Monday, 28 December 2020

مالی جرمانہ: شریعت کی روشنی میں

مالی جرمانہ: شریعت کی روشنی میں


محمد جمیل اخترجلیلی ندوی


    انسان کی ایک فطرت خلاف ورزی (غلطی)کرنے کی ہے،جس پراسے سزابھی ملتی ہے، خلاف ورزی پرجوسزادی جاتی ہے، اس کی دوقسمیں ہیں :

۱- ایک وہ، جومتعین ہو، جیسے: روزہ اور قسم توڑنے کاکفارہ۔

۲- دوسراوہ، جومتعین نہ ہو، ایسی خلاف ورزی پرحکومت مصلحت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی سزا تجویز کرسکتی ہے، اسی کو فقہ کی کتابوں میں ’’ تعزیر ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، ’’ تعزیر ‘‘ ایسی سزا کو کہتے ہیں، جو ان جرائم پر روک لگانے کے لیے حکومت متعین کرتی ہے، جن کے لیے شریعت میں نہ کفارہ ہے اور نہ ہی حد۔

ألتعزیر ہو عقوبۃ غیر مقدرۃ شرعاً، تجب فی کل معصیۃ لیس فیہا حد ولا کفارۃ۔ ’’تعزیر شریعت کی طرف سے غیر متعینہ سزا ہے، جو ایسی برائیوں کے لیے ہوتی ہے، جس میں حد اور کفارہ نہ ہو ‘‘۔ (المبسوط للسرخسی : ۹؍۴۵، ط : دار احیاء التراث العربی، بیروت، القلیوبی علی شرح المنہاج : ۴؍۳۰۵، العقوبۃ، لأبی زہرہ : ۵۷، إعلام الموقعین : ۲؍۱۱۸، ط : دار الجیل، بیروت، زاد المحتاج بشرح المنہاج : ۴؍۲۶۵، ط : المکتبۃ العصریۃ، بیروت۔ )

اب ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ تعزیر کے طورپر کس طرح کی سزائیں دی جاسکتی ہیں ؟ اس سلسلہ میں اصل تو یہی ہے کہ حاکم وقت حالات کو دیکھتے ہوئے، جس طرح کی سزا مناسب سمجھے تجویز کرلے :
والتعزیر لا یختص بالسوط والید والحبس، وإنما ذلک موکول إلی إجتہاد الحاکم۔
’’تعزیر کوڑے، ہاتھ سے مارنا اور قید کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ؛ بلکہ یہ حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے ‘‘۔(تبصرۃ الحکام : ۲؍۲۰۱)

    چنانچہ حاکم مار بھی سکتا ہے، کوڑے بھی لگوا سکتا ہے، قید بھی کرسکتا ہے اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ بھی سکتا ہے، یعنی جیسی مصلحت دیکھے، ویسی ہی کاروائی کرے، آج کل بہت ساری خلاف ورزیوں کی صورت میں خود حکومت کی طرف سے بھی اوردوسرے اداروں کی طرف سے بھی مالی جرمانہ کی سزاطے کی جاتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعی نقطۂ نظر سے درست ہے ؟ آئیے اس سلسلہ میں ائمہ اربعہ کے نقاط نظر معلوم کرتے چلیں۔

مالکیہ کی رائے:

    مالی تعزیر کے سلسلہ میں امام مالکؒ کا اصل مذہب یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے، علامہ صاوی مالکیؒ لکھتے ہیں :
و أما التعزیر بأخذ المال، فلا یجوز إجماعاً۔
’’تعزیر مالی کا لینا بالاجماع ناجائز ہے‘‘۔ (بلغۃ السالک : ۴؍۲۶۸، نیز دیکھئے : حاشیۃ الدسوقی : ۶؍۳۷۰، حاشیۃ الصاوی علی الشرح الصغیر : ۴؍۵۰۵)

    لیکن قضاء کے موضوع پر ممتاز مالکی مصنف علامہ ابن فرحون کی کتاب ’’ تبصرۃ الحکام ‘‘ میں تعزیر کا جواز نقل کیا گیا ہے :
والتعزیر بالمال، قال بہ المالکیۃ۔
’’مالکیہ تعزیر بالمال کے قائل ہیں ‘‘۔ (تبصرۃ الحکام : ۲؍۲۰۳ ط : دار الکتب العلمیۃ، بیروت، نیز دیکھئے، الحسبۃ : ۴۰ )

بعض لوگوں نے اسی قول کو مشہور قرار دیا ہے۔ (دیکھئے : الموسوعۃ الفقہیۃ : ۱۲؍ ۲۷۰، لفظ : تعزیر، نیز دیکھئے : فتاویٰ ابن تیمیہ : ۲۸ ؍۱۱۰ )

شوافع کی رائے:

    تعزیر بالمال کے سلسلہ میں امام شافعیؒ سے دو قول منقول ہیں، ایک قول عدم جواز کا ہے اور یہ امام شافعیؒ کا قول جدید ہے، دوسرا قول جواز کا ہے اور یہ ان کا قول قدیم ہے، علامہ شبراملی لکھتے ہیں :

لا یجوز التعزیر بأخذ المال فی مذہب الشافعی الجدید، وفی المذہب القدیم : یجوز۔ ’’امام شافعیؒ کے مسلک جدید کے مطابق تعزیر بالمال جائز نہیں ہے، جب کہ ان کا قول قدیم جواز کا ہے‘‘۔ (حاشیۃ الشبراملی علی شرح المنہاج : ۷؍۱۷۴، نیز دیکھئے : الحسبۃ : ۴۰)

حنابلہ کی رائے:

    امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک تعزیر بالمال کے قطعی عدم جواز کا ہے، علامہ ابن قدامہؒ تحریر فرماتے ہیں :
ولا یجوز قطع شیٔ منہ ولا جرحہ، ولا أخذ مالہ، لأن الشرع لم یرد بشیٔ من ذلک عن أحد یقتدی بہ، ولأن الواجب أدب، والتأدیب لایکون بالإتلاف۔ ’’تعزیر میں زخم لگانا یا کسی عضو کا کاٹنا جائز نہیں، اسی طرح مال لینا بھی جائز نہیں ہے ؛ کیوں کہ یہ کسی ثقہ شخص سے ثابت نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ واجب تادیب اور تنبیہ ہے اور اتلاف سے تادیب ممکن نہیں ہے ‘‘۔(المغنی : ۱۲؍ ۵۲۶، نیز دیکھئے : الشرح الکبیر مع المقنع : ۲۶؍ ۴۶۰، منتہی الإرادات للفتوحی : ۵؍ ۱۴۳، الروض المربع : ۴۳۸، الإنصاف مع المقنع : ۲۶؍ ۴۶۴، المعتمد فی فقہ الإمام احمد : ۲؍۴۲۱)
    تاہم دبستانِ فقہ حنبلی کے دومایۂ ناز فرد علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن قیم جوزیؒ نے پوری قوت سے اس کی مخالفت کی ہے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی ے، جن لوگوں نے امام احمدؒ اورامام مالکؒ کی طرف تعزیر مالی کے عدم جواز کو نقل کیا ہے، علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں :
ومن قال : إن العقوبات المالیۃ منسوخۃ، وأطلق ذلک عن أصحاب مالک وأحمد، فقد غلط علی مذہبہما، ومن قال مطلقاً من أی مذہب کان، فقد قال قولاً بلا دلیل، ولم یجیٔ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شیٔ قط یقتضی أنہ حرام جمیع العقوبات المالیۃ ؛ بل أخذ الخلفاء الراشدین وأکابر أصحابہ بذلک بعد موتہ دلیل علی أن ذلک محکم غیر منسوخ۔
’’جن لوگوں نے یہ کہا کہ مالی سزائیں منسوخ ہیں اور مطلق اصحابِ مالک و احمد کی طرف اس کی نسبت کی ہے، ان لوگوں نے ان کے مذہب کی طرف غلط نسبت کی ہے اور جن لوگوں نے مطلقاً یہ بات کہہ دی کہ کسی بھی مذہب میں مالی سزا جائز نہیں ہے، ان لوگوں کی یہ بات بالکل بلا دلیل ہے ؛ کیوں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات ثابت نہیں ہے، جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہو کہ تمام مالی سزائیں حرام ہیں ؛ بلکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء راشدین اور اکابر صحابہ کا اس ( مالی تعزیر ) پر عمل رہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے‘‘۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ : ۲۸؍۱۱۱)

    علامہ ابن قیمؒ نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جو لوگ تعزیر مالی کے نسخ اور عدم جواز کے قائل ہیں، دراصل ان کا مذہب کسی یقینی دلیل کی بنیاد پر نہیں ؛ بلکہ قبول اور رد کے اندازہ پر قائم ہے :
المدعون للنسخ لیس معہم کتاب ولا سنۃ، ولا إجماع یصح دعواہم، إلا أن یقول أحدہم، مذہب أصحابنا عدم جوازہا، فمذہب أصحابہ عیار علی القبول والرد۔
’’جو لوگ نسخ کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے ساتھ نہ کتاب ہے، نہ ہی سنت اور نہ اجماع سے ہی ان کے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے، پھر بھی ان میں سے ہر ایک یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب عدم جواز کا ہے، چنانچہ ان کے اصحاب کا مذہب قبول و رد کے اندازہ پر قائم ہے‘‘۔ (جامع الفقہ لإبن القیم : ۶؍۵۰-۵۴۹، ترتیب، یسریٰ السید محمد ( ط : دارالصفاء، بیروت )

حنفیہ کی رائے:

    تعزیر مالی کے سلسلہ میں احناف کا راجح مسلک عدم جواز ہی کا ہے، علامہ شامیؒ لکھتے ہیں :
والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال۔
’’حاصل یہ ہے کہ صحیح مذہب تعزیر میں مال کا نہ لینا ہے ‘‘۔(ردالمحتار : ۶؍۱۰۶، نیز دیکھئے : البحر الرائق : ۵؍۶۸)
لیکن علامہ ابن ہمامؒ نے نقل کیا ہے کہ امام ابویوسفؒ تعزیر مالی کے جواز کے قائل تھے۔
وعن أبی یوسف : یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال۔
’’امام ابویوسفؒ سے مروی ہے کہ سلطان کے لیے تعزیراً مال کا لینا جائز اوردرست ہے‘‘۔ (فتح القدیر : ۵؍۱۱۲، نیز دیکھئے : تاتار خانیہ : ۵؍۱۴۰۰، البحر الرائق : ۵؍۶۸، بنایہ شرح ہدایہ : ۶؍۳۹۱)

    لیکن امام ابویوسفؒ کے اس قول کا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ بطور زجر کے ایک مدت تک حاکم اسکے مال کو اپنے پاس رکھے گا، پھر واپس کردے گا :
أن معنی التعزیر بأخذ المال، إمساک شیٔ من مالہ عنہ مدۃ لینزجر، ثم یعیدہ الحاکم إلیہ۔
’’تعزیراً مال لینے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے مال لے کر زجزاً کچھ دن اپنے پاس رکھے، پھر حاکم اسے لوٹا دے‘‘۔(البحر الرائق : ۵؍۶۸، نیز دیکھئے : بزازیۃ مع الہندیۃ : ۶؍۴۲۷، ردالمحتار : ۶؍۱۰۶)

    صاحبِ خلاصۃ الفتاویٰ نے امام ابویوسفؒ کے قول جواز اور طرفین کے قول عدم جواز کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ اگر قاضی یا والی مناسب سمجھے تو تعزیراً مال لینا جائز ہے :
ألتعزیر بأخذ المال، إن برأی القاضی أو الوالی جاز۔
’’تعزیراً مال کا لینا اس وقت جائز ہے، جب قاضی یا والی اس کو بہتر سمجھے ‘‘۔( تاتار خانیہ : ۵؍۱۴۰)

    فقہ حنفی کے ممتاز فقیہ علی ابن خلیل طرابلسی نے امام ابویوسفؒ کے قول کو ترجیح دی ہے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے، جنھوں نے مالی سزا کو منسوخ مانا ہے:
یجوز التعزیر بأخذ المال، وہو مذہب أبی یوسف، وبہ قال : مالک، ومن قال : إن العقوبہ المالیۃ منسوخۃ، فقد غلط علی مذاہب الأئمۃ نقلاً واستدلالاً، ولیس بسہل دعوی نسخہا۔
’’مالی تعزیر کا جواز امام ابویوسفؒ کا مسلک ہے اور اسی کے قائل امام مالکؒ بھی ہیں اور جن لوگوں نے مالی سزاؤں کے نسخ کا دعویٰ کیا ہے، ان لوگوں نے مذاہب ائمہ کی طرف روایت اور استدلال کے طورپر غلط نسبت کی ہے اور ان کے نسخ کا دعویٰ آسان نہیں ہے ‘‘۔(معین الحکام : ۹۵)

مذکورہ بالا فقہی عبارتوں سے معلوم ہوا کہ:
    ۱- امام ابوحنیفہؒ، امام محمدؒ، امام شافعیؒ ( قول جدید کے مطابق ) اور امام احمد بن حنبلؒ تعزیر مالی کے عدم جواز کے قائل ہیں، تاہم علامہ ابن تیمیہؒ اور علامہ ابن قیمؒ نے امام احمدؒ کے مسلک کے مطابق احادیث و آثار سے بہت ساری ایسی مثالوں کی تخریج کی ہے، جن سے تعزیر مالی کا جواز نکلتا ہے۔

    ۲- امام ابویوسفؒ، امام شافعیؒ ( قول قدیم کے مطابق ) اور امام مالکؒ ( مشہور قول کے مطابق ) تعزیر مالی کے جواز کے قائل ہیں۔

    اب غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ عدم جواز کے قائلین کے دلائل کیا ہیں ؟ تواس سلسلہ میں ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ شریعت سے اس قسم کا ثبوت نہیں ملتا ہے، اس کا جواب علامہ ابن تیمیہؒ نے بہت ساری مثالوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی سزاؤں کا ثبوت ملتا ہے۔ (دیکھئے : فتاویٰ ابن تیمیہؒ : ۲۸ ؍۱۱۶-۱۱۰)

    ان حضرات کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر مال لینے کی اجازت دیدی جائے تو حکام من مانی کریں گے اور جس طرح چاہیں اور جتنا چاہیں گے مال وصول کریں گے، اس طرح حرام کمائی کا ایک راستہ نکل آئے گا، اس کا جواب عبد القادر عودہ نے اپنی کتاب ’’ ألتشریع الجنائی الإسلامی مقارناً بالقانون الوضعی‘‘ میں دیا ہے، وہ لکھتے ہیں :
وفی عصرنا الحاضر حیث نظمت شئون الدولۃ وروقیت أموالہا وحیث تقرر الھیئۃ التشریعیۃ الحد الأدنی والحد الأعلی للغرامۃ، وحیث ترک توقیع العقوبات للمحاکم، لم یعد ہنا محل للخوف من مصادرۃ أموال الناس بالباطل۔
’’اور ہمارے زمانہ میں جب کہ حکومت کی تنظیم ہوچکی ہے اور مال کی نگرانی ہوتی ہے اور قانون نے جرمانہ کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم مقدار متعین کردی ہے اور جب کہ سزاؤں کا متعین کرنا کچہریوں کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، اب باطل طریقہ سے لوگوں کے مال کھانے کا خوف اور اندیشہ بالکل بے جا ہے‘‘۔ (ألتشریع الجنائی الإسلامی : ۱؍۶۱۰)

    ایک بات یہ بھی ہے کہ اب مالی جرمانہ کا گویا تعامل ہوگیا ہے، ہر جگہ کسی جرم کے بدلہ میں مالی سزا ہی دی جاتی ہے اور فقہ اسلامی کی رو سے تعامل پر عمل کرنا جائز ہوجاتا ہے۔

    ایک بات یہ بھی کہ مالی جرمانہ ایک تعزیر ہے اور تعزیر کے سلسلہ میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ حالات کی مناسبت سے جو بہتر ہوسکتا ہے، وہ سزا منظور کی جائے، جس طرح زانی کی سزا کے تعلق ہے کہ حاکم اگر مناسب سمجھے تو جلاوطن کرسکتا ہے۔

    اس پہلو سے بھی غور کیاجانا چاہیے کہ ہر زمانہ میں ایک ہی تعزیر ممکن نہیں ہے؛ بلکہ ہر شہر میں ممکن نہیں ہے، لہٰذا زمانہ اور شہر کے اعتبار سے بھی تعزیرمیں فرق ہوتا ہے:
قال القرافی : إن التعزیر یختلف بإختلاف الأمصار والأمصار، فرب تعزیر فی بلاد یکون إکراما فی بلد أخر کقلع الطیلسان بمصر تعزیر وفی الشام إکرام۔
’’قرافی نے کہا کہ تعزیر زمانہ اور شہر کے بدلنے سے بدلتا ہے، چنانچہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک شہر میں جس کو تعزیر سمجھا جاتا ہو، دوسرے شہر میں اسی کو عزت سمجھا جاتا ہو، جیساکہ چادر اتارنا مصر میں تعزیر شمار ہوتا ہے، جب کہ شام میں عزت تصور کیا جاتا ہے‘‘۔ (ألفروق : ۴؍۱۸۳، الفرق السادس والأربعون والمائتان)

    برصغیر کے ممتاز فقیہ علامہ عبد الحیٔ لکھنویؒ کی بھی رائے یہی تھی کہ ’’ تنبیہ کے لیے جرمانہ لینا جائز ہے‘‘، (دیکھئے : مجموعۃ الفتاویٰ ( مترجم، کتاب القضا، استفتاء نمبر : ۲ ) ۳؍۵۳)، تنبیہ کے لیے مالی جرمانہ لینے کے جواز پر امارت شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ کا بھی فتویٰ ہے۔ (دیکھئے : فتاویٰ امارت شرعیہ : ۱؍۲۵۷، ۲۹۰)

    مولانا ظفر احمد عثمانی (اعلاء السنن : ۱۱؍۶۸۸)، مولانا مجیب اﷲ ندویؒ( اسلامی فقہ : ۳؍ ۲۸۱) اور استاذ گرامی قدر حضرت مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی حفظہ اﷲ ورعاہ بھی تعزیر مالی کے جواز کے قائل ہیں، استاذ محترم تحریر فرماتے ہیں :
’’اس وقت اسلام کے قانونی حدود و تعزیرات کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل، جو سماجی طورپر حل کئے جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی وحدتیں بعض منکرات کا مقابلہ کررہی ہیں، ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ مالی جرمانوں کے ذریعہ وہ ان جرائم کی روک تھام کی سعی کریں، یوں بھی عملاً اس زمانہ میں مالی تعزیر کی بڑی کثرت ہوگئی ہے اور ریلوے، ٹریفک، بس وغیرہ میں کثرت سے اس کا تعامل ہے ؛ اس لیے راقم الحروف کا رجحان ہے کہ اس کی اجازت ہونی چاہیے‘‘۔ (قاموس الفقہ : ۲؍۴۷۹، لفظ : تعزیر، نیز تفصیل کے لیے : جدید فقہی مسائل : ۳؍ ۲۴۹-۲۴۴)

    بہر حال ! موجودہ حالات میں تعزیر مالی کے جواز میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے، اس لیے اسے جائز ہونا چاہیے۔ہذاماعندی، واللہ اعلم بالصواب!



Sunday, 27 December 2020

مادۂ منویہ(Sperm) کی خریدوفروخت


 مادۂ منویہ کی خریدوفروخت

شریعت کی نظر میں


محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


جدیدمیڈیکل سائنس کی ترقیوں نے بعض ایسی چیزوں کوبھی ممکن بنادیاہے، جن کاتصوربھی ماضی میں نہیں کیا جاسکتا تھا؛ لیکن اس کے نتیجہ میں کئی ایسی چیزوں کابھی وجودہواہے، جو شرافت ِانسانی کے سراسرخلاف ہے؛ لیکن مادیت پرست اس دنیامیں شرافت انسانی کی فکرکس کوہے؟ یہاں توبس کام نکلنے کی بات چلتی ہے، اس کے لئے خواہ کسی بھی سطح تک گرناپڑجائے؟

شرافت ِانسانی سے گری ہوئی انہی چیزوں میں سے ایک ’’مادۂ منویہ کی خرید وفروخت ‘‘ بھی ہے، جس کے لئے کئی ممالک میں باقاعدہ بینک بھی قائم کئے گئے ہیں اورکئی افرادایسے بھی ہیں، جنھوں نے اسی کو اپنا پیشہ بھی بنارکھاہے، ایسے میں بحیثیت مسلمان ہمیں غورکرنے کی ضرورت ہے کہ کیاایساکرنا شریعت کی نگاہ میں درست ہے ؟

اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ منی انسان کے اُن اجزاء میں سے ہے، جس کے اندربڑھوتری ہوتی رہتی ہے اورآدمی کی تندرستی کے ساتھ ساتھ اس کے عطیہ کرنے میں بظاہرکوئی جسمانی نقصان بھی نہیں ہے، جب کہ اُس مریض کے لئے ، جونامردی یا بانجھ پن سے متاثرہے، سراسرنفع بخش بھی ہے، نیز حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد، امام داؤد، امام ابوثور، اسحاق بن راہویہ اورابن منذررحمہم اللہ کے نزدیک منی پاک ہے، اورپاک ہونے کی وجہ سے اس کی خریدوفروخت بھی اُن حضرات کے اصول کے مطابق جائز ہونی چاہئے، شافعی فقیہ تقی الدین ابوبکرمحمدالحسینی لکھتے ہیں: 

ویصح بیع کل طاہرمنتفع بہ مملوک۔ (کفایۃ الأخیار، کتاب البیوع: ۳۲۹، ط: دارالکتب العلمیۃ، بیروت۲۰۰۱ء)

ہرپاک ،قابل انتفاع، مملوک چیز کی بیع درست ہے۔

لیکن اگر اس اصول کواپنایاجائے تو شریعت کے مقاصد اصلیہ میں سے ایک اہم مقصد ’’حفاظت نسل‘‘کی تفویت لازم آتی ہے؛ حالاں کہ اِسی مقصد کی حفاظت کے لئے شریعت نے ’’الولدللفراش، وللعاہرالحجر‘‘(بخاری، باب الحلال بین والحرام بین وبینہمامشتبہات، حدیث نمبر:۲۰۵۳)کا حکم سنایاہے، نیزیہ مقصد ’’ضروریات خمسہ‘‘میں سے ہے، جس کی رعایت بہرکیف ترجیحی طورپر کی جائے گی، علامہ شاطبیؒ لکھتے ہیں:

فأماالضروریۃ: فمعناہا أنہ لا بد منہا فی قیام مصالح الدین والدنیابحیث إذفقدت لم تجرمصالح الدنیاعلی استقامۃ؛ بل علی فساد وتہارج، وفوت حیاۃ۔ (الموافقات، فی بیان قصد الشارع فی وضع الشریعۃ: ۲ / ۱۸-۱۷)

جہاں تک ضروریات کا تعلق ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ دین ودنیاکی مصلحتوں کے قیام کے لئے اس طرح ضروری ہیں کہاگراُن میں کوئی ایک بھی فوت ہوگیا تودنیاوی مصلحتیں درستگی پرقائم نہیں رہ سکتیں؛ بل کہ فسادوبگاڑپیدااورزندگی ختم ہوکررہ جائے گی۔

علامہ شاطبیؒ کے اس قول کی تصدیق اس زمانہ کی ایڈزجیسی بیماری سے ہوتی ہے،لہٰذا اس جیسی بیماری، اختلاط نسب اوربے ستری وغیرہ سے بچاؤکوپیش نظررکھتے ہوئے مادۂ منویہ کی خرید وفروخت کی ممانعت ہونی چاہئے، نیزیہ زناسے مشابہ بھی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا صریح ارشادہے:

لاتقربواالزنا إنہ کان فاحشۃ ومقتا، وساء سبیلا۔(الإسراء: ۳۲)

زناکے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بہت ہی بری چیزہے، اوربہت ہی براراستہ ہے۔

پھر اس میں ’’استمناء بالید‘‘(ہاتھ سے منی کااخراج) بھی لازم آتاہے، جودرست نہیں ہے،اللہ تعالیٰ مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتاہے:

وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ٭إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْْرُ مَلُومِیْنَ٭فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء  ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُونَ۔(المومنون: ۵-۷) 

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ٭ مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو اُن کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں٭ اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔

اس آیت میں(فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء  ذَلِک فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُونَ) کی تشریح کرتے ہوئے حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

فلایحل العمل بالذکر؛إلافی زوجۃ أو فی ملک الیمین، ولایحل الاستمناء۔واللہ أعلم۔ (أحکام القرآن للشافعی، ص: ۲۱۰)

ذکر(آلۂ تناسل)کاعمل صرف بیوی اورباندی میں درست ہے اوراستمناء(ہاتھ سے منی نکالنا) جائزنہیں ہے۔

اسی طرح محمدامین شنقیطی لکھتے ہیں:

تدل بعمومہا علی منع الاستمناء بالید المعروف بجلدعمیرۃ، ویقال لہ: الخضخضۃ؛ لأن من تلذذبیدہ؛ حتی أنزل منیہ بذلک، قد ابتغی وراء ماأحلہ اللہ، فہو من العادین بنص ہذہ الآیۃ الکریمۃ المذکورۃ ہنا۔ (أضواء البیان فی إیضاح القرآن بالقرآن:۵؍۵۲۳)

آیت کاعموم ہاتھ سے مشت زنی کی ممانعت پردلالت کرتاہے، جوجلدعمیرہ کے نام سے معروف ہے اورجسے خضخضہ کہاجاتاہے؛ کیوں کہ جوشخص ہاتھ سے لذت کوشی کرتاہے؛ یہاں تک کہ اس طریقہ سے اس کی منی نکل آئے تووہ اس چیزکے علاوہ کوچاہنے والاہوتاہے، جواللہ نے اس کے لئے حلال کیاہے، بس یہاں پرمذکورمنصوص آیت کریمہ کی روسے حدسے تجاوز کرنے والاہے۔

 الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

الاستمناء بالید إن کان لمجرد استدعاء الشہوۃ فہوحرام فی الجملۃ۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، لفظ: استمناء: ۴؍۹۸)

ہاتھ سے مشت زنی، اگریہ صرف خواہش کوختم کرنے کے لئے ہے توفی الجملہ حرام ہے۔

اورجب عام حالت میں مشت زنی حرام ہے توپھرخریدوفروخت کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟اِس لئے نہ تومادۂ منویہ کی خرید وفرخت درست ہے اورناہی بینک کوعطیہ دینادرست ہے؛ البتہ چیک اپ وغیرہ کے لئے لیپ میں دینے کی گنجائش ہے- واللہ اعلم بالصواب وعلمہ أتم وأحکم!

منصف جمعہ سپلیمنٹ ۱؍۱؍۲۰۲۱


Friday, 25 December 2020

تقریب بین المذاہب: قبول وناقبول صورتیں

 تقریب بین المذاہب: قبول وناقبول صورتیں

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


آج کل تقریب بین المذاہب کامسئلہ کافی عروج پرہے، اس کے لئے کانفرنسیںبھی منعقدکی جاتی ہیں اورورک شاپ بھی اورخصوصیت کے ساتھ جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں رہتے ہیں، وہاں اس کی کوششیں چل رہی ہیں؛ تاکہ نفرت کے ماحول سے نکل کرکھلی فضا میں سانس لی جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ کیااس کی گنجائش ہے؟ اگرہے توکس دائرہ تک؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تقریب بین الادیان کی دوصورتیں ہیں:

(الف)  ناقابل قبول  :  اس سے مراد وہ تقریب ہے، جودین ومذہب کی شناخت کوہی مٹادے اوران عقائدکوقبول کرنے کی دعوت دے، جواسلام کی بنیاد کونیست ونابودکردے، جیسے: اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اوتاروں کی شرکت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق سے عقیدۂ تثلیث وغیرہ کی دعوت تویہ ناقابل قبول ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کاواضح فرمان ہے:إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدِ افْتَرَی إِثْماً عَظِیْماً۔(النساء: ۴۸)’’اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے، معاف کر دے اور جس نے اللہ کاشریک مقرر کیا اُس نے بڑا بہتان باندھا‘‘ ۔

اسی طرح حضرت عیسیٰ کے متعلق ارشادہے: یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ إِلاَّ الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَلاَ تَقُولُواْ ثَلاَثَۃٌ انتَہُواْ خَیْْراً لَّکُمْ إِنَّمَا اللّہُ إِلَـہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ أَن یَکُونَ لَہُ وَلَدٌ لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَات وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَفَی بِاللّہِ وَکِیْلاً۔ (النساء: ۱۷۱)’’اے اہلِ کتاب! اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ اللہ تھے اور نہ اس کے بیٹے بلکہ) اللہ کے رسول اللہ اس کا کلمۂ (بشارت) تھے جو اُس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور (یہ) نہ کہو (کہ اللہ) تین (ہیں اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ ہی اکیلا معبود ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اللہ ہی کارساز کافی ہے‘‘ ۔

(ب)  قابل قبول  :  قابل قبول سے مرادیہ ہے کہ مندرجہ ذیل بنیادوں پرمختلف مذاہب کے درمیان تقریب درست ہے:

۱-  مناسب ترین طریقہ سے گفتگو  :  قرآن مجید نے ہمیں اپنے مخالفین سے مناسب لہجہ میں بات کرنے کاحکم دیاہے؛ چنانچہ ارشادباری ہے:ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔(النحل:۱۲۵)’’(اے پیغمبر!) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے رب کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو، جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا رب اُسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں اُن سے بھی خوب واقف ہے‘‘ ۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاہے کہ مخالفین سے گفتگومناسب ترین طریقہ سے ہی کی جائے، اسی طرح اہل کتاب سے متعلق صراحت کرتے ہوئے فرمایاگیاہے:وَلَا تُجَادِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِیْ أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْْکُمْ وَإِلَہُنَا وَإِلَہُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔(العنکبوت: ۴۶)’’اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو اُن میں سے بے انصافی کرے (اُن کیساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں ‘‘۔

۲-  مشترکہ امورپرتوجہ  :  تقریب بین المذاہب میں گفتگوان امورپرہو، جومشترکہ ہوں، مشترکہ مفاد کے لئے ہوں، جیسے: اللہ کے ایک ہونے پرگفتگو؛ کیوں کہ اہل کتاب اوربرادران وطن دونوں کے یہاں یہ مشترک ہے، اوپروالاایک ہے، اختلاف دوسری چیزوں میں ہے، لہٰذا گفتگوکاآغاز یہاں سے ہو، گفتگوملکی مسائل پرکی جائے، عوامی فائدہ کی بات کی جائے، امن وبھائی چارے کی کی جائے، تعلیم پرہو، بے روزگاری پرہو، اخلاقی برائیوں پرہو، فحاشی، جنسی بے راہ روی، اسقاط حمل اور ہم جنس کی شادی کی خرابیوں پرہواورقائدین کی بے توجہی پرہو، یہ اوران جیسے امورپرگفتگوہونی چاہئے کہ یہ ہر ایک کے لئے دلچسپی کی بات بھی ہیں اورمذہب کے تعلق سے کسی پرآنچ بھی نہیں آتی۔

۳-  انصاف اورمظلوموں کی حمایت میں باہمی تعاون  :  دنیابھرکے مظلومین کے تعلق سے بات کی جائے اورظالمین کے خلاف قراردادپاس کی جائے اورخصوصیت کے ساتھ اپنے اپنے ملکوں میں ہورہے ظلم کے خلاف آوازبلندکرنے کی بات ہو، ’’معاہدۂ حلف الفضول‘‘ سے بھی ہمیں یہ سبق ملتاہے۔

۴-  تشدداورتعصب کے خلاف گفتگو  :  موجودہ زمانہ میں تشدداورتعصب کے مزاج نے کافی رواج پایاہے، اس کے اسباب اوراس کی روک تھام پرگفتگوہو، خصوصیت کے ساتھ جولوگ اس مزاج کے حامل ہیں، ان سے قربت پیداکرنے اورراہ راست پرلانے کے تعلق سے بات چیت ہو۔

۵-  درگزرکامزاج عام کرنا  :  موجودہ زمانہ کے لوگوں کامزاج انتقامی ہوچکاہے، جس کے نتیجہ میں قتل تک کی نوبت آجاتی ہے، ایسے میں درگزر اور معاف کرنے کے مزاج کورواج دینے پربات ہونی چاہئے، رحم دلی، ہم دردی، غم خواری اور ایک دوسرے سے تعان کاجذبہ پیداکرنے پرگفتگو ہو۔

یہ اوران جیسے امورپراگرگفتگوہواوران کے تعلق سے تقریب بین الادیان کی بات کی جائے توقابل قبول صورت ہے۔

jamiljh04@gmail.com / 8292017888




Sunday, 20 December 2020

سیاسی اتحاد : وقت کی ضرورت



 سیاسی اتحاد : وقت کی ضرورت

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


کوئی بھی قوم اپناسرداراس لئے منتخب کرتی ہے؛ تاکہ وہ پوری قوم کے تعلق سے بھلاسوچے، برائی کوٹالے، اس کی تعمیراورترقی کے راستے ہموارکرے، جمہوری نظام میں یہی چیزالیکشن کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے، پارٹیوں کوووٹ اسی لئے قوم دیتی ہے اورکئی پارٹیوں کے مقابلہ میں کسی ایک پارٹی کوزیادہ ووٹوں سے جتاکر اسے حکومت کی کرسی پربٹھاتی ہے، اسی لئے جب الیکشن کاوقت آتاہے توہرپارٹی اپنامنشورجاری کرتی ہے اورقوم کے سامنے یہ واضح کرتی ہے کہ اگرہماری حکومت قائم ہوجاتی ہے توہم ملک وقوم کوفلاں فلاں سہولتیں فراہم کریں گے، آج بھی وہ ممالک، جن کوہم ترقی یافتہ کہتے ہیں، الیکشن میں عمومی طورپراس طرح دھاندلی وہاں نہیں ہوتی، جس طرح کی دھاندلیاں ترقی پذیر ممالک میں اورخصوصیت کے ساتھ برصغیر میں ہوتی ہے۔

برصغیرمیں پارٹیوں کے منشورصرف فارملٹی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں، یہاں کی عوام کی اکثریت چوں کہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتی؛ اس لئے یہاں کے سیاست داں ان کی جہالت کاخوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں، منشورکچھ نکالتے ہیں اورکام کچھ اورکرتے ہیں، یہ اکثرپارٹیوں کامسئلہ ہوتاہے، کچھ کم اورکچھ زیادہ؛ لیکن ہمارے بھارت کے برسراقتدار پارٹی توحد سے تجاوزکرچکی ہے، شایدہی کسی پارٹی کے کرنی اورکتھنی میں اتنافرق رہاہو، اس پارٹی سے قبل یہاں اکثروبیشترکانگریس کی حکومت رہی، جس وقت ملک آزادہوا، اس وقت ملک کی حالت کیاتھی اورکانگریس کے دوراقتدارمیں کہاں تک پہنچی اوراب بی جے پی کے اقتدارمیں ملکی حالت کیاہے؟ اسے لوگ کھلی آنکھوں دیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے ملک بھارت میں سیاست اس مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے، جہاں تعمیراورترقی سے کوئی مطلب نہیں، جہاں تعلیم اورتہذیب کوئی اہم چیز نہیں، بس لوگوں کے ذہن ودماغ میں ایسی چیزداخل کرناہے، جواسے اپنی طرف کھینچ لے، اوراس میں سب سے زیادہ اس وقت کامیاب بی جے پی ہے،یہ چوں کہ آر ایس ایس کی سیاسی پارٹی ہے؛ اس لئے اسے وہ تمام گرمعلوم ہیں، جولوگوں کے رخ کوپھیرسکے، آج تک اس نے یہی کیاہے اوراسی کانتیجہ ہے کہ اس کے پاس دولت بھی ہے اوردولت مند بھی، وکیل بھی ہیں اور جج بھی، عہدہ داربھی ہیں اورسیاست دان بھی، لٹھ باز بھی ہیں اوربندوق برداربھی، بم باربھی ہیں اورکلاکاربھی، اس کے مقابلہ میں نہ کانگریس کے پاس کچھ ہے اورنہ ہی دوسری پارٹیوں کے پاس۔

بی جے پی کاایک خواب ہے، ایک نظریہ ہے، ایک سوچ، اسی کے تحت وہ کام کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی سے زیادہ نظریاتی پارٹی ہے اوراس وقت ملک میں جولڑائی ہے، وہ سیاسی سے زیادہ نظریاتی ہے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مادیت کے اس دوورمیں ان چیزوں پرپردہ ڈال دیاجاتاہے اوربی جے پی بے تحاشادولت خرچ کرکے ایسے لوگوں کواپنی پارٹی میں شامل کرنے کی دعوت دیتی ہے، جو حریص ہوتے ہیں اورجن کے سامنے دولت ہی سب کچھ ہوتی ہے، راجستھان میں یہی کیاگیا، اب بنگال بھی اس نے یہی چال چلی گئی اورکامیاب بھی ہوگئی، یہ سب دیکھ اورپڑھ کرلگتاہے کہ آج کل کے سیاست دان کاکوئی دھرم نہیں، ان کادھرم صرف پیسہ ہے۔

اس وقت ملک میں لڑائی بی جے پی بمقابلہ کانگریس نہیں ہے اورنہ بمقابلہ دیگرپارٹیاں ہیں؛ بل کہ اصل لڑائی نظریاتی ہے، یہ سیاسی جنگ نہیں, بل کہ نظریاتی جنگ ہے، آئیڈیالوجی کی جنگ ہے اوربدقسمتی سے اس جنگ میں ملک کے تمام لوگ ہارتے جارہے ہیں، اوربی جے پی ہرمحاذ میں اپنی جیت درج کرتی جارہی ہے، ابھی حال ہی میں بہارالیکشن کاجونتیجہ آیا، حیدرآبادکاجونتیجہ آیااوردیگرجگہوں پرجونتائج سامنے آئے ، اس سے صاف طورپریہی محسوس ہوتاہے، اس نظریہ کوسامنے رکھ کر اکثرسیاسی پارٹیاں مقابلہ نہیں کررہی ہیں؛ لیکن بی جے پی اسی نظریہ کوسامنے رکھ کرمقابلہ پراتری ہوئی ہے، اب ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح اس کامقابلہ کیاجاسکتاہے؟

بنگال میں الیکشن کی تیاری چل رہی ہے، پہلے کے مقابلہ میں وہاں بھی صورت حال خطرناک ہوتی جارہی ہے، سیاست دانوں کی منڈیاں سج چکی ہیں اورخرید وفروخت جاری ہے، ایک بڑی تعدادبک بھی چکی ہے، اب چند مزیدکی ضرورت ہے، ایسے میں آئی اے ایم آئی ایم کاوہاں جاناکیادرست ہوگا؟ یہ اس کے صدرکوسوچنے کی ضرورت ہے، اس وقت پورے ملک میں بی جے پی کی پوزیشن مضبوط ہے، اس کے مقابلہ کے لئے اتحادکی ضرورت ہے، اتحادبھی چندیاغیرمستحکم پارٹیوں کانہیں؛ بل کہ مستحکم اورتمام پارٹیوں کاضروری ہے، اگراس طرح سیاست کے میدان میں اس کوپیچھے دھکیل سکتے ہیں تونظریاتی مقابلہ میں بھی کمزورکرسکتے ہیں۔

مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی ہونی چاہئے اورمضبوط ہونی چاہئے، ان کی کئی پارٹیاں ہیں اوراپنے اپنے صوبوں میں کامیابی کے ساتھ جیت درج کررہی ہیں، ان تمام پارٹیوں کاایک مشترکہ پلیٹ فارم ہوجائے اورتمام کے مابین سیاسی اتحادقائم ہوجائے توکیایہ بہترنہیں ہوگا؟ اوراگریہ تمام مل جل کرکام کریں تویقیناً نتیجہ خیز بھی ہوگا اورکارآمدبھی، ہاں لیکن یہ اسی وقت ہوگا، جب آپس میں ایک دوسرے کوبرداشت کرنے کی طاقت پیداکرلیں، اگرنظریاتی جنگ جیتناچاہتے ہیں توپھریہ توکرناپڑے گا؛ لیکن اگردیگرسیاسی پارٹیوں کی طرح ہی مسلمانوں کوصرف ووٹ بینک سمجھ لیاجائے اوران کی تعمیر اورترقی کے بارے کچھ بھی نہ سوچاجائے توپھرایساممکن نہیں ہے، ذاتی مفاد کوتج کرقومی مفادکوترجیح دینی ہوگی، ایسی صورت میں ملک کے تمام مسلمان بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی کرناہوگاکہ جواحتجاجات برادران وطن کی طرف سے ہوں اورواقعی وہ قومی مفاد میں ہوں،سرکارکے غلط فیصلوں کے خلاف ہوں توان میں بھی ہمیں ساتھ میں جڑنا ہوگا، نیزایسے لوگوں کواپناہم نوا بنانا ہوگا، جوبی جے پی کی اس نظریاتی جنگ میں آپ کے حلیف ہیں، بل کہ پارٹی اتحاد میں انھیں بھی شامل کرناچاہئے؛ تاکہ مقابلہ میں مضبوطی آسکے، اگرایسا کیا گیا تو اس نظریاتی جنگ میں جیت ہماری ممکن ہے۔jamiljh04@gmail.com / 8292017888





Thursday, 17 December 2020

غیرمسلم کی وراثت میں مسلم فرد کاحصہ: ایک جائزہ


غیرمسلم کی وراثت میں مسلم فرد کاحصہ: ایک جائزہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


’میراث‘ ایک عربی لفظ ہے، جس کے معنی’’ چھوڑی ہوئی چیز‘‘کے آتے ہیں، اِسی کو دوسرے الفاظ میں’’ترکہ‘‘کہتے ہیں،شرعی اصطلاح (Sharia Term) میں میراث’’ اُن تمام اموال، جائداداورحقوق(جیسے: حق ِتصنیف، حق ِایجاد وغیرہ) کو کہا جاتاہے، جسے مرنے والا شخص اپنے پیچھے چھوڑکرجائے اوراُس سے کسی دوسرے شخص کاحق متعلق نہ ہو‘‘۔

مرنے والے کے مال میں’’کسی دوسرے شخص کاحق متعلق‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مال اُس کے پاس امانت یا رہن (Mortgage) کے طورپرنہ رکھاہواہو؛ کیوں کہ امانت یا رہن کے طورپررکھاہوامال کا مالک یہ مرنے والا نہیں؛ بل کہ وہ ہے، جس نے امانت یارہن رکھوایاتھا۔

میراث کی تقسیم الل ٹپ نہیں ہوتی؛ بل کہ اس کے لئے وارثین اورحصے متعین ہیں، اور جوحصے متعین ہیں، وہ یاتوخوداللہ تعالیٰ نے متعین کئے ہیں، یاحضوراکرم ﷺ نے، یاپھرصحابہ کے اتفاق سے اُن کی تعیین عمل میں آئی ہے، اورتینوں ذرائع ایسے ہیں، جن کی تعیین پرکسی قسم کا اعتراض نہیں کیاجاسکتا، اللہ تعالیٰ کی ذات پرتواِس سلسلہ میں توکچھ وہی کہہ سکتاہے، جس کی عقل ناہموارہو، جب کہ حضوراکرمﷺ کے بارے میں اِس لئے کچھ نہیں کہاجاسکتاکہ قرآن کی شہادت یہ ہے کہ آپ ﷺاپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے: وَ مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیٰ، اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُوْحَیٰ۔(النجم:۳-۴)’’اوروہ (نبی)اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے؛ بل کہ وہ تو اُن کی طرف وحی کی جاتی ہے(جس کووہ بولتے ہیں)‘‘۔اورصحابہ کے اتفاق پراِس لئے اعتراض نہیں ہوسکتاکہ اپنی خواہش سے کچھ نہ کہنے والے نبیﷺ کاارشادہے:اصحابی کالنجوم، بأیہم اقتدیتم، اہتدیتم۔ (مشکاۃ المصابیح،باب مناقب الصحابۃ حدیث نمبر: ۶۰۰۹) ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانندہیں، اُن میں سے جس کی بھی اقتداکرلو، راہ یاب ہوجاؤگے‘‘، نیزاصولیین کایہ فیصلہ ہے کہ: الصحابۃ کلہم عدول۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع التاسع: معرفۃ المرسل، ص: ۲۱۲)’’صحابہ سب کے سب عدل والے ہیں‘‘ اورجب صحابہ عدل والے ہیں توناحق کسی کا حق کسی دوسرے کونہیں دلاسکتے۔

پھرکسی بھی شخص کے وارث بننے کے لئے درج ذیل اسباب میں سے کسی نہ کسی سبب کا پایا جانا ضروری ہے، اگرکوئی ایک سبب بھی نہ پایا گیا تو وراثت نہیں ملے گی:

۱- نسب:  وارث بننے کے لئے وارث اورمورث کے درمیان نسبی تعلق ہوناضروری ہے، یعنی وہ دونوں باپ بیٹا،باپ بیٹی، ماں بیٹا، ماں بیٹی، داداپوتا، دادی پوتی، نانی نواسہ، نانی نواسی وغیرہ ہوں، دوسرے الفاظ میں اسی کو’’اُبُوّت‘‘ اور’’بُنُوّت‘‘بھی کہتے ہیں۔

۲- نکاح:  جب کسی عورت کانکاح(جب کہ فاسد یاباطل نہ ہو) کسی مرد کے ساتھ ہوجائے تودونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔ 

۳-  ولاء:  ولاء سے مرادیہ ہے کہ کوئی کسی کویہ کہہ کرآزادکرے کہ تمہاری میراث میرے لئے ہوگی توایسی صورت میں آزادکرنے والاشخص اُس آزادکردہ شخص کی میراث کا مستحق ہوگا، اِسی کو ’’ولاء‘‘ کہا جاتا ہے، اِسی ضمن میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص دوسرے سے آکرکہے کہ آپ میرے کفیل بن جائیں، اگرمجھ سے کوئی دیت والاجرم ہوجائے توآپ اداکریں گے، اِس کے بدلہ میں آپ کواپناوارث بناتاہوں، دوسرا شخص اِس پرراضی ہوجائے، یہ معاہدہ ’’عقد ِموالات‘‘ کے نام سے جاناجاتاہے۔

۴-قرابت: بسااوقات نہ توصلبی تعلق ہوتاہے اورناہی نکاح کی وجہ سے آپس میں کوئی رشتہ داری ہوتی ہے؛ لیکن کسی دوسرے رشتہ کی وجہ سے قرابت داری ہوتی ہے، یہی ’قرابت ‘ کبھی کبھاروراثت ملنے کا سبب بھی بنتی ہے، جسے اصطلاح میں’’ذوی الأرحام‘‘کہتے ہیں۔

پھریہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ جس طرح وراثت کے استحقاق کے لئے کچھ اسباب کا پایاجاناضروری ہے، اسی طرح بعض دفعہ میراث کے مستحق ہونے کے باوجود بعض اسباب کی وجہ سے وراثت سے محرومی بھی ہاتھ آتی ہے اورحقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے تقسیم میراث میں ایک قسم کااعتدال پیداہوتاہے، ورنہ آج کے دین بیزاراورمادیت کے خوگردور میں نہ جانے کتنے جان دہلادینے والے واقعات رونماہوجاتے، یہ اسباب درج ذیل ہیں:

۱- قتل:  اگرکوئی وارث اپنے مورث(جس کی میراث ملنے والی ہے)کوکسی شرعی سبب (یعنی قصاص کے علاوہ)کے بغیرہی قتل کردے توایساوارث وراثت سے محروم ہوگا، قتل کے اندرچارقسم کے قتل شامل ہیں، جس کی وجہ سے میراث سے محرومی ہوتی ہے: (۱) جان بوجھ کرکسی ہتھیاریاہتھیارکے قائم مقام چیز سے قتل کردے، جسے اصطلاح میں’’قتلِ عمد‘‘کہتے ہیں(۲) کسی ہتھیاریاہتھیارکے قائم مقام چیز سے توقتل نہ کرے؛ لیکن جان بوجھ کرایسی چیزسے قتل کرے، جس سے عموماًآدمی مرہی جاتاہے، جسے اصطلاح میں’’شبہ ِعمد‘‘ کہتے ہیں (۳) غلطی سے اپنے مورث کوقتل کردے، مثلاً: کسی جانورکاشکار کر رہا تھا کہ اچانک مورث سامنے آگیا اوراُسے قتل کردیا، جسے اصطلاح میں’’خطاء‘‘ کہتے ہیں (۴) اَن جانے میں کسی کوقتل کردے، مثلاً: درخت سے کسی کے اوپر گر گیا، جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوگیا، جسے اصطلاح میں’’شبہ ِخطاء‘‘ کہتے ہیں، قتل کی یہ چاروں قسمیں ایسی ہیں، جن میں یاتوقصاص لازم ہوتاہے یاکفارہ، لہٰذ ا اِن چاروںصورتوں میں میراث سے محرومی ہاتھ لگے گی۔

۲- اشتباہِ موت: اگروارث اورمورث کی وفات ایک ساتھ ہوجائے، مثلاً: دونوں ایک کشتی میں سوارتھے اور کشتی ڈوب جائے یاایک گھر میں سورہے تھے اورگھرمیں آگ لگ جائے اوریہ پتہ نہ چل سکے کہ کس کی موت پہلے واقع ہوئی ہے توایسی صورت میںیہ دونوں ایک دوسرے کی میراث سے محروم رہیں گے؛ البتہ اِن کے مال ومتاع اِ ن کے زندہ وارثین کے درمیان تقسیم کیاجائے گا۔

۳-اشتباہِ وارث:اگروارث کے سلسلہ میں یہ اشتباہ پیدا ہوجائے کہ وہ وارث ہے یانہیں، جیسے: کسی خاتون نے اپنے بچے کے ساتھ دوسرے بچے کوبھی دودھ پلایا، پھراُس خاتون کی موت ہوگئی اوریہ پتہ لگانا مشکل ہوگیاکہ اُس عورت کا اپنابچہ کون ساہے؟ توایسی صورت میں اُن دونوں بچوں میں سے کسی کو اُس خاتون کی میراث نہیں ملے گی؛ کیوں کہ وارث ہونے اورنہ ہونے کاشبہ میراث سے محرومی کا سبب ہوتاہے۔

۴- نبوت:نبوت بھی میراث سے محرومی کا سبب ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺکی حقیقی اولادمیں سے کسی فردکوآپﷺکی میراث نہیں ملی؛ بل کہ خودآپﷺکا ارشادہے: إنَّ الْأنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَاراً وَلَادِرْہَماً۔ (سنن أبی داود،باب الحث علی طلب العلم،حدیث نمبر: ۳۶۴۳)’’انبیاء دینارودرہم (مال ودولت) کے وارث نہیں بناتے‘‘۔

۵۔ واسطہ کی موجودگی : ذوالواسطہ(جیسے: دادا، پوتاوغیرہ) کے وراث بننے کے لئے ضروری ہے کہ خودواسطہ موجودنہ ہو، مثلا: داداکے وارث بننے کے لئے ضروری ہے کہ میت کا باپ موجودنہ ہو؛ کیوں کہ میت تک رشتہ داری قائم کرنے والا واسطہ باپ موجودہے، لہٰذا داداکے وارث بننے کے لئے واسطہ (باپ) کی عدم موجودگی ضروری ہے۔

۶- اختلافِ دین:مذکورہ بالااسباب میں سے ایک سبب ’’اختلاف دین‘‘ کوبھی ذکرکیاجاتاہے،یعنی اگرایک شخص مسلمان ہے اوردوسراغیرمسلم تواِن دونوں کے درمیان وراثت کی تقسیم عمل میں نہیں آئے گی؛ کیوں کہ دین کامختلف ہوناوراثت سے محروم کردینے کا ذریعہ ہوتاہے، اسی دائرہ میں وہ شخص بھی آئے گا، جوپہلے تومسلمان تھا؛ لیکن اب اسلام کوچھوڑکر (نعوذباللہ) دوسرامذہب اختیارکرلیاہے، جسے ’’ارتداد‘‘کہتے ہیں، ایسا شخص بھی وراثت سے محروم ہوگا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ وراثت سے محروم کردینے والے اس سبب میں اختلاف ہے؛ چنانچہ جمہورفقہاء کے نزدیک یہ اسباب ِمحرومی میں شامل ہے ، جن میں خلفائے راشدین اور ائمۂ اربعہ بھی ہیں، ان کی دلیل مندرجہ ذیل احادیث ہیں: 

۱-  لایرث المسلمُ الکافرَ، ولاالکافرُ المسلمَ۔ (بخاری، باب لایرث المسلم الکافر…، حدیث نمبر: ۶۷۶۴، و مسلم، کتاب الفرائض، حدیث نمبر: ۱۶۱۴)’’نہ مسلمان کافرکاوارث ہوگا اورنہ کافرمسلمان کاوارث ہوگا‘‘۔

۲-  لایتوارث أہل ملتین شتی۔ (مسنداحمد: ۲؍۱۷۸ و۱۹۵، حدیث نمبر:۶۸۴۴، ابوداود، حدیث نمبر: ۲۹۱۳، سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۱۰۸) ’’دومختلف ملت والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے‘‘۔

البتہ بعض صحابہ ، تابعین اورفقہاء کی رائے یہ ہے کہ مسلم کوکافرکاوارث بنایاجاسکتاہے؛ چنانچہ حضرت عمر، حضرت معاذ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انھوں نے مسلمان کوکافرکاوارث بنایا؛ البتہ کافرکومسلمان کاوارث نہیں بنایا، یہی محمد بن الحنفیہ، علی بن حسین، سعیدبن المسیب، مسروق، عبداللہ بن معقل، شعبی، یحی بن یعمر اوراسحاق رحمہم اللہ سے بھی حکایت کی گئی ہے( المغنی لابن قدامۃ: ۹؍۱۵۴)۔ 

امام احمد، امام ابوداواورحاکم نے نقل کیا ہے کہ یحی بن یعمرکے پاس یہودی اورمسلم دوبھائیوں نے اپنے کافربھائی کی میراث کے تعلق سے مقدمہ دائرکیا، توانھوں نے مسلم کووارث بنایا اوراس کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:حدثنی أبوالأسود أن رجلاً حدثہ، أن معاذاً حدثہ أن رسول اللہ ﷺ قال: الإسلام یزید ولاینقص۔ (مسنداحمد: ۵؍۲۳۰و ۲۳۶، سنن أبی داود، حدیث نمبر: ۲۹۱۲، ۲۹۱۳، صحیح الحاکم: ۴؍۳۴۵) ’’مجھ سے ابوالاسودنے بیان کیاکہ ایک شخص نے ان سے بتایا کہ (حضرت) معاذؓنے اسے بتایاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اضافہ کرتاہے، کم نہیں کرتا‘‘۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:الإسلام یعلو، ولایعلی۔ (سنن الدارقطنی،حدیث نمبر: ۳۶۶۲، سنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر: ۱۱۹۳۵، ورواہ البخاری تعلیقاً فی باب إذا أسلم الصبی فمات، ہل یصلی علیہ وہل یعرض علی الصبی الإسلام) ’’اسلام غالب آتاہے، مغلوب نہیں ہوتا‘‘۔

حال واحوال اورزمان ومکان کودیکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ مسلم اقلیتوں کے حق میں مسلم کے وارث ہونے کی رائے کوقبول کیاجائے، ایک تواس لئے کہ صحابہ، تابعین اورفقہاء بھی اس رائے کے قائل ہیں، دوسرے اس لئے کہ بسااوقات دائرہ اسلام میں داخل ہونے والابالکل خالی ہاتھ ہوتاہے اوراس کے تعاون وامداد کرنے والے افرادبھی میسرنہیں ہوپاتے، نہ اس کے پاس اتنامال ہوتاہے کہ وہ اپنی تجارت شروع کرسکے، لہٰذا جب ملکی قانون اس کی اجازت بھی دے رہاہو اوراس کی وجہ سے اس کے ایمان کے استحکام میں اضافہ بھی ہوگاتواسے قبول کیاجاناچاہئے، عالم اسلام کے مشہورفقیہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی یہی رائے ہے، وہ فرماتے ہیں:

وأناأرجح ہذاالرأی، وإن لم یقل بہ الجمہور، وأری أن الإسلام لایقف عقبۃ فی سبیل خیرأونفع یأتی للمسلم، یستعین بہ علی توحیداللہ تعالیٰ وطاعتہ ونصرۃ دینہ الحق، والأصل فی المال أن یرصد لطاعۃ اللہ، لالمعصیتہ، وأولی الناس بہ ہم المؤمنون، فإذاسمحت الأنظمۃ الوضعیۃ لہم بمال أوترکۃ، فلاینبغی أن نحرمہم منہا، وندعہالأہل الکفر یستمتعون بہا فی أوجہ قد تکون محرمۃ أومرصودۃ لضررنا۔ (فی فقہ الأقلیات المسلمۃ، ص: ۱۲۸)

 ’’اگرچہ جمہوراس رائے کے قائل نہیں ہیں؛ لیکن ہمارے نزدیک یہ رائے راجح ہے، ہمارے نزدیک اسلام مسلمان کوحاصل ہونے والے کسی ایسے خیرکی راہ میں روکاوٹ نہیں بنتا، جس سے مسلمان توحیدوطاعت ِ خداوندی اورخدمت دین میں مدد لے اورمال کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ اس کاحصول اللہ کی اطاعت کے لئے ہو، اس کی معصیت کے لئے نہ ہو، اس کے سب سے زیادہ حق داراہل ایمان ہیں، اگرملکی قوانین مسلمان کے لئے کسی مال یاترکہ کی اجازت دیتے ہیں تو ہمیں انہیں ان سے محروم نہیں کرناچاہئے کہ اس صورت میں یہ مال کافروں کوملے گا اوروہ اسے حرام جگہوں پراستعمال کریں گے، نیز اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچیں گے‘‘۔


نمازی(افسانچہ)

 نمازی

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

وسیع وعریض چنے ہوئے دسترخوان سے ضیافت کرنے کے بعد رونمائی کے لئے بیٹی کوکرسی پربٹھاتے ہوئے فریدبابا نے کہا:

’’میری بیٹی ہے توکالج کی پڑھی؛ لیکن پابند ِشریعت ہے، نماز روزہ میں غفلت نہیں کرتی؛ بل کہ یہ توآٹھ وقت کی نمازپڑھتی ہے‘‘، اشارہ تہجد، اشراق اورچاشت کی طرف تھا۔

مہمان بھی پہنچاہوا نکلا، اس نے لڑکی سے پہلاسوال کیا:

’’بیٹی! وضو میں کتنے فرائض ہیں؟‘‘۔

جواب ندارد۔



Sunday, 13 December 2020

لو-جہاد: حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کاایک شوشہ

 لو-جہاد: حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کاایک شوشہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


گھرگھرہستی کے لئے ایک منتظم کی ضرورت پڑتی ہے، اگرگھرمیں کوئی منتظم نہ ہویاہو؛ لیکن وہ نااہل ہو، الل ٹپ فیصلے گھرکے افراد پرتھوپنے کی کوشش کرتا ہو تو گھر کا نظام درہم برہم ہوکررہ جاتاہے اورآہستہ آہستہ گھرکے تمام افرادذہنی انتشارکے شکارہوجاتے ہیں، پھرجب یہ انتشاربڑھ جاتاہے تومنتظم کی بات سننے اورماننے سے انکارکرتے دیتے ہیں اورایک دن انتظام وانصرام کی رسی اس سے چھین کرگھرکے اس فردکے حوالہ کردیتے ہیں، جوواقعتا اہل ہواورگھرکے نظام کوڈھنگ سے چلاسکتا ہو،یہی حال ملک کے تعلق سے بھی ہوتاہے، ماضی میں اس کی کئی مثالیں ہمیں ملتی ہیں؛ بل کہ عصرحاضرمیں بھی ہماری آنکھوں نے دیکھا اور ہمارے کانوں نے سناہے، دوچار سال پہلے کی ہی توبات ہے، جب عالم عرب کے کئی علاقوں میں ایساہواکہ جب لوگوں کی برداشت کا پیمانہ لبالب بھرگیا توملک کے اندرخانہ جنگی شروع ہوگئی اورپھرعوام نے برسر اقتدار حکومتوں کوبے دخل کرکے ہی دم لیا۔

اس وقت ہمارے ملک بھارت کی بھی حالت دیگرگوں ہے، حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے عوام پریشانی کی شکارہیں، بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے، جی ڈی پی کی شرح گرگئی ہے، حکومتی شعبہ جات کوعوامی کیا جارہاہے، جس کانقصان عوام کوہوگا اورفائدہ کارپوریٹ کمپنیوں کو، حکومتیں عوام کی راحت رسانی کا کام انجام دیتی ہیں؛ لیکن یہاں کی حکومت راحت چھیننے کاکام کررہی ہے، غریبوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، برسراقتدارپارٹی کے اصل نشانہ توبہ ظاہرمسلم ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشانہ پوراملک اورسارے غیربرہمن ہیں، ہندوراشٹربنانے کانعرہ ایک فریب ہے، بالکل اسی طرح، جس طرح مغرب نے آزادیٔ نسواں کانعرہ لگایااورعورتوں کی عزتوں کو سرعام نیلام کردیا۔

حکومت کی اصل منشاء ’’برہمن راشٹر‘‘ کاوجود ہے، جس میں راج برہمن کریں گے، بقیہ افرادان کے غلام ہوں گے، وہ سانس بھی ان سے پوچھ کر لیں گے، اس وقت میرے ذہن میں والدصاحب کابتا یا ہوا ایک واقعہ گردش کررہاہے، جس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں، ہمارے علاقہ میں ایک راجہ ہواکرتے تھے ، ایک دن وہ اپنے راج محل کے سامنے براجمان تھے کہ سامنے سے ایک آدمی جوتاپہن کرپاس ہوا، فوراً راجہ نے اپنے ہرکارے بھیجے اوراسے پکڑواکراپنے سامنے حاضرکروایا، کڑک دارآواز میں بولے: تمہاری یہ مجال کہ میرے سامنے سے جوتے پہن کرجاؤ، نکالوجوتے، اسی جوتے کو اس کے سرپر رسید کیا اورغالباً تھوک کرچٹوایابھی، پھرجوتے سرپررکھ واکرواپس بھیجا۔

یہاں بھی اسی قسم کے راشٹرکاوجودچاہئے، جس میں کوئی چوں چرانہ کرسکے، کوئی حکومت کے غلط فیصلوں پرروک ٹوک نہ کرسکے، روک ٹوک کرنے والے کے لئے مصیبت ہے، گوری لنگیش نے آواز اٹھائی، اس کی آواز ہمیشہ کے لئے دبادی گئی،کتنے نیوز اینکرایسے ہیں، جنھیں اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوناپڑا، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفراللہ خان نے آواز بلندکی توان پردیش دروہی کاالزام لگا دیا گیا، ان کے دفترپرچھاپہ مروایاگیا، جے این یوکی روایت پرحملہ کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلبہ پرنہ صرف یہ کہ ڈنڈے برسائے گئے؛ بل کہ ان میں سے بہت ساروں کوگرفتارکرکے کے پس دیوارزنداں ڈال دیاگیا، بنارس ہندو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پربھی ظلم ڈھائے گئے، سی اے اے کے خلاف آواز بلند کرنے والوں پربھی دیش دروہی کامقدمہ قائم کیا گیا اوربہت ساروں کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، زرعی قوانین کے خلاف جب کسانوں نے آواز بلند کی توان کوروکنے کے لئے سڑکوں تک کو کھدوا دیا گیا، واٹرکین کے ذریعہ سے ان پرحملہ کیاگیا، انھیں دیش دروہ قراردیاگیا، یہ تومالک کاکرم ہے کہ ان میں ایکتا اور اتحادہے، جس کی وجہ سے کسی کی گرفتاری ابھی تک نہیں ہوئی ہے؛ لیکن آگے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔



یہ ہے وہ راشٹر، جس کاخواب عوام کوشیشہ کے خوب صورت فریم میں سجاکرپیش کیاجارہاہے، جس کی سچائی تک لوگ ابھی تک پہنچ نہیں پارہے ہیں؛ بل کہ لوگوں کومذہب کاحشیش پلاکرنشہ میں چورکردیاگیاہے؛ تاکہ وہ اصل حقیقت تک پہنچ ہی نہ سکیں، اس کے لئے زعفرانی پارٹی کسی بھی حدتک جانے کے لئے تیارہے، ملک کے حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہوہٹانے کے لئے اورکسان آندولن سے عوام کے ذہن کومنتشرکرنے کے لئے لوجہادکاشوشہ پوری تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھایاجارہاہے، اس سے قبل کورونا کے دورمیں بھی یہی کارڈ کھیلا گیا، اپنے اورپرالزام آنے سے قبل ہی دوسروں پرڈال دیاگیا، نمستے ٹرمپ میں سیکڑوں افراداس ملک سے آئے، جہاں کورونا اپنا جال پھیلا چکاتھا؛ لیکن اس سے کورونانہیں پھیلا، کورونا پھیلا توتبلیغی جماعت سے، اس وقت بھی کئی مرتبہ کی میٹنگیں ناکام ہوچکی ہیں، کسان قدم ہٹانے کے لئے تیارنہیں، اب لوگوں کی توجہ بٹاناہے؛ تاکہ کسان آندولن کے تعلق سے جوآتش بھڑکی ہوئی ہے، وہ کم ہوجائے، اس کے لئے منتشرمسلم قوم سے بہتراورکس کومہرا بنایا جاسکتاہے؟ 

اسی لئے لوجہاد کاہوا کھڑا کیا جارہاہے، زعفرانی ٹیم کے لوگ سرگرم ہیں، آج اس کا، توکل اُس کا، روز کسی نہ کسی لیڈرکا بیان اخباروں کی زینت بن رہاہے، آج ساکشی مہاراج نے اس تعلق سے ایک شوشہ چھوڑا اور کہا کہ لوتواچھاہے؛ لیکن جہادزہرہے، ساکشی جی! آپ سے صرف ایک ونتی ہے کہ آپ کے جوبڑے لیڈران ہیں، جن کوآپ بھی سیاست کے میدان میں گرومانتے ہو، ان کی لڑکیوں اوربھتیجیوں نے مسلم لڑکوں سے بیاہ رچا کر بچے بھی پیدا کئے ہوئے ہیں، سب سے پہلے ان پربات کیجئے اوران لڑکیوں کو چھڑا کرلایئے اورجن سے ان لڑکیوں نے بیاہ کیا ہواہے، ان لڑکوں کوجیل میں بند کیجئے، آپ ایساہرگزنہیں کرسکتے؛ کیوں کہ آپ لوگ ہے ہیں دورخے، ملک کی آزادی کے وقت انگریزوں کے تلوے چاٹتے تھے ، ملک کی آزادی میں ایک پیسہ بھی آپ کاحصہ نہیں ہے، آپ نے کوئی بلیدان نہیں دیاہے، آپ کا کام تواپنی روٹی سینکنا ہے اوربس۔

آپ کے بقول لوجہاد کاعمل مسجدوں اورمدرسوں کی نگرانی میں ہوتاہے، سوال یہ ہے کہ کتنے نمازیوں نے لوجہاد کیا؟ اورکتنے مدرسے کے مولویوں نے ہندولڑکیوں سے بیاہ رچایاہے؟ کیاآپ پاس اس کی لسٹ ہے؟ اگر نہیں توبلاوجہ بات مت کیجئے، اس کے برخلاف آپ کے مدرسے ہی اس میں ملوث ہیں، مسجد مدرسے کے تعلق سے  الٹے سیدھے الزامات لگانا بند کیجئے اورملک کے جوحقیقی مسائل ہیں، ان پربات کیجئے؛ لیکن آپ نہیں کیجئے گا؛ کیوں کہ آپ لوگوں کا لکچھ ملک کی ترقی ہے ہی نہیں، آپ کوتو اپنی برتری کے لئے ایک پلیٹ فارم چاہئے اوراس کوبچانے کے لئے ایک شوشہ اوروہ ہے لوجہاد، اس کے سوا لوجہادکی کوئی حقیقت نہیں۔ 

jamiljh04@gmail.com / 8292017888




حضورﷺ : ایک اچھے دوست

 حضورﷺ : ایک اچھے دوست

    انسانی زندگی میں تعلقات کی بڑی اہمیت ہے، یہ کسی بھی انسان کو پرکھنے کے لیے نہایت اعلیٰ کسوٹی ہے، اگر کسی کے تعلقات اچھے لوگوں کے ساتھ ہیں تو اسے بھی معاشرہ میں اچھا سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اگر بروں کے ساتھ راہ ورسم ہے تو اسے سماج براہی سمجھتا ہے، تعلقات دوطرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کسی طرح انسانی خون سے جڑا ہوتا ہے، اسے ہم ’رشتہ داری‘ بھی کہہ سکتے ہیں، دوسرا وہ جو خون سے جڑاہوا نہیں ہوتا؛ لیکن بسااوقات خونی تعلق سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے، اسے ہم ’دوستی‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔

    انسانی سماج میں دوستی کی اہمیت کا کوئی بھی صاحب عقل انکارنہیں کر سکتا؛ کیوں کہ دوست ہی ایک ایساشخص ہے، جس کے نہاں خانۂ دل میں ایک انسان اپنے رازِدروں کو چھپاتا ہے، اس کے سامنے اپنے رازہائے سربستہ کو آشکاراکرتا ہے، بہت ساری وہ باتیں بھی اسے بتاتا ہے، جو اپنے خونی تعلق والے کو نہیں بتاتا، دوست دُکھ میں شریک ہوتا ہے، سُکھ میں ساتھ دیتا ہے، غم کو بانٹتا ہے، رنج کو دور کرتا ہے، تسلی بھی دیتا ہے، نصیحت بھی کرتا ہے، پیش آمدہ مسٔلہ کا حل بھی بتاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر مشورہ بھی دیتا ہے۔

    دوست دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک نیک وصالح، دوسرا بدوبُرا، صالح دوست کی مثال اُس عطارکی سی ہے، جس کے پاس خوشبوہی خوشبو ہے، اگر آپ خریدنا چاہیں تو خوشبوملے، دوست تحفہ دینا چاہے تو خوشبو ملے، اگر خریدنا نہیں ہواور دوست نے تحفہ بھی نہیں دیا تو کم ازکم جتنی دیر اُس کے پاس بیٹھنا ہوگا، ذہن و دماغ معطررہے گا؛ لیکن بُرے دوست کی مثال اُس بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے، جس کے پاس آگ اور راکھ کے سواکچھ بھی نہیں، اُس سے خریدیں گے بھی تو کیا؟ اور اگر وہ بے چارہ کچھ دینابھی چاہے تو چنگاری اور راکھ کے سواکیا دے سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کسی کو دوست بنانے سے پہلے یہ دیکھ لینے کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم کس کو دوست بنارہے ہیں ؟ کیوں کہ انسان کے اچھے یا بُرے ہونے کا مدار اس پر ہے کہ اس کے دوست کیسے ہیں ؟

صحبتِ صالح تُرا، صالح کُند

صحبتِ طالع تُرا، طالع کُند

    دوستی کی معراج یہ ہے کہ وہ بے لوث و بے غرض اور بے حرص و بے طمع ہو،غل و غش کا شائبہ تک نہ آنے پائے، کیوں کہ ادنی درجہ کی خودغرضی دوستی کے صاف شفاف آئینہ میں دراڑ پیداکرنے کے لیے کافی ہے، اسی لیے کسی کو دوست بنانے سے پہلے اس کے مزاج و مذاق اور شوق و شغف سے واقفیت ازحدضروری ہے، ذہنی اور فکری سطح کا بھی جائزہ لے لے نا چاہیے؛ تا کہ بعد میں پچھتائیوں کا لبادہ اُوڑھ کر رنجیدہ خاطری کے ساتھ کفِ افسوس نہ ملنا پڑے، اسی طرح مزاح و مذاق، ایثاروقربانی، ایفائے عہد، تکلفات کی برطرفی، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردری، غم خواری اور خیرخواہی، لغزشوں کی معافی، کوتاہیوں کو نظرانداز کردینا، ایک دوسرے کو دعاؤں میں یادرکھنا، عیبوں کو چھپانا اور معصیت سے روکنا بھی دوستی کے حقوق میں سے ہے۔

مزاح ومذاق

    جس طرح حضوردیگرشعبہائے زندگی میں ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں، اسی طرح ایک دوست کی حیثیت سے بھی ہمارے لیے نمونہ ہیں، ایک دوست بحیثیتِ دوست کبھی مزاح و مذاق کرتا ہے، آپ ﷺ نے بھی مزاح فرمایا، چنانچہ زاہرنامی ایک صحابی ص کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ بازار میں سامان فروخت کررہے تھے کہ پیچھے سے آکرحضور نے ان کی آنکھیں بند کردیں، انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ آپہیں، اس لیے انھوں نے کہا: أر سلنی (مجھے چھوڑدو)، آپ نے چھوڑدیا، جب ان صحابی نے مڑکردیکھا کہ یہ حضور ہیں تو اور زیادہ آپ کے سینۂ اطہرسے چمٹ گئے (شمائل ترمذی، ص:۱۶)، یہ مزاح یک طرفہ نہیں ہوا کرتا تھا؛ بل کہ صحابہ بھی آپ سے مزاح کرلیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک سے لوٹتے وقت حضورﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا،جب کہ آپ چمڑے کے بنے ہوئے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، چنانچہ میں نے اندرآنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ادخل(اندر آجاؤ)، میں نے کہا: أکلی یارسول اللہ؟(کیا میں پورا داخل ہوجاؤں اے اللہ کے رسول ؟)، آپنے فرمایا: ہاں ہاں ! پورے داخل ہو(ابوداؤد،باب ماجاء فی المزاح،حدیث نمبر:۵۰۰۰)

ایثار وترجیح

    دوستی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ دوست تمام معاملات میں اپنے اوپر دوست کو ترجیح دیتا ہے، خودایثارسے کام لیتا ہے، حضور کی بھی یہی عادتِ شریفہ تھی، ہمیشہ ایثارسے کام لیا کرتے تھے،چنانچہ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ احزاب کے موقع سے ہم لوگ خندق کھودنے میں مشغول تھے کہ ایک جگہ ایک سخت قسم کی چٹان آئی، صحابہ نے اس بابت آپ سے شکایت کی کہ یہ سخت چٹان ٹوٹتی نہیں، آپنے فرمایا:میں خود اترتا ہوں، یہ ایساموقع تھا کہ ہم نے تین دن سے کچھ کھایانہیں تھا، اور آپکے پیٹ پر پتھربندھے ہوئے تھے، آپ نے کدال اٹھاکر پتھر پر ضرب لگائی، پتھرمٹی کے تودے کی طرح چورچورہوگیا، حضرتِ جابر کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے گھرجانے کی اجازت طلب کی اور گھرجاکر اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں نے آپ کو ناگفتہ بہ حالت میں دیکھا ہے تو کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟اہلیہ نے کہا: کچھ جَواور بھیڑکا ایک بچہ ہے، چنانچہ میں نے بھیڑکے اس بچہ کو ذبح کیا، جو کوگوندھا اور گوشت کو چولہے پر چڑھانے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے گھر میں تھوڑا ساکھانا ہے، آپ ایک دوصحابہ کو ساتھ لے کرتشریف لے چلیں، آپ نے پوچھا کھانا کتنا ہے؟ میں نے بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایاـ:زیادہ اور پاکیزہ ہے، اپنی بیوی سے کہو کہ میرے آنے سے پہلے نہ گوشت چولہے پر سے اتارے اور نہ روٹی تنورسے نکالے، پھر انصار ومہاجرین کو مخاطب کرفرمایا: چلو، جابر کے یہاں دعوت ہے؛چنانچہ مہاجرین و انصارسب کے سب چل پڑے، میں گھرمیں داخل ہوا اور بیوی سے کہا: تیراناس ہو! آپ  اور تمام مہاجرین و انصار آرہے ہیں، بیوی نے پوچھا: کیا آپ نے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ! چنانچہ آپﷺ آئے اور مہاجرین و انصارکو مخاطب کرکے فرمایا: ادخلوا ولاتضاغطوا (سکون کے ساتھ داخل ہوجاؤ اور دھکم دھکا مت کرو)،پھرروٹی توڑتوڑکراس پر گوشت ڈالتے جاتے اور صحابہ کو دیتے جاتے، جب جب نکالتے چولہے اور تنورکو چھپاتے، اسی طرح دیتے رہے، یہاں تک کہ تمام صحابہ کے شکم سیرہوکر کھانے کے بعد بھی بچ رہا تو آپ نے فرمایا:تم بھی کھاؤاور ہدیہ بھی بھیجو؛ کیوں کہ لوگ اس وقت بُھک مری کے شکارہیں، (بخاری، کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق، حدیث نمبر:۴۱۰۱)، اسی طرح ایک مرتبہ جب حضورکے پاس مالِ غنیمت کے غلام آئے تو حضرتِ فاطمہ ؓ گھرکے کام کاج کے لیے ایک غلام مانگنے کے لیے آئیں ؛ لیکن پاسِ حیا کی وجہ سے کچھ عرض نہ کرسکیں، واپس لوٹ کرچلی گئیں، دوسرے دن جب پھر آئیں تو آپنے پوچھا’’کل کس لیے تم آئیں تھیں کیا خاص کام تھا؟‘‘ غازۂ غیرت کی بناپراب بھی زبان نہ ہلا سکیں تو حضرتِ علی ؓ نے اپنی زبان سے ان کا پیغام بتایا، آپنے یہ سن کرارشاد فرمایا: بدر کے یتیموں کا حق تم پر مقدم ہے؛البتہ میں تمہیں خادم سے اچھی چیزبتاتا ہوں، ہر فرض نماز کے بعد ۳۳؍مرتبہ سبحان اللہ،۳۳؍مرتبہ الحمداللہ،۳۴؍مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو(ابوداؤد، باب فی بیان مواضع قسم الخمس۔۔ حدیث نمبر:۲۹۸۷، ۲۹۸۸)

عفو ودرگزر

    دوستی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ دوست اپنے دوست کی لغزشوں کو معاف کردیا کرتا ہے، یہ لغزشیں دوطرح کی ہوسکتی ہیں، ایک وہ، جو معصیت کے دائرہ میں آتی ہو، ایسی لغزشوں پر سختی کے ساتھ توجہ دلائے؛ چنانچہ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ عائشہ ؓ نے حضرتِ صفیہؓ کے بارے میں ہاتھ کے اشارہ سے یہ کہا کہ وہ پستہ قدہیں، آپکے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہرہوئے اور فرمایا: لقد مزجتِ بکلمۃ لو مزج بھاماء البحر لمزج (تم نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر سمندر میں ملادیا جائے تو اس کا پانی کڑوا ہوجائے) (ترمذی، باب حدیث لومزج بھاماء البحر، حدیث نمبر:۲۵۰۲)،لغزش کی دوسری قسم وہ ہے، جو معصیت کے دائرہ میں نہ آتی ہو،ایسی لغزشوں کو معاف ہی کردینا چاہیے، آپ  کا معاملہ کچھ ایساہی تھا؛ چنانچہ روایت میں ہے کہ آپ  ایک مرتبہ مسجِدنبوی میں تشریف فرماتھے کہ ایک دیہاتی نے آکرمسجد میں کھڑے کھڑے ایک جگہ پیشاب کرنا شروع کردیا، صحابہ ان کو روک نے کے لیے چیخے، آپ  نے نہایت ہی بردباری کے ساتھ ان کو منع فرمایا، پھر ان دیہاتی(صحابی)کو بلاکر سمجھایا: دیکھویہ اللہ کا گھرہے، ذکرواذکار، نماز اور تلاوتِ قرآن کے لیے ہے، پیشاب پاخانہ کے لیے نہیں (مسلم، باب غسل البول وغیرہ من النجاسات۔۔۔۔۔،حدیث نمبر:۶۶۱)، اسی طرح حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں آپکے ساتھ جارہاتھا، اس وقت آپ کے جسم پر ایک نجران کی بنی ہوئی چادرتھی، راستہ میں ایک دیہاتی ملا اور اس نے اتنی سختی کے آپ کی چادرکو کھینچا کہ میں نے آپ کی گردن پر اس کے نشانات دیکھے، پھر اس نے کہا:اے محمد!مجھے مال دینے کا حکم دیجئے، آپنے اس کی طرف دیکھا، مسکرائے، پھرمال دینے حکم دیا،(بخاری، باب ماکان النبیﷺ  یعطی المؤلفۃ قلوبھم،حدیث نمبر:۳۱۴۹)

ایفائے عہد

    دوستی ساتھ رہنے اور ساتھ دینے کے ایک معاہدہ کا نام ہے، اور معاہدہ ایک ایسا عمل ہے، جس کو نباہنے کا حکم دیاگیا ہے، وأوفو ابا لعھد (الاسراء: ۳۴)’’اور عہدکو پورا کرو‘‘،آپانے دوستی کے اس معاہدہ کو نباہ کر دکھایا، آپ  کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی، جوان بھی وہیں ہوئے اور نبوت بھی وہیں ملی؛ لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ اپنے ہی مولد ومسکن سے جلاوطن ہونا پڑا، ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے، انصارنے آپ اور آپکے ساتھیوں کا ہرطرح سے ساتھ دیا، جانیں بھی نچھاور کیں اور مال بھی لُٹائے، پھرجب ۸ھ میں فاتحانہ ؛بل کہ شاہانہ کروفرکے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور پورا مکہ آپ  کے زیرِنگیں آگیا، وطن کی محبت مکہ میں قیام کے لیے کھینچ رہی تھی، لیکن آپ نے مدینہ ہی میں قیام کو ترجیح دیا، حتیٰ کہ وفات کے بعد بھی اسی سرزمین کو جسمِ اطہر کے لیے بساط بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔

    غزوۂ طاؤس کے موقع پر مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت جب بعض انصار یہ کہنے لگے کہ بخدااللہ کے رسول  اپنی قوم سے مل گئے تو آپ نے تمام انصار کو جمع کرکے فرمایا:لو لا الھجرۃ لکنت امرأمن الأنصار، ولو سلک الناس شعباووادیا وسلکت الأ نصار شعباو وادیا لسلکت شعب الأ نصار و وادیھا، (زادالمعاد:۳؍۴۷۴، ط: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، ۱۹۹۵)اگر ہجرت نہ ہوتی تو بھی میں انصارہی کا ایک فرد ہوتا، اگر تمام لوگ ایک الگ وادی اور گھاٹی کو اختیار کرتے اور انصارایک الگ وادی اور گھاٹی کو اختیار کرتے تو میں انصار ہی کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کرتا۔

بے تکلفی

    ایک دوست اپنے دوست سے اس حد تک بے تکلف ہوتا ہے کہ اپنے دل کی ہربات بلاجھجھک کہہ ڈالتا ہے، آپ  ﷺ کا معاملہ بھی صحابہ کرام کے ساتھ ایساہی تھا، صحابہ بلا جھجھک اپنی بات آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا کرتے تھے؛ چنانچہ حضرتِ قتادہ ؓبن نعمان کے بارے میں منقول ہے کہ غزوۂ احد کے موقع سے ان کی آنکھ میں ایک تیر ایسا لگاکہ ان کی آنکھ باہرآگئی، وہ رسول اللہ کے پاس اس حال میں آئے کہ ان کی آنکھ ان کے ہاتھ پر تھی، آپنے پوچھا یہ کیا ہے؟ جواب دیا:دیکھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان شئت صبرت ولک الجنۃ،وان شئت رددتھاودعوت اللہ (اگر تم چاہوتو صبرکرو اور اس کے بدلہ تمہیں جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں اس کو اس کی جگہ پر لوٹا دوں اور اللہ سے تمہارے لیے دعاکروں )، حضرت ِ قتادہ ؓنے کہا: اے اللہ کے رسول ! واقع جنت بہترین اور بہت ہی عمدہ بدلہ ہے؛ لیکن میں ایک خاتون (جس سے ان کی شادی ہونے والی تھی) سے محبت کرتا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اس حال میں دیکھ کر مجھے ناپسند کرے گی، اس لیے آپ میری آنکھ اس کی جگہ پر لوٹا دیجئے اور اللہ سے میرے لیے جنت کی دعا کیجئے، آپ  نے اپنے دستِ مبارک سے ان کی آنکھ اس کی جگہ پر لوٹا دی اور جنت کے لیے دعا بھی کی، (عمدۃ القاری:۱۲؍۴۶، کتاب المغازی، حدیث نمبر:۳۹۹۷)

دوست کے لیے دعا

    دوست کی ایک خصوصیت یہ بھی کہ وہ جب بھی دستِ دعادراز کرتا ہے، اپنے دوست کی بھلائی کے لیے دعا کرتا ہے، آپ  کثرت سے دعا مانگا کرتے تھے، اپنے لیے بھی اور تمام مومنین کے لیے بھی، اسی طرح اپنے حق میں دوسروں سے دعا کے لیے بھی کہتے تھے؛ چنانچہ حضرتِ عمرؓ نے ایک مربتہ جب عمرہ کے لیے اجازت مانگی، تو آپ نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا: لاتنسنایاأخی من دعائک (ابوداؤد،کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر:۱۴۹۸) اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں یادرکھنا۔

    مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ جس طرح حضور  دیگرشعبوں میں ہمارے لیے رہنما اور نمونہ ہیں، اسی طرح زندگی کے ایک اہم شعبہ’’دوستی‘‘ میں بھی ہمارے لیے اسوہ ہیں، اور کیوں نہ ہوں ؟ جب کہ خودخالقِ کائنات نے ان کو ہمارے لیے ہرہرچیز میں نمونہ قرار دیا ہے، لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الأحزاب:۲۱) بلا شبہ وہ ہمارے لیے آئیڈئل اور بہترین نمونہ ہیں، اور ہم انھیں کو اپنا آئیڈئل مان کر ہی دنیا جہاں میں سرخرواور کا میاب ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے، آمین!

Tuesday, 8 December 2020

رشیداخترندوی اور ان کی ناول نگاری


 رشیداخترندوی اور ان کی ناول نگاری


محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


ندوۃ العلماء کسی ادارہ کانام نہیں؛ بل کہ یہ ایک ہمہ گیرعلمی، ادبی، دینی، اصلاحی اورتعلیمی تحریک کانام ہے، جس کاقیام 1894ء میں لکھنؤمیں ہوا، بانی ندوہ مولانامحمدعلی مونگیریؒ کے نظام تعلیم اورتدریسی خاکہ میں یہ بات درج تھی کہ اس کے دارالعلوم میں جن علوم وفنون پرخاص توجہ دی جائے گی، ان میں تاریخ وادب بھی ہے؛ چنانچہ جب ہم وہاں کے فارغین کی فہرست پرنظرڈالتے ہیں توعلوم شرعیہ پردسترس کے ساتھ ساتھ احسان وسلوک، تاریخ وفلسفہ اور ادب وصحافت پربھی دستگاہ رکھنے والوں کے نام پاتے ہیں، علامہ سیدسلیمان ندوی، عبدالرحمن کاشغری ندوی، عبدالسلام قدوائی ندوی، شاہ معین الدین ندوی،مولاناعبدالباری ندوی، ابوالجلال ندوی، ریاست علی ندوی،سید ابوظفرندوی، مسعودعالم ندوی،رئیس احمدجعفری ندوی، محمدناظم ندوی، ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹرعبداللہ عباس ندوی، پروفیسرمحمداجتباء ندوی، ڈاکٹرعبدالحلیم ندوی، مولانارابع حسنی ندوی، مولاناواضح رشید ندوی، ڈاکٹرسعیدالرحمن اعظمی ندوی، پروفیسریٰسین مظہرصدیقی ندوی، سیدرضوان علی ندوی، سیدضیاء الحسن ندوی، پروفیسرمحسن عثمانی ندوی اورمولانانذرالحفیظ ندوی وغیرہم ادباء، مؤرخین اور صحافیوں کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں، اسی طویل فہرست کاایک نمایاں نام’’رشید اخترندوی‘‘ بھی ہے۔

رشیداخترندوی کی پیدائش۱۳/جنوری ۱۹۱۸ء کودہلی میں ہوئی،ابتدائی تعلیم دہلی میں ہی ہوئی، پھردارالعلوم ندوۃ العلماء کارخ کیااوروہاں سے سندفضیلت حاصل کی، ندوہ سے فراغت کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیااوروہاں سے بی اے کیا،وہ خود لکھتے ہیں:’’اسے ایک پاکستانی مصنف کاخط ہندوستانی بھائیوں کے نام تصورکرلیجئے یاایک اس شخص کاایک طویل سلام بنام وطن سابق قراردیجئے، جس کاخمیرہندوستان کی پاکیزگی سے اٹھا، جودہلی میں پیداہوا، جس نے دہلی ولکھنؤ میں تعلیم پائی اورجوبمبئی(ممبئی)کے ماحول میں زندگی کی سچی مسرتوں اورکامرانیوں سے آشناہوا‘‘(تشنگی، دیباچہ، ص: ۷)، دہلی، لاہور اورپشاور کے متعددروزناموں کے نیوز ایڈیٹر اورچیف ایڈیٹررہے، ۱۹۷۳ء میں ادارۂ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، ۲۱/جولائی ۱۹۹۲ء میں مری(پاکستان) میں وفات پائی اورمرکزی قبرستان اسلام آبادمیں تدفین عمل میں آئی(وفیات اہل قلم، از: ڈاکٹرمحمدمنیراحمدسلیج، ناشر: اکادمی ادبیات پاکستان۲۰۰۸، ویکی پیڈیا: رشیداخترندوی)۔ 
رشیداخترندوی عجیب وغریب شخصیت کے مالک تھے، مولوی ضرورتھے؛ لیکن نرے مولوی نہیں تھے، وہ ندوی ضرورتھے؛ لیکن ندوی سے بڑھ کربھی تھے،ہمارے برصغیرکے مولویانہ معاشرہ میں دومیدان کافی مبغوض رہے ہیں، ایک سیاست کا میدان اوردوسراپردۂ سیمیں کامیدان، رشیداخترندوی کشت زارپردۂ سیمیں کی کیچڑ سے بھی لت پت ہوئے ہیں، جس کاذکرکرتے ہوئے وہ خودلکھتے ہیں:’’فلمی دنیابھی ایک عجیب دنیاہے اورمیں نے ڈیڑھ سال یہاں رہ کربہت کچھ سیکھا اوربہت کچھ پایاہے، یہاں کی ہرچیزہماری دنیاسے مختلف ہے، کردار، اخلاق، سمجھ بوجھ اوریہپاں تک کہ چہرے مہرے اورکبھی کبھی تومجھے بعض آدمیوں کودیکھ کر ایسا محسوس ہوا ، جیسے یہ آدمی کسی اورآدم کی اولادہیں، یہاں کاہرآدمی ایک بڑا فرعون ہے، مطلق العنان اور خودمختارفرعون، میراجی توبہت چاہاکہ ان فرعونوں کے قلمی چہرے تیارکروں؛ مگردماغ نے دل کی یہ بات ردکردی اوربہت سی باتوں سے ڈرادیا(نسرین، یک حرف، ص: 5-6)۔

  وہ بیک وقت کئی میدانوں کے شہسوارتھے، وہ ایک کامیاب مؤرخ بھی تھے، ایک اچھے صحافی بھی تھے، عمدہ مترجم بھی تھے اورایک مایہ ناز ادیب بھی ، ترجمہ نگاری کے شاہکارکے طورپرہم ’’تزک بابری‘‘ اور’’ہمایوں نامہ‘‘ کوپیش کرسکتے ہیں، ان دونوں کوانھوں نے فارسی سے اردوزبان میں منتقل کیاہے۔

تاریخ نگاری میں سوانحی تاریخ رشیداخترندوی کی حددرجہ پسندیدہ قسم تھی، جس کی ابتداء سیرت سے ہوتی ہے،’’ محمدرسول اللہ‘‘ سیرت پران کی ایک منفرد کاوش کہی جاسکتی ہے؛ لیکن اس کے بعض مندرجات پراعتراض ہونے؛ بل کہ اس کی وجہ سے ’’گستاخ رسول‘‘کے لقب سے ملقب کرکے مقدمہ درج کئے جانے کی وجہ سے اس میں حک واضافہ کرکے ’’محمد سروردوعالمﷺ‘‘ کے نام سے اسے دوبارہ شائع کیاگیا، خلافت راشدہ، عمربن عبدالعزیز، محمدبن ابی عامر،صلاح الدین ایوبی، حیدرعلی،اورنگ زیب، مسلمان حکمراں، مرد کوہستان اورذوالفقارعلی بھٹو: سیاسی سوانح حیات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، اس کے علاوہ مسلمان اندلس میں، تاریخ مغربی پاکستان اورارض پاکستان بھی ان کے تاریخی قلمی کارناموں میں ہیں۔

تاریخ کے ساتھ ساتھ چمنستانِ ادب کو بھی انھوں نے وردویاسمین اورسوسن ونسرین سے مالامال کرنے کی بھرپورکوشش کی ہے اورانھوں نے تقریباً دودرجن کے قریب تاریخی، معاشرتی، نفسیاتی اوررومانی ناول لکھے، وہ جس طرح یہ ایک کامیاب تاریخ نویس تھے، اسی طرح ایک کامیاب ناول نگاربھی اورجس طرح ان کی تاریخ نویسی نے لوگوں کواپنی طرف متوجہ کیا، اسی طرح ان کے ناولوں نے بھی لوگوں کواپنی طرف کھینچا،اوراس زورسے کھینچاکہ ایک ایک ناول کو ایک سال کے عرصہ میں متعددبارپریس کی زیارت سے شرف یاب ہوناپڑا،رشید اخترندوی کے قلم کی طاقت نے نہ صرف یہ کہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دل موہ ليا؛ بل کہ اہل قلم نے بھی خوب سراہا۔

ان کے ناولوں کی مقبولیت کااندازہ اس سے ہوسکتاہے ، جوان کے ناشرنے ’’عرض ناشر‘‘ کے طورپر دوسرے اورتیسرے ناول پر تبصرہ کیاہے، ظہیرصاحب ان کے دوسرے ناول’’سوزدروں‘‘ پرلکھتے ہیں:’’مولانارشیداخترندوی کاپہلاناول’’سازشکستہ‘‘ توقع سے زیادہ مقبول ہوا، جمہورنے تواسے پسندہی کیا؛ لیکن ملک کے مستنداہل قلم نے بھی سازشکستہ کوسراہا اوراسی کومصنف کاایک ادبی شاہ کاربتایا،’’سوزدروں‘‘ مصنف کادوسراناول ہے، جوپہلے ناول کی اشاعت کے بہت تھوڑے دن بعدچھپااورملک میں اس قدر پسند کیاگیاکہ اس کی مثال نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ موصوف کایہ ناول کاغذکی اس گرانی اورقحط کے دورمیں دوبارہ شائع کیاجارہاہے‘‘(سوزدروں،عرض ناشر، ص:4)۔

’’سودائی‘‘کے ’’عرض ناشر‘‘میں لکھاہے کہ:’’یہ رشیداخترندوی کاتیسراناول ہے، رشیداخترکے ناول ’’سازشکستہ‘‘ کاموضوع اتنااچھوتا اور طرز بیان اس قدردلچسپ تھاکہ اردوادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو مصنف سے غیرمعمولی دلچسپی ہوگئی، مصنف کے دوسرے ناول’’سوزدروں‘‘سے یہ دلچسپی اور بھی بڑھ گئی اورہم سے تقاضے پرتقاضے ہونے لگے کہ مصنف کاکوئی اورناول جلد سے جلد چھاپیں، مصنف نے یہ ناول سودائی لکھا اوراس کی مقبولیت کایہ عالم ہواکہ ایک سال کے اندراندرہمیں اسے دوبارہ چھاپنا پڑا اوراب یہ پانچویں بارچھپ رہا(یہ 1949ء کی بات ہے)، مصنف کے پہلے دونوں ناول چوتھی چوتھی بارچھپے ہیں اور اردو کہانی کی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہے کہ کسی ناول نویس کواتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہو‘‘(سودائی، عرض ناشر، ظہیر، ص: 4)۔

ناشرکی اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ناول نگاراپنی ناول نگاری کے فن میں کمال درجہ کوپہنچے ہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے جب اپنا پہلا ناول ’’سازشکستہ‘‘ اردوکے نامورشاعر، صحافی اورافسانہ نگارعبدالمجیدسالک کے پاس مقدمہ کے لئے بھیجاتوانھوں نے اس طرح اظہارخیال کیا: ’’مولانارشید اخترندوی نے جب اپنے اس افسانے کامسودہ مجھے مقدمہ کی تحریرکے لئے دیاتومیں نے اپنے دل میں یہ نیت کرلی کہ اگرافسانہ معیاری اعتبار سے پست ہو اتواس عزواحترام کے باوجود، جومولاناکے فضل وکمال کے متعلق میرے دل میں جاگزیں ہے، میں مقدمہ لکھنے سے صاف انکار کردوں گا؛ لیکن افسانے کو سرسری نظرسے دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ مصنف صرف ندوۃ العلماء کامولوی ہی نہیں؛ بل کہ اس سے کچھ زیادہ ہے اوراس تحریر میں کامیاب فسانہ نگاری کے تمام عناصرموجودہیں اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگرچہ اس افسانے کاپس منظررومانوی ناولوں کی طرح ایک نواب کا خاندان اور کشمیر کے مناظر ہیں؛ لیکن نقطۂ نگاہ کافی ترقی پسندہے اورمولاناکے نزدیک افسانہ خالص تفریحی صنف ادب نہیں؛ بل کہ سماج کی بعض دکھتی ہوئی رگوں کوچھیڑنابھی اس کے مقاصدمیں شامل ہے‘‘(سازشکتہ، ص:6)۔ 

مولاناکے ناولوں کی مقبولیت عوام خواص میں اتنی کیوں تھی؟ اس کوواضح کرتے ہوئے ظہیرصاحب لکھتے ہیں:’’مولانارشیداخترندوی کے برسوں کے صحافتی اورتصنیفی تجربے نے آپ کی نگاہ کودوربین بنا دیا ہے، ان کاادبی مطالعہ بہت وسیع ہے اورزندگی کامطالعہ اس سے بھی زیادہ وسیع، انسانی نفسیات، گناہ وثواب کی کشمکش، ہوس ومحبت کی دبی ہوئی خواہشیں، سچے عشق کی پاکبازیاں اورغلط راہ پرپڑکراس کی بے عنوانیاں ان مسائل کوبیان کرنے میں مولانا کو بڑا عبورحاصل ہے، مولانابہت صا ف زبان لکھتے ہیں، ان کے ناول کے کرداروں کے مقالات زندہ اشخاص کی باتیں معلوم ہوتی ہیں، جووہ ہمارے سامنے کرتے نظرآتے ہیں‘‘ (سوزدروں، عرض ناشر، ص:4)۔

رشید اخترندوی کی ناول نگاری اجزائے ترکیبی کے اعتبارسے پورے اترتے ہیں، ایسانہیں ہے کہ ان کے مولوی اورمؤرخ ہونے کی وجہ سے ناول اپنی سطح سے کچھ نیچے گرگئے ہوں، ان کے ناولوں میں جوبھی قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظرکشی اورنقطۂ نظرہیں، سب اپنی جگہ پرفٹ ہیں، عبدالمجیدسالک اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’افسانے کے سب سے زیادہ اہم اجزاء اس کے کردارہیں اورجب سے ادب کی یہ صنف پیداہوئی ہے، اس وقت سے آج تک اس کی تنقید کا ایک نمایاں معیار یہ رہاہے کہ مصنف نے جن کرداروں کاتعارف کرایاہے، وہ کیسے ہیں؟ آیاحقیقی زندگی میں ایسے کردار پائے جاتے ہیں؟ آیامصنف کے ذہن میں ان کرداروں کی خصوصیات منظم ومنضبط طریق پرموجودہیں؟ اورآیا افسانے میں اس نے ان سب کوپوری طرح نباہ دیاہے یانہیں؟ اس افسانے کے پڑھنے والوں کومعلوم ہوگاکہ نواب ہو، یانجمیٰ، سلمیٰ ہویاللی، سب کے سب کردارجیتے جاگتے انسانوں کے ہیں اورجن طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی خصوصیات کی نمائندگی بوجہ اتم کرتے ہیں‘‘(سازشکستہ، ص:۷)۔

رشید اخترندوی کاپہلاناول’’سازشکستہ ‘‘ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے شروع ہونے والی کہانی ہے، جہاں سلیم اورنواب زادہ محمودکی ملاقات ہوتی ہے، جیل انگریزوں سے بغاوت کے جرم کی سزاکے طورہوئی ہے،دونوں میں گرچہ دولت وثروت کے لحاظ سے فرق مراتب ہے؛ لیکن جیل کی فضاء میں چوں کہ اس کالحاظ نہیں، جس کی وجہ سے دونوں میں خوب دوستی ہوجاتی ہے، جووہاں سے باہرآنے کے بعدبھی برقراررہتی ہے؛ بل کہ یہ دوستی گھریلو تعلقات میں بدل جاتی ہے؛ لیکن پھر دولت اپنی اوقات بتاہی دیتی ہے، ساحرنے ٹھیک ہی کہاہے: ’’ایک شہنشاہ نے دولت کاسہارا لے کر، ہم غریبوں کی محبت کااڑایاہے مذاق‘‘،یہاں بھی سلیم کی غربت کامذاق اڑایاجاتاہے اوران تمام احسانات کوبھلادیاجاتاہے، جوسلیم نے نواب زادہ محمودصاحب پرکی تھیں اورجن کی بدولت نواب صاحب معاشرہ اوراپنے ہم پلہ لوگوں میں باوقار اورایک مصنف کی حیثیت سے معروف تھے، پھریہ مذاق بھی اس اخلاص اوراحسان کے بدلہ میں تھا، جوسلیم نواب صاحب کی چھوٹی بہن سلمیٰ پرکرناچاہتے تھے، ’’ساز شکستہ‘‘ کاآخری حصہ پڑھئے اوران تمام چیزوں کو درداورکسک کے ساتھ چشم تصورسے محسوس کیجئے، جوسلیم نے محسوس کیاتھا:
’’مجھے صحیح نہیں معلوم کہ نوجوان کتنی دیربعدواپس لوٹے؛ لیکن یہ یادہے کہ جب وہ نکلے توان کے پیچھے نواب زادہ اکرام بھاگ رہے تھے، اکرام کے ہاتھ میں پستول تھااوروہ اسے نوجوان پرداغناچاہتاتھا؛ لیکن مجھے عین سامنے پاکروہ اپنے ارادہ میں ناکام رہااورنوجوان صاحب بھاگ نکلے، یہ داستان عام ہوگئی اورنواب صاحب کے کانوں تک بھی جاپہنچی، وہ بڑے پریشان ہوئے، انتہائی پریشان، ان کی پریشانی میں نجمیٰ کے شوہرنے سلیمان مرزاکاقصہ کہہ کر اوراضافہ کردیا، انھوں نے سلمیٰ پرشایدعمرمیں پہلی بارہاتھ اٹھایا اوراتناماراکہ سلمیٰ بے ہوش ہوگئی، دوسرے دن یہ ساری داستان سلمیٰ نے مجھ سے کہی، وہ زاروقطاررورہی تھی، اس کی خوبصورت آنکھیں روتے روتے سرخ ہوچکی تھیں، وہ کہہ رہی تھی اب میں بدنام ہوگئی، میری زندگی تباہ کردی گئی، مجھ سے اب کون بیاہ کرے گا؟ میں نے دیکھاسلمیٰ زندگی کی خوشی بیاہ میں سمجھتی ہے، سماج کے ظاہری بندھن میں بندرہ کروہ مطمئن ہوجائے گی تومیرے دل میں ایک لہر پیدا ہوئی، عمرمیں پہلی باراورغیرمحسوس طورپرزبان پریہ الفاظ آگئے:
’’سلمیٰ! تم سے میں شادی کروں گا؛ لیکن اس وقت، جب کوئی اورشادی نہ کرے‘‘۔
سلمیٰ کے آنسورک گئے اوربولی:
’’آپ سچ کہتے ہیں؟‘‘۔
میں نے کہا:
’’سچ، بالکل سچ‘‘۔
’’تونواب صاحب سے پھرکہئے گا؟‘‘۔
سلمیٰ یہ کہہ کرخوش خوش چلی گئی، میں نے سلمیٰ سے یہ بات کہہ تودی؛ لیکن بعدمیں سوچاکہ نواب صاحب کے حضورمیں ایک سائل کی حیثیت سے میں کیسے جاسکوں گا؟ اورآخرمجھے جاناہی پڑا، اظہار مدعا پرنواب صاحب نے پیشانی پربل ڈال کرمیری طرف دیکھا، میں سمجھاوہ مجھے نگل جاناچاہتے ہیں اور سچ مچ ان کی خواہش یہی تھی، اس کاانھوں نے اظہاربھی کردیا، بولے:
’’تم نے آج میرے سینے میں چھری چبھودی، تم نے نہیں سوچامیرااورتمہارامعیارزندگی کتنامختلف ہے، سلمیٰ میری بہن ہے، ایک بڑے نواب کی بہن، اس کے لئے موٹرچاہئے اوراعلیٰ درجہ کامکان بھی، اس کے لئے اچھے سے اچھے لباس اورکھانے کی ضرورت ہے اورتم ایک معمولی اخبارنویس ہو، محض دال روٹی پر گزر کرنے والے‘‘۔
دفعۃً ان کی آواز تیز ہوگئی اورفرمانے لگے:
’’اب تم نے یہ بات کہہ دی، مجھے تم بہت عزیزہو؛ لیکن اس کی کیاضمانت کہ میری بہن کی زندگی تمہارے ساتھ اچھی کٹے گی، نہ رہنے کومکان، نہ موٹر اورنہ کوئی اورجائداد، آخرآپ کس برتے میری بہن سے شادی کرناچاہتے ہیں؟ آپ کویہ کہتے شرم نہ آئی‘‘۔
اس کے بعدحضورنواب صاحب بہت کچھ بکتے رہے، ایسی ایسی باتیں ان کی زبان سے نکلیں، جنھیں میری غیرت کبھی سن نہ پائی تھی؛ مگرمیں سنتارہا اورجب وہ انتہائی رذالت پراترآئے تومیں نہ رہ سکااورکہہ اٹھا:
’’نواب صاحب! یہ میری نہیں، سلمیٰ کی خواہش ہے اوراس لئے ہے کہ اسے ڈرہے کہ شاید دنیا میں کوئی سوداگراس داغ دار موتی کوخریدنانہ چاہے‘‘۔
نواب صاحب کاغصہ کچھ دھیماہوا؛ مگرصرف تھوڑی دیرکے لئے ، وہ ایک معلم اخلاق کی حیثیت سے بولے:
’’تم اس کمزوری سے ناجائزفائدہ اٹھاناچاہتے ہو، یہ تم لوگوں کی فطرت ہے، رذیل اورکمینی فطرت؛ مگر تمہیں نہیں معلوم دولت ہرعیب کودھوسکتی ہے اورسلمیٰ کایہ عیب بھی دولت دھودے گی‘‘۔
میں نے نواب صاحب کے چہرے کی طرف دیکھا اورمجھے ایسے آثارنظرآئے کہ مجھے یقین ہوگیاکہ دولت سچ مچ ہرعیب دھودیتی ہے، یہ غربت ہی ہے، جس میں نیکی بھی عیب دکھائی دیتی ہے اورجب غربت داغ دارہوجاتی ہے تواسے کوئی نہیں دھوسکتا، میں نے سلمیٰ سے ہمدردی کرنی چاہی تھی، اس کی زندگی کوخوش رکھنا چاہاتھا اوراخلاص اورسچی محبت کے سرمایہ پربھروسہ کیاتھا، یہ میری بھول تھی، بہت بڑی بھول، دنیا اخلاص کو نہیں دیکھتی ، اس کی نگاہ ظاہرپر پڑتی ہے اوریہ اس کی پرانی ریت ہے ، ناقابل تبدیل ریت‘‘ (سازشکستہ، ص: 157-160)۔ 

ناول کے اس آخری حصہ سے آپ کو قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظرکشی اورنقطۂ نظرساری چیزیں معلوم ہوگئی ہوں گی اورآپ نے  رشید اخترندوی کے اس پہلے ناول سے یہ نتیجہ اخذکیاہوگاکہ ان کے قلم میں بہترین ناول نگاری کاجوہرموجودہے، ساتھ میں یہ بھی دیکھاہوگاکہ سلاست وروانی کے ساتھ ساتھ ان کی زبان نہایت سہل اورآسان ہے، نہ تعقید لفظی ہے اورناہی تعقید معنوی، نیزرنج وغم اورحزن والم کاتلاطم خیز، بے کراں اوراتھاہ  سمندربھی پائے گا، جوان کے ناولوں کی عمومی خصوصیات میں سے ہے۔

بعض حضرات نے رشیداخترندوی پریہ الزام عائد کیاہے کہ ان کے ناول مقصدیت سے خالی ہوتے ہیں؛ لیکن یہ بات عقل وقیاس سے بعید بات ہے؛ کیوں کہ ایک مصنف جب کچھ لکھتاہے تواس کے پیچھے کچھ نہ کچھ مقصد ہوتا ہے، اگرکسی تحریرکے پیچھے مقصدنہ ہوتووہ تحریرمقبول بھی نہیں ہوگی، جب کہ پیچھے یہ بات بتائی جاچکی ہے کہ رشیداخترکے ناول مقبول ہوئے ہیں؛ بل کہ ایک ایک ناول کوچند ہی سالوں کے اندرپانچ پانچ مرتبہ بھی چھاپنے کی نوبت آئی ہے۔

رشیداخترندوی کاایک ناول’’نسرین‘‘ کے نام سے ہے، یہ ایک معاشرتی ناول ہے، وہ خوداس ناول کی تحریرکامقصدواضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ہوسکتاہے میرے اس ناول سے ان نوجوان لڑکیوں کوکچھ روشنی ملے، جوفلمی دنیامیں آنے کے لئے تڑپ رہی ہیں اورخداکرے اس لائن میں وہ اس طرح نہ آئیں، جیسے کہ یہاں اکثر لڑکیاں لائی جاتی ہیں  -----  اوریہ سب کچھ کیوں ہوتاہے اورمیں نے اس موضوع کوکیوں ناول کی صورت دی ہے؟ محض اس لئے کہ ہمارے وطن کامعاشرتی نظام انتہائی ناپاک اورمکروہ ہے اورضرورت ہے کہ اس نظام کوبدل دیاجائے اورجب تک یہ نظام نہیں بدلے گا، اس وقت تک ہزارنسرین، ہزاربیگم ساڑی اورہزارثروت جاہیں اس ہندوستان کے ہرگلی اورہرکوچے میں ماری ماری پھرتی نظرآئیں گی اورانھیں ہرگھڑی اورہرآن ہزاردھوکے دئے جاتے رہیں گے‘‘( نسرین، ص: ۷)۔

ان کاایک شاندارناول’’تشنگی‘‘ ہے، تین سوتیرہ(۳۱۳)صفحات پرپھیلاہواہے، اس کے پڑھنے کے بعدان کے بقیہ ناولوں کوپڑھنے کی تشنگی دوچند ہوجاتی ہے، یہ ناول خودبھی تشنگی کوبڑھاتارہتاہے اورجب تک قاری ختم نہیں کرلیتا، اس وقت تک اضطرابی کیفیت سے دوچاررہتاہے، اوربقول نعمان منظور: ’’یہ ناول اردوناول نگاری میں اس مقام پرجلوہ گرہوا، جب کہ اردوناول نگاری گھٹنوں کے بل چل رہی تھی‘‘(https://dunya.com.pk/index.phd/special-feature/2014-05-22/9198) ،اس ناول کے لکھنے کااصل مقصد کیاہے؟ اس پرروشنی ڈالتے ہوئے خودمصنف اس کے دیباچہ میں لکھتاہے:’’یہ ’’تشنگی‘‘، جس کے پہلے حرف سے لے کرآخرحرف تک ہرحرف میرے لئے ننگی، بھوکی روح کاسچا ترجمان ہے، مجھے اپنے سارے ناولوں میں سب سے زیادہ پیاراہے…یہ ناول اس وقت کی تصنیف ہے، جب ہندوستان غلام تھا اورانگریزوں کے جابروظالم پنجہ نے ہندوستانیوں کے گلے گھونٹ رکھے تھے، اس وقت میری روح ایک ایسے سماج اورایک ایسے نظام کے لئے تڑپی، جس میں آدمی نہ ہندوہوتا نہ مسلمان، نہ پارسی ہوتانہ عیسائی، اس ناول کاہیرومحسن، اس ناول کی ہیروئن میری اوراجیت، سب ہی ننگے، بھوکے اورمحتاج تھے، سب کامذہب ننگے آدم کامذہب تھا، سب کے نام گومختلف تھے؛ مگرسب کاعقیدہ ایک تھا، آدمی صر ف آدمی رہے اورآدمی رہ کرہی اپنامنصب پہچانے، اگر’’تشنگی‘‘ کے پڑھنے والے ان ’’آدمیوں‘‘ کی تشنہ روحوں کوسمجھ لیں، جواس ناول کے اندربھاگتے وگرتے اورسوچتے ہیں تو رشید اخترندوی ،اس کاتشنہ روح مصنف بڑاسکون پائے گا‘‘(تشنگی، دیباچہ، ص: ۸)۔ 

رشیداخترندوی کایہ ناول ملک کی آزادی سے پہلے کاہے، جیساکہ انھوں نے خودلکھاہے؛ لیکن اس کوپڑھ کرمحسوس ہوتاہے کہ اس کے کردار آج کے چلتے پھرتے نمونے ہیں-

تاہم یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ ہرمصنف کی طرح ان کے بھی بعض ناولوں کے کردارمیں کچھ جھول بھی ہے اوریہ مصنف کے لئے عیب کی بات نہیں؛ کیوں کہ مصنف انسان ہے اورانسان ہونے کے ناطے ایساہونافطری بات ہے، دنیاکے کسی بھی مصنف کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیاجاسکتاکہ اس کی تمام تصنیفات گرفت اورمواخذہ سے باہرہیں؛ چنانچہ ان کے ایک ناول ’’بادوباراں‘’پرتبصرہ کرتے ہوئے مس حبیب اللہ خاں، لالہ موسیٰ اسٹیشن ایک خط میں ان کولکھتی ہیں:’’بادوباراں‘‘میں جنگلی قوم کی سردارعورت کاکردارکہانی کی پختگی میں کمی پیدا کرتاہے، اگراس کے بدلے میں منورکوکسی اورقسم کی تکلیف پہنچتی تو’’بادوباراں‘‘ ’’سوزدروں‘‘ سے بھی سبقت لے جاتا‘‘(پہلی کرن، ص: 415)۔

خلاصہ یہ کہ مولانارشیداخترندوی ایک اردوکے سچے خادم، ادیب ،مؤرخ، قابل اوراچھے ناول نگارتھے؛ لیکن افسوس کہ ان کی ادبی خدمات کاجس طرح تعارف ہوناچاہئے، اس طرح تعارف نہیں پیش کیاجاسکا، وجہ خواہ کچھ بھی ہو(یوں بھی اپنی بعض تحریروں کی وجہ سے وہ معتوب ہوئے تھے؛ بل کہ ان پر مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا؛ لیکن قبل ازوقت ضمانت مل گئی تھی)، اورنئی نسل توشایدہی ان کی ادبی خدمات سے واقف ہو، ان پرکام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کسی کوپیداکرے، آمین!

جی چاہ رہا ہے کہ یہاں پررشید اخترندوی کے ناولوں کے نام بھی درج کردوں؛ تاکہ پڑھنے والے پڑھیں اورمحظوظ ولطف اندوز ہوں، سیکھنے والے سیکھیں اورادب حاصل کریں اورجائزہ لینے والے جائزہ لیں اور جانچیں پرکھیں اورادبی دنیامیں ان کاجومقام ومرتبہ ہوناچاہئے، ان کووہ دلانے کی کوشش کریں، نام یہ ہیں: سازشکستہ، سوزدروں، سودائی، یروشلم، حیدرعلی، غرناطہ، یہ جہاں اورہے، تشنگی، یلغار، نسرین، نشان راہ، کانٹوں کی سیج، تلخیاں، بادوبارں، نشیمن، گل رخ، ایک پہيلی، پندرہ اگست، مردکوہستان، محمدبن ابی عامر، پہلی کرن، نسیم(ہرجائی)۔


         Md Jamil Akhtar Jaleeli Nadwi
                               Vill + P,O: Pochari, Distt: Dhanbad                      
                                                         (JHARKHAND) - 828306                                                
                                       Mob: +91-8292017888       +91-9576971884