محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
وہ ’’شمع انجمن‘‘تھی، اس کے بے لباس، برہنہ اورعریاں جسم کودیکھ کرلوگ اپنی چشم ہائے ہوس ناک کی تشنگی بجھاکرایک لمبی سانس لیا اورٹھنڈی آہ بھراکرتے تھے۔
اس وقت وہ بے غبار، دودھ کی دھلی ؛ بل کہ آب زمزم سے نہائی ہوئی لگتی تھی؛ لیکن…
اب اس نے ’’چراغ خانہ‘‘بننے کافیصلہ ، تن عریاں کوڈھاپنے کاارادہ اوربرہنہ جسم کوچھپانے کاعزم کیا، جس کوسن کر’’آہ بھرنے والے‘‘ کراہ اٹھے اورکراہتی زبان سے بولے:
’’نوسوچوہے کھاکربلی چلی حج کو‘‘۔

No comments:
Post a Comment