فلسطین: مسئلہ اورحل
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
(قسط: ۳ ۔ آخری قسط)
اس وقت ہفتہ بھر جوجنگ چلی، وہ شیخ جراح کے علاقہ پرچلی، یہ ایک چھوٹاساقصبہ ہے، یہاں تقریباً پانچ سو فلسطینی آبادہیں، اب اسرائیلیوں کاکہناہے کہ وہ یہاں سے اپنے گھربارکوچھوڑیں اورکہیں اورجابسیں، ظاہرہے کہ اسے کیسے برداشت کیاجاسکتاہے؟ اورجوقومیں زندہ ہوتی ہیں، وہ توکبھی بھی اسے برداشت نہیں کرسکتیں، خبروں کے مطابق اس جنگ میں حماس کی طرف سے راکٹ بھی داغے گئے، یعنی غلیل اورپتھرسے شروع ہونے والی جنگ اب راکٹ تک پہنچ چکی ہے، اس کے جواب میں اسرائیل نے وہی طریقہ اختیارکیا اورنہتے فلسطینیوں اوران کے رہائشی علاقوں پربم باری کی، ہونا تویہ چاہئے کہ اسرائیل کے اس حملہ کے خلاف پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی؛ لیکن ظاہرہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، کم از کم عربوں کوتواپنے فلسطینی بھائیوں کی امدادکرنی ہی چاہئے کہ وہ عرب ہی ہیں اورگزشتہ دہائیوں میں قومیت عربیہ کانعرہ بھی لگایا گیاتھا(جوسراسر اسلامی تعلیم کے خلاف تھا)؛ لیکن پتہ نہیں اس وقت وہ قومیت عربیہ کانعرہ کہاں دم توڑچکاہے کہ اپنے عربی بھائیوں کوبموں کے سائے میں چھوڑ کرآرام دہ ایئرکنڈیشن روم میں دادعیش دیاجارہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہوگا؟ کیایہ قابل حل ہے؟ اگرہے توپھروہ لوگ کیوں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، جوہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں؟اس طرح کی خوفناک جنگ کب تک جاری رہے گی اور انسانیت تباہ وبرباد ہوتی رہے گی؟ اس مسئلہ کاحل ہوناچاہئے اوراس کاایک حل تویہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی ریاست کوجنم دیاہے، وہ اپنے اس بیٹے کواپنے ملک میں لے جاکربسائے، اگر ایسا ہوگیا تو معاملہ فوری طورپرختم ہوجائے گا؛ لیکن ظاہرہے کہ ایساممکن نہیں ہے اورنہ یہ اتنا آسان ہے کہ ایک ریاست کے وجود میں آنے کےسترسال بعد اسے ختم کردیاجائے اوردنیاکے نقشہ سے مٹادیاجائے، وہ بھی اس وقت، جب کہ عالمی طاقتیں اس کی پشت پرہوں، اگریہ ہونا ہوتاتو1967 ء میں ہی ہوگیاہوتا؛ لیکن افسوس ! یسا نہیں ہوسکا۔
دوسراحل، جوآسان بھی ہے اورقابل عمل بھی کہ 1948ء میں جتنے رقبہ پراس ناجائزریاست کو بسایا گیا تھا، اسرائیل کواتنے پرہی محدود کیاجائے(یہ بھی اگرچہ ناقابل برداشت ہے؛ لیکن اہون البلیتین کے تحت بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے گا) ، اگریہ ہوجائے گا تومسئلہ آسانی کے ساتھ ختم ہوجائے گا، لیکن ’’بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟‘‘، یہ کام کون کرے گا؟ ظاہرہے کہ اس کے لئے عالمی برادری کوہی پیش رفت کرنی ہوگی؛ لیکن عالمی برادری مسلم دشمنی اوراسرائیل دوستی کی وجہ سے ایساکرنہیں سکتی، نیز اس لئے بھی وہ ایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے ہاتھ خود اس قسم کی حرکتوں سے خون آلود ہیں؛ اس لئے اب تیسراحل یہ ہے کہ عرب ممالک یک جٹ ہوکر عالمی برادری پردباؤ بنائیں کہ وہ یہ کام کریں، عرب ممالک اگرچاہیں توایسا یقینا ہوجائے گا؛ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ عرب ممالک کو فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی ہی نہیں ہے، انھیں اپنی کوٹھیاں عزیزہیں، اپنی عیش بھری زندگی کووہ تجنا نہیں چاہتے، ان کاعمل’’شیخ، اپنی دیکھ‘‘ پر ہے؛ لیکن ظاہرہے کہ اگریہ فلسطینیوں کاساتھ نہیں دیں گے اور فلسطین اگرپورے کاپورا اسرائیل کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھرشام ، عراق، اردن، لبنان اورمصروغیرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورپھرآخرمیں سعودی عرب کی باری آئے گی اوراس وقت ان کواسی طرح کے جملے سننے کو ملیں گے، جس طرح کے جملے ہلاکوخان نے معتصم باللہ کوسنایاتھاکہ خزانہ جمع کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کوٹھیاں بنانے کی ضرورت تھی؟ سونے کی گاڑیاں بنوانے کی کیاضرورت تھی؟ اونچی اونچی عمارتیں بناکرگنیز بک آف ورلڈ میں ریکارڈ بنوانے کی کیاضرورت تھی؟سمندرکے اندر بستیاں بسانے کی ضرورت کیاتھی؟ تمہارے پاس جتنی دولت تھی، اس سے تم پوری دنیاپرفتح حاصل کرسکتے تھے، جدید ہتھیاربناسکتے تھے، خرید سکتے تھے،اس کے ذریعہ سے سائنس اورٹیکنالوجی کی بڑی سی بڑی یونیورسیٹیاں بناسکتے تھے، جہاں اپنی حفاظت کے لئے عمدہ سے عمدہ قسم کے ہتھیاربنائے جاسکتے تھے، تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ تم ہتھیاربناتے اور دنیا انھیں خرید تی،تمہارے پاس اتنی دولت تھی کہ بادشاہوں کوخرید سکتے تھے، ایسانہ کرنے کاانجام اب بھگتو، کاش! اب بھی عربوں کوسمجھ میں آجائے!!!
No comments:
Post a Comment