فقہی فروعات کااختلاف اورہماراطرزعمل
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
jamiljh04@gmail.com / Mob:8292017888
اللہ تعالیٰ نے اپنے مکلف بندوں کوجوبھی احکام دئے ہیں، وہ دوطرح کے ہیں، ایک وہ ہیں، جن میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں، انھیں ’’اصول‘‘کہاجاتاہے، جیسے: وجودباری، اس کی وحدانیت، فرشتے، کتب سماویہ، رسالت محمدیہ، موت کے بعددوبارہ زندہ ہونا، پنچ وقتہ نمازیں، شراب اورزناکی حرمت وغیرہ، یہ وہ ہیں، جن میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔
دوسرے وہ احکام ہیں، جن میں دلائل کی پوشیدگی،یاان کے اجمال، یاایک سے زائد معانی پرلفظ کی دلالت،یامجتہد تک پہنچنے کے اعتبارسے روایت حدیث کی قوت وکمزوری، یا ان کے آپسی تعارض ، یا پھران کے ثبوت میں اختلاف، یامجتہدین کے مابین مصدرتشریعی پراعتماد میں تفاوت، یامصالح وضروریات کی رعایت کی وجہ سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، ان کو’’اