تقریب بین المذاہب: قبول وناقبول صورتیں
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
آج کل تقریب بین المذاہب کامسئلہ کافی عروج پرہے، اس کے لئے کانفرنسیںبھی منعقدکی جاتی ہیں اورورک شاپ بھی اورخصوصیت کے ساتھ جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں رہتے ہیں، وہاں اس کی کوششیں چل رہی ہیں؛ تاکہ نفرت کے ماحول سے نکل کرکھلی فضا میں سانس لی جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ کیااس کی گنجائش ہے؟ اگرہے توکس دائرہ تک؟
اس کا جواب یہ ہے کہ تقریب بین الادیان کی دوصورتیں ہیں:
(الف) ناقابل قبول : اس سے مراد وہ تقریب ہے، جودین ومذہب کی شناخت کوہی مٹادے اوران عقائدکوقبول کرنے کی دعوت دے، جواسلام کی بنیاد کونیست ونابودکردے، جیسے: اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اوتاروں کی شرکت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق سے عقیدۂ تثلیث وغیرہ کی دعوت تویہ ناقابل قبول ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کاواضح فرمان ہے:إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدِ افْتَرَی إِثْماً عَظِیْماً۔(النساء: ۴۸)’’اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے، معاف کر دے اور جس نے اللہ کاشریک مقرر کیا اُس نے بڑا بہتان باندھا‘‘ ۔
اسی طرح حضرت عیسیٰ کے متعلق ارشادہے: یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ إِلاَّ الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَلاَ تَقُولُواْ ثَلاَثَۃٌ انتَہُواْ خَیْْراً لَّکُمْ إِنَّمَا اللّہُ إِلَـہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ أَن یَکُونَ لَہُ وَلَدٌ لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَات وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَفَی بِاللّہِ وَکِیْلاً۔ (النساء: ۱۷۱)’’اے اہلِ کتاب! اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ اللہ تھے اور نہ اس کے بیٹے بلکہ) اللہ کے رسول اللہ اس کا کلمۂ (بشارت) تھے جو اُس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور (یہ) نہ کہو (کہ اللہ) تین (ہیں اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ ہی اکیلا معبود ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اللہ ہی کارساز کافی ہے‘‘ ۔
(ب) قابل قبول : قابل قبول سے مرادیہ ہے کہ مندرجہ ذیل بنیادوں پرمختلف مذاہب کے درمیان تقریب درست ہے:
۱- مناسب ترین طریقہ سے گفتگو : قرآن مجید نے ہمیں اپنے مخالفین سے مناسب لہجہ میں بات کرنے کاحکم دیاہے؛ چنانچہ ارشادباری ہے:ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔(النحل:۱۲۵)’’(اے پیغمبر!) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے رب کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو، جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا رب اُسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں اُن سے بھی خوب واقف ہے‘‘ ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاہے کہ مخالفین سے گفتگومناسب ترین طریقہ سے ہی کی جائے، اسی طرح اہل کتاب سے متعلق صراحت کرتے ہوئے فرمایاگیاہے:وَلَا تُجَادِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِیْ أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْْکُمْ وَإِلَہُنَا وَإِلَہُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔(العنکبوت: ۴۶)’’اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو اُن میں سے بے انصافی کرے (اُن کیساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں ‘‘۔
۲- مشترکہ امورپرتوجہ : تقریب بین المذاہب میں گفتگوان امورپرہو، جومشترکہ ہوں، مشترکہ مفاد کے لئے ہوں، جیسے: اللہ کے ایک ہونے پرگفتگو؛ کیوں کہ اہل کتاب اوربرادران وطن دونوں کے یہاں یہ مشترک ہے، اوپروالاایک ہے، اختلاف دوسری چیزوں میں ہے، لہٰذا گفتگوکاآغاز یہاں سے ہو، گفتگوملکی مسائل پرکی جائے، عوامی فائدہ کی بات کی جائے، امن وبھائی چارے کی کی جائے، تعلیم پرہو، بے روزگاری پرہو، اخلاقی برائیوں پرہو، فحاشی، جنسی بے راہ روی، اسقاط حمل اور ہم جنس کی شادی کی خرابیوں پرہواورقائدین کی بے توجہی پرہو، یہ اوران جیسے امورپرگفتگوہونی چاہئے کہ یہ ہر ایک کے لئے دلچسپی کی بات بھی ہیں اورمذہب کے تعلق سے کسی پرآنچ بھی نہیں آتی۔
۳- انصاف اورمظلوموں کی حمایت میں باہمی تعاون : دنیابھرکے مظلومین کے تعلق سے بات کی جائے اورظالمین کے خلاف قراردادپاس کی جائے اورخصوصیت کے ساتھ اپنے اپنے ملکوں میں ہورہے ظلم کے خلاف آوازبلندکرنے کی بات ہو، ’’معاہدۂ حلف الفضول‘‘ سے بھی ہمیں یہ سبق ملتاہے۔
۴- تشدداورتعصب کے خلاف گفتگو : موجودہ زمانہ میں تشدداورتعصب کے مزاج نے کافی رواج پایاہے، اس کے اسباب اوراس کی روک تھام پرگفتگوہو، خصوصیت کے ساتھ جولوگ اس مزاج کے حامل ہیں، ان سے قربت پیداکرنے اورراہ راست پرلانے کے تعلق سے بات چیت ہو۔
۵- درگزرکامزاج عام کرنا : موجودہ زمانہ کے لوگوں کامزاج انتقامی ہوچکاہے، جس کے نتیجہ میں قتل تک کی نوبت آجاتی ہے، ایسے میں درگزر اور معاف کرنے کے مزاج کورواج دینے پربات ہونی چاہئے، رحم دلی، ہم دردی، غم خواری اور ایک دوسرے سے تعان کاجذبہ پیداکرنے پرگفتگو ہو۔
یہ اوران جیسے امورپراگرگفتگوہواوران کے تعلق سے تقریب بین الادیان کی بات کی جائے توقابل قبول صورت ہے۔
jamiljh04@gmail.com / 8292017888


No comments:
Post a Comment