Saturday, 9 January 2021

نمکین شہد(افسانچہ)

 نمکین شہد

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

وہ بہت خوش تھی، مارے خوشی کے صبح تڑکے ہی بسترکواس نے الوداع کہہ دیاتھا؛ حالاں کہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے نرم وملائم گدے نے ناک منھ بھی چڑھایا، اس نے بہت کوشش کی کہ روز کی طرح ابھی کچھ اوروقت محبوب کے لمس سے بہارکامزا لوٹے، اپنے مدھرآواز میں اس نے ’’ابھی چاندنی ہے نہ جاؤ تم، میں غزل سناتارہوں تمہیں‘‘گنگنانابھی شروع کردیا ؛ لیکن’’ جس بات کاڈرتھا، وہی بات ہوگئی‘‘، باہوں کے حصار کو توڑتے ہوئے وہ باتھ روم کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔

آج کادن بہت انتظارکے بعد میسرہورہاتھا، لہٰذا اس کے لئے ’’عیدکے دن‘‘ سے کسی طرح کم نہ تھا، ہلال عید کے بعدجس طرح کی تیاریاں رات میں کی جاتی ہیں، اسی طرح اس نے مہندی کی عمدہ کشیدہ کاری سے اپنے خوب صورت ہاتھوں اورپیروں کوسجایا، اس چکرمیں آدھے سے زیادہ رات کاحصہ اس طرح دبے پاؤں نکل گیا کہ اسے پتہ ہی نہ چل سکا، گھڑی پرنظرپڑتے ہی سونے کی فکرسوارہوئی کہ صبح دم اٹھ کر تیاربھی ہوناتھا۔

وہ باتھ روم سے فریش ہوکرنکلی، بسترنے جونگاہ اٹھاکردیکھا تودیکھتاہی رہ گیا، آج وہ پوری بدلی بدلی نظرآرہی تھی، چہرہ گلاب کی طرح کھلاکھلا، ہونٹوں پرلمبی مسکان کھیلتی ہوئی، آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی چمک، آہستہ سرمیں کچھ گنگنا بھی رہی تھی ، یہ تمام چیزیں کسی ایسی خوشی کاپتہ دے رہی تھیں، جوشاید زندگی میں اسے پہلی بارملنے والی ہو۔

سچ بھی تھا، کافی منتوں کے بعداس کی خواہش کی تکمیل ہورہی تھی، آج وہ ڈیٹ(Date)پرجارہی تھی، شہرسے کافی دوراس پارک میں، جہاں صرف جوڑیاں ہی جایاکرتی ہیں، سجنے سنورنے میں تقریباً دوگھنٹے صرف ہوئے، پھرجوآئینہ کے سامنے کھڑی ہوئی توآئینہ خوداپنامنھ چھپانے لگا، وہ کوہ قاف کی پری سے کسی طورکم نہیں دکھ رہی تھی، اب انتظارتھا اورانتظارکی یہ گھڑیاں مہینوں پرمحیط معلوم ہورہی تھیں، اچانک موبائل پرگھنٹی بجی اوروہ سیڑھیوں کوپھلانگتے ہوئے بائک پرسوارہوگئی۔

راستے بھرمحبوب زومنگ اراؤنڈ کرتے ہوئے حسن پری پیکرکے سامنے کرتب دکھاتارہا ، کئی جگہ رک کرکچھ کھایا پیابھی، پھرکچھ اسنیکس آئٹم لے کر منزل شوق پرجاپہنچے، وہاں کافی چہل پہل تھی اورجوڑیاں رنگ برنگی تتلیوں کی طرح چاروں طرف نظرآرہی تھیں، ہرطرف جوڑے ایک دوسرے میں اس طرح مدغم نظرآئے، جیسے ایک جنس کے دوحرفوں کوملا دیا جاتاہے، یاجیسے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کی تشبیک کی جاتی ہے، کچھ جعد مشکیں سے اٹکھیلیاں کررہے تھے، کچھ ایک ساتھ جینے اورمرنے کی قسمیں کھارہے تھے، کچھ نیل آرم اسٹرانگ بن کرمحبوب کی قدموں میں چاند توڑکرلانے کی باتیں کررہے تھے، کچھ وہ بھی تھے، جو محبوب کے سامنے ستاروں کوسجدہ ریزکروارہے تھے، کچھ محبوب کے جمال دل نشیں پرشاہ خاورکوقربان کررہے تھے۔

بڑی مشکل سے ایک گوشہ تنہائی نظرآئی اوروہ دونوں لپک کرجاپہنچے،پہلے تو سانسیں درست کی گئیں، پانی کے باٹل سے خشک ہوتے گلے کوترکیاگیا، پھر لن ترانیاں شروع ہوئیں، شاخ سے شاخ نکلنے کی طرح بات سے بات بھی نکلتی جارہی تھی اورساتھ میں وقت بھی، دوپہر میں اسی اسنیکس سے کام چلایاگیا، جوساتھ میں اسی غرض سے لیاگیاتھا، پھروہی لن ترانیاں۔

اب سورج کی تپش کم ہورہی تھی؛ لیکن آتش جوانی شعلہ جوالہ بنتی جارہی تھی، ہواؤں کی گستاخیاں بھی بڑھ رہی تھیں،ساتھ میں شبابی تلاطم خیزیاں  بھی درختوں پربیل چڑھنے کی طرح آہستہ خرامی کے ساتھ عروج پرپہنچنے کوبے تاب تھیں، ان پراسے غصہ کی بجائے پیارآرہاتھا، ان کوجھٹکنے کی بجائے وہ اس طرح چمکاررہی تھی، جیسے کوئی اپنی پوسی کوچمکارتی ہے، جس کی نتیجہ میں یہ پھول کرشیرہوگئیں، پھرہوش اس وقت آیا، جب نمکین شہد کی بوناک کے بانسہ تک جاپہنچی، وہ سٹپٹاگئی اوراندیشۂ طوفاں سے اس کادل کانپ گیا؛ لیکن …کاش…یہ اندیشۂ طوفاں پہلے اٹھ گیاہوتا…اے کاش!…شبابی تلاطم خیزیوں کو وہ پہلے جھٹک چکی ہوتی… اے کاش! … اے کاش! …

No comments:

Post a Comment