بخشش
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
بیٹی کی شادی کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی تھی، لال دین کی پیشانی کی سلوٹیں گہری ہوتی جارہی تھیں، وہ روزانہ صبح دم چائے کے بغیرہی گھر سے نکل جاتا اورشام کوسکے گن گن کرالگ پوٹلی بناکررکھ دیتا۔
ایک دن ایک گاؤں میں پہنچا، ایک جگہ بھیڑدیکھ اُدھربڑھ گیا، راستہ بناتے ہوئے قریب پہنچا توکیا دیکھتاہے کہ ایک شخص ہاتھ جوڑے اپنے سامنے کھڑے شخص سے کہہ رہاہے:
’’باباجی ! کچھ دن اورمہلت دیجئے، سارے پیسے چکتا کردوں گا‘‘۔
’’نہیں! میں اورمہلت نہیں دے سکتا، توہمیشہ یہی کہتاہے‘‘، ایک گرج دارآواز نے لال دین کواپنی طرف متوجہ کیا، وہ بھونجکا رہ گیا، یہ توہی بابا ہے، جوپچھلے ہفتہ ہی اس کی بستی میں لوگوں کی نمازیں بخش رہاتھا۔

No comments:
Post a Comment