لو، جہاد اورمدارس
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
شایدآج کل بی جے پی لیڈران کے پاس کوئی خاص ایسامدعارہ نہیں رہ گیاہے، جولوگوں کے من کوموہ سکے؛ اس لئے وہ ایسے مدعے پربات کررہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب دیکھئے کہ بہارالیکشن میں پاکستان اٹھ کرآگیا، شاہ صاحب بنگال پہنچے توپھراین آرسی کی بات ستانے لگی اوراس کے نفاذ کی بات کرنے لگے، یوپی کے سی ایم یوگی جی لوجہاد پرقانون بنابیٹھے اوراسی کے قدم بہ قدم ایک دواورصوبوں میں بھی لوجہاد پرقانون بنانے کی بات چل پڑی، اگرواقعتاً ان کے پاس کوئی حقیقی مدعاہوتا تووہ الٹے سیدھے قانون اوراٹ پٹانگ باتیں نہیں کرتے۔
بی جے پی کے ایک لیڈرہیں سادھوی پراچی، وہ کہہ رہی ہے کہ لوجہاد کوفروغ دینے میں مدارس اہم کردارنبھارہے ہیں، مدارس میں لوجہادکاسبق پڑھایاجاتاہے اوراس کے لئے عرب ممالک سے پیسہ آتاہے، یہ بھی کہاکہ برہمن، کشتر، ویشیہ اورشودرکی بیٹیوں کے حساب سے 10لاکھ سے 25لاکھ روپے تک لوجہاد کے لئے دئے جاتے ہیں، پراچی کی اس بات کو اٹ پٹانگ بھی کہہ سکتے ہیں اور’’مجذوب کی بڑ‘‘بھی؛ کیوں کہ اگرزمینی سطح پراترکردیکھاجائے توبات بالکل اس کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ اس وقت سیکڑوں مسلم لڑکیوں کی درخواستیں کورٹ میں پڑی ہوئی ہیں، جواپنے غیرمذہب کے لڑکوں سے شادی رچاناچاہتی ہیں اورایک رپورٹ کے مطابق ادھرچندسالوں میں صرف ساؤتھ انڈیا کی ہزاروں لڑکیوں نے غیرمسلم لڑکوں سے شادی کرلی ہے، کیایہ لوجہاد نہیں ہے؟ اگرہے تواسے لوجہاد کیوں نہیں کہاجاتاہے؟ یہ درصل ایک سازش ہے، جسے’’چور مچائے شور‘‘ سے تعبیرکرسکتے ہیں۔
پراچی کی کچھ باتیں توصحیح ہیں؛ لیکن کچھ باتیں ہزارفیصدغلط، مدارس میں’’لو‘‘ اور’’جہاد‘‘دونوں کے تعلق سے تعلیم دی جاتی ہے؛ لیکن اس طرح نہیں، جوآ پ کے ذہن میں ہے یاجومیڈیا بتا اوردکھارہی ہے، کبھی آپ مدرسہ میں جاکرتودیکھئے، لوبھی دیکھیں گی اورجہاد بھی، مدارس میں سکھایاجاتاہے کہ ’’لو‘‘کرنا ہے؛ لیکن یہ بھی بتایاجاتاہے کہ کس کے ساتھ کرناہے؟ وہاں سکھایا جاتا ہے کہ ’’لو‘‘ماں سے کرناہے، باپ سے کرناہے، جب بوڑھے ہوجائیں توزیادہ ’’لو‘‘ کرناہے، اولڈ ایج ہوم میں نہیں بھیجناہے، ان کومارنانہیں ہے؛ بل کہ انھیں اف بھی نہیں کہناہے، وہاں سکھایاجاتاہے کہ بھائی بہن سے لوکرناہے، اپنی اولاد سے کرناہے اوراپنے رشتہ داروں سے کرناہے، یہ سکھایاجاتاہے مدارس میں، یہ نہیں سکھایاجاتاہے کہ کسی کی بیٹی اورکسی کی بہن سے پینکیں بڑھاؤ اوراس کے ساتھ لوشوکرو، مدارس تواس سے کوسوں دورہیں، وہاں لڑکیوں کی انٹری ہی نہیں توپھریہ لوجہاد کہاں سے کریں گے؟لوشووہاں ہوتاہے، جہاں لڑکے لڑکیاں ساتھ پڑھتی ہوں، یہاں تویہ ممنوع ہے توپھریہ کہناکہ مدارس میں لوجہاد کی تعلیم ہوتی ہے، یہ سراسرالزام ہے۔
رہی بات جہادکی تویہ بھی اس کی بھی تعلیم ہوتی ہے مدارس میں؛ لیکن ویسی بالکل بھی نہیں، جیسی آرایس ایس کے اسکولوں میں دی جاتی ہے، یہاں توبس جہاد زندگی کی تعلیم ہوتی ہے، مدارس میں پڑھنے والوں کی اکثریت غریب طبقہ سے تعلق رکھتاہے، ان کے پاس لوشوکرنے اورگل چھرے اڑانے کے لئے پیسے نہیں ہوتے، کتنے توبے چارے بغیرناشتے کے درجے میں حاضرہوتے ہیں، جب کہ آج کل کا لوروپے پیسے کی چمک کے بغیرممکن نہیں، جہاد زندگی کی تعلیم میں یہ لڑائی جھگڑے کی بات نہیں سکھائی جاتی؛ بل کہ زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایاجاتاہے، عملی زندگی میں کیسے محنت اورکوشش کی جائے اس کی تعلیم ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اکثرمدارس سے فارغ ہونے والے امامت وخطابت اورتدریس سے جڑتے ہیں، جہاں کی تنخواہیں نہایت معمولی، ایک یومیہ مزدورسے بھی کم، ایسے میں بے چارہ لوجہادکی سوچے گابھی کیسے؟
باہرسے روپے پیسے والی بات بھی غلط ہے، کیوں کہ جن ممالک کی بات کی جارہی ہے، وہاں توخود اتنی پابندیاں ہیں اورمانگنے والوں کے لئے جیل کی سلاخ بھی ہے، پھروہاں سے کیسے روپے پیسے آئیں گے؟ اورآج کل کی حکومت توطرح طرح کے ٹیکسوں کے ذریعہ خود کام کرنے والوں سے پیسے وصول رہی ہے، وہ بھلا یہاں کے لوگوں کی کیا مددکریں گے؟ بل کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے،ان لوگوکواسرائیل اورامریکہ جیسے ممالک سے خود امدادآتی ہے اوریہ لوگ پورے ملک میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں،اور 10لاکھ سے 25لاکھ والی جوبات پراچی کہہ رہی ہے، وہ دراصل اپنے یہاں کاریٹ بتا رہی ہیں، کئی لوگوں نے اس کااقراربھی کیاہے کہ انھیں اس کام کے لئے پیسے دئے جاتے ہیں، اب بات توکھل کرکہہ نہیں سکتی؛ اس لئے دوسروں کے کندھوں پربندوق رکھ کراپناکام چلارہی ہے اوریہ اس پارٹی سے جڑے تمام لوگوں کاشیوہ ہے۔
بہرحال یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب بی جے پی کے پاس کوئی مدعاباقی نہیں رہا؛ اس لئے سٹھیائے ہوئے لوگوں کی طرح ان کے لیڈران اناپ شناپ بکے جارہے ہیں، اورجوکہناچاہئے، اس سے مکررہے ہیں اورجوقانون بناناچاہئے، وہ نہیں بنارہے ہیں، یوپی میں ابھی موقع ریپ کے خلاف قانون سازی کاہے؛ لیکن اس سے ہندومسلم کی بات نہیں آسکتی تھی؛ اس لئے قانون بنایاگیا لوجہاد پر، بی جے پی کے اس گھناؤنی سیاست کونہ صرف یہ کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے ؛ بل کہ معتدل مزاج تمام لوگوں کوسمجھانے کی بھی ضرورت ہے، اب بھی وقت گیا نہیں ہے، چال بدل سکتی ہے، بس چال چلنے والے کی ضرورت ہے۔
jamiljh04@gmail.com/ 8292017888

No comments:
Post a Comment