Tuesday, 8 December 2020
رشیداخترندوی اور ان کی ناول نگاری
رشیداخترندوی کی پیدائش۱۳/جنوری ۱۹۱۸ء کودہلی میں ہوئی،ابتدائی تعلیم دہلی میں ہی ہوئی، پھردارالعلوم ندوۃ العلماء کارخ کیااوروہاں سے سندفضیلت حاصل کی، ندوہ سے فراغت کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیااوروہاں سے بی اے کیا،وہ خود لکھتے ہیں:’’اسے ایک پاکستانی مصنف کاخط ہندوستانی بھائیوں کے نام تصورکرلیجئے یاایک اس شخص کاایک طویل سلام بنام وطن سابق قراردیجئے، جس کاخمیرہندوستان کی پاکیزگی سے اٹھا، جودہلی میں پیداہوا، جس نے دہلی ولکھنؤ میں تعلیم پائی اورجوبمبئی(ممبئی)کے ماحول میں زندگی کی سچی مسرتوں اورکامرانیوں سے آشناہوا‘‘(تشنگی، دیباچہ، ص: ۷)، دہلی، لاہور اورپشاور کے متعددروزناموں کے نیوز ایڈیٹر اورچیف ایڈیٹررہے، ۱۹۷۳ء میں ادارۂ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، ۲۱/جولائی ۱۹۹۲ء میں مری(پاکستان) میں وفات پائی اورمرکزی قبرستان اسلام آبادمیں تدفین عمل میں آئی(وفیات اہل قلم، از: ڈاکٹرمحمدمنیراحمدسلیج، ناشر: اکادمی ادبیات پاکستان۲۰۰۸، ویکی پیڈیا: رشیداخترندوی)۔
رشید اخترندوی کاپہلاناول’’سازشکستہ ‘‘ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے شروع ہونے والی کہانی ہے، جہاں سلیم اورنواب زادہ محمودکی ملاقات ہوتی ہے، جیل انگریزوں سے بغاوت کے جرم کی سزاکے طورہوئی ہے،دونوں میں گرچہ دولت وثروت کے لحاظ سے فرق مراتب ہے؛ لیکن جیل کی فضاء میں چوں کہ اس کالحاظ نہیں، جس کی وجہ سے دونوں میں خوب دوستی ہوجاتی ہے، جووہاں سے باہرآنے کے بعدبھی برقراررہتی ہے؛ بل کہ یہ دوستی گھریلو تعلقات میں بدل جاتی ہے؛ لیکن پھر دولت اپنی اوقات بتاہی دیتی ہے، ساحرنے ٹھیک ہی کہاہے: ’’ایک شہنشاہ نے دولت کاسہارا لے کر، ہم غریبوں کی محبت کااڑایاہے مذاق‘‘،یہاں بھی سلیم کی غربت کامذاق اڑایاجاتاہے اوران تمام احسانات کوبھلادیاجاتاہے، جوسلیم نے نواب زادہ محمودصاحب پرکی تھیں اورجن کی بدولت نواب صاحب معاشرہ اوراپنے ہم پلہ لوگوں میں باوقار اورایک مصنف کی حیثیت سے معروف تھے، پھریہ مذاق بھی اس اخلاص اوراحسان کے بدلہ میں تھا، جوسلیم نواب صاحب کی چھوٹی بہن سلمیٰ پرکرناچاہتے تھے، ’’ساز شکستہ‘‘ کاآخری حصہ پڑھئے اوران تمام چیزوں کو درداورکسک کے ساتھ چشم تصورسے محسوس کیجئے، جوسلیم نے محسوس کیاتھا:
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment