Sunday, 6 September 2020

آزادیٔ ہند سوالات کے گھیرے میں

 اے خاک وطن سے تجھ سے شکایت بہت ہے

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

آزادی انسان ہی نہیں، جانوروں کی فطرت میں بھی شامل ہے، اگرایک چیونٹی کوبھی قیدکرلیاجائے تووہ اس قیدسے آزادہونے کے لئے اپنی طرف سے کئی طرح کی کوششیں کرڈالتی ہے، جب یہ بات اللہ تعالیٰ کی ایک چھوٹی سی مخلوق کے اندرپائی جاتی ہے توپھرانسان کے اندرتوکئی گنازیادہ پائی جائے گی، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نے کسی انسان کی آزادی سلب کی تواپنی چھینی ہوئی آزادی کوواپس لانے کے لئے کئی طرح کے حربے اس نے اپنائے۔
جس طرح آزادی فطرت میں داخل ہے، اسی طرح دوسرے کی آزادی چھیننا بھی تقریباً ہرجاندارکی فطرت میں شامل ہے ، یہی وجہ ہے کہ ایک مکڑی بھی اپنے جال میں قدم رکھنے والے اپنے سے کمزورپرجھپٹ پڑتی ہے اورآناً فاناً اپنے عنکبوتی تاروں میں جکڑلیتی ہے، بھڑ جیسی ادنیٰ مخلوق باہرنکلتی ہے اورکیڑے مکوڑوں کوگرفتارکرکے اپنے مٹی کے باریک پرت والے گھروں میں مقید کردیتی ہے، ٹھیک یہی فطرت انسانوں کے اندرپائی جاتی ہے، وہ اپنے سے کمزورپردباؤ بنائے رکھناچاہتا ہے، اسے قید کرتاہے، اس کی آزادی چھین کراپنی بات منواتاہے،نہ ماننے کی صورت میں قیدوبند کی سزادیتاہے۔
انسان کے اندرچوں کہ عقل وشعورہے؛ اس لئے وہ دوسرے کی آزادی چھننے میں اللہ تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے مقابلہ میں آگے بڑھ جاتاہے اورشخصی آزادی ہی سلب کرنے پراکتفانہیں کرتا؛ بل کہ قومی اورسماجی سے اوپراٹھ کرذہنی آزادی بھی چھین بیٹھتاہے، جہاں سے آزادی چھیننے والوں اورجن کی آزادی چھینی گئی ہے، ان کے درمیان رسہ کشی شروع ہوجاتی ہے، جوبالآخربھیانک جنگ کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔
اس جہانِ آب وگل میں جتنے بھی انسان بستے ہیں، ان میں سے بالخصوص دنیاوی اصطلاح کے اعتبارسے گورے لوگ ہمیشہ سے اپنے سے کمزورلوگوں کی آزادی چھیننے میں کوشاں رہے ہیں، اس کے لئے انھوں نے جھوٹ سچ اورغداری ودھوکہ بازی کی کبھی پرواہ نہیں، کسی زمانہ میں وہ شخصی اورملکی آزادی چھیناکرتے تھے؛ لیکن زمانہ کی رفتارکے ساتھ انھوں نے اپنی چال بھی بدل دی اوراب انھوں نے ذہنی آزادی سلب کرکے پوری دنیاکے لوگوں کو مقید کر رکھا ہے اوراس چابک دستی سے کہ قید ہونے والے اسے قید نہیں؛ بل کہ آزادی سمجھتے رہتے ہیں، یہ ہے ان کی عقل و شعور کاکمال!
ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ گورے سولہویں صدی میں تاجرکاچولاپہن کر آئے اورقابض اورغاصب بن بیٹھے، وہ بھی اس شان سے کہ گویایہ سرزمین اصلاً انھیں کی ہے اوریہاں کے اصلی باشندے پناہ گزین ہیں، پھررفتہ رفتہ یہاں کے باشندوں پر انھوں نے جوروجفاکے اتنے تیربرسائے کہ درد بے چارہ پریشاں رہاکہ کہاں سے اٹھے؟ جب ظلم وستم حد سے گزرے توان کے اندرقید وبند کوتوڑنے کا حوصلہ پیداہوا، مالوں کاہی نہیں، جانوں کا بھی نذرانہ پیش کرکے آخرکارانیس سوسینتالیس (۱۹۴۷ء) میں اس ملک کی کھوئی ہوئی آزادی کوبحال کیاگیا، اس آزادی کی گھرواپسی میں یہاں پربسنے والے ہردھرم کے لوگوں نے قربانیاں پیش کیں، کسی نے کم توکسی نے زیادہ؛ لیکن قربانی ہرایک کی شامل رہی، ظاہرہے کہ جب قربانی ہرایک کی شامل رہی تواس میں حق اورحصہ بھی ہرایک کاشامل ہے؛ لیکن بدقسمتی اس ملک کی یہ رہی کہ آزادی کے ساتھ ساتھ یہاں پربسنے والے لوگوں کے قلوب واذہان دانستہ اورسوچی سمجھی سازش کے تحت بدل ڈالنے اورآزادی کے وقت جوپیارومحبت دیکھنے میں آئی تھی، اسے ختم کرڈالنے کی پوری کوشش کی گئی، نوبت بہ ایں جارسید کہ لوگ دھرم کے نام پربٹ گئے اورنہ صرف بٹ گئے ؛ بل کہ دھرم کودیکھ کرایک دوسرے کا گلاکاٹنے کے درپے ہوگئے، بالخصوص یہ معاملہ اقلیتوں کے ساتھ پیش آرہاہے۔
آج ہمارے ملک کے آزادہوئے سترسے زائدسالوں کاعرصہ بیت رہاہے؛ لیکن یہاں پربسنے والے لوگوں کی اکثریت کے ذہنوں میں کئی طرح کے سوال کلبلارہے ہیں، جن کاجواب انھیں نہیں مل پارہاہے:
۱- ایک سوال تویہ ہے کہ اس ملک کی آزادی کامقصدکیاتھا؟ ظاہرہے کہ اس کا جواب’’ظلم وستم سے آزاد فضاؤوں میں سانس لینا اورپرسکون زندگی گزارنا‘‘ ہے، اس جواب پرغورکرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کی آزادی کایہ مقصد پوراہورہاہے؟ ملک کے اس کونے سے لے کراس کونے تک کاسفر کرلیجئے، ایک بڑی تعدادکے سامنے خوف وہراس کاعفریت منھ کھولے کھڑانظرآتاہے، علاقائی تعصب، مذہبی تعصب، ذات پات کا تعصب، مالداری اورغریبی کاتعصب اورکہیں کہیں رنگ ونسل کاتعصب اس شدومد کے ساتھ اٹھ کھڑےہوتےہیں کہ اس کے دبتے دبتے ہزاروں کی جانیں جاچکی ہوتی ہیں، ستم اس پریہ ہوتاہے کہ ملک کے اقتداراعلی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینکتی۔
۲- دوسراسوال یہ ہے کہ ملک کی آزادی کے بعدجوقانون اوردستوربنا، اس میں ہراس شخص کاخیال رکھاگیاہے، جواس ملک میں رہتابستاہو، اس کی شخصی آزادی اور مذہبی آزادی کی رعایت خصوصیت کے ساتھ کی گئی ہے؛ لیکن کیاآج اس قانون کی پاسداری کی جارہی ہے؟ اس کاجواب حکومت اوراس کے کارندوں کے اعمال اوران کی زبان سے واضح طورپرہمیں مل رہاہے، اس پرزیادہ کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں، تقریباً ہرروز کچھ نہ کچھ مشاہدہ میں آہی جاتاہے۔
۳- تیسراسوال یہ اٹھتا ہے کہ آزادی کے سترسال سے زائدکاعرصہ گزرجانے کے باوجود بے روزگاری کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ لوگ پڑھے لکھے ہونے کے باوجودمارے مارے کیوں پھررہے ہیں؟ روزگارنہ ملنے کی وجہ سے نوجوان خودکشی کرنے پرمجبورہیں، اس طرح کے کتنے واقعات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں؛ لیکن اس کی طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔
۴- ایک سوال یہ بھی ہے تعلیم کے سلسلہ میں کئی مرتبہ بل پاس ہوئے؛ لیکن آج بھی تعلیمی اعتبارسے وہی پسماندگی پائی جارہی ہے، بالخصوص قبائلی اوراقلیتی طبقات میں، جگہ جگہ اسکول کھولنے کی بات کی جارہی ہے، اساتذہ کی تقرری بھی عمل میں آہی جاتی ہے، جن کی تنخواہیں بھی بڑی پرکشش ہوتی ہیں، بچے بھی اسکول جاتے ہیں، اس کے باوجودتعلیم ندارد، غلطی کہاں پائی جارہی، جس کی وجہ سے تعلیمی پسماندگی دورہونے کانام ہی نہیں لے رہی ہے؟اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے ابھی جو تعلیمی پالیسی سامنے آئی ہے، اس میں خصوصیت کے ساتھ ایک نظریہ کوپیش نظر رکھا گیا ہے، نیز تعلیمی سیشن کوبڑھادیا گیاہے، جس کانتیجہ یہ ہوگا کہ بڑی تعداد میں بچوں کی تعلیم ادھوری رہنے والی ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ تعلیمی پالیسی کس لئے بنائی جاتی ہے؟ تعلیمی ترقی کے لئے یاپھرتعلیم کاگلاگھونٹنے کے لئے؟
۵- ایک سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ آزادی کامطلب بے خوف وخطر جہاں چاہیں آئیں جائیں، یہ نہیں کہ ہمیشہ دھڑکالگارہے، بالخصوص عورتوں، لڑکیوں اوربچیوں کے ساتھ اغوا، ریپ ، دست درازی اوراقلیتوں کے ساتھ موب لنچنگ وغیرہ کے جومعاملے پیش آچکے اورآرہے ہیں، وہ ملک کے ہرباشندہ کاسرجھکانے کے لئے کافی ہے۔
۶- یہ بھی ایک بڑاسوال ہے کہ سرکاری کوئی بھی کام اس وقت تک انجام نہیں پاسکتا، جب تک کہ رشوت نہ دی جائے، اپنے ملک کے لوگ ہیں؛ بل کہ بھائی بندو ہیں، اس کے باوجوداپناجائز حق لینے میں رشوت دینی پڑتی ہے، اس سے معلوم ہورہاہے کہ ملک کس ڈگرکی طرف چل چکاہے۔
۷- یہ سوال بھی بہت معنی خیز ہے کہ جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور تھماتے ہیں، ان کے رویہ سے یہ محسوس کیوں نہیں ہوتاکہ وہ حقیقتاً ملک میں ترقی چاہتاہے؟ سفراوردیگراخراجات ہی میں اس کے کروڑوں روپے صرف ہوجاتے ہیں، جویقیناً بے مصرف کاصرفہ ہوتاہے، اگریہی روپے غریبی دورکرنے میں ہوتوکتناہی اچھاہو۔
یہ اوراس طرح کے سینکڑوں سوالات ایسے ہیں، جن کے جوابات سترسال سے زائدعرصہ بیت جانے کے بعدبھی عوام الناس کونہیں مل پار ہے ہیں، ہم ہرسال ۱۵؍ اگست کے دن آزادی کاجشن روایتی اوررسمی طورپرمناتولیتے ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارایہ جشن کھوکھلا ہوتاہے، یہ بالکل ویساہی ہوتا، جیسے ہم عیدکے دن دل ملے یانہ ملے اپنے دشمن کوبھی گلے لگالیتے ہیں۔
یوں تواس سال کے جشن آزاد ی میں کورونا کی وجہ سے شاید دم خم نہ نظرآئے , لیکن پھربھی آزادای تومنائی جائے گی؛ لیکن اس سال آزادی منانے سے پہلے ہم میں سے ہرشخص کوچاہئے کہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کرے اوراس کے لئے جہاں تک ہوسکے، جائے، الکٹرانک، پرنٹ اورشوشل میڈیاز کااستعمال کرے ، اپنے ملنے جلنے والے ہرفردکے سامنے یہ سوالات رکھے اوران سے جواب مانگے، اورجب تک جواب نہ ملے ، تلاش کرتارہے، ابھی وقت بہت باقی ہے، ان سوالات کے جواب کے ذریعہ ہی ہم ملک کوبچاسکتے ہیں اورملک کی جس آزادی کے لئے ہمارے پرکھوں نے قربانیاں دی ہیں، اس آزادی کوپایاجاسکتاہے، ورنہ نام آزادی کااورکام غلامی کا ہوتارہے گا اورپھر وہی ظالم گوروں کادور؛ بل کہ اس سے بھی بدتردورآئے گااوریہ مان اورجان رکھئے کہ صرف کسی ایک طبقہ کے لئے نہیں آئے گا؛ کیوں کہ :
لگے گی آگ توآئیں گے گھرکئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
jamiljh04@gmail.com / Mob: 8292017888

No comments:

Post a Comment