Thursday, 27 May 2021

تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!

تعاون کی ضرورت ہے اِن کوبھی!

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

دوہزار انیس کے آخری مہینوں میں شروع ہونے والے ’’کورنا ‘‘کی وجہ سے یوں توپوری دنیاپرغم والم کے پہاڑ ٹوٹے، جسم انسانی سے سانس کی ڈوراس طرح کٹی، جیسے مانجھےسے پتنگ کی ڈور کٹتی ہے، آبادیاں ویران ہوگئیں، گھراورخاندان اجڑگئے، معیشت تباہ وبرباردہوگئی، گزشتہ سال اموات کے تعلق سے بھارت کی وہ حالت نہیں تھی، جوامریکہ اوراٹلی وغیرہ تھی؛ لیکن اس سال ان ملکوں کے قریب قریب ہمارادیش پہنچ چکاہے۔
کوروناکی وجہ سے ہرشعبہ میں نقصان ہواہے اورنقصان بھی ایسا، جس کی بھرپائی شاید ممکن نہیں؛ لیکن سب سے زیادہ نقصان تعلیمی شعبہ میں ہواہے، جان کے اعتبارسے بھی، تعلیم کے لحاظ سے بھی اورمال کے اعتبارسے بھی، گزشتہ سال کے مقابلہ میں جان کے لحاظ سے اس سال زیادہ نقصان ہوا، ایک سے بڑھ ایک اساتذہ دنیاسے رخصت ہوگئے، ایک ایک یونیورسٹی میں پچاس پچاس سے زائد اساتذہ کی رحلت ہوئی، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے جوخسارہ تعلیمی شعبہ کاہواہے، اس کی بھرپائی کیسے ہوسکتی ہے؟ یونیورسٹیوں کے علاوہ مدارس، اسکولس اور کالجز کے اساتذہ کی بھی ایک بڑی تعداد دنیاسے رخصت ہوگئی، ان اساتذہ  کے جانے سے تعلیمی شعبہ واقعتا یتیم ہوگیاہے۔

تعلیمی اعتبارسے تواتنانقصان ہواہے کہ اس کااندازہ لگاپانامشکل ہے، اکثر طلبہ کی تعلیم ہی منقطع ہوگئی ہے، خواہ وہ اسکول کے ہوں یامدارس کے، خصوصیت کے ساتھ غریب اورمتوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیمی ڈگرسے ہٹ کرمعمولی کام کاج سے جڑگئے ہیں، اورظاہرہے کہ ملک کی اکثریت اسی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، رہے کچھ امیر اوردولت مندلوگ توان کے بچوں کی تعلیم آن لائن اگرچہ چل رہی ہے؛ لیکن یہ طریقۂ کار بھارت میں توکام چلاؤ کی حدتک ہے اورکام چلاؤ تعلیم کے طریقہ سے توکام چلاؤ تعلیم ہی حاصل ہوسکتی ہے، رہے مدارس توان کی ایک بڑی تعدادآن لائن تعلیم ہی کی قائل نہیں، کچھ نے آن لائن تعلیم شروع کررکھی ہے؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے طلبہ کے پاس انرائڈ موبائل نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اس طریقہ سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں۔
تعلیمی ادارے ایک سال سے بندہیں، تعلیم بھی نہیں ہوئی اورامتحانات بھی نہیں ہوئے، ظاہرہے کہ اس کی وجہ سے سال بھی بربادہوگااورحاصل بھی کچھ نہیں؛ اس لئے حکومتی سطح پریہ اعلان کیاگیاکہ طلبہ کوپرموٹ کردیاجائے گا، اس سے سال توبچ جائے گااورسرٹیفیکیٹ بھی مل جائے گی؛ لیکن صلاحیت اوراہلیت کہاں سے پیداہوگی؟ اس طریقہ کی مثال توایسے ہی ہے، جیسے پیسے دے کرسرٹیفیکیٹ حاصل کرلیاجائے، اس سے نقصان صرف بچہ کانہیں؛ بل کہ مستقبل میں بہت ساری چیزوں کاہوگا، پتہ نہیں ہماری حکومتوں کویہ کیوں سمجھ میں نہیں آیاکہ جس طرح گائڈ لائن دے کرتمام شعبہ جات کوکھول دیاگیا، اسی طرح تعلیمی اداروں کوبھی کھول دیاجائے؟ لیکن ہوایہ کہ کچھ کلاسیز توکھولے گئے؛ البتہ اکثرکلاسیز نہیں کھولے گئے، ایسی صورت میں خصوصیت کے ساتھ چھوٹے طلبہ ، جوتعلیمی راستے سے جڑے تھے، بالکل بھٹک گئے، کچھ لوگ ٹیوشن دلاکراپنے بچوں کے تعلیمی سلسلہ کوباقی ضرور رکھے ہوئے ہیں؛ لیکن بہرحال تعلیمی اداروں کاماحول تونہیں دیا جاسکتا ہے نا اوراس کانقصان بڑانقصان ہے۔
مالی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ نقصان اسی شعبہ کوہواہے، جوتعلیمی ادارے حکومتی ہیں، ان کے توبلّے بلّے ہیں، اساتذہ بھی ماشاء اللہ خوش حال ہیں؛ لیکن جوادارے غیرسرکاری ہیں، ان کوکافی نقصان ہواہے، بڑے اداروں کوکچھ کم نقصان ہوا؛ لیکن جوچھوٹے ادارے ہیں، وہ بالکل خسارہ میں رہے، ہزاروں اسکول توبند ہی ہوگئے، جوباقی رہے، وہ لاچاری کی حالت میں ہیں، ان کے اساتذہ بھی لاچارہیں، کچھ اساتذہ توٹیوشن سے کام چلالیتے ہیں؛ لیکن ایک بڑی تعدادایسی ہے، جن کے پاس کوئی ٹیوشن نہیں، ان بے چاروں کی حالت خستہ ہے، اورسب سے زیادہ خستہ حال مدارس کے اساتذہ ہیں، خصوصیت کے ساتھ چھوٹے اورشخصی مدارس کے اساتذہ کی حالت، ان کی اکثریت ایسی ہے، جن کی پشت پرگھریلوسپورٹ نہیں ہے، سال بھرسے زیادہ عرصہ ہوگیا، مدارس سے ان کوتنخواہیں نہیں ملی ہیں، کچھ اساتذہ جیسے تیسے چندہ کرکے سال بھرسے گزارہ کررہے ہیں، کچھ قرض اوراداھارکے سہارے زندگی گزاررہے ہیں؛ لیکن یہ سہارے آخرکب تک کام آئیں گے؟ 
اس وقت مساجدمیں بھی جگہیں خالی نہیں ہیں اوراگرکہیں خالی بھی ہے جگہ توکمیٹی والے پانچ لوگوں کی خاطرامام بحال کرنے کے روادارنہیں، پھربعض مدارس کے ذمہ دار توایسے ہیں کہ سال بھرسے اپنے اساتذہ کی خیریت تک نہیں پوچھی، حالاں کہ یہ اخلاقی فرض تھا، یہ بات توماننے کی ہے کہ کچھ مدارس ایسے ہیں، جن کے پاس اساتذہ کودینے کے لئے پیسے نہ ہوں؛ لیکن اکثرمدارس ایسے ہیں، جن کے پاس پوری تنخواہ نہ سہی؛ لیکن سدرمق کے بقدرتنخواہ دینے کی طاقت ضرور ہے، ایسے مدارس کے ذمہ داروں پرفرض تھاکہ وہ اپنے اساتذہ کی فکرکرتے؛ لیکن ایسانہیں ہوا۔
یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ وہ گاؤں اورمحلہ میں تقسیم ہونے والی خیراتی لائن میں لگ جائیں اورچوں کہ ان کارہن سہن معاشرہ میں ٹھیک ٹھاک ہی رہتاہے؛ اس لئے سماج کے لوگ انھیں پوچھتے تک نہیں، ان کے گھرکے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرتے اوران کی طرف دست تعاون دراز نہیں کرتے، کچھ پوچھنے والے یہ ضرورپوچھیں گے کہ سال بھرسے مدرسہ بندہے توکیسے چل رہاہے؟ لیکن ظاہرہے کہ اس سوال کاجواب ’’اللہ کاشکرہے‘‘ کے سواکچھ نہیں نکلتا، سوال کرکے خاموش رہنے والے ؛ بل کہ دل میں کچوکے لگانے والے توملتے ہیں؛ لیکن تعاون کرنے والے نہیں ملتے۔
کوروناکی اس مہاماری میں بہت ساری تنظیموں نے امدادی دروازے کھولے؛ لیکن وہاں کے لئے ، جہاں وہ تصاویرلے سکیں اوراخبارات وشوسل میڈیاز پرشیئر کرسکیں، اب یہ اساتذہ اتنے توبہرحال خوددارہیں کہ اس طرح کے تعاون سے دوررہتے ہیں اوراسی لئے ان کاتعاون نہیں ہوپاتا، اب ایسی صورت میں یاتووہ بھی خودداری کو بیچ کرنکل آئیں یاپھرمحتاجی کی زندگی گزاریں، ایسے حالات میں ہماری ملی تنظیمیں، جومصیبت اورآفت کے وقت بڑھ چڑھ کرحصہ لیتی ہیں اورجن کے پاس قوم کے روپے پیسے صدقات، عطیات اورزکات کے مدات کی شکل میں کافی مقدارمیں پہنچتے ہیں، قوم ان پراعتماد کرکے انھیں چندہ دیتی ہے، ان کوتوکم سے کم ان اساتذہ کا درد سمجھناچاہئے اوران کے لئے کوئی مشکل کام نہیں کہ ان کے نمائندے ہرعلاقہ؛ بل کہ ہرگاؤں میں ہیں، وہ ان اساتذہ تک براہ راست پہنچ سکتے تھے؛ لیکن افسوس! وہ بھی آج تک ان کے درد کوسمجھنے کے لئے تیار نہیں، اس پرجس قدرافسوس کیاجائے کم ہے۔
اب ان اساتذہ کی حالت بہت ہی خستہ ہے، ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ اپنے بچوں سے منھ چھپانا پڑرہاہے، بیوی کے سامنے جانے سے شکستگی کی کیفیت چھاجاتی ہے، کئی اساتذہ نے اپنادرددل بیان کیا، کئی نے اس پرمضامین لکھے؛ لیکن ابھی تک ان کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے، یہ اساتذہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ کوئی تجارت شروع کرسکیں کہ پونچی اتنی ان کے پاس نہیں، کہیں مزدوری بھی نہیں کرسکتے کہ یہ کام کبھی کیاہی نہیں ہے، محلہ محلہ پھرکربھی کچھ بیچ نہیں سکتے کہ معاشرہ خود اسے پسند نہیں کرتا، ٹیوشن بھی نہیں کرسکتے کہ آج کل دینی تعلیم کے لئے ٹیوشن کون دلاناچاہتاہے؟ اوراگردلابھی دیں تومزدوری اتنی کم کہ استاذ سن کردل برداشتہ ہوجاتاہے، ایسے میں یہ کیاکریں؟ کہاں جائیں؟ بال بچوں کو کیسے پالیں؟ بیماری کاعلاج کس طرح کروائیں؟ آخریہ کیاکریں؟؟؟
ایسی صورت حال میں ملی تنظیموں کوان کی طرف متوجہ ہوناچاہئے اوران کاتعاون کرناچاہئے، اسی کے ساتھ معاشرہ میں صاحب مال ہیں، جن کے پاس اللہ کا دیابہت کچھ ہے، انھیں آگے آناچاہئے اوران جیسے اساتذہ کی خبرگیری کرنی چاہئے، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے خاموشی کے ساتھ ان کاتعاون کرناچاہئے، یہ قوم کی اس وقت کی بڑی ذمہ داری ہے، اگریہ اساتذہ کسی اورکام سے جڑگئے، اورایک بڑی تعداد جڑبھی چکی ہے توآئندہ تعلیم دلانی بھی مشکل ہوجائے گی اورپھرامام وخطیب بھی ملنامشکل ہوسکتاہے؛ اس لئے خدارااس تعلق سے فکرکیجئے اوران اساتذہ کی بھرپورطریقے سے مددکیجئے، اللہ تعاون کرنے والوں کوبہترین اجردے گا۔
jamiljh04@gmail.com Mob: 8292017888


No comments:

Post a Comment