Thursday, 16 April 2020

آن لائن نماز: ایک جائزہ

باسمہ تعالیٰ

آن لائن نماز: ایک جائزہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

       
    دین اسلام اللہ کاآخری دین ہے، اس کے بعدقیامت ہی قائم ہوگی اورحضرت محمدﷺسلسلۂ نبوت کے آخری کڑی ہیں، ان کے بعدنہ کوئی رسول آئے گا اورنہ کوئی نبی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انھیں خاتم النبیین قراردیاہے، ارشادہے: {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْماً}(الأحزاب: ۴۰)’’ محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ‘‘۔
    اس آیت میں لفظ’’خاتَم‘‘کاآیاہے، اس کوبعض نے زیرکے ساتھ(خاتِم) بھی پڑھاہے، پڑھنے کے اعتبارسے اس لفظ کوچاہے جوبھی پڑھاجائے؛ لیکن معنی کے لحاظ سے تقریباً ایک ہی ہے؛ چنانچہ ابن الجوزی کہتے ہیں: جس نے تاء کے زیرکے ساتھ خاتِم پڑھا، تواس کے معنی ہیں’’نبیوں کومہرلگایا‘‘ اورجس نے تاء کے زبر کے ساتھ خاتَم پڑھا، تواس کے معنی ہیں’’نبیوں کے آخر‘‘(زادالمسیر:۶؍۲۰۴)، مہرلگانے کاکام آخرمیں ہی ہوتاہے؛ اس لئے معناً یہ بھی آخر کے ہی ہوئے، اس کی تائیدایک حدیث سے ہوتی ہے، جس میںاللہ کے رسول ﷺ نے اس بات کوایک مثال سے سمجھایا، آپﷺ نے فرمایا: إن مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً، فأحسنہ وأجملہ؛ إلاموضع لبنۃمن زاویۃ، فجعل الناس یطوفون بہ، ویعجبون لہ، ویقولون: ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ، قال: فأنااللبنۃ، وأناخاتم النبیین۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۳۴۲)’’میری اورمجھ سے پہلے کے نبیوں کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس نے بہت ہی حسین وجمیل گھربنایا؛ لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدیا،لوگ اس کے گھردیکھنے لگے اورپسندکرنے لگے اورکہنے لگے:اس اینٹ کوکیوں نہیں رکھا، تومیں ہوں وہ اینٹ، اورخاتم النبیین ہوں ‘‘۔
    آخری نبی کی بعثت کے ساتھ اِس دین کی تکمیل ہوگئی اورزندگی گزارنے کے لئے جتنے احکام کی ضرورت ہوسکتی تھی، انھیں اصولی یافروعی طورپربتادیاگیا،تمام اوامر ونواہی کاذکرکردیاگیا، تمام حلال وحرام کوبیان کردیاگیااورسارے معفوعنہ امورکی بھی نشاندہی کردی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تکمیل کااعلان حجۃ الوداع کے موقع سے عرفہ کے دن فرمایا: {ِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً}(المائدۃ:۳)’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کومکمل کردیا اورتم پر اپنی نعمت تمام کردی اورتمہارے لئے بطوردین کے اسلام کوچنا‘‘، اب جتنے بھی مسائل پیش آئیں گے ، نبی کریم ﷺ کے ذریعہ بتائے ہوئے امورکی روشنی میں ہی ان کاحل تلاش کیاجائے گا، ان مسائل کے حل کے لئے علماء وفقہاء نے خصوصیت کے ساتھ ’’اجتہا‘‘اور’’قیاس‘‘کا طریقہ اختیارکیا ؛ لیکن ظاہرہے کہ اجتہاداورقیاس پتہ ماری اوردماغ سوزی کاکام ہے، ہر’’ایرے غیرے نتھوخیرے ‘‘کاکام نہیں؛ اس لئے ان کے لئے کچھ اصول اورشرائط بنائے گئے ہیں؛ چنانچہ اجتہاد کے لئے مسلمان، مکلف اورعادل ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن، سنت، عربی زبان، اصول فقہ، مقاصد شریعت، مواقع اجماع، ناسخ ومنسوخ سے واقف کار اورزمانہ شناس ہونے کوبھی شرط قراردیاگیاہے، جب کہ بعض حضرات نے اصول دین ، فقہی فروعات اورعقلی دلائل سے واقفیت کوبھی شرط قراردیاہے، اجتہاد کی طرح قیاس کے صحیح ہونے کے لئے گیارہ بارہ شرطیں اصولیین نے ذکرکی ہیں، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں ذکرنہیں کیاجاسکتا(تفصیلات اصول فقہ کی مطولات میں دیکھی جاسکتی ہیں)۔
    موجودہ زمانہ تعلیمی ترقی کے زمانہ کے ساتھ ساتھ تخصصات (اسپسیلائزیشن)کابھی دورہے اوربرصغیر کو چھوڑکرتقریباً ہرجگہ اس کوتسلیم کیاجاتاہے، کسی بھی موضوع سے متعلق بات اسی کی درست اورمعتبرسمجھی جاتی ہے، جس نے اس موضوع پرتخصص کررکھاہواورجولوگ متخصص نہیں ہوتے، وہ خوداس موضوع پربحث نہیں کرتے؛ لیکن ہمارے برصغیر کامسئلہ اس سے مستثنیٰ ہے، یہاں غیرمتخصص بھی کسی بھی موضوع پرکلام کرسکتے ہیں اوربالخصوص دین اورشریعت کے معاملات میں تولازماً کرسکتے ہیں، اس میں بالخصوص وہ لوگ پیش پیش رہتے ہیں، جومستشرقین کے بنائے ہوئے نصاب کے مطابق اسلامک اسٹڈیزکی ڈگریاں اپنے پاس رکھتے ہیں اوران کاساتھ وہ حضرات بھی دیتے ہیں، جواردوسے شدبد رکھتے ہیں اورچندکتابوں کامطالعہ کرکے مجتہدمطلق سمجھ بیٹھتے ہیں، اسے آپ برصغیرکاکمال کہئے یانقص، آپ کے اختیارمیں ہے؛ تاہم اتنی بات ضرورہے کہ ایسے’’خودساختہ مجتہدین‘‘ کی وجہ سے امت میں انتشارضرورپیدا ہوجاتاہے۔
    اس وقت پوری دنیاکورونا کی وباسے جھونجھ رہی ہے اورجہاں اس کی وجہ سے اقتصادی، سماجی ، طبی وغیرہ کے بہت سارے مسائل پیداہوئے ہیں، وہیں کئی شرعی مسائل نے بھی جنم لیاہے، جن کاحل بھی مفتیان کرام کی جانب سے پیش کیاجاچکاہے اورپیش کیاجارہاہے، ایسے وقت میں ایک ’’مجتہد‘‘ کی جانب سے ’’آن لائن نماز‘‘کامسئلہ بھی پیش کیاگیاہے، اس سے قبل’’ آن لائن جھاڑبھونک‘‘ اور’’آن لائن بیعت ‘‘کاتذکرہ سن چکاتھا، اب آن لائن نماز کے مسئلہ نے غوروفکراورجائزہ کی دعوت دی ہے، وہی آپ کی نذرہے۔
    نمازاسلام کادوسرارکن ہے، جس کی ادائے گی کے دوطریقے بتائے گئے ہیں: ایک اجتماعی اوردوسراانفرادی، دونوں صورتوںمیںنمازہوجائے گی اورنمازی مؤاخذہ سے بچ جائے گا؛ البتہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب انفرادی طورپرنمازپڑھنے کے مقابلہ میں زیادہ ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادہے: صلاۃ الجماعۃ أفضل من صلاۃ الفذ بسبع وعشرین درجۃ۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۱۹، مسلم، حدیث نمبر:۶۵۰) ’’جماعت کی نمازتنہانمازکے مقابلہ میں ستائیس گناافضل ہے‘‘، نیزبعض احادیث جماعت کی اہمیت پربھی دلالت کرتی ہیں؛ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:والذی نفسی بیدہ لقدہممت أن آمربحطب فیحطب، ثم آمر بالصلاۃ فیؤذن لہا، ثم آمررجلاً فیؤم الناس، ثم أخالف إلی رجال فأحرق علیہم بیوتہم، والذی نفسی بیدہ لویعلم أحدہم أنہ یجدعرقاً سمیناً أو مرماتین حسنتین لشہد العشاء۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۴۴)’’اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں نےارادہ کیاکہ لکڑیاں جمع کرنے کاحکم دوں پھرنماز کاحکم دوں تواذان دی جائے پھرکسی کوحکم دوں تولوگوں کی امامت کرے، پھر میں(جماعت میں حاضرنہ ہونے والے)لوگوں کے پاس جاؤں اوران کے گھر وں کوآگ لگادوں، اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگران کومعلوم ہوتاکہ انھیں پرگوشت ہڈی اورپسلیاں ملیں گی اورتوعشاء میں(بھی) حاضرہوتے ‘‘، یہ حدیث جماعت کی اہمیت اوراس کی تاکیدپردلالت کرتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس کاشرعی حکم کیاہے؟ جمہورفقہاء اس کے سنت ہونے کے قائل ہیں، تاہم بعض سنت مؤکدہ ہونے کے قائل ہیں؛ چنانچہ ابن بطال لکھتے ہیں: وأجمع الفقہاء أن الجماعۃ فی الصلوات سنۃ إلاأہل الظاہر، فإنہاعندہم فریضۃ (شرح البخاری لابن البطال: ۲؍۲۶۹)،’’فقہاء کااتفاق ہے کہ جماعت سنت ہے، سوائے اہل ظاہرکے کہ ان کے نزدیک فرض ہے‘‘، جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھناسنت ہے تویہ بات بھی معلوم ہونی چاہئے کہ جماعت میں امام اورمقتدی کاہوناضروری ہے، لہٰذا آیئے اقتداکی شرطیں جانتے چلیں؛ تاکہ آن لائن نماز کامسئلہ مکمل طورپرواضح ہوجائے۔
    اقتداکے لئے درج ذیل امورشرط ہیں، جن کے وجودکے بغیراقتداء درست نہیں ہوگی اورجب اقتداء درست نہیں ہوگی توجماعت بھی درست نہیںہوگی:
    ۱-  نیت: فقہاء کااس بات پراتفاق ہے کہ اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام کے اقتداء کی نیت کرناشرط ہے، اورنیت دل کے ارادہ کانام ہے؛ البتہ زبان سے اس کی ادائے گی احناف وشوافع کے نزدیک مستحب ہے۔
    ۲-  امام کے آگے نہ رہنا: جمہورفقہاء (حنفیہ شافعیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ مقتدی کھڑے ہونے میں امام سے آگے نہ رہے؛ کیوں کہ حدیث ہے: إنماجعل الإمام لیؤتم بہ۔(بخاری، حدیث نمبر:۷۰۱)’’امام اس لئے بنایاجاتاہے؛ تاکہ اس کی اقتداء کی جاے‘‘،اورمقتدی کے آگے ہونے کی صورت میں ایسانہیں ہوگا۔
    ۳-  مقتدی امام کے مقابلہ میں قوی الحال نہ ہو: جمہورفقہاء (حنفیہ، مالکیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ مقتدی امام کے مقابلہ میں قوی الحال نہ ہو؛ چنانچہ ان پڑھ کے پیچھے پڑھے لکھے کی اقتداء درست نہیں ہوگی۔
    ۴-  امام ومقتدی کی نماز کاایک ہونا: جمہورفقہاء(حنفیہ، مالکیہ، حنابلہ)کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام ومقتدی کی نمازکاایک ہونابھی شرط ہے؛ چنانچہ عصرپڑھنے والے کے پیچھے ظہرپڑھنادرست نہیں۔
    ۵-  امام ومقتدی کے مابین فاصلہ نہ ہونا: تمام فقہاء کے نزدیک اقتداء کے درست ہونے کے لئے امام ومقتدی کے مابین زیادہ فاصلہ کانہ ہونابھی شرط ہے؛ البتہ فاصلہ کی تعیین میں اختلاف ہے، مثلاً: دوصف یاایک ایسی نہر، جس میں کشتی آتی جاتی ہو۔
    ۶-  اتحاد مکان: اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ امام ومقتدی ایک ہی جگہ پرہوں کہ اقتداء کامقصد ایک جگہ لوگوں کاجمع ہوناہے۔
    ۷-  امام ومقتدی کے درمیان عورتوں کانہ ہونا: اقتداء کے درست ہونے کے لئے جمہورکے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ امام اورمردوں کی صف کے بیچ میں عورتیں نہ ہوں، ورنہ نماز مکروہ ہوگی، نیزاگرعورتوں کی مکمل صف کے پیچھے مرد وں کی صف لگ جائے توبھی نماز درست ہوجائے گی۔
    ۸-  امام کی حرکات وسکنات سے واقف ہونا: اقتداء کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ سن کریادیکھ کرامام کی حرکات وسکنات کاعلم ہوتارہے، اگرایسانہ ہوتوپھراقتداء درست نہیں ہوگی۔
    ۹-  امام کی نماز کاصحیح ہونا: اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ امام کی نمازصحیح ہو، اگراس کی نماز درست نہ ہوگی تومقتدی کی نماز بھی درست نہیں ہوگی(دیکھئے: الموسوعۃ الفقیۃ الکویتیۃ، لفظ اقتداء،جلد۶)۔
    آن لائن نماز کی صورت میں مندرجہ بالامیں سے کئی شرطیں نہیں پائی جائیں گی، مثلاً: مقتدی کاامام کے آگے نہ رہنے، امام ومقتدی کے مابین فاصلہ نہ ہونے، امام ومقتدی کے مابین عورتوں کے نہ ہونے اوراتحادمکان  وغیرہ کی شرطیں بالکل بھی نہیں پائی جائیں گی، ان کے علاوہ قبلہ کامسئلہ بھی رہے گا، لائٹ کٹ جانے یا نیٹ پیک ختم ہوجانے کی وجہ سے سلسلہ کامنقطع ہوجانابھی ہے، پھرایسی صورت میں آن لائن نماز پڑھنے والے کیاکریں گے؟ اپنی نمازیںوہ کیسے پوری کریں گے؟
    ان مسائل کے تعلق سے جب ’’خودساختہ مجتہد‘‘ صاحب سے دریافت کیاگیاتوہ آئیں بائیں شائیں کرکے الٹی سیدھی مثالیں پیش کرنے لگے، اس سلسلہ میں مجتہد صاحب نے ایک جملہ پرزوریا کہ’’جب کسی عبادت کواس کی مثالی صورت میں انجام دیناممکن نہ رہے توآپ عبادت کوختم نہ کریں؛ بل کہ کسی دوسری صورت میں چلے جائیں‘‘؛ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دوسری صورت کون بنائے گا؟ کیاہرشخص اپنے اپنے لحاظ سے یہ دوسری صورت کو بناسکتاہے؟ پھرتوعبادت مذاق بن کروہ جائے گی، یا اس دوسری صورت کو شارع بنائے گا؟ تواب اس کاسوال نہیں کہ دین کی تکمیل ہوچکی ہے، نیزوحی کاسلسلہ بھی منقطع ہوچکاہے۔
    پھرمجتہد صاحب نے تیمم کی مثال پیش کی اوربتایاکہ اس پرقیاس کرتے ہوئے نبی ﷺ نے جرابوں پرمسح کی اجازت دی، نمازقصر کی مثال پیش کی کہ آپاتھاپی، افراتفری اورخطرہ کی صورت پیداہوجائے تونماز میں قصرکرلیں، مجتہدصاحب کی مثال بے سرپیرکی مثال ہے ؛ کیوں کہ قصرکاتعلق سفرسے ہے، خطرہ اورافراتفری سے بالکل بھی نہیں، مجتہد صاحب نے صلاۃ الخوف کی مثال بھی پیش کی ہے کہ غیرمعمولی حالت میں اس کی شکل کیسی بنادی؟ پھراسی پربس نہیں کیا’’فرجالاورکبانا‘‘کہایعنی سواری پربھی نمازپڑھ سکتے ہیں،مجتہد صاحب سے سوال ہے کہ یہ شکل شارع نے بنائی ہے توکیاآپ درپردہ اپنے آپ کوشارع کے روپ میں پیش کررہے ہیں؟
    قبلہ کے سلسلہ میں سوال کاجواب دیتے ہوئے سواری پرنماز کی مثال پیش کی کہ رسالت مآب ﷺ ایک مرتبہ قبلہ کی طرف ہوکرنماز شروع کرلیتے تھے، پھرسواری جدھرجائے ، قبلہ کے رخ پررہے یا نہ رہے، فرق نہیں پڑتاتھا، رمضان کی مثال بھی پیش کی یہ اگررمضان میں روزہ نہیں رکھ سکتے تودوسرے ایام میں پورے کریں، مجتہدصاحب سوال کرتے ہیں کہ رمضان کی برکتیں کہاں گئیں؟ لیکن پھربھی اس کی اجازت دی گئی ہے، اوراگراس کے بعدبھی روزہ رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں توفدیہ کی اجازت دی گئی ہے؛ لیکن سوال یہاں پریہی ہے کہ یہ تمام اجازتیں شارع کی طرف سے ہیں، کسی بندہ کی طرف سے نہیں ہیں۔
    نیزیہ سب مثالیں ایک بھی ایسی نہیں، جن کوآن لائن نمازپرفٹ کیاجاسکے، لہٰذاان کونظیربناکرآن لائن نماز کوثابت کرنادرست نہیں اوراسے اصول کی اصطلاح میں’’قیاس مع الفارق‘‘کہاجاتاہے، یہ بات یادرکھنے کی ہے دین میں رائے یعنی انسان جس کواچھاسمجھے، اس کاعمل دخل نہیں ہوتا؛ بل کہ اس کے لئے شرعی دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، اس سلسلہ میں حضرت علی ؓ کاقول یادرکھنے کی ہے، انھوں نے فرمایا: لوکان الدین بالرأی لکان أسفل الخف أولیٰ بالمسح من أعلاہ، وقدرأیت رسول اللہ ﷺ یمسح علی ظاہرخفیہ۔ (ابوداو، حدیث نمبر:۱۶۲) ’’اگردین کاتعلق رائے سے ہوتاتوخف کے نچلے حصہ کامسح اس کے اوپری حصہ کے مسح سے اولیٰ ہوتا، اورمیں نے رسول اللہ ﷺ کوخف کے اوپری حصہ پرمسح کرتے ہوئے دیکھاہے‘‘، یعنی انسان اول وہلہ میں یہ سمجھتاہے کہ خف کے نچلے حصہ میں مسح ہوناچاہئے؛ اس لئے کہ نچلاحصہ زمین کے قریب ہوتاہے اورمٹی وغیرہ چیزیں اس میں لگ جاتی ہیں تو نچلے حصہ کامسح کرنابہترہوناچاہئے؛ لیکن جب غوروفکرکی نگاہ ڈالتاہے تومعلوم ہوجاتاہے اور سمجھ جاتاہے کہ اوپری حصہ کامسح ہی ٹھیک ہے؛ کیوں کہ نچلے حصہ کے مسح کرنے سے تطہیرکے بجائے تلویث لازم آئے گی(شرح بلوغ المرام للعثیمین: ۱؍۸۶)، اسی طرح جنگ صفین کے موقع سے سہل بن حنیف نے فرمایا: یاأیہاالناس! اتہموا رأیکم علی دینکم۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۷۸)’’دین کے تعلق سے اپنی رائے کو متہم کرو‘‘، اس کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: دین کے معاملہ میںصرف رائے پرعمل مت کرو، جس کی دین میں کوئی اصل اوربنیادنہ ہو‘‘(فتح الباری: ۱۳؍۳۰۲)۔
    آن لائن نمازکی جوبات کی جارہی ہے اوراس کے لئے جن مثالوں کونظیربنایاجارہاہے، وہ مثالیں بالکل ان فٹ ہیں، اورایسی رائے پیش کرناہے، جس کی کوئی اصل اوربنیادہی نہیں ہے، پھراقتداء کی شرطیں مفقودہورہی ہیں، نیز اس رائے کی ضرورت بھی نہیں ہے؛ کیوں کہ ایسے وقت میں شریعت نے ترک جماعت کی اجازت  دے رکھی ہے؛ چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ حضورﷺکاارشادنقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: من سمع النداء فلم یأتہ، فلاصلاۃ لہ إلامن عذر۔(صحیح ابن ماجۃ للألبانی، حدیث نمبر: ۶۴۵) ’’جس نے اذان سنی اورنہیں آیا(جماعت کے لئے) تواس کی (گویا)نماز ہی نہیں، الایہ کہ عذرہو‘‘، توجب جماعت کی رخصت شریعت کی طرف سے دی ہوئی ہے یا چارپانچ آدمی مل کرنماز پڑھ لے رہے ہیں توپھرایک بے اصل بات کوپیش کرکے انتشارپیداکرناکسی طوردرست نہیں۔

1 comment: