فلسطین: مسئلہ اورحل
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
(قسط: ۲)
اگربات یہیں پرختم ہوجاتی توشایدعرب فلسطینی آنسوبہاکرکچھ سالوں کے بعد خاموش ہوبیٹھتے؛ لیکن اسرائیلیوں نے اس حدپراکتفانہیں، جتنی زمین پر ریاست اسرائیل کوقائم کرکے یہودیوں کے حوالہ کیاگیا، انھوں نے اپنی سرحدوں کووسیع کرناشروع کردیا، جس کا خطرہ اردن، مصراورشام نے محسوس کیا، لہٰذا ان لوگوں نے اپنی سرحدوں پرفوجیں تعینات کردیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹی موٹی چھڑپیں اسرائیل کے ساتھ ہوتی رہتی تھیں، ایک بڑی جنگ عربوں اوراسرائیل کے درمیان 1967ء میں ہوئی، جس میں مصر، عراق، اردن اورشام کومل کراسرائیل پرحملہ کرناتھا، ان کے جہاز اڑنے کے لئے ایئر بیس پرتیارتھے؛ لیکن قبل اس کے کہ وہ اڑتے، اسرائیل کے بمبارطیاروں نے ان کو تباہ وبربادکردیااوراسرائیل کو اس میں بڑی کامیابی ملی، جس کی وجہ سے اس کا سینہ چھپن انچ کاہوگیااورپھراس نے اردن، شام اورمصرتمام ممالک سے کچھ نہ کچھ زمینیں چھین لیں، پھر1973ء میں ایک اورجنگ ہوئی دونوں کے مابین؛ لیکن اس میں اسرائیل کوپہلے کی طرح کامیابی نہیں ملی، عربوں نے بھی اپنی بعض ان زمینوں کو واپس لے لیا، جن کو اسرائیل نے چھین لیا تھا۔
اس جنگ کے بعداسرائیل نے امریکہ کے توسط سے اپناطریقۂ کاربدل دیا اور سیاسی بات چیت کی طرف قدم بڑھایا، اس تعلق سے پہلی کامیابی اس وقت ملی، جب مصر سے یہ طے ہوگیا کہ صحرائے سینا، جسے اسرائیل نے چھین لیاتھا، اسے واپس کردیاجائے گا، اس کے بدلہ میں مصراسرائیل کوایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلے، اس کامیابی کو ’’کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ‘‘ (Camp David Agreement)کے نام سے جاناجاتاہے،یہ انورسادات کے زمانہ میں 17؍دسمبر1978ء میں یہ اگریمنٹ ہوا، اس میں بھی اسرائیل نے چالاکی کی اورپورے صحرائے سینادینے کی بجائے صرف مشرقی حصہ ان کے حوالہ کیا اورمغربی حصہ کواپنے ہی پاس رکھا، اس کے بعدایک ایک کرکے ان تمام عربوں کوفلسطینیوں کے تعاون سے کاٹ لیا، جوان کی مددکیاکرتے تھے اور گزشتہ سالوں میں تواس تعلق سے حدہی پارکردی گئی،کئی خلیجی ملکوں نے بھی اسے تسلیم کرلیا۔
کیمپ ڈیوڈ اگریمنٹ کی کامیابی کے بعد دیگروہ لوگ بھی جب فلسطینیوں کے تعاون سے پیچھے ہٹ گئے ، جوان کے شانہ بہ شانہ کھڑے تھے توفلسطینی یہ سمجھ گئے کہ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے اب جوکچھ بھی کرناہے، خود ہی کرناہے، اس کے لئے کئی گروپ وجود میں آئے، جن میں سے ایک یاسرعرفات کی ’’الفتح‘‘ بھی تھی، ابتدا میں تواس نے کچھ کام کیا؛ لیکن بعد میں یہ جماعت بالکل ناکارہ ہوکررہ گئی اور13؍ستمبر1993ء میں اسرائیل اوریاسرعرفات کے درمیان ’’اوسلو‘‘ معاہدہ کے ہونے کے بعدتووہ امریکہ کے ہی پٹھوہوکررہ گئی تھی، جس کی وجہ سے دوسری تحریک شروع ہوئی، شیخ احمدیاسین نے فلسطینیوں کے سرد پڑتے ہوئے جذبوں کوحوصلہ دیا،ان کو 1987ء میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی، جب وہ انتفاضہ اول کے وقت سامنے آئے، اس وقت فلسطینی اسلامی تحریک نے ’’حماس‘‘کانام اختیارکیا، ان کانظریہ یہ تھا کہ اگرہمارے پاس ہتھیارنہیں ہیں تو کیاہوا؟ ہمارے پاس پتھرہیں، ہم وہی ماریں گے، غلیل ہیں، ان سے حملہ کریں گے اورپھرزمانہ نے دیکھا کہ ایک طرف اسرائیل کی بکتربندگاڑیاں ہوتیں اوردوسری طرف لوگوں کے ہاتھ میں پتھرہوتے اوروہ ان سے بکتربندگاڑیوں پرحملہ کرتے، اس طریقہ سے ظاہرہے کہ جدید دورکے ہتھیارسے لیس اسرائیلیوں سے جنگ جیتی نہیں جاسکتی ہے؛ لیکن دراصل اس کے ذریعہ سے انھوں نے عالمی برادری کویہ جتلایا اوران کی سوئی ہوئی ضمیرکوجگانے کی کوشش کی کہ ہم نہتے لوگ ہیں، ہمارے پاس کسی قسم کاہتھیارنہیں ہے، ہم ظالم نہیں ہے، ہم دہشت گرد نہیں ہیں، جیسا کہ یہودی نژاد عالمی ہمیں بناکر پیش کررہا ہے؛ بل کہ ہم مظلوم ہیں، ہم تو اپنا دفاع بکتربندگاڑیوں کے مقابلہ میں پتھر سے کررہے ہیں، اگرہم ظالم ہوتے توہمارے پاس بھی ہتھیارہوتے، ظالم وہ لوگ ہیں، جوہم پرہتھیارلے کرچڑھ آئے ہیں؛ لیکن عالمی برادری کاضمیرمردہ ہوچکا تھا، یاپھروہ لوگ جاگتے ہوئے بھی سونے کاناٹک کررہے تھے، جس کی وجہ سے اس پیغام کونظرانداز کردیا گیا اورالٹے فلسطینیوں پرہنسنے لگے کہ یہ پاگل ہیں، بکتربندگاڑیوں اورٹینکوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کررہے ہیں۔
اس کے بالمقابل اسرائیل کیاکررہاہے؟ ایک تووہ ہتھیارسے لیس ہے اوروہ بھی جدیدترین ہتھیارسے، پھراس کے ساتھ وہ صرف ان لوگوں پرحملہ آور نہیں ہو رہا ہے، جوان کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں؛ بل کہ نہتے لوگوں پروہ بموں کی بارش کررہاہے، عمارتیں تباہ کررہاہے، پوری پوری پستیوں کووہ اجاڑتا جارہاہے، صابرہ اورشتیلہ ، جودومہاجرفلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ تھے، جن کے پاس چاقونام کی چیز بھی نہیں تھی، ان دونوں کیمپوں پربم گراگروہاں کے تمام پناہ گزینوں کوختم کردیا، اسے توظلم اوربربریت سے ہی تعبیرکریں گے، اسی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فلسطینیوں کوان کے اپنے ذاتی گھروں سے بھگاتارہاہے اوران کی زمینوں پرقبضہ کرتارہاہے، یہی وجہ ہے کہ جس وقت اسرائیل کاوجودہواتھا، اس وقت (1948ء) اس کارقبہ7,993مربع میل یعنی 12,863کلومیٹرتھا، جب کہ آج اس کے پاس 13,760 مربع میل یعنی 22,145کلومیٹرسے بھی زیادہ ہے، نقشہ کودیکھ کر اس کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وجود کے وقت اس کانقشہ کیساتھا اورآج کیساہے؟ یہ رقبہ اسے کہاں سے حاصل ہوا؟ نہتے فلسطینیوں کودربدراوربے گھرکرکے، اب خود ہی فیصلہ کیاجائے کہ فلسطینی اپنی زمین کے لئے مزاحمت کریں گے یانہیں؟ اوراس مزاحمت میں وہ مظلوم ہیں یاظالم؟
(جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
نستعلیق فونٹ نہیں ہے؟
ReplyDelete