Friday, 17 April 2020

ڈاکٹروں سے بدسلوکی: ایک غیرذمہ دارانہ عمل

آج کے صحافت لکھنؤ، عوامی نیوز رانچی اورسچ کی آواز دہلی میں شائع مضمون
لنک صحافت:
http://www.akhbarurdu.com/sahafat_lucknow/sahafat_lucknow_04_b.html
لنک سچ کی آواز:
http://sachkiawaz.com/epaper/view.php?issueid=426&page=7&coords=467,205,1762,1745&crop=467,205,1295,1540
لنک عوامی نیوز:
https://www.readwhere.com/read/2637896#page/7/2
ڈاکٹروں سے بدسلوکی: ایک غیرذمہ دارانہ عمل

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

اس وقت پوری دنیاایک جھوٹے سے وائرس کے حملے کی زد میں ہے، اس وقت پوری دنیامیں تقریباً21,07,450اس وائرس سے متاثر لوگ ہیں، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعدادتقریباً1,36,992ہے، ہماراملک ہندوستان بھی اس کی لپیٹ میں آیاہواہے، یہاں اس کی زدمیں آنے والوں کی کل تعداد13,495ہے، جس میں سے 1,777شفایاب ہوچکے ہیں، جب کہ مرنے والوں کی تعداد448بتائی جارہی ہے۔
یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ جس پیمانہ پریہاں اس کی روک تھام کے لئے عمل درآمدگی ہونی چاہئے تھی، اس پیمانہ پرنہیں ہوپائی ہے؛ کیوں کہ سب سے اہم مسئلہ ٹیسٹ کاہے، یہ کام جنگی پیمانہ پرہوناچاہئے تھا؛ لیکن ابھی تک کچھوے کی چال ہی ہم چل رہے ہیں، اسی کے نتیجہ میں دن بہ دن تعدادمیں اضافہ ہوتاجارہاہے، اگرجنگی پیمانہ پر اس کی ٹیسٹنگ شروع کردی جاتی ہے توہم ان شاء اللہ بہت جلداس کوروکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ہماراملک اس کی بڑھوتری کوروکنے کے لئے لاک ڈاؤن کی احتیاطی تدبیرپرزیادہ بھروسہ کئے ہوئے ہے، یقینااس کافائدہ ہے، جس سے انکارکی گنجائش نہیں؛ لیکن اسی کے ذریعہ سے سوفیصدکامیاب ہونے کی سوچ بھی کافی نقصان دہ ہے، جب ملک میں دواؤں کی کمی نہیں ہے، جب ملک میں کیش کی کمی نہیں ہے اورجوکمی تھی، اسے پی ایم کیئرفنڈ کے ذریعہ سے ممکن حدتک ملک کے سرمایہ داروں نے پوراکرنے کی کوشش کی ہے توپھرسوال یہ ہے کہ تفتیش اورجانچ میں اتنی لاپرواہی کیوں برتی جارہی ہے؟ کہیں ایساتو نہیں کہ ملک کی بڑھتی آبادی پرکنٹرول کے لئے ایک ہتھیارکے طوراس کوسوچاجارہاہواوراسی کی وجہ سے سست رفتاری دکھائی جارہی ہو؟ورنہ اتنے دونوں میں ملک کے اکثرحصوں میں جانچ کی تکمیل ہوجانی چاہئے تھی، ہمارے یہاں بھی ڈاکٹروں اورنرسوں کی کافی تعدادہے، اسی طرح میڈیکل اسٹوڈینٹس کی بھی ایک بڑی تعدادہے، انھیں معمولی ٹریننگ کے ساتھ اس کام کے لئے ہائرکیاجاسکتاہے؛ لیکن ہم ہندوستانیوں کااصول تویہی ہے نا کہ کم پیسوں میں کام کیسے چل جائے؟ ظاہرہے کہ کہیں نہ کہیں اس اصول کوتوڑناہی پڑے گا۔
ملک کے بعض علاقے وہ ہیں، جہاں متاثرین کی تعدادزیادہ ہے، ابھی تک ان علاقوں میں بھی تمام لوگوں کی جانچ نہیں ہوپائی ہے، بس ہوتایہ ہے کہ جب کوئی شخص پازیٹیو پایاجاتاہے تواس کے اردگرددوتین کیلومیٹرکے لوگوں کوقرنطینہ کردیاجاتاہے اوران کی جانچ ہوتی ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاضروری ہے کہ وہ شخص صرف اسی علاقہ تک محدودرہاہو؟ اورپھریہ بھی ضروری نہیں کہ اسے ان تمام لوگوں کانام بھی یادرہے، جن سے اس کی ملاقات ہوئی ہے اوران تمام جگہوں کانام بھی یاد رہے، جہاں جہاں وہ گیاہے؛ اس لئے ہوناتویہ چاہئے تھا کہ اب تک گھرگھرپہنچ کرجانچ کاعمل پورکرلیاجاتا، اس سے کوروناسے جنگ جیتنے میں بڑی مددملتی۔
بعض علاقوں کوہاٹ اسپوٹ قراردیاگیاہے، ان علاقوں میں کچھ دنوں سے ڈاکٹروں کادورہ شروع ہواہے، تاہم بعض علاقوں سے ایسی خبریں آئیں، جہاں ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان پرپتھراؤ کیاگیا، ان کودوڑاکربھگایاگیا، یہ نہایت ہی شرمناک اورگھنونی حر کتیں ہیں، جوآپ کی بہتری اورخیرخواہی کے لئے آپ کا طبی معاینہ کرناچاہتے ہیں، ان کے ساتھ یہ بدسلوکی یقیناقابل مذمت ہے اورجن لوگوں نے ایسی حرکت کی ، انھیں ان کےکئے کی سزاملنی چاہئے؛ لیکن افسوس ہے گودی میڈیاپر! کہ اس طرح کے واقعات کوہندومسلم بنانے میں لگی رہتی ہیں، ٹھیک ہے کہ یہ عمل کہیں مسلمانوں سے بھی سرزدہواتوان کی سرزنش کیجئے، انھیں ان کی سزادیجئے، کوئی شخص اس کی تائیدنہیں کرے گا؛ لیکن اس طرح کے واقعات کوہندومسلم کارڈکھیلنے کاذریعہ نہ بنایاجائے، یہی اس ملک کی سا لمیت اورسلامتی کے لئے بہترہوگا۔
لیکن اس ملک کے باعزت شہری ہونے کے لحاظ سے اس پربھی غورکرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات رون ماکیوں ہورہے ہیں؟ پہلے تونہیں ہواکرتے تھے، اس سے پہلے بھی کئی کئی علاقوں میں کئی مواقع ایسے آئیں، جہاں ڈاکٹروں کی پوری ٹیم کے ساتھ جانچ کی گئی ہے، گھرگھرجاکردوائیں پلائی گئی ہیں، ہردروازہ تک پہنچ کرانجکشن بھی دئے گئے ہیں؛ لیکن اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوئے، ڈاکٹروں پرحملہ کی کارروائی نہیں کی گئی، ان پرپتھراؤ نہیں ہوا، آج کیاہوگیاہے اورلوگ اس حدتک کیوں گرگئے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے کچھ دنوں پہلے کے واقعات کی طرف ہمیں جاناپڑے گا۔
جب میڈیانے تبلیغی جماعت کی آڑ میں اس وائرس کومسلمان بنادیاتوان کی تلاشی ایسے شروع ہوئی، جیسے آئی ایس آئی کے لوگ بارڈرکراس کرکے گھس آئے ہوں اور پارلیامنٹ میں وہ حملہ کاارادہ رکھتے ہوں، ان کی تلاشی میں اتنی سختی برتی گئی کہ بس اللہ کی پناہ! بعض جگہوں پرانھیں ماراپیٹابھی گیا، بعض علاقوں سے ان کے پاس پورٹ تک ضبط کرنے خبریں آئیں، آپ خودہی سوچئے کہ کیاایساکرناکسی بھی صورت میں مناسب تھا؟ وہ مجرم تونہیں تھے، انھیں یہ تومعلوم نہیں تھاکہ وہ کوروناکے مریض ہیں، پھربعدکی رپوٹوں نے ان میں سے اکثریت کونگیٹیوبھی قراردے دیا، حکومت کی طرف سے اس طرح کےسلوک کوکیسے رواکہاجاسکتاہے؟
اس رویہ نے لوگوں کے اندرخوف اورڈرپیداکردیا، جوغیرتبلیغی تھے اورچیک اپ کرانابھی چاہ رہے تھے، وہ بھی جانچ سے کترانے لگے، کئی مریضوں کے بارے میں رپوٹ ملی کہ وہ صرف کورائن ٹین کے ڈرسے چھپ گئے اورچیک اپ سے گھبراکربھاگ گئے، پھراس کے ساتھ کورانٹین والوں کی ایسی ویڈیوزبھی وائرل ہوئیں، جس میں مریضوں کے ساتھ لاپرواہی دکھائی گئی ، کوروناپازیٹیووالوں کے ساتھ مشتبہ افرادکوبھی رکھنے کے معاملات سامنے آئے، کورانٹین کے لئے ایسے کالجوں میں جگہ دی گئی، جہاں بسا اوقات کھانے سے بھی لوگ محروم رہے، اب آپ ہی بتایئے کہ ایسی صورت حال میں لوگ خوشی خوشی چیک اپ تونہیں کرائیں گے ؟
اس کے لئے بہترشکل یہ تھی کہ جگہ جگہ پرعارضی جانچ گھربنائے جاتے اوربغیرلاؤلشکرکے یہ اعلان کردیاجاتاکہ تمام لوگ ایک ایک کرکے آئیں اورجانچ کراکرجائیں، نیزانھیں یہ بھی سمجھایاجاتاکہ یہ بیماری خطرناک ہے اورایک آدمی کے متاثرہونے سے پورے گھراوراڑوس پڑوس بھی اس سے متاثرہوجاتے ہیں، لہٰذا کوئی بھی جانچ سے پیچھے نہ ہٹے، ورنہ مسئلہ صرف آپ ہی کا نہیں ہے؛ بل کہ آپ عزیزوں کا بھی ہے، ترہیب سے زیادہ ترغیب سے کام کرناچاہئے، لاٹھی سے زیادہ پیارومحبت سے کام کرناچاہئے، جماعت والے اگرمتاثرتھے تواس کامطلب یہ تونہیں تھاکہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی، انھیں بھی آسانی کے ساتھ سمجھایاجاسکتاتھا؛ لیکن شروع ہی سے گدی نشینوں کی پالیسیاں کوروناکے تعلق سے مشکوک رہی ہیں، خودبھی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، ظاہرہے کہ راجاجیسارہے گا، پرجابھی توویسی ہی رہے گی۔

ان تمام کے باوجودلوگوں کوآپے سے باہرنہیں ہوناچاہئے اورصحت کی جانچ کے لئے جولوگ آرہے ہیں، ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی چاہئے، وہ اپنے آپ کوخطرہ میں اور اپنی جان کوہتھیلی میں رکھ کرآپ کی فکرکے لئے آپ کے دروازہ پرآرہے ہیں، ان کاتواستقبال کرناچاہئے اورخوش آمدیدکہناچاہئے، نہ کہ ان کے ساتھ بداخلاقی کامظاہرہ ہوناچاہئے اورجوصاحب اقتدارہیں، انھیں ترغیبی عمل کی طرف خاص توجہ دیناچاہئے اورہرگزیہ نہیں سمجھناچاہئے کہ ہرمسئلہ کاحل ڈنڈاہی ہے اورہم جتنی سختی کریں گے، عوام اتناہی ہماری بات مانے گی، یہ سوچ درست نہیں۔jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888

