کتابوں میں قانون کی تعریف Law is nothing but common sense کے الفاظ سے کی گئی ہے، جس کامطلب ہے کہ قانون عقل سلیم کے علاوہ کچھ نہیں، قانون کاتعلق ایک سے زائدافراد سے ہوتاہے؛ اس لئے ان تمام افرادکے عمومی رجحانات کوسامنے رکھتے ہوئے قانون ایسابنایاجاتاہے، جس سے کسی کوکوئی تکلیف نہ ہو اورعقل میں آسکے، اگرکسی کوتکلیف ہویاعقل میں نہ آسکے تواس کاصاف مطلب ہے کہ قانون میں جھول ہے، اس پرپھرسے غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے، اس وقت بات اس پرنہیں؛ بل کہ اس پرکرنی ہے کہ قانون ہوتاہے کیاہے اوراس کامقصد کیاہے؟ یہ دراصل اجتماعی اصولوں پرمشتمل ایک ایسانظام ہوتاہے، جوملکی سطح پرحکومت کی جانب سے سماج اورمعاشرہ کومنظم اورمربوط کرنے کے لئے نافذکیاجاتاہے، اوراس کے لئے جب جتنی ضرورت پڑے ، طاقت کوبھی بروئے کارلایاجاتاہے۔
قانون کی حقیقت اوراس کامقصد تو یہ ہے؛ لیکن آج کے دور میں حکومتیں چوں کہ عموماًغیرمنصف ہوتی ہیں، اپنے خلاف سننا پسندنہیں کرتیں؛ بل کہ حق بات ہی کوسننے سے وہ انکار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ قانون بھی ایسے بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جویاتوعقل سلیم کے خلاف ہوتے ہیں یاپھرجن کی وجہ سے بہت سارے افراد کوتکلیف ہوتی ہے، کچھ ہی ایام قبل کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں Live in relationship کے جواز پرقانونی مہرلگایاگیا، امریکہ ، فرانس، برطانیہ ، چین وغیرہ جیسے ممالک میں، جن کادعوی ہے کہ وہ امن کے علم بردارہیں، سیکولرذہنیت کے حامل ہیں، وہاں مختلف اوقات میں متعدد ایسے قانون بنائے جاتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، سعودی عرب میں متعدد ایسے قانون بنائے گئے ہیں، جونہ صرف یہ کہ عقل سلیم کے خلاف ہیں؛ بل کہ شریعت بھی ان کی اجازت نہیں دیتی۔
حکومتوں کی یہ حرکتیں اپنے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے ہوتی ہیں، اگرحکومتیں منصف مزاج ہوں توپھرایسی حرکتیں ان سے سرزدنہیں ہوں گی؛ لیکن ظاہرہے کہ آج کے دور میں اس کی تلاش ایسے ہی ہے، جیسے جنگل میں سانپ کی منی تلاش کی جائے ، نتیجہ ظاہرہے کہ ملک انارکی کاشکارہوجاتاہے، قانون توہوتاہے؛ لیکن قانون کے نام پرکہیں ظلم وزیادتی کی جاتی ہے اورکہیں قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جاتی ہیں، قانون ہمیشہ ایساہوناچاہئے، جوملک میں رہنے والے کسی فرد کے لئے ناممکن العمل نہ ہو، ایساقانون بنانے کے لئے دماغ سوزی کی ضرورت پڑے گی اوراس کے ساتھ ایسے انسان کاہونابھی ضروری ہے، جومعتدل مزاج ہو،تب جاکرایساقانون بن سکتاہے،پھر جب ایسا قانون بن جائے تواس کونافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس قانون کے دائرہ میں پھرتمام افرادکولاناچاہئے، ایسانہ ہوکہ آپ کی پارٹی والے تواس قانون کی گرفت میں نہ آئیں اوردیگرپارٹی کے لوگوں کوزبردستی اس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے، اگرایساہونے لگے توملک سلامت روی کے ساتھ ترقی کرتارہے گا، ورنہ پھرملک کاتواللہ ہی حافظ ہے۔
ہمارے ملک بھارت میں کئی ایسے قانون بنے، جس کی وجہ سے بہت سارے افرادکوسڑکوں پر اترناپڑا،مطلقہ کاتانکاح ثانی نان ونفقہ، تین طلاق،سی اے اے وغیرہ اورزرعی قوانین کے سلسلہ میں توآج بھی لوگ سڑکوں پربیٹھے ہوئے ہیں، ان احتجاجات سے یہ واضح ہے کہ یہ قوانین ایسے ہیں، جن میں صرف اورصرف حکومت نے اپنے مفادات کوسامنے رکھاہے، اگرلوگوں کے مفادات کوسامنے رکھاجاتا تو پھرلوگوں کے لحاظ سے ایسے قوانین بنائے جاتے، جس کی وجہ سے سڑکوں پرلوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ایک طرف یہ حال ہے ہماری حکومت کی۔
دوسری طرف قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اورحکومت ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہی ہے، محسن شیخ کی لنچنگ ہوئی دوہزارچودہ میں، پھرتوایک سلسلہ چل پڑا، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہاہے، اس کی وجہ ظاہرہے کہ براہ راست حکومت ہے اورسوال اسی سے ہوگا؛ کیوں کہ اس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس پولیس اورہوائی، بری اوربحری افواج ہے، وہ روکناچاہے تو فوراً روکاجاسکتاہے؛ لیکن افسوس! حکومت یاتوجان بوجھ کراپنے فائدہ کوسامنے رکھتے ہوئے مجرموں کوچھوٹ دے رہی ہے یاپھرحکومت جس طرح تمام شعبوں میں ناکام ہے، اسی طرح لاء اینڈ آرڈرکے شعبہ میں بھی ناکام ہے، خواہ وہ اس کااعتراف کرے یانہ کرے؛ لیکن واقعات اس ناکامی کی گواہی دے رہے ہیں۔
قانون اسی لئے ہوتاہے کہ نظام کودرست رکھاجاسکے، عدالت کے مسائل کوعدالت میں حل کیاجائے، پولیس اسٹیشن کے مسائل وہیں حل ہوں؛ لیکن بدقسمتی سے ملک کے کچھ افرادنے قانون کواپنے گھرکی لونڈی سمجھ رکھاہے، خودساختہ تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اورمختلف ناموں کااستعمال کرتے ہوئے قانون کادھجیاں اڑاتی ہیں، جس کی سب سے اہم وجہ ایسے افرادکی طرف سے حکومت کی آناکانی ہے؛ بل کہ بعض موقعوں سے یہ بھی دیکھاگیاہے کہ حکومت کے ذمہ دارلوگ ایسے افرادکی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، جواس طرح قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، حکومت کوسمجھناچاہئے کہ مجرم مجرم ہی ہوتاہے، بالکل اسی طرح، جس طرح شیرشیرہوتاہے، جب تک اسے نوالہ ملتارہے، اوراس کاپیٹ بھرارہے، اس وقت تک وہ دم ہلاتا رہتاہے؛ لیکن جب نوالہ ملنا بندہوجائے توپھروہ اسی کواپنانوالہ بنالیتاہے، جوروزاسے نوالہ دیاکرتاتھا، یہی حال مجرمین کاہوتاہے، جب تک نوالہ ملے گا، وہ ٹھیک رہیں گے اورآپ کے آگے پیچھے دم ہلائیں گے، جیسے ہی آپ کی طرف سے نوالہ بندہوا، یاآپ سے زیادہ خوارک کسی نے دیا، بس وہ آپ ہی کوٹپکا کر چھوڑیں گے۔
دنیاکی آنکھ نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہے، خود اس ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ایساہوچکاہے کہ خود اسی کے باڈی گارڈ نے اسے گولیوں سے بھون دیاہے؛ اس لئے مجرموں کی پشت پناہی کی بجائے ان کوکیفرکردارتک پہنچاناحکومت کامقصدہوناچاہئے، نہ کہ اس کی پشت پناہی، ورنہ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ عوام ایک مدت تک ظلم کوبرداشت کرتی ہے، جب پانی سرسے اونچاہوجاتاہے تو پھر تخت وتاج کووہ اچھال دیتی ہے، عرب کے کئی ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جاچکے ہیں، اس ملک کے کئی پڑوسی ممالک میں بھی ایسی صورت پیداہوچکی ہے، بعض ملکوں میں توفوجی انقلاب بھی برپاہوچکاہے، آج برماکی حالت دیکھئے، جوکل نہتی عوام پرگولی چلوارہی تھی، آج وہ خودسلاخوں کے پیچھے ہے، ہمارے ملک میں ایسی نوبت تونہیں آئی ہے اورامیدہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی؛ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مجرمین کوکھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیاجائے کہ وہ جوچاہیں کرتے بھریں؟ اس سے توپھرلاء اینڈ آرڈرکامسئلہ پیداہوگا، اس پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے۔
کل ہی ایک ویڈیودیکھنے میں آئی کہ ایک بزرگ شخص کوکچھ نوجوان مارپیٹ کررہے ہیں، پھراس کی داڑھی بھی کتردی جاتی ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ یہ حرکت کرنے والے ویڈیوبھی بنارہے ہیں اور اسے وائرل بھی کررہے ہیں، ظاہرہے کہ مجرمین کوایسی جرأ ت کہاں سے ملی؟ یہ حکومت کی پشت پناہی سے ہی توآئی ہے؟ اس کامقصدایک توایک طبقہ کے اندرڈرپیداکرناہے اوردوسرا یہ بھی بتاناہے کہ ہم قانون کونہیں مانتے ہیں یایہ کہ قانون ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتا، یہ کھلے عام حکومت کوچیلینج کرناہے، بشرطیکہ حکومت اسے سمجھ سکے ؛ لیکن اگروہ نہ سمجھے یاسمجھ کرنظرانداز کردے توہم تویہی کہیں گے کہ ’’سمجھ سمجھ کرجونہ سمجھے، مری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے‘‘۔
اس واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے، وہ کم ہے، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نئی نسل کوکس قدربگاڑدیاگیاہے کہ وہ بزرگوں کی قدربھول گئی ہے، ایک بزرگ کے ساتھ مارپیٹ،بدتمیزی اورپھران کی داڑھی کاٹنا، یقینا یہ پود آئندہ کے لئے اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے اوراپنے ملک کے لئے نقصان دہ ہے، ان جیسے جوانوں سے ملک کوادنی فائدہ ہونے والا نہیں، ان سے صرف ملک کونقصان ہی ہوگا،اوریہ توحکومت جانتی ہے؛ بل کہ اگراس کے نظریات کامطالعہ کریں توصاف سمجھ میں آئے گاکہ وہ نسل ہی ایسی تیارکررہے ہی، جوآدراورسمان لفظ سے واقف نہ ہو، جن کے دلوں میں نفرت بھری جارہی ہے؛ لیکن ماں باپ کوتویہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس بچے کے لئے اتنے جوکھم اٹھائے، کیاوہ اسی دن کے لئے تھے کہ وہ مان سمان بھول جائے؟ اورجب باہرکے لوگوں کے ساتھ اس کامان سمان نہیں ہے تواپنے گھرمیں کہاں سے ہوسکتاہے؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی پارٹیوں اورملی تنظیموں کوبھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں، کیاان کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ان جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے کس طرح کے اقدام ضروری ہیں؟ اسے فوری طورپرعمل میں لاناچاہئے؛ تاکہ ہماری نسل بھی خراب نہ ہواوراس طرح کے واقعات بھی رونمانہ ہوں۔jamiljh04@gmail.com
کتابوں میں قانون کی تعریف Law is nothing but common sense کے الفاظ سے کی گئی ہے، جس کامطلب ہے کہ قانون عقل سلیم کے علاوہ کچھ نہیں، قانون کاتعلق ایک سے زائدافراد سے ہوتاہے؛ اس لئے ان تمام افرادکے عمومی رجحانات کوسامنے رکھتے ہوئے قانون ایسابنایاجاتاہے، جس سے کسی کوکوئی تکلیف نہ ہو اورعقل میں آسکے، اگرکسی کوتکلیف ہویاعقل میں نہ آسکے تواس کاصاف مطلب ہے کہ قانون میں جھول ہے، اس پرپھرسے غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے، اس وقت بات اس پرنہیں؛ بل کہ اس پرکرنی ہے کہ قانون ہوتاہے کیاہے اوراس کامقصد کیاہے؟ یہ دراصل اجتماعی اصولوں پرمشتمل ایک ایسانظام ہوتاہے، جوملکی سطح پرحکومت کی جانب سے سماج اورمعاشرہ کومنظم اورمربوط کرنے کے لئے نافذکیاجاتاہے، اوراس کے لئے جب جتنی ضرورت پڑے ، طاقت کوبھی بروئے کارلایاجاتاہے۔
قانون کی حقیقت اوراس کامقصد تو یہ ہے؛ لیکن آج کے دور میں حکومتیں چوں کہ عموماًغیرمنصف ہوتی ہیں، اپنے خلاف سننا پسندنہیں کرتیں؛ بل کہ حق بات ہی کوسننے سے وہ انکار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ قانون بھی ایسے بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جویاتوعقل سلیم کے خلاف ہوتے ہیں یاپھرجن کی وجہ سے بہت سارے افراد کوتکلیف ہوتی ہے، کچھ ہی ایام قبل کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں Live in relationship کے جواز پرقانونی مہرلگایاگیا، امریکہ ، فرانس، برطانیہ ، چین وغیرہ جیسے ممالک میں، جن کادعوی ہے کہ وہ امن کے علم بردارہیں، سیکولرذہنیت کے حامل ہیں، وہاں مختلف اوقات میں متعدد ایسے قانون بنائے جاتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، سعودی عرب میں متعدد ایسے قانون بنائے گئے ہیں، جونہ صرف یہ کہ عقل سلیم کے خلاف ہیں؛ بل کہ شریعت بھی ان کی اجازت نہیں دیتی۔
حکومتوں کی یہ حرکتیں اپنے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے ہوتی ہیں، اگرحکومتیں منصف مزاج ہوں توپھرایسی حرکتیں ان سے سرزدنہیں ہوں گی؛ لیکن ظاہرہے کہ آج کے دور میں اس کی تلاش ایسے ہی ہے، جیسے جنگل میں سانپ کی منی تلاش کی جائے ، نتیجہ ظاہرہے کہ ملک انارکی کاشکارہوجاتاہے، قانون توہوتاہے؛ لیکن قانون کے نام پرکہیں ظلم وزیادتی کی جاتی ہے اورکہیں قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جاتی ہیں، قانون ہمیشہ ایساہوناچاہئے، جوملک میں رہنے والے کسی فرد کے لئے ناممکن العمل نہ ہو، ایساقانون بنانے کے لئے دماغ سوزی کی ضرورت پڑے گی اوراس کے ساتھ ایسے انسان کاہونابھی ضروری ہے، جومعتدل مزاج ہو،تب جاکرایساقانون بن سکتاہے،پھر جب ایسا قانون بن جائے تواس کونافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس قانون کے دائرہ میں پھرتمام افرادکولاناچاہئے، ایسانہ ہوکہ آپ کی پارٹی والے تواس قانون کی گرفت میں نہ آئیں اوردیگرپارٹی کے لوگوں کوزبردستی اس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے، اگرایساہونے لگے توملک سلامت روی کے ساتھ ترقی کرتارہے گا، ورنہ پھرملک کاتواللہ ہی حافظ ہے۔
ہمارے ملک بھارت میں کئی ایسے قانون بنے، جس کی وجہ سے بہت سارے افرادکوسڑکوں پر اترناپڑا،مطلقہ کاتانکاح ثانی نان ونفقہ، تین طلاق،سی اے اے وغیرہ اورزرعی قوانین کے سلسلہ میں توآج بھی لوگ سڑکوں پربیٹھے ہوئے ہیں، ان احتجاجات سے یہ واضح ہے کہ یہ قوانین ایسے ہیں، جن میں صرف اورصرف حکومت نے اپنے مفادات کوسامنے رکھاہے، اگرلوگوں کے مفادات کوسامنے رکھاجاتا تو پھرلوگوں کے لحاظ سے ایسے قوانین بنائے جاتے، جس کی وجہ سے سڑکوں پرلوگوں کو آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ایک طرف یہ حال ہے ہماری حکومت کی۔
دوسری طرف قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اورحکومت ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہی ہے، محسن شیخ کی لنچنگ ہوئی دوہزارچودہ میں، پھرتوایک سلسلہ چل پڑا، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہاہے، اس کی وجہ ظاہرہے کہ براہ راست حکومت ہے اورسوال اسی سے ہوگا؛ کیوں کہ اس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس پولیس اورہوائی، بری اوربحری افواج ہے، وہ روکناچاہے تو فوراً روکاجاسکتاہے؛ لیکن افسوس! حکومت یاتوجان بوجھ کراپنے فائدہ کوسامنے رکھتے ہوئے مجرموں کوچھوٹ دے رہی ہے یاپھرحکومت جس طرح تمام شعبوں میں ناکام ہے، اسی طرح لاء اینڈ آرڈرکے شعبہ میں بھی ناکام ہے، خواہ وہ اس کااعتراف کرے یانہ کرے؛ لیکن واقعات اس ناکامی کی گواہی دے رہے ہیں۔
قانون اسی لئے ہوتاہے کہ نظام کودرست رکھاجاسکے، عدالت کے مسائل کوعدالت میں حل کیاجائے، پولیس اسٹیشن کے مسائل وہیں حل ہوں؛ لیکن بدقسمتی سے ملک کے کچھ افرادنے قانون کواپنے گھرکی لونڈی سمجھ رکھاہے، خودساختہ تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اورمختلف ناموں کااستعمال کرتے ہوئے قانون کادھجیاں اڑاتی ہیں، جس کی سب سے اہم وجہ ایسے افرادکی طرف سے حکومت کی آناکانی ہے؛ بل کہ بعض موقعوں سے یہ بھی دیکھاگیاہے کہ حکومت کے ذمہ دارلوگ ایسے افرادکی پیٹھ ٹھونکتے ہیں، جواس طرح قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، حکومت کوسمجھناچاہئے کہ مجرم مجرم ہی ہوتاہے، بالکل اسی طرح، جس طرح شیرشیرہوتاہے، جب تک اسے نوالہ ملتارہے، اوراس کاپیٹ بھرارہے، اس وقت تک وہ دم ہلاتا رہتاہے؛ لیکن جب نوالہ ملنا بندہوجائے توپھروہ اسی کواپنانوالہ بنالیتاہے، جوروزاسے نوالہ دیاکرتاتھا، یہی حال مجرمین کاہوتاہے، جب تک نوالہ ملے گا، وہ ٹھیک رہیں گے اورآپ کے آگے پیچھے دم ہلائیں گے، جیسے ہی آپ کی طرف سے نوالہ بندہوا، یاآپ سے زیادہ خوارک کسی نے دیا، بس وہ آپ ہی کوٹپکا کر چھوڑیں گے۔
دنیاکی آنکھ نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہے، خود اس ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ایساہوچکاہے کہ خود اسی کے باڈی گارڈ نے اسے گولیوں سے بھون دیاہے؛ اس لئے مجرموں کی پشت پناہی کی بجائے ان کوکیفرکردارتک پہنچاناحکومت کامقصدہوناچاہئے، نہ کہ اس کی پشت پناہی، ورنہ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ عوام ایک مدت تک ظلم کوبرداشت کرتی ہے، جب پانی سرسے اونچاہوجاتاہے تو پھر تخت وتاج کووہ اچھال دیتی ہے، عرب کے کئی ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جاچکے ہیں، اس ملک کے کئی پڑوسی ممالک میں بھی ایسی صورت پیداہوچکی ہے، بعض ملکوں میں توفوجی انقلاب بھی برپاہوچکاہے، آج برماکی حالت دیکھئے، جوکل نہتی عوام پرگولی چلوارہی تھی، آج وہ خودسلاخوں کے پیچھے ہے، ہمارے ملک میں ایسی نوبت تونہیں آئی ہے اورامیدہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی؛ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مجرمین کوکھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیاجائے کہ وہ جوچاہیں کرتے بھریں؟ اس سے توپھرلاء اینڈ آرڈرکامسئلہ پیداہوگا، اس پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے۔
کل ہی ایک ویڈیودیکھنے میں آئی کہ ایک بزرگ شخص کوکچھ نوجوان مارپیٹ کررہے ہیں، پھراس کی داڑھی بھی کتردی جاتی ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ یہ حرکت کرنے والے ویڈیوبھی بنارہے ہیں اور اسے وائرل بھی کررہے ہیں، ظاہرہے کہ مجرمین کوایسی جرأ ت کہاں سے ملی؟ یہ حکومت کی پشت پناہی سے ہی توآئی ہے؟ اس کامقصدایک توایک طبقہ کے اندرڈرپیداکرناہے اوردوسرا یہ بھی بتاناہے کہ ہم قانون کونہیں مانتے ہیں یایہ کہ قانون ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتا، یہ کھلے عام حکومت کوچیلینج کرناہے، بشرطیکہ حکومت اسے سمجھ سکے ؛ لیکن اگروہ نہ سمجھے یاسمجھ کرنظرانداز کردے توہم تویہی کہیں گے کہ ’’سمجھ سمجھ کرجونہ سمجھے، مری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے‘‘۔
اس واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے، وہ کم ہے، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نئی نسل کوکس قدربگاڑدیاگیاہے کہ وہ بزرگوں کی قدربھول گئی ہے، ایک بزرگ کے ساتھ مارپیٹ،بدتمیزی اورپھران کی داڑھی کاٹنا، یقینا یہ پود آئندہ کے لئے اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے اوراپنے ملک کے لئے نقصان دہ ہے، ان جیسے جوانوں سے ملک کوادنی فائدہ ہونے والا نہیں، ان سے صرف ملک کونقصان ہی ہوگا،اوریہ توحکومت جانتی ہے؛ بل کہ اگراس کے نظریات کامطالعہ کریں توصاف سمجھ میں آئے گاکہ وہ نسل ہی ایسی تیارکررہے ہی، جوآدراورسمان لفظ سے واقف نہ ہو، جن کے دلوں میں نفرت بھری جارہی ہے؛ لیکن ماں باپ کوتویہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس بچے کے لئے اتنے جوکھم اٹھائے، کیاوہ اسی دن کے لئے تھے کہ وہ مان سمان بھول جائے؟ اورجب باہرکے لوگوں کے ساتھ اس کامان سمان نہیں ہے تواپنے گھرمیں کہاں سے ہوسکتاہے؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی پارٹیوں اورملی تنظیموں کوبھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں، کیاان کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ان جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے کس طرح کے اقدام ضروری ہیں؟ اسے فوری طورپرعمل میں لاناچاہئے؛ تاکہ ہماری نسل بھی خراب نہ ہواوراس طرح کے واقعات بھی رونمانہ ہوں۔jamiljh04@gmail.com










