رمضان کے آخری عشرہ میں کرنے کے کام!
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
رمضان المبارک کاپورامہینہ ہی رحمت ، برکت اورسعادت کامہینہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ اس کی آمدسے قبل ہی لوگوں کواس کی اطلاع فرماتے اوریہ اطلاع محض اطلاع نہیں ہوتی تھی؛ بل کہ اس کااصل مقصداس مہینہ کی قدردانی کے لئے لوگوں کی ترغیب ہوتی تھی، اللہ کے رسولﷺ فرماتے : أتاکم رمضان، شہر مبارک، فرض اللہ عزوجل علیکم صیامہ، تفتح فیہ أبواب السماء، وتغلق فیہ أبواب الجحیم، وتغل فیہ مردۃ الشیاطین، للہ فیہ لیلۃ خیرمن ألف شہر، من حرم خیرہا، فقد حُرم۔ (نسائی، باب فضل شہر رمضان، حدیث نمبر: ۲۱۰۸)’’تم پر رمضان کا مہینہ آنے والاہے، جس کے روزے اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم پر فرض کئے ہیں، اس میں آسمان(جنت)کے دروازے کھول اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں، اوراس میں مردود شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے، اس مہینہ میں ایک رات اللہ کے لئے ایسی ہے، جوہزارمہینوں سے بہتر ہے، جواس کی بھلائیوں سے محروم رہا، وہ محروم (القسمت) ہے‘‘۔
پھراس مہینہ کے آخری دس دنوں میں حضوراکرم ﷺ کی عبادت وریاضت دوچندہوجاتی تھی، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: کان رسول اللہ ﷺ یجتہد فی العشر الآواخر مالایجتہد فی غیرہا ’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے اخیرعشرہ میں جتنی مشقت اٹھاتے، اتنی مشقت دوسرے دنوں میں نہیں اٹھاتے‘‘ (سنن الترمذی، حدیث نمبر:۷۹۳)، عبادت وریاضت کی مشقت صرف خودہی نہیں فرماتے؛ بل کہ اپنے گھروالوں کوبھی اس پرآمادہ کرتے تھے؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: کان رسول اللہ ﷺ إذادخل العشر أحیااللیل وأیقظ أہلہ وجد وشد المئزر ’’جب اخیرعشرہ آتاتوآپ ﷺشب بیداری فرماتے، اپنے گھروالوں بیدارکرتے اور(عبادت کے لئے)کمرکس لیتے‘‘ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۱۷۴)۔
مذکورہ احادیث سے رمضان کے اخیرعشرہ کی خصوصی فضیلت معلوم ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ بذات خودرمضان کے دوسرے دنوں کے مقابلہ میں اخیر کے دس دنوں میں زیادہ محنت ومشقت فرماتے تھے اوراپنے گھروالوں کوبھی اس کی ترغیب دیتے تھے، اب سوال یہ ہے کہ اخیرکے ان دس دنوں میں محنت ومشقت کرنے کے لئے ہمیں کون کون سے اعمال کرنے چاہئیں؟اس سلسلہ میں احادیث سے ہمیں مندرجہ ذیل اعمال کاپتہ چلتاہے:
۱- شب بیداری: رمضان المبارک کے اخیرعشرہ کاایک کام ’’شب بیداری‘‘ہے، یعنی راتوں کوجاگاجائے؛ لیکن یہ جاگناصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہو، دوسرے فضولیات کے لئے نہ ہو، اللہ کے رسول ﷺ ان ایام میں باقاعدہ شب بیداری کااہتمام فرماتے تھے، جیساکہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’جب(رمضان کا) اخیرعشرہ آتاتوآپ ﷺشب بیداری فرماتے‘‘،لہٰذاہمیں بھی اس کاخصوصی اہتمام کرناچاہئے۔
۲- گھروالوں کوعبادت کے لئے بیدارکرنا: ہم میں سے ہرشخص کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کی تمام ضرورتوں کواہتمام کے ساتھ پوراکرے، اس کے لئے وہ بھاگ دوڑ؛ بل کہ بیرونِ ملک تک کا سفرکرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا، کیاایسے شوہر پریہ ذمہ داری عایدنہیں ہوتی کہ وہ انھیں عبادت کے لئے بھی ترغیب دے؟ ظاہرہے کہ اس پر یہ ایک ذمہ داری ہے، رسول اللہ ﷺ بھی رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں خصوصیت کے ساتھ اس کااہتمام فرماتے اورذاتی طورپرشب بیداری کے ساتھ اپنے گھر والوں کوبھی بیدار کرتے تھے، جیساکہ حضرت عائشہؓ کی حدیث میں ہے کہ ’’اورگھروالوں کوبیدارفرماتے‘‘، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ عبادت کے لئے ذاتی طورپرتوشب بیداری کااہتمام کریں ہی، اس کے لئے گھروالوں کوبھی بیدارکریں اوراس کوایک ایساکام سمجھیں، جس میں ثواب کی امیدبھی ہو؛ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ کاارشادہے: رحم اللہ رجلاً قام من اللیل فصلی ، وأیقظ امرأتہ فصلت، فإن أبت رش فی وجہہا الماء۔’’اللہ تعالیٰ اس شخص پررحم فرمائے، جورات میں بیدارہوکرنماز پڑھتاہے اوراپنی بیوی کوبیدارکرتاہے اوروہ اٹھ کرنماز پڑھتی ہے، اگربیوی اٹھنے سے انکارکرتی ہے تواس کے چہرہ پرپانی کا چھڑکاؤ کرتاہے(تاکہ بیوی جاگ جائے اورنماز پڑھ لے)‘‘(سنن ابن ماجۃ، باب ماجاء فیمن أیقظ أہلہ من اللیل،حدیث نمبر:۱۳۳۶)۔
۳- اعتکاف : اخیرعشرہ کاایک اہم کام ’’اعتکاف‘‘ ہے، یہ حکم کے اعتبارسے سنت علی الکفایہ ہے، یعنی محلہ کی پنج وقت نمازوالی مسجد میں محلہ کے کسی فردنے بھی اعتکاف کرلیاتوتمام محلہ والوں کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، بہ صورت دیگرسارے محلہ والے گناہ گارہوں گے، رمضان المبارک کے اس اعتکاف کی مدت دس دن ہے، جس کی ابتداء بیس تاریخ کے سورج ڈوبنے کے بعدسے شرو ع ہوتی ہے اورشوال کاچاندنظرآنے تک اس کاوقت چلتارہتاہے، اس اعتکاف کے لئے روزہ رکھناشرط ہے، اگرغیرروزہ دار یہ اعتکاف کرناچاہے تویہ درست نہیں(ردالمحتار، کتاب الصوم: ۱؍۴۳۰)، رمضان المبارک کے اس دس دن کااعتکاف خودرسول اللہﷺ بھی کیاکرتے تھے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺرمضان کے اخیرعشرہ کااعتکاف کرتے تھے(مسلم، حدیث نمبر:۱۱۷۱)، دوسرے سالوں میں کوئی مسجد اعتکاف کرنے والوں سے خالی نہیں رہی ہے، اس سال بھی خالی نہیں رہنی چاہئے کہ حکومت کی طرف سے اس کی کوئی پابندی نہیں ہے؛ بل کہ کم از کم پانچ لوگوں کومسجد میں ہرنماز کے لئے آنے جانے کی اجازت ہے، اسی اجازت کافائدہ اعتکاف میں اٹھاناہے اوراگرپہلے کسی مسجدمیں صرف ایک ہی فرداعتکاف میں بیٹھاکرتاتھاتواس سال چوں کہ فراغت ہے؛ اس لئے کم از کم ہرمسجدمیں پانچ آدمی توبیٹھ ہی سکتے ہیں، ورنہ سنت علی الکفایہ کی ادائے گی کے لئے ایک شخص کاتو بیٹھنا بہرحال ضروری ہے، ورنہ سارے محلہ والے گناہ گار ہوں گے۔
۴- لیلۃ القدرکی تلاش: رمضان کے اخیرعشرہ کاایک اہم کام’’شب قدر‘‘کی تلاش ہے، یہ عددکے اعتبارسے ہے توایک رات ہے؛ لیکن قدروقیمت کے اعتبارسے ہزار مہینوں سے افضل ہے، قرآن مجیدہے: ’’ لیلۃ القدرہزارمہینوں سے بہترہے‘‘(القدر:۲)، اس ایک رات میں اگرکوئی عبادت کرلیتاہے تواسے ہزارمہینوں یعنی ۸۳؍سال ۴؍مال کی عبادت کاثواب ملتاہے، یہ تو’’کم خرچ بالانشین ‘‘والاہوا، عبادت صرف ایک رات کرنی ہے اورثواب تراسی سال کاحاصل کرناہے، اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ اس رات کوتلاش کرنے کازیادہ مواقع ہمارے پاس میسرہیں؛ اس لئے اس سے ضرورفائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ کون سی رات ہے؟ یقینی طورپراس کی تعیین نہیں کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی تعیین کے سلسلہ میں علماء کے تقریباً ۴۸؍اقوال ملتے ہیں(فتح الباری: ۴؍۳۰۹-۳۱۳)، تاہم زیادہ تر اہل علم کاخیال ہے کہ رمضان کے اخیرعشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیاجائے، اللہ کے رسولﷺ نے اس کاحکم بھی فرمایاہے؛ چنانچہ ارشادہے: ’’اس رات کورمضان المبارک کے اخیرعشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘(الجمع بین الصحیحین، حدیث نمبر: ۱۲۷۱)،یعنی رمضان کے اکیس ، تئیس، پچیس، ستائیس اورانتیس (21,23,25,27,29) کو اسے تلاش کیاجائے، پھران راتوں میں بھی اکیس کی رات کوفقہائے شوافع راجح قراردیتے ہیں؛ تاہم جمہوراہل علم، جن میں حضرت ابن عباس اورصحابہ کی ایک جماعت بھی ہے، کارجحان رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کی طرف ہے،علامہ عینی ؒنے امام ابویوسف اورامام محمدکی طرف بھی اسی قول کومنسوب کیاہے(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۴۰۰)۔
۵- بیوی سے کنارہ کشی: رمضان کے آخری عشرہ کی چوں کہ دوسرے دنوں کے مقابلہ عبادت وریاضت کی زیادہ تاکیدآئی ہے ، نیزآپ ﷺ بھی بذات خود ان دنوں میں عبادت کازیادہ اہتمام فرمایاکرتے تھے اورعبادت کے ساتھ اعتکاف بھی کیاکرتے تھے اورظاہرہے کہ یہ تمام چیزیں اس بات کاتقاضاکرتی ہیں کہ بیوی سے بالکل کنارہ کشی اختیارکرلیاجائے اورعبادت میں مکمل طورپرمشغول ہوجایاجائے؛ چنانچہ حدیث میں جولفظ ’’شد المئزر‘‘ آیاہواہے، شراح حدیث نے اس کے معنی یہی لئے ہیں، ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں: ہوکنایۃ عن اعتزال النساء وترک النکاح ودواعیہ وأسبابہ’’یہ عورتوں سے کنارہ کشی اورجماع اوراسباب جماع سے رکنے سے کنایہ ہے‘‘(مرقاۃ المفاتیح، باب لیلۃ القدرء ۶؍۴۳۰، المفہم لماأشکل من تلخیص کتاب مسلم، باب الأمر بالتماس لیلۃ القدر: ۱۰؍۲۵)، لہٰذا رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں ہمیں بھی چاہئے کہ عبادت وریاضت میں مشغول ہوجائیں اورعبادت میں خلل پیداکرنے والے اسباب سے دوری اختیارکرلیں، جن میں سے ایک ’’بیوی سے کنارہ کشی‘‘ بھی ہے۔
۶- دعاء کاخصوصی اہتمام: اخیرعشرہ میں چوںکہ لیلۃ القدربھی آتاہے، جوہزارمہینوں سے بہترہے، اس میں کی ہوئی عبادت کاثواب ہزارمہینوں کے بقدرہے، اس رات میں چوں کہ دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں؛ اس لئے لیلۃ القدرکی رات خصوصیت کے ساتھ دعاء کرنی چاہئے، یوں تواس رات ہرطرح کی جائزدعائیں کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن اللہ کے رسولﷺ نے ایک مختصراورجامع دعاء بھی بتائی ہے، وہ دعاء یہ ہے: اَللّٰہُمَّ إنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔ ’’اے اللہ ! بے شک تومعاف کرنے والاہے اور معاف کرنے کوپسندکرتاہے، مجھے معاف کردے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۳۵۱۳)، لہٰذا ہمیں بھی دعاؤوں کااورخصوصیت کے ساتھ اس دعاء کااہتمام کرناچاہئے۔
۷- رات کے کھانے سے پرہیزکرنا: کھاناکھانے کے بعدانسان کے اندرسستی طاری ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے عبادت میں بھی کوتاہی واقع ہوجاتی ہے، رمضان کااخیرعشرہ چوں کہ کثرت عبادت کامتقاضی ہے، جوسستی کے بجائے نشاط اورچستی کوچاہتاہے، جب کہ کھاناکھانے سے سستی پیداہوجاتی ہے؛ اس لئے رمضان کے اخیرعشرہ کا ایک معمول اللہ کے رسول ﷺکایہ بھی نقل کیاگیاہے کہ رات کاکھاناتناول نہیں فرماتے؛ بل کہ سحری تناول فرماتے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں: کان النبی ﷺ إذادخل العشرالآواخرمن رمضان طوی فراشہ، واعتزل النساء، وجعل عشاء ہ سحوراً’’جب رمضان کااخیرعشرہ آتاتورسول اللہﷺ اپنابسترلپیٹ لیتے ، عورتوں سے کنارہ کشی اختیارکرلیتے اور رات کے کھانے کوسحری میں تناول فرماتے‘‘ (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر:۵۶۵۳، مجمع الزوائد، حدیث نمبر: ۵۰۲۹)، لہٰذاہمیں بھی چاہئے کہ کثرت عبادت کی غرض سے رات کے کھانے کوسحری تک مؤخرکریں اوررات بھرعبادت میں مشغول رہیں۔
۸- بسترسے دوررہنا: بلاشبہ رات کواللہ تعالیٰ نے آرام کے لئے بنایاہے؛ لیکن رمضان المبارک کامہینہ اس بات کاتقاضاکرتاہے کہ آدمی اپنے آرام کوتج دے اورپوری رات عبادت میں گزارے، بالخصوص اخیرعشرہ کے آرام کوتوتج ہی دے، اللہ کے رسول ﷺ بھی دوسرے دنوں کے مقابلہ میں اخیرعشرہ میں نہ صرف یہ کہ زیادہ عبادت کرتے تھے؛ بل کہ بسترہی لپیٹ کررکھ دیتے تھے، جیساکہ اس سے قبل کی حدیث میں ذکرہے کہ ’’جب رمضان کااخیرعشرہ آتاتورسول اللہﷺ اپنابسترلپیٹ لیتے ‘‘؛ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ نبی کریم ﷺ کے اس معمول کواختیارکرتے ہوئے اخیرعشرہ کی راحت وآرام کوتج دیں اورزیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہیں۔
یہ ہیں وہ اعمال، جن کااہتمام اللہ کے رسولﷺ رمضان کے اخیرعشرہ میں فرمایاکرتے تھے، لہٰذا ان کے امتی ہونے ناطے ہمیں بھی ان اعمال کاخصوصیت کے ساتھ اہتمام کرناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین!!!jamiljh04@gmail.com / Mob: 8292017888
ReplyForward |
No comments:
Post a Comment