درخت پرلگے ہوئے پھلوں کی خرید وفروخت
مذاہب اربعہ کی روشنی میں
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
موجودہ زمانہ کاایک عام رواج درخت پر لگے ہوئے پھلوں کی خرید وفروخت کا ہے، شریعت کی روسے یہ جائز ہے یانہیں ؟ بحیثیت مسلمان ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے، اسی کی صراحت اس مضمون میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس بابت سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ خریدوفروخت کے لحاظ سے درختوں پرلگے ہوئے پھلوں کی دوقسمیں ہوتی ہیں:
۱- پھل ظاہرہونے سے پہلے بیع کی جائے۔
۲- پھل ظاہرہونے کے بعدبیع کی جائے ۔
پہلی صورت میں بیع کرنے سے حدیث میں روکاگیاہے، حضرت حکیم بن حزامؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا:
یارسول اللہ! یأتینی الرجل فیریدمنی البیع لیس عندی، فأبتاعہ لہ من السوق؟ فقال: ’’لاتبع مالیس عندک‘‘۔(سنن أبی داود، باب فی الرجل یبیع لالیس عندہ، حدیث نمبر:۳۵۰۳)
اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پاس آدمی آتاہے اورمجھ سے ایسی چیز کی بیع چاہتاہے، جومیرے پاس نہیں ہے توکیامیں اس کے لئے بازارسے خریدکرلوں؟ جواب دیا: ’’ایسی چیزمت فروخت کرو، جو تمہارے پاس نہ ہو‘‘۔
مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایسے پھلوں کی بیع کے نادرست ہونے پرفقہاء نے اجماع کیاہے، جوابھی ظاہرنہیں ہوئے ہوں، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
أجمع الفقہاء علی عدم صحۃ بیع الثمارقبل ظہورہا؛ لأنہامعدومۃ، وبیع المعدوم غیرجائز للغرر۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ: ۱۵؍۱۳، لفظ: ثمار)
ظاہرہونے سے پہلے پھلوں کی بیع کے عدم جواز پرفقہاء کااجماع ہے؛ کیوں کہ یہ معدوم ہے اورمعدوم کی بیع دھوکہ کی وجہ سے ناجائزہے۔
جہاں تک دوسری صورت(پھل ظاہرہونے کے بعدبیع کی جائے)کاتعلق ہے تواس کی دوصورتیں ہیں:
(الف) درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع کی جائے۔
(ب) درخت کے ساتھ پھلوں کی بیع کی جائے۔
پھرپہلی صورت کی تین شکلیں ہیں:
(الف) پھلوں کوکاٹ لینے کی شرط کے ساتھ بیع کی جائے۔
(ب) پھلوں کودرختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیع ہو۔
(ج) یہ بیع بغیرکسی شرط(نہ درختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹ لینے )کے مطلق ہو۔
جہاں تک پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع ) کی پہلی شکل(پھلوں کوکاٹ لینے کی شرط کے ساتھ بیع )کاتعلق ہے تویہ ائمۂ اربعہ اور جمہورفقہاء کے نزدیک حضرت انسؓ کی حدیث کی وجہ سے درست ہے،جس میں انھوں نے فرمایا:
أن رسول اللہ ﷺنہی عن بیع ثمر التمر؛ حتی یزہو، فقلنالأنس: مازہوہا؟ قال: تحمروتصفر، أرأیت إن منع اللہ الثمرۃ، بم تستحل مال أخیک؟ (صحیح البخاری، باب بیع المخاضرۃ، حدیث نمبر: ۲۲۰۸)
رسول اللہ ﷺنے زہوسے پہلے کھجورکے پھل کی بیع سے منع فرمایاہے، (حضرت انس ؓ کے شاگردان کہتے ہیں کہ) ہم نے (حضرت) انسؓ سے پوچھا: زہوکیاہے؟ جواب دیا:اس کا لال یازرد ہونا، (مزیدفرمایا): تمہاراکیاخیال ہے اگراللہ تعالیٰ پھل روک لے توتم کس بنیاد پراپنے بھائی کامال حلال کروگے؟
حضرت انسؓ کے قول(بم تستحل مال أخیک؟) کامطلب یہ ہے کہ اگرپھل ضائع ہوجائیں توخریدنے والے کے دئے ہوئے مال کے بدلہ میں کچھ بھی نہیں بچے گااورظاہر ہے کہ یہ صورت اس وقت پائی جائے گی، جب کاٹنے کی شرط نہ لگائے(شرح الزرقانی، باب النہی عن بیع الثمارحتی یبدوصلاحہا: ۳؍۳۳۶، حاشیۃ السندی علی النسائی:۷؍۲۶۴)؛ لیکن اگرکاٹنے کی شرط لگادے توپھریہ شکل نہیں پائی جائے گی، اسی لئے ائمۂ اربعہ اورجمہورفقہاء کے نزدیک ایسی صورت میںبیع درست ہوگی، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:
الأولی: أن یشترط البائع علی المشتری أن یقطعہافوراً، ولایترکہا علی الأشجار، وہذہ الصورۃ جائزۃ بإجماع الأئمۃ الأربعۃ وجمہورفقہاء الأمصار۔
پہلی صورت یہ ہے کہ بیچنے والاخریدنے والے پریہ شرط لگائے کہ وہ پھل فوراً توڑلے گا، درخت پرنہیں چھوڑے گاتویہ بہ اجماع ائمہ اربعہ اورجمہورفقہائے امصار جائزہے۔
رہی بات پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع) کی دوسری شکل(پھلوں کودرختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیع )کی تو یہ تمام کے نزدیک درست نہیں؛ کیوں کہ حدیث میں اس کی ممانعت واردہوئی ہے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:
أن رسول اللہ ﷺ نہی عن بیع الثمرحتی یبدوصلاحہا، نہی البائع والمبتاع۔ (صحیح مسلم، باب النہی عن بیع الثمارقبل بدوصلاحہا، حدیث نمبر: ۳۷۴۵)
رسول اللہ ﷺ نے بدوصلاح سے پہلے پھل کی بیع کومنع فرمایاہے، خریدنے اوربیچنے والے دونوںکومنع کیاہے۔
اسی حدیث کی بنیادپرجمہورفقہاء کے نزدیک یہ دوسری شکل ممنوع ہے، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:
والصورۃ الثانیۃ: أن یشترط المشتری ترک الثمارعلی الأشجار حتی حین الجذاذ، وہذہ الصورۃ باطلۃ بالإجماع۔(تکملۃ فتح الملہم، باب النہی عن بیع التمرحتی یبدوصلاحہا: ۱؍ ۳۸۶،نیز دیکھئے: فقہ حنفی: فتح القدیر، کتاب البیوع: ۶؍۲۶۸، فقہ شافعی: المجموع:۱۱؍۱۱۸، ط: مکتبۃ الإرشاد، جدہ، فقہ مالکی: الذخیرۃ للقرافی،اللفظ العاشر:الثمارفی رؤوس النخل : ۵؍۱۸۳، فقہ حنبلی: الکافی لابن قدامۃ، باب بیع الثمار: ۳؍۱۱۰)
اوردوسری صورت یہ ہے کہ خریدنے والاپھل کے تیارہونے تک درخت پرچھوڑے رکھنے کی شرط لگائے تویہ صورت بالاجماع باطل ہے۔
اب مسئلہ پہلی صورت(درخت کے بغیرصرف پھلوں کی بیع)کی تیسری شکل( بغیرکسی شرط(نہ درختوں پرباقی رکھنے اورنہ کاٹ لینے )کے مطلق)کاہے تواس سلسلہ میں فقہاء کی دورائیں ہیں:
۱- یہ بیع نادرست ہے ---- اس کے قائلین میں حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی ،حضرت امام احمدبن حنبل، اسحاق بن راہویہ، سفیان ثوری اورامام ابواللیث رحمہم اللہ ہیں ---- یہ حضرات ایک تو بدوصلاح سے قبل پھل کی بیع کی ممانعت والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں، دوسرے یہ کہتے ہیں کہ مطلق ،ابقاء کاتقاضاکرتاہے اورجب بشرط الابقاء بیع درست نہیں تویہ بھی درست نہیں، امام نوویؒ فرماتے ہیں:
(القسم الثالث) أن یبیعہا مطلقاً لابشرط القطع ولابشرط التبقیۃ، فمذہبناأن البیع باطل للأحادیث، وبہ قال مالک وأحمد واسحاق وداود… وعندنا:الإطلاق یقتضی التبقیۃ۔ (المجموع: ۱۱؍۱۲۰، بدایۃ المجتہد، الباب الثالث: وہی البیوع المنہی عنہا من قبل الغبن الذی سببہ الغرر: ۲؍۱۴۹، المغنی لابن قدامۃ،مسئلہ نمبر: ۷۲۲: وإذااشتری الثمرۃ دون الأصل، ولم یبدصلاحہاعلی الترک… : ۶؍۱۴۹)
(تیسری قسم) یہ ہے کہ اس کی بیع مطلق کرے، نہ کاٹنے کی شرط لگائے اورناہی باقی رکھنے کی، تواحادیث کی وجہ سے ہمارامذہب یہ ہے کہ بیع باطل ہے، اسی کے قائل امام مالک، امام اسحاق اورامام داؤد ہیں … (کیوں کہ) ہمارے نزدیک مطلق لفظ ابقاء کاتقاضاکرتاہے۔
۲- یہ بیع درست ہے ---- اس کے قائلین میں حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام بخاری اورحضرت امام زہری رحمہم اللہ ہیں ---- یہ حضرات کہتے ہیں کہ مطلق کی صورت بشرط القطع کی صورت میں داخل ہے؛ کیوں کہ جب لفظ مطلق ہے تواگربائع کاٹنے کاحکم دے تومشتری پرکاٹنالازم ہے ، تویہ بشرط القطع میں داخل ہوگیا؛ لیکن اگربائع کانٹے کاحکم نہ دے تومشتری پرکاٹناضروری نہیں کہ قطع تقاضائے بیع نہیں ہے، پس اس کی مثال ایسی ہوئی کہ بائع نے پہلے توبشرط القطع بیچا، پھرسستی برتی اورکاٹنے کاحکم نہیں دیا، لہٰذا نتیجہ کے اعتبارسے پہلی اورتیسری صورت میں کوئی فرق نہیں ہے، مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں:
والصورۃ الثالثۃ: أن یقع البیع مطلقاً، ولایشترط فیہ قطع ولاترک، فہذہ الصورۃ محل خلاف بین الأئمۃ…قال ابوحنیفۃ رحمہ اللہ: البیع فیہاجائز کالصورۃ الأولیٰ، ویجوز للبائع أن یجبرالمشتری علی قطع الثمارفی الحال، وإلی ہذاالمذہب یظہرجنوح البخاری کماأشار إلیہ الحافظ، وہومذہب الزہری کماحکی عنہ البخاری … لنا: أن صورۃ الإطلاق وہی الصورۃ الثالثۃ داخلۃ فی الصورۃ الأولیٰ فی الحقیقۃ؛ لأنہ إطلاق فی اللفظ فقط، فإن أمرہ البائع وجب علیہ القطع فی الحال، فکأنہ قد شرط فیہ القطع، وأماإذالم یأمرہ بالقطع فلایجب علی المشتری أن یقطع الثمار، لأن القطع لیس بمقتضی البیع؛ بل لأن البائع قد تساہل فی أمرہ، فصارکأنہ باع بشرط القطع، ثم تساہل ولم یأمرہ بالقطع، فلافرق بین الصورۃ الأولیٰ والثالثۃ فی المآل۔(تکملۃ فتح الملہم: ۱؍۳۸۶-۳۸۷، نیز دیکھئے: تحفۃ الفقہاء، بیع الثمارعلی الأشجار…: ۲؍۵۵-۵۶)
تیسری صورت یہ ہے کہ بیع مطلق ہو، نہ کاٹنے کی شرط لگائی گئی ہواورناہی چھوڑنے کی تویہ صورت ائمہ کے درمیان اختلاف کامحل ہے…امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں: اس صورت میں بیع پہلی صورت کی طرح جائزہے اوربائع کے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ فی الفورپھل کاٹنے پرخریدارکومجبورکرے، اسی مذہب کی طرف امام بخاریؒ کاجھکاؤ ہے، جیساکہ حافظ ابن حجرؒنے اشارہ کیاہے اورامام بخاریؒ کے بقول امام زہریؒ کابھی یہی مسلک ہے… ہماری دلیل یہ ہے کہ مطلق کی صورت اوروہ تیسری صورت ہے، حقیقتاً پہلی صورت میں داخل ہے؛ کیوں کہ یہ صرف لفظ میں اطلاق ہے؛ چنانچہ اگربیچنے والاخریدارکوحکم دے تواس پرفی الحال کاٹناواجب ہے، پس یہ گویاایساہی ہواجیسے قطع کی شرط لگائی ہو، اورجہاں تک اس صورت کاتعلق ہے ، جس میں بیچنے والے نے خریدارکوکاٹنے کاحکم نہ دیا ہوتوخریدارپرپھلوں کا کاٹنا واجب نہیں؛ کیوں کہ قطع تقاضائے عقدمیں سے نہیں ہے؛ بل کہ اس لئے ہے کہ بیچنے والے نے اپنے حکم کے (نفاذ) میں سستی برتی، پس یہ ایساہی ہوگیا، جیسا کہ کاٹنے کی شرط کے ساتھ بیچاہو، پھراس نے سستی برتی اورکاٹنے کاحکم نہیں دیا، لہٰذا نتیجہ کے اعتبار سے پہلی اورتیسری شکل میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اب جہاں تک تعلق ہے دوسری صورت(پھلوں کودرخت کے ساتھ بیچنے)کا تواس سلسلہ میں تمام فقہاء اس بات پرمتفق ہیں کہ یہ بیع درست ہے؛ کیوں کہ قاعدہ ہے: یغتفرفی التوابع مالایغتفرفی غیرہا(الأشباہ والنظائرلابن نجیم،ص:۱۰۳)، علی بن عباس حکمی لکھتے ہیں:
فأماإن کان البیع للثمرۃ مع أصلہا، فلاخلاف فی جوازہ لدخول الثمرۃ تبعاً لأصلہا، فلایضراحتمال الغرر۔ (البیوع المنہی عنہانصا فی الشریعۃ الإسلامیۃ…، ص: ۱۴۶)
جہاں تک اس صورت کاتعلق ہے، جس میں پھل کی بیع درخت کے ساتھ ہوتوپھل کے درخت کے تابع ہونے کی وجہ سے اس کے جائز ہونے میں کسی کااختلاف نہیں ہے ، لہٰذا دھوکہ کااحتمال نقصان دہ نہیں ہے۔
ھذاماعندی واللہ أعلم بالصواب!

No comments:
Post a Comment