کون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
26؍جنوری کے بعدسے تین واقعات ایسے پیش آئے، جس کی وجہ سے دہلی پولیس پرسوالات اٹھ رہے ہیں اوراٹھنابھی چاہئے؛ کیوں کہ یہ دیش کی حفاظت کاسوال ہے، پہلاواقعہ وہ ہے ، جس کی وجہ سے کچھ لوگ کسانوں پرسوال اٹھارہے ہیں؛ حالاں کہ سوال پولیس کی سیکوریٹی پرہوناچاہئے؛ لیکن گودی میڈیا اور برسراقتدار پارٹی کے آئی ٹی سیل کی وجہ سے سوال کسانوں پراٹھ رہاہے، کسانوں کوٹریکٹرپریڈ کی اجازت دی گئی، اسی وقت سے خدشہ تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا؛ لیکن پھرجب ایک تخریب کارکوپکڑلیاگیا اورسازش بے نقاب ہوگئی تواس خدشہ کوکھرچ دیاگیا، جس کی وجہ سے ساؤدھانی ہٹادی گئی اورادھرساؤدھانی ہٹی اوراُدھردرگھٹناگھٹی۔
لال قلعہ پرترنگاکی بجائے نشان صاحب کاجھنڈالہرایاجانااوروہ بھی اس دن، جس دن پورے ملک میں جشن جمہوریہ منایا جارہاتھا، اپنے اندرایک سوال رکھتاہے؛ بل کہ بڑاسوال رکھتاہے، کسان آندولن میں جولوگ شریک ہیں، ظاہرہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پرشریک نہیں ہیں، تواگرکسان آندولن میں شریک افرادکی یہ حرکت ہوتی تووہ نشان صاحب کا جھنڈا کیوں لہراتے؟ کسان لیڈران اتنے توبے وقوف نہیں ہیں کہ جس بات کے لئے دومہینے سے دھرنے پربیٹھے ہیں، اس دھرنے کواس طرح مذہبی رنگ دے کرختم کردیں، یا اس ملک کے ترنگا کا اپمان کریں، جس کی دھرتی میں وہ اناج اگاتے ہیں اورجس کے لئے وہ اس کڑا کے کی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں، اگرکسان لیڈران اتنے بے وقوف ہوتے توحکومت کے ساتھ گیارہ دورکی بات چیت ناکام نہیں ہوتی، اگروہ اتنے بے وقوف ہوتے توتبادلۂ خیال کی جگہ پراپنا کھانا لے جاکرنہیں کھاتے؛ بل کہ حکومت کی طرف سے شانداردعوت کی پیش کش کا فائدہ اٹھاتے؛ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کسانوں کی طرف سے کیا گیا عمل ہے۔
پھریہ بات اس وقت مزیدصاف ہوجاتی ہے، جس وقت جھنڈا لہرانے والااقرارکرلیتا ہے کہ یہ کام اس نے کیا، کس کے اشارہ پرکیا؟ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کیوں کہ اس شخص کی تصاویر اس کے گروگھنٹالوں کے ساتھ وائرل ہوچکی ہیں؛ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اسے گرفتارکیوں نہیں کیا گیا؟ ایک غلط حرکت کرنے کے بعد پوری ڈھٹائی کے ساتھ ویڈیووائرل کرتاہے اورپولیس اسے گرفتارنہیں کرپاتی، اسے حفاظتی دستہ کی ناکامی کہا جائے یاسوچی سمجھی پلاننگ، یہ پولیس تووہ ہے، جومجرم کووہاں سے پکڑکرمیڈیاکے سامنے پیش کردیتی ہے، جہاں کسی کاخیال تک نہیں پہنچتا، توپھراتنے بڑے مجرم کوکیوں چھوڑدیاگیا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جانا چاہئے کہ جب ٹریکٹرپریڈ کولال قلعہ تک جانے کی اجازت نہیں تھی تووہ لوگ، جوٹریکٹر پریڈ میں شامل ہوکرایسی حرکت کرنے کی پلاننگ کرکے آگے بڑھ رہے تھے، انھیں روکا کیوں نہیں گیا؟ انھیں اس جگہ تک پہنچنے کیوں دیاگیا؟ یہ بھی کسی پلاننگ کاحصہ ہی معلوم ہوتاہے۔
اس بات پربھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح لال قلعہ کے سامنے جھنڈا لہرائے جانے پرسوال اٹھایا جارہاہے، کیااسی طرح اس پربھی سوال نہیں اٹھایا جانا چاہئے کہ حکومت کی اس پراپرٹی کوایک نجی کمپنی کے حوالہ کیوں کیا گیا؟ کیایہ اسی طرح جرم نہیں، جس طرح جھنڈا لہرایاجانا؟ اس کے لئے لوگوں کی آواز کیوں بلند نہیں ہوئی؟ کیایہ دیش بھگتی ہے کہ حکومت کی ایسی پراپرٹی کو، جوملک کی پہچان ہے، اسے کسی نجی کمپنی کے سپردکردیاجائے؟ وہ اس وقت کہاں سورہے تھے، جوآج دیش بھگتی کے نعرے بلندکررہے ہیں؟ اس پربھی توایف آئی آر کٹنی چاہئے؟
دوسرا واقعہ کل دوپہرکے وقت سنگھوبارڈرپرپیش آیا، وہاں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، اس قدر کہ دہلی جل بورڈ کے پانی ٹینکرکوبھی اس جگہ تک جانے سے روک دیا گیا، جہاں احتجاجی بیٹھے ہوئے ہیں، کسی بھی گاڑی کوآگے جانے نہیں دیاجارہاہے، ایسے حفاظتی انتظام کے باوجود ایک بھیڑآتی ہے اورپولیس اسے نہیں روکتی، پولیس آگے بڑھنے دیتی ہے، وہ بھیڑ آگے پہنچ کراحتجاجیوں کے خیموں کواکھاڑدیتی ہے اورہلڑ مچاتی ہے اورحفاظتی دستہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، اس پرگودی میڈیا سوال نہیں اٹھارہی ہے، سوال اس پر اٹھ رہاہے کہ ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا ، یہ کانسٹیبل زخمی کیسے ہوا؟ جواب دیاجاتاہے کہ احتجاجی کی تلوارسے، یہ غلط ہے؛ لیکن سوال یہ اٹھناچاہئے کہ یہ بھیڑوہاں تک پہنچی کیسے؟ یہ توبالکل وہی ماڈل اختیار کیا جارہا ہے، جوسی اے اے کے خلاف احتجاجیوں کے ساتھ کیاجارہاتھا، اسے کپل مشراماڈل بھی کہاجاسکتاہے، اس ماڈل کے پیچھے کس کاہاتھ ہے؟ یہ سب جانتے ہیں؛ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ حفاظتی دستہ کی تنخواہ عوامی پیسوں سے پوری کی جاتی ہے تویہ بے ایمانی نہیں تواورکیاہے کہ جس کے پیسے سے تنخواہ ملے، اس کی حفاظت کرنے کے بجائے اس کی بات سنی جائے، جواقتدار پرہیں؟
تیسراواقعہ کل شام پانچ بج کرپانچ منٹ پرپیش آیا، اے پی جے عبدالکلام روڈ پرجندل ہاؤس کے قریب اسرائیلی سفارت خانہ کے سامنے معمولی دھماکہ ہوا، جس سے کوئی جانی نقصان تونہیں ہوا؛ لیکن تین گاڑیوں کے شیشے چٹخ گئے، یہ واقعہ جس جگہ پیش آیاہے، وہ سخت حفاظت والی جگہ ہے، پھراس سے صرف دو کیلو میٹر دورپرپرگرام بھی چل رہاتھا، جس میں صدرجمہوریہ اوروزیراعظم بھی شریک تھے، ایسے علاقہ میں یہ دھماکہ کیسے ہوا؟ ہماری انٹلیجنس تواتنی تیز ہے کہ ملک کے کسی بھی خطہ میں کوئی دہشت گرد داخل ہوتاہے توانھیں پتہ چل جاتاہے اورپورے علاقہ کوہائی الرٹ کردیاجاتاہے، اس دھماکہ کے تعلق سے انھیں بے خبری کیوں رہی؟ دھماکہ کرنے والے اس جگہ پرپہنچے کیسے، جوہائی سیکوریٹی جگہ ہے؟ یہاں تک پہنچنے سے پہلے ہرفرد کی چیکنگ ہوتی ہے، اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ اس میں یاتوسستی کی گئی ہے یاجان بوجھ کرپاس کیا گیا ہے، تبھی یہ دھماکہ ممکن ہوسکا، ورنہ دھماکہ ممکن ہی نہیں تھا۔
یہ تینوں واقعات دراصل لوگوں کے ذہنوں کوبھٹکانے کے لئے رونماکئے گئے ہیں؛ کیوں کہ اس وقت پورے ملک میں کسان آندولن عروج پرہے ، 26؍ جنوری کے واقعہ کی وجہ سے کچھ سیدھے سادھے کسان ناراض ہوکراپنے گھروں کوواپس لوٹ گئے تھے ، بس اب غازی پور بارڈرکااحتجاج ختم ہونے والاتھا اورراکیش ٹکیت گرفتاری دینے والے تھے کہ وہ سازش کوسمجھ گئے اوراپنے مورچہ پرجم گئے اورپھرروروکردہائی دی، جس کی وجہ سے ٹوٹتا ہواموچہ مزید طاقت ورہوگیا، یہاں چارۂ کارنہ پاکرسنگھوبارڈرپرغنڈے بھیجے گئے؛ لیکن جب وہاں بھی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہواتواسرائیلی سفارت خانہ کے سامنے معمولی قسم کادھماکہ کردیاگیا، ان تینوں واقعات کی کڑیاں اگرملا کردیکھیں گے توایک ہی بات نظرآئے گی کہ کسی طرح کسان آندولن کوبدنام اورختم کیاجائے اوربس۔
لیکن ان کی وجہ سے کسان آندولن توختم نہیں ہوا، الٹا دہلی پولیس سوالات کے گھیرے میں آگئی؛ لیکن سوالات ان سے پوچھے گا کون؟ میڈیا توان کی ہے، وہ توسوال کرنے سے رہی، اپوزیشن نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، لہٰذا ادھرسے بھی سوالات نہیں ہوسکتے، باقی اکا دکاایم پی کی بات کوسنتا کون ہے؟ بہرحال یہ تینوں واقعات ملک کی حفاظتی دستہ پرسوالیہ نشان ہیں، جس کے تعلق سے چین سے ٹکرانے کی بات کی جاتی ہے کہ ہم ہرطرح سے مقابلہ کے لئے تیارہیں، یہ سوال ہرعام وخاص کو اٹھانا چاہئے کہ حفاظتی دستہ کی موجودگی میں یہ سارے واقعات کیسے پیش آرہے ہیں؟ اس کو کیا سمجھا جائے؟ ناکامی یا پلاننگ، آخرکون معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں؟؟؟
jamiljh04@gmail.com / 8292017888





No comments:
Post a Comment