Sunday, 13 September 2020

الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

 الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


ہم نے آج تک بوڑھے پرکھوں سے بھی یہ بات نہیں سنی کہ دریائے’’گنگا‘‘ یا’’جمنا‘‘ نے اپنی سیدھی روانی کوچھوڑکراُلٹی چال چلناشروع کردیاہو، ایک لمحہ کے لئے ہی سہی! یا تاریخ کی تہوں میں غواصی کرکے درنایاب نکالنے والوں نے بھی ایسی کوئی بات نہ کہی نہ لکھی؛ لیکن آج ہم بہت سارے ایسے  افراد کودیکھتے ہیں، جواپنی ناموری اورسُمعہ خواہی کے لئے ایسے الٹے امورانجام دیتے  ہیں، جن کوسن کرہی دماغ جھُنجھُنا جاتا ہے، شاید شاعر نے انھیں کی نسبت یہ کہاہو:

 الٹی اِس شہرمیں بہتی ہوئی گنگا دیکھی

 آیئے! ہم بھی ’’چلوتم اُدھر کوہوا ہو جدھر کی‘‘ پرعمل پیرا ہونے والے کچھ لوگوں کے نمونے دیکھتے چلتے ہیں۔

اگرآپ کویہ دعویٰ کرناہو(اوروہ بھی ببانگِ دُہل)کہ ہم اس دنیامیں امن کے سب سے بڑے علم بردارہیں تواس کی تصدیق کے لئے اتنی دہشت پھیلانی ہوگی کہ لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں، بموں کی اتنی بارش کرنی پڑے گی کہ لوگ اپنے ہی خون میں نہا جائیں؛ بل کہ خون کے دریا میں ڈوب کرغریقِ رحمت ہوجائیں اوربرسوں کے بعد پیداہونے والے بچے بھی اس سے متاثرنظرآئیں۔

اگرآپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ ’’ہم دہشت گردی کے خلاف برسرپیکارہیں‘‘تواس کوثابت کرنے کے لئے شریف ترین آدمی کوڈھونڈ کر(دن میں بھی چراغ لے کر)، جس نے کبھی جرم کاارتکاب توکیا؟ جرم کاتصوربھی جس کے لئے لرزہ خیزہو، سخت ترین قانون(جیسے: ,UPA, Pota) کے تحت گرفتارکرناپڑے گااوراُن لوگوں کو’’آزاد پنچھی‘‘کی طرح آزادچھوڑدینا ہوگا، جو معصوموں کی گردن توڑنے میں اپناثانی نہیں رکھتے؛ تاکہ وہ ان کے ’’خونِ حلال‘‘سے ہولی کھیل سکیں اور شہرشہر، گا ؤں گاؤں ایک ’’مقدس‘‘اورمہاتما شخص کی حیثیت سے دند ناتے پھریں۔

اگرآپ پولیس والے ہیں اوراپنی فرض شناسی کی دادوصول کرکے عہدہ میں ترقی کے آرزومند ہیں توراہ چلتے بے قصورلوگوں کو’’انکاؤنٹر‘‘کے نام پرہلاک کرناہوگا، مذہبی امورانجام دے کرواپس آنے والوں کویہ کہہ کر گرفتارکرناہوگاکہ’’یہ فسادی ہیں، غارت گری مچانے اورشہرکے امن وامان کودرہم برہم کرنے کے لئے آئے ہیں‘‘، جائزحقوق کے مطالبے کرنے ولے نہتے شہریوں کوگولیوں سے بھوننا ہوگا، تب کہیں جاکرترقی کی راہ پرگامزن ہوسکیں گے۔

اگراپنے آپ کوقوم کا سب سے بڑاہمدردی کرنے والالیڈرثابت کرناہوتوسچ کے قریب بھی نہ بھٹکئے، اردگرد غنڈوں کی پوری جمعیت رکھئے؛ تاکہ لوگوں کوآپ کی شرفِ باریابی حاصل کرنے کے لئے خوب پاپڑ بیلنے پڑیں، پاپڑبیلنے کے بعد بھی ’’خط مستقیم‘‘سے آگے نہ بڑھنے پائیں، اگرکوئی راہ گم کردہ پہنچ جائے اورکچھ مدعاسنانے کی ’’سعی ناکام‘‘کرے توراستہ سے اس طرح ہٹادیاجائے کہ فرشتوں کوبھی ہوانہ لگ سکے کہ ’’اِدھرسے گزراہے یار! ابھی کوئی‘‘۔

اگرآپ بہت ہی ماہرڈاکٹرکی حیثیت سے اپنی پہچان بناناچاہتے ہوں توسب سے پہلے اپنی فیس دوچند کیجئے، خون چوسنے کے طریقے اپنایئے، کچھ بھی ہوجائے انجکشن ضروردیجئے، خواہ انفکشن ہی کیوں نہ ہوجائے، پیٹ میں دردبھی ہوتوگلوکوز چڑھایئے، بلاوجہ چیک اپ اورٹسٹ لکھئے اوراس کے لئے اس Labمیں بھیجئے، جہاں سے آپ کوکمیشن کی رقم زیادہ ملتی ہو، پھردوچار روز کے لئے ایڈمٹ ضرورکیجئے۔

اگرآپ کی آرزوئے خفتہ یہ ہوکہ آپ سماحۃ الشیخ کہلائیں تواس کے لئے جبہ ودستارسے لیس ہوناپڑے گا، عمدہ عمدہ اسپرے سے اپنے جسم اورکپڑوں کومعطرکرناہوگا، خوب چوڑے مہری والاپاجامہ پہننا ہوگا، حوالی مولی کاایک جمگھٹا بھی ہونا ضروری ہے، خواہ آپ ’’جاہل کے لٹھ‘‘ ہی کیوں نہ ہوں۔

اگرآپ ’’اہل دانش وبینش‘‘میں اپناشمارکراناچاہتے ہوں تواپنے سے بڑوں کی مجلس میں کچھ نہ کچھ ضرور اظہارخیال کرتے رہناچاہئے اورایسے موضوع پرکرناچاہئے، جس کے ’’میم‘‘ سے بھی آپ واقف نہ ہوں، کبھی کبھاراسلامی تعلیمات کی فرسودگی پربھی گفتگوکرنی چاہئے، خواہ اس کی حیثیت ’’مجذوب کی بڑ‘‘کی ہی کیوں نہ ہو۔

اگرخواتین کے لئے آپ کے دل میں ہمدردی کی ’’بھرمار‘‘ہواورآپ اُنھیں عزت کی چوٹی پربٹھاناچاہتے ہوں اور(بزعم ان کے)اسلام کے Out of date نظام سے اُنھیں باہر نکالناچاہتے ہوں تو’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک کے ’’نقشِ پا‘‘ پرچلناہوگا، لباس جتناتنگ، مختصراورچست اُنھیں پہناسکتے ہوں، پہناناہوگا کہ ایک ہی نظرمیں کوہِ ہمالہ کی برفیلی چوٹی بھی نظرآجائے اور’’سینا‘‘کی وادی بھی نگاہوں کے سامنے عیاں ہوجائے۔

شائداسی ’’اُلٹی گنگا‘‘کی رومیں بہہ کرہمارے ملک کے ’’دوررس‘‘ اور’’دوربیں‘‘ حضرات نے ایڈز جیسی موذی بیماری سے نوجوانوں کوبچانے کے لئے اسکولوں میں جنسی تعلیم کو لازمی جزء قراردئے جانے کی بات کہہ رہے ہیں،انھیں لوگوں کے لئے کہاگیاہے: ’’کواچلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا‘‘۔

٭٭٭

1 comment: