ماہِ صفرکے توہمات
شریعت اسلامی کی روشنی میں
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888
کائنات کی ساری چیزیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق کردہ ہیں، جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ ان کے اندربذات خودکوئی صلاحیت نہیں ہے، بس اتنی ہی صلاحیت ان کے اندرہے، جتنی ان کے خالق نے دے رکھی ہے، اس اعتبارسے اگردیکھاجائے توچیزوں کے اندر، خواہ وہ انس ہو یا جن، پانی ہو یا ہوا، شجرہو یا حجر، دریا ہو یا پہاڑ، چاند ہو یا سورج، ستارے ہوں یا سیارے، دن ہویارات، ماہ ہوسال، کسی کے اندریہ صلاحیت نہیں ہے کہ کچھ کرسکے، کسی کونقصان یافائدہ پہنچاسکے، اس حقیقت کی طرف اشارہ قرآن مجید کے ایک مختصر جملہ میں واضح کیاگیاہے، ارشادہے: لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (الکهف:۳۹) ’’کوئی طاقت نہیں ہے؛ مگراللہ کی توفیق سے‘‘،مفسرخازنؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
إقراراً بأن ماقویت به علی عمارتها، وتدبیرامرہا بمعونة اللہ، وتأییدہ، ولاأقدرعلی حفظ مالی، ودفع شئی عنه إلاباللہ۔(تفسیرخازن:4؍213)
یہ اس بات کا اقرارہے کہ تعمیروتدبیرکی جوبھی قوت مجھے حاصل ہے، وہ اللہ کی توفیق سے ہے اوراس کے بغیرمیں اپنے مال کے تحفظ پرقادرنہیں ہوں۔
یہ توبات انسان کی کی جارہی ہے، جواشرف المخلوقات ہے، توجواشرف المخلوقات نہیں ہیں، ان کے اندرظاہرہے کہ کسی قسم کی کوئی صلاحیت کیسے ہوسکتی ہے؟ ہاں، اتنی صلاحیت ہرایک میں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے۔
اسی کااظہارحضرت عمرفاروقؓ نے ان الفاظ میں کیاہے:
إنی لأعلم أنک حجر، لاتضر ولاتنفع، ولاأنی رأیت النبی ﷺ یقبلک، ماقبلتک۔(بخاری، باب ماذکرفی الحجرالأسود، حدیث نمبر:۱۵۹۷)
مجھے خوب معلوم ہے کہ توایک پتھرہے، نہ نقصان پہنچاسکتاہے اورنہ نفع، اگرمیں نے نبی کریمﷺ کوتجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھاہوتاتومیں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔
اس کی تشریح میں علماء نے لکھاہے کہ :
وفیه دفع ماوقع لبعض الجهال من أن فی الحجرخاصیة ترجع إلی ذاتة۔(دلیل الفالحین:۲؍۱۱۹)
اس کے اندرجاہلوں کے اس تصورکودورکرنابھی ہے کہ پتھرمیں بذات خودکوئی خاصیت ہے۔
دن ورات اورماہ وسال بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہیں، ظاہرہے کہ ان کے اندربھی بذات خودکوئی ایسی صلاحیت نہیں ہے، جس کونفع ونقصان کا ترازوبنایاجاسکے؛ لیکن بہت سارے مسلمان بھائی بالخصوص ہمارے برصغیرہندوپاک میں ایسے عقائدپرجمے ہوئے ہیں، جوسراسربے بنیاد ہیں، جیسے: محرم الحرام کامہینہ غم کامہینہ ہے، اس میں خوشی کاکوئی کام نہیں کیاجاسکتا، اماوس کی رات میں یہ نہیں کرناچاہئے یایہ کرناچاہئے وغیرہ، ایساہی کچھ عقیدہ ماہ صفرکے بارے میں بھی ہے۔
بعضوں کاخیال یہ ہے کہ چوں کہ اس مہینہ میں حضوراکرمﷺ کومرض الوفات پیش آیاتھا؛ اس لئے یہ نحوست کامہینہ ہے، بعضوں کاخیال یہ ہے کہ جس طرح محرم کامہینہ حضرت حسین ؓ کی شہادت کی وجہ سے ماتم کامہینہ ہے، اسی طرح صفرکامہینہ بھی ماتم کامہینہ کہ اس میں حضرت حسنؓ کی وفات ہوئی، بعضوں کاخیال یہ ہے کہ اس مہینہ کے ابتدائی تیرہ دنوں تک نئے شادی شدہ جوڑوں کوساتھ ساتھ نہیں رہناچاہئے، جب کہ بعضوں کا خیال ہے کہ یہ مہینہ بلاؤں کامہینہ ہے اورصرف اس مہینہ میں نولاکھ بیس ہزاربلائیں دنیامیں اترتی ہیں۔
اس ماہ کے بارے میں یہ اوراس قسم کے الٹے سیدھے خیالات بہت ساری عوام کے ذہنوں میں بسے ہیں؛ چنانچہ جن کے خیالات میں یہ نحوست کامہینہ ہے، وہ اس ماہ میں کوئی ایساکام نہیں کرتے، جس میں خوشی کی جھلک بھی پائی جائے، اورجن کے خیالات میں یہ مصائب کامہینہ ہے، وہ مصائب کودورکرنے کے لئے کچھ خاص قسم کے ٹوٹکے بھی کرتے ہیں، مثلا: اس مہینہ کے آخری بدھ کوروزہ رکھنے کااہتمام ، اورسلام قولامن رب رحیم، سلام علی نوح فی العالمین، سلام علی ابراهیم، سلام علی موسی وهارون، سلام علی المرسلین، سلام علیکم طبتم فادخلوهاخالد ین، سلام هی حتی مطلع الفجر لکھواکرپانی میں گھول کردفع بلیات کے لئے پینے کااہتمام وغیرہ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی اساس، یہ بالکل لوگوں کی من گھڑت باتیں اوران کے دماغ کی اپچ ہیں، شریعت سے ان باتوں کاکوئی تعلق نہیں؛ بل کہ اس طرح جوباتیں حدیث کے نام سے موسوم ہیں، وہ موضوع روایتیں ہیں، جن کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے:
لاتکذبوا علی، فإنه من کذب علی فلیلج النار۔(بخاری، باب اثم من کذب علی النبیﷺ، حدیث نمبر:106)
مجھ پرجھوٹ نہ کہو؛ کیوںکہ جو مجھ جھوٹ کہے گا، وہ جہنم میں جائے گا۔
اوران جیسی روایتوں سے کسی قسم کااستدلال نہیں کیاجاسکتا؛ بل کہ ان کابیان کرنابھی حرام ہے، محمدبن ابراہیم حلبیؒ لکھتے ہیں:
وحکم روایة الموضوع مطلقاتحریمهاعلی من علم أوظن أنه موضوع؛ إلامع بیان حاله۔(قفوالأثر فی علوم صفوۃ علوم الأثر، فصل فی الحدیث المردود، ص:14)
جاننے یاموضوع گمان کرنے والے شخص پرموضوع حدیث کابیان کرنامطلق حرام ہے؛ الایہ اس کی حیثیت بھی بیان کردے۔
ماہ صفرکے تعلق سے یہ سب باتیں صرف اسی زمانہ کے لوگوں میں نہیں پائی جاتیں؛ بل کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی پائی جاتی تھیں؛ چنانچہ ابن وہب کہتے ہیں:
کان أهل الجاہلیة یقولون: إن الصُفارالتی فی الجوف، تقتل صاحبها، وهي التی عدت علیه إذامات۔ (المنتقی شرح الموطأ :4/366)
اہل جاہلیت کہتے تھے کہ پیٹ میں موجودصفارنامی کیڑاآدمی کی جان لیتاہے اوراس کی موت کے بعدوہ اس پرمتعدی ہوتاہے۔
عرب کے لوگ بھی اس مہینہ کونہ صرف یہ کہ منحوس سمجھتے تھے ؛ بل کہ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اس مہنہ میں کثرت سے بلائیں اترتی ہیں، علامہ سندیؒ لکھتے ہیں:
انهم یتشاء مون به، ویریدون أنه یکثرفیه الدواهی والفتن۔(حاشیة السندی علی ابن ماجة، باب من کان یعجبه الفأل …:4؍662)
وہ لوگ اس مہینہ کومنحوس سمجھتے تھے اورکہتے تھے کہ اس ماہ میں مصیبتوں کی کثرت ہوتی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺنے صفرکے مہینے کے تعلق سے لوگوں کے اس تصورکی بنیادہی ٹھادی ہے، اللہ کے رسولﷺ نے ارشادفرمایا:
لاعدوی،ولاطیرۃ، ولاهامة، ولاصفر۔(بخاری، حدیث نمبر:۵۷۵۷)
چھوت چھات، پرندوں اورالوکی کھوپڑی کی بدفالی اورصفرکی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
علامہ مناویؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
قال البیضاوی: ویحتمل أن یکون نفیا لما یتوهم أن شهرصفرتکثرفیه الدواهی والفتن۔(فیض القدیر؍6؍433)
امام بیضاویؒ کہتے ہیں: اس بات کابھی احتمال ہے کہ صفرکے مہینے میں مصائب وآلام کی کثرت کی نفی کی جارہی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ ماہ صفرکے تعلق سے ہمارے جوخیالات ہیں، وہ بے بنیادہیں؛ اس لئے ہمیں ان سے بچناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین !
No comments:
Post a Comment