Tuesday, 8 December 2020

رشیداخترندوی اور ان کی ناول نگاری


 رشیداخترندوی اور ان کی ناول نگاری


محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


ندوۃ العلماء کسی ادارہ کانام نہیں؛ بل کہ یہ ایک ہمہ گیرعلمی، ادبی، دینی، اصلاحی اورتعلیمی تحریک کانام ہے، جس کاقیام 1894ء میں لکھنؤمیں ہوا، بانی ندوہ مولانامحمدعلی مونگیریؒ کے نظام تعلیم اورتدریسی خاکہ میں یہ بات درج تھی کہ اس کے دارالعلوم میں جن علوم وفنون پرخاص توجہ دی جائے گی، ان میں تاریخ وادب بھی ہے؛ چنانچہ جب ہم وہاں کے فارغین کی فہرست پرنظرڈالتے ہیں توعلوم شرعیہ پردسترس کے ساتھ ساتھ احسان وسلوک، تاریخ وفلسفہ اور ادب وصحافت پربھی دستگاہ رکھنے والوں کے نام پاتے ہیں، علامہ سیدسلیمان ندوی، عبدالرحمن کاشغری ندوی، عبدالسلام قدوائی ندوی، شاہ معین الدین ندوی،مولاناعبدالباری ندوی، ابوالجلال ندوی، ریاست علی ندوی،سید ابوظفرندوی، مسعودعالم ندوی،رئیس احمدجعفری ندوی، محمدناظم ندوی، ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹرعبداللہ عباس ندوی، پروفیسرمحمداجتباء ندوی، ڈاکٹرعبدالحلیم ندوی، مولانارابع حسنی ندوی، مولاناواضح رشید ندوی، ڈاکٹرسعیدالرحمن اعظمی ندوی، پروفیسریٰسین مظہرصدیقی ندوی، سیدرضوان علی ندوی، سیدضیاء الحسن ندوی، پروفیسرمحسن عثمانی ندوی اورمولانانذرالحفیظ ندوی وغیرہم ادباء، مؤرخین اور صحافیوں کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں، اسی طویل فہرست کاایک نمایاں نام’’رشید اخترندوی‘‘ بھی ہے۔

رشیداخترندوی کی پیدائش۱۳/جنوری ۱۹۱۸ء کودہلی میں ہوئی،ابتدائی تعلیم دہلی میں ہی ہوئی، پھردارالعلوم ندوۃ العلماء کارخ کیااوروہاں سے سندفضیلت حاصل کی، ندوہ سے فراغت کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیااوروہاں سے بی اے کیا،وہ خود لکھتے ہیں:’’اسے ایک پاکستانی مصنف کاخط ہندوستانی بھائیوں کے نام تصورکرلیجئے یاایک اس شخص کاایک طویل سلام بنام وطن سابق قراردیجئے، جس کاخمیرہندوستان کی پاکیزگی سے اٹھا، جودہلی میں پیداہوا، جس نے دہلی ولکھنؤ میں تعلیم پائی اورجوبمبئی(ممبئی)کے ماحول میں زندگی کی سچی مسرتوں اورکامرانیوں سے آشناہوا‘‘(تشنگی، دیباچہ، ص: ۷)، دہلی، لاہور اورپشاور کے متعددروزناموں کے نیوز ایڈیٹر اورچیف ایڈیٹررہے، ۱۹۷۳ء میں ادارۂ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، ۲۱/جولائی ۱۹۹۲ء میں مری(پاکستان) میں وفات پائی اورمرکزی قبرستان اسلام آبادمیں تدفین عمل میں آئی(وفیات اہل قلم، از: ڈاکٹرمحمدمنیراحمدسلیج، ناشر: اکادمی ادبیات پاکستان۲۰۰۸، ویکی پیڈیا: رشیداخترندوی)۔ 
رشیداخترندوی عجیب وغریب شخصیت کے مالک تھے، مولوی ضرورتھے؛ لیکن نرے مولوی نہیں تھے، وہ ندوی ضرورتھے؛ لیکن ندوی سے بڑھ کربھی تھے،ہمارے برصغیرکے مولویانہ معاشرہ میں دومیدان کافی مبغوض رہے ہیں، ایک سیاست کا میدان اوردوسراپردۂ سیمیں کامیدان، رشیداخترندوی کشت زارپردۂ سیمیں کی کیچڑ سے بھی لت پت ہوئے ہیں، جس کاذکرکرتے ہوئے وہ خودلکھتے ہیں:’’فلمی دنیابھی ایک عجیب دنیاہے اورمیں نے ڈیڑھ سال یہاں رہ کربہت کچھ سیکھا اوربہت کچھ پایاہے، یہاں کی ہرچیزہماری دنیاسے مختلف ہے، کردار، اخلاق، سمجھ بوجھ اوریہپاں تک کہ چہرے مہرے اورکبھی کبھی تومجھے بعض آدمیوں کودیکھ کر ایسا محسوس ہوا ، جیسے یہ آدمی کسی اورآدم کی اولادہیں، یہاں کاہرآدمی ایک بڑا فرعون ہے، مطلق العنان اور خودمختارفرعون، میراجی توبہت چاہاکہ ان فرعونوں کے قلمی چہرے تیارکروں؛ مگردماغ نے دل کی یہ بات ردکردی اوربہت سی باتوں سے ڈرادیا(نسرین، یک حرف، ص: 5-6)۔

  وہ بیک وقت کئی میدانوں کے شہسوارتھے، وہ ایک کامیاب مؤرخ بھی تھے، ایک اچھے صحافی بھی تھے، عمدہ مترجم بھی تھے اورایک مایہ ناز ادیب بھی ، ترجمہ نگاری کے شاہکارکے طورپرہم ’’تزک بابری‘‘ اور’’ہمایوں نامہ‘‘ کوپیش کرسکتے ہیں، ان دونوں کوانھوں نے فارسی سے اردوزبان میں منتقل کیاہے۔

تاریخ نگاری میں سوانحی تاریخ رشیداخترندوی کی حددرجہ پسندیدہ قسم تھی، جس کی ابتداء سیرت سے ہوتی ہے،’’ محمدرسول اللہ‘‘ سیرت پران کی ایک منفرد کاوش کہی جاسکتی ہے؛ لیکن اس کے بعض مندرجات پراعتراض ہونے؛ بل کہ اس کی وجہ سے ’’گستاخ رسول‘‘کے لقب سے ملقب کرکے مقدمہ درج کئے جانے کی وجہ سے اس میں حک واضافہ کرکے ’’محمد سروردوعالمﷺ‘‘ کے نام سے اسے دوبارہ شائع کیاگیا، خلافت راشدہ، عمربن عبدالعزیز، محمدبن ابی عامر،صلاح الدین ایوبی، حیدرعلی،اورنگ زیب، مسلمان حکمراں، مرد کوہستان اورذوالفقارعلی بھٹو: سیاسی سوانح حیات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، اس کے علاوہ مسلمان اندلس میں، تاریخ مغربی پاکستان اورارض پاکستان بھی ان کے تاریخی قلمی کارناموں میں ہیں۔

تاریخ کے ساتھ ساتھ چمنستانِ ادب کو بھی انھوں نے وردویاسمین اورسوسن ونسرین سے مالامال کرنے کی بھرپورکوشش کی ہے اورانھوں نے تقریباً دودرجن کے قریب تاریخی، معاشرتی، نفسیاتی اوررومانی ناول لکھے، وہ جس طرح یہ ایک کامیاب تاریخ نویس تھے، اسی طرح ایک کامیاب ناول نگاربھی اورجس طرح ان کی تاریخ نویسی نے لوگوں کواپنی طرف متوجہ کیا، اسی طرح ان کے ناولوں نے بھی لوگوں کواپنی طرف کھینچا،اوراس زورسے کھینچاکہ ایک ایک ناول کو ایک سال کے عرصہ میں متعددبارپریس کی زیارت سے شرف یاب ہوناپڑا،رشید اخترندوی کے قلم کی طاقت نے نہ صرف یہ کہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دل موہ ليا؛ بل کہ اہل قلم نے بھی خوب سراہا۔

ان کے ناولوں کی مقبولیت کااندازہ اس سے ہوسکتاہے ، جوان کے ناشرنے ’’عرض ناشر‘‘ کے طورپر دوسرے اورتیسرے ناول پر تبصرہ کیاہے، ظہیرصاحب ان کے دوسرے ناول’’سوزدروں‘‘ پرلکھتے ہیں:’’مولانارشیداخترندوی کاپہلاناول’’سازشکستہ‘‘ توقع سے زیادہ مقبول ہوا، جمہورنے تواسے پسندہی کیا؛ لیکن ملک کے مستنداہل قلم نے بھی سازشکستہ کوسراہا اوراسی کومصنف کاایک ادبی شاہ کاربتایا،’’سوزدروں‘‘ مصنف کادوسراناول ہے، جوپہلے ناول کی اشاعت کے بہت تھوڑے دن بعدچھپااورملک میں اس قدر پسند کیاگیاکہ اس کی مثال نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ موصوف کایہ ناول کاغذکی اس گرانی اورقحط کے دورمیں دوبارہ شائع کیاجارہاہے‘‘(سوزدروں،عرض ناشر، ص:4)۔

’’سودائی‘‘کے ’’عرض ناشر‘‘میں لکھاہے کہ:’’یہ رشیداخترندوی کاتیسراناول ہے، رشیداخترکے ناول ’’سازشکستہ‘‘ کاموضوع اتنااچھوتا اور طرز بیان اس قدردلچسپ تھاکہ اردوادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو مصنف سے غیرمعمولی دلچسپی ہوگئی، مصنف کے دوسرے ناول’’سوزدروں‘‘سے یہ دلچسپی اور بھی بڑھ گئی اورہم سے تقاضے پرتقاضے ہونے لگے کہ مصنف کاکوئی اورناول جلد سے جلد چھاپیں، مصنف نے یہ ناول سودائی لکھا اوراس کی مقبولیت کایہ عالم ہواکہ ایک سال کے اندراندرہمیں اسے دوبارہ چھاپنا پڑا اوراب یہ پانچویں بارچھپ رہا(یہ 1949ء کی بات ہے)، مصنف کے پہلے دونوں ناول چوتھی چوتھی بارچھپے ہیں اور اردو کہانی کی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہے کہ کسی ناول نویس کواتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہو‘‘(سودائی، عرض ناشر، ظہیر، ص: 4)۔

ناشرکی اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ناول نگاراپنی ناول نگاری کے فن میں کمال درجہ کوپہنچے ہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے جب اپنا پہلا ناول ’’سازشکستہ‘‘ اردوکے نامورشاعر، صحافی اورافسانہ نگارعبدالمجیدسالک کے پاس مقدمہ کے لئے بھیجاتوانھوں نے اس طرح اظہارخیال کیا: ’’مولانارشید اخترندوی نے جب اپنے اس افسانے کامسودہ مجھے مقدمہ کی تحریرکے لئے دیاتومیں نے اپنے دل میں یہ نیت کرلی کہ اگرافسانہ معیاری اعتبار سے پست ہو اتواس عزواحترام کے باوجود، جومولاناکے فضل وکمال کے متعلق میرے دل میں جاگزیں ہے، میں مقدمہ لکھنے سے صاف انکار کردوں گا؛ لیکن افسانے کو سرسری نظرسے دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ مصنف صرف ندوۃ العلماء کامولوی ہی نہیں؛ بل کہ اس سے کچھ زیادہ ہے اوراس تحریر میں کامیاب فسانہ نگاری کے تمام عناصرموجودہیں اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگرچہ اس افسانے کاپس منظررومانوی ناولوں کی طرح ایک نواب کا خاندان اور کشمیر کے مناظر ہیں؛ لیکن نقطۂ نگاہ کافی ترقی پسندہے اورمولاناکے نزدیک افسانہ خالص تفریحی صنف ادب نہیں؛ بل کہ سماج کی بعض دکھتی ہوئی رگوں کوچھیڑنابھی اس کے مقاصدمیں شامل ہے‘‘(سازشکتہ، ص:6)۔ 

مولاناکے ناولوں کی مقبولیت عوام خواص میں اتنی کیوں تھی؟ اس کوواضح کرتے ہوئے ظہیرصاحب لکھتے ہیں:’’مولانارشیداخترندوی کے برسوں کے صحافتی اورتصنیفی تجربے نے آپ کی نگاہ کودوربین بنا دیا ہے، ان کاادبی مطالعہ بہت وسیع ہے اورزندگی کامطالعہ اس سے بھی زیادہ وسیع، انسانی نفسیات، گناہ وثواب کی کشمکش، ہوس ومحبت کی دبی ہوئی خواہشیں، سچے عشق کی پاکبازیاں اورغلط راہ پرپڑکراس کی بے عنوانیاں ان مسائل کوبیان کرنے میں مولانا کو بڑا عبورحاصل ہے، مولانابہت صا ف زبان لکھتے ہیں، ان کے ناول کے کرداروں کے مقالات زندہ اشخاص کی باتیں معلوم ہوتی ہیں، جووہ ہمارے سامنے کرتے نظرآتے ہیں‘‘ (سوزدروں، عرض ناشر، ص:4)۔

رشید اخترندوی کی ناول نگاری اجزائے ترکیبی کے اعتبارسے پورے اترتے ہیں، ایسانہیں ہے کہ ان کے مولوی اورمؤرخ ہونے کی وجہ سے ناول اپنی سطح سے کچھ نیچے گرگئے ہوں، ان کے ناولوں میں جوبھی قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظرکشی اورنقطۂ نظرہیں، سب اپنی جگہ پرفٹ ہیں، عبدالمجیدسالک اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’افسانے کے سب سے زیادہ اہم اجزاء اس کے کردارہیں اورجب سے ادب کی یہ صنف پیداہوئی ہے، اس وقت سے آج تک اس کی تنقید کا ایک نمایاں معیار یہ رہاہے کہ مصنف نے جن کرداروں کاتعارف کرایاہے، وہ کیسے ہیں؟ آیاحقیقی زندگی میں ایسے کردار پائے جاتے ہیں؟ آیامصنف کے ذہن میں ان کرداروں کی خصوصیات منظم ومنضبط طریق پرموجودہیں؟ اورآیا افسانے میں اس نے ان سب کوپوری طرح نباہ دیاہے یانہیں؟ اس افسانے کے پڑھنے والوں کومعلوم ہوگاکہ نواب ہو، یانجمیٰ، سلمیٰ ہویاللی، سب کے سب کردارجیتے جاگتے انسانوں کے ہیں اورجن طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی خصوصیات کی نمائندگی بوجہ اتم کرتے ہیں‘‘(سازشکستہ، ص:۷)۔

رشید اخترندوی کاپہلاناول’’سازشکستہ ‘‘ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے شروع ہونے والی کہانی ہے، جہاں سلیم اورنواب زادہ محمودکی ملاقات ہوتی ہے، جیل انگریزوں سے بغاوت کے جرم کی سزاکے طورہوئی ہے،دونوں میں گرچہ دولت وثروت کے لحاظ سے فرق مراتب ہے؛ لیکن جیل کی فضاء میں چوں کہ اس کالحاظ نہیں، جس کی وجہ سے دونوں میں خوب دوستی ہوجاتی ہے، جووہاں سے باہرآنے کے بعدبھی برقراررہتی ہے؛ بل کہ یہ دوستی گھریلو تعلقات میں بدل جاتی ہے؛ لیکن پھر دولت اپنی اوقات بتاہی دیتی ہے، ساحرنے ٹھیک ہی کہاہے: ’’ایک شہنشاہ نے دولت کاسہارا لے کر، ہم غریبوں کی محبت کااڑایاہے مذاق‘‘،یہاں بھی سلیم کی غربت کامذاق اڑایاجاتاہے اوران تمام احسانات کوبھلادیاجاتاہے، جوسلیم نے نواب زادہ محمودصاحب پرکی تھیں اورجن کی بدولت نواب صاحب معاشرہ اوراپنے ہم پلہ لوگوں میں باوقار اورایک مصنف کی حیثیت سے معروف تھے، پھریہ مذاق بھی اس اخلاص اوراحسان کے بدلہ میں تھا، جوسلیم نواب صاحب کی چھوٹی بہن سلمیٰ پرکرناچاہتے تھے، ’’ساز شکستہ‘‘ کاآخری حصہ پڑھئے اوران تمام چیزوں کو درداورکسک کے ساتھ چشم تصورسے محسوس کیجئے، جوسلیم نے محسوس کیاتھا:
’’مجھے صحیح نہیں معلوم کہ نوجوان کتنی دیربعدواپس لوٹے؛ لیکن یہ یادہے کہ جب وہ نکلے توان کے پیچھے نواب زادہ اکرام بھاگ رہے تھے، اکرام کے ہاتھ میں پستول تھااوروہ اسے نوجوان پرداغناچاہتاتھا؛ لیکن مجھے عین سامنے پاکروہ اپنے ارادہ میں ناکام رہااورنوجوان صاحب بھاگ نکلے، یہ داستان عام ہوگئی اورنواب صاحب کے کانوں تک بھی جاپہنچی، وہ بڑے پریشان ہوئے، انتہائی پریشان، ان کی پریشانی میں نجمیٰ کے شوہرنے سلیمان مرزاکاقصہ کہہ کر اوراضافہ کردیا، انھوں نے سلمیٰ پرشایدعمرمیں پہلی بارہاتھ اٹھایا اوراتناماراکہ سلمیٰ بے ہوش ہوگئی، دوسرے دن یہ ساری داستان سلمیٰ نے مجھ سے کہی، وہ زاروقطاررورہی تھی، اس کی خوبصورت آنکھیں روتے روتے سرخ ہوچکی تھیں، وہ کہہ رہی تھی اب میں بدنام ہوگئی، میری زندگی تباہ کردی گئی، مجھ سے اب کون بیاہ کرے گا؟ میں نے دیکھاسلمیٰ زندگی کی خوشی بیاہ میں سمجھتی ہے، سماج کے ظاہری بندھن میں بندرہ کروہ مطمئن ہوجائے گی تومیرے دل میں ایک لہر پیدا ہوئی، عمرمیں پہلی باراورغیرمحسوس طورپرزبان پریہ الفاظ آگئے:
’’سلمیٰ! تم سے میں شادی کروں گا؛ لیکن اس وقت، جب کوئی اورشادی نہ کرے‘‘۔
سلمیٰ کے آنسورک گئے اوربولی:
’’آپ سچ کہتے ہیں؟‘‘۔
میں نے کہا:
’’سچ، بالکل سچ‘‘۔
’’تونواب صاحب سے پھرکہئے گا؟‘‘۔
سلمیٰ یہ کہہ کرخوش خوش چلی گئی، میں نے سلمیٰ سے یہ بات کہہ تودی؛ لیکن بعدمیں سوچاکہ نواب صاحب کے حضورمیں ایک سائل کی حیثیت سے میں کیسے جاسکوں گا؟ اورآخرمجھے جاناہی پڑا، اظہار مدعا پرنواب صاحب نے پیشانی پربل ڈال کرمیری طرف دیکھا، میں سمجھاوہ مجھے نگل جاناچاہتے ہیں اور سچ مچ ان کی خواہش یہی تھی، اس کاانھوں نے اظہاربھی کردیا، بولے:
’’تم نے آج میرے سینے میں چھری چبھودی، تم نے نہیں سوچامیرااورتمہارامعیارزندگی کتنامختلف ہے، سلمیٰ میری بہن ہے، ایک بڑے نواب کی بہن، اس کے لئے موٹرچاہئے اوراعلیٰ درجہ کامکان بھی، اس کے لئے اچھے سے اچھے لباس اورکھانے کی ضرورت ہے اورتم ایک معمولی اخبارنویس ہو، محض دال روٹی پر گزر کرنے والے‘‘۔
دفعۃً ان کی آواز تیز ہوگئی اورفرمانے لگے:
’’اب تم نے یہ بات کہہ دی، مجھے تم بہت عزیزہو؛ لیکن اس کی کیاضمانت کہ میری بہن کی زندگی تمہارے ساتھ اچھی کٹے گی، نہ رہنے کومکان، نہ موٹر اورنہ کوئی اورجائداد، آخرآپ کس برتے میری بہن سے شادی کرناچاہتے ہیں؟ آپ کویہ کہتے شرم نہ آئی‘‘۔
اس کے بعدحضورنواب صاحب بہت کچھ بکتے رہے، ایسی ایسی باتیں ان کی زبان سے نکلیں، جنھیں میری غیرت کبھی سن نہ پائی تھی؛ مگرمیں سنتارہا اورجب وہ انتہائی رذالت پراترآئے تومیں نہ رہ سکااورکہہ اٹھا:
’’نواب صاحب! یہ میری نہیں، سلمیٰ کی خواہش ہے اوراس لئے ہے کہ اسے ڈرہے کہ شاید دنیا میں کوئی سوداگراس داغ دار موتی کوخریدنانہ چاہے‘‘۔
نواب صاحب کاغصہ کچھ دھیماہوا؛ مگرصرف تھوڑی دیرکے لئے ، وہ ایک معلم اخلاق کی حیثیت سے بولے:
’’تم اس کمزوری سے ناجائزفائدہ اٹھاناچاہتے ہو، یہ تم لوگوں کی فطرت ہے، رذیل اورکمینی فطرت؛ مگر تمہیں نہیں معلوم دولت ہرعیب کودھوسکتی ہے اورسلمیٰ کایہ عیب بھی دولت دھودے گی‘‘۔
میں نے نواب صاحب کے چہرے کی طرف دیکھا اورمجھے ایسے آثارنظرآئے کہ مجھے یقین ہوگیاکہ دولت سچ مچ ہرعیب دھودیتی ہے، یہ غربت ہی ہے، جس میں نیکی بھی عیب دکھائی دیتی ہے اورجب غربت داغ دارہوجاتی ہے تواسے کوئی نہیں دھوسکتا، میں نے سلمیٰ سے ہمدردی کرنی چاہی تھی، اس کی زندگی کوخوش رکھنا چاہاتھا اوراخلاص اورسچی محبت کے سرمایہ پربھروسہ کیاتھا، یہ میری بھول تھی، بہت بڑی بھول، دنیا اخلاص کو نہیں دیکھتی ، اس کی نگاہ ظاہرپر پڑتی ہے اوریہ اس کی پرانی ریت ہے ، ناقابل تبدیل ریت‘‘ (سازشکستہ، ص: 157-160)۔ 

ناول کے اس آخری حصہ سے آپ کو قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظرکشی اورنقطۂ نظرساری چیزیں معلوم ہوگئی ہوں گی اورآپ نے  رشید اخترندوی کے اس پہلے ناول سے یہ نتیجہ اخذکیاہوگاکہ ان کے قلم میں بہترین ناول نگاری کاجوہرموجودہے، ساتھ میں یہ بھی دیکھاہوگاکہ سلاست وروانی کے ساتھ ساتھ ان کی زبان نہایت سہل اورآسان ہے، نہ تعقید لفظی ہے اورناہی تعقید معنوی، نیزرنج وغم اورحزن والم کاتلاطم خیز، بے کراں اوراتھاہ  سمندربھی پائے گا، جوان کے ناولوں کی عمومی خصوصیات میں سے ہے۔

بعض حضرات نے رشیداخترندوی پریہ الزام عائد کیاہے کہ ان کے ناول مقصدیت سے خالی ہوتے ہیں؛ لیکن یہ بات عقل وقیاس سے بعید بات ہے؛ کیوں کہ ایک مصنف جب کچھ لکھتاہے تواس کے پیچھے کچھ نہ کچھ مقصد ہوتا ہے، اگرکسی تحریرکے پیچھے مقصدنہ ہوتووہ تحریرمقبول بھی نہیں ہوگی، جب کہ پیچھے یہ بات بتائی جاچکی ہے کہ رشیداخترکے ناول مقبول ہوئے ہیں؛ بل کہ ایک ایک ناول کوچند ہی سالوں کے اندرپانچ پانچ مرتبہ بھی چھاپنے کی نوبت آئی ہے۔

رشیداخترندوی کاایک ناول’’نسرین‘‘ کے نام سے ہے، یہ ایک معاشرتی ناول ہے، وہ خوداس ناول کی تحریرکامقصدواضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ہوسکتاہے میرے اس ناول سے ان نوجوان لڑکیوں کوکچھ روشنی ملے، جوفلمی دنیامیں آنے کے لئے تڑپ رہی ہیں اورخداکرے اس لائن میں وہ اس طرح نہ آئیں، جیسے کہ یہاں اکثر لڑکیاں لائی جاتی ہیں  -----  اوریہ سب کچھ کیوں ہوتاہے اورمیں نے اس موضوع کوکیوں ناول کی صورت دی ہے؟ محض اس لئے کہ ہمارے وطن کامعاشرتی نظام انتہائی ناپاک اورمکروہ ہے اورضرورت ہے کہ اس نظام کوبدل دیاجائے اورجب تک یہ نظام نہیں بدلے گا، اس وقت تک ہزارنسرین، ہزاربیگم ساڑی اورہزارثروت جاہیں اس ہندوستان کے ہرگلی اورہرکوچے میں ماری ماری پھرتی نظرآئیں گی اورانھیں ہرگھڑی اورہرآن ہزاردھوکے دئے جاتے رہیں گے‘‘( نسرین، ص: ۷)۔

ان کاایک شاندارناول’’تشنگی‘‘ ہے، تین سوتیرہ(۳۱۳)صفحات پرپھیلاہواہے، اس کے پڑھنے کے بعدان کے بقیہ ناولوں کوپڑھنے کی تشنگی دوچند ہوجاتی ہے، یہ ناول خودبھی تشنگی کوبڑھاتارہتاہے اورجب تک قاری ختم نہیں کرلیتا، اس وقت تک اضطرابی کیفیت سے دوچاررہتاہے، اوربقول نعمان منظور: ’’یہ ناول اردوناول نگاری میں اس مقام پرجلوہ گرہوا، جب کہ اردوناول نگاری گھٹنوں کے بل چل رہی تھی‘‘(https://dunya.com.pk/index.phd/special-feature/2014-05-22/9198) ،اس ناول کے لکھنے کااصل مقصد کیاہے؟ اس پرروشنی ڈالتے ہوئے خودمصنف اس کے دیباچہ میں لکھتاہے:’’یہ ’’تشنگی‘‘، جس کے پہلے حرف سے لے کرآخرحرف تک ہرحرف میرے لئے ننگی، بھوکی روح کاسچا ترجمان ہے، مجھے اپنے سارے ناولوں میں سب سے زیادہ پیاراہے…یہ ناول اس وقت کی تصنیف ہے، جب ہندوستان غلام تھا اورانگریزوں کے جابروظالم پنجہ نے ہندوستانیوں کے گلے گھونٹ رکھے تھے، اس وقت میری روح ایک ایسے سماج اورایک ایسے نظام کے لئے تڑپی، جس میں آدمی نہ ہندوہوتا نہ مسلمان، نہ پارسی ہوتانہ عیسائی، اس ناول کاہیرومحسن، اس ناول کی ہیروئن میری اوراجیت، سب ہی ننگے، بھوکے اورمحتاج تھے، سب کامذہب ننگے آدم کامذہب تھا، سب کے نام گومختلف تھے؛ مگرسب کاعقیدہ ایک تھا، آدمی صر ف آدمی رہے اورآدمی رہ کرہی اپنامنصب پہچانے، اگر’’تشنگی‘‘ کے پڑھنے والے ان ’’آدمیوں‘‘ کی تشنہ روحوں کوسمجھ لیں، جواس ناول کے اندربھاگتے وگرتے اورسوچتے ہیں تو رشید اخترندوی ،اس کاتشنہ روح مصنف بڑاسکون پائے گا‘‘(تشنگی، دیباچہ، ص: ۸)۔ 

رشیداخترندوی کایہ ناول ملک کی آزادی سے پہلے کاہے، جیساکہ انھوں نے خودلکھاہے؛ لیکن اس کوپڑھ کرمحسوس ہوتاہے کہ اس کے کردار آج کے چلتے پھرتے نمونے ہیں-

تاہم یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ ہرمصنف کی طرح ان کے بھی بعض ناولوں کے کردارمیں کچھ جھول بھی ہے اوریہ مصنف کے لئے عیب کی بات نہیں؛ کیوں کہ مصنف انسان ہے اورانسان ہونے کے ناطے ایساہونافطری بات ہے، دنیاکے کسی بھی مصنف کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیاجاسکتاکہ اس کی تمام تصنیفات گرفت اورمواخذہ سے باہرہیں؛ چنانچہ ان کے ایک ناول ’’بادوباراں‘’پرتبصرہ کرتے ہوئے مس حبیب اللہ خاں، لالہ موسیٰ اسٹیشن ایک خط میں ان کولکھتی ہیں:’’بادوباراں‘‘میں جنگلی قوم کی سردارعورت کاکردارکہانی کی پختگی میں کمی پیدا کرتاہے، اگراس کے بدلے میں منورکوکسی اورقسم کی تکلیف پہنچتی تو’’بادوباراں‘‘ ’’سوزدروں‘‘ سے بھی سبقت لے جاتا‘‘(پہلی کرن، ص: 415)۔

خلاصہ یہ کہ مولانارشیداخترندوی ایک اردوکے سچے خادم، ادیب ،مؤرخ، قابل اوراچھے ناول نگارتھے؛ لیکن افسوس کہ ان کی ادبی خدمات کاجس طرح تعارف ہوناچاہئے، اس طرح تعارف نہیں پیش کیاجاسکا، وجہ خواہ کچھ بھی ہو(یوں بھی اپنی بعض تحریروں کی وجہ سے وہ معتوب ہوئے تھے؛ بل کہ ان پر مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا؛ لیکن قبل ازوقت ضمانت مل گئی تھی)، اورنئی نسل توشایدہی ان کی ادبی خدمات سے واقف ہو، ان پرکام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کسی کوپیداکرے، آمین!

جی چاہ رہا ہے کہ یہاں پررشید اخترندوی کے ناولوں کے نام بھی درج کردوں؛ تاکہ پڑھنے والے پڑھیں اورمحظوظ ولطف اندوز ہوں، سیکھنے والے سیکھیں اورادب حاصل کریں اورجائزہ لینے والے جائزہ لیں اور جانچیں پرکھیں اورادبی دنیامیں ان کاجومقام ومرتبہ ہوناچاہئے، ان کووہ دلانے کی کوشش کریں، نام یہ ہیں: سازشکستہ، سوزدروں، سودائی، یروشلم، حیدرعلی، غرناطہ، یہ جہاں اورہے، تشنگی، یلغار، نسرین، نشان راہ، کانٹوں کی سیج، تلخیاں، بادوبارں، نشیمن، گل رخ، ایک پہيلی، پندرہ اگست، مردکوہستان، محمدبن ابی عامر، پہلی کرن، نسیم(ہرجائی)۔


         Md Jamil Akhtar Jaleeli Nadwi
                               Vill + P,O: Pochari, Distt: Dhanbad                      
                                                         (JHARKHAND) - 828306                                                
                                       Mob: +91-8292017888       +91-9576971884                                                      


No comments:

Post a Comment