Sunday, 5 April 2020

خشک آنکھیں


 خشک آنکھیں

----------------------

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی   

                                                                                     

اُف…! خدایا…!یہ بھیڑ…! یہ اژدحام…! بدحال بوڑھے…! خستہ حال جوانان…!بلکتے بچے…! سسکتی مائیں…!اشک چھپاتی بہنیں…!سروںپر بوریاں، جیسے حمالی کے کام پرمامورہوں، قطاردرقطاررواں دواں، جیسے ان کے علاقوں میں فسادپھوٹ پڑاہو، حواس باختہ، جیسے ان کے گھروں پرڈرون سے حملہ ہواہو، چچلاتی دھوپ میں بلبلاتے لوگ، بالکل شام وفلسطین اورلیبیاومیانمارکے رفیوجی کی طرح، کھلے آسمان کے نیچے، پیٹ پچکے ہوئے، ہونٹ سوکھے ہوئے، دانہ دانہ کے محتاج، گھونٹ گھونٹ کے ضرورت مند، آج سے پہلے توایسی حالت نہ دیکھی نہ سنی، نہ سوچانہ تصورکیا، پھرکیایہ کوئی خواب ہے؟اگرخواب ہے تواس کی تعبیرکیا؟ اگرخواب نہیں تواس کی حقیقت کیا؟
یہ د راصل ہیولے تھے، جواٹھ اٹھ کربسترکے ٹھیک اوپرچھت کی نچلی سطح پراسکرین کی طرح چلتے پھرتے نظرآرہے تھے، تاریک کمرہ میں یہ اوربھی واضح تھے،کئی بارتوچٹکی لینے کی وجہ سے نکلنے والی منھ کی سسکاری سے بازومیں لیٹی حریم نازکی نیند بھی اچٹ گئی؛ لیکن بتاتے کیا؟ اس لئے آنکھ موندکرسونے کی ایکٹنگ کرنی پڑی، ان ہیولوں کوجھٹلایابھی نہیں جاسکتاتھاکہ آنکھیں کھلی تھیں، یہ وہ ہیولے تھے، جودن بھرسوشل میڈیاز پرگردش کرتے رہے، مختلف عناوین سے ، ان پرچرچے بھی ہوئے، مختلف پہلؤوں سے، یہ تونیوزچینلوں کے لئے نعمت غیرمترقبہ تھی، پھروہ کیسے ان سے آنکھیں چراسکتے تھے؟کچھ چینلوں نے توباقاعدہ ان ہی پرڈیبیٹ کرواڈالے، مختلف پہلؤوں سے ، مختلف سوالات اٹھائے گئے، الزام تراشیاں بھی کی گئیں؛ لیکن …افسوس!…صدافسوس…! جس پہلوکونہیں چھیڑاگیا، وہ ان کے اپنے مسائل تھے، ظاہرہے کہ وہ دوسرے جان بھی نہیں سکتے تھے، جاننے کی کوشش کرتے تب نا؟!
وہ بھی اسی بھیڑکاایک ذرہ تھا، معمولی ذرہ، اس کے سرپربھی بوری تھی اورشانہ پربیگ، پاؤوں میں معمولی سلیپر، وہ بڑی مشکل سے بھیڑکوچیرتے ہوئے تقریباًتین کیلومیٹرپیدل چل کرریلوے اسٹیشن تک پہنچا، خوش تھا کہ اب جلدہی گاڑی پر سوارہوگا، خوشی اس کی بھی تھی کہ بس بہت ہی جلدبوڑھی ماں سے ملاقات ہوگی، ماں کے تصورمیں کھوگیا، وہ کس طرح گھرکی چوکھٹ پرانتطارکررہی ہوگی؛ لیکن یہ کیا…؟یہاں بھی اسے ایسی ہی بھیڑنظرآئی، جیسی وہ اپنے پیچھے چھوڑآیاتھا، وہ ٹکٹ کاؤ نٹرڈھونڈتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ٹکٹ لینے والوں کی لمبی قطارکاتصورکرکے کانپ گیا؛ لیکن جب کاؤنٹرنظرآیاتو’’دال میں کچھ کالا‘‘نظرآیا، کاؤنٹرپرقطارکھڑی نظرنہیں آئی، جب کاؤنٹرپرپہنچاتوپتہ چلاکہ ’’پوری دال ہی کالی‘‘ہے۔
وہ بیٹھنے کے لئے ادھرادھربینچ تلاش کرنے لگا؛ لیکن یہاں توتل دھرنے کی جگہ نہیں دکھ رہی تھی، جیسے تیسے کرکے ایک کونے کی طرف بڑھااورڈھہ گیا، ساتھ میں لائے ہوئے پانی کابوتل نکالا اورغٹاغٹ آدھی بوتل خالی کرگیا، اب کچھ سانس لینے کی مہلت ملی تووہاں پرموجودٹیلی ویژن سے آنے والی آوازکانوں میں آئی، پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے تمام ٹرینیں یک لخت ردکردی گئی ہیں، اس آواز کوسن کراس کے کان بجنے لگے ، صرف سائیں سائیں کی ہی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، کرے توکیاکرے اورجائے توکہاں جائے؟ وہ باہرنکلاتوپتہ چلاکی پولیس عوام کوکہیں بھی جانے نہیں دے رہی ہے، جانے والوں پرڈنڈے برس رہے ہیں، وہ واپس اسی کونے میں آگیااورٹکرٹکربھیڑ میں سے ہرایک کا منھ دیکھنے لگا۔
شورشرابہ، ہوہاؤ، چیخ پکار، بچوں کی بلبلاہٹ، بچیوں کی ممیاہٹ، سوچنے سمجھنے کی قوت مفقود، سامنے اندھیراساچھایاہواتھا، زندگی میں پہلی بارایسامنظردیکھاتھا، وہاں پرموجودہرشخص کے چہرے سے ہوائیاں اڑرہی تھیں، جن کودیکھ کرخودکوتسلی دے رہاتھا، بالآخرشاہ خاورکی شبابی رعنائیاں اترتے اترتے نیل گوںآسمان کے افق کے پار اترگئیں، اسٹیشن کی لائٹیں جل اٹھیں؛ لیکن ان آوازوں کاکیا؟ وہ توتسلسل کے ساتھ جاری تھیں، دل چاہ رہاتھاکہ ماں سے بات کرلے، دوتین بارٹرائی بھی کیا؛ لیکن شوروغل میں بات ہی نہیں ہوسکی۔
آج اسٹیشن پراس کاپانچواں دن تھا، راستے کے لئے لی گئی کھانے کی اشیاء توکب کی ختم ہوچکی تھیں، جیب میں موجود پیسوں سے کئی دن کام چلایاگیا؛ لیکن جلدہی وہ بھی ختم ہوگئے کہ اسٹیشن پربکنے والے سامانوں کی قیمتیں دوگنی ہوچکی تھیں، وہ شش وپنچ میں تھا، اب کیاکرے؟ آتش بھوک بھڑک اٹھی تھی ؛ لیکن اس کوسردکرنے کے لئے کچھ نہ تھا، پیاس کی شدت بڑھ چکی تھی؛ لیکن اس کوبجھانے کے لئے اسٹیشن کاکھارااورگرم پانی تھا، جس سے پیاس بجھ نہیں سکتی تھی، اُف …یاخدا!ایسی بے بسی…! ایسی بے چارگی…!
پورے چھ دنوں کے بعدایک ٹھنڈی ہواکاجھونکاآیا، اس شخص کی طرح خوشی ہوئی، جسے ریگستان کے گرم ہواؤوں کے تھپیڑے کھانے کے بعدٹھنڈی ہواکاجھونکا نصیب ہواہو، اس کے کانوں میں آواز آئی:
’’پھنسے ہوئے لوگوں کے لئے بسوں کاانتظام کیاگیاہے‘‘۔
لوگوں کی ساری بھیڑبے ہوشی کے عالم میں دروازے کی طرف لپک پڑی، ایک دوسرے کوپھلانگتے ہوئے، ایک دوسرے پرچڑھتے ہوئے، نہ اس کاخیال کہ نیچے کوئی گراہے، نہ اس کی رعایت کہ نیچے کوئی دباہے، کئی کوتوچوٹیں بھی آگئیں، لیکن ہوش کسے تھا؟ ہرایک کوتواپنی پڑی تھی، نفسانفسی کاعالم تھا، بالکل محشرکاساسماں!
گرتے پڑتے یہ بھی باہرنکلا اوراس طرف تقریباً دووڑپڑا، جدھربھیڑجارہی تھی، لشتم پشتم بس اڈہ پرپہنچاتواداس ہوگیا، تاحدنظرسرہی سر، اوران سروں پربیگ اور بوریاں، یا اللہ…! کونسی بس اس کے علاقہ کی طرف جانے والی ہے؟یہاں سے وہاں، بھاگتے بھاگتے بالآخر ایک بس نظرآئی، ٹھساٹھس بھری ہوئی، بڑی کوششوں کے بعدیہ بھی دروازہ پرٹک سکا، بس چلی توتھوڑی راحت ملی؛ لیکن بھوک وپیاس کے مارے کوراحت کیسے مل سکتی تھی؟ دوتین گھنٹہ کے بعدکچھ لوگ راستہ میںمفت کھاناتقسیم کرتے نظرآئے، جس سے جان میںکچھ جان آئی۔
مسلسل دودنوں کے سفرکے بعدبس سے جب اتراتوپتہ چلاکہ ابھی توبارڈرپرہی اتارا گیاہے، یہاں پہلے چیک اپ ہوگا، کہیں کوئی اس وائرس کاشکارتونہیں، جس کی وجہ سے یہ آفت مچی ہوئی ہے، بڑی لمبی لائن تھی، کئی گھنٹوں کے بعدچیک اپ ہوا ، اب لوگ خوش تھے کہ کوئی بھی متاثرنہیں، ہرکوئی گھرجاسکے گا، یہ بھی خوش تھا، دوسری گاڑی آئی ، لوگوں کے ساتھ یہ بھی یہ سوچ کرسوارہواکہ اب بس آخری اسٹاپ گھرہی ہے ؛ لیکن یہ ساری خوش فہمی اس وقت کافورہوگئی، جب ان تمام کوایک خانگی اسکول میں اس خوش خبری کے ساتھ اتاراگیا کہ یہیں سب کوچودہ دن قیام کرناہوگاکہ اس بیماری کااثرچودہ دن کے بعدظاہرہوتاہے، لوگوں کی چیخیں بلندہوگئیں، ’’تاڑسے گرے کھجورپراٹکے ‘‘والامسئلہ تھا۔
سات دن ہی گزرے تھے کہ اس کے موبائل پرفون آیا:
’’امی بیمارہیں، ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیاگیاہے‘‘۔
بڑی منت سماجت کے بعداسے’’ قیدکرونائی‘‘ سے رہائی نصیب ہوئی؛ لیکن مسئلہ سواری کاتھا اورسواری یہاں کہاں؟ جیسے تیسے پیادہ پا راستہ طے کرکے جب گھرکے آنگن میں قدم رکھاتوبھیڑدیکھ کرسہم گیا، اندرسے رونے کی آوازنے واضح کردیا کہ لاک ڈاؤن نے جیتامنھ دیکھنے سے محروم کردیا، وہ دھڑام سے زمین پرگرگیا، جب آنکھیں کھلیں توماں کاکریاکرم ہوچکاتھااوراس کی آنکھیں سپاٹ اورخشک۔

No comments:

Post a Comment