Monday, 7 December 2020

گھرکانہ گھاٹ کا(افسانچہ)


 گھرکانہ گھاٹ کا

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

اس کی پیدائش مالدارمسلم گھرانے میں ہوئی تھی اور تعلیم علاقہ کے مشہور کانوینٹ اسکول میں، پھرکالج کی زندگی توآزادانہ تھی، فطری طورپرمذہبی شناخت سے دوری کے ساتھ ساتھ مذہب سے بھی دوری ہوتی گئی۔

تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ایک اچھی کمپنی میں اسے جاب ملی تھی، جہاں اس کی ملاقات ریاسے ہوئی، جلدہی دونوں کے مابین دوستی کامصافحہ ہوگیا، شدہ شدہ بات بیاہ تک جاپہنچی، ریانے صاف کہہ دیا :

’’میں اپنے دھرم کے اعتبارسے بیاہ رچاؤں گی‘‘۔

’’میں کب کہہ رہاہوں کہ میرے دھرم کے لحاظ سے بیاہ کرو‘‘، اس نے جواب دیا۔

اگنی کے ساتھ پھیرے لے کردونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور خوش خوش رہنے لگے، ایک رات اچانک دروازے پردستک ہوئی، باہرپولیس کھڑی تھی، اسے ’’جبراً مذہب قبول کرواکرشادی کرنے ‘‘کے جرم میں گرفتارکر کے لے گئی اورجیل کی سلاخوں کے پیچھے اوندھے منھ دھکیل دیا۔


2 comments: