آج کے صحافت لکھنؤ، عوامی نیوز رانچی اورسچ کی آواز دہلی میں شائع مضمون
لنک صحافت:
http://www.akhbarurdu.com/sahafat_lucknow/sahafat_lucknow_04_b.html
لنک سچ کی آواز:
http://sachkiawaz.com/epaper/view.php?issueid=426&page=7&coords=467,205,1762,1745&crop=467,205,1295,1540
لنک عوامی نیوز:
https://www.readwhere.com/read/2637896#page/7/2
ڈاکٹروں سے بدسلوکی: ایک غیرذمہ دارانہ عمل
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
اس وقت پوری دنیاایک جھوٹے سے وائرس کے حملے کی زد میں ہے، اس وقت پوری دنیامیں تقریباً21,07,450اس وائرس سے متاثر لوگ ہیں، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعدادتقریباً1,36,992ہے، ہماراملک ہندوستان بھی اس کی لپیٹ میں آیاہواہے، یہاں اس کی زدمیں آنے والوں کی کل تعداد13,495ہے، جس میں سے 1,777شفایاب ہوچکے ہیں، جب کہ مرنے والوں کی تعداد448بتائی جارہی ہے۔
یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ جس پیمانہ پریہاں اس کی روک تھام کے لئے عمل درآمدگی ہونی چاہئے تھی، اس پیمانہ پرنہیں ہوپائی ہے؛ کیوں کہ سب سے اہم مسئلہ ٹیسٹ کاہے، یہ کام جنگی پیمانہ پرہوناچاہئے تھا؛ لیکن ابھی تک کچھوے کی چال ہی ہم چل رہے ہیں، اسی کے نتیجہ میں دن بہ دن تعدادمیں اضافہ ہوتاجارہاہے، اگرجنگی پیمانہ پر اس کی ٹیسٹنگ شروع کردی جاتی ہے توہم ان شاء اللہ بہت جلداس کوروکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ہماراملک اس کی بڑھوتری کوروکنے کے لئے لاک ڈاؤن کی احتیاطی تدبیرپرزیادہ بھروسہ کئے ہوئے ہے، یقینااس کافائدہ ہے، جس سے انکارکی گنجائش نہیں؛ لیکن اسی کے ذریعہ سے سوفیصدکامیاب ہونے کی سوچ بھی کافی نقصان دہ ہے، جب ملک میں دواؤں کی کمی نہیں ہے، جب ملک میں کیش کی کمی نہیں ہے اورجوکمی تھی، اسے پی ایم کیئرفنڈ کے ذریعہ سے ممکن حدتک ملک کے سرمایہ داروں نے پوراکرنے کی کوشش کی ہے توپھرسوال یہ ہے کہ تفتیش اورجانچ میں اتنی لاپرواہی کیوں برتی جارہی ہے؟ کہیں ایساتو نہیں کہ ملک کی بڑھتی آبادی پرکنٹرول کے لئے ایک ہتھیارکے طوراس کوسوچاجارہاہواوراسی کی وجہ سے سست رفتاری دکھائی جارہی ہو؟ورنہ اتنے دونوں میں ملک کے اکثرحصوں میں جانچ کی تکمیل ہوجانی چاہئے تھی، ہمارے یہاں بھی ڈاکٹروں اورنرسوں کی کافی تعدادہے، اسی طرح میڈیکل اسٹوڈینٹس کی بھی ایک بڑی تعدادہے، انھیں معمولی ٹریننگ کے ساتھ اس کام کے لئے ہائرکیاجاسکتاہے؛ لیکن ہم ہندوستانیوں کااصول تویہی ہے نا کہ کم پیسوں میں کام کیسے چل جائے؟ ظاہرہے کہ کہیں نہ کہیں اس اصول کوتوڑناہی پڑے گا۔
ملک کے بعض علاقے وہ ہیں، جہاں متاثرین کی تعدادزیادہ ہے، ابھی تک ان علاقوں میں بھی تمام لوگوں کی جانچ نہیں ہوپائی ہے، بس ہوتایہ ہے کہ جب کوئی شخص پازیٹیو پایاجاتاہے تواس کے اردگرددوتین کیلومیٹرکے لوگوں کوقرنطینہ کردیاجاتاہے اوران کی جانچ ہوتی ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاضروری ہے کہ وہ شخص صرف اسی علاقہ تک محدودرہاہو؟ اورپھریہ بھی ضروری نہیں کہ اسے ان تمام لوگوں کانام بھی یادرہے، جن سے اس کی ملاقات ہوئی ہے اوران تمام جگہوں کانام بھی یاد رہے، جہاں جہاں وہ گیاہے؛ اس لئے ہوناتویہ چاہئے تھا کہ اب تک گھرگھرپہنچ کرجانچ کاعمل پورکرلیاجاتا، اس سے کوروناسے جنگ جیتنے میں بڑی مددملتی۔
بعض علاقوں کوہاٹ اسپوٹ قراردیاگیاہے، ان علاقوں میں کچھ دنوں سے ڈاکٹروں کادورہ شروع ہواہے، تاہم بعض علاقوں سے ایسی خبریں آئیں، جہاں ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان پرپتھراؤ کیاگیا، ان کودوڑاکربھگایاگیا، یہ نہایت ہی شرمناک اورگھنونی حر کتیں ہیں، جوآپ کی بہتری اورخیرخواہی کے لئے آپ کا طبی معاینہ کرناچاہتے ہیں، ان کے ساتھ یہ بدسلوکی یقیناقابل مذمت ہے اورجن لوگوں نے ایسی حرکت کی ، انھیں ان کےکئے کی سزاملنی چاہئے؛ لیکن افسوس ہے گودی میڈیاپر! کہ اس طرح کے واقعات کوہندومسلم بنانے میں لگی رہتی ہیں، ٹھیک ہے کہ یہ عمل کہیں مسلمانوں سے بھی سرزدہواتوان کی سرزنش کیجئے، انھیں ان کی سزادیجئے، کوئی شخص اس کی تائیدنہیں کرے گا؛ لیکن اس طرح کے واقعات کوہندومسلم کارڈکھیلنے کاذریعہ نہ بنایاجائے، یہی اس ملک کی سا لمیت اورسلامتی کے لئے بہترہوگا۔
لیکن اس ملک کے باعزت شہری ہونے کے لحاظ سے اس پربھی غورکرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات رون ماکیوں ہورہے ہیں؟ پہلے تونہیں ہواکرتے تھے، اس سے پہلے بھی کئی کئی علاقوں میں کئی مواقع ایسے آئیں، جہاں ڈاکٹروں کی پوری ٹیم کے ساتھ جانچ کی گئی ہے، گھرگھرجاکردوائیں پلائی گئی ہیں، ہردروازہ تک پہنچ کرانجکشن بھی دئے گئے ہیں؛ لیکن اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوئے، ڈاکٹروں پرحملہ کی کارروائی نہیں کی گئی، ان پرپتھراؤ نہیں ہوا، آج کیاہوگیاہے اورلوگ اس حدتک کیوں گرگئے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے کچھ دنوں پہلے کے واقعات کی طرف ہمیں جاناپڑے گا۔
جب میڈیانے تبلیغی جماعت کی آڑ میں اس وائرس کومسلمان بنادیاتوان کی تلاشی ایسے شروع ہوئی، جیسے آئی ایس آئی کے لوگ بارڈرکراس کرکے گھس آئے ہوں اور پارلیامنٹ میں وہ حملہ کاارادہ رکھتے ہوں، ان کی تلاشی میں اتنی سختی برتی گئی کہ بس اللہ کی پناہ! بعض جگہوں پرانھیں ماراپیٹابھی گیا، بعض علاقوں سے ان کے پاس پورٹ تک ضبط کرنے خبریں آئیں، آپ خودہی سوچئے کہ کیاایساکرناکسی بھی صورت میں مناسب تھا؟ وہ مجرم تونہیں تھے، انھیں یہ تومعلوم نہیں تھاکہ وہ کوروناکے مریض ہیں، پھربعدکی رپوٹوں نے ان میں سے اکثریت کونگیٹیوبھی قراردے دیا، حکومت کی طرف سے اس طرح کےسلوک کوکیسے رواکہاجاسکتاہے؟
اس رویہ نے لوگوں کے اندرخوف اورڈرپیداکردیا، جوغیرتبلیغی تھے اورچیک اپ کرانابھی چاہ رہے تھے، وہ بھی جانچ سے کترانے لگے، کئی مریضوں کے بارے میں رپوٹ ملی کہ وہ صرف کورائن ٹین کے ڈرسے چھپ گئے اورچیک اپ سے گھبراکربھاگ گئے، پھراس کے ساتھ کورانٹین والوں کی ایسی ویڈیوزبھی وائرل ہوئیں، جس میں مریضوں کے ساتھ لاپرواہی دکھائی گئی ، کوروناپازیٹیووالوں کے ساتھ مشتبہ افرادکوبھی رکھنے کے معاملات سامنے آئے، کورانٹین کے لئے ایسے کالجوں میں جگہ دی گئی، جہاں بسا اوقات کھانے سے بھی لوگ محروم رہے، اب آپ ہی بتایئے کہ ایسی صورت حال میں لوگ خوشی خوشی چیک اپ تونہیں کرائیں گے ؟
اس کے لئے بہترشکل یہ تھی کہ جگہ جگہ پرعارضی جانچ گھربنائے جاتے اوربغیرلاؤلشکرکے یہ اعلان کردیاجاتاکہ تمام لوگ ایک ایک کرکے آئیں اورجانچ کراکرجائیں، نیزانھیں یہ بھی سمجھایاجاتاکہ یہ بیماری خطرناک ہے اورایک آدمی کے متاثرہونے سے پورے گھراوراڑوس پڑوس بھی اس سے متاثرہوجاتے ہیں، لہٰذا کوئی بھی جانچ سے پیچھے نہ ہٹے، ورنہ مسئلہ صرف آپ ہی کا نہیں ہے؛ بل کہ آپ عزیزوں کا بھی ہے، ترہیب سے زیادہ ترغیب سے کام کرناچاہئے، لاٹھی سے زیادہ پیارومحبت سے کام کرناچاہئے، جماعت والے اگرمتاثرتھے تواس کامطلب یہ تونہیں تھاکہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی، انھیں بھی آسانی کے ساتھ سمجھایاجاسکتاتھا؛ لیکن شروع ہی سے گدی نشینوں کی پالیسیاں کوروناکے تعلق سے مشکوک رہی ہیں، خودبھی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، ظاہرہے کہ راجاجیسارہے گا، پرجابھی توویسی ہی رہے گی۔
ان تمام کے باوجودلوگوں کوآپے سے باہرنہیں ہوناچاہئے اورصحت کی جانچ کے لئے جولوگ آرہے ہیں، ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی چاہئے، وہ اپنے آپ کوخطرہ میں اور اپنی جان کوہتھیلی میں رکھ کرآپ کی فکرکے لئے آپ کے دروازہ پرآرہے ہیں، ان کاتواستقبال کرناچاہئے اورخوش آمدیدکہناچاہئے، نہ کہ ان کے ساتھ بداخلاقی کامظاہرہ ہوناچاہئے اورجوصاحب اقتدارہیں، انھیں ترغیبی عمل کی طرف خاص توجہ دیناچاہئے اورہرگزیہ نہیں سمجھناچاہئے کہ ہرمسئلہ کاحل ڈنڈاہی ہے اورہم جتنی سختی کریں گے، عوام اتناہی ہماری بات مانے گی، یہ سوچ درست نہیں۔jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888