Thursday, 16 April 2020

آن لائن نماز: ایک جائزہ

باسمہ تعالیٰ

آن لائن نماز: ایک جائزہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

       
    دین اسلام اللہ کاآخری دین ہے، اس کے بعدقیامت ہی قائم ہوگی اورحضرت محمدﷺسلسلۂ نبوت کے آخری کڑی ہیں، ان کے بعدنہ کوئی رسول آئے گا اورنہ کوئی نبی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انھیں خاتم النبیین قراردیاہے، ارشادہے: {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْماً}(الأحزاب: ۴۰)’’ محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ‘‘۔
    اس آیت میں لفظ’’خاتَم‘‘کاآیاہے، اس کوبعض نے زیرکے ساتھ(خاتِم) بھی پڑھاہے، پڑھنے کے اعتبارسے اس لفظ کوچاہے جوبھی پڑھاجائے؛ لیکن معنی کے لحاظ سے تقریباً ایک ہی ہے؛ چنانچہ ابن الجوزی کہتے ہیں: جس نے تاء کے زیرکے ساتھ خاتِم پڑھا، تواس کے معنی ہیں’’نبیوں کومہرلگایا‘‘ اورجس نے تاء کے زبر کے ساتھ خاتَم پڑھا، تواس کے معنی ہیں’’نبیوں کے آخر‘‘(زادالمسیر:۶؍۲۰۴)، مہرلگانے کاکام آخرمیں ہی ہوتاہے؛ اس لئے معناً یہ بھی آخر کے ہی ہوئے، اس کی تائیدایک حدیث سے ہوتی ہے، جس میںاللہ کے رسول ﷺ نے اس بات کوایک مثال سے سمجھایا، آپﷺ نے فرمایا: إن مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً، فأحسنہ وأجملہ؛ إلاموضع لبنۃمن زاویۃ، فجعل الناس یطوفون بہ، ویعجبون لہ، ویقولون: ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ، قال: فأنااللبنۃ، وأناخاتم النبیین۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۳۴۲)’’میری اورمجھ سے پہلے کے نبیوں کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس نے بہت ہی حسین وجمیل گھربنایا؛ لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدیا،لوگ اس کے گھردیکھنے لگے اورپسندکرنے لگے اورکہنے لگے:اس اینٹ کوکیوں نہیں رکھا، تومیں ہوں وہ اینٹ، اورخاتم النبیین ہوں ‘‘۔
    آخری نبی کی بعثت کے ساتھ اِس دین کی تکمیل ہوگئی اورزندگی گزارنے کے لئے جتنے احکام کی ضرورت ہوسکتی تھی، انھیں اصولی یافروعی طورپربتادیاگیا،تمام اوامر ونواہی کاذکرکردیاگیا، تمام حلال وحرام کوبیان کردیاگیااورسارے معفوعنہ امورکی بھی نشاندہی کردی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تکمیل کااعلان حجۃ الوداع کے موقع سے عرفہ کے دن فرمایا: {ِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً}(المائدۃ:۳)’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کومکمل کردیا اورتم پر اپنی نعمت تمام کردی اورتمہارے لئے بطوردین کے اسلام کوچنا‘‘، اب جتنے بھی مسائل پیش آئیں گے ، نبی کریم ﷺ کے ذریعہ بتائے ہوئے امورکی روشنی میں ہی ان کاحل تلاش کیاجائے گا، ان مسائل کے حل کے لئے علماء وفقہاء نے خصوصیت کے ساتھ ’’اجتہا‘‘اور’’قیاس‘‘کا طریقہ اختیارکیا ؛ لیکن ظاہرہے کہ اجتہاداورقیاس پتہ ماری اوردماغ سوزی کاکام ہے، ہر’’ایرے غیرے نتھوخیرے ‘‘کاکام نہیں؛ اس لئے ان کے لئے کچھ اصول اورشرائط بنائے گئے ہیں؛ چنانچہ اجتہاد کے لئے مسلمان، مکلف اورعادل ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن، سنت، عربی زبان، اصول فقہ، مقاصد شریعت، مواقع اجماع، ناسخ ومنسوخ سے واقف کار اورزمانہ شناس ہونے کوبھی شرط قراردیاگیاہے، جب کہ بعض حضرات نے اصول دین ، فقہی فروعات اورعقلی دلائل سے واقفیت کوبھی شرط قراردیاہے، اجتہاد کی طرح قیاس کے صحیح ہونے کے لئے گیارہ بارہ شرطیں اصولیین نے ذکرکی ہیں، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں ذکرنہیں کیاجاسکتا(تفصیلات اصول فقہ کی مطولات میں دیکھی جاسکتی ہیں)۔
    موجودہ زمانہ تعلیمی ترقی کے زمانہ کے ساتھ ساتھ تخصصات (اسپسیلائزیشن)کابھی دورہے اوربرصغیر کو چھوڑکرتقریباً ہرجگہ اس کوتسلیم کیاجاتاہے، کسی بھی موضوع سے متعلق بات اسی کی درست اورمعتبرسمجھی جاتی ہے، جس نے اس موضوع پرتخصص کررکھاہواورجولوگ متخصص نہیں ہوتے، وہ خوداس موضوع پربحث نہیں کرتے؛ لیکن ہمارے برصغیر کامسئلہ اس سے مستثنیٰ ہے، یہاں غیرمتخصص بھی کسی بھی موضوع پرکلام کرسکتے ہیں اوربالخصوص دین اورشریعت کے معاملات میں تولازماً کرسکتے ہیں، اس میں بالخصوص وہ لوگ پیش پیش رہتے ہیں، جومستشرقین کے بنائے ہوئے نصاب کے مطابق اسلامک اسٹڈیزکی ڈگریاں اپنے پاس رکھتے ہیں اوران کاساتھ وہ حضرات بھی دیتے ہیں، جواردوسے شدبد رکھتے ہیں اورچندکتابوں کامطالعہ کرکے مجتہدمطلق سمجھ بیٹھتے ہیں، اسے آپ برصغیرکاکمال کہئے یانقص، آپ کے اختیارمیں ہے؛ تاہم اتنی بات ضرورہے کہ ایسے’’خودساختہ مجتہدین‘‘ کی وجہ سے امت میں انتشارضرورپیدا ہوجاتاہے۔
    اس وقت پوری دنیاکورونا کی وباسے جھونجھ رہی ہے اورجہاں اس کی وجہ سے اقتصادی، سماجی ، طبی وغیرہ کے بہت سارے مسائل پیداہوئے ہیں، وہیں کئی شرعی مسائل نے بھی جنم لیاہے، جن کاحل بھی مفتیان کرام کی جانب سے پیش کیاجاچکاہے اورپیش کیاجارہاہے، ایسے وقت میں ایک ’’مجتہد‘‘ کی جانب سے ’’آن لائن نماز‘‘کامسئلہ بھی پیش کیاگیاہے، اس سے قبل’’ آن لائن جھاڑبھونک‘‘ اور’’آن لائن بیعت ‘‘کاتذکرہ سن چکاتھا، اب آن لائن نماز کے مسئلہ نے غوروفکراورجائزہ کی دعوت دی ہے، وہی آپ کی نذرہے۔
    نمازاسلام کادوسرارکن ہے، جس کی ادائے گی کے دوطریقے بتائے گئے ہیں: ایک اجتماعی اوردوسراانفرادی، دونوں صورتوںمیںنمازہوجائے گی اورنمازی مؤاخذہ سے بچ جائے گا؛ البتہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب انفرادی طورپرنمازپڑھنے کے مقابلہ میں زیادہ ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادہے: صلاۃ الجماعۃ أفضل من صلاۃ الفذ بسبع وعشرین درجۃ۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۱۹، مسلم، حدیث نمبر:۶۵۰) ’’جماعت کی نمازتنہانمازکے مقابلہ میں ستائیس گناافضل ہے‘‘، نیزبعض احادیث جماعت کی اہمیت پربھی دلالت کرتی ہیں؛ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:والذی نفسی بیدہ لقدہممت أن آمربحطب فیحطب، ثم آمر بالصلاۃ فیؤذن لہا، ثم آمررجلاً فیؤم الناس، ثم أخالف إلی رجال فأحرق علیہم بیوتہم، والذی نفسی بیدہ لویعلم أحدہم أنہ یجدعرقاً سمیناً أو مرماتین حسنتین لشہد العشاء۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۴۴)’’اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں نےارادہ کیاکہ لکڑیاں جمع کرنے کاحکم دوں پھرنماز کاحکم دوں تواذان دی جائے پھرکسی کوحکم دوں تولوگوں کی امامت کرے، پھر میں(جماعت میں حاضرنہ ہونے والے)لوگوں کے پاس جاؤں اوران کے گھر وں کوآگ لگادوں، اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگران کومعلوم ہوتاکہ انھیں پرگوشت ہڈی اورپسلیاں ملیں گی اورتوعشاء میں(بھی) حاضرہوتے ‘‘، یہ حدیث جماعت کی اہمیت اوراس کی تاکیدپردلالت کرتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس کاشرعی حکم کیاہے؟ جمہورفقہاء اس کے سنت ہونے کے قائل ہیں، تاہم بعض سنت مؤکدہ ہونے کے قائل ہیں؛ چنانچہ ابن بطال لکھتے ہیں: وأجمع الفقہاء أن الجماعۃ فی الصلوات سنۃ إلاأہل الظاہر، فإنہاعندہم فریضۃ (شرح البخاری لابن البطال: ۲؍۲۶۹)،’’فقہاء کااتفاق ہے کہ جماعت سنت ہے، سوائے اہل ظاہرکے کہ ان کے نزدیک فرض ہے‘‘، جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھناسنت ہے تویہ بات بھی معلوم ہونی چاہئے کہ جماعت میں امام اورمقتدی کاہوناضروری ہے، لہٰذا آیئے اقتداکی شرطیں جانتے چلیں؛ تاکہ آن لائن نماز کامسئلہ مکمل طورپرواضح ہوجائے۔
    اقتداکے لئے درج ذیل امورشرط ہیں، جن کے وجودکے بغیراقتداء درست نہیں ہوگی اورجب اقتداء درست نہیں ہوگی توجماعت بھی درست نہیںہوگی:
    ۱-  نیت: فقہاء کااس بات پراتفاق ہے کہ اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام کے اقتداء کی نیت کرناشرط ہے، اورنیت دل کے ارادہ کانام ہے؛ البتہ زبان سے اس کی ادائے گی احناف وشوافع کے نزدیک مستحب ہے۔
    ۲-  امام کے آگے نہ رہنا: جمہورفقہاء (حنفیہ شافعیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ مقتدی کھڑے ہونے میں امام سے آگے نہ رہے؛ کیوں کہ حدیث ہے: إنماجعل الإمام لیؤتم بہ۔(بخاری، حدیث نمبر:۷۰۱)’’امام اس لئے بنایاجاتاہے؛ تاکہ اس کی اقتداء کی جاے‘‘،اورمقتدی کے آگے ہونے کی صورت میں ایسانہیں ہوگا۔
    ۳-  مقتدی امام کے مقابلہ میں قوی الحال نہ ہو: جمہورفقہاء (حنفیہ، مالکیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ مقتدی امام کے مقابلہ میں قوی الحال نہ ہو؛ چنانچہ ان پڑھ کے پیچھے پڑھے لکھے کی اقتداء درست نہیں ہوگی۔
    ۴-  امام ومقتدی کی نماز کاایک ہونا: جمہورفقہاء(حنفیہ، مالکیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام ومقتدی کی نمازکاایک ہونابھی شرط ہے؛ چنانچہ عصرپڑھنے والے کے پیچھے ظہرپڑھنادرست نہیں۔
    ۵-  امام ومقتدی کے مابین فاصلہ نہ ہونا: تمام فقہاء کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام ومقتدی کے مابین زیادہ فاصلہ کانہ ہونابھی شرط ہے؛ البتہ فاصلہ کی تعیین میں اختلاف ہے، مثلاً: دوصف یاایک ایسی نہر، جس میں کشتی آتی جاتی ہو۔
    ۶-  اتحاد مکان: اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ امام ومقتدی ایک ہی جگہ پرہوں کہ اقتداء کامقصد ایک جگہ لوگوں کاجمع ہوناہے۔
    ۷-  امام ومقتدی کے درمیان عورتوں کانہ ہونا: اقتداء کے درست ہونے کے لئے جمہورکے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ امام اورمردوں کی صف کے بیچ میں عورتیں نہ ہوں، ورنہ نماز مکروہ ہوگی، نیزاگرعورتوں کی مکمل صف کے پیچھے مرد وں کی صف لگ جائے توبھی نماز درست ہوجائے گی۔
    ۸-  امام کی حرکات وسکنات سے واقف ہونا: اقتداء کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ سن کریادیکھ کرامام کی حرکات وسکنات کاعلم ہوتارہے، اگرایسانہ ہوتوپھراقتداء درست نہیں ہوگی۔
    ۹-  امام کی نماز کاصحیح ہونا: اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ امام کی نمازصحیح ہو، اگراس کی نماز درست نہ ہوگی تومقتدی کی نماز بھی درست نہیں ہوگی(دیکھئے: الموسوعۃ الفقیۃ الکویتیۃ، لفظ اقتداء،جلد۶)۔
    آن لائن نماز کی صورت میں مندرجہ بالامیں سے کئی شرطیں نہیں پائی جائیں گی، مثلاً: مقتدی کاامام کے آگے نہ رہنے، امام ومقتدی کے مابین فاصلہ نہ ہونے، امام ومقتدی کے مابین عورتوں کے نہ ہونے اوراتحادمکان  وغیرہ کی شرطیں بالکل بھی نہیں پائی جائیں گی، ان کے علاوہ قبلہ کامسئلہ بھی رہے گا، لائٹ کٹ جانے یا نیٹ پیک ختم ہوجانے کی وجہ سے سلسلہ کامنقطع ہوجانابھی ہے، پھرایسی صورت میں آن لائن نماز پڑھنے والے کیاکریں گے؟ اپنی نمازیںوہ کیسے پوری کریں گے؟
    ان مسائل کے تعلق سے جب ’’خودساختہ مجتہد‘‘ صاحب سے دریافت کیاگیاتوہ آئیں بائیں شائیں کرکے الٹی سیدھی مثالیں پیش کرنے لگے، اس سلسلہ میں مجتہد صاحب نے ایک جملہ پرزوریا کہ’’جب کسی عبادت کواس کی مثالی صورت میں انجام دیناممکن نہ رہے توآپ عبادت کوختم نہ کریں؛ بل کہ کسی دوسری صورت میں چلے جائیں‘‘؛ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دوسری صورت کون بنائے گا؟ کیاہرشخص اپنے اپنے لحاظ سے یہ دوسری صورت کو بناسکتاہے؟ پھرتوعبادت مذاق بن کروہ جائے گی، یا اس دوسری صورت کو شارع بنائے گا؟ تواب اس کاسوال نہیں کہ دین کی تکمیل ہوچکی ہے، نیزوحی کاسلسلہ بھی منقطع ہوچکاہے۔
    پھرمجتہد صاحب نے تیمم کی مثال پیش کی اوربتایاکہ اس پرقیاس کرتے ہوئے نبی ﷺ نے جرابوں پرمسح کی اجازت دی، نمازقصر کی مثال پیش کی کہ آپاتھاپی، افراتفری اورخطرہ کی صورت پیداہوجائے تونماز میں قصرکرلیں، مجتہدصاحب کی مثال بے سرپیرکی مثال ہے ؛ کیوں کہ قصرکاتعلق سفرسے ہے، خطرہ اورافراتفری سے بالکل بھی نہیں، مجتہد صاحب نے صلاۃ الخوف کی مثال بھی پیش کی ہے کہ غیرمعمولی حالت میں اس کی شکل کیسی بنادی؟ پھراسی پربس نہیں کیا’’فرجالاورکبانا‘‘کہایعنی سواری پربھی نمازپڑھ سکتے ہیں،مجتہد صاحب سے سوال ہے کہ یہ شکل شارع نے بنائی ہے توکیاآپ درپردہ اپنے آپ کوشارع کے روپ میں پیش کررہے ہیں؟
    قبلہ کے سلسلہ میں سوال کاجواب دیتے ہوئے سواری پرنماز کی مثال پیش کی کہ رسالت مآب ﷺ ایک مرتبہ قبلہ کی طرف ہوکرنماز شروع کرلیتے تھے، پھرسواری جدھرجائے ، قبلہ کے رخ پررہے یا نہ رہے، فرق نہیں پڑتاتھا، رمضان کی مثال بھی پیش کی یہ اگررمضان میں روزہ نہیں رکھ سکتے تودوسرے ایام میں پورے کریں، مجتہدصاحب سوال کرتے ہیں کہ رمضان کی برکتیں کہاں گئیں؟ لیکن پھربھی اس کی اجازت دی گئی ہے، اوراگراس کے بعدبھی روزہ رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں توفدیہ کی اجازت دی گئی ہے؛ لیکن سوال یہاں پریہی ہے کہ یہ تمام اجازتیں شارع کی طرف سے ہیں، کسی بندہ کی طرف سے نہیں ہیں۔
    نیزیہ سب مثالیں ایک بھی ایسی نہیں، جن کوآن لائن نمازپرفٹ کیاجاسکے، لہٰذاان کونظیربناکرآن لائن نماز کوثابت کرنادرست نہیں اوراسے اصول کی اصطلاح میں’’قیاس مع الفارق‘‘کہاجاتاہے، یہ بات یادرکھنے کی ہے دین میں رائے یعنی انسان جس کواچھاسمجھے، اس کاعمل دخل نہیں ہوتا؛ بل کہ اس کے لئے شرعی دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، اس سلسلہ میں حضرت علی ؓ کاقول یادرکھنے کی ہے، انھوں نے فرمایا: لوکان الدین بالرأی لکان أسفل الخف أولیٰ بالمسح من أعلاہ، وقدرأیت رسول اللہ ﷺ یمسح علی ظاہرخفیہ۔ (ابوداو، حدیث نمبر:۱۶۲) ’’اگردین کاتعلق رائے سے ہوتاتوخف کے نچلے حصہ کامسح اس کے اوپری حصہ کے مسح سے اولیٰ ہوتا، اورمیں نے رسول اللہ ﷺ کوخف کے اوپری حصہ پرمسح کرتے ہوئے دیکھاہے‘‘، یعنی انسان اول وہلہ میں یہ سمجھتاہے کہ خف کے نچلے حصہ میں مسح ہوناچاہئے؛ اس لئے کہ نچلاحصہ زمین کے قریب ہوتاہے اورمٹی وغیرہ چیزیں اس میں لگ جاتی ہیں تو نچلے حصہ کامسح کرنابہترہوناچاہئے؛ لیکن جب غوروفکرکی نگاہ ڈالتاہے تومعلوم ہوجاتاہے اور سمجھ جاتاہے کہ اوپری حصہ کامسح ہی ٹھیک ہے؛ کیوں کہ نچلے حصہ کے مسح کرنے سے تطہیرکے بجائے تلویث لازم آئے گی(شرح بلوغ المرام للعثیمین: ۱؍۸۶)، اسی طرح جنگ صفین کے موقع سے سہل بن حنیف نے فرمایا: یاأیہاالناس! اتہموا رأیکم علی دینکم۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۷۸)’’دین کے تعلق سے اپنی رائے کو متہم کرو‘‘، اس کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: دین کے معاملہ میںصرف رائے پرعمل مت کرو، جس کی دین میں کوئی اصل اوربنیادنہ ہو‘‘(فتح الباری: ۱۳؍۳۰۲)۔
    آن لائن نمازکی جوبات کی جارہی ہے اوراس کے لئے جن مثالوں کونظیربنایاجارہاہے، وہ مثالیں بالکل ان فٹ ہیں، اورایسی رائے پیش کرناہے، جس کی کوئی اصل اوربنیادہی نہیں ہے، پھراقتداء کی شرطیں مفقودہورہی ہیں، نیز اس رائے کی ضرورت بھی نہیں ہے؛ کیوں کہ ایسے وقت میں شریعت نے ترک جماعت کی اجازت  دے رکھی ہے؛ چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ حضورﷺکاارشادنقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: من سمع النداء فلم یأتہ، فلاصلاۃ لہ إلامن عذر۔(صحیح ابن ماجۃ للألبانی، حدیث نمبر: ۶۴۵) ’’جس نے اذان سنی اورنہیں آیا(جماعت کے لئے) تواس کی (گویا)نماز ہی نہیں، الایہ کہ عذرہو‘‘، توجب جماعت کی رخصت شریعت کی طرف سے دی ہوئی ہے یا چارپانچ آدمی مل کرنماز پڑھ لے رہے ہیں توپھرایک بے اصل بات کوپیش کرکے انتشارپیداکرناکسی طوردرست نہیں۔

Wednesday, 15 April 2020

لوک ڈاؤن ٹو: مرے کو ماریں شاہ مدار

لاک ڈاؤن ٹو: مرے کوماریں شاہ مدار


محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


کل 14؍اپریل بروز منگل کوہمارے پی ایم نریندرمودی جی نے ایک بارپھرقوم سے خطاب کیااورکوروناکی اس مہاماری میں سابقہ دوخطابوں کے مقابلہ میں کچھ بہتراور سمتھنگ ازبیٹر دین نتھنگ کے لحاظ سے قدرے غنیمت کیا، انھوں نے بتایاکہ کوروناکے بڑھتے خدشات کے تحت لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی ہے، جو3؍مئی تک جاری رہے گا، انھوں نے خاص طورپر7؍ امورپرعمل کرنے کی بات کہی ہے، جن کو’’سپت پدی فارمولہ‘‘کہاگیاہے، انھوں نے زوردیاکہ کوروناسے جنگ جیتنے کے لئے ان سات امورپرسختی کے ساتھ عمل کریں،وہ سات اموریہ ہیں:(۱) اپنے گھرکے بزرگوں اورجنھیں پرانی بیماریاں ہیں، ان کاخاص خیال رکھاجائے۔(۲)سوشل ڈسٹینسنگ کی لکشمن ریکھاپرپوری عمل کیاجائے اورفیس ماسک کاہرحال میں استعمال کریں۔(۳)بیماری کے خلاف مدافعتی مزاحمت کوبڑھانے کے لئے وزارت آیوش کی جانب سے دئے گئے ہدایات پرعمل کیاجائے اورگرم پانی کااستعمال کیاجائے۔(۴) اس بیماری کے پھیلاؤسے بچنے کے لئے ’’آروگیہ سیتو‘‘موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ (۵) جتنا ہوسکے، غریب کنبوں کی ضرورت کاخیال رکھیں۔(۶)کمپنیوں کے مالکین سے کہاگیاکہ اپنے یہاں کام کرنے والوں کونوکریوں سے نہ نکالیں اوران کاخیال رکھیں۔(۷)کورونا سے لڑنے میں مدد گارڈاکٹروں، نرسوں، صفائی کرمیوں اورپولیس اہل کاروں کااحترام کریں۔
ان امورکودیکھنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پہلے دوخطابات کے مقابلہ میں اب کی بارکچھ تیاری کرکے پی ایم صاحب آئے تھے اوریہ تیاری سابقہ دوتیاریوں کے مقابلہ میں قدرے غنیمت تھی، ورنہ سا بق میں توتالی، تھالی اوردیاکے لولی پاپ سے خوش کرگئے تھے اورکوئی کام کی بات نہیں ہوسکی تھی، اسی وقت یہ ذہن میں آیاتھاکہ کم از کم گرم پانی کے استعمال کی ہی بات کہہ دیتے توکچھ اصول ہوجاتا؛ لیکن منگل کے خطاب میں بھی صرف عوام سے مطالبہ تھا، حکومتی سطح پرکیاپیش رفت ہوئی، اس کاتذکرہ بس اتناسا تھا کہ ہم نے ایک لاکھ بیڈ تیارکرلئے ہیں؛ لیکن ملک کے باشندوں کی جوبنیادی ضرورتیں ہیں، اس سلسلہ میں کیاپیش رفت ہورہی ہے اورہوئی ہے؟ اس کاذکربالکل ندارد۔
جس وقت پہلے مرحلہ میں لاک ڈاؤن ہواتھا، اس کے چندہی دنوں کے بعددہلی کی سڑکوں میں ایک بھیڑاترآئی تھی، جوصرف اس لئے اتری تھی کہ ان کے پاس کھانے پینے کی سہولت باقی نہیں رہی تھی، بھوک سے تڑپ رہے تھے، جب کہ کچھ لوگ بیچ راستوں میں پھنس گئے تھے، وہ اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے اوربہت سوں نے سیکڑوں کیلومیٹرکافاصلہ پیادہ پاطے کیاتھا، کئی لوگوں نے بھوک کی شدت برداشت نہ کرسکنے کے نتیجہ میں پورے پریوارکے ساتھ مل کرخود کشی کرلی تھی، کئی خبریں ایسی آئی تھیں، جہاں ماں نے خوداپنے ہاتھوں سے معصوم بچوں کی جان لے لی اوریہ سب بھوک کے نتیجہ میں کیاتھا۔
ہندوستان ایک ایساملک ہے، جہاں کی اکثریت مزدوری کے ذریعہ سے اپناپیٹ پالتی ہے، آپ گاؤں گاؤں جاکرجائزہ لیں گے توسرکاری اورپرائیویٹ نوکریاں آٹے میں نمک کے برابرملیں گی، یومیہ مزدوری کرکے پورے خاندان کاپیٹ پالنے والوں کاتعدادہرگاؤں میں زیادہ مل جائے گی، کچھ لوگ پھیری والے اورکچھ لوگ ٹھیلے والے مل جائیں گے اورپی ایم صاحب نے جب سے ان کوکاروبارمیں شمارکیاہے، اس وقت سے اس میں کچھ اوربھی اضافہ ہوگیاہے، یہ بھی روزانہ کماکرکھانے والے ہی لوگ ہیں،ملک بندی سے پہلے یہ بات ضرورسوچنے کی تھی کہ ایسے لوگوں کے مسائل کاحل کیاہوگا؟ ان کوپیٹ بھرنے کے لئے کھاناکہاں سے ملے گا؟ 
یقیناً کتھنی اورکرنی میں بڑافرق ہوتاہے اورہم تودوہزارچودہ سے ہی دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ پی ایم صاحب نے عوام کے لئے جتنی باتیں کہی تھیں، ان میں سے شایدہی کوئی پوری ہوئی، بارباراس پرسوال اٹھائے گئے؛ لیکن کنی کاٹنے کے اتنے ماہرکہ سامنے والابس کھڑامنھ دیکھتارہ جاتاہے، مفت راشن اورکھانے کے انتظام کے تعلق سے یقینا اعلان کیاگیاتھا؛ لیکن حکومتی سطح سے کہیں زیادہ عوام نے اپنی جانب سے اس کام کوکیا، اوراس میں بھی وہ لوگ زیادہ پیش پیش رہے، جنھیں گولی مارنے کی بات کی جاتی رہی ہے، جن کو کورونابم بم بتایاجاتارہاہے، یقینا اس سے ان کے اندرکے خدمت کاجذبہ ہمیں معلوم ہوتاہے، جسے سلام اورسیلوٹ کیاجاناچاہئے؛ لیکن افسوس یہاں کی میڈیاپر! کہ خیرکے کاموں کونہیں  دکھائیں گے، انھیں توبس شرہی نظرآتاہے اوریہ توشایدصحبت کااثرہوتاہے، اسی لئے کہاجاتاہے: صحبت صالح تراصالح کند- صحبت طالع تراطالع کند۔
کل کے خطاب میں بھی پی ایم صاحب نے سارے کام کامطالبہ عوام ہی سے کیا، آپ کویہ کرناہے، آپ کووہ کرناہے اوربس ، انھوں نے اپنے اوپرلازم ذمہ داری کاذرابھی ذکرنہیں کیا، ہم حکومت کاساتھ دیتے ہیں، ہم اس کاتعاون کرتے ہیں، اس کوٹیکس اداکرتے ہیں، اوراس طرح ہم ہمیشہ ملک کاخزانہ بھرنے کاکام کرتے ہیں، دوہزارچودہ میں جب ہم نے مودی جی کوحکومت سونپی تھی، اس وقت ملک کاجی ڈی پی کیاتھی اورآج آپ کادوسرادورہے، اس میں اس ملک کی جی ڈی پی کہاں پہنچ گئی ہے؟ لوگ آگے کی جانب ترقی کرتے ہیں اورہم ترقی معکوس پرگامزن ہیں، پھرہمارانعرہ ہے کہ ہم ڈیجیٹل انڈیاکی جانب قدم بڑھارہے ہیں، یقیناً یہ ایک دھوکہ اورریگستان کاسراب ہے، جولوگوں کودکھایاجارہاہے۔
لاک ڈاؤن ٹوکے اعلان کے ساتھ ہی ممبئی میں ایک بھیڑنکل آئی، گجرات وسورت وغیرہ کے علاوہ کئی جگہوں کی بھی یہی خبرہے، یہ بھیڑکیاچاہتی ہے؟ اس کوسننے کے لئے کوئی بھی تیارنہیں، یہ وہ بھیڑہے، جس کے پاس کام نہیں، جس کے پاس گھر، نہیں، جس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں، ان چیزوں سے مجبورہوکر یہ بھیڑباہرنکل آئی ، اس کابس اتناسامطالبہ ہے کہ آپ جب ہمیں کھلانہیں سکتے، آپ نے کام کاج ٹھپ کررکھاہے، رہائش کی دشواری دوورنہیں کرپارہے ہیںتوبس اتنی سی مہربانی کیجئے کہ ہمیں اپنے گھرلوٹ جانے دیجئے، ہم وہاں کچھ نہ کچھ راستہ نکال لیں گے، ہمیںبھوکوںمت مرنے دیجئے، ہمیں خودکشی پرمت مجبورکیجئے، ہمیں جینے دیجئے، ہمیں بھی جینے کاحق ہے، ہم بھی انسان ہیں، جینا چاہتے ہیں، جس کے جواب میں انھیں لاٹھیاں ملتی ہیں، اب بھلاآپ ہی بتایئے کہ کیالاٹھی سے پیٹ بھرجائے گا؟وہ توپہلے سے ہی بھوک وپیاس، دووری ومہجوری اورخستہ حالی کی مارسے مرے ہوئے لوگ ہیں اورانھیں کوپھرلاٹھیوں سے ماراجارہاہے، سچ کہاہے: مرے کوماریں شاہ مدار۔
حکومت کی طرف سے بارباریہ کہاجارہاہے کہ جنگ آپ کوجیتنی ہے، اس سے ہمیں سمجھ لیناچاہئے مرادہم ہی ہیں، حکومت نہیں ہے، اسی لئے وہ کان میں تیل ڈال کرسورہی ہے، بس کبھی کبھی طفل تسلی دے کرہمیں بہلانے کی کوشش کرہی ہے، حکومت نے آج تک کتنے لوگوںکے ٹیسٹ کروائے؟ خبروں کے مطابق فی ملین آبادی میں صرف 149؍ لوگوں کے ٹیسٹ ہورہے ہیں، ظاہرہے کہ آٹے میں نمک کی مثال ہوئی،کتنے کورنٹین کئے ہوئے ایسے ہیں، جن کوپانچ پانچ اورسات سات دن سے صرف بندکرکے رکھ دیاگیاہے، چیک اپ تک نہیں ہوا، کتنے ہارٹ اوردمہ کے مریضوں کوکوروناکے شبہ میں اٹھالیاگیااورانھیں ان کی پرانی بیماری کی دوابھی نہیں دی جارہی ہے، کتنے لوگوں کے رپورٹ ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجودبھی نہیں ملے، اورپوچھے جانے پرانھیں ٹال دیاجاتاہے،آج بھی ڈاکٹرس اورنرسیں اپنی سہولیات کے لئے مانگ کرتے نظرآرہے ہیں، انھیں سہولیات کیوں مہیانہیں کرائے جارہے ہیں؟ آج بھی کتنے گھراشیائے خوردنی کے محتاج ہیںکیاان کے گھرتک اشیائے خوردنی پہنچے؟ آج بھی میڈیاکے ذریعہ یہی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے اس میں اضافہ ہورہاہے اوران کے ساتھ سلوک بھی ایساکیاجارہاہے، جیسے حقیقی مجرم ہوں یہ کورونالانے کے، حکومت دراصل مکمل طورناکام ہے ، اس ناکامی کوجنتاکے سرمنڈھناچاہتی ہے، اسی لئے صرف اورصرف لاک ڈاؤن سے کام چلارہی ہے۔
لاک ڈاؤن کے بعدجب ہلچل شروع ہوگی، اس وقت اوربھیانک منظرہوگا، نفسانفسی کاعالم ہوگا، لوگوں کے کام جھوٹ چکے ہوں گے، کام کرانے والوں کی جیبیں خالی ہوچکی ہوں گی، نقصان کابھگتان عوام ہی سے کیاجائے گا، حکومت اورلیڈران کوایک پیسے کانقصان نہیں ہوگا، حکومتی اہل کاراسی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفرکرتے نظرآئیں گے، جس طرح پہلے کیاکرتے تھے، بس عوام کی تعدادکم ہونی شروع جائے گی؛ کیوں کہ کچھ توبھوک کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے جائیں گے، کتنوں کوبھوک چوری چکاری پر مجبورکرے گی اوروہ اس کی خاطرجان لینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اورکتنے مجبوریوں سے تنگ آکردرختوں اورپنکھوں میں جھولتے نظرآئیں گے۔
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888

Monday, 13 April 2020

پولیس پرحملہ: کہیں رد عمل تو نہیں؟

پولیس پرحملہ: کہیں ردعمل تونہیں؟


محمدجمیل اخترجلیلی ندوی                                                                          

جب سے ملک بندی ہوئی ہے، آئے دن کچھ نہ کچھ انہونی سنتے چلے آرہے ہیں، گویایہ انہونیاں منتظرتھیں لوک ڈاؤن کی، کیسے ایسے کام لوک ڈاؤن کے دوران ہوئے؟ جوبالکل بھی نہیں ہونے چاہئے تھے اوریہ کہنے میں کوئی مضایقہ نہیں کہ اگریہ انہونیاں نہ ہوتیں تولوک ڈاؤن کومکمل طورپرکامیاب سمجھاجاتا؛ لیکن ان انہونیوں نے اس لوک ڈاؤن کوسوفیصد کامیابی سے ہم کنارنہیں ہونے دیا؛ لیکن سوال تویہی ہے کہ ان انہونیوں کی وجہ کیاہے؟ جواب ڈھونڈھنے پرایک ہی آئے گا اوروہ ہے منصوبہ اورپلاننگ کانہ ہونا، میں سمجھتاہوں کہ آپ بھی اس جواب سے متفق ہوں گے۔
لوک ڈاؤن یاملک بندی سوشل ڈسٹینسنگ (سماجی فاصلہ)کے لئے کی گئی تھی؛ لیکن چوں کہ یہ بغیرعوامی اطلاع یابغیرکسی منصوبہ کے تھی؛ اس لئے دوچاردن کے بعدہی ملک کی راجدھانی دہلی میں ایک بھیڑامڈ آئی، یہ انہونی ہی تھی، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا؛ لیکن ہوتااس وقت نہیں، جب کہ یہ پلاننگ کے ساتھ ہوتی، لوک ڈاؤن کے دوران ایودھیا میں ’’کارہائے نمایاں‘‘انجام دینے کے لئے لاؤ لشکرکے ساتھ جایاگیا، یہ بھی ایک انہونی تھی، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران مدھیہ پردیش کی ’’تقریب حلف برداری‘‘عمل میں آئی، یہ بھی ایک انہونی تھی، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران ’’ہندومسلم کارڈ‘‘کھیلاگیا، یہ بھی انہونی تھی، جونہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران مسجدپرحملہ اورآتش زنی کامعاملہ سامنے آیا، یہ بھی انہونی تھی، جونہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران ایک مسلم کی لنچنگ ہوئی ، یہ بھی انہونی تھی، جونہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران تالی تھالی کاجلوس نکلا، یہ بھی انہونی ہی تھی، جونہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران دیاکے ساتھ آتش بازی ہوئی، جس کے نتیجہ میں کئی گھرخاکستربھی ہوگئے، یہ بھی ایک انہونی تھی ، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران کتنے لوگوں نے بھوک کی شدت برداشت نہ کرسکنے کی بناپر اپنے گلوں میںپھ انسی کاپھندالگالیا، یہ بھی انہونی تھی، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا، لوک ڈاؤن کے دوران نفرت کی وہ آگ بھڑکائی گئی، جس کی وجہ سے ڈیلی وری کے لئے بھی اسپتال میں ایڈمیشن نہیں لیاگیا، یہ بھی انہونی تھی، جونہیں ہوناچاہئے تھا،لوک ڈاؤن کے دوارن چیک اپ کے لئے گئے ڈاکٹروں پرحملے بھی ہوئے، یہ بھی انہونی ہی تھی، جسے نہیں ہوناچاہئے تھا، یہ سب وہ انہونیاں ہوئی ہیں، جنھیں بالکل بھی نہیں ہونی چاہئے تھیں اوراگریہ انہونیاں نہ ہوئی ہوتیں تواس لوک ڈاؤن کومکمل طورپرکامیاب تصورکیاجاتا۔
یہ انہونیاں ہوئیں کیسے؟ جب کہ ہرطرف پت جھڑکے پتوں کی طرح پولیس بکھری ہوئی ہے، بعض انہونیاں توانتظامیہ کی طرف سے کی گئیں، جب کہ بعض عوام کی طرف سے، اوریہ کہنے میں حرج نہیں کہ عوام کی انہونیاں انتظامیہ کی انہونیوں کی رہین منت ہیں، اگرباپ شراب پئے اوربیٹے کومنع کرے توکیابیٹامان جائے گا؟ بڑابھائی سگریٹ نوشی کاعادی ہو اورچھوٹے بھائی کواس سے روکے ، کیااسے روکنے کاحق ہوگا؟ اورکیااس کے روکنے سے چھوٹابھائی رک جائے گا؟ ایودھیااورتقریب حلف برداری کی انہونیاں انتظامیہ کی طرف سے ہوئیں، کیاایسے وقت میں ان انہونیوں کوانجام دیناضروری تھا؟ اوراگرضروری بھی تھا توبھیڑاکٹھاکرنے کی کیاضرورت تھی؟ ملک میں کوروناکی مہاماری شروع ہوچکی تھی ، انتظامیہ کی طرف سے سوشل ڈسٹینسنگ کی بات کی جارہی تھی اورانتظامیہ خود اس میں ملوث تھی ، ظاہرہے کہ اس کااثرکتناہوتا؟
عوام کی طرف سے جوانہونیاں ہوئیں، ان میں سے بعض تومجبوریوں کی وجہ سے اورانتظامیہ ہی کی دین تھیں ، جیسے دہلی کی سڑکوں پرلوگوں کااترنا، یاسبزی منڈیوں کی بھیڑ؛ لیکن بعض شرارت پسندوں کی وجہ سے وجودمیں آئیں، جیسے لنچنگ اورمسجدمیں آتش زنی؛ لیکن یہاں بھی سوال انتظامیہ پراٹھتاہے کہ ملک میں لوک ڈاؤن ہے، پھر اتنے شرارت پسندایک ساتھ جمع ہوئے کیسے؟پھرہرگلی اورہرکوچہ میں وردی کی گردی ہے، اس کے باوجودلنچنگ ہوئی کیسے؟ مسجد میں آتش زنی ہوئی کیسے؟ یہاں تولوگ مارے گھبراہٹ کے باہرنکلنابھول گئے، ضروریات زندگی میں کمی کربیٹھے، ایسی صورت میں شرپسندعناصرکے حوصلے کیوںکربلندہیں؟ یہ سوال اٹھنااوراٹھاناضروری ہے۔
ان انہونیوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی طرف سے بھی ظلم کے ڈنڈے برسائے گئے، ہاتھ پیرتوڑے گئے، سرپھوڑے گئے، اوریہ سب سوشل میڈیاپراس کثرت سے وائرل ہوئےکہ ہرایک کی زبان سے ’’اُف اللہ !‘‘بے ساختہ نکل پڑا، اورتواورعورتوں کوبھی نہیں چھوڑاگیا، کئی ویڈیوز ایسے نظرآئے ، جن میں پولیس والے عورتوں پرلاٹھیاں برساتے نظرآئے، ملک بندی تواچانک ہوئی، بہت سارے لوگوں نے اپنے گھرکے لئے راشن تک نہیں لئے تھے، وہ توراشن کے لئے جاتے ہی، سبزیوں کی ضروررت تھی، اس کے لئے گھر سے نکلناتوپڑتاہی، دواکی ضرورت تھی ، گھرسے نکلے بغیرکیسے لاناممکن تھا؛ لیکن ان لوگوں پربھی ڈنڈوں کی بارش ہوئی۔
پولیس والے واقعی قابل قدرہیں، وہ جوکچھ بھی کررہے تھے یا اب بھی کررہے ہیں، ہماری حفاظت کے پیش نظرہی کررہے تھے اورکررہے ہیں؛ لیکن جس عمل سے حفاظت کے بجائے زحمت ہوجائے، ظاہرہے کہ اسے درست نہیں کہاجاسکتا، بعض علاقوں کے بارے میں سناکہ وہاں گھرگھرباہرجانے کے لئے پاس دیاگیا، یہ بہت اچھاقدم تھا اوراس کی وجہ سے لوگ بلاضرورت گھروں سے باہرنکلنے سے بچ گئے؛ کیوں کہ بلاضرورت اکثرلاابالی نوجوان ہی نکلتے ہیں، اورگھرکاپاس گھرکے مکھیاکے پاس ہوتاہے، اس سے اجازت کے بعدہی وہ اس پاس کولے کرنکل سکتاہے؛ لیکن جن علاقوں میں ایسی سہولت نہیں تھی، وہاں کام والے اوربے کام والے کے درمیان شناخت تودشوارہے، پھرکہاں سے اسے درست کہاجاسکتاہے کہ ہرایک پرایک ہی لاٹھی برسائی جائے؟
کل جوانہونی ہوئی ، وہ شدیدقابل مذمت ہے، یہ انہونی پٹیالہ شہرمیں ہوئی، جہاں سکھوں نے پولیس والوں پرحملہ کیا، سکھوں کے اس گروپ کاتعلق نہنگ سے بتایا گیا ہے، جوحملہ کے فوراًبعدگردوارہ کھچڑی صاحب فرارہوگئے تھے، ان کی گرفتاری کے وقت گولی باری بھی ہوئی، گردوارہ سے ۳؍پستول، پٹرول بم، تلواریںاورافیم سے بھرے تھیلے بھی برآمدہوئے، ان نہنگ سکھوں کے حملے میں ایک اے ایس آئی کاہاتھ کٹ کرجداہوگیا، جب کہ کئی زخمی ہوگئے، اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے ، وہ کم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جراء ت انہیں کہاںسے حاصل ہوئی؟ ۲۵؍کیلومیٹرکاسفروہ ہتھیارکے ساتھ طے کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کازمانہ ہے اورکہیں پوچھ گچھ تک نہیں ہوتی، کیوں؟ کہیں یہ ان اعمال کاردعمل تونہیں، جوویڈیوز کے ذریعہ سوشل میڈیاز میں پولیس کی طرف سے ظلم کرتے ہوئے دکھایاگیا؟ کیوں کہ ظلم برداشت کرنے کی بھی ایک حدہوتی ہے اورپھربعض لوگوں میں برداشت کی حدبھی نہیں ہوتی ہے، شایدیہ انھیں میں سے ہوں، جوبے برداشت ہوتے ہیں۔
تاہم اس معاملہ میں میڈیاکاکرداروہ نہیں رہا، جومسلمانوں کے خلاف ہوتاہے، جیساکہ آپ نے دہلی فسادکے موقع سے طاہرکے سلسلہ میںدیکھاہوگا، نہ تواس حملہ کی نسبت پوری سکھ برادری کی طرف کی گئی اوراتنی ساری چیزیںگردوارہ سے دستیاب ہونے کے باوجوددہشت گردگروپ سے جوڑنے کی بھی کوشش نہیں کی گئی، ہونابھی نہیں چاہئے؛ کیوں کہ بعض کی حرکتوں کوپوری قوم سے جوڑاجاناکسی بھی اعتبارسے درست نہیں، جہاں اچھے ہوتے ہیں، وہیںبرے بھی ہوتے ہیں؛ لیکن ان بروں کی وجہ سے اچھوں کوبھی براکہاجائے، ہرگزہرگزدرست نہیں، بس چھوٹاساسوال میڈیاسے یہ ہے کہ یہی رویہ مسلمانوں کے ساتھ کیوں نہیں اپنایاجاتاہے؟ ان کے ساتھ بھیدبھاؤ کیوں روارکھاجاتاہے؟
اس واقعہ سے ہماری قوم کوبھی کچھ سوچنے کی ضرورت ہے، ایک تویہی کہ وہ تعدادمیں کم ہونے کے باوجوداتنے شان سے کیسے جی رہے ہیں؟ دوسرے یہ کہ میڈیاکے رویہ میں فرق کس وجہ سے ہے؟ کیاہم اس وجہ کونہیں پاسکتے ہیں؟jamiljh04@gmail.com/ Mob:8292017888

Sunday, 12 April 2020

ھر جرم کی سزا معافی نہیں!

آج کے اخبار مشرق کولکاتہ، سالار بنگلور اورسچ کی آواز دہلی میں شائع بندہ کامضمون۔
لنک اخبار مشرق:
http://akhbarmashriq.com/kolkata/pages/pg5.html
لنک سالار بنگلور:
https://www.dailysalar.com/epaper/index.php?page_no=4&date=%272020-04-12%27#
لنک سچ کی آواز:
http://sachkiawaz.com/epaper/view.php?issueid=420&page=6&coords=41,1406,1332,2748&crop=41,1406,1291,1342


  1. ہرجرم کی سزا معافی نہیں!

  1.  محمدجمیل اخترجلیلی ندوی



 غلطی انسان سے ہوتی ہے اورغلطی ہونابری بات بھی نہیں ہے کہ ہم خطاء اورنسیان کے مرکب ہیں؛ لیکن جب کوئی کام منصوبہ بندی کے ساتھ اورپری پلاننگ ہوتواسے غلطی نہیں کہاجاسکتاہے اورجب وہ غلطی ہی نہیں ہے توپھراس پراگرکوئی معافی مانگے تومعافی کیسے درست ہوسکتی ہے؟اگرکوئی شخص پوری پلاننگ کے ساتھ کسی کوقتل کردے، پھرعدالت میں جاکرکہے کہ : جج صاحب! معاف کیجئے گا، میں نے غلطی سے اسے قتل کردیاتوکیامہذب دنیاکاکوئی فرداسے غلطی ماننے کے لئے تیارہوگا؟ ظاہرہے کہ نہیں۔
 اس وقت ہماراملک دوسرے ملکوں کی طرح کورونا(Covid-19)سے جھونجھ رہاہے اورتازہ خبروں کے مطابق چھ ہزارپانچ سوستتر (6577) ایکٹیوہیں، سات سو چوہتر(774)شفایاب ہوچکے ہیں اورمرنے والوں کی تعداددوسوانچاس(249)بتائی جارہی ہے، ملک بندی کے نتیجہ میں جس طرح سوچاگیاتھاکہ معاملات میں کمی آجائے گی؛ لیکن سوچ کے مطابق ویسی کمی نہیں آئی ہے۔
 ہندوستان میں کوروناکا پہلاکیس اس وقت سامنے آیا، جب ووہان سے لوٹی میڈیکل اسٹوڈینٹ کی رپورٹ ۳۰؍جنوری کوآئی، یہ طالبہ کیرالاکی تھی اورووہان میں زیر تعلیم ، یہ ۲۴؍جنوری کوبراہِ کولکاتہ کوچی پہنچی تھی، دہلی میں کوروناکاپہلاکیس روہیت دتتہ(Rohit Dutta)کاسامنے آیا، جو فروری کے لاسٹ میں ویانا سے لوٹے تھے، یہ دراصل ایک چمڑے کے تاجرہیں اوروسط فروری میں اس تعلق سے اٹلی گئے تھے،ان کی خودکی ویڈیومیں اس کااعتراف ہے اوریہ بھی کہ وہ مکمل طورپر شفایاب ہوچکے ہیں، بے بی ڈول سنگرکنیکاکپور۹؍مارچ کولندن سے لوٹی تھی، ۲۰؍مارچ کومعلوم ہواکہ وہ کوروناپوزیٹیوہے، اس سے قبل ۱۳؍مارچ کووہ لکھنؤکے تاج ہوٹل میں ایک پارٹی اٹینڈ کرچکی تھی، خبروں کے مطابق یہ بھی شفایاب ہوچکی ہے، ۲۳؍مارچ کوچنڈی گڑھ کی رہنے والی ایک ۲۳؍ سالہ لڑکی لندن سے لوٹی، چانچ میں وہ ، اس کی ماں اوربھائی وغیرہ بھی کوروناپازیٹیوپائے گئے۔
 مارچ کے دوسرے عشرہ میں مرکزنظام الدین میں اجتماع ہوا، جس میں ملک کے علاوہ بیرون ملک سے بھی ایک معتدبہ تعدادنے شرکت کی تھی، معلوم نہیں بیرون سے آنے والے ان لوگوں کی چانچ ہوئی یانہیں اوراگرجانچ ہوئی توانھیں اس اجتماع میں شرکت کی اجازت کیسے ملی؟جب کہ اس وقت تک کوروناکادائرہ ہندوستان میں بھی پھیل چکاتھا، یہ سب تحقیق طلب امورہیں، ۲۲؍مارچ کوپورے ملک میں جنتاکرفیو لگایاگیا، پھراچانک ۲۱؍دن کے لئے ملک بندی کردی گئی، جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ مختلف جگہوں میں بھی پھنس گئے ، مندر، مسجد، گردوارہ میں پھنسنے کی طرح لوگ مرکزنظام الدین میں بھی پھنس گئے، پھرمارچ کے اخیرمیں یکایک تبلیغی مرکزپردھاوابولاگیااورنیوزچینلوں میں یہ بتایاگیاکہ مرکزنے لوگوں کوچھپاکررکھاتھا، پھراس کثرت سے نیوزپھیلائی گئی کورونااس ملک میں تبلیغیوں کی وجہ سے آیاہے کہ دیہات کے لوگ تک اس سے متأثرہوگئے،اس طرح کی نیوز تسلسل کے ساتھ چلائی گئی؛ حتی کہ بعض منسٹروں کی طرف سے یہ بات آگئی کہ جتنے بھی کوروناکے کیس ہیں، ان میں۳۰؍ فیصد تبلیغیوں کی ہے؛ لیکن انھوں نے جہاں تیس فیصد کاذکرکیا، وہیں سترفیصدکے ذکرکوگول کردیا، گویاایک پلاننگ ہوگئی مسلمانوں کوبدنام کرنے کی، میڈیاکوتوشوشہ کی ضرورت تھی، وہ منسٹرصاحب کے اس جملہ سے حاصل ہوگیا اورپھر وہ اودھم مچایاگیاکہ بس اللہ کی پناہ! پھرسوشل میڈیاکے ذریعہ نفرت کے پجاریوں نے غیرمسلم بھائیوں سے یہ مطالبہ بھی شروع کردیاکہ درگاہ پہ مت جاؤ، مورپنکھ باباکوچندہ مت دو، مومن سے پھل سبزی مت خریدو، مومن درزی سے کپڑے مت سلاؤ، مومن نائی سے بال مت کٹواؤ، مومن کی ٹیکسی یارکشہ میں مت بیٹھو، مومن کے ہوٹل میں مت کھاؤ، اورمومن پلمبر، ایلیکٹیشن اورویلڈرکوریپلیس کرو، اس کانتیجہ یہ ہے لوک ڈاؤن کی اس مہاماری میں، جب کہ پورے ملک کوایک ساتھ کھڑاہوناچاہئے، ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے، ایک دوسرے کی ضرورت کوپوری کرنی چاہئے؛ لیکن ایسے موقع سے جب کوئی مسلم کسی غیرمسلم کے دوکان میں خریداری کے لئے جاتاہے تووہ دورہی سے منع کردیتاہے، آپ تصورکیجئے کہ آپ کے گھرمیں کھانے پینے کاسامان نہ ہو، گاؤں دیہات میں ایک ہی راشن کی دوکان ہو، آپ وہاں خریداری کے لئے جائیں اورلاک ڈاؤن کے اس دورمیں آپ کوسامان دینے سے منع کردیاجائے، آپ کے پاؤں تلے سے زمین نکلے گی یانہیں؟آپ نہانے کے لئے جائیں اورآپ کے غیرمسلم دوست کہیں کہ تم اس گھاٹ میں مت نہاؤ، آپ کوتکلیف ہوگی یانہیں؟ آپ کودواکی سخت ضرورت ہواورآپ میڈیکل جائیں اورآپ کودوادینے سے منع کردیاجائے، آپ کواچھالگے گاکیا؟ ڈیلوری پیشن ہوسپٹل جارہی ہے اوراسے منع کردیاجارہاہے؛ حتی کہ راستہ ہی میں اس کی ڈیلوری ہورہی ہے، کیااس سے زیادہ بھی اذیت ہوسکتی ہے؟ 
 ہماراجرم کیاہے؟ بس یہی کہ بعض مسلمانوں میں کورونا پازیٹیوپایاگیاتوکیاآپ  کہ کوروناکی بیماری میں غیرمسلم بھی شریک ہیں اوپرکے ڈیٹاسے آپ کواندازہ ہواہوگاکہ انھیں کے کیس پہلے دریافت ہوئے، یہ سب میڈیاکی کارستانی ہے، شایدانھیں پتہ نہیں کہ ان لوگوں نے ہمارا ذہنی ٹارچرہی نہیں کیا؛ بل کہ ایک طرح سے ہمارافیزیکلی مرڈرکیاہے، چھتیس گڑھ کی یہ نیوز آئی تھی کہ تبلیغی جماعت کے ایک سوانسٹھ (159)لوگوں کواس شبہ میں گرفتارکیاگیاکہ وہ کوروناکے مریض ہیں؛ لیکن بی بی سی ہندی نیوز کے مطابق ان میں سے ایک سوآٹھ(108)غیرمسلم تھے، پھریہ حکومتی طورپربتائی جارہی تھی، کل ہی کی بات ہے کہ زی نیوز نے اس پرمعافی مان گی کہ اس نے غلط نیوزدکھائی تھی کہ ارونانچل پردیش کے ۱۲؍ تبلیغی کوروناکے مریض ہیں، جب کہ یہ غلط ہے۔
 سوال یہ ہے کہ زی نیوزکا یہ معافی مانگناکافی ہے؟ جن چینلوں نے ہمیں ذہنی اذیت پہنچائی ہے اورہمارافزیکلی مرڈرکیاہے، جس کے نتیجہ میں ہمیں کھانے پینے کے سامان تک نہیں مل پارہے ہیں، اٹھنابیٹھنادشوارہوگیاہے، راستہ چلنامشکل کردیاگیاہے، جہاں بھی جاؤ، بس ایک ہی چرچاہے کہ کورونامسلمانوں سے پھیلاہے، ظاہرہے کہ ایسی صورت میں معافی کافی نہیں، ذہنی اذیت کوتوملکی کیا، بین الاقوامی قانون بھی جرم مانتی ہے اورجرم بھی ایساکہ جس میں ایک مذہب کوبھی نشانہ بنایاگیاہے،یہ بھی تو جرم ہے، اورمیڈیاکایہ جرم نیانہیں ہے، کئی سالوں سے اسی طرح کی الٹی سیدھی حرکتیں کررہی ہے، اگرکسی مسلم کانام کسی کیس میں آجائے تواسے ایسے پیش کیاجاتاہے کہ بس یہ ملک دودھ کی طرح دھلاہے، یہاں پربسنے والے دودھ کے دھلے ہیں،بس یہ مسلمان ہیں نا، یہی جرم کے رسیاہیں، اوریہ ہمیشہ سے مجرم ہی رہے ہیں، ابھی کاتازہ دہلی کے فسادکاواقعہ سب کے سامنے ہے، میڈیامیں بعض مسلمانوں کوہی ماسٹرمائنڈ بنایاگیا؛ حالاںکہ فسادسے پہلے جس طرح کی بیان بازی کی گئی اورایک قوم کے لوگوں کے خلاف بھڑکیاگیا، وہ کسی سے چھپی نہیں ہے، اوراسی کانتیجہ دہلی فسادہے، لیکن وہ سب پاک پوترہیں، ان بیان بازوں کے خلاف ایف آئی آرنہیں درج کی گئی، صرف اسی لئے نا کہ وہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ اورمیڈیانے بھی اس پرکوئی سوال نہیں اٹھایا، کیوں؟ لیکن اسی واقعہ میں جب طاہرمسلمان کانام آیاتو میڈیا حرکت میں آگئی اورپورے فسادکی جڑاسی کوقرار دیدیا، میڈیایہ رویہ ناقابل قبول ہے۔
 غلط خبرپھیلاناتوجرم ہے ہی، اس کے ذریعہ سے نفرت کی دیوارکھڑی کرنااوربڑاجرم ہے، اورمیڈیاکے بعض احباب نے یہ جرم کیاہے، اورچوں کہ یہ جرم چھوٹا نہیں، بہت بڑاہے؛ اس لئے معافی سے کام چلنے والانہیں، جرم کے اعتبارسے سزاہونی چاہئے، جس طرح باربارجھوٹی خبرکے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوںک ومسموم کیاہے، اسی طرح باربار معافی مانگ کرلوگوں کے ذہنوں سے اسے ختم بھی کرناہوگااورپھرآئندہ نہ کرنے کے لئے ان پرجرمانہ بھی ہوناچاہئے؛ بل کہ ان کے اجازت ناموں کومنسوخ بھی ہوناچاہئے اور جونیوزاینکرس اس میں ملوث ہیں، ان کوتوہمیشہ ہمیشہ کے لئے چینلوں سے دورکردیناچاہئے۔jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888

ھمارا اگلا قدم!

ہمارا اگلا قدم!

 محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے سالار بنگلور میں شائع بندہ کامضمون

https://www.dailysalar.com/epaper/index.php?page_no=4&date=%272020-04-08%27#

 کوروناوائرس کی حقیقت کیاہے؟ کیایہ قدرتی وائرس ہے یامصنوعی؟ اگرمصنوعی ہے تواس کے تخلیق کارکون لوگ ہیں؟ اورکس وجہ سے اس کی تخلیق کی گئی ہے؟اوراگر قدرتی ہے توکیااس کے اندراتنی صلاحیت ہے کہ وہ لاکھوں لاکھ لوگوں کی جان لے سکے؟ یااس کے اندرچھیڑچھاڑکرکے یہ صلاحیت پیداکردی گئی ہے؟ یایہ ایساخطرناک تو نہیں؛ لیکن اپنی چودراہٹ برقراررکھنے کے لئے اس کوخطرناک بناکرپیش کیاگیاہے؟ یاایک جینیاتی ہتھیارہے، جس کااستعمال وہ لوگ کررہے ہیں، جوپوری دنیاپراپناکنٹرول چاہتے ہیں؟وغیرہ سوالات پربہت کچھ لکھاگیااورلکھاجارہاہے، مجھے اس سلسلہ میں بات نہیں کرنی ہے، مجھے توبات اس پرکرنی ہے کہ اس کی وجہ سے کئی قسم کے مسائل ہمارے پیداہوچکے ہیں، جن کاحل اگرابھی سے نہیں ڈھونڈ ھ لیاگیاتوآگے ’’اللہ اللہ، خیرصلا‘‘والامعاملہ ہمارے ساتھ ہوسکتاہے۔
 اس کوسمجھنے کے لئے ہمیں’’تبلیغی جماعت اورکورونا‘‘کے مسئلہ کودیکھناہوگاکہ کس طرح میڈیائی مکھیوں نے اپنی بھنبھناہٹ کے ذریعہ ملک کے تمام باشندوں کے کانوں تک یہ بات پھیلادی کہ اس کورونا کے پھیلاؤ کاذریعہ مسلمان ہیں، اب حالت بہ ایں جارسیدکہ شہرتوشہر، دیہی باشندے بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں؛ حتی کہ دوکانوں اوربازاروں سے آگے بڑھ کر ندیوں اورتالابوں کے گھاٹوں تک یہی گونج ہے، پھربڑے بوڑھوں اوربوڑھیوں سے آگے جاکربچوں کے ذہنوں میں بھی یہی بات بٹھادی گئی ہے اوروہ بھی اپنے بچہ ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے ذریعہ سے ہمارے ملک میں کوروناپھیلاہے، یہ واقعی انتہائی خطرناک کھیل کھیلاگیاہے۔
 اس عمل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج تک ملک کی اعلیٰ قیادت کوکوروناکی خطرناکی کااحساس نہیں ہے،  ورنہ ایسے وقت میں، جب کہ پوری دنیااس وائرس کی زدمیں ہے، بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک، جن کواپنے میڈیکل ریسرچ پرنازتھا اورجنھوں نے اس میدان میں نوبل پرائزبھی حاصل کیاہے، وہ بھی اپنے کوبے بس اورمجبورظاہرکررہے ہیں، ایسے وقت میں اس ملک کے اندرہندومسلم کاکارڈنہ کھیلاجاتا، پھرغورکرنے کی بات یہ بھی ہے کہ جس وقت یہ کارڈ کھیلاجارہاتھا، اس وقت ملک کے اس کونے سے لے کراس کونے تک، کیااپنے اورکیاغیر، کیالیفٹ اورکیارائٹ ، کسی کی طرف سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھی، کسی نے بھی یہ نہیں کہاکہ اس مسئلہ کوہندومسلم نہ بنایاجائے، حتی کہ وہ پارٹیاں، جن کوہم سیکولراورمسلمانوں کی ہمدردسمجھتے ہیں، ان کے منھ میں بھی مینڈک گھس گیاتھا، مسلمانوں نے جن پرتکیہ کیاتھا، وہی پتے ہوادینے لگے، الکٹرانک میڈیاسے لے کرپرنٹ میڈیاتک اورتمام سوشل میڈیازکابس ایک ہی موضوع تھا کہ کورونامسلمانوں کے ذریعہ پھیلاہے اوریہ ’’کوروناجہاد‘‘ہے، مسلمان کورونابم ہیں، جب تسلسل کے ساتھ کئی دن اسی پرٹیوٹرٹرینڈ کرایاگیاتوامریکہ نے جراء ت دکھائی اوراس نے اس کوغلط قراردیا، تب ملک کی کئی مایہ ناز ہستیوں نے بھی اپنے منھ کے مینڈک کونکال باہرکیااور جب معاملہ تھم گیاتواب پھراپنابھائی بنانے کے لئے کودپڑے اوربیان بازی شروع کردی کہ مسلمانوں کے ساتھ اس مسئلہ کوجوڑناغلط ہے۔
 اس معاملہ سے ہمیں کئی چیزیں سمجھنے اورعملی طورپرکرنے کی ضرورت ہے:
 ۱-  ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک کانقشہ بالکل بدل چکاہے، اکثریتی طبقہ کے اکثرلوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی ہے یا بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان اس ملک کے لئے نقصان دہ ہیں، اس ملک کے خیرخواہ نہیں ہیں، اس سے سی اے اے کوپوری تقویت ملے گی اورجوغیرمسلم آج تک اس مسئلہ میں ہماراساتھ دے رہے تھے ، وہ بھی دست کش ہوجائیں گے، یہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعددواوردوچارکی طرح واضح ہوجائے گا، سی اے اے کے خلاف عملی طورپرسب سے زیادہ ہماراساتھ سکھ بھائیوں نے دیاتھا، ان کوبرگشتہ کرنے کے لئے پڑوسی مسلم ملک کے گردووارے پرحملہ کرایاگیا، جس سے یقیناً ان کادل ہمارے لئے میلاہوگیاہوگا، اورجن کادل ابھی صاف ہوگا، ان کے دل کومیلاکردیاجائے گا، اس طرح ہم اکیلے پڑجائیں گے پھرنقارخانے میں طوطی کی صداکون سنے گا؟اس لئے ہمیں لاک ڈاؤن کے موقع کافائدہ اٹھاتے ہوئے حکمت عملی طے کرلینی چاہئے کہ اب مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ہمیں کیاکرناہوگا؟ 
 ۲-  سی اے اے کی مخالف تحریک میں سب سے کامیاب اورمؤثرترین تحریک’’شاہین باغ‘‘تحریک تھی، لاک ڈاؤن کے بعدسب سے پہلاواراسی پرکیاگیااور تحریک کی علامتوں کواکھاڑپھینکاگیا، اس پہلے وارسے ہی ہمیں سمجھ لیناچاہئے تھا کہ لاک ڈاؤن کے پس پردہ کیاگل کھلے گا؛ لیکن ہم اتنے بھولے بھالے ہیں کہ کسی بھی معاملہ کوبالکل ہلکاسمجھ لیتے ہیں، یادرکھئے! ہماراذہن کتناہی صاف کیوں نہ ہو، ہمارے حریف کاذہن بالکل بھی صاف نہیں ہے، وہ کوروناکے پس پردہ اپناکام بہت حدتک کرچکاہے اورمسلمانوں کاساتھ دینے والوں کے ذہن کوبھی کمال عیاری سے پھیرچکا ہے، حتی کہ اب اپنے بھی غیرہوگئے ہیں اورشایدوہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم دیش بھگت بن جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے، قرآن میں یہودونصاریٰ کے تعلق سے کہاگیاہے کہ وہ تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے، جب تک کہ تم ان کے دین کونہ مان لو، یہاں بھی بالکل وہی مسئلہ ہے؛ بل کہ اس سے آگے بڑھ کرہے، اگرآپ ان کے دین کوبھی مان لیں گے نا، تب بھی وہ آپ کودیش بھگت نہیں مانیں گے؛ اس لئے ہم بھی اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالیں کہ حریف کے تعلق سے کسی بھی غلط فہمی کے شکارنہیں ہوں گے اوراس سے برادرانہ تعلق رکھتے ہوئے اپناحریف سمجھیں گے۔
 ۳-  یہ با ت بھی یادرکھنے کی ہے کہ یہ دورتیروتفنگ اورہتھیارواسلحہ جات سے کہیں زیادہ میڈیائی جنگ لڑنے کادورہے، اس جنگ میں جیت ہمیشہ اس کی ہوتی ہے، جس کے پاس میڈیاہو، عراق وافغانستان وغیرہ کی جنگوں کے تعلق سے یہی مسئلہ رہاہے، جس کاواضح ثبوت بیس سالوں کے بعدامریکہ -افغانستان معاہدہ ہے؛ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں کوبدل دیاجاتاہے، اب دیکھئے ناکہ کس عیاری کے ساتھ خودمسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کوتبلیغی جماعت کے خلاف اکسادیاگیاہے، جس کااندازہ ان ویڈیوزسے لگاسکتے ہیں، جن میں ایک مسلمان ہی خودتبلیغی جماعت کودہشت گردجماعت اورنہ جانے کیاکیاکہہ رہاہے؛ بل کہ اس پرپابندی کی بھی مانگ کرہاہے اورعجب نہیں کہ لاک ڈاؤن کے بعدایساہوبھی جائے؛ اس لئے ہمارے اہل ثروت اورقائدین کوفوری طورپراس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارااپناایک میڈیاہاؤس ہوناچاہئے، جس کے ذریعہ سے ہم دودھ کودودھ اورپانی کوپانی ہی لوگوں کے سامنے دکھاسکیں، اس سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہ کسی پارٹی کاترجمان نہ ہو؛ بل کہ مکمل طورپرآزادہو۔
 ۴-  آنے والی نسل کوبچانے کی ذمہ داری ہماری ہے اوراس کوبچانے کاسب سے اہم ذریعہ اس وقت تعلیم گاہیں ہیں کہ مکمل طورپربچوں کی ذہن سازی وہیں ہوتی ہے، اکبرالٰہ بادی نے اسی کی طرف’’افسوس کہ فرعون کوکالج کی نہ سوجھی‘‘کے ذریعہ اشارہ کیاہے، آج جب پورے ملک کاجائزہ لیں گے توآٹے میں نمک کے برابرہمارے اسکولس اورکالجزملیں گے، تقریباً بیس کروڑلوگوں کی ضرورت کے لئے یہ بالکل بھی کافی نہیں، ہم ہرسال جلسے جلوس میں کروڑوں روپے صرف کردیتے ہیں، اب ان جلسے جلوس کاوقت ختم ہوگیاہے، ان پرصرف ہونے والے روپیوں کواسکولس اورکالجز بنانے میں لگایئے، ملک کی موجودہ حالات میں اس کام کے لئے میرے خیال سے ان روپیوں کوبھی لگائے جانے کی اجازت ہونی چاہئے، جوسودکے نام سے ہماری بڑی بڑی رقمیں بینکوں میں پڑی ہوئی ہیں، تاہم اس عمل سے پہلے کسی معتبرزمانہ شناس فقیہ سے ضروررابطہ کرلیں، کچھ بھی ہو اس کی طرف توجہ دینا ازحدضروری ہے، تاہم ان پیسوں سے قائم کئے جانے والے ادارے ذاتی پراپرٹی کے طورپرنہ ہوں؛ بل کہ قوم کے نام وقف ہوں،پھراس کاتعلیمی معیار ملک کے اعلی تعلیمی معیارپررکھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
 ۵-  یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمیں معاملات کی پیش بندی کرنی چاہئے اورمعاملہ کی پیش بندی یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دشمن کوروکنے اوراس کے حملہ سے بچنے کی کارگر تدبیر کریں؛ تاکہ ہمیں کم سے کم نقصان اٹھاناپڑے، حضوراکرم ﷺ کو معلوم ہواکہ یہودخیبرکے ساتھ ساتھ غطفان بھی ہیں توغطفانیوں کویہودخیبرکے ساتھ نہ ملنے دینے کی تدبیر اختیار کرتے ہوئے مقام رجیع میں خیمہ زن ہوئے، رجیع خیبروغطفان کے بیچوں بیچ کامقام ہے، جب غطفان کومعلوم ہواکہ ان کے حلیف یہودخیبرپریورش کے لئے اسلامی لشکرنکل چکا ہے تووہ ان کے تعاون کے لئے ہتھیاروں سے سج دھج کرنکلے؛ لیکن آگے بڑھ کرمعلوم ہوا کہ خودان کے اپنے گھرمحفوظ نہیں تووہ راستے ہی سے پلٹ آئے اوراس طرح اسلامی فوج نقصان اٹھانے سے بچ گئی،آج کے دورمیں ہمیں غزوۂ خیبرکے اس واقعہ سے سبق لیناچاہئے اور دشمن سے بچنے کی کارگرتدبیرکر نی چاہئے، آج ہم جس پستی اورجورجفاکے شکارہیں، اس کاایک نتیجہ معاملات کی پیش بندی نہ کرنابھی ہے، اگرہم نے اس کی طرف توجہ دی ہوتی توکوئی وجہ نہیں کہ دشمن ہماری طرف آنکھ اٹھاکربھی دیکھ سکتا، آزادی کے ستربہترسال گزرجانے کے باوجودبھی ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی؛ لیکن توجہ دیناوقت کی ضرورت ہے۔
 ۶-  ہمارے یہاں قیادت کاجنازہ نکل چکاہے، پارٹیاں اورتنظیمیں توبہت ہیں؛ لیکن قیادت مفقود، کل حزب بمالدیھم فرحون(ہرجماعت اپنے آپ میں مگن ہے) والامسئلہ ہے، اس سے اوپراٹھنے کی ضرورت ہے، قیادت کے فقدان کانتیجہ ہے کہ زمینی سطح پرہماری کوئی حیثیت نہیں، یہاں یہ سوال ضرورپیداہوتاہے کہ یہ قیادت کا فقدان ہواکیسے؟ اس کاسیدھاجواب یہ ہے کہ افراط وتفریط کے نتیجہ میں، اعتدال کوچھوڑدینے کے نتیجہ میں، اگرآج بھی ہرفردہرمسئلہ میں اعتدال اورمیانہ روی کادامن پکڑلے تویہ فقدان ختم ہوسکتاہے، پھرہمیں سیاسی اوردینی دونوں طرح کی قیادت کی ضرورت ہے؛ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ معتدل مزاج لوگوں کوہی یہ قیادت سونپی جائے، خواہ اس کاتعلق کسی بھی مشرب سے ہو، اگرہم نے اپنی کھوئی ہوئی قیادت حاصل کرلی توہماری بھی طوطی بول سکتی ہے۔
 مذکورہ باتوں کی طرف اگرتوجہ نہ دی گئی اورہماری حالت وہی رہی اورہم ’’ملاکوہے جوہند میں سجدہ کی اجازت- وہ سمجھتاہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘پرہی عمل پیرارہے توپھریہودی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی شاطرانہ چال سے ہم نہیں بچ سکتے۔
jamiljh04@gmail.com
/ Mob:8292017888

Sunday, 5 April 2020

خشک آنکھیں


 خشک آنکھیں

----------------------

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی   

                                                                                     

اُف…! خدایا…!یہ بھیڑ…! یہ اژدحام…! بدحال بوڑھے…! خستہ حال جوانان…!بلکتے بچے…! سسکتی مائیں…!اشک چھپاتی بہنیں…!سروںپر بوریاں، جیسے حمالی کے کام پرمامورہوں، قطاردرقطاررواں دواں، جیسے ان کے علاقوں میں فسادپھوٹ پڑاہو، حواس باختہ، جیسے ان کے گھروں پرڈرون سے حملہ ہواہو، چچلاتی دھوپ میں بلبلاتے لوگ، بالکل شام وفلسطین اورلیبیاومیانمارکے رفیوجی کی طرح، کھلے آسمان کے نیچے، پیٹ پچکے ہوئے، ہونٹ سوکھے ہوئے، دانہ دانہ کے محتاج، گھونٹ گھونٹ کے ضرورت مند، آج سے پہلے توایسی حالت نہ دیکھی نہ سنی، نہ سوچانہ تصورکیا، پھرکیایہ کوئی خواب ہے؟اگرخواب ہے تواس کی تعبیرکیا؟ اگرخواب نہیں تواس کی حقیقت کیا؟
یہ د راصل ہیولے تھے، جواٹھ اٹھ کربسترکے ٹھیک اوپرچھت کی نچلی سطح پراسکرین کی طرح چلتے پھرتے نظرآرہے تھے، تاریک کمرہ میں یہ اوربھی واضح تھے،کئی بارتوچٹکی لینے کی وجہ سے نکلنے والی منھ کی سسکاری سے بازومیں لیٹی حریم نازکی نیند بھی اچٹ گئی؛ لیکن بتاتے کیا؟ اس لئے آنکھ موندکرسونے کی ایکٹنگ کرنی پڑی، ان ہیولوں کوجھٹلایابھی نہیں جاسکتاتھاکہ آنکھیں کھلی تھیں، یہ وہ ہیولے تھے، جودن بھرسوشل میڈیاز پرگردش کرتے رہے، مختلف عناوین سے ، ان پرچرچے بھی ہوئے، مختلف پہلؤوں سے، یہ تونیوزچینلوں کے لئے نعمت غیرمترقبہ تھی، پھروہ کیسے ان سے آنکھیں چراسکتے تھے؟کچھ چینلوں نے توباقاعدہ ان ہی پرڈیبیٹ کرواڈالے، مختلف پہلؤوں سے ، مختلف سوالات اٹھائے گئے، الزام تراشیاں بھی کی گئیں؛ لیکن …افسوس!…صدافسوس…! جس پہلوکونہیں چھیڑاگیا، وہ ان کے اپنے مسائل تھے، ظاہرہے کہ وہ دوسرے جان بھی نہیں سکتے تھے، جاننے کی کوشش کرتے تب نا؟!
وہ بھی اسی بھیڑکاایک ذرہ تھا، معمولی ذرہ، اس کے سرپربھی بوری تھی اورشانہ پربیگ، پاؤوں میں معمولی سلیپر، وہ بڑی مشکل سے بھیڑکوچیرتے ہوئے تقریباًتین کیلومیٹرپیدل چل کرریلوے اسٹیشن تک پہنچا، خوش تھا کہ اب جلدہی گاڑی پر سوارہوگا، خوشی اس کی بھی تھی کہ بس بہت ہی جلدبوڑھی ماں سے ملاقات ہوگی، ماں کے تصورمیں کھوگیا، وہ کس طرح گھرکی چوکھٹ پرانتطارکررہی ہوگی؛ لیکن یہ کیا…؟یہاں بھی اسے ایسی ہی بھیڑنظرآئی، جیسی وہ اپنے پیچھے چھوڑآیاتھا، وہ ٹکٹ کاؤ نٹرڈھونڈتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ٹکٹ لینے والوں کی لمبی قطارکاتصورکرکے کانپ گیا؛ لیکن جب کاؤنٹرنظرآیاتو’’دال میں کچھ کالا‘‘نظرآیا، کاؤنٹرپرقطارکھڑی نظرنہیں آئی، جب کاؤنٹرپرپہنچاتوپتہ چلاکہ ’’پوری دال ہی کالی‘‘ہے۔
وہ بیٹھنے کے لئے ادھرادھربینچ تلاش کرنے لگا؛ لیکن یہاں توتل دھرنے کی جگہ نہیں دکھ رہی تھی، جیسے تیسے کرکے ایک کونے کی طرف بڑھااورڈھہ گیا، ساتھ میں لائے ہوئے پانی کابوتل نکالا اورغٹاغٹ آدھی بوتل خالی کرگیا، اب کچھ سانس لینے کی مہلت ملی تووہاں پرموجودٹیلی ویژن سے آنے والی آوازکانوں میں آئی، پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے تمام ٹرینیں یک لخت ردکردی گئی ہیں، اس آواز کوسن کراس کے کان بجنے لگے ، صرف سائیں سائیں کی ہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، کرے توکیاکرے اورجائے توکہاں جائے؟ وہ باہرنکلاتوپتہ چلاکی پولیس عوام کوکہیں بھی جانے نہیں دے رہی ہے، جانے والوں پرڈنڈے برس رہے ہیں، وہ واپس اسی کونے میں آگیااورٹکرٹکربھیڑ میں سے ہرایک کا منھ دیکھنے لگا۔
شورشرابہ، ہوہاؤ، چیخ پکار، بچوں کی بلبلاہٹ، بچیوں کی ممیاہٹ، سوچنے سمجھنے کی قوت مفقود، سامنے اندھیراساچھایاہواتھا، زندگی میں پہلی بارایسامنظردیکھاتھا، وہاں پرموجودہرشخص کے چہرے سے ہوائیاں اڑرہی تھیں، جن کودیکھ کرخودکوتسلی دے رہاتھا، بالآخرشاہ خاورکی شبابی رعنائیاں اترتے اترتے نیل گوںآسمان کے افق کے پار اترگئیں، اسٹیشن کی لائٹیں جل اٹھیں؛ لیکن ان آوازوں کاکیا؟ وہ توتسلسل کے ساتھ جاری تھیں، دل چاہ رہاتھاکہ ماں سے بات کرلے، دوتین بارٹرائی بھی کیا؛ لیکن شوروغل میں بات ہی نہیں ہوسکی۔
آج اسٹیشن پراس کاپانچواں دن تھا، راستے کے لئے لی گئی کھانے کی اشیاء توکب کی ختم ہوچکی تھیں، جیب میں موجود پیسوں سے کئی دن کام چلایاگیا؛ لیکن جلدہی وہ بھی ختم ہوگئے کہ اسٹیشن پربکنے والے سامانوں کی قیمتیں دوگنی ہوچکی تھیں، وہ شش وپنچ میں تھا، اب کیاکرے؟ آتش بھوک بھڑک اٹھی تھی ؛ لیکن اس کوسردکرنے کے لئے کچھ نہ تھا، پیاس کی شدت بڑھ چکی تھی؛ لیکن اس کوبجھانے کے لئے اسٹیشن کاکھارااورگرم پانی تھا، جس سے پیاس بجھ نہیں سکتی تھی، اُف …یاخدا!ایسی بے بسی…! ایسی بے چارگی…!
پورے چھ دنوں کے بعدایک ٹھنڈی ہواکاجھونکاآیا، اس شخص کی طرح خوشی ہوئی، جسے ریگستان کے گرم ہواؤوں کے تھپیڑے کھانے کے بعدٹھنڈی ہواکاجھونکا نصیب ہواہو، اس کے کانوں میں آواز آئی:
’’پھنسے ہوئے لوگوں کے لئے بسوں کاانتظام کیاگیاہے‘‘۔
لوگوں کی ساری بھیڑبے ہوشی کے عالم میں دروازے کی طرف لپک پڑی، ایک دوسرے کوپھلانگتے ہوئے، ایک دوسرے پرچڑھتے ہوئے، نہ اس کاخیال کہ نیچے کوئی گراہے، نہ اس کی رعایت کہ نیچے کوئی دباہے، کئی کوتوچوٹیں بھی آگئیں، لیکن ہوش کسے تھا؟ ہرایک کوتواپنی پڑی تھی، نفسانفسی کاعالم تھا، بالکل محشرکاساسماں!
گرتے پڑتے یہ بھی باہرنکلا اوراس طرف تقریباً دووڑپڑا، جدھربھیڑجارہی تھی، لشتم پشتم بس اڈہ پرپہنچاتواداس ہوگیا، تاحدنظرسرہی سر، اوران سروں پربیگ اور بوریاں، یا اللہ…! کونسی بس اس کے علاقہ کی طرف جانے والی ہے؟یہاں سے وہاں، بھاگتے بھاگتے بالآخر ایک بس نظرآئی، ٹھساٹھس بھری ہوئی، بڑی کوششوں کے بعدیہ بھی دروازہ پرٹک سکا، بس چلی توتھوڑی راحت ملی؛ لیکن بھوک وپیاس کے مارے کوراحت کیسے مل سکتی تھی؟ دوتین گھنٹہ کے بعدکچھ لوگ راستہ میںمفت کھاناتقسیم کرتے نظرآئے، جس سے جان میںکچھ جان آئی۔
مسلسل دودنوں کے سفرکے بعدبس سے جب اتراتوپتہ چلاکہ ابھی توبارڈرپرہی اتارا گیاہے، یہاں پہلے چیک اپ ہوگا، کہیں کوئی اس وائرس کاشکارتونہیں، جس کی وجہ سے یہ آفت مچی ہوئی ہے، بڑی لمبی لائن تھی، کئی گھنٹوں کے بعدچیک اپ ہوا ، اب لوگ خوش تھے کہ کوئی بھی متاثرنہیں، ہرکوئی گھرجاسکے گا، یہ بھی خوش تھا، دوسری گاڑی آئی ، لوگوں کے ساتھ یہ بھی یہ سوچ کرسوارہواکہ اب بس آخری اسٹاپ گھرہی ہے ؛ لیکن یہ ساری خوش فہمی اس وقت کافورہوگئی، جب ان تمام کوایک خانگی اسکول میں اس خوش خبری کے ساتھ اتاراگیا کہ یہیں سب کوچودہ دن قیام کرناہوگاکہ اس بیماری کااثرچودہ دن کے بعدظاہرہوتاہے، لوگوں کی چیخیں بلندہوگئیں، ’’تاڑسے گرے کھجورپراٹکے ‘‘والامسئلہ تھا۔
سات دن ہی گزرے تھے کہ اس کے موبائل پرفون آیا:
’’امی بیمارہیں، ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیاگیاہے‘‘۔
بڑی منت سماجت کے بعداسے’’ قیدکرونائی‘‘ سے رہائی نصیب ہوئی؛ لیکن مسئلہ سواری کاتھا اورسواری یہاں کہاں؟ جیسے تیسے پیادہ پا راستہ طے کرکے جب گھرکے آنگن میں قدم رکھاتوبھیڑدیکھ کرسہم گیا، اندرسے رونے کی آوازنے واضح کردیا کہ لاک ڈاؤن نے جیتامنھ دیکھنے سے محروم کردیا، وہ دھڑام سے زمین پرگرگیا، جب آنکھیں کھلیں توماں کاکریاکرم ہوچکاتھااوراس کی آنکھیں سپاٹ اورخشک۔

قوم کے نام بے معنی پیغام



قوم کے نام بے معنی پیغام
-------------------------
 محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
 ------------------------

 ۲۲؍مارچ سے ہم ہندوستانی ملک بندی(لاک ڈاؤن)کی مارجھیل رہے ہیں، جھیل اس لئے رہے ہیں کہ سواسوکروڑکی آبادی والے ملک کالاک ڈاؤن بغیرسوچے سمجھے، بغیرکسی پلاننگ اوربغیرکسی منصوبہ بندی کے کیاگیا، ہماری طالب علمی کے زمانہ میں جب کوئی طالب علم اٹ پٹانگ حرکتیں کرتاتوہم اس سے کہتے: کیابات ہے؟ چنے کاٹ رہے ہیں کیا؟ لگتاہے یہاں معاملہ وہی چنے والاہے، اِدھرچناکاٹتاہے، اُدھرمنابولتاہے۔
 اس ملک بندی کے بعدلوگ جہاں تھے، وہیں تھم نہیں؛ بل کہ جم گئے تھے اورشاید طفل تسلیوں کی نتیجہ میں کچھ دن اوربھی جم جاتے ؛ لیکن پھرخبریں یہ گردش میں آئیں کہ یہ ملک بندی جون تک چلے گی، اس خبرکوتقویت ان پاسیز سے ملی، جوحکومت کی طرف سے ایمرجنسی ڈیوٹی کے لئے گاڑیوں کوجاری کئے گئے تھے، پھرمان نیہ پردھان منتری جی نے بھی تین مہینے تک مفت راشن دینے کی بات کہی،یہ اوربات ہے کہ ہمارے یہاں(جھارکھنڈ)میں راشن کی تقسیم توشروع ہوئی ہے؛ لیکن مفت نہیں؛ بل کہ اسی پرانی قیمت پر، شایدانھیں ایسی حالت میں بھی ہماری مفت خوری پسند نہیں، بہرحال! تین مہینے کی ملک بندی کی خبراورپاپی پیٹ کے عدم برداشت کے نتیجہ میں لوگ سڑکوں پراس طرح نکل آئے، جیسے بل میں پانی گھسنے کی وجہ سے چیونٹیاں نکلتی ہیں۔
 افرتفری اورہاؤہوکاعالم بس اللہ کی پناہ! اس صورت حال کودیکھ کربھی حکومت نے بالخصوص مرکزاوردہلی حکومت نے سوجھ بوجھ سے کام نہیں لیا، نہ توان لوگوں کی روانگی کے لئے کوئی انتظام ڈھنگ سے کیااورناہی پیٹ بھرنے کی ویسی کوشش کی، جیسی کرنی چاہئے تھی، اگرایسے وقت میں بھی ٹرین کی آمدورفت کوبحال کردیاجاتاتوشاید یہ افراتفری نہیں مچتی؛ لیکن یہ کہہ کرایسی کوشش نہیں کی گئی کہ اس سے سوشل ڈسٹینسنگ باقی نہیں رہے گی اورکورونابہت حد تک اپنے پنجے گاڑدے گا؛ حالاں کہ دلی کی سڑکیں ہی گواہ نہیں ہیں؛ بل کہ یوپی کابارڈر ،یوپی سی ایم کاجلوس، مدھیہ پردیش کی تقریب حلف برداری ، تالی تھالی مارچ ، کنیکاکی پارٹی اورآج کئی منادرکے پوجاپاٹ بھی چیخ چیخ کر بذریعہ تصاویر وویڈیوزیہ شہادت دے رہی ہیں کہ یہاں بھی سوشل ڈسٹینسنگ کاخیال نہیں رکھاگیااورنہیں رکھاجارہاہے، کیایہ چیزیں کوروناکے پھیلاؤ کاسبب نہیں بن سکتیں؟
 جوہواسوہوا؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اب آگے کی پلاننگ کیاہے؟اس مرض کی روک تھام کے لئے حکومت نے کہاں تک تیاری کرلی ہے؟ کتنے وینٹی لیٹرس کی دستیابی عمل میں آئی؟ اس بیماری کی جانچ کے لئے کتنے کٹس فراہم کئے گئے؟ ملک کے کتنے صوبوں میں اس کی جانچ کے لئے کتنے لیبارٹیزمہیاہوئے؟ اورکیاوہ کافی ہیں؟ ڈاکٹروں کواس بیماری سے نمٹنے کے لئے کیاتمام سہولیات فراہم کردئے گئے ہیں؟ اس لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی ایک بڑی آبادی بھک مری کاشکارہورہی ہے، اس کے لئے صرف اعلان ہی سے کام چل رہاہے یازمینی طورپربھی کچھ کام ہواہے؟لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں، ان کے پیٹ بھرنے کے لئے گھرگھرسامان پہنچانے کاکیاانتظام کیاگیاہے؟غریب لوگوں کے گھروں میں چراغ روشن کرنے کے لئے تیل تک نہیں، وہ مہیاکئے گئے یانہیں؟ ابھی بھی کتنے لوگ اپنے علاقوں سے دوردوسرے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کے لئے کیاانتظامات کئے گئے؟ملک بندی کے نتیجہ میں کارخانے اورفیکٹریاں بندہوگئیں، جس کے نتیجہ میں ان فیکٹریوں اورکارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے کیامنصوبہ بندی کی گئی؟ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھروالوں کی بھی کفالت کرتے تھے، کیاان کے لئے صرف ایک پیکٹ کھانادے کریہ تونہیں سمجھ لیاگیاکہ ہم نے ان کے کھانے کاانتظام کردیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ، یہ تمام سوالات وہ ہیں، جن پرصدق نیتی سے سوچناہے اوران کی عمل داری اورنفاذ کے لئے کوششیں کرنی اس وقت کی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔
 ملک بندی کے اس موقع سے پورے باشندگان ہندکوجوپریشانیاں ہوئیں، مان نیہ پردھان منتری نے بڑی آسانی کے ساتھ ہاتھ جوڑکرمعافی مانگ لی، کیامعافی سے وہ پریشانیاں ختم ہوجائیں گی؟ اس معافی کی مثال توبس ایسی ہے، جیسے کسی کوبلاوجہ دوتھپڑماراجائے اورپھراسے سوری کہہ دیاجائے، پھرملک بندی کے کئی دن ہی گزرے تھے کہ عوامی چندہ کی دہائی دی گئی، سوال یہ ہے کہ بیماری سے لڑنے کے لئے عوامی چندہ کی ضرورت کیوں پڑگئی؟ ہماراملک توترقی کی بلندیوں کوچھورہاہے، شائن انڈیاسے آگے قدم نکالتے ہوئے ڈیجیٹل انڈیامیں داخل ہوچکاہے، کیش لیس کی بات کی جارہی ہے، بلیٹ ٹرین فراہم کئے جانے کی بات چل رہی ہے، ہربڑے شہرکومیٹروسٹی میں تبدیل کردینے کی بات ہورہی ہے، ایک ایک لاکھ کے پن سے پروجیکٹوں اورمعاہدوں پردستخت کئے جارہے ہیں، بیرونی ممالک کے اسفارکاتانتابندھارہاہے ، بعض ممالک کے دوروں کے دوران ہرمجلس کے لئے لاکھوں کے الگ سوٹ بنوائے گئے، بیرونی ممالک کے دوروں کاصرفہ وزیرمملکت برائے امورخارجہ وی مرلی دھرن کے مطابق ۲۰۱۵ سے ۲۰۲۰تک ۵۲۔۴۴۶کروڑروپے ہیں، جس میں ہوائی جہازکے رکھ رکھاؤپرہواکل خرچ شامل نہیں ہے، جوعام طورپرسب سے زیادہ ہوتاہے،ملکی اسفارکے اخراجات بھی کروڑوں میں ہے، جس کی رپورٹ شایدہی دستیاب ہوسکے،ایک اسٹیچوکی صنعت گری میں تقریباًتین ہزارکروڑروپے خرچ کئے گئے،جب ہم اتنے امیرہیں توپھراس وقت چندے کی ضرورت کیسے پیش آگئی، جس وقت قوم مصیبت میں ہے؟مطلب صاف ہے کہ دل میں قوم کی کوئی اہمیت نہیں، مصیبت کی اس گھڑی میں ’’شیخ اپنی دیکھ‘‘والامعاملہ ہے،بیوقوف بناکرسیاست کی روٹی سیکنی ہے اوربس، ورنہ ایسے وقت میں دست سوال دراز نہیں کیاجاتا، جب کہ قوم کودینے کی ضرورت ہے، قوم توہمیشہ دیتی ہے ، چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو، ہرچیزپرٹیکس ہے، ماچس کی ڈبیاپربھی، توقوم توہمیشہ دیتی ہے، اب جب قوم کو دینے کی بات آئی توخودانھیں سے سوال کرکے ٹھینگادکھادیاگیا۔
 مصیبت کی اس گھڑی میں قوم کودوسری چیزوں کے ساتھ تسلی کی ضرورت تھی اورہے، ہربڑے لیڈرکو، ہرممبرآف پارلیامنٹ کو، ہروزارت کے عہدہ داروں کوخصوصاً اور چھوٹے چھوٹے لیڈران کوعموماًچاہئے تھاکہ وہ اس وقت قوم کی ڈھارس بنداھاتے؛ لیکن ایساکچھ بھی نہیں ہے(الاماشاء اللہ)، اورہمارے وزیرداخلہ، جن کے منھ سے سی اے اے ، این آرسی اوران پی آرکے سلسلہ میں ایسی چنگھاڑنکلتی تھی کہ آدمی حواس باختہ ہوجاتاتھا؛ لیکن مصیبت کے اس موقع پرایسے غائب ہیں، جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔
 ایسے وقت میں جب وزیراعظم کی طرف سے اعلان ہواکہ جمعہ کے دن نوبجے قوم سے خطاب ہوگاتولوگوں نے اپنے دل میں ایک طرح کی تسلی محسوس کی، تاہم جب خطاب ہواتواکثرلوگوں نے دل میں یہی کہاکہ خطاب نہ ہی ہوتاتواچھاتھا، بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں تواس نئی نویلی دلہن کاواقعہ بھی کلبلانے لگا، جس میں وہ بندکمرے کے اندربھی شوہرسے کچھ بول نہیں رہی تھی، وہ کئی بارکوشش کرچکاتھاکہ بولے؛ لیکن دلہن نے گویازبان پرتالالگارکھاہو، اچانک کمرے چوہے کا ورودمسعودہوا، اس پرنظرپڑتے ہی وہ بول اٹھی: توا…توا، شوہرنے سوچا: کاش نہ بولتی تواچھاتھا، ایساہی کچھ قوم کے ساتھ ہوا۔
 لوگوں نے سوچ رکھاتھاکہ کوروناکی روک تھام کے لئے کئے گئے کاموں کی کچھ تفصیل سنائی جائے گی، ہمارے ملک میں اس کے لئے کس طرح کے انتظامات کئے جارہے ہیں، اس کی بابت کچھ وضاحت کی جائے گی، عوام جن قسم کی پریشانیوں سے جھونجھ رہی ہے، اس کے بارے میں کچھ حل ہوگا، مزدورکوجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں؛ حتی کہ کئی بھائی بہنوں نے بھوک کی شدت برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے خودکشی تک کرلی ہے، ان کے مسائل کے حل کے لئے کوئی نسخہ بتلایاجائے گا، ملک بندی کب تک قائم رہے گی، اس پرکچھ روشنی ڈالی جائے گی، پولیس کی طرف سے جوزیادتیاں ہورہی ہیں، ان کے بارے میں خفگی کااظہارکیاجائے گااورآئندہ ایسانہ کرنے کاحکم دیاجائے گا، ملک کے اس کونے سے لے کراس کونے تک ، کوروناکے تعلق سے ایک خاص طبقہ پرمیڈیاکی طرف سے نشانہ سادھاگیاہے اورعام پبلک کے ذہنوں میں ان کے خلاف نفرت کی بیج بوئی گئی ہے، اس پر کچھ سرزنش ہوگی، مصیبت کی اس گھڑی میں بھائی چارہ کوفروغ دینے اوراپنے دلوں میں ایک دووسرے کے خلاف نفرت نہ پیداکرنے کی کچھ بات کی جائے گی، کورونا کی وجہ سے جوموتیں ہوئی ہیں، ان پرآنسوبہایاجائے گااوران کے گھروالوں کے لئے پیکج دیاجائے گا، کوروناکے تعلق سے فری چیک اپ کی بات بتائی جائے گی، قوم سے یہ کہاجائے گاکہ آپ کوگھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم ہرطرح کی مددکے لئے تیارہیں؛ لیکن یہ کہا؟ یہاں ان میں سے کسی پربات تودرکنار، اشارہ اورکنایہ بھی اس کی طرف نہیں کیاگیا؛ بل کہ گزشتہ تالی تھالی کے پیغام کی طرح ’’دیاموم جلانے ‘‘کاپیغام دے کرپوری قوم کومایوسی کے گہرے غارمیں دھکیل دیاگیا۔
 اس سے قبل تالی تھالی کاپیغام دیاگیاتھا، کیااس سے کورونابھاگ گیا؟ کیااس سے ان لوگوں کوکھانامل گیا، جوبھوک سے مررہے ہیں؟ جوکوروناپازیٹیوہیں، کیااس تالی تھالی سے ان کامرض ٹھیک ہوگیا؟توپھردیاموم جلانے سے وہ کیسے بھاگ سکتاہے؟ وہ کوئی شیرنہیں، جوآگے سے ڈرکربھاگ جائے، وہ کوئی بھوت پریت نہیں، جوآگ دیکھ کرڈرجائے، وہ وائرس ہے، ایک نہ دکھنے والاوائرس، اس کی روک تھام کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئیں، نہ کہ ’’مجذوب کی بڑ‘‘کی طرح الٹے سیدھے پیغام دے کرقوم کوالوبنانا چاہئے، آج کے سائنسی زمانہ میں مودی جی وہ بات کررہے ہیں، جوصدیوں زمانہ پہلے کاہن کیاکرتے تھے، سچائی سے پردہ پوشی کرکے اندھ وشواشی کی طرف آج کے دورمیں لے جانے کی کیاضرورت ہے؟ اکثرلوگ توسمجھ رہے ہیں؛ لیکن کچھ اندھ بھگت ہیں، جوبالکل بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں اوروہ سمجھیں گے بھی نہیں کہ ان کے اندراندھ بھگتی کاوائرس جڑپکڑچکاہے، جس کاعلاج
کسی میڈیکل سائنس میں نہیں۔


https://www.dailysalar.com/epaper/index.php?page_no=4&date=%272020-04-05%27

jamiljh04@gmail.com / Mob: 8292017888