تعلیم کے لئے حکومتی اسکیم سے استفادہ
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
حکومت کی بعض اسکیمیں ایسی ہوتی ہیں، جن میں وہ تعلیم کے لئے بینک سے قرض دلاتی ہے اوراس پرجوانٹرسٹ عائدہوتا ہے، وہ خود مقروض کواداکرنا نہیں ہوتاہے؛ بل کہ اس کی طرف سے حکومت ادا کرتی ہے، یا اس کابڑاحصہ حکومت اداکرتی ہے اوربہت تھوڑا سا حصہ خود مقروض کواداکرنا ہوتا ہے، کیاایسی اسکیم سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟
اگرحکومت تعلیم کے لئے کسی کوبینک سے قرض دلاکربینک انٹرسٹ خود اداکرے تو اس طرح کی اسکیم سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز اوردرست ہے؛ کیوں کہ حکومت جوزائدرقم ہماری طرف سے اداکررہی ہے، وہ ہمارے لئے اعانت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ایک جائز عمل ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے اپنی رعایاکی امدادوتعاون ہے، جوحکومت کی ذمہ داری ہے، آپﷺکا ارشادہے:
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ، الإمام راع ومسئول عن رعیتہ…(بخاری، باب الجمعۃ فی القری والمدن، حدیث نمبر: ۸۹۳)۔
تم سب ذمہ دارہو اورتم سب سے اس کی رعیت کے بارے میںپوچھ ہوگی، امام(حاکم) ذمہ دارہے اوراس سے اس کی رعیت کے بارے میںپوچھ ہوگی۔
اِس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ لکھتے ہیں:
قال العلماء: الراعی ہوالحافظ المؤتمن الملتزم صلاح ماقام علیہ وماہوتحت نظرہ، ففیہ أن کل من تحت نظرہ شیٔ فہومطالب بالعدل فیہ والقیام بمصالحہ فی دینہ ودنیاہ ومتعلقاتہ(شرح النووی علی مسلم، باب فضیلۃ الأمیرالعادل وعقوبۃ الجائر: ۱۲ /۲۱۳ )۔
علماء فرماتے ہیں کہ ’راعی‘اس امانت دارنگراںکوکہتے ہیں، جواپنی ذمہ داری اوراپنے ماتحت کی درستگی اورسلامتی کاالتزام کرتاہو؛ چنانچہ اس میںیہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص اپنے ماتحت کے ساتھ عدل وانصاف کامعاملہ کرے اوراس کے دینی ودنیوی مصلحتوں کو انجام دے۔
علامہ عینیؒ لکھتے ہیں:
قال بعض اہل العلم: یجب علی الإمام أن یقضی من بیت المال دین الفقراء … کماأن علی الإمام أن یسد رمقہ، ویراعی مصلحتہ الدنیویۃ(عمدۃ القاری، باب إذاأحال دین المیت علی رجل جاز، حدیث نمبر:۲۲۸۹)۔
بعض اہل علم کاکہناہے کہ امام (حاکم) پرلازم ہے کہ وہ فقراء کا قرض بیت المال سے اداکرے…جیساکہ اس پران کی دنیاوی مصالح کی رعایت اوربقدرکفاف روزی مہیاکرنا ضروری ہے۔
معلوم ہواکہ اپنی رعایاکی اعانت حکومت کی ذمہ داری ہے اوریہ اسی قبیل سے ہے؛ اس لئے ایسی رقوم کاحصول اوران کااستعمال دونوں جائز ہیں۔
البتہ اگر حکومت پورابینک انٹرسٹ ادانہ کرے؛ بل کہ اس کابڑا حصہ اداکرے تو چوں کہ اس میں سود ادا کرنا پڑتاہے، خواہ جس مقدارمیں بھی ہو؛ اس لئے ایسے قرض لینے کے وقت یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جس تعلیم کے لئے اسکیم سے فائدہ اٹھایاجارہاہے، وہ فرض کفایہ(جس کوہم دوسرے الفاظ میں دنیاوی تعلیم کہتے ہیں) میں سے ہے اور لینے والے شخص کے علاقہ میں اس کی ادائے گی کرنے والا کوئی نہیں، ایسی صورت میں گنجائش ہے؛ لیکن اگر اس کی ادئے گی کرنے والے موجود ہوں توپھرگنجائش نہیں، واللہ اعلم بالصواب!
اسکیم کے تعلق سے حکومت کی بعض اسکیمیں ایسی بھی ہیں، جن میں اس نے ایک محفوظ فنڈقائم کردیا ہے، جس کو بینک میں ڈپازٹ کردیا گیا ہے اورانٹرسٹ سے جورقم حاصل ہوتی ہے، اس سے تعلیمی ورفاہی اداروں اورافراد واشخاص کاتعاون کیاجاتاہے، گویاحکومت یاحکومت کاادارہ انٹرسٹ وصول کرتاہے،وہ اس کا مالک ہوتاہے اور پھروہ اسکیم سے استفادہ کرنے والے حضرات کی مددکرتاہے توکیایہ صورت درست ہوگی؟
اس طرح کی اسکیموں سے استفادہ کرناجائزہے؛ کیوں کہ ایساہوسکتاہے کہ ایک چیز کے اندردوچیزوں کی صلاحیت اوراس کی دومختلف حیثیتیں ہوں، جیسے: ولایتِ نکاح کا ایک مسئلہ بیان کیاجاتاہے کہ اگرکسی صغیرہ لڑکی کاولی اس کاچچازادبھائی ہواوروہ چچازادبھائی اپنی چچازادبہن سے نکاح کرلے توجائز ہے، یہاں اس کی دوحیثیتیں بتلائی گئی ہیں:
فیکون أصیلاً من جانب، ولیامن جانب أخر( اللباب فی شرح الکتاب، کتاب النکاح: ۱؍۲۵۹)۔
وہ ایک جانب سے اصیل(بذاتِ خود) ہوتاہے، جب کہ دوسرے جانب(لڑکی کی جانب)سے وکیل ۔
اس طرح کی واضح مثال حدیث شریف میں وارد ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں:
اُتی النبی ﷺ بلحم، فقیل: تصدق علی بریرۃ، قال: ہولہا صدقۃ، ولنا ہدیۃ(بخاری، باب قبول الہدیۃ، حدیث نمبر: ۲۵۷۷، نسائی، باب خیار الأمۃ، حدیث نمبر: ۳۴۴۷)۔
آں حضرت اکے پاس گوشت لایاگیااوربتلایاگیاکہ یہ بریرہ کوصدقہ کیاگیاہے، آپ ا نے فرمایا: وہ اس کے لئے صدقہ اورہمارے لئے ہدیہ ہے۔
اس حدیث کے ضمن میں علامہ نورالدین سندیؒ لکھتے ہیں:
(ولناہدیۃ) فبین أن العین الواحدۃ یختلف حکمہا باختلاف جہات الملک(حاشیۃ السندی علی النسائی:۶؍۱۶۲)۔
(اورہمارے لئے ہدیہ ہے) اس میں واضح کیا کہ عینِ واحدکاحکم جہت ِملک کے اختلاف سے مختلف ہوتاہے۔
آپﷺ پرصدقہ حرام تھا، اسی لئے آپ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے، حضرت بریرہ ؓ پر حرام نہیں تھا، اس لئے ان کے پاس صدقہ بھیجاگیاتھا، آں حضرتﷺ کے سامنے گوشت کے اس صدقہ والے تحفہ کوپیش کیاگیا، جواصل کے اعتبارسے آپ کے لئے درست نہیں تھا؛ لیکن آپﷺنے جہت ِملک کے بدلنے سے حکم کے بدلنے کی بات بتلائی اورفرمایاکہ یہ ہمارے حق میں(حضرت بریرہؓ کی طرف سے)ہدیہ ہے، علامہ عینیؒ لکھتے ہیں:
المتصدق علیہ زال عنہا وصف الصدقۃ، وحلت لکل واحدممن کانت الصدقۃ محرمۃ علیہ(شرح أبی داود، باب فی فقیریہدی إلی غنی من الصدقۃ، (حدیث نمبر: ۱۷۷۵): ۶؍۴۰۸)۔
متصدق علیہ سے صدقہ کی صفت ختم ہوگئی اورہراس شخص کے لئے جائز ہوگیاجس پرصدقہ حرام تھا۔
مذکورہ مسئلہ کی مزیدوضاحت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک فتوے سے ہورہی ہے:
عن ابن مسعودأنہ سئل عمن لہ جاریأکل الرباعلانیۃ، ولایتحرج من مال خبیث یأخذہ یدعوہ إلی طعام، قال: أجیبوہ ، فإنما المہنألکم، والوزرعلیہ(جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلی،ص:۷۱)۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھاگیاکہ جس کاپڑوسی علانیہ سودکھاتاہو اورمال خبیث لینے میں ہچکچاتا نہ ہو، وہ (اگر) کھانے کی دعوت کرے(توکیاکرنا چاہئے)انھوں نے جواب میں فرمایا: اسے جواب دو کہ تمہارے لئے خوش گوارہے اورگناہ اُس پرہے۔
مذکورہ عبارات سے یہ بات آشکارہوگئی کہ اس طرح کی حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ہذاماعندی، واللہ أعلم بالصواب، وعلمہ أتم وأحکم!!
حکومت کی اسکیموں کے تعلق سے مزید مسائل جاننے کے لئے نیچے کی کتاب سے استفادہ کریں
ڈاؤن لوڈ کریں
https://archive.org/details/SarkariSchemesSeIstefada


ماشاءاللہ
ReplyDelete