Sunday, 12 April 2020

ھمارا اگلا قدم!

ہمارا اگلا قدم!

 محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے سالار بنگلور میں شائع بندہ کامضمون

https://www.dailysalar.com/epaper/index.php?page_no=4&date=%272020-04-08%27#

 کوروناوائرس کی حقیقت کیاہے؟ کیایہ قدرتی وائرس ہے یامصنوعی؟ اگرمصنوعی ہے تواس کے تخلیق کارکون لوگ ہیں؟ اورکس وجہ سے اس کی تخلیق کی گئی ہے؟اوراگر قدرتی ہے توکیااس کے اندراتنی صلاحیت ہے کہ وہ لاکھوں لاکھ لوگوں کی جان لے سکے؟ یااس کے اندرچھیڑچھاڑکرکے یہ صلاحیت پیداکردی گئی ہے؟ یایہ ایساخطرناک تو نہیں؛ لیکن اپنی چودراہٹ برقراررکھنے کے لئے اس کوخطرناک بناکرپیش کیاگیاہے؟ یاایک جینیاتی ہتھیارہے، جس کااستعمال وہ لوگ کررہے ہیں، جوپوری دنیاپراپناکنٹرول چاہتے ہیں؟وغیرہ سوالات پربہت کچھ لکھاگیااورلکھاجارہاہے، مجھے اس سلسلہ میں بات نہیں کرنی ہے، مجھے توبات اس پرکرنی ہے کہ اس کی وجہ سے کئی قسم کے مسائل ہمارے پیداہوچکے ہیں، جن کاحل اگرابھی سے نہیں ڈھونڈ ھ لیاگیاتوآگے ’’اللہ اللہ، خیرصلا‘‘والامعاملہ ہمارے ساتھ ہوسکتاہے۔
 اس کوسمجھنے کے لئے ہمیں’’تبلیغی جماعت اورکورونا‘‘کے مسئلہ کودیکھناہوگاکہ کس طرح میڈیائی مکھیوں نے اپنی بھنبھناہٹ کے ذریعہ ملک کے تمام باشندوں کے کانوں تک یہ بات پھیلادی کہ اس کورونا کے پھیلاؤ کاذریعہ مسلمان ہیں، اب حالت بہ ایں جارسیدکہ شہرتوشہر، دیہی باشندے بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں؛ حتی کہ دوکانوں اوربازاروں سے آگے بڑھ کر ندیوں اورتالابوں کے گھاٹوں تک یہی گونج ہے، پھربڑے بوڑھوں اوربوڑھیوں سے آگے جاکربچوں کے ذہنوں میں بھی یہی بات بٹھادی گئی ہے اوروہ بھی اپنے بچہ ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے ذریعہ سے ہمارے ملک میں کوروناپھیلاہے، یہ واقعی انتہائی خطرناک کھیل کھیلاگیاہے۔
 اس عمل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج تک ملک کی اعلیٰ قیادت کوکوروناکی خطرناکی کااحساس نہیں ہے،  ورنہ ایسے وقت میں، جب کہ پوری دنیااس وائرس کی زدمیں ہے، بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک، جن کواپنے میڈیکل ریسرچ پرنازتھا اورجنھوں نے اس میدان میں نوبل پرائزبھی حاصل کیاہے، وہ بھی اپنے کوبے بس اورمجبورظاہرکررہے ہیں، ایسے وقت میں اس ملک کے اندرہندومسلم کاکارڈنہ کھیلاجاتا، پھرغورکرنے کی بات یہ بھی ہے کہ جس وقت یہ کارڈ کھیلاجارہاتھا، اس وقت ملک کے اس کونے سے لے کراس کونے تک، کیااپنے اورکیاغیر، کیالیفٹ اورکیارائٹ ، کسی کی طرف سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھی، کسی نے بھی یہ نہیں کہاکہ اس مسئلہ کوہندومسلم نہ بنایاجائے، حتی کہ وہ پارٹیاں، جن کوہم سیکولراورمسلمانوں کی ہمدردسمجھتے ہیں، ان کے منھ میں بھی مینڈک گھس گیاتھا، مسلمانوں نے جن پرتکیہ کیاتھا، وہی پتے ہوادینے لگے، الکٹرانک میڈیاسے لے کرپرنٹ میڈیاتک اورتمام سوشل میڈیازکابس ایک ہی موضوع تھا کہ کورونامسلمانوں کے ذریعہ پھیلاہے اوریہ ’’کوروناجہاد‘‘ہے، مسلمان کورونابم ہیں، جب تسلسل کے ساتھ کئی دن اسی پرٹیوٹرٹرینڈ کرایاگیاتوامریکہ نے جراء ت دکھائی اوراس نے اس کوغلط قراردیا، تب ملک کی کئی مایہ ناز ہستیوں نے بھی اپنے منھ کے مینڈک کونکال باہرکیااور جب معاملہ تھم گیاتواب پھراپنابھائی بنانے کے لئے کودپڑے اوربیان بازی شروع کردی کہ مسلمانوں کے ساتھ اس مسئلہ کوجوڑناغلط ہے۔
 اس معاملہ سے ہمیں کئی چیزیں سمجھنے اورعملی طورپرکرنے کی ضرورت ہے:
 ۱-  ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک کانقشہ بالکل بدل چکاہے، اکثریتی طبقہ کے اکثرلوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی ہے یا بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان اس ملک کے لئے نقصان دہ ہیں، اس ملک کے خیرخواہ نہیں ہیں، اس سے سی اے اے کوپوری تقویت ملے گی اورجوغیرمسلم آج تک اس مسئلہ میں ہماراساتھ دے رہے تھے ، وہ بھی دست کش ہوجائیں گے، یہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعددواوردوچارکی طرح واضح ہوجائے گا، سی اے اے کے خلاف عملی طورپرسب سے زیادہ ہماراساتھ سکھ بھائیوں نے دیاتھا، ان کوبرگشتہ کرنے کے لئے پڑوسی مسلم ملک کے گردووارے پرحملہ کرایاگیا، جس سے یقیناً ان کادل ہمارے لئے میلاہوگیاہوگا، اورجن کادل ابھی صاف ہوگا، ان کے دل کومیلاکردیاجائے گا، اس طرح ہم اکیلے پڑجائیں گے پھرنقارخانے میں طوطی کی صداکون سنے گا؟اس لئے ہمیں لاک ڈاؤن کے موقع کافائدہ اٹھاتے ہوئے حکمت عملی طے کرلینی چاہئے کہ اب مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ہمیں کیاکرناہوگا؟ 
 ۲-  سی اے اے کی مخالف تحریک میں سب سے کامیاب اورمؤثرترین تحریک’’شاہین باغ‘‘تحریک تھی، لاک ڈاؤن کے بعدسب سے پہلاواراسی پرکیاگیااور تحریک کی علامتوں کواکھاڑپھینکاگیا، اس پہلے وارسے ہی ہمیں سمجھ لیناچاہئے تھا کہ لاک ڈاؤن کے پس پردہ کیاگل کھلے گا؛ لیکن ہم اتنے بھولے بھالے ہیں کہ کسی بھی معاملہ کوبالکل ہلکاسمجھ لیتے ہیں، یادرکھئے! ہماراذہن کتناہی صاف کیوں نہ ہو، ہمارے حریف کاذہن بالکل بھی صاف نہیں ہے، وہ کوروناکے پس پردہ اپناکام بہت حدتک کرچکاہے اورمسلمانوں کاساتھ دینے والوں کے ذہن کوبھی کمال عیاری سے پھیرچکا ہے، حتی کہ اب اپنے بھی غیرہوگئے ہیں اورشایدوہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم دیش بھگت بن جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے، قرآن میں یہودونصاریٰ کے تعلق سے کہاگیاہے کہ وہ تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے، جب تک کہ تم ان کے دین کونہ مان لو، یہاں بھی بالکل وہی مسئلہ ہے؛ بل کہ اس سے آگے بڑھ کرہے، اگرآپ ان کے دین کوبھی مان لیں گے نا، تب بھی وہ آپ کودیش بھگت نہیں مانیں گے؛ اس لئے ہم بھی اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالیں کہ حریف کے تعلق سے کسی بھی غلط فہمی کے شکارنہیں ہوں گے اوراس سے برادرانہ تعلق رکھتے ہوئے اپناحریف سمجھیں گے۔
 ۳-  یہ با ت بھی یادرکھنے کی ہے کہ یہ دورتیروتفنگ اورہتھیارواسلحہ جات سے کہیں زیادہ میڈیائی جنگ لڑنے کادورہے، اس جنگ میں جیت ہمیشہ اس کی ہوتی ہے، جس کے پاس میڈیاہو، عراق وافغانستان وغیرہ کی جنگوں کے تعلق سے یہی مسئلہ رہاہے، جس کاواضح ثبوت بیس سالوں کے بعدامریکہ -افغانستان معاہدہ ہے؛ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں کوبدل دیاجاتاہے، اب دیکھئے ناکہ کس عیاری کے ساتھ خودمسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کوتبلیغی جماعت کے خلاف اکسادیاگیاہے، جس کااندازہ ان ویڈیوزسے لگاسکتے ہیں، جن میں ایک مسلمان ہی خودتبلیغی جماعت کودہشت گردجماعت اورنہ جانے کیاکیاکہہ رہاہے؛ بل کہ اس پرپابندی کی بھی مانگ کرہاہے اورعجب نہیں کہ لاک ڈاؤن کے بعدایساہوبھی جائے؛ اس لئے ہمارے اہل ثروت اورقائدین کوفوری طورپراس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارااپناایک میڈیاہاؤس ہوناچاہئے، جس کے ذریعہ سے ہم دودھ کودودھ اورپانی کوپانی ہی لوگوں کے سامنے دکھاسکیں، اس سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہ کسی پارٹی کاترجمان نہ ہو؛ بل کہ مکمل طورپرآزادہو۔
 ۴-  آنے والی نسل کوبچانے کی ذمہ داری ہماری ہے اوراس کوبچانے کاسب سے اہم ذریعہ اس وقت تعلیم گاہیں ہیں کہ مکمل طورپربچوں کی ذہن سازی وہیں ہوتی ہے، اکبرالٰہ بادی نے اسی کی طرف’’افسوس کہ فرعون کوکالج کی نہ سوجھی‘‘کے ذریعہ اشارہ کیاہے، آج جب پورے ملک کاجائزہ لیں گے توآٹے میں نمک کے برابرہمارے اسکولس اورکالجزملیں گے، تقریباً بیس کروڑلوگوں کی ضرورت کے لئے یہ بالکل بھی کافی نہیں، ہم ہرسال جلسے جلوس میں کروڑوں روپے صرف کردیتے ہیں، اب ان جلسے جلوس کاوقت ختم ہوگیاہے، ان پرصرف ہونے والے روپیوں کواسکولس اورکالجز بنانے میں لگایئے، ملک کی موجودہ حالات میں اس کام کے لئے میرے خیال سے ان روپیوں کوبھی لگائے جانے کی اجازت ہونی چاہئے، جوسودکے نام سے ہماری بڑی بڑی رقمیں بینکوں میں پڑی ہوئی ہیں، تاہم اس عمل سے پہلے کسی معتبرزمانہ شناس فقیہ سے ضروررابطہ کرلیں، کچھ بھی ہو اس کی طرف توجہ دینا ازحدضروری ہے، تاہم ان پیسوں سے قائم کئے جانے والے ادارے ذاتی پراپرٹی کے طورپرنہ ہوں؛ بل کہ قوم کے نام وقف ہوں،پھراس کاتعلیمی معیار ملک کے اعلی تعلیمی معیارپررکھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
 ۵-  یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمیں معاملات کی پیش بندی کرنی چاہئے اورمعاملہ کی پیش بندی یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دشمن کوروکنے اوراس کے حملہ سے بچنے کی کارگر تدبیر کریں؛ تاکہ ہمیں کم سے کم نقصان اٹھاناپڑے، حضوراکرم ﷺ کو معلوم ہواکہ یہودخیبرکے ساتھ ساتھ غطفان بھی ہیں توغطفانیوں کویہودخیبرکے ساتھ نہ ملنے دینے کی تدبیر اختیار کرتے ہوئے مقام رجیع میں خیمہ زن ہوئے، رجیع خیبروغطفان کے بیچوں بیچ کامقام ہے، جب غطفان کومعلوم ہواکہ ان کے حلیف یہودخیبرپریورش کے لئے اسلامی لشکرنکل چکا ہے تووہ ان کے تعاون کے لئے ہتھیاروں سے سج دھج کرنکلے؛ لیکن آگے بڑھ کرمعلوم ہوا کہ خودان کے اپنے گھرمحفوظ نہیں تووہ راستے ہی سے پلٹ آئے اوراس طرح اسلامی فوج نقصان اٹھانے سے بچ گئی،آج کے دورمیں ہمیں غزوۂ خیبرکے اس واقعہ سے سبق لیناچاہئے اور دشمن سے بچنے کی کارگرتدبیرکر نی چاہئے، آج ہم جس پستی اورجورجفاکے شکارہیں، اس کاایک نتیجہ معاملات کی پیش بندی نہ کرنابھی ہے، اگرہم نے اس کی طرف توجہ دی ہوتی توکوئی وجہ نہیں کہ دشمن ہماری طرف آنکھ اٹھاکربھی دیکھ سکتا، آزادی کے ستربہترسال گزرجانے کے باوجودبھی ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی؛ لیکن توجہ دیناوقت کی ضرورت ہے۔
 ۶-  ہمارے یہاں قیادت کاجنازہ نکل چکاہے، پارٹیاں اورتنظیمیں توبہت ہیں؛ لیکن قیادت مفقود، کل حزب بمالدیھم فرحون(ہرجماعت اپنے آپ میں مگن ہے) والامسئلہ ہے، اس سے اوپراٹھنے کی ضرورت ہے، قیادت کے فقدان کانتیجہ ہے کہ زمینی سطح پرہماری کوئی حیثیت نہیں، یہاں یہ سوال ضرورپیداہوتاہے کہ یہ قیادت کا فقدان ہواکیسے؟ اس کاسیدھاجواب یہ ہے کہ افراط وتفریط کے نتیجہ میں، اعتدال کوچھوڑدینے کے نتیجہ میں، اگرآج بھی ہرفردہرمسئلہ میں اعتدال اورمیانہ روی کادامن پکڑلے تویہ فقدان ختم ہوسکتاہے، پھرہمیں سیاسی اوردینی دونوں طرح کی قیادت کی ضرورت ہے؛ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ معتدل مزاج لوگوں کوہی یہ قیادت سونپی جائے، خواہ اس کاتعلق کسی بھی مشرب سے ہو، اگرہم نے اپنی کھوئی ہوئی قیادت حاصل کرلی توہماری بھی طوطی بول سکتی ہے۔
 مذکورہ باتوں کی طرف اگرتوجہ نہ دی گئی اورہماری حالت وہی رہی اورہم ’’ملاکوہے جوہند میں سجدہ کی اجازت- وہ سمجھتاہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘پرہی عمل پیرارہے توپھریہودی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی شاطرانہ چال سے ہم نہیں بچ سکتے۔
jamiljh04@gmail.com
/ Mob:8292017888

No comments:

Post a Comment