آن لائن عقد نکاح ----- ایک جائزہ ( An Overview of Online Marriage )
باسمہ تعالیٰ
آن لائن عقد نکاح ----- ایک جائزہ
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
تمہید
یہ دور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقیوں کادورہے، اس میں ایسی ایسی چیزیں ایجادہوئی ہیں، جنھیں دیکھ کرانسانی عقل حیران رہ جاتی ہے، ان ترقیات کے نتیجہ میں جہاں سہولتیں میسرہوئی ہیں، وہیں ان کے تعلق سے شریعت کادائرہ کاربھی جاننے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے؛کیوں کہ ایجاد شدہ ہرچیز کے بارے میں شریعت اسلامی میں ضروری نہیں کہ دوٹوک وضاحت موجودہو، یہی وجہ ہے کہ کئی مفید چیزوں کے تعلق سے شرعی رہنمائی میں علماء کے اجتہادات مختلف فیہ رہے ہیں، ایساہی کچھ مسئلہ ’’آن لائن عقد نکاح‘‘ کے سلسلہ میں ہے، یہاں اسی کاجائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سلسلہ میں بات کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتاہے کہ نکاح کے ارکان وشرائط اوراس کے انعقادکے لئے استعمال ہونے والے الفاظ یا اس کے قائم مقام چیزوں پربھی روشنی ڈالی جائے؛ تاکہ مسئلہ بے غبارہوجائے۔
نکاح کے ارکان
نکاح کے ارکان کے تعلق سے ائمہ اربعہ کے یہاں اختلاف پایایاجاتاہے؛ چنانچہ احناف کے نزدیک نکاح کے صرف دوارکان ہیں: (۱) ایجاب(ٖProposal) (۲) قبول (Acceptance)، ملک العلماء علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:
وأمارکن النکاح: فہوالإیجاب والقبول، وذلک بألفاظ مخصوصۃ أومایقوم مقام اللفظ۔ (بدائع الصنائع، کتاب النکاح: ۲؍۴۸۵)
’’جہاں تک نکاح کے رکن کاتعلق ہے تووہ ایجاب اورقبول ہے اوریہ مخصوص الفاظ اوران کے قائم مقام کے ذریعہ سے ہوتاہے‘‘-
مالکیہ کے یہاں نکاح کے پانچ ارکان ہیں: (۱) صیغہ (۲) ولی (۳) شوہر (۴) بیوی (۵) مہر، خلیل بن اسحق مالکیؒ فرماتے ہیں:
أرکانہ: الصیغۃ، والولی، والزوج، والزوجۃ، والصداق۔ (التوضیح فی شرح مختصرابن الحاجب، کتاب النکاح: ۳؍۳۲۹)
’’اس کے ارکان صیغہ، ولی، شوہر، بیوی اورمہرہے‘‘-
شوافع کے نزدیک بھی پانچ ارکان ہیں: (۱) صیغہ (۲) شوہر (۳) بیوی (۴) دوگواہ (۵) ولی، خطیب شربینیؒ فرماتے ہیں:
وأرکانہ خمسۃ: صیغۃ، وزوجۃ، وشاہدان، وزوج، وولی۔ (مغنی المحتاج، فصل: فی أرکان النکاح وغیرہا: ۳؍۱۸۸)
’’اس کے ارکان پانچ ہیں: صیغہ، بیوی، دوگواہ، شوہر اورولی‘‘-
حنابلہ کے نزدیک بھی چار ارکان ہیں: (۱) شوہر (۲) بیوی (۳) ایجاب(۴) قبول، موسیٰ حجاوی لکھتے ہیں:
وأرکانہ: الزوجان الخالیان من الموانع، والإیجاب، والقبول۔ (الإقناع فی فقہ الإمام أحمدبن حنبل، کتاب النکاح: ۳؍۱۶۷)
’’اس کے ارکان: موانع سے خالی میاںبیوی اورایجاب وقبول ہیں‘‘۔
ِنکاح کے شرائط
پھرائمہ اربعہ کے یہاں نکاح کے درست ہونے کے لئے کچھ شرطیں ہیں؛ چنانچہ احناف کے نزدیک نکاح کے لئے درج ذیل شرطیں ہیں:
۱- عاقد عاقل ہو۔
۲- محل قابلِ نکاح ہو، یعنی ایسی خاتون ہو، جس کوشریعت نے حلال قراردیاہو۔
۳- عاقدین ایک دوسرے کے کلام کوسن سکیں۔
۴- گواہ موجودہوں(البتہ اکثرعلماء نے اسے شرائط جوازمیں شمارکیاہے)۔
۵- دونوںگواہ دونوں (عاقدین) کے کلام کوایک ساتھ سنیں؛ چنانچہ اگرایک گواہ ایسابہرا ہو، جوسن نہیں سکتاتونکاح درست نہیں ہوگا۔
۶- بالغہ ہونے کی صورت میں لڑکی کی رضامندی ضروری ہے، خواہ لڑکی باکرہ ہویاثیبہ۔
۷- ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہو۔
۸- قبول، ایجاب کے مطابق ہو؛ چنانچہ اگرقبول ایجاب کے برخلاف ہوتونکاح منعقد نہیں ہوگا۔
۹- نکاح کی اضافت کل جسم یاان اعضاء کی طرف ہو، جن سے کل جسم مراد لیاجاتاہے۔
۱۰- میاں بیوی مشخص یعنی معلوم ہوں۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب النکاح، الباب الأول: ۱؍۲۹۵-۲۹۸)-
مالکیہ کے یہاں تین شرطیں ہیں:
۱- ولی؛ چنانچہ ولی کے بغیرکیاہوانکاح درست نہیں۔
۲- مہر؛ البتہ نکاح تفویض کی صورت میں عقد بھی تعیین کرنے کی گنجائش ہے۔
۳- دوعادل گواہ؛ چنانچہ ان کے بغیربھی نکاح درست نہیں۔(التبصرۃ لعلی بن محمداللخمی، کتاب النکاح الأول، فصل فی شروط النکاح:۴؍۱۷۷۹ ، بدایۃ المجتہد، کتاب النکاح، الفصل الثانی فی موجبات صحۃ النکاح: ۲؍۸)-
شوافع کے نزدیک درج ذیل شرطیں ہیں:
۱- عادل وعاقل ولی۔
۲- دوعادل گواہ۔
۳- لڑکی کی رضامندی، یعنی اگرثیبہ ہے تواس کی اجازت اورباکرہ ہے توسکوت وخاموشی۔
۴- لفظ تزویج یانکاح کے ذریعہ سے ایجاب وقبول۔(الإقناع فی الفقہ الشافعی للماوردی، باب شروط النکاح،ص: ۱۳۴، التذکرۃ فی الفقہ الشافعی لابن الملقن، ص:۹۶ )-
حنابلہ کے یہاں پانچ شرطیں ہیں:
۱- ولی۔
۲- دوگواہوں کی موجودگی۔
۳- میاں بیوی کی تعیین۔
۴- میاں بیوی کی رضامندی۔
۵- ایجاب اورقبول۔(الکافی لابن قدامۃ، باب شرائط النکاح: ۴؍۲۲۳ومابعدہا)
الفاظ نکاح
الفاظِ نکاح کے تعلق سے فقہاء کے یہاں اختلاف یہ ہے کہ :
۱- احناف اورمالکیہ کے نزدیک نکاح صریح الفاظ سے بھی منعقدہوتاہے اورکنایہ الفاظ سے بھی، نکاح ، تزویج یا ان دونوں سے مشتق الفاظ صریح میں شمار ہوتے ہیں، جب کہ فوری طورسے ملکیت پردلالت کرنے والے الفاظ ، جیسے: ہبہ، تملیک، صدقہ اورعطیہ وغیرہ کنایہ ہیں۔(الفتاوی الہندیۃ: ۱؍۲۹۹، الہدایۃ مع البنایۃ: ۴؍۴۸۴ومابعدہا، فقہ مالکی: القوانین الفقہیۃ للغرناطی، الباب الثامن: فی أرکان النکاح، ص: ۱۳۱)-
۲- شوافع اورحنابلہ کے یہاں لفظ نکاح ، تزویج یا ان دونوں سے مشتق الفاظ سے ہی نکاح منعقدہوسکتاہے، ان کے علاوہ الفاظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ (منہاج الطالبین،فصل فی أرکان النکاح، ص: ۳۷۴، الإقناع فی حل ألفاظ أبی شجاع: ۲؍۲۴۵، فقہ حنبلی: الکافی، فصل: الشرط الخامس من شروط النکاح:۴؍ ۲۴۷)
الفاظ کے قائم مقام چیزیں
فقہاء کرام رحمہم اللہ نے کچھ چیزوں کوالفاظ کے قائم مقام قراردیاہے، وہ درج ذیل ہیں:
۱- اشارہ: اشارہ کے ذریعہ سے نکاح منعقد ہوگایانہیں؟ اس تعلق سے تھوڑی تفصیل ہے؛ چنانچہ احناف کے یہاں اس سلسلہ میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں: (۱) گونگا (۲) گویا(۳) اورجس کی زبان بندہوجائے، گونگے کے ایسے اشارہ سے نکاح درست ہوگا، جس سے اقرارسمجھاجاسکے؛ چنانچہ امام محمدؒ تحریرفرماتے ہیں:
أخرس یکتب کتابا، أو یؤمی برأسہ إیمائً یعرف ، فإنہ یجوز نکاحہ، وطلاقہ، وعتقہ ،وبیعہ،وشراء ہ، ویقتص منہ ولہ، ولایحد لہ۔ (الجامع الصغیرمع النافع الکبیر، مسائل متفرقۃ لیست لہاأبواب،ص:۵۳۳)
’’گونگاتحریرلکھتاہے یااپنے سرسے ایسااشارہ کرتا، جوسمجھ میں آجائے تواس کانکاح، طلاق، آزادکرنا اوربیع وشراء درست ہوگا، اوراس کے حق یاخلاف میں اس سے قصاص لیاجائے گا؛ البتہ اس پرحدجاری نہیں کی جائے گی‘‘۔
گونگے کے تعلق سے مالکیہ کی بھی یہی رائے؛ چنانچہ مدونہ میں ہے:
قلتُ: أرأیت الأخرس،لہم یجوز طلاقہ، ونکاحہ، وشراء ہ، وبیعہ، وتحدہ إذا قذف، وتحدقاذفہ وتقتص منہ؟ قال: نعم! ہذا جائز فیما سمعت من مالک، وبلغنی عنہ إذاکان ہذایعرف من الأخرس بالإشارۃ وبالکتاب یستیقن ذلک منہ، فإن ذلک لازم للأخرس۔ (المدونۃالکبری ، طلاق السکران والأخرس…: ۲؍۷۸-۷۹)
’’میں نے پوچھا: گونگے کے بارے میں کیارائے ہے؟ کیاان کی طلاق، نکاح، بیع اورشراء درست ہے؟ اوران پرحدقذف جاری ہوگی؟ اورکیاان پرتہمت لگانے والے پرحدہوگی اوران سے قصاص لیاجائے گا؟انھوں نے فرمایا: ہاں!یہ جائزہے، جیساکہ میں نے امام مالک سے سناہے اوران سے مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ یہ اس وقت درست ہے، جب کہ گونگے کااشارہ یااس کی تحریرسمجھ میں آجائے اوریقین ہوکہ اسی کی تحریرہے توگونگے کے لئے یہ چیزیں لازم ہوں گی‘‘-
۔شوافع کے نزدیک بھی گونگے کانکاح سمجھ میں آنے والے اشارہ سے درست ہوتاہے، سلیمان بن محمدبُجیرمی لکھتے ہیں:
ولاینعقد نکاح الأخرس بالإشارۃ إلاإذاکان یفہمہا کل أحد۔ (حاشیۃ البجیرمی، فصل فی أرکان النکاح: ۳؍۱۲۳)
’’اشارہ کے ذریعہ سے گونگے کانکاح اس وقت منعقدہوگا؎ جب کہ اس کے اشارہ کوہرایک سمجھ لے‘‘-
حنابلہ کے نزدیک گونگے کانکاح تحریریااشارہ سے منعقدہوجائے گا، مجدالدین ابوالبرکات کہتے ہیں:
وینعقد نکاح الأخرس بکتابتہ أوبإشارتہ، نص علیہ۔ (المحررلمجدالدین أبی البرکات: ۲؍۱۵)
’’گونگے کانکاح تحریریااشارہ سے منعقدہوجائے گا،امام احمدنے اس کی صراحت کی ہے‘‘۔
جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جس کی زبان بندہوجائے تواگریہ زباں بندی موت تک رہتی ہے تواس کے اشارہ کواقرارسمجھاجائے گا، ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:
وأماإشارۃ غیرالأخرس: فإن کان معتقل اللسان: ففیہ اختلاف، والفتوی علی أنہ إن دامت العقلۃ إلی وقت الموت، یجوز إقرارہ بالإشارۃ والإشہاد علیہ۔
’’جہاں تک گونگے کے علاوہ کی بات ہے تواگروہ ایساہے، جس کی زبان بندہوگئی ہوتواس سلسلہ میں اختلاف ہے اورفتوی اس بات ہے کہ اگریہ زبان بندی موت تک برقراررہے توگواہی کے ساتھ اشارہ کے ذریعہ سے اس کااقراردرست ہوگا‘‘۔
اب رہی گویاشخص کی تواس کااشارہ نکاح میں معتبرنہیں، ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:
وإن لم یکن معتقل اللسان، لم تعتبر إشارتہ مطلقاًإلافی أربع: الکفر، والإسلام، والنسب، والإفتاء۔ (الأشباہ والنظائر، أحکام الإشارۃ: ۲؍۴۰۷)
’’اوراگرایسانہیں ہے، جس کی زبان بندہوئی ہو توچارجگہوں کے علاوہ مطلقاً اس کااشارہ معتبرنہیں ہوگا: کفر، اسلام، نسب اورافتاء‘‘۔
۲- تحریر: جہاں تک تحریرکی بات ہے تواحناف کہ نزدیک تحریرکے ذریعہ سے مجلس میں موجودشخص کانکاح درست نہیں ہوگا؛ البتہ غیرموجودشخص کانکاح اس کے ذریعہ سے اس صورت میں درست ہوگا، جب کہ یہ تحریردوگواہوں کی موجودگی میں پڑھی جائے اورپھران کی موجودگی میں قبول کیاجائے؛ چنانچہ علامہ ہمامؒ لکھتے ہیں:
ینعقد النکاح بالکتاب کماینعقدبالخطاب۔
’’تحریرکے ذریعہ سے نکاح اسی طرح منعقد ہوتاہے، جس طرح نطق کے ذریعہ سے ہوتاہے‘‘۔
پھراس کی صورت کے تعلق سے رقم طراز ہیں:
وصورتہ: أن یکتب إلیہا یخطبہا، فإذابلغہاالکتاب، أحضرت الشہود وقرأتہ علیہم وقالت: زوجت نفسی منہ، أوتقول: إن فلاناقد کتب إلی یخطبنی فاشہدوا أنی زوجت نفسی منہ۔(فتح القدیر، کتاب النکاح:۳؍۱۸۹)
’’اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاتون کوپیغام کاخط لکھے، جب وہ خط پہنچے تووہ گواہوں کوحاضرکرے اوران کے سامنے وہ خط پڑھے اورکہے: میں نے اس سے اپنانکاح کیا، یاکہے: فلاں نے مجھے پیغام کاخط بھیجاہے، آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنانکاح اس سے کیا‘‘۔
نیز تحریرکے ذریعہ سے اخرس(گونگے)کانکاح بھی درست ہوگا، علامہ دامادآفندی لکھتے ہیں:
کتابۃ الأخرس وإیماء ہ بمایعرف بہ إقرارہ بنحوتزوج وطلاق وبیع وشراء ووصیۃ وقود علیہ ولہ کالبیان۔ (مجمع الأنہر، کتاب الخنثی، مسائل شتی: ۴؍۴۷۲-۴۷۳)
’’گونگے کی ایسی تحریراوراشارہ، جن سے نکاح، طلاق، بیع، شراء، وصیت اوراس کے حق یاخلاف میںقصاص کے تعلق سے اقرارمعلوم ہوتوبیان(نطق) کی طرح ہے‘‘۔
شوافع کے یہاں تحریرکے ذریعہ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، امام نوویؒ فرماتے ہیں:
إذا کتب بالنکاح إلی غائب، أو حاضر، لم یصح، وقیل: یصح فی الغائب، ولیس بشئی؛ لأنہ کنایۃ، ولاینعقدبالکنایات۔ (روضۃ الطالبین، باب فی أرکان النکاح: ۵؍۳۸۳)
’’جب نکاح کاپیغام غائب یاحاضرکولکھے تویہ درست نہیں اورکہاگیاہے کہ غائب میں درست ہے؛ لیکن یہ درست بات نہیں؛ اس لئے کہ یہ کنایہ ہے اورکنایہ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا‘‘۔
مالکیہ کے یہاں بھی صرف گونگے کانکاح اشارہ اورتحریرسے درست ہے، غیرگونگے کانہیں، احمدبن محمددردیرمالکی لکھتے ہیں:
ولاتکفی الإشارۃ ولاالکتابۃ إلالضرورۃ خرس۔ (الشرح الصغیر: ۲؍۳۵۰)
’’اشارہ اورتحریرصرف گونگ پن کی ضرورت کی وجہ سے کافی ہوگا‘‘۔
حنابلہ کے نزدیک بھی تحریرکے ذریعہ صرف گونگے کانکاح منعقد ہوگا، دوسرے کانہیں، مصطفی بن سعدرحیبانی حنبلی لکھتے ہیں:
ولا(یصح) إیجاب ولاقبول’’بکتابۃ ولاإشارۃ مفہومۃ إلامن أخرس‘‘، فیصحان منہ بالإشارۃ نصاً کبیعہ وطلاقہ، وإذاصحامنہ بالإشارۃ، فبالکتابۃ أولیٰ؛ لأنہا بمنزلۃ التصریح فی الطلاق والإقرار۔ (مطالب أولی النہی فی شرح غایۃ المنتہی، باب فی أرکان النکاح وشروطہ: ۵؍۱۳۹)
’’سمجھ میں آنے والے اشارہ اورتحریرسے صرف گونگے کاایجاب وقبول ہی درست ہوگا، جیساکہ اس کی بیع اورطلاق اشارہ سے درست ہوتی ہیں اوراس پرنص ہے،اورجب اشارہ سے درست ہیں توتحریرسے توبدرجۂ اولیٰ درست ہوںگے؛ اس لئے کہ یہ طلاق اوراقرارمیں تصریح کے درجہ میں ہے‘‘۔
۳- قاصد: قاصدکے ذریعہ سے نکاح منعقد ہوجاتاہے؛ البتہ قبول دوایسے گواہوں کی موجودگی میں ہو، جوقاصدکے کلام کوسن سکیں، اگرگواہ قاصد کے کلام کونہ سنیں توطرفین کے نزدیک نکاح درست نہیں ہوگا، علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:
ولوأرسل إلیہا رسولاً وکتب إلیہا بذلک کتاباً، فقبلت بحضرۃ شاہدین سمعاکلام الرسول وقراء ۃ الکتاب، جاز ذلک لاتحاد المجلس من حیث المعنی؛ لأن کلام الرسول کلام المرسل؛ لأنہ ینقل عبارۃ المرسل…وإن لم یسمعا کلام الرسول وقراء ۃ الکتاب، لایجوز عندہما۔ (بدائع الصنائع، کتاب النکاح: ۲؍۴۹۰-۴۹۱)
’’اوراگروہ خاتون کے پاس کسی قاصدکوبھیجے اورنکاح کے تعلق سے اسے خط لکھے، پس وہ دوایسے گواہوں کی موجودگی میں قبول کرلے، جوقاصد کی بات اوراس کے خط پڑھنے کوسن لیں تومعنوی اعتبارسے اتحادمجلس پائے جانے کی وجہ سے یہ درست ہوگا؛ اس لئے کہ قاصدکاکلام، مرسل کاکلام ہے کہ وہ مرسل کی عبارت کونقل کررہاہے… اوراگرقاصدکے کلام اوراس کے خط پڑھنے کونہ سنیں اورطرفین کے نزدیک درست نہیں‘‘۔
اسی رائے کے قائل مالکیہ(المدونۃ الکبری:۴؍۲۴)، شوافع(الأم: ۵؍۷۳) اورحنابلہ(کشاف القناع: ۵؍۱۰) بھی ہیں۔(بحوالہ:الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، لفظ: إرسال: ۳؍۹۵-۹۶)
آن لائن نکاح سے مراد
آن لائن نکاح سے مرادیہ ہے کہ عاقدین مختلف جگہوں پرہوں، اولیاء، وکلاء اورگواہان بھی ہوں، ہرایک دوسرے کی آواز سن اورسمجھ رہے ہوں اور ویڈیوکال کی صورت میں ایک دوسرے کودیکھ بھی رہے ہوں یاخط، میل یاٹیلی گرام وغیرہ کے ذریعہ سے ہوتوعبارت پڑھتے وقت مذکورہ افراد موجود ہوں اور سن اورسمجھ رہے ہوں۔
آن لائن نکاح کی ضرورت
نکاح کابہترطریقہ تووہی ہے، جومعاشرہ میں رائج ہے، یعنی ایک ہی مجلس میں ایجاب وقبول ہو؛ لیکن آج کل آن لائن نکاح بھی رواج پارہاہے اور محسوس ہوتاہے کہ چندسالوں میں اس میں اضافہ بھی ہوجائے؛ اس لئے اس کی ضرورت کوبھی مدنظررکھناچاہئے۔دراصل آج کل نوکریوں اورروزگارکی تلاش میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک کابھی سفرکثرت سے کرتے ہیں اوربہت سارے توایسے ہیں، جوکئی دہائیوں سے دوسرے ملکوں میں آبادہیں، بسااوقات گھروالے ایک ملک میں ہوتے ہیں اورلڑکایالڑکی دوسرے ملک میں، آج کل اچھے رشتوں کی تلاش بھی جوئے شیرلانے سے کم نہیں، ایسے میں اگرکومناسب رشتہ مل جائے اوروہ دوسرے ملک میں ہو، وہاں سے آنا دشوارہواوریہاں سے جانابھی ممکن نہ ہو کہ اس میں سفری اخراجات، NOCکاحصول اوردیگرمشکلات کاسامناکرناپڑتاہے، ایسی صورت میں لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی شکل نکل آئے، جس کی وجہ سے عقدنکاح میں آسانی ہوجائے۔اس تعلق سے ایک شکل تو’’وکالت‘‘ والی ہے، جس کی ہرایک نے اجازت بھی دی اوررہنمائی بھی کی ہے، دوسری شکل وہ ہے، جوجدیدسہولیات نے مہیا کیا ہے، بہت سارے لوگ آج کل اسی کوترجیح دے رہے ہیں اوربعض معاصرعلماء نے اس کوجائزبھی قراردیاجائے؛ بل کہ خودفقہ حنفی کے پیروکاروں میں بریلوی طبقہ(https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3493) بھی اس کاقائل ہے۔
آن لائن کی تطبیق
قدیم زمانہ میں آن لائن کاموجودہ طریقہ معروف نہیں تھا؛ لیکن زمانہ کے لحاظ سے اس کی متبادل شکلیں موجودتھیں؛ چنانچہ تحریروکتابت اورقاصد و پیغامبر بھیجنے کی شکل موجودتھی، جس کی متبادل شکل موجودہ زمانہ کے ای میل اور فیکس وغیرہ ہیں اورویڈیوکال کی شکل نے تو زمان ومکان کی تحدیدات کو ایک کر کے رکھ دیاہے، ظاہرہے کہ آج کے زمانہ کی ان جدیدچیزوں کوتحریراورقاصدکے متبادل قراردیاجائے گا۔
آن لائن نکاح - شریعت کی نظرمیں
موجودہ زمانہ میں آن لائن خرید وفروخت کی طرح آن لائن نکاح کابھی رواج پارہاہے، یہ ایک نیااور مجتہد فیہ مسئلہ ہے، یعنی اس تعلق سے اجتہاد اورغوروفکرکرنے کی سعی کی گئی؛ چنانچہ اس سلسلہ میں معاصر فقہائے کرام کی دورائیں ہیں:
پہلی رائے : آن لائن نکاح درست نہیں، اکثر علماء کی یہی رائے ہے؛ چنانچہ استاذگرامی قدرحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی سے انٹرنیٹ، ویب سائٹ، فیکس، ای میل، ٹیلی فون کانفرس اورٹیلی گرام وغیرہ پرنکاح کرنے کے تعلق سے استفتاء کیاگیاتوانھوں نے جواب میں تحریرفرمایا:
’’نکاح میںضروری ہے کہ ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہو، سوال میں جن صورتوں کاذکرہے، اس میں ظاہرہے کہ بات کرنے یاتحریرطورپراپنی بات کوپیش کرنے والے کی مجلس الگ ہوتی ہے اورمخاطب کی مجلس الگ ؛ اس لئے ان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نکاح کاایجاب وقبول درست نہیں؛ البتہ کسی شخص کوایجاب وقبول کاوکیل بنایاجاسکتاہے اوروہ اپنے مؤکل کانکاح کرسکتاہے‘‘۔ (کتاب الفتاوی: ۴؍۳۰۶)۔
اوریہی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکابھی فیصلہ ہے؛ چنانچہ اس کے فیصلے میں ہے:
’’نکاح کامعاملہ بہ مقابلہ عقد بیع کے زیادہ نازک ہے اوراس میںعبادت کابھی پہلوہے اورگواہان کی شرط بھی ہے؛ اس لئے انٹرنیٹ، ویڈیوکانفرنسنگ اورفون پرراست نکاح کاایجاب وقبول معتبرنہیں‘‘۔(نئے مسائل اورعلمائے ہندکے فیصلے، ص:۹۱)
دوسری رائے : اس طرح نکاح درست ہے، اس کے قائلین بعض عرب علماء جیسے: شیخ مصطفی زرقاء، ڈاکٹر وہبہ زحیلی، ابراہیم فاضل دبو، ڈاکٹرسلیمان اشقر، ڈاکٹربدران ابوالعینین اورڈاکٹر محمد عقلہ وغیرہم ہیں؛ چنانچہ ڈاکٹربدران ابوالعینین لکھتے ہیں:
والزواج بالہاتف والتلیفون جائز، وتعتبرالمحادثۃ مجلس العقد مادام الکلام من المتعاقدین فی شأن الزواج، فإذاانتقلامن حدیث لزواج إلی حدیث فی موضوع آخر، انتہی مجلس العقد ویبطل الإیجاب۔ (الزواج والطلاق فی الإسلام، ص: ۴۱)
’’ٹیلی فون پرنکاح جائزہے اورگفتگو کو اس وقت تک مجلس عقدشمارکیاجائے گا، جب تک کہ عاقدین نکاح سے متعلق گفتگومیںلگے رہیں، جب دونوں نکاح کے علاوہ دوسرے موضوع پرگفتگوکرنے لگیں تومجلس عقد ختم ہوجائے گی اورایجاب باطل ہو جائے گا‘‘۔
مانعین کے دلائل
٭ ان حضرات کی ایک دلیل تویہ ہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لئے ایجاب وقبول کی مجلس ایک ہونااوراس میں جانبین میں سے دونوں کا خود موجود ہونا یاان کے وکیل کاموجودہوناضروری ہے، نیز مجلس نکاح میں دوگواہوں کاایک ساتھ موجودہونااوردونوں گواہوں کااسی مجلس میں نکاح کے ایجاب وقبول کے الفاظ کاسننا بھی شرط ہے، جیساکہ شرائط کے ضمن میں گزرا، یعنی اتحادمجلس ضروری ہے، اورچوں کہ موجودہ وسائل کے ذریعہ سے انعقادنکاح میں یہ شرطیں مفقودہوتی ہیں؛ اس لئے اس طریقہ پرکیاہوا نکاح درست نہیں ہوگا۔
٭ دوسری دلیل یہ ہے کہ نکاح ایک عبادت اوربہت نازک امرہے اور جدیدوسائل کے ذریعہ سے دھوکہ بازی اورتلبیس واشتباہ کابھی بہت زیادہ اندایشہ ہے، لہٰذا اس باب میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
٭ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ ویڈیوکال کے ذریعہ سے نکاح کی صورت میں جاندار کی تصویرسازی کا مسئلہ بھی پیداہوتاہے، جب کہ یہ حرام ہے؛ اس لئے نکاح کے اس ذریعہ کااستعمال بھی درست نہ ہو۔(دیکھئے: https://www.banuri.edu.pk/readquestion/2018-11-30/)
مجوزین کے دلائل
جوحضرات جواز کے قائل ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ عقد کے نکاح کی تمام شرطیں(ایجاب وقبول، دونوں میں موافقت، گواہوں کی موجودگی، عاقدین کاایک دوسری کی گفتگوکاسننا اورولی کی موجودگی)پائی جاتی ہیں، لہٰذا اس کے درست ہونے میں کوئی چیزمانع نہیں ہے۔
دلائل پرایک نظر
دونوں کے دلائل سامنے آجانے کے بعدآیئے ایک نظران دلائل پربھی ڈالتے ہیں:
اتحادمجلس کی شرط پرایک نظر
مجوزین کی جودلیل ہے، اس کی روسے نکاح کے ارکان وشرائط پرکسی قسم کی کوئی زدنہیں پڑتی، ایجاب وقبول، دونوں میں موافقت، گواہوں کی موجودگی، عاقدین کاایک دوسری کی گفتگوکاسننا اورولی کی موجودگی وغیرہ ، نیزحکمی طورپراتحادمجلس کاوجودبھی ہوتاہے؛ اس لئے اس طریقہ پرنکاح کے درست ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں ، قوت کے اعتباریہ دلیل کمزورنہیں ہے ۔
جہاں تک اتحادمجلس کی شرط کی بات ہے تویہ اپنی جگہ پرمسلم شرط ہے؛ چنانچہ علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں:
ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین…۔
’’ایجاب وقبول کی شرطوںمیںاتحاد مجلس ہے، جب کہ وہ حاضرہوں‘‘۔
اوراس پرتعلیق کرتے ہوئے علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
(قولہ: اتحاد المجلس) قال فی البحر: فلواختلف المجلس لم ینعقد، فلوأوجب أحدہما، فقام الآخر، أواشتغل بعمل آخر، بطل الإیجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تیسیراً۔ (ردالمحتارعلی ہامش الدرالمختار، کتاب النکاح: ۴؍۷۶)
’’(مصنف کا قول: اتحادمجلس کے تعلق سے) البحرالرائق میں ہے: اگرمجلس مختلف ہوجائے تومنعقد نہیں ہوگا، بس اگرایک نے ایجاب کیااوردوسراکھڑا ہوگیا، یا دوسرے کام میں مشغول ہوگیاتوایجاب باطل ہوجائے گا؛ اس لئے مربوط ہونے کی شرط اتحاد زمانہ ہے اورآسانی کے لئے مجلس کواس میں شمارکیاگیاہے‘‘۔
مذکورہ عبارت سے یہ معلوم ہواکہ اتحادمجلس شرط ہے، اب سوال یہ ہے کہ مجلس اور اتحادمجلس سے مرادکیاہے؟
اس کی وضاحت اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے فیصلے میں ہے:’’مجلس‘‘ سے مرادوہ حالت، جس میں عاقدین کسی معاملہ کوطے کرنے میںمشغول ہوں، ’’اتحادمجلس ‘‘ کامقصد ایک ہی وقت میں ایجاب کاقبول سے مربوط ہوناہے۔ (نئے مسائل اورعلمائے ہند کے فیصلے، ص:۱۰۹)۔
اس فیصلہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مجلس سے مراد’’مکان‘‘ نہیں؛ بل کہ ’’حالت‘‘ ہے، جب کہ’’ اتحادمجلس‘‘ کامقصد ایک ہی وقت میں’’ ایجاب کاقبول ‘‘ہے، بہت سارے معاصرعلماء نے اس سے مراداس وقت کولیاہے، جس میں عاقدین مشغول ہوں؛ چنانچہ ڈاکٹرمحمدمصطفی چلپی لکھتے ہیں:؎
ولیس المراد باتحاد المجلس کون المتعاقدین فی مکان واحد؛ لأنہ یکون أحدہما فی مکان غیرمکان الآخر، کالمتعاقدین بواسطۃ المسرۃ’’التلیفون‘‘ أوبالمراسلۃ، و إنما المراد بہ الوقت الذی یکون فیہ المتعاقدان منشغلین فیہ بالتعاقد، مالم یفصل بین الإیجاب والقبول فاصل أجنبی یعتبرإبطالاً للإیجاب، کرجوع الموجب عن إیجابہ قبل القبول، أوإعراض القابل عن ہذا الإیجاب باشتغالہ بشئی آخر غیرالعقد،فإذالم یوجد شئی من ذلک صح القبول الصادر منہ مہما طال الوقت وانعقد العقد، فمادامت المحادثۃ فی شأن العقد قائمۃ، اعتبر المجلس قائماً، وإذا انتقلا إلی حدیث آخر، اعتبرالمجلس منتہیاً۔(المدخل فی التعریف بالفقہی الإسلامی وقواعد الملکیۃ والعقود فیہ، ص: ۳۷۴-۳۷۵)
’’اتحاد مجلس سے مراد عاقدین کا ایک ہی جگہ پرہونانہیںہے؛ کیوں کہ ایک ایک جگہ پرہوتاہے، جب کہ دوسرا دوسری جگہ پر، جیسے خط یاٹیلی فون کے ذریعہ عقد کرنے والے، اس سے مراد وہ وقت ہے، جس میںعاقدین عقد کرنے میں مشغول ہوں، جب تک کہ ایجاب اورقبول کے درمیان کوئی ایسافاصل نہ ہو، جسے ایجاب کوباطل کرنے والا شمارکیاجائے، جیسے قبول سے پہلے ہی ایجاب سے رجوع یادوسرے کام میں مشغولیت کے ذریعہ ایجاب سے اعراض، پس جب ان میںسے کوئی شئی نہ ہوتوقبول درست ہوگا، خواہ وقت کتناہی دراز ہوجائے اورعقدمنعقد ہوگا، لہٰذا عقد کے سلسلہ میںجب تک گفتگو جاری رہے گی، مجلس کوقائم سمجھاجائے گا اوردونوں دوسری گفتگومیں مشغول ہوجائیںگے تومجلس کوختم سمجھی جائے گی‘‘۔
پھراس بات پربھی غورکرناضروری ہے کہ مجلس کی دوقسمیں ہوتی ہیں:
۱- حقیقی۔
۲- حکمی۔
حقیقی مجلس سے مرادیہ ہے کہ ایجاب وقبول کی جگہ ایک ہو، جہاں، عاقدین اورگواہان وغیرہم بذات خود موجودہوں، جب کہ حکمی مجلس یہ ہے کہ ایجاب وقبول کرنے والے اورگواہان وغیرہم بذات خود ایک جگہ پرموجودنہ ہوں؛ بل کہ مختلف جگہوں پرہوں؛ البتہ خط وکتابت، ٹیلی فون، موبائل، ای میل اورانٹرنیٹ وغیرہ وسائل کے وساطت سے مجلس میں موجودہوں، ڈاکٹرمصطفی ابراہیم الزلمی شرائط انعقادکی صراحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
أن یکون الإیجاب والقبول فی مجلس واحدحقیقۃ أو حکماً، والمجلس الواحد حقیقۃ: ہوأن یجتمع الموجب والقابل فی مکان واحد یصدرعنہما الإیجاب والقبول مباشرۃ بدون الوسائل، والمجلس الواحد حکماً: ہوأن یکون الموجب فی مکان والقابل فی مکان آخر، ویکون إیصال الإیجاب إلی القابل وعلم الموجب بالقبول عن طریق الوسائل کالرسالۃ، أو الہاتف، أو النقال، أو إیمیل، أو نحوذلک۔ (أحکام الزواج والطلاق فی الفقہ الإسلامی المقارن، ص: ۵۶)
’’ایجاب وقبول حقیقی یاحکمی ایک مجلس میں ہو، حقیقی مجلس واحدیہ ہے کہ ایجاب اورقبول کرنے والے دونوں ایک ایسی جگہ میں ہوں، جہاں بغیروسائل کے براہ راست ایجاب وقبول دونوں سے صادرہوں، اورحکمی مجلس واحد یہ ہے کہ ایجاب اورقبول کرنے والے دونوں الگ الگ جگہوں پرہوں اورایجاب ، قبول کرنے والے تک اورقبول کاعلم ایجاب کرنے والے تک خط، ٹیلی فون، موبائل، ای میل وغیرہ کے سے پہنچے‘‘۔
اس وضاحت سے یہ باتیں معلوم ہوئیں کہ:
۱- مجلس حالت کانام ہے۔
۲- مجلس حقیقی بھی ہوسکتی ہے اورحکمی بھی۔
۳- اتحاد مجلس سے اتحاد وقت مرادہے۔
۴- اوراتحادمجلس کامقصدایک ہی وقت میں ایجاب وقبول ہے۔
اورغورکیاجائے تویہ تمام باتیں آن لائن نکاح کی صورت میں پائی جاتی ہیں، خود مشہورحنفی فقیہ عثمان بن علی زیلعی نے بھی صراحت کی ہے کہ اتحاد مجلس کااعتباراس وجہ سے ہے؛ تاکہ جواب ، خطاب سے متصل ہواوراس کاوجوداس وقت ہوتاہے، جب یہ بغیرفصل کے ہو، وہ لکھتے ہیں:
وہذا لأن اتحاد المجلس إنما یعتبرلیصیرالجواب متصلاً بالخطاب ، وقد وجدإذاکان من غیرفصل۔ (تبیین الحقائق، فصل فی الأمربالید: ۳؍۹۶)
’’اوراتحاد مجلس کااعتباراس وجہ سے ہے ؛ تاکہ جواب ، خطاب سے متصل ہوسکے‘‘۔
جہاں تک احتیاط کی بات ہے توآیئے پہلے ہم احتیاط پرعمل کے تعلق سے تفصیل جانتے ہیں، اس پرعمل کے سلسلہ میں علماء کی دورائیں ہیں:
پہلی رائے : احتیاط پرعمل یاتوواجب ہوتاہے یاحرام، اگرعمل کا پہلوپایاجائے توعمل واجب اوراگرترک کاپہلوپایاجائے عمل حرام اورترک واجب، اس کے قائلین جمہورعلمائے احناف(أصول السرخسی: ۱؍۱۷، کشف الأسرار: ۱؍۲۳۷)، شوافع(قواطع الأدلۃ: ۲؍۲۳۲)، مالکیہ(المحصول لابن العربی: ۱؍۱۵۰، الفروق: ۲؍۱۸۶) اورحنابلہ(العدۃ فی أصول الفقہ: ۳؍۷۴۷، شرح مختصرالروضۃ للطوفی: ۲؍۱۱۵)ہیں، امیربادشاہ کہتے ہیں:
بأن من یتبع الفروع ، وجدفی کثیرمن المسائل جعل الفقہاء الاحتیاط مناط الوجوب۔ (تیسیر التحریر: ۳؍۸۶)
’’جوشخص فروع کی جستجواکرے گا، اسے معلوم ہوگا کہ فقہاء نے بہت سارے مسائل میں احتیاط کووجوب کے قائم مقام قراردیاہے‘‘۔
دوسری رائے : احتیاط پرعمل مستحب ہے، یہ رائے داؤد ظاہری کی ہے، وفرماتے ہیں:
ولیس الاحتیاط واجباً فی الدین؛ ولکنہ حسن، ولایحل أن یقضی بہ علی أحد، ولاأن یلزم أحداً ؛ لکن یندب إلیہ؛ لأن اللہ تعالیٰ لم یوجب الحکم بہ والورع، وہو الاحتیاط نفسہ۔ (الإحکام فی أصول الأحکام: ۱؍۵۱)
’’احتیاط دین میںواجب نہیں؛ البتہ بہترہے؛ لیکن اس کے مطابق کسی کے لئے فیصلہ اورکسی پرلازم کرناجائزنہیں، تاہم مستحب ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ورع اوراحتیاط کے حکم کوواجب نہیں کیااورفی نفسہ یہ احتیاط ہے‘‘۔
پھر احتیاط پرعمل کے لئے درج ذیل شرطیں بھی ہیں:
۱- نص کی مخالفت نہ ہو۔
۲- قوی ترین شبہ پایاجائے۔
۳- ایسادوسرامرجح نہ پایاجائے، جس کاحق مقدم ہو۔
۴- مقاصدشریعت کے خلاف نہ ہو۔ (الاحتیاط فی القواعد الأصولیۃ والفقہیۃ وأثرہ فی الفروع الفقہیۃ لمؤمن محمدالدالی، ص: ۵۷-۵۸)۔
اب اگرمستحب کی بجائے واجب پر عمل کیاجائے توبھی آن لائن نکاح کے درست ہونے میں ایسی مانع چیزنہیں ہے، جس کی وجہ سے اسے نادرست اورناجائزقراردیاجائے؛ کیوں کہ احتیاط کے لئے دوسری تدابیر(جیسے: کورٹ وغیرہ سے پیپربنوالیاجائے)بھی اختیارکی جاسکتی ہیں، جیساکہ بعض ممالک میں حکومتی سطح پرتدابیراختیارکی گئی ہیں۔
اب رہی بات تیسری دلیل یعنی تصویرسازی کی تویہ ڈیجیٹل ہوتی ہے اوراس سلسلہ میں علمائے معاصرین (عرب وبرصغیرہندوپاک)کے یہاں دو رائیں ملتی ہیں:
۱- یہ تصویرہی ہے ----- برصغیرکے علماء کی عمومی رائے یہی ہے؛ چنانچہ استاذ گرامی قدرحضرت مولاناخالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم رقم طراز ہیں:
’’ویڈیوگرافی اورفوٹوگرافی کوعکس قراردیناصحیح نہیں، عکس وہ صورت ہے، جس میں ٹھہراؤ اورجماؤ نہ ہو، جیساکہ پانی یاآئینہ میں ہوتاہے، ویڈیوگرافی اورفوٹوگرافی میں یہ صورت نہیں ہوتی؛ بل کہ صاحب تصویر کی صورت ریل میں محفوظ ہوجاتی ہے اور جماؤ کی کیفیت پیداہوتی ہے‘‘۔(کتاب الفتاوی: ۶؍۱۷۰)۔
۲- یہ عکس ہے؛ یہاں تک کہ پرنٹ نکال لیاجائے ----- متعدد علماء(بالخصوص عالم عرب کے) اس کے قائل ہیں؛ چنانچہ حضرت مولانامفتی شفیع صاحب نوراللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:
’’حاصل یہ ہے کہ عکس جب تک کہ مسالہ وغیرہ کے ذریعہ سے پائیدارنہ کرلیاجائے، اس وقت تک عکس ہے اورجب اس کوکسی طریقہ سے قائم وپائیدارکرلیا جائے تووہ تصویربن جاتاہے، اور عکس جب تک عکس ہے، نہ شرعاً اس میں کوئی حرمت ہے اورنہ کسی قسم کی کراہت، خواہ آئینہ، پانی یاکسی اورشفاف چیزپرہو یافوٹوکے شیشہ پر، اورجب وہ اپنی حدسے گزرکرتصویرکی صورت اختیارکرے گا، خواہ وہ مسالہ کے ذریعہ سے ہو، یا خطوط ونقوش کے ذریعہ سے اورخواہ یہ فوٹو کے شیشہ پرہویاآئینہ وغیرہ شفاف چیزوں پر، اس کے سارے احکام وہی ہوں گے، جو تصویرکے متعلق ہیں‘‘۔(آلاتِ جدیدہ کے احکام، ص:۱۴۱)
راقم الحروف بھی اسی دوسری رائے کاقائل ہے ، اس لحاظ سے بعض مقاصدکے لئے ڈیجیٹل تصویرکے ذریعہ کام لینادرست ہے اورنکاح بھی ایک اہم اورضروری مقصدہے، لہٰذا اس کے لئے بھی اس کے استعمال کی گنجائش ہونی چاہئے۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانہ کے وسائل نے آن لائن نکاح کوممکن بنادیاہے اوراس تعلق سے تھوڑے بہت جواشکالات تھے، انھیں دورکردیاہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشہورفقیہ شیخ مصطفی زرقاء سے جب سوال کیاگیاتوایساہی جواب دیا؛ چنانچہ ڈاکٹرمحمدعقلہ اس کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فإذا کان ہناک شہود یسمعون کلا من الإیجاب والقبول مباشرۃ، ومن الممکن فعلاً أن یتحقق ہذا الشرط إذاکان ہناک أکثر ہاتف، فاستمع الشہود، وشہدوا علی العقد، وبذلک ینعقد عقد الزواج مباشرۃ، ولایکون ہناک أی غضاضۃ، وذلک لتوفرشروط العقد وأرکانہ اللازمۃ لانعقادہ۔ (حکم إجراء العقود بوسائل الاتصال الحدیثییۃ(الہاتف، البرقیۃ، التلکس)، ص: ۱۱۳)
’’لہٰذا جب گواہ موجودہوںاوربراہ راست ایجاب وقبول کوسن رہے ہوں، جوکہ عملاً ممکن ہے، بایں طورکہ ایک سے زائدٹیلی فون ہوں، گواہ سن کر عقدپرگواہی دے سکیں تواس طریقہ پربراہ راست عقدنکاح منعقد ہوجائے گا اوراس کے انعقاد کے لئے لازمی ارکان اورعقد کی شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا‘‘۔
لہٰذا موجودہ زمانہ کی آسانیوں کافائدہ اٹھاتے ہوئے اورامت کے حق یسروسہولت پیداکرتے ہوئے آن لائن نکاح کے جوازکی گنجائش ہونی چاہئے ، ہذا ماعندی، واللہ أعلم بالصواب!
No comments:
Post a Comment