جرم ضعیفی
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888
اُف…یہ گرمی…پیاس کی شدت سے حلق میں چھالے اوردھوپ کی تمازت سے جان کے لالے پڑرہے ہیں، شجرسایہ دارتوقطار در قطارہیں؛ لیکن یہ پیاس کونہیں بجھا سکتے ، راستہ بالکل سنسان بھی نہیں، لوگ آجاتورہے ہیں؛ لیکن ان کے پاس پانی نہیں۔
آنکھوں میں اب کچھ دھندسی چھائی جارہی ہے،قدم اٹھاناباراورراستہ چلنادشوارہورہاہے؛ لیکن تسلی ہے کہ بس چندہی قدم کے فاصلہ پرپانی ضرور مل جائے گا۔
وہ آج کافی تھکادینے والے سفرپرنکل پڑاتھا، نکلتانہیں…اورنکلنابھی نہیں چاہئے، اسے تومعلوم ہے کہ گاڑیاں بند ہیں، کوروناکی وجہ سے لاک ڈاؤن چل رہاہے اورلاک ڈاؤن میں سواری گاڑیاں کہاں؟ راستے میں گاڑیاں توآجارہی تھیں؛ لیکن سب ذاتی ہیں، ان سے تولفٹ بھی نہیں لی جاسکتی اورلفٹ بھی کون دیتا؟ کوروناکا عفریت توسبھوں کے سرپرہے، پھربھی …جب وہ کافی تھک گیا توایک دوسے لفٹ لینے کی کوشش کی؛ لیکن……
وہ نکلنے پرمجبورتھا، نہ نکلتا توکیاکرتا؟ دانہ دنکاختم ہوچکاتھا، اب توکوئی غلہ تقسیم کے لئے بھی نہیں آتا، جوش میں اب اوس پڑچکی ہے اوراوس توپڑناہی ہے، آخربیٹھے بیٹھے کتنے دن کوئی پس انداز کئے ہوئے رقم سے گھرداری چلاسکتاہے؟ پڑوسیوں نے کافی مددکی ؛ لیکن کب تک؟ چاروناچارنکل پڑا۔
چلتے چلتے وہ سوچنے لگاکہ زندگی بھی کیسی ہے؟ کب کس پرکونسا وقت آجائے، کہا نہیں جاسکتا؟ اچھی خاصی اس کی کمائی تھی،وہ ایک فیکٹری میں کام کرتاتھا، اتنی کمائی ہوجاتی تھی کہ کھا پی کربچ جاتا، دن ہنسی خوشی کے گزررہے تھے کہ اچانک ایک نادیدہ دشمن نے حملہ کردیا۔
نادیدہ دشمن کاحملہ بہت سخت تھا، اتناکہ پورے ملک میں خوف چھاگیا، ہرشخص گھرسے باہرنکلنے میں ڈرمحسوس کرتا، رشتے ناطے ختم ہونے لگے ، جان پہچان والے انجان بن گئے، اتفاق سے اگرراہ چلتے کسی سے ملاقات ہوجاتی تووہ دورسے کتراجاتا، پہلے جوتپاک سے گلے ملتے تھے، اب ہاتھ ملانے سے بھی ڈرنے لگے، یہ شہراب وہ شہرباقی نہیں رہاتھا، جواس کاجاناپہچاناتھا، اجنبی بن گیاتھا۔
یااللہ! یہ کیسادشمن ہے؟ لوگ گھروں میں دبک کربیٹھ گئے ہیں، اگرکچھ نکل بھی رہے ہیں تومنھ چھپاکر، کوئی پہچان نہ لے، کوئی گلے نہ ملنے لگے، کوئی مصافحہ کے لئے ہاتھ نہ بڑھادے، حالات بالکل ایسے ہوگئے، جیسے دوملکوں کے درمیان جنگ چھڑگئی ہو اورپورے ملک میں جاسوسی کاجال پھیلادیاگیاہو، ہروقت دھڑکا، ہروقت خوف، ایسے میں فیکٹری توچل نہیں سکتی، اس کے تیارکئے سامان کوخرید کون کرے گا؟
مالک نے فیکٹری بندکردی، کام نہیں توپھریہاں رہ کربھی کیاکرے؟ گھرچلاجائے؛ لیکن گاڑیاں بھی توبند ہیں، اب کیاہوگا؟ اسی ادھیڑبن میں دودن گزرگئے کہ اچانک خبرملی کی کچھ اسپیشل گاڑیاں چلائی جارہی ہیں، یہ بھی آن پہنچا؛ لیکن یہاں توسناٹا…، یہ بس افواہ تھی، پریشان صرف یہی نہیں تھا، ہزاروں لوگ تھے، کچھ توپیدل ہی چل پڑے، پانچ سوکیلومیڑ، اف… سوچ کرکلیجہ منھ کوآتاہے؛ لیکن چارہ بھی تونہیں۔
یہ بھی چل پڑا، لشتم پشتم پانچ دن بعد گھرپہنچا، تھکن سے چور، دل سے رنجور، پیروں میں آبلے، جسم میں چھالے، رفتہ رفتہ سب مندمل ہوگئے، گھروالوں کے ساتھ خوش تھا، سوچ رہاتھا کہ کچھ دنوں کی بات ہے، فیکٹری جلدہی کھل جائے گی، یہی کہابھی جارہاتھا، تب تک پس اندازکئے رقم سے کام چل جائے گا؛ لیکن… یہ بندی توشیطان کی آنت نکلی، ختم ہونے کانام ہی لے رہی تھی، اوراب دانہ دنکا بھی ختم…
پھروہی سفر؛ لیکن اب درازی پہلے کے مقابلہ میں کچھ کم تھی؛ لیکن اتنی بھی کم نہیں کہ ہنستے کھیلتے جھیل لیاجائے…وہ بھی پیادہ پا…دھوپ بالکل کے سراوپر، جسم پسینہ سے شرابور، پیاس کی شدت…خشک ہوتاحلق…کافی دورچلنے کے بعدکئی گھرسامنے نظرآئے، دل ہی دل میں وہ خوش کہ اب پیاس بجھ جائے گی، پانی کوئی ایسی چیزتونہیں، جس سے منع کیاجائے، جس سے روکاجائے، کربلامیں توروکا گیا تھا؛ لیکن یہاں تو کربلا نہیں ہے، یہاں توسب دعاسلام کرتے ہیں، پھربھلامنع کیوں کرنے لگے؟
وہ آگے بڑھا، کچھ لوگ کھڑے ملے، اس نے پانی طلب کیا؛ لیکن یہ کیا؟… یہ توخاطرداری کرنے لگے… چائے بسکٹ سے نہیں…ہاتھ لات سے… مکوں گھوسوں سے…وہ سوچنے لگا، کیاپانی مانگنا جرم ہے؟ وہ بھی اس ملک میں،جودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتی ہے، نہیں…نہیں…پانی مانگناجرم تونہیں، پھرمیراجرم کیاہے؟ … ابھی وہ پٹتے ہوئے سوچ ہی رہاتھاکہ ہاتھ میں شدید دردکااحساس ہوا، جیسے ہاتھ کوکاٹاجارہاہو، اس کی چیخیں نکل گئیں، آنکھیں بندہوگئیں، ہلکی سی آنکھ کھلی توہاتھ واقعی کٹ چکاتھااورخون کوفوارہ بہ رہاتھا…جب پوری آنکھ کھلی تو ہاتھ میں بینڈیج بندھاہواتھا، اب اسے احساس ہوا، یقینی احساس کہ اس کاجرم’’جرم ضعیفی‘‘ یعنی اس کا…م…س…ل…م…ا…ن… ہونا تھا ۔

No comments:
Post a Comment