچکرورتی اورکنگنارناوت کی خبروں سے بے روزگاروں کاکیالینادینا؟ کیا اس خبرسے ملک کی معیشت سدھرجائے گی؟ کنگنارناوت کی آفس 48کروڑروپے کی لاگت سے تعمیرہوئی ہے، اس سے ملکی معیشت کی سدھار کیوں کر ہوسکتی ہے؟کیااس کی تعمیرکردہ آفس کومنہدم کردینے سے بے روزگاروں کوروزگارمل جائے گا؟

ان سب چیزوں کواچھال کرحکومت ایک تیرسے کئی شکارکرناچاہ رہی ہے، مہاراشٹرا حکومت کے خلاف زمین ہموارکررہی ہے؛ کیوں کہ ادھوٹھاکرے نے اسے ٹھینگا دکھایاتھا، جس کی پبلیسٹی کے لئے ایک چہرہ چاہئے تھااوروہ چہرہ کنگنارناوت کی شکل میں دستیاب ہوگیا، ملک کی کئی بڑی شخصیتوں نے حکومت سے سیکوریٹی کامطالبہ کیا؛ لیکن انھیں کوئی سیکوریٹی نہیں دی گئی؛ کیوں کہ وہ حق بات کرتے ہیں، حکومت کی غلط پالیسیوں پرتنقید کرتے ہیں اوروہ بی جے پی کے لئے پبلیسٹی چہرہ نہیں بن سکتے؛ اس لئے ان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں؛ لیکن کنگنارناوت جذباتی عورت ہے، وہ بی جے کے جھانسے میں آجائے گی؛ بل کہ آچکی ہے، عجب نہیں کہ آئندہ سیاست میں بھی نظرآئیں اورعجب نہیں کہ مہاراشٹرا سے ہی ٹکٹ مل جائے۔

دوسری طرف بہارمیں الیکشن قریب ہے، شسانت سنگھ بہارکا نوجوان تھا؛ اس لئے الیکشن تک اس کے کیس کوزندہ رکھناہے؛ کیوں کہ شسانت کے ساتھ نوجوانوں کے جذبات وابستہ ہیں، ان کے جذبات سے کھیلنے کااس سے اچھاموقع اورکہاں ہاتھ آئے گا؟ ورنہ اوربھی دکھ ہیں ملک میں شسانت کے سوا، معیشت پربات نہیں کی جارہی ہے؛ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے حکومت کی ناکامی سامنے آئے گی، بے روزگاری پربات نہیں کی جارہی ہے؛ کیوں کہ اس سے حکومت کی ہزیمت نکھرے گی۔

ایک اورشوشہ ہاتھ آگیاہے،سدرشن نیوز چینل کے متانزعہ پروگرام ’’ نوکرشاہی جہاد‘‘، جس پرہائی کورٹ نے اسٹے لگایاتھااورمرکزکی اجازت پرموقوف رکھاتھا، اب مرکزنے اس متنازعہ پروگرام کونشرکرنے کی اجازت دیدی ہے، ظاہرہے کہ یہ اجازت اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب دم توڑچکی ہے؛ کیوں کہ اس پروگرام کے پرومومیں نیوزچینل کے ایڈیٹران چیف یہ کہتے ہوئے نظرآئے کہ: ’’اچانک آئی پی ایس، آئی اے ایس میں مسلمان کیسے بڑھ گئے، سوچئے، اگرجامعہ کے جہادی آپ کے ضلع کلکٹراورہروزارت کے سکریٹری ہوں گے توکیا ہوگا؟جمہوریت کے سب سے اہم ستون انتظامیہ کے سب سے بڑے عہدوں پر مسلم گھس پیٹھ کاپردہ فاش، دیکھئے سدرشن نیوز پر‘‘، اس پروموسے ہی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ پروگرام میں کیاہوگا؟

حالاں کہ دوسری طرف اگرغورکیاجائے توسدرشن کایہ پروگرام براہ راست حکومت پراعتراض کررہاہے؛ کیوں کہ یہ امتحانات حکومتی سطح پرہوتے ہیں توگویایہ کہارہاہے کہ حکومت نے اس امتحان میں شفافیت سے کام نہیں لیاہے، تبھی تومسلمانوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے؛ حالاں کہ کتنے مسلمان اس امتحان میں پاس ہوئے؟ اگرآبادی کے تناسب سے دیکھیں توآٹے میں نمک کے برابرہیں، اس کے باوجودکچھ لوگوں کی آنکھ کاشہتیرہیں یہ کامیاب ہونے والے طلبہ، جوبھی ہو، بہرحال!یہ بھی اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ کوپھیرنے اورمسلم دشمنی کومزیدپختہ کرنے کے لئے ہی مرکزنے اس کونشرکرنے کی اجازت دی ہے۔

یہ ہے حکومت کی وہ چالاکی، جوملک کوتباہی کے دہانے پرلے کرجارہی ہے، جب بات ہوگی نہیں توتمام لوگوں کواس تعلق سے معلومات نہیں ہوں گی، اورجب معلومات نہیں ہوں گی تولوگ حکومت کے خلاف کیوں کربرسرپیکارہوں گے؟حکومت بہت چالاک ہے اورشاطربھی، ہمیشہ وہ چال بدل دیتی ہے؛ لیکن چال بدلنے سے معیشت سدھرے گی نہیں، حکومت جتنی جلد اس کوسمجھ لے، ملک کے حق میں فائدہ مند ہوگا۔

jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888





جرم ضعیفی(افسانہ)



 جرم ضعیفی

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

                                   jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888                                                                                       

اُف…یہ گرمی…پیاس کی شدت سے حلق میں چھالے اوردھوپ کی تمازت سے جان کے لالے پڑرہے ہیں، شجرسایہ دارتوقطار در قطارہیں؛ لیکن یہ پیاس کونہیں بجھا سکتے ، راستہ بالکل سنسان بھی نہیں، لوگ آجاتورہے ہیں؛ لیکن ان کے پاس پانی نہیں۔

    آنکھوں میں اب کچھ دھندسی چھائی جارہی ہے،قدم اٹھاناباراورراستہ چلنادشوارہورہاہے؛ لیکن تسلی ہے کہ بس چندہی قدم کے فاصلہ پرپانی ضرور مل جائے گا۔

وہ آج کافی تھکادینے والے سفرپرنکل پڑاتھا، نکلتانہیں…اورنکلنابھی نہیں چاہئے، اسے تومعلوم ہے کہ گاڑیاں بند ہیں، کوروناکی وجہ سے لاک ڈاؤن چل رہاہے اورلاک ڈاؤن میں سواری گاڑیاں کہاں؟ راستے میں گاڑیاں توآجارہی تھیں؛ لیکن سب ذاتی ہیں، ان سے تولفٹ بھی نہیں لی جاسکتی اورلفٹ بھی کون دیتا؟ کوروناکا عفریت توسبھوں کے سرپرہے، پھربھی …جب وہ کافی تھک گیا توایک دوسے لفٹ لینے کی کوشش کی؛ لیکن……

وہ نکلنے پرمجبورتھا، نہ نکلتا توکیاکرتا؟ دانہ دنکاختم ہوچکاتھا، اب توکوئی غلہ تقسیم کے لئے بھی نہیں آتا، جوش میں اب اوس پڑچکی ہے اوراوس توپڑناہی ہے، آخربیٹھے بیٹھے کتنے دن کوئی پس انداز کئے ہوئے رقم سے گھرداری چلاسکتاہے؟ پڑوسیوں نے کافی مددکی ؛ لیکن کب تک؟ چاروناچارنکل پڑا۔

چلتے چلتے وہ سوچنے لگاکہ زندگی بھی کیسی ہے؟ کب کس پرکونسا وقت آجائے، کہا نہیں جاسکتا؟ اچھی خاصی اس کی کمائی تھی،وہ ایک فیکٹری میں کام کرتاتھا، اتنی کمائی ہوجاتی تھی کہ کھا پی کربچ جاتا، دن ہنسی خوشی کے گزررہے تھے کہ اچانک ایک نادیدہ دشمن نے حملہ کردیا۔

نادیدہ دشمن کاحملہ بہت سخت تھا، اتناکہ پورے ملک میں خوف چھاگیا، ہرشخص گھرسے باہرنکلنے میں ڈرمحسوس کرتا، رشتے ناطے ختم ہونے لگے ، جان پہچان والے انجان بن گئے، اتفاق سے اگرراہ چلتے کسی سے ملاقات ہوجاتی تووہ دورسے کتراجاتا، پہلے جوتپاک سے گلے ملتے تھے، اب ہاتھ ملانے سے بھی ڈرنے لگے، یہ شہراب وہ شہرباقی نہیں رہاتھا، جواس کاجاناپہچاناتھا، اجنبی بن گیاتھا۔

یااللہ! یہ کیسادشمن ہے؟ لوگ گھروں میں دبک کربیٹھ گئے ہیں، اگرکچھ نکل بھی رہے ہیں تومنھ چھپاکر، کوئی پہچان نہ لے، کوئی گلے نہ ملنے لگے، کوئی مصافحہ کے لئے ہاتھ نہ بڑھادے، حالات بالکل ایسے ہوگئے، جیسے دوملکوں کے درمیان جنگ چھڑگئی ہو اورپورے ملک میں جاسوسی کاجال پھیلادیاگیاہو، ہروقت دھڑکا، ہروقت خوف، ایسے میں فیکٹری توچل نہیں سکتی، اس کے تیارکئے سامان کوخرید کون کرے گا؟ 

مالک نے فیکٹری بندکردی، کام نہیں توپھریہاں رہ کربھی کیاکرے؟ گھرچلاجائے؛ لیکن گاڑیاں بھی توبند ہیں، اب کیاہوگا؟ اسی ادھیڑبن میں دودن گزرگئے کہ اچانک خبرملی کی کچھ اسپیشل گاڑیاں چلائی جارہی ہیں، یہ بھی آن پہنچا؛ لیکن یہاں توسناٹا…، یہ بس افواہ تھی، پریشان صرف یہی نہیں تھا، ہزاروں لوگ تھے، کچھ توپیدل ہی چل پڑے، پانچ سوکیلومیڑ، اف… سوچ کرکلیجہ منھ کوآتاہے؛ لیکن چارہ بھی تونہیں۔

یہ بھی چل پڑا، لشتم پشتم پانچ دن بعد گھرپہنچا، تھکن سے چور، دل سے رنجور، پیروں میں آبلے، جسم میں چھالے، رفتہ رفتہ سب مندمل ہوگئے، گھروالوں کے ساتھ خوش تھا، سوچ رہاتھا کہ کچھ دنوں کی بات ہے، فیکٹری جلدہی کھل جائے گی، یہی کہابھی جارہاتھا، تب تک پس اندازکئے رقم سے کام چل جائے گا؛ لیکن… یہ بندی توشیطان کی آنت نکلی، ختم ہونے کانام ہی لے رہی تھی، اوراب دانہ دنکا بھی ختم…

پھروہی سفر؛ لیکن اب درازی پہلے کے مقابلہ میں کچھ کم تھی؛ لیکن اتنی بھی کم نہیں  کہ ہنستے کھیلتے جھیل لیاجائے…وہ بھی پیادہ پا…دھوپ بالکل کے سراوپر، جسم پسینہ سے شرابور، پیاس کی شدت…خشک ہوتاحلق…کافی دورچلنے کے بعدکئی گھرسامنے نظرآئے، دل ہی دل میں وہ خوش کہ اب پیاس بجھ جائے گی، پانی کوئی ایسی چیزتونہیں، جس سے منع کیاجائے، جس سے روکاجائے، کربلامیں توروکا گیا تھا؛ لیکن یہاں تو کربلا نہیں ہے، یہاں توسب دعاسلام کرتے ہیں، پھربھلامنع کیوں کرنے لگے؟ 

وہ آگے بڑھا، کچھ لوگ کھڑے ملے، اس نے پانی طلب کیا؛ لیکن یہ کیا؟… یہ توخاطرداری کرنے لگے… چائے بسکٹ سے نہیں…ہاتھ لات سے… مکوں گھوسوں سے…وہ سوچنے لگا، کیاپانی مانگنا جرم ہے؟ وہ بھی اس ملک میں،جودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتی ہے، نہیں…نہیں…پانی مانگناجرم تونہیں، پھرمیراجرم کیاہے؟ … ابھی وہ پٹتے ہوئے سوچ ہی رہاتھاکہ ہاتھ میں شدید دردکااحساس ہوا، جیسے ہاتھ کوکاٹاجارہاہو، اس کی چیخیں نکل گئیں، آنکھیں بندہوگئیں، ہلکی سی آنکھ کھلی توہاتھ واقعی کٹ چکاتھااورخون کوفوارہ بہ رہاتھا…جب  پوری آنکھ کھلی تو ہاتھ میں بینڈیج بندھاہواتھا، اب اسے احساس ہوا، یقینی احساس کہ اس کاجرم’’جرم ضعیفی‘‘ یعنی اس کا…م…س…ل…م…ا…ن… ہونا تھا ۔


Thursday, 10 September 2020

فقہی فروعات کااختلاف.......

 فقہی فروعات کااختلاف اورہماراطرزعمل

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

                                             jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888                                                                                               

اللہ تعالیٰ نے اپنے مکلف بندوں کوجوبھی احکام دئے ہیں، وہ دوطرح کے ہیں، ایک وہ ہیں، جن میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں، انھیں ’’اصول‘‘کہاجاتاہے، جیسے: وجودباری، اس کی وحدانیت، فرشتے، کتب سماویہ، رسالت محمدیہ، موت کے بعددوبارہ زندہ ہونا، پنچ وقتہ نمازیں، شراب اورزناکی حرمت وغیرہ، یہ وہ  ہیں، جن میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

دوسرے وہ احکام ہیں، جن میں دلائل کی پوشیدگی،یاان کے اجمال، یاایک سے زائد معانی پرلفظ کی دلالت،یامجتہد تک پہنچنے کے اعتبارسے روایت حدیث کی قوت وکمزوری، یا ان کے آپسی تعارض ، یا پھران کے ثبوت میں اختلاف، یامجتہدین کے مابین مصدرتشریعی پراعتماد میں تفاوت، یامصالح وضروریات کی رعایت کی وجہ سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، ان کو’’اجتہادی مسائل‘‘ اور’’فروعات فقہیہ‘‘کہاجاتاہے (الموسوعۃ الفقیہ الکویتیہ، لفظ: اختلاف: ۱؍۲۹۲ ومابعدہا، التقریروالتحبیر: ۳؍۳۰۳)۔

فروعی اوراجتہادی اختلاف درحقیقت اختلاف نہیں؛ بل کہ رحمت، وسعت، گنجائش اور قابل فخرقانونِ اسلامی کاخزانہ ہے، اس اختلاف کے بارے میں قاسم بن محمدؒ کہاکرتے تھے: کان اختلاف أصحاب رسول اللہ رحمۃ للناس۔(الطبقات الکبری: ۵؍۸۹)’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کااختلاف لوگوں کے لئے رحمت ہے‘‘۔

اوراسی اختلاف کے بارے میں امام مالک ؒ نے ہارون رشیدسے اس وقت کہا، جب انھوں نے ان کی کتاب ’’مؤطا‘‘ کوتمام لوگوں کے لئے لازم کرنے کوکہا: 

یاأمیرالمؤمنین! إن اختلاف العلماء رحمۃ من اللہ تعالیٰ علی ہذہ الأمۃ، کل یتبع مایصح عندہ، وکلہم علی ہدی، وکل یرید اللہ تعالیٰ۔ (کشف الخفاء ومزیل الإلباس عمااشتھرمن الأحادیث علی ألسنۃ الناس لإسمعیل بن محمدالعجلونی :۱؍ ۸۰)’’اے امیرالمؤمنین! علماء کااختلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت پررحمت ہے، ہرشخص اس کی پیروی کرتاہے، جواس کے نزدیک صحیح ہو، اورتمام لوگ ہدایت پرہیں، اورہرشخص اللہ ہی کاارادہ کرتاہے‘‘۔

امام سیوطی فرماتے ہیں:''جانناچاہئے کہ اس شریعت میں مذاہب کااختلاف ایک بڑی نعمت اورعظیم فضیلت ہے، اوراس میں ایک لطیف رازہے، جاننے والے(علماء) جس کوپالیتے ہیں اور جاہل سے یہ پوشیدہ رہتاہے؛ یہاں تک کہ بعض جاہلوں کومیں نے یہ کہتے ہوئے سناہے کہ : نبی کریم ﷺ ایک شریعت لے کرآئے تھے تویہ مذاہب اربعہ کہاں سے آگئے؟ اوراس پربھی تعجب ہے کہ کچھ لوگ بعض مذاہب کی ایسی تفصیل کرنے لگتے ہیں، جس سے مفضل علیہ کی تنقیص اورتوہین ہوتی ہے، اوربسااوقات یہ ناسمجھوں کے مابین جھگڑاپیداکردیتاہے اوریہ جاہلی عصبیت وحمیت بن جاتی ہے، اورعلماء اس سے بری رہتے ہیں، اوربعض دفعہ صحابہ کے درمیان فروع میں اختلاف ہواہے اوراس امت کے بہترین افرادہیں؛ چنانچہ ان میں سے کسی نے کسی سے جھگڑاکیا، نہ دشمنی کی اورناہی کسی کی طرف خطااور قصورکی نسبت کی‘‘(جزیل المواہب فی اختلاف المذاہب، ص:۲۵، ط:دارالاعتصام)۔

اختلاف کی اس رحمت کافائدہ کسی زمانہ سے زیادہ آج کے ترقی یافتہ دورمیں ہوا،جتنے بھی فقہی ابواب ہیں اورہمارے فقہی ذخیرۂ کتب میں جو مسائل مذکورہیں، اگرآج کسی ایک مذہب پر کوئی شخص عمل کرناچاہے توقدم قدم پر اسے دشواریوں کاسامناکرناپڑے گا، یہی وجہ ہے کہ تمام مسالک نے جمود و تعطل کے راستہ کوترک کرکے اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت محسوس کی اوراپنے علمی سیمیناروں اورورک شاپس میں ایک مسلک سے عدول کرکے دوسرے مسلک کواختیارکیااورامت کودشواری سے بچاکرایک وسیع اورآسان دین فراہم کیا، اگریہ اجتہادی اختلافات نہ ہوتے تو آج دین پرعمل پیرارہناکس قدرددشوراہوتا، وہ کسی بھی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ یہ شکوہ بھی بے جانہیں کہ بعض لوگ اس اختلاف کووسعت وگنجائش کے بجائے نزاع باہمی کاذریعہ بناکرامت کے سامنے پیش کرتے ہیں اوراپنے سواتمام مسالک کونادرست قراردیتے ہیں، ظاہرہے کہ یہ سوفیصدغلط ہے؛ کیوں کہ اجتہادی مسائل میں توعہد صحابہ سے اوپراٹھ کرعہد رسالت میں بھی اس کی کئی مثالیں ہمیں مل جاتی ہیں، لہٰذا ہرمجتہدکی رائے کااحترام کرنے کااپنے کوخوگربناناچاہئے اوراللہ کے رسول ﷺکے فرمان کو(إذاحکم الحاکم، فاجتہد، ثم أصاب فلہ أجران، وإذاحکم ، فاجتہد، ثم أخطأ فلہ اجر[بخاری، باب أجرالحاکم إذااجتہد، حدیث نمبر: ۶۸۰۵، مسلم، حدیث نمبر: ۳۲۴۰])اپنے پیش نظررکھتے ہوئے خطاوصواب کے احتمال پراعتمادکرکے صرف اپنے کوہی درست قراردینے کے بجائے دوسرے کے حق پرہونے کابھی یقین رکھناچاہئے۔