غیرمسلم کی وراثت میں مسلم فرد کاحصہ: ایک جائزہ
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
’میراث‘ ایک عربی لفظ ہے، جس کے معنی’’ چھوڑی ہوئی چیز‘‘کے آتے ہیں، اِسی کو دوسرے الفاظ میں’’ترکہ‘‘کہتے ہیں،شرعی اصطلاح (Sharia Term) میں میراث’’ اُن تمام اموال، جائداداورحقوق(جیسے: حق ِتصنیف، حق ِایجاد وغیرہ) کو کہا جاتاہے، جسے مرنے والا شخص اپنے پیچھے چھوڑکرجائے اوراُس سے کسی دوسرے شخص کاحق متعلق نہ ہو‘‘۔
مرنے والے کے مال میں’’کسی دوسرے شخص کاحق متعلق‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مال اُس کے پاس امانت یا رہن (Mortgage) کے طورپرنہ رکھاہواہو؛ کیوں کہ امانت یا رہن کے طورپررکھاہوامال کا مالک یہ مرنے والا نہیں؛ بل کہ وہ ہے، جس نے امانت یارہن رکھوایاتھا۔
میراث کی تقسیم الل ٹپ نہیں ہوتی؛ بل کہ اس کے لئے وارثین اورحصے متعین ہیں، اور جوحصے متعین ہیں، وہ یاتوخوداللہ تعالیٰ نے متعین کئے ہیں، یاحضوراکرم ﷺ نے، یاپھرصحابہ کے اتفاق سے اُن کی تعیین عمل میں آئی ہے، اورتینوں ذرائع ایسے ہیں، جن کی تعیین پرکسی قسم کا اعتراض نہیں کیاجاسکتا، اللہ تعالیٰ کی ذات پرتواِس سلسلہ میں توکچھ وہی کہہ سکتاہے، جس کی عقل ناہموارہو، جب کہ حضوراکرمﷺ کے بارے میں اِس لئے کچھ نہیں کہاجاسکتاکہ قرآن کی شہادت یہ ہے کہ آپ ﷺاپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے: وَ مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیٰ، اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُوْحَیٰ۔(النجم:۳-۴)’’اوروہ (نبی)اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے؛ بل کہ وہ تو اُن کی طرف وحی کی جاتی ہے(جس کووہ بولتے ہیں)‘‘۔اورصحابہ کے اتفاق پراِس لئے اعتراض نہیں ہوسکتاکہ اپنی خواہش سے کچھ نہ کہنے والے نبیﷺ کاارشادہے:اصحابی کالنجوم، بأیہم اقتدیتم، اہتدیتم۔ (مشکاۃ المصابیح،باب مناقب الصحابۃ حدیث نمبر: ۶۰۰۹) ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانندہیں، اُن میں سے جس کی بھی اقتداکرلو، راہ یاب ہوجاؤگے‘‘، نیزاصولیین کایہ فیصلہ ہے کہ: الصحابۃ کلہم عدول۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع التاسع: معرفۃ المرسل، ص: ۲۱۲)’’صحابہ سب کے سب عدل والے ہیں‘‘ اورجب صحابہ عدل والے ہیں توناحق کسی کا حق کسی دوسرے کونہیں دلاسکتے۔
پھرکسی بھی شخص کے وارث بننے کے لئے درج ذیل اسباب میں سے کسی نہ کسی سبب کا پایا جانا ضروری ہے، اگرکوئی ایک سبب بھی نہ پایا گیا تو وراثت نہیں ملے گی:
۱- نسب: وارث بننے کے لئے وارث اورمورث کے درمیان نسبی تعلق ہوناضروری ہے، یعنی وہ دونوں باپ بیٹا،باپ بیٹی، ماں بیٹا، ماں بیٹی، داداپوتا، دادی پوتی، نانی نواسہ، نانی نواسی وغیرہ ہوں، دوسرے الفاظ میں اسی کو’’اُبُوّت‘‘ اور’’بُنُوّت‘‘بھی کہتے ہیں۔
۲- نکاح: جب کسی عورت کانکاح(جب کہ فاسد یاباطل نہ ہو) کسی مرد کے ساتھ ہوجائے تودونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔
۳- ولاء: ولاء سے مرادیہ ہے کہ کوئی کسی کویہ کہہ کرآزادکرے کہ تمہاری میراث میرے لئے ہوگی توایسی صورت میں آزادکرنے والاشخص اُس آزادکردہ شخص کی میراث کا مستحق ہوگا، اِسی کو ’’ولاء‘‘ کہا جاتا ہے، اِسی ضمن میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص دوسرے سے آکرکہے کہ آپ میرے کفیل بن جائیں، اگرمجھ سے کوئی دیت والاجرم ہوجائے توآپ اداکریں گے، اِس کے بدلہ میں آپ کواپناوارث بناتاہوں، دوسرا شخص اِس پرراضی ہوجائے، یہ معاہدہ ’’عقد ِموالات‘‘ کے نام سے جاناجاتاہے۔
۴-قرابت: بسااوقات نہ توصلبی تعلق ہوتاہے اورناہی نکاح کی وجہ سے آپس میں کوئی رشتہ داری ہوتی ہے؛ لیکن کسی دوسرے رشتہ کی وجہ سے قرابت داری ہوتی ہے، یہی ’قرابت ‘ کبھی کبھاروراثت ملنے کا سبب بھی بنتی ہے، جسے اصطلاح میں’’ذوی الأرحام‘‘کہتے ہیں۔
پھریہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ جس طرح وراثت کے استحقاق کے لئے کچھ اسباب کا پایاجاناضروری ہے، اسی طرح بعض دفعہ میراث کے مستحق ہونے کے باوجود بعض اسباب کی وجہ سے وراثت سے محرومی بھی ہاتھ آتی ہے اورحقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے تقسیم میراث میں ایک قسم کااعتدال پیداہوتاہے، ورنہ آج کے دین بیزاراورمادیت کے خوگردور میں نہ جانے کتنے جان دہلادینے والے واقعات رونماہوجاتے، یہ اسباب درج ذیل ہیں:
۱- قتل: اگرکوئی وارث اپنے مورث(جس کی میراث ملنے والی ہے)کوکسی شرعی سبب (یعنی قصاص کے علاوہ)کے بغیرہی قتل کردے توایساوارث وراثت سے محروم ہوگا، قتل کے اندرچارقسم کے قتل شامل ہیں، جس کی وجہ سے میراث سے محرومی ہوتی ہے: (۱) جان بوجھ کرکسی ہتھیاریاہتھیارکے قائم مقام چیز سے قتل کردے، جسے اصطلاح میں’’قتلِ عمد‘‘کہتے ہیں(۲) کسی ہتھیاریاہتھیارکے قائم مقام چیز سے توقتل نہ کرے؛ لیکن جان بوجھ کرایسی چیزسے قتل کرے، جس سے عموماًآدمی مرہی جاتاہے، جسے اصطلاح میں’’شبہ ِعمد‘‘ کہتے ہیں (۳) غلطی سے اپنے مورث کوقتل کردے، مثلاً: کسی جانورکاشکار کر رہا تھا کہ اچانک مورث سامنے آگیا اوراُسے قتل کردیا، جسے اصطلاح میں’’خطاء‘‘ کہتے ہیں (۴) اَن جانے میں کسی کوقتل کردے، مثلاً: درخت سے کسی کے اوپر گر گیا، جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوگیا، جسے اصطلاح میں’’شبہ ِخطاء‘‘ کہتے ہیں، قتل کی یہ چاروں قسمیں ایسی ہیں، جن میں یاتوقصاص لازم ہوتاہے یاکفارہ، لہٰذ ا اِن چاروںصورتوں میں میراث سے محرومی ہاتھ لگے گی۔
۲- اشتباہِ موت: اگروارث اورمورث کی وفات ایک ساتھ ہوجائے، مثلاً: دونوں ایک کشتی میں سوارتھے اور کشتی ڈوب جائے یاایک گھر میں سورہے تھے اورگھرمیں آگ لگ جائے اوریہ پتہ نہ چل سکے کہ کس کی موت پہلے واقع ہوئی ہے توایسی صورت میںیہ دونوں ایک دوسرے کی میراث سے محروم رہیں گے؛ البتہ اِن کے مال ومتاع اِ ن کے زندہ وارثین کے درمیان تقسیم کیاجائے گا۔
۳-اشتباہِ وارث:اگروارث کے سلسلہ میں یہ اشتباہ پیدا ہوجائے کہ وہ وارث ہے یانہیں، جیسے: کسی خاتون نے اپنے بچے کے ساتھ دوسرے بچے کوبھی دودھ پلایا، پھراُس خاتون کی موت ہوگئی اوریہ پتہ لگانا مشکل ہوگیاکہ اُس عورت کا اپنابچہ کون ساہے؟ توایسی صورت میں اُن دونوں بچوں میں سے کسی کو اُس خاتون کی میراث نہیں ملے گی؛ کیوں کہ وارث ہونے اورنہ ہونے کاشبہ میراث سے محرومی کا سبب ہوتاہے۔
۴- نبوت:نبوت بھی میراث سے محرومی کا سبب ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺکی حقیقی اولادمیں سے کسی فردکوآپﷺکی میراث نہیں ملی؛ بل کہ خودآپﷺکا ارشادہے: إنَّ الْأنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَاراً وَلَادِرْہَماً۔ (سنن أبی داود،باب الحث علی طلب العلم،حدیث نمبر: ۳۶۴۳)’’انبیاء دینارودرہم (مال ودولت) کے وارث نہیں بناتے‘‘۔
۵۔ واسطہ کی موجودگی : ذوالواسطہ(جیسے: دادا، پوتاوغیرہ) کے وراث بننے کے لئے ضروری ہے کہ خودواسطہ موجودنہ ہو، مثلا: داداکے وارث بننے کے لئے ضروری ہے کہ میت کا باپ موجودنہ ہو؛ کیوں کہ میت تک رشتہ داری قائم کرنے والا واسطہ باپ موجودہے، لہٰذا داداکے وارث بننے کے لئے واسطہ (باپ) کی عدم موجودگی ضروری ہے۔
۶- اختلافِ دین:مذکورہ بالااسباب میں سے ایک سبب ’’اختلاف دین‘‘ کوبھی ذکرکیاجاتاہے،یعنی اگرایک شخص مسلمان ہے اوردوسراغیرمسلم تواِن دونوں کے درمیان وراثت کی تقسیم عمل میں نہیں آئے گی؛ کیوں کہ دین کامختلف ہوناوراثت سے محروم کردینے کا ذریعہ ہوتاہے، اسی دائرہ میں وہ شخص بھی آئے گا، جوپہلے تومسلمان تھا؛ لیکن اب اسلام کوچھوڑکر (نعوذباللہ) دوسرامذہب اختیارکرلیاہے، جسے ’’ارتداد‘‘کہتے ہیں، ایسا شخص بھی وراثت سے محروم ہوگا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ وراثت سے محروم کردینے والے اس سبب میں اختلاف ہے؛ چنانچہ جمہورفقہاء کے نزدیک یہ اسباب ِمحرومی میں شامل ہے ، جن میں خلفائے راشدین اور ائمۂ اربعہ بھی ہیں، ان کی دلیل مندرجہ ذیل احادیث ہیں:
۱- لایرث المسلمُ الکافرَ، ولاالکافرُ المسلمَ۔ (بخاری، باب لایرث المسلم الکافر…، حدیث نمبر: ۶۷۶۴، و مسلم، کتاب الفرائض، حدیث نمبر: ۱۶۱۴)’’نہ مسلمان کافرکاوارث ہوگا اورنہ کافرمسلمان کاوارث ہوگا‘‘۔
۲- لایتوارث أہل ملتین شتی۔ (مسنداحمد: ۲؍۱۷۸ و۱۹۵، حدیث نمبر:۶۸۴۴، ابوداود، حدیث نمبر: ۲۹۱۳، سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۱۰۸) ’’دومختلف ملت والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے‘‘۔
البتہ بعض صحابہ ، تابعین اورفقہاء کی رائے یہ ہے کہ مسلم کوکافرکاوارث بنایاجاسکتاہے؛ چنانچہ حضرت عمر، حضرت معاذ اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انھوں نے مسلمان کوکافرکاوارث بنایا؛ البتہ کافرکومسلمان کاوارث نہیں بنایا، یہی محمد بن الحنفیہ، علی بن حسین، سعیدبن المسیب، مسروق، عبداللہ بن معقل، شعبی، یحی بن یعمر اوراسحاق رحمہم اللہ سے بھی حکایت کی گئی ہے( المغنی لابن قدامۃ: ۹؍۱۵۴)۔
امام احمد، امام ابوداواورحاکم نے نقل کیا ہے کہ یحی بن یعمرکے پاس یہودی اورمسلم دوبھائیوں نے اپنے کافربھائی کی میراث کے تعلق سے مقدمہ دائرکیا، توانھوں نے مسلم کووارث بنایا اوراس کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:حدثنی أبوالأسود أن رجلاً حدثہ، أن معاذاً حدثہ أن رسول اللہ ﷺ قال: الإسلام یزید ولاینقص۔ (مسنداحمد: ۵؍۲۳۰و ۲۳۶، سنن أبی داود، حدیث نمبر: ۲۹۱۲، ۲۹۱۳، صحیح الحاکم: ۴؍۳۴۵) ’’مجھ سے ابوالاسودنے بیان کیاکہ ایک شخص نے ان سے بتایا کہ (حضرت) معاذؓنے اسے بتایاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اضافہ کرتاہے، کم نہیں کرتا‘‘۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:الإسلام یعلو، ولایعلی۔ (سنن الدارقطنی،حدیث نمبر: ۳۶۶۲، سنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر: ۱۱۹۳۵، ورواہ البخاری تعلیقاً فی باب إذا أسلم الصبی فمات، ہل یصلی علیہ وہل یعرض علی الصبی الإسلام) ’’اسلام غالب آتاہے، مغلوب نہیں ہوتا‘‘۔
حال واحوال اورزمان ومکان کودیکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ مسلم اقلیتوں کے حق میں مسلم کے وارث ہونے کی رائے کوقبول کیاجائے، ایک تواس لئے کہ صحابہ، تابعین اورفقہاء بھی اس رائے کے قائل ہیں، دوسرے اس لئے کہ بسااوقات دائرہ اسلام میں داخل ہونے والابالکل خالی ہاتھ ہوتاہے اوراس کے تعاون وامداد کرنے والے افرادبھی میسرنہیں ہوپاتے، نہ اس کے پاس اتنامال ہوتاہے کہ وہ اپنی تجارت شروع کرسکے، لہٰذا جب ملکی قانون اس کی اجازت بھی دے رہاہو اوراس کی وجہ سے اس کے ایمان کے استحکام میں اضافہ بھی ہوگاتواسے قبول کیاجاناچاہئے، عالم اسلام کے مشہورفقیہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی یہی رائے ہے، وہ فرماتے ہیں:
وأناأرجح ہذاالرأی، وإن لم یقل بہ الجمہور، وأری أن الإسلام لایقف عقبۃ فی سبیل خیرأونفع یأتی للمسلم، یستعین بہ علی توحیداللہ تعالیٰ وطاعتہ ونصرۃ دینہ الحق، والأصل فی المال أن یرصد لطاعۃ اللہ، لالمعصیتہ، وأولی الناس بہ ہم المؤمنون، فإذاسمحت الأنظمۃ الوضعیۃ لہم بمال أوترکۃ، فلاینبغی أن نحرمہم منہا، وندعہالأہل الکفر یستمتعون بہا فی أوجہ قد تکون محرمۃ أومرصودۃ لضررنا۔ (فی فقہ الأقلیات المسلمۃ، ص: ۱۲۸)
’’اگرچہ جمہوراس رائے کے قائل نہیں ہیں؛ لیکن ہمارے نزدیک یہ رائے راجح ہے، ہمارے نزدیک اسلام مسلمان کوحاصل ہونے والے کسی ایسے خیرکی راہ میں روکاوٹ نہیں بنتا، جس سے مسلمان توحیدوطاعت ِ خداوندی اورخدمت دین میں مدد لے اورمال کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ اس کاحصول اللہ کی اطاعت کے لئے ہو، اس کی معصیت کے لئے نہ ہو، اس کے سب سے زیادہ حق داراہل ایمان ہیں، اگرملکی قوانین مسلمان کے لئے کسی مال یاترکہ کی اجازت دیتے ہیں تو ہمیں انہیں ان سے محروم نہیں کرناچاہئے کہ اس صورت میں یہ مال کافروں کوملے گا اوروہ اسے حرام جگہوں پراستعمال کریں گے، نیز اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچیں گے‘‘۔

No comments:
Post a Comment