Thursday, 24 September 2020

بزدلی ہی ہماری اصل کمزوری ہے



 بزدلی کا شکار ہیں ہم لوگ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


اس وقت پوری دنیامیں195ممالک ہیں، جن میں سے 57صرف مسلم ممالک ہیں، اگرآبادی پرنظرڈالیں توپوری دنیامیں تقریباً1.9بلین مسلمانوں کی آبادی ہے، جوعیسائیوں کے بعد دوسری بڑی آبادی ہے، پھرجوممالک مسلم ہیں، ان میں بھی اکثر قدرتی ذخائرسے مالامال ہیں اوریہ سن کرتعجب ہوگا کہ International Monetary Fund, World Economic Outlook October 2019کے مطابق اقتصادی ترقی کی رینکنگ میں قطرپہلے نمبرپرہے،وہ  GDP-PPP($) 1,32,886کامالک ہے، جب کہ برونئی ، یونائیٹیڈ عرب امارت اورکویت ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ، سعودی عرب سولہ ، بحرین تئیس، عمان اٹھائیس اورملیشیاانچاس نمبر پر ہیں(https://www/gfmag.com/global-data/economic-data/richest-countries-in-the-world)، اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اقتصادی اعتبارسے بھی مسلم ممالک کمزورنہیں ہیں۔

لیکن اس کے باوجوددنیاکے اطلس پرسب سے زیادہ کمزورمسلم قوم ہی ہے، اس کی حیثیت اس یتیم کی سی ہوکررہ گئی ہے، جوکمینہ کے دسترخوان پربیٹھاہو، لوگ اس کامذاق اڑارہے ہوں، منھ چڑارہے ہوں اوربے چارہ اپنی ناتوانی اورکمزوری کی وجہ سے دل مسوس کررہ جائے، اخبارکے پہلے صفحہ پر اس کی کمزوری کی داستان روزانہ چھپتی نظرآتی ہے؛ حالاںکہ یہ وہی قوم ہے، جس نے اپنے زمانے کے سپرپاورطاقتوں سے ٹکرلیااورانھیں گھٹنوں کے بل چلنے پرمجبورکردیا، یہ وہی قوم ہے، جس کے سامنے سمندرکی طغیانی بھی بے بس نظرآئی، جس کاراستہ افریقہ کے جنگلات میں بسنے والے خطرناک اورموذی درندے وچرندے بھی نہیں روک سکے، جس کے جوانوںنے خشکی میں کشتیاں چلائیں، جس کے طالع آزماؤں نے دشمن کے علاقہ میں پہنچ کراپنی کشتیاں جلادیں؛ تاکہ شہادت یاسروخ روئی کے علاوہ ذہن ودماغ میں کوئی اورخیال نہ آئے۔

آج اسی قوم کی حالت انتہائی خستہ ہے، ہرکوئی اس پرانگلیاں اٹھادیتاہے، ہرکوئی اس کے منھ پرطمانچہ جڑدیتاہے؛ لیکن آخروجہ کیاہے؟ جب غورکیاجاتاہے تواس کی بنیادی وجہ ’’بزدلی‘‘ نظرآتی ہے، باعزم اورہمت کے پیکرلوگوں کی طرف کوئی بھی نگاہ اٹھاکردیکھتاہے کیا؟ چاہے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو؛ لیکن بس بزدلی سے دورہو، بہادر ہو، حوصلہ مندہو، سمندرکی لہروں سے ٹکرانے اورپہاڑوں کے سینوں پراپناپرچم لہرانے کاجذبہ رکھتے ہوں، ہواؤں کے رخ کوموڑدینے اورآندھیوں کے منھ کوپھیردینے کاجذبہ ہوتو پھر کوئی طاقت اس کی طرف آنکھ دکھانے؛ بل کہ آنکھ ملانے کی جرء ت وجسارت نہیں کرپاتا۔

آج ہماری اکثریت بزدل ہوچکی ہے، جودراصل پیش خیمہ ہے ’’دنیاکی محبت‘‘ اور’’موت کے خوف‘‘ کا، انسان کے اندرجب یہ دوچیزیں داخل ہوجاتی ہیں تووہ بزدل ہوجاتاہے اورجب کوئی بزدل ہوجاتاہے توایک چھوٹاسا بچہ بھی اسے اپناغلام اورمطیع بنالیتاہے، تاریخ کے صفحات میں یہ درج ہے کہ ایک تاتاری عورت بیسیوں مسلم مردوں کو ایک  قطار میں جمع کرکے کہتی کہ تم لوگ رکو، میں تلوارلے کرآتی ہوں، پھروہ جاتی اوراطمینان کے ساتھ تلوارلے کرآتی، پھرایک ایک کرکے سب کاسرقلم کرتی، بزدلی اتنی گھس چکی تھی کہ کوئی ایک فرد قطار سے ہٹنے کی جرء ت نہیں کرتاتھا، یہ تھی بزدلی کی انتہا۔

آج پھرہمارے اندربزدلی گھس چکی ہے، اپنے ملک کی حالت کولیجئے، سیکڑوں کی موب لنچنگ کردی گئی اورآج بھی یہ جاری ہے؛ لیکن ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، قانونی کارروائی تک کرنے کے لئے تیارنہیں، آواز اٹھانے کے لئے تیارنہیں، سربرآوردہ لوگوں کی زبانوں پرتالے لٹک گئے ہیں، سیاسی قائدین کی زبانیں گنگ ہیں، سی اے اے کا قانون بنا، عورتیں محاذ میں ڈٹ گئیں، ہم پشت پرکھڑے ہونے سے گھبراگئے، نوجوانوں نے مورچہ سنبھالا، ہم نے نہ توان کی حوصلہ افزائی کی اورناہی ان کے شانہ بہ شانہ جاکرکھڑے ہوئے، آج ان کوجیلوں میں بند کردیاگیااورخطرناک قسم کے مقدمات ان کے خلاف قائم کردئے گئے، ہم ابھی تک ان کی مددکے لئے آگے نہیں بڑھ سکے۔

عالم عرب یکے بعدد یگرے اس سے ہاتھ ملارہاہے، جو سترسالوں سے ہمارے اپنوں کے لہوسے اپنا پیاس بجھاتارہاہے، جس نے نہ توانسانیت کاخیال کیااور ناہی عبادت گاہوں کاپاس ولحاظ رکھا، جس نے بوڑھوں، بچوں اورخواتین تک کواپنانشانہ بنایا، جھوٹی سی ناجائزریاست، اس کے حوصلے اتنے بلندکہ وہ تمہارے گھرمیں گھس کرتم کوماررہاہے اورتم ہوکہ اسی کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھارہے ہو؛ لیکن یہ ہاتھ بڑھانابے مقصد نہیں ہے، پھرکیاہے اس کامقصد؟ شکیل احمداعظمی ندوی نے اس کاتجزیہ کیاہے، جس کاخلاصہ یہ ہے کہ: ’’بین الاقوامی طاقتیں اس وقت ترکی کوگھیرنے ، جھکانے اورگرانے کے عمل میں مصروف ہیں، اصل کھلاڑی اسرائیل ہے، اس کے ہم نوایوروپ کے چندممالک ہیں، جوترکی کی صنعتی ، معاشی، عسکری اورسیاسی قوت اوربڑھتے ہوئے اثرات سے خائف ہیں، معاہدۂ لوزان کے اختتام کاوقت بھی قریب آلگاہے، اس سے قریبی ممالک یونان اور قبرص بہت خائف ہیں، فرانس انتہائی خبیث ملک ہے، ماضی میں بھی وہ استعماری قوت رہاہے، الجزائراورتیونس میں عربی زبان تقریباً ختم ہوکررہ گئی تھی، فرانسسی زبان ہی سرکاری زبان تھی، فرانس آج بھی میڈیٹرانین میں مدفون قدرتی ذخائرمیں اپناحصہ حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے؛ مگرترکی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، خاص طورپرلیبیاکی تسلیم شدہ حکومت سے معاہدات کرنے کے بعدفرانس کاگیم ختم اوریونان کادائرہ محدودہوگیاہے، لیبیاکے مقابل ساحل پراٹلی ہے، اٹلی کاسامراج لیبیاپررہاہے؛ لیکن اب اٹلی میں دم خم نہیں ہے،اسے ترکی اورلیبیاکے تعلقات پرکوئی اعتراض نہیں ہے، لیبیا میں اثرورسوخ بڑھانے کے بعدخطرہ کی گھنٹی مصراوراسرائیل میں بج گئی ہے، مصرمیں سیاسی استحکام اور سیسی اقتدارکوخطرات لاحق ہیں، اسرائیل کی للچائی نظریں میڈیٹرانین پرتھیں، اس کے سارے امکانات ختم ہوجائیں گے، دوسری طرف ترکی نے روس سے اپنے تعلقات مضبوط کئے ہیں اورS-400جیسے رشین دفاعی نظام کی خریداری نے خصوصیت کے ساتھ امریکہ کی نیند حرام کردی ہے، تویہ اصل میں مصر، فرانس اوراسرائیل کاترکی کے خلاف سرگرم عمل ہے، جس کواسرائیل اورعرب ممالک کے درمیان معاہدے اوردوطرفہ خودشگوارتجارتی ، معاشی اورثقافتی معاہدہ وغیرہ کا نام دیا جارہے‘‘، عالم عرب اس معاہدہ پریاتومجبورہے یاپھرانھیں بھی خطرہ ہے اپنے تخت وتاج کے تعلق سے ، اسی لئے وہ بھی خوش ہے اس معاہدہ سے، اس سے پہلے بھی مرسی حکومت کے بے دخلی میں عالم عرب کے ہی بعض ممالک کاہاتھ رہ چکاہے۔

یہ ہے ہماری بزدلی، کہ آج تک جس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، آج اسی سے ہاتھ ملارہے ہیں؛ لیکن اس ہاتھ ملانے کے پیچھے وہی بزدلی ہے، جونتیجہ ہے ’’دنیاکی محبت‘‘اور’’موت کے خوف‘‘ کا، خودنبی کریم ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاہے: قریب ہے کہ تمہارے اوپرقومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی، جیسے بھوکے کھانے کے پیالے پرٹوٹ پڑتے ہیں، پوچھاگیا: کیااس وقت ہم تعدادمیں کم رہیں گے؟ جواب ملا: نہیں؛ بل کہ تم تعداد میں زیادہ رہوگے؛ لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مثل ہوگے اوراللہ تعالیٰ دشمن کے سینوں سے تمہارارعب چھین لے گااورتمہارے دلوں میں وہن(بزدلی) ڈال دے گا، پوچھاگیا: وہن کیاہے؟ جواب ملا: دنیاکی محبت اورموت کاخوف‘‘ (ابوداود، حدیث نمبر: 4297)۔

دنیاکی محبت توہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اس پرروشنی ڈالنے کی زیادہ ضرورت نہیں، موت کاخوف حقیقی بھی ہے اورمعنوی بھی، تخت وتاج کاچھن جانااور چودراہٹ کاچلاجانامعنوی موت ہی توہے؟ اورآج انھیں دونوں چیزوں کی وجہ سے ہماری اکثریت بزدل ہوگئی ہے، دنیاکی محبت میں ایسے ہم غرق ہیں کہ فرائض تک کی فکرنہیں رہتی اور موت کاخود اتناہے کہ ہمیشہ جینے کی تمناہی کرتے رہتے ہیں اورمعنوی موت کااندیشہ بھی ایساہے کہ اس کی خاطرہم قوم کوبیچنے کے لئے بھی تیارہوجاتے ہیں، پوری قوم کوہم پراعتمادہے اورہم اس اعتماد کا فائدہ غلط طورپراپنے مفادکے لئے اٹھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی پیمانہ پرہماری کوئی آواز نہیں ہے کہ آواز بلند کرنے والے خودسوچکے ہیں، اس نیندسے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ،بزدلی سے اپنے آپ کوآزادکرنے کی ضرورت ہے، ورنہ: 

اپنی حالت سنور نہیں سکتی

بزدلی کاشکارہیں ہم لوگ



jamiljh04@gmail.com / Mob: 8292017888


No comments:

Post a Comment