Saturday, 30 January 2021

تعلیمی قرض(Education Loan)

 تعلیمی قرض

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

قرض ایک ضرورت ہے، جوایسے وقت میں لیناجائزہے، جس میں انسان محتاج ہواورقرض نہ لینے کی صورت میں ضررکااندیشہ ہو؛ کیوں کہ شریعت انسانی ضررکودورکرنے کاحکم دیتی ہے، آپﷺکاارشاد ہے:

 لاضرر ولاضرار(مؤطا امام مالک، باب القضاء فی المرفق، حدیث نمبر:۱۴۲۹)۔

نہ نقصان اٹھاناہے نہ نقصان پہنچانا۔

اسی وجہ سے ’’الضرریزال‘‘ اور’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے اصول بنائے گئے ہیں،اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ ضرورت کیاہے،جس میں ہمارے لئے سودی قرض لینے کی گنجائش ہے؟اس سلسلہ میں احکام کے ان مدارج کوسامنے رکھناضروری ہے، جوفقہاء کرام نے بتلائے ہیں، علامہ حمویؒ نے فتح القدیرکے حوالہ سے احکام کے پانچ مدارج لکھے ہیں، لکھتے ہیں:

فی فتح القدیر: ہناخمسۃ مراتب: ضرورۃ، وحاجۃ، ومنفعۃ، وزینۃ، وفضول، فالضرورۃ بلوغہ حداً إن لم یتناول الممنوع ہلک إذاقاربہ، وہذا یبیح تناول الحرام، والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجدمایأکلہ لم یہلک، غیرأنہ یکون فی جہد ومشقۃ، وہذا لایبیح الحرام، ویبیح الفطر فی الصوم، والمنفعۃ کالذی یشتہی خبز البر ولحم الغنم والطعام الدسم، والزینۃ کالمشتہی الحلوی والسکر، والفضول التوسع بأکل الحرام والشبہۃ(غمزعیون البصائر:۱؍۲۷۷)۔ 

فتح القدیرمیں ہے: یہاں پانچ مراتب ہیں: ضرورت، حاجت، منفعت، زینت اورفضول، ضرورت اس حدتک پہنچ جانے کو کہتے ہیں کہ اگرممنوع شئی کواستعمال نہ کرے توہلاک ہوجائے، یہ (صورت) حرام کے استعمال کومباح کردیتی ہے، حاجت کی مثال اس بھوکے کی سی ہے کہ اگراسے کھانے کی چیز نہ ملے تو ہلاک تونہ ہو؛ البتہ مشقت اورتکلیف میں مبتلاہوجائے، یہ (صورت) حرام کومباح نہیں کرتی ہے، تاہم روزہ افطار کرنے کومباح کرتی ہے، منفعت جیسے کوئی گیہوں کی روٹی، بکری کاگوشت اورمرغن غذاکھانے کی خواہش کرے، زینت جیسے میٹھی اورشیریں کھانوں کی خواہش اورفضول یہ کہ حرام ومشتبہ کھانے میں وسعت (پیداکرلی جائے)۔

اس سے معلوم ہواکہ فضول، زینت اورمنفعت کے لئے سودی قرض کی گنجائش نہیں؛ البتہ اضطراری حالت میں سودی قرض لینادرست ہے، اسی طرح حاجت میں بھی سودی قرض سے پرہیز بہترہے؛ البتہ حاجت کوکبھی کبھی ضرورت کے درجہ میں تسلیم کرلیاجاتاہے، ایسی صورت میں سودی قرض لینے کی گنجائش ہوگی، علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:

السادسۃ: الحاجۃ تنزل منزلۃ الضرورۃ، عامۃ کانت أوخاصۃ، ولہذا جوزت الإجارۃ علی خلاف القیاس للحاجۃ… وفی القنیۃ والبغیۃ: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح(الأشباہ والنظائر:۱؍۱۰۰)۔ 

چھٹاقاعدہ یہ ہے کہ حاجت (کبھی کبھار) ضرورت کے درجہ میں اترآتی ہے، عام ہو یاخاص، یہی وجہ ہے کہ اجارہ کوحاجت کی وجہ سے خلاف قیاس جائزقراردیاگیاہے… اور’’قنیہ‘‘ و’’بغیہ‘‘ میںہے کہ محتاج کے لئے نفع(کی شرط)کے ساتھ قرض لیناجائز ہے۔

معلوم ہواکہ سودی قرض کے علاوہ کوئی اورشکل مسئلہ کے حل کی نہ نکلتی ہوتوسودی قرض لینادرست ہے، اب سوال یہ ہے کہ تعلیمی قرض لینادرست ہے یانہیں؟ 

اس سلسلہ میں دوباتوں میں غورکرنے کی ضرورت ہے:

۱-  جس تعلیم کے لئے قرض لیاجارہاہے، وہ فرض کفایہ میں سے ہے اورقرض لینے والے شخص کے علاقہ میں فرض کفایہ کی ادائے گی کرنے والا کوئی نہیں۔

۲-  وہ تعلیم ، جس کے لئے قرض لیاجارہاہے، ہے توفرض کفایہ ؛ لیکن اس کی ادئے گی کرنے والے موجود ہوں۔

پہلی صورت میں قرض لینے کی گنجائش ہونی چاہئے، بالخصوص موجودہ زمانہ میں اور ہمارے ملک میں، جہاں فرقہ پرستی کاعفریت راج کرتاہے، گنجائش کی یہ بات اس مسئلہ کی روشنی میں بھی کہی جاسکتی ہے، جس میں’’یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح‘‘ کے ذریعہ محتاج کے لئے سودی قرض لینے کی بات کہی گئی ہے ، فرض کفایہ کی تعلیم، جب کہ پوراعلاقہ خالی ہو، ایک دینی اور قومی ضرورت ہے، جوذاتی ضرورت سے کہیں بڑھی ہوئی ہے؛ اس لئے اس کی گنجائش ہونی چاہئے۔

جہاں تک دوسری صورت کاتعلق ہے تواس میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ یہاں نہ دینی ضرورت ہے اورناہی قومی ضرورت، واللہ أعلم بالصواب!


2 comments: