اعضاء و تصاویروالی نصابی کتابیں : شرعی جائزہ
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
بچوں کی کشش اوراخذ کرنے میں سہولت کے لئے آج کل نصابی کتابوں میں انسانی اعضاء اور دیگر حیوانات کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا نصاب میں اعضائے انسانی اور جانوروں کی تصاویروالی کتابوں کوشامل کرناشرعی اعتبارسے درست ہے؟
اس کے جواب کوسمجھنے کے لئے سوال کودوشقوں میں تقسیم کیاجاتاہے:
پہلی شق: نصابی کتابوں میں اعضائے انسانی کی شمولیت کی شرعی حیثیت۔
دوسری شق: نصابی کتابوں میں جانوروں کی تصاویرکی شرعی حیثیت۔
جہاں تک پہلی شق کاسوال ہے توچوں کہ اس میں پوری تصویرابھرتی نہیں؛ اس لئے اس کی گنجائش ہونی چاہئے ؛ کیوں کہ حدیث میں ہے، اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:
أتانی جبریل، فقال: إنی أتیت البارحۃ، فلم یمنعنی أن أکون دخلت علیک البیت الذی فیہ؛ إلاأنہ کان فی باب البیت تمثال الرجال، وکان فی البیت قرام ستر فیہ تماثیل، وکان فی البیت کلب، فمربرأس التمثال الذی بالباب، فلیقطع فلیصرکھیئۃ الشجرۃ، ومربالستر، فلیقطع ویجعل منہ وسادتین منتبذتین یوطآن ، ومر بالکلب فیخرج(سنن الترمذی، باب ماجاء أن الملائکۃ لاتدخل بیتاًفیہ صورۃ ولاکلب، حدیث نمبر: ۲۸۰۶)۔
میرے پاس جبرئیل ؑ آئے اورکہا: میں گزشتہ رات آیا تھا؛ لیکن گھرکے دروازے میں مردوں کے مجسمے ہونے کی وجہ سے داخل نہیں ہوا، (اسی طرح) گھرمیں جوپردہ تھا، اس میں مجسمے بنے ہوئے تھے، اورگھرمیں کتا (بھی) تھا؛ چنانچہ آپ دروازے کے مجسمے کے سرکو کاٹنے کاحکم دیجئے؛ تاکہ درخت کی طرح ہوجائے، پردے کے بارے میں حکم دیجئے کہ اس کے دوٹکڑے کرکے دوتکئے بنالئے جائیں، جنھیں رونداجائے، اورکتے کے بارے میں حکم دیں کہ اسے نکال دیاجائے۔
اس حدیث میں صاف طورپرلکھاہوا ہے کہ اگرتصویرکے سرکوکاٹ دیاجائے تواس کی حیثیت تصویرکی نہیں رہتی، جب صرف سرکے کاٹنے سے ہی اس کی ہیئت بدل جاتی ہے اورگنجائش نکل آتی ہے توصرف اعضاء کی حیثیت بدرجۂ اولیٰ تصویرکی نہیں رہے گی اورجب تصویرکی حیثیت باقی نہیں رہی تو گنجائش ہونی چاہئے،شیخ عبدالرحمن مبارک پوریؒ ابن عربی ؒکے حوالہ سے لکھتے ہیں:
إ ن الصورۃ التی لاظل لہاإذابقیت علی ہیئتہاحرمت، سواء کانت ممایمتہن، أم لا، وإن قطع رأسہا، أو فرقت ہیئتہا جاز(تحفۃ الأحوذی، باب ماجاء فی الصورۃ:۵؍۳۵۰)۔
جس تصویرکاسایہ نہ ہو، جب وہ اپنی ہیئت پرباقی رہے توحرام ہے، خواہ اس میں سے ہو، جس کوپامال کیا جاتا ہو یا پامال نہ کیاجاتاہو، اور اگراس کے سرکوکاٹ دیاجائے، یااس کی ہیئت میں تبدیلی کردی جائے تو جائز ہے۔
اب رہی بات دوسری شق کی توراقم الحروف کے نزدیک احادیث، شروحاتِ احادیث اورفقہائے کرام کی عبارتوں سے جوبات مترشح ہوتی ہے، وہ یہ کہ ہیئت، جگہ اورمقصدکے فرق سے تصویرکاحکم بدل جاتاہے،ہیئت کی بات پیچھے گزری،مقصد کے سلسلہ میں علامہ محمدبن عبدالہادی سندیؒ ’’لاتدخل الملائکۃ بیتاً فیہ صورۃ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
أی: کصور، والمعنی فیہ أن متخذہا قدتشبہ بالکفار؛ لأنہم یتخذون الصورفی بیوتہم یعظمونہا، فکرہت الملائکۃ ذلک، فلم تدخل بیتہ ہجراً لہ لذلک(حاشیۃ السندی علی صحیح البخاری: ۴؍۴۵)۔
یعنی آدمی وغیرہ میں سے جاندارکی تصویرکی طرح، جب تک کہ اس کاسر کاٹ نہ دیاجائے، یا اس کوپامال نہ کردیاجائے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بنانے والے کوکفارکے مشابہ قرار دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں تصویریں تعظیم کے لئے بناتے ہیں، پس ملائکہ کویہ پسند نہیں؛ اس لئے اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے فرشتے گھرمیں داخل نہیں ہوئے۔
اس تشریح سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگرمقصد تعظیم نہ ہوتوگنجائش ہے؛ کیوں کہ بہت سارے مسائل ایسے ہیں، جن میں مقاصد کااعتبارکیاگیاہے؛ چنانچہ حدیث میں ہے:
فإن کانت ہجرتہ لدنیایصیبہاأوامرأۃ یتزوجہا، فہجرتہ إلیٰ ماہاجرإلیہ(بخاری، باب ماجاء إن الأعمال بالنیۃ…، حدیث نمبر: ۵۴)۔
اگراس کی ہجرت دنیاکمانے یاکسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہے تواس کی ہجرت اسی کے لئے ہے، جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
صاحب فتح القوی المبین لکھتے ہیں:
فأخبرالنبیﷺ أن ہذہ الہجرۃ تختلف باختلاف النیات والمقاصدبہا( فتح القوی المبین فی شرح الأربعین،ص: ۹)۔
چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے خبردی کہ یہ ہجرت نیتوں اور مقاصد کے بدلنے سے بدلتی ہے۔
اورمشہوراصول ہے:
الأموربمقاصدہا( الأشباہ والنظائر، القاعدۃ الثانیۃ،ص: ۳۹)۔
امورکاحکم اس کے مقاصدکے اعتبار سے ہوتاہے۔
اسی کوسامنے رکھتے ہوئے علامہ شامیؒ آلاتِ لہوکے سلسلہ میں رقم طراز ہیں:
اقول: وہذایفید أن آلۃ اللہولیست محرمۃ لعینہا؛ بل لقصد اللہومنہا، إمامن سماعہا، أو من المشتغل بہا، وبہ تشعرالإضافۃ، آلاتری أن ضرب تلک الآلۃ بعینہاحل تارۃ، وحرم تارۃ اخری باختلاف النیۃ بسماعہا، والأموربمقاصدہا(حاشیۃ ابن عابدین:۶؍۳۵۰)۔
میں کہتاہوں: اوریہ اس بات کافائدہ دیتاہے کہ آلاتِ لہوحرام لعینہ نہیں ہے؛ بل کہ اس سے لہوکا قصد کرنے کی وجہ سے ہے، خواہ اسے سن کریا اس میں مشغول ہوکر، …کیاتم دیکھتے نہیں کہ عین اس آلہ کوبجانا سماع کی نیت کے اختلاف کے اعتبارسے کبھی جائزہوتاہے اورکبھی حرام ہوتاہے، اورامورکاحکم اس کے مقاصد کے اعتبارسے لگایاجاتاہے۔
جانوروں والی تصاویرکی کتابوں کوبھی اسی ’مقصد ‘کے تحت دیکھاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ اس کا مقصد تعظیم وغیرہ بالکل نہیں؛ بل کہ اس کامقصد بچوں کے اذہان میں لفظ کے ہیولیٰ کوبٹھاناہوتاہے، ظاہرہے کہ اس میں حرج کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے، شیخ ابن عثیمنؒ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
الکتب التی بہاصورۃ تنقسم إلی قسمین: قسم موضوع للصور…فلایجوز شراؤہا، ولااقتناؤہا؛ لأنہ المقصود بہا أولاً وآخراً الصور، وقسم آخر، لایقصد بہا الصور، إنما یقصد بہ الفائدۃ؛ لکن قدیشتمل علی صورۃ الذی کتب المقال، فہذہ لابأس من اقتنائہا؛ لأن منہاشاق، وبیعہاجائز؛ لأنہ متی جاز استعمالہاجازبیعہا( لقاء الباب المفتوح، حکم شراء الکتب المشتملۃ علی صور: ۱۱۵؍۲۲)۔
تصویروالی کتابوں کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ، جس کاموضوع ہی تصویرہے…اس کابیچنااورخریدنادونوں ناجائز ہیں؛ کیوں کہ اس کااول اورآخرمقصد تصویرہی ہے، دوسری وہ، جس میں تصویر مقصودنہیں ہوتی، اس کے ذریعہ سے فائدہ مقصودہوتاہے؛ البتہ موضوع کے اعتبارسے تصویرپرمشتمل ہوتی ہے، پس اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اس میں حرج ہے اوراس کی بیع درست ہے؛ اس لئے کہ جب اس کااستعمال جائز ہے تواس کی بیع بھی درست ہوگی۔


Mashaallah bahut khoob
ReplyDeleteجزاکم اللہ
DeleteMashallah jazakallah khair
ReplyDeleteماشاءاللہ
ReplyDelete