دھویں کے مرغولے
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
دھویں کے اٹھتے کثیف مرغولوں نے افق کی لالی کوتیرگی میں بدل دیاتھا، جسے دیکھ کرپیپل کی شاخ نازک پرآشیانہ بنانے والی مین انہ صرف یہ کہ سہم گئی؛ بل کہ تنکاتنکاجوڑکرہفتوں اورمہینوں کی محنت سے تیارکئے ہوئے اپنے اس مالوف اورمحبوب آشیانہ پربہتے آنسؤوں کے ساتھ الوداعی نظرڈالتے ہوئے اڑگئی اوراس فلک بوس عمارت کی منڈیرپرجابیٹھی، جوشہرکے بیچوں بیچ پہاڑی عفریت کی طرح کھڑی تھی،وہ معاملہ کوسمجھنا اوراپنے سرکی آنکھوں سے دیکھناچاہتی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے دھویں کے مرغولوں کے درمیان سے شعلے بھی بلندہونے لگے، کتنی بھیانک تھی آگ! بالکل نارنمرودکی کی طرح، نہ جانے کتنی جانیں اس کی لپیٹ میں آئی ہوں گی؟ کتنے ذی روح کے گھراس کی زدآئے ہوں گے؟کتنے مال ومتاع کاضیاع ہواہوگا؟ وہ تڑپ اٹھی کہ اس کے پاس ایک دھڑکتادل تھا، وہ سوچ رہی تھی کہ کاش! وہ کچھ کرسکتی، اس کے پروں میں اتنی طاقت ہوتی ، جس کی مددسے وہ اس شعلہ زاآگ کوبجھاسکتی، اس کے پیروں میں اتنازورہوتا، جس کے تعاون سے اس آتش نمرودپرپانی ڈال سکتی۔
وہ ہمت جٹانے لگی کہ کچھ توکرناچاہئے، اس کے پیش نظریہ اصول تھا کہ ’’اگرکوئی کام مکمل طورپرانجام نہ دیاجاسکے توپوراچھوڑابھی نہ جائے‘‘، وہ اڑنے کے لئے اپنے پر تولنے لگی کہ سامنے سے ایک بھڑ آتی ہوئی نظرآئی، اُف …! اس آگ کی وجہ سے کتنے لوگ مصیبت میں پڑگئے، کتنوں کو اپنا گھربار چھوڑ کربھاگنا پڑرہا ہے، کس طرح یہ لوگ بے تحاشا بھاگ رہے ہیں، خدا ان پرر…ر…رحم ک…ک…ک…کرے، اس کی زبان گنگ ہونے لگی، وہ حیران وششدر تھی کہ بھیڑ آگ کی مصیبت کی ماری نہیں؛ بل کہ خود آگ لگانے والی تھی، ان کے ہاتھوں میں پیٹرول بم تھے،لہکتے آگ کی مشعلیں تھیں، ہتھیاربھی تھے، وہ آ گ ہی لگانے پر اکتفا نہیں کررہی تھی؛ بل کہ لوگوں کے جسموں کوچھلنی اوران کی گردنوں کوکاٹ کرخون کے چھرے بھی بہارہی تھی، اچانک اس کی نظر ایک پچاسی سالہ بوڑھی پرپڑی، جوچلنے کے بجائے ڈول رہی تھی، پھرزمین پرڈھہ بھی گئی اورہاتھ جوڑ کربھیڑ سے رحم کی اپیل کرنے لگی؛ لیکن اُف…! یہاں رحم کہاں تھا؟ یہاں توبس درندگی تھی، یہاں توبس حیوانیت کاننگا ناچ تھا، اک لمحہ کے لئے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں کہ تاب دید نہیں تھی، آنکھ کھلی توبڑھیابے حس وحرکت تھی اوربھیڑ خوشی سے ناچتے گاتے اورنعرے لگاتے آگے کوجارہی تھی۔
یہ ایسادل دوز نظارہ تھا، جواس نے پہلی باراپنی سرکی آنکھوں سے دیکھاتھا، اس سے پہلے تواس کے کانوں نے ہمیشہ ’’ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، آپس میں ہیں سب بھائی بھائی‘‘کا ہی گیت سناتھا، اس نے ہمیشہ ’’ہندی ہیں، ہم وطن ہیں، ہندوستاں ہمارا‘‘ ہی کانعرہ سناتھا،اس نے ہمیشہ یہی دیکھاکہ ہر 15؍اگست اور26؍ جنوری کے دن ملک کے سارے لوگ’’مذہب نہیں سکھاتا، آپس میں بیررکھنا‘‘ایک قطارمیں کھڑے ہوکرگاتے ہیں اورترنگے کوایک ساتھ مل کرسلام کرتے ہیں، اسے اپنی دادی سے سنی ہوئی کہانی بھی یادتھی کہ کس طرح سب دھرم کے لوگوں نے مل کرظالم انگریزوں سے لڑائی کی تھی اور انھیں ملک چھوڑکربھاگنے پرمجبورکیاتھا، اس وقت انقلاب کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، اس وقت ملااورپنڈت ایک ہی چارپائی پرایک پلیٹ میں کھالیا کرتے تھے، دادی کی کہانی اورآنکھوں دیکھی حالت کے درمیان اس نے موازنہ کی کوشش کی؛ لیکن کہیں سے بھی کوئی جوڑ نہیں مل رہاتھا۔
وہ مزیدنظارہ دیکھنے کے لئے بھیڑکے پیچھے اڑنے لگی، سڑک در سڑک، چوراہادرچوراہا اورگلی درگلی بھیڑ گزرتی جاتی اورکچھ نشان زد مکانات و دوکانات کوآگ کے حوالے کرتی جاتی، ناگاہ اس کی نظر ایک اونچے مینارپرپڑی، جس پربھیڑسے نکل کر کچھ لوگ چڑھنے کی کوشش کررہے تھے، ان کے ہاتھوں میں ایک خاص قسم کاجھنڈا تھا، بالآخر ایک نے اس جھنڈے کواس مین ارپرباندھ ہی دیا، جب کہ دوسرے نے اس کے کچھ حصہ کونقصان پہنچایا، پھرایک خاص نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
وہ بھی بے کیفی کے ساتھ اڑاڑکران کے پیچھے جارہی تھی، وہ دیکھناچاہ رہی تھی کہ آج انسانیت کی سطح کس قعرمذلت تک جاگرے گی؟ کہ ٹھائیں کی آواز آئی، وہ آواز کی طرف مڑنے کی ہی کوشش کررہی تھی کہ کوئی تیزدھاروالی چیزاس کے جسم کے ایک حصہ کوچھوتی ہوئی آگے کوگزرگئی اوروہ دنیاومافیہاسے بے خبرگرپڑی، جب آنکھ کھلی توسارامنظرنگاہوں کے سامنے اس طرح گردش کرنے لگا، جیسے کہ اسکرین پر ویڈیو چل رہی ہو اوروہ سوچنے لگی کہ کیایہی وہ مخلوق ہے، جسے بہت ساری مخلوقات پرفوقیت وبرتری دی گئی ہے؟ اگرایساہی ہے توہم بے فوقیت وبے برتر مخلوق ہی بھلے، پھروہ ایک دوسرے آشیانہ بنانے کے لئے جگہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔

No comments:
Post a Comment