Thursday, 20 May 2021

فلسطین: مسئلہ اورحل (قسط:۱)

فلسطین: مسئلہ اورحل

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

(قسط: ۱)

اگرآپ کسی کے ہاتھ اپنی زمین کاایک ٹکڑا بیچیں اوروہ شخص خریدکی ہوئی زمین کی بجائے اس حصہ پربھی قبضہ کرلے، جوآپ نے اس کے ہاتھوں بیچی نہیں ہے توآپ کارویہ اس شخص کے ساتھ کیارہے گا؟آپ اپنی زمین پراسے قبضہ کرنے دیں گے یااپنی زمین کی حفاظت کے لئے تگ ودو کریں گے؟ اوراگروہ شخص آپ کی تمام زمینوں کوہتھیا لینا چاہے توپھرآپ کیاکریں گے؟ اسے طاقت ورسمجھ کرچپ ہوجائیں گے اوراپنی زمین وجائیداد؛ بل کہ اپنے رہائشی مکانات سے دست برداری اختیارکرلیں گے یاممکن حد تک اپنی زمینوں کی حفاظت کی کوشش کریں گے؟پھراس کوشش میں آپ ظالم اورمفسد کہلائیں گے یامظلوم اورمجبور؟
اگراس سوال کاجواب آپ کومل جائے توفلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ میں بھی ظالم ومظلوم کی پہچان کرلیں گے اورذہن کے پردہ میں ابھرتے ہوئے اس سوال کاجواب بھی مل جائے گاکہ ٹینک وبکتربندگاڑیوں کامقابلہ پتھر اورغلیل سے کیوں کیاجاتاہے؟ لیکن پوری طرح سے اس مسئلہ کوسمجھنے کے لئے 1914ء سے شروع ہوئی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی تھی، جس میں ایک طرف الائنس(Alliance)طاقتیں( امریکہ، برطانیہ، روس ، فرانس اوراٹلی وغیرہ )شامل تھیں، جب کہ دوسری طرف (Ottoman Empire) جرمنی اورعثمانی سلطنت تھے، اس جنگ میں جرمنی اورعثمانی سلطنت کاپلڑابھاری تھا، اس جنگ کے مغربی محاذ(یعنی شام اورترکی وغیرہ کے علاقوں)کوترک فوجوں نے سنبھال رکھاتھا، جب کہ عراق وغیرہ کے علاقوں میں عرب فوجیں برسرپیکارتھیں، ترک کواس زمانہ میں ’’مردبیمار‘‘ کہاجاتاتھا؛ لیکن اس کے باوجود انھوں سال بھر کی لڑائی میں الائنس کے دانت کھٹے کردئے تھے، ترک فوجوں نے Dardanelles, Gallipoliاورقلعہ چناق میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کیں، جن کودیکھ کربرطانیہ اورالائنس طاقتوں نے اندازہ لگالیاکہ اس طرح ان لوگوں سے جنگ جیتنابہت مشکل ہے، لہٰذا انھوں نے اپنی شرست کے مطابق عربوں کوترکوں سے بھڑانے کافیصلہ کیا اوراس کے لئے انھوں نے عربوں کے سامنے ’’عرب نیشیلزم‘‘(قومیت عربیہ) کا صور پھونکا، اس کے لئے T.E. Lawrence(جوبرطانیہ افواج کاایک معروف افسرتھا) کا انتخاب عمل میں آیا، اس نے پہلے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کوغداری پرابھارنے کے لئے خطیررقم کی پیش کش کی، جسے اس نے ٹھکرادیا اوردھکے مارکرلارنس کواپنے یہاں سے نکلوادیا، یہ دیکھ کراس نے عرب کارخ کیا اوربصرہ کو اپنا ہدف بنایا، اسلامی لباس پہن کراس نے اسلام قبول کرنے کاڈھونگ کیا اورعوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے وہاں کے بدوؤں میں ماہانہ دولاکھ پونڈ تک تقسیم کرناشروع کیا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب پٹرو ڈالرکاآغاز نہیں ہواتھا؛ اس لئے عوام بہ آسانی اس کے دام فریب میں آگئے اوراس طرح اس نے مکہ کے گورنرحسین ہاشمی تک رسائی حاصل کی، اس سے بات چیت کی اور حکومت کالالچ دیتے ہوئے اس نے حسین شریف مکہ سے یہ کہاکہ اگرآپ اس جنگ میں ترکوں کے خلاف ہمارا ساتھ دیں توہم جنگ جیتنے کے بعد عرب علاقوں کے اندرآپ کی ایک آزادریاست بنادیں گے اورآپ کووہاں کابادشاہ بنادیں گے، ان کے مابین جوبات چیت ہوئی،وہThe Hussein-McMahon Correspondence-1915/16  نام سے معروف ہے، پھرجون 1916ء میں شریف مکہ کے بیٹے امیرفیصل اورلارنس کی کمان میں عرب فوجیں عراق کی طرف پہنچ گئیں اوربرطانیہ کے ساتھ مل کرترکوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں ترکوں کوشکست ہونے لگی۔
دوسری طرف 1917ء میں روس اپنے ملکی حالات کے وجہ سے جنگ سے پیچھے ہٹ گیا، جس کودیکھ شام وفلسطین کے محاذ پرموجودترکی کمانڈرانورپاشااپنی فوج کاایک حصہ لے کرکوہ قاف کی طرف بڑھا؛ تاکہ روس کے پیچھے ہٹنے سے جوکمزوری آئی ہے، اس کافائدہ اٹھایاجاسکے ؛ لیکن اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہواکہ شام کے علاقوں میں برطانیہ کی افواج کاپلڑابھاری ہوگیا؛ چنانچہ اس نے نومبر 1917ء کوغزہ(Gaza)پراوردسمبر1917ء میں یروشلم اور بیت المقدس پرقبضہ کرلیا اور1918ء میں شام کے دیگر علاقے، فلسطین،لبنان، حلب اورحمص وغیرہ علاقے برطانیہ افواج زیرنگین آگئے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنگ عظیم اول کے دوران (مئی 1916ء) ہی برطانیہ اورفرانس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ ہواتھا، جسے The Secret Sykes-Picot Agreement کہاجاتاہے، جس کی روسے علاقے تقسیم کئے گئے تھے کہ جنگ جیتنے کے بعدفلاں فلاں علاقے برطانیہ کے پاس رہیں گے اورفلاں فلاں علاقے فرانس کے پاس، فلسطین پردونوں کی نظرتھی؛ اس لئے معاملہ کے حل کے لئے یہ کہاگیا ہم فلسطین کوایک آزادعلاقہ کے طورپرباقی رکھیں گے، یہ معاہدہ برطانیہ کی خست اورخباثت کی اعلیٰ مثال ہے؛ کیوں کہ ایک طرف تواس نے شریف مکہ سے یہ کہاکہ ترکوں کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں ہم عرب کی بادشاہت آپ کے سپردکریں گے، جب کہ خفیہ طورپربرطانیہ اپنے حلیف فرانس کے ساتھ مل کریہ معاہدہ کررہاہے کہ جنگ جیتنے کے بعدعرب کے فلاں علاقے آپ کے ہوں گے اورفلاں علاقے ہمارے، دوسری طرف یہودیوں کوبھی یہ لالچ دیتے رہے کہ اگرہم جیت جائیں گے توفلسطین میں یہودیوں کی ایک ریاست بنادیں گے؛ چنانچہ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمس بالفورنے 2؍نومبر1917ء کوصہیونی تنظیم کے نمائندہ Lord Rothschild  کوایک خط لکھا، جس میں یہ بات واضح کی کہ حکومت برطانیہ  پوری ذمہ داری کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کاارادہ رکھتی ہے، یہی وہ خط ہے جس کی بنیاد پراسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔
بہرحال! اپنوں کی دغابازی کی وجہ سے اتحادی افواج نے جنگ جیت لیااورSykes-Picot Agreementکے معاہدہ کے برخلاف برطانیہ نے فرانس کواس بات پرراضی کرلیا کہ فلسطین کوبرطانیہ کے ماتحت ہی رہنے دیاجائے، برطانیہ نے فلسطین میں اپناہائی کمشنر قائم کیا، جس کوتمام طرح کے اختیارات حاصل تھے، اس نے یہودیوں کو اس بات کی اجازت دی اگرآپ یہاں آکرآبادہوناچاہتے ہیں تویہاں کے باشندوں سے یہاں کی زمینیں خرید سکتے ہیں، انھیں کاشت کاری کے لئے قرضے اوردیگرسہولیات بھی فراہم کیاگیا، جب کہ دوسری طرف عربوں پربھاری ٹیکس لگائے گئے اورٹیکسوں کی وصولی کے بہانے پر عدالتوں نے زمینیں ضبط کرنے کے فیصلے صادر کئے، ضبط شدہ زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کی گئیں، نیز سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے بھی کہیں مفت اورکہیں معمولی قیمتوں پریہودیوں کودئے گئے، بعض مقامات پرحیلے بہانے سے پورے عرب گاؤں کا صفایا کردیا گیااوروہاں یہودی بستیاں بسادی گئیں، اس طرح یہودیوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہوتاگیا، 1922ء میں وہ 82؍ہزار سے کچھ زائد تھے، 1936جب کہ ء میں ان کی تعداد ساڑھے چارلاکھ کے قریب پہنچ گئی۔
جنگ عظیم سے پہلے فلسطین میں جویہودی آباد تھے، ان کے پاس فلسطین کی 11%زمین تھی اورباقی 89%عرب فلسطینیوں کے پاس تھی؛ لیکن تیس سالوں کی کوشش اورمحنت سے یہودیوں کے پاس فلسطین کی 55%زمین چلی گئی، پھردوسری جنگ عظیم(1939-1945ء) کی وجہ سے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کابے حد اضافہ ہوگیا؛ کیوں کہ ہٹلرنے جرمنی سے ان کامکمل صفایاکرناشروع کردیاتھا، جس کی وجہ سے وہ لوگ بھاگ بھاگ کروہاں پناہ گزین ہوگئے، جس کی وجہ سے زمینی تبدیلی کے ساتھ ساتھ آبادی کاتناسب بھی مکمل طور پربدل گیااور یہودیوں کی رہائش کے لئے تہتر(73)نئی بستیاں بسائی گئیں، اس صورت حال کودیکھ کر فلسطینی پریشان ہوئے اوراس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً جھگڑے بھی ہونے لگے، آہستہ آہستہ یہ جھگڑے خوفناک ہوتے گئے۔
اسرائیلی اورفلسطینیوں کے درمیان رونماہونے والے فسادات کودیکھ کرامریکہ اوربرطانیہ نے ایک رائل کمیشن قائم کی، جس نے صورت حال کاجائزہ لے کربتایاکہ اسرائیلی ظلم کرتے ہوئے فلسطینیوں کودبانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہ فسادات رونماہوتے ہیں، یہ بات بھی کہی گئی کہ اس مسئلہ کاحل بس یہ ہے کہ دوریاستیں قائم کردی جائیں، ایک اسرائیلیوں کے لئے اوردوسری فلسطینیوں کے لئے، جس کواسرائیلی اورفلسطینی دونوں نے رد کردیا، پھراسرائیلی اورفلسطینی دونوں کی طرف سے اپنے اپنے تحفظ کے لئے مزاحمتی جماعتیں قائم ہونے لگیں، جن کے درمیان ٹکراؤبھی کافی خوفناک ہوتا تھا، ان سب چیزوں سے برطانیہ کافی پریشان تھا ؛ چنانچہ جیسے ہی تیس سالہ معاہدہ اس کاختم ہوا، اس نے وہاں سے اپنے جانے کافیصلہ کیا؛ لیکن خاموشی کے ساتھ چلے نہیں گئے؛ بل کہ فلسطین کے امن کوغارت کرنے کے لئے 14؍مئی1948ء کورات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے وجود کااعلان کردیا، اس کوقبول بھی کرلیا، امریکہ نے بھی قبول کیا اوران کے جوحلیف ممالک تھے، ان میں بہتوں نے اس کوقبول کرلیا، پھریہ قراداداقوام متحدہ میں پیش کیاگیااوروہاں بھی اسے تسلیم کرلیاگیا؛ لیکن عربوں کویہ تسلیم نہیں تھا۔

(جاری ۔۔۔۔۔۔)

No comments:

Post a Comment