Monday, 11 January 2021

بیع معاومہ کا مصداق

بیع معاومہ  کا مصداق 

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

’’معاومہ‘‘عام سے بناہواایک لفظ ہے، جس کے معنی ’’سال‘‘ کے آتے ہیں،حدیث میں معاومہ کی بیع سے منع کیاگیاہے؛ چنانچہ حضرت جابرؓفرماتے ہیں:

 نہی رسول اللہ ﷺ عن المحاقلۃ، والمزابنۃ، والمعاومۃ، والمخابرۃ۔ (مسلم، باب النہی عن المحاقلۃ والمزابنۃ…، حدیث نمبر: ۱۵۳۶)

رسول اللہ نے محاقلہ، مزابنہ، معاومہ اورمخابرہ سے منع فرمایاہے۔

اس حدیث کی شرح میں امام نوویؒ لکھتے ہیں:

وأماالنہی عن بیع المعاومۃ، وہوبیع السنین، فمعناہ: أن یبیع ثمرالشجرۃ عامین، أو ثلاثۃ، أوأکثر، فیسمی بیع المعاومۃ وبیع السنین۔ (شرح النووی، باب النہی عن المحاقلۃ…: ۱۰؍۱۹۳)

جہاں تک بیع معاومہ سے ممانعت کی بات ہے اوروہ بیع سنین(سالوں تک کی بیع )ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ درخت کے پھل دو، تین یااس سے زائدسالوں کے لئے فروخت کیاجائے، اسے بیع معاومہ یابیع سنین کہاجاتاہے۔

معلوم ہواکہ معاومہ درخت کے پھلوں کوکئی سال کے لئے بیچ دیاجائے، مثلاً یوں کہاجائے: میں اپنے درخت یاباغ کے پھلوں کودویاتین یاچار سالوں کے لئے ہرسال دس ہزارروپے کے عوض میں بیچتاہوں،تو یہ’’ معاومہ‘‘ کہلائے گا؛ لیکن یہ صرف پھلوں کے ساتھ مقید نہیں ہے؛ بل کہ پھلوں کے علاوہ وہ زمینی پیداواربھی شامل ہے، جوغیرمعلوم معدوم ہو، شیخ الاسلام علی بن حسین سغدیؒ فرماتے ہیں: 

بیع المعاومۃ وہوأن یقول: بعت منک مایخرج من أرضی، أوشجری کذاعاماً بکذادرہماً۔ (النتف فی الفتاوی: ۱؍۴۶۹، تحقیق: ڈاکٹرصلاح الدین الناہی)

بیع معاومہ یہ ہے کہ کوئی کہے: میں نے تم سے اپنی زمین یادرخت کی پیداواراتنے سال کے لئے اتنے درہم میں بیچا۔

نیز یہ کئی سالوں کامعاملہ ایک ہی عقدمیں ہو، ایسانہ ہو کہ ہرسال تجدید کیاجائے، علامہ ابن اثیرؒ(م:۶۰۶ھ) رقم طرازہیں:

بیع السنین: بیع الثمرۃ للسنین: ہوأن یبیعہا لأکثرمن سنۃ فی عقد واحد، وہوبیع غرر؛ لأنہ بیع مالم یخلقہ اللہ تعالیٰ بعد۔(جامع الأصول فی أحادیث الرسول، الفرع الثالث: فی المحاقلۃ والمزابنۃ والمخابرۃ ومایجری معہا، حدیث نمبر: ۳۰۱:…، نیل الأوطار، باب النہی عن بیع الثمرقبل بدوصلاحہ: ۵؍۲۳۹)

بیع سنین: کئی سالوں کے لئے پھل کی بیع: وہ یہ ہے کہ آدمی ایک سے زائد سال کے لئے ایک عقدمیں بیع کرے، یہ بیع غررہے؛ کیوں کہ یہ ایسی چیز کی بیع ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ابھی تک پیداہی نہیں کیا۔

اسی طرح ’معاومہ‘ میں صرف ایسے پھل یادوسرے زمینی پیداوارہی شامل ہوں گے، جوتازہ ہوں؛ کیوں کہ خشک پھلوں یازمینی پیداوارمیں عقد سلم کرتے ہوئے کئی سالوں کی بیع کی گنجائش ہے، احمدبن محمد قدوریؒ(م: ۴۲۸ھ) رقم طراز ہیں:

ویجوز أن یکون السلم سنین [إن] کان فی الثمارالیابسۃ، وذلک لایعدم من أیدی الناس۔ (التجرید:۵؍۲۶۶۳، مسئلہ نمبر: ۱۳۰۵۲، تحقیق: ڈاکٹرمحمداحمدسراج وڈاکٹرعلی جمعہ محمد)

اگرپھل خشک ہوں اورلوگوں کے پاس موجودہوں توکئی سالوں کے لئے سلم جائزہے۔

تنبیہ

مذکورہ عبارت میں سلم کے ذکرسے یہ بات نہ سمجھی جائے کہ بیع سلم اوربیع معاومہ دونوں ایک ہی ہیں؛ بل کہ دونوں میں فرق ہے کہ اول (سلم) کاتعلق بیوع الصفات سے ہے، جب کہ ثانی(معاومہ) کاتعلق بیوع الأعیان سے ہے،  امام خطابیؒ لکھتے ہیں:

 بیع السنین:ہوأن یبیع الرجل ماتثمرہ النخلۃ، أوالنخلات بأعیانہاسنین ثلاثاً أوأربعاً، أوأکثرمنہا، وہذاغدر؛ لأنہ یبیع شیئاً غیرموجود، ولامخلوق حال العقد، ولایدری ہل یکون ذلک أم لا؟وہل یتم النخل أم لا؟ وہذافی بیوع الأعیان، فأمافی بیوع الصفات فہوجائز، مثل أن یسلف فی شئی إلی ثلاث سنین، أوأربع، أوأکثر مادامت المدۃ معلومۃإذاکان الشئی المسلف فیہ غالبا وجودہ عندوقت محل السلف۔ (معالم السنن، باب بیع السنین: ۳؍۷۱)

بیع سنین یہ ہے کہ آدمی درخت یاباغ میں آئے ہوئے عین پھلوںکی بیع تین، چار یااس سے زائدسالوں کے لئے کرے، یہ دھوکہ ہے؛ اس لئے کہ اس میں غیرموجوداورایسی شئی کی بیع ہورہی ہے، جو عقد کے وقت موجودہی نہیں ہے، نہ یہ معلوم کہ یہ ہوگابھی یانہیں؟ اورکیا پھل تمام میں آئیں گے یانہیں؟ اوریہ بیوع الأعیان میں ہے، جہاں تک بیوع الصفات کاتعلق ہے تویہ جائزہے، مثلاً: کوئی تین، چاریااس سے زائد سالوں کے لئے سلم کرے تومدت معلوم ہونے اورسامان کے حوالگی کے وقت تک شئی کے غالب طورپر موجودرہنے کی صورت میں درست ہے۔

بعض حضرات کئی سالوں کے لئے زمین کرایہ پرلینے کوبھی معاومہ میں شامل کرتے ہیں، ڈاکٹر محمود عبد الرحمن عبدالمنعم نقل کرتے ہیں:

وقیل: ہی اکتراء الأرض سنین۔ (معجم المصطلحات والألفاظ الفقہیۃ: ۲؍۳۰۸، نیل الأوطار، باب النہی عن بیع الثمرقبل بدوصلاحہ: ۵؍۲۳۹)

اورکہاگیاہے کہ معاومہ سے مراد کئی سالوںکے لئے زمین کرایہ پرلیناہے۔

خلاصہ یہ کہ :’’بیع معاومہ سے مرادایساعقدبیع ہے، جومتعینہ قیمت پرکئی سالوں کے لئے درختوں پرلگے ہوئے تازہ اورترپھلوں یادوسری زمینی پیداوار پرایک ہی عقد میں کیا جائے‘‘، ہذاماعندی، واللہ اعلم بالصواب!


No comments:

Post a Comment