Saturday, 12 September 2020

من کی بات اورہوم منسٹر


 من کی بات اورہوم منسٹر

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


آج بڑے دنوں کے بعد بازارجاتے ہوئے دورسے ایک مردآدمی پرنظرپڑی، جولانبے لانبے ڈگ بھرتے ہوئے تیزگامی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے، تھے توساٹھے پاٹھے کے پھیرمیں؛ لیکن چال سے ایسا لگ  نہیں رہاتھا، ہاں، تھوڑھے لچک گئے تھے، اس سے صاف محسوس ہورہاتھا کہ چال اورعمرمیں کافی فرق ہے، میں بھی کہاں ماننے والاتھا،شک کی سوئی جواٹک چکی تھی، بس رفتار میں گیئر لگا کرآگے بڑھا اوربندۂ خدا کواورٹیک کرلیا، نئی نویلی دوشیزاکی مانند گھونگھٹ بھی ڈالے ہوئے تھے، پہلے توجھجھکا کہ کس کواورٹیک کرلیاہے؟ لیکن مخاطب کی آواز نے واضح کردیاکہ یہ پروفیسرٹامک ٹوئیاں ہیں، کچھ حیران سے، کچھ پریشان سے، وجہ پوچھی توفرمانے لگے:

’’لوگ کہتے ہیں کہ خوشی یاغم سے آنکھ کے پھڑکنے کابڑاتعلق ہوتاہے، اگردائیں آنکھ پھڑکے تومطلب کوئی خوشی کی بات آپ تک پہنچنے والی ہے، جھوا لے کرتیار رہیں ؛ لیکن اگربائیں آنکھ پھڑکے توکچھ تو گڑبڑ ہے، آج دودن سے دائیں آنکھ پھڑک رہی تھی؛ بل کہ بسااوقات توایسامحسوس ہوتا، جیسے پھدک رہی ہو، ایسے میں کھٹکا بھی آگھیرتاہے کہ کہیں  پھدک کرباہرکی طرف دوڑنہ لگادے اورپھرلوگ ایک نئی ہیئت کی چیزکوبھاگتے ہوئے دیکھ کرکورونانہ سمجھ لیں، پھرتوبے چاری کاکچومبربننے سے کوئی نہیں بچاسکتا، ویسے بھی لوگ آج کل ہمارے دیش میں پٹتے ہؤوں کوکہاں  بچاتے ہیں؟ بس تصویرنکالنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں؛ تاکہ سوشل میڈیا میں’’بریکنگ نیوز‘‘بناکرجلدی شیئرکرسکیں‘‘۔

’’توآپ جا کہاں رہے ہیں؟‘‘، میں نے ان کی تقریرکوسن کرسوال کیا، کہنے لگے : 

’’تم توجانتے ہی ہو، میں اپنی کسی بھی جسمانی تبدیلی کے علاج کے لئے اپنے گھریلوحکیم صاحب کی ہی پاس جاتاہوں، بس توآنکھ کے علاج کے لئے انہی حکیم صاحب کے پاس جارہاہوں‘‘۔

    ’’آپ کے کوئی گھریلوحکیم بھی ہیں؟‘‘، توپھرگھرہی میں کیوں نہیں دکھایا؟ گھریلوتوگھرمیں ہی رہتتے ہیں نا پروفیسر صاحب؟ میں نے چٹکی لینے کے لئے کہہ تودیا؛ لیکن پھر جوپروفیسرٹامک ٹوئیاں شروع ہوئے توبس اللہ کی پناہ؛ لیکن …اب پچھتائے کیاہوت، جب چڑیاں جگ گگئیں کھیت‘‘؟

    لفظ گھریلوکے معنی بتانے میں لگ گئے، اضافتی معنی، صفاتی معنی، مرکب معنی، مفردمعنی،اس لغت سے ، اُس لغت سے، پھران لغات کے درمیان مقارنہ اورموازنہ، اس کے بعدراجح مرجوح کاعمل، پھراسکے استعمالات، استشہاد کے لئے قدیم اردوشعراء کے کئی حوالے، پروفیسرصاحب اٹکے بغیر، روانی کے ساتھ بولے جارہے ہیں، منھ سے بعض دفعہ فوارے بھی نکل رہے ہیں، کئی مرتبہ توصاف شفاف دستی سے چہرہ کوصاف بھی کرناپڑا،  میں نے کنی کاٹنے کی کوشش کئی بارکی ؛ لیکن… اُف… ارے کہاں؟ ابھی توفلاں لغت کی بات رہ گئی، اوردیکھواس فلاں لغت میں یہ ہے اورفلاں ماہر لسانیات نے اس تعلق سے یہ لکھاہے وغیرہ وغیرہ۔

بھلا ہواس ’’بھول‘‘ کاجس کی وجہ سے پروفیسرصاحب کی یہ معنی خیز سمع خراشی سننی پڑی، ورنہ پروفیسرصاحب کبھی بھی اپنے کام کومؤخرنہیں کرتے، پہلے کام، پھرکلام، یہ اصول ہے ان کا، آپ چاہے جتنے موڈ ہوں؛ لیکن ان کاموڈ بن ہی نہیں سکتا، بولتے بولتے زبان کوایسے لگام دیا ، جیسے اچانک فورویلرکے سامنے کوئی بچہ آپڑاہو ، دراصل اب انھیں یہ یاد آچکاتھا کہ وہ کس کام سے نکلے تھے، بس پھرچلتے بنے؛ چلتے چلتے بول گئے کہ : کہاں تمہارے چکرمیں پھنس گیا، میں توحکیم چری کے پاس جارہاتھا۔

پروفیسرصاحب کی’’ تحقیق انیق‘‘ کے چکرمیں خودبھول گیاکہ کیاکیاسوداسلف لیناتھا؟ یادداشت کی بدولت کچھ لیااورگھرکے لئے روانہ ہوا، جیسے ہی گھرپہنچا’’ہوم منسٹر‘‘ کی آنکھیں چڑھی ہوئی نظرآئیں، میں توگھبراہی گیا، بڑے پیارسے پوچھا: یہ آپ کوکیاہوا؟بس جووہ پھٹی ہیں توگرتے گرتے بچا،اب یادآیاکہ یہاں مچھلی کامسالہ تیارہے اورمچھلی بے چاری بازارمیں، الٹے قدم واپس بازارآیاتویہاں مچھلی ختم، تین چارمچھلی بیچنے والوں کے پاس گیا؛ لیکن آج …آہ… نہ ملنی تھی، نہ ملی، مرتاکیانہ کرتا، مظلوم پولٹری فارم ہی سے کام چلانے کاارادہ کیا۔

کالی پالی تھین دیکھ کران کی آنکھوں کی چڑھائی کچھ  اتری ؛ لیکن کھول کردیکھتے ہی پارا پھر سے گرم ہوگیا اورقبل اس کے کہ وہ زبان کوبے لگام کرتیں اچانک پڑوس کے ایک صاحب ٹپک پڑے، وہ کچھ پوچھنے آئے تھے اوراکثرآتے ہی رہتے ہیں، ان کودیکھ کرہوم منسٹرکچن میں جاگھسیں؛ البتہ وہاں سے کچھ آوازیں ایسی آرہی تھیں، جیسے مکھی بھنبھنارہی ہو، میں سمجھ گیا، وہ من ہی من میں میری خاطرتواضع کرہی تھیں، میں نے بھی اس طرف کان نہیں دیااور’’ٹھینگے سے‘‘ کہہ کرڈرائنگ روم کی طرف چل پڑا، جہاں پڑوسی انتظارمیں تھا، اس کے ساتھ بات کرنے میں قصداً نصف گھنٹہ صرف کیا، پھرجب وہ چلاگیا تومیں نے یہ سوچتے ہوئے کہ ہوم منسٹرکے من کی بات کا کیا بکھیڑاکرنا، من کی بات کی آج کل قدرکہاں رہی، پی ایم صاحب کے من کی بات ہی کولیجئے، ڈس لائک نے توریکارڈ توڑدیا، بس یہ سووچ کرسیدھے ڈائنگ ٹیبل پرآدھمکا، جہاں ہوم منسٹر کھاناسجائے انتظارمیں اونگھ رہی تھی۔

jamiljh04@gmail.com  / Mob:8292017888


No comments:

Post a Comment