مادۂ منویہ کی خریدوفروخت
شریعت کی نظر میں
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
جدیدمیڈیکل سائنس کی ترقیوں نے بعض ایسی چیزوں کوبھی ممکن بنادیاہے، جن کاتصوربھی ماضی میں نہیں کیا جاسکتا تھا؛ لیکن اس کے نتیجہ میں کئی ایسی چیزوں کابھی وجودہواہے، جو شرافت ِانسانی کے سراسرخلاف ہے؛ لیکن مادیت پرست اس دنیامیں شرافت انسانی کی فکرکس کوہے؟ یہاں توبس کام نکلنے کی بات چلتی ہے، اس کے لئے خواہ کسی بھی سطح تک گرناپڑجائے؟
شرافت ِانسانی سے گری ہوئی انہی چیزوں میں سے ایک ’’مادۂ منویہ کی خرید وفروخت ‘‘ بھی ہے، جس کے لئے کئی ممالک میں باقاعدہ بینک بھی قائم کئے گئے ہیں اورکئی افرادایسے بھی ہیں، جنھوں نے اسی کو اپنا پیشہ بھی بنارکھاہے، ایسے میں بحیثیت مسلمان ہمیں غورکرنے کی ضرورت ہے کہ کیاایساکرنا شریعت کی نگاہ میں درست ہے ؟
اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ منی انسان کے اُن اجزاء میں سے ہے، جس کے اندربڑھوتری ہوتی رہتی ہے اورآدمی کی تندرستی کے ساتھ ساتھ اس کے عطیہ کرنے میں بظاہرکوئی جسمانی نقصان بھی نہیں ہے، جب کہ اُس مریض کے لئے ، جونامردی یا بانجھ پن سے متاثرہے، سراسرنفع بخش بھی ہے، نیز حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد، امام داؤد، امام ابوثور، اسحاق بن راہویہ اورابن منذررحمہم اللہ کے نزدیک منی پاک ہے، اورپاک ہونے کی وجہ سے اس کی خریدوفروخت بھی اُن حضرات کے اصول کے مطابق جائز ہونی چاہئے، شافعی فقیہ تقی الدین ابوبکرمحمدالحسینی لکھتے ہیں:
ویصح بیع کل طاہرمنتفع بہ مملوک۔ (کفایۃ الأخیار، کتاب البیوع: ۳۲۹، ط: دارالکتب العلمیۃ، بیروت۲۰۰۱ء)
ہرپاک ،قابل انتفاع، مملوک چیز کی بیع درست ہے۔
لیکن اگر اس اصول کواپنایاجائے تو شریعت کے مقاصد اصلیہ میں سے ایک اہم مقصد ’’حفاظت نسل‘‘کی تفویت لازم آتی ہے؛ حالاں کہ اِسی مقصد کی حفاظت کے لئے شریعت نے ’’الولدللفراش، وللعاہرالحجر‘‘(بخاری، باب الحلال بین والحرام بین وبینہمامشتبہات، حدیث نمبر:۲۰۵۳)کا حکم سنایاہے، نیزیہ مقصد ’’ضروریات خمسہ‘‘میں سے ہے، جس کی رعایت بہرکیف ترجیحی طورپر کی جائے گی، علامہ شاطبیؒ لکھتے ہیں:
فأماالضروریۃ: فمعناہا أنہ لا بد منہا فی قیام مصالح الدین والدنیابحیث إذفقدت لم تجرمصالح الدنیاعلی استقامۃ؛ بل علی فساد وتہارج، وفوت حیاۃ۔ (الموافقات، فی بیان قصد الشارع فی وضع الشریعۃ: ۲ / ۱۸-۱۷)
جہاں تک ضروریات کا تعلق ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ دین ودنیاکی مصلحتوں کے قیام کے لئے اس طرح ضروری ہیں کہاگراُن میں کوئی ایک بھی فوت ہوگیا تودنیاوی مصلحتیں درستگی پرقائم نہیں رہ سکتیں؛ بل کہ فسادوبگاڑپیدااورزندگی ختم ہوکررہ جائے گی۔
علامہ شاطبیؒ کے اس قول کی تصدیق اس زمانہ کی ایڈزجیسی بیماری سے ہوتی ہے،لہٰذا اس جیسی بیماری، اختلاط نسب اوربے ستری وغیرہ سے بچاؤکوپیش نظررکھتے ہوئے مادۂ منویہ کی خرید وفروخت کی ممانعت ہونی چاہئے، نیزیہ زناسے مشابہ بھی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا صریح ارشادہے:
لاتقربواالزنا إنہ کان فاحشۃ ومقتا، وساء سبیلا۔(الإسراء: ۳۲)
زناکے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بہت ہی بری چیزہے، اوربہت ہی براراستہ ہے۔
پھر اس میں ’’استمناء بالید‘‘(ہاتھ سے منی کااخراج) بھی لازم آتاہے، جودرست نہیں ہے،اللہ تعالیٰ مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتاہے:
وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ٭إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْْرُ مَلُومِیْنَ٭فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُونَ۔(المومنون: ۵-۷)
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ٭ مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو اُن کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں٭ اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔
اس آیت میں(فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء ذَلِک فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُونَ) کی تشریح کرتے ہوئے حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
فلایحل العمل بالذکر؛إلافی زوجۃ أو فی ملک الیمین، ولایحل الاستمناء۔واللہ أعلم۔ (أحکام القرآن للشافعی، ص: ۲۱۰)
ذکر(آلۂ تناسل)کاعمل صرف بیوی اورباندی میں درست ہے اوراستمناء(ہاتھ سے منی نکالنا) جائزنہیں ہے۔
اسی طرح محمدامین شنقیطی لکھتے ہیں:
تدل بعمومہا علی منع الاستمناء بالید المعروف بجلدعمیرۃ، ویقال لہ: الخضخضۃ؛ لأن من تلذذبیدہ؛ حتی أنزل منیہ بذلک، قد ابتغی وراء ماأحلہ اللہ، فہو من العادین بنص ہذہ الآیۃ الکریمۃ المذکورۃ ہنا۔ (أضواء البیان فی إیضاح القرآن بالقرآن:۵؍۵۲۳)
آیت کاعموم ہاتھ سے مشت زنی کی ممانعت پردلالت کرتاہے، جوجلدعمیرہ کے نام سے معروف ہے اورجسے خضخضہ کہاجاتاہے؛ کیوں کہ جوشخص ہاتھ سے لذت کوشی کرتاہے؛ یہاں تک کہ اس طریقہ سے اس کی منی نکل آئے تووہ اس چیزکے علاوہ کوچاہنے والاہوتاہے، جواللہ نے اس کے لئے حلال کیاہے، بس یہاں پرمذکورمنصوص آیت کریمہ کی روسے حدسے تجاوز کرنے والاہے۔
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
الاستمناء بالید إن کان لمجرد استدعاء الشہوۃ فہوحرام فی الجملۃ۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، لفظ: استمناء: ۴؍۹۸)
ہاتھ سے مشت زنی، اگریہ صرف خواہش کوختم کرنے کے لئے ہے توفی الجملہ حرام ہے۔
اورجب عام حالت میں مشت زنی حرام ہے توپھرخریدوفروخت کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟اِس لئے نہ تومادۂ منویہ کی خرید وفرخت درست ہے اورناہی بینک کوعطیہ دینادرست ہے؛ البتہ چیک اپ وغیرہ کے لئے لیپ میں دینے کی گنجائش ہے- واللہ اعلم بالصواب وعلمہ أتم وأحکم!
منصف جمعہ سپلیمنٹ ۱؍۱؍۲۰۲۱

بہت عمدہ کیا اس سلسلے میں قرآن یا حدیث کی کوئی نص کی طرف بھی رہنمائی فرمائیں گے۔
ReplyDeleteسورۃ الأسراء کی آیت بالا میں میں زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے تو کیا یہ عمل زنا میں داخل ہے۔
بینوا توجروا
قرآن میں ہے:
ReplyDeleteٰوالذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون
اس کی تشریح میں امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:
فلا يحل العمل بالذكر إلا في زوجة أو في ملك اليمين ولا يحل الاستمناء
اسی طرح محمد امین شنقیطی فرماتے ہیں:
تدل بعمومها على منع الاستمناء باليد المعروف ، بجلد عميرة ، ويقال له الخضخضة ، لأن من تلذذ بيده حتى أنزل منيه بذلك ، قد ابتغى وراء ما أحله الله ، فهو من العادين بنص هذه الآية الكريمة المذكورة هنا (آضواء البیان)