چوری
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
دے دنادن…دے دنادن…پپوکے ابانے اس کی اس طرح کٹائی کی، جس طرح گھاٹ پردھوبی کپڑوں کی کٹائی کرتاہے، وجہ یہ بنی کہ پپو کے ڈھائی سالہ چچازادبھائی نے اپنی توتلی زبان سے پپوکے والد سے شکایت کرتے ہوئے کہا:
’’انتل انتل! پپوبھائی دان نے چوری کی ہے‘‘۔
’’کس کاسامان چرایا؟‘‘، پپوکے والد نے اس سوال کیا۔
’’دادادان کا‘‘ اس نے جواب دیا۔
بس پھرکیاتھا، پپوکی شرارتوںکومدنظررکھتے ہوئے اورایک معصوم کی بات کایقین کرکے پپوکی اچھی خاصی خبرلے ڈالی۔
پپوکے چلانے کی آواز سن کردادا اپنے کمرے سے باہرآئے اورپپوکوبچاتے ہوئے بیٹے سے پوچھا:
’’اس بے چارہ کواس بے دردی سے کیوں ماررہے ہو؟‘‘۔
’’ماروں نہیں تواورکیاکروں؟ ابھی سے چوری کی عادت ڈال رہاہے، آگے پتہ نہیں کیاکرے گا؟‘‘، پپوکے والد نے جواب دیا۔
’’کس کاسامان چرایا؟‘‘، دادانے پھرپوچھا۔
’’آپ کا‘‘، بیٹے نے جواب دیا۔
’’میرا؟!‘‘ حیرت واستفہام کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انھوں نے اپنی جیب ٹٹولنی شروع کی، سارے پیسے توتھے، پھرکیا؟ اب دادا نے پپوسے پوچھا:
’’تم نے کیاچرایا؟‘‘۔
پپونے روتے ہوئے راز افشاکیاکہ یوٹیوب پر’’چچابھتیاجا‘‘ دیکھنے کے لئے آپ کاڈاٹاچرایاتھا۔

No comments:
Post a Comment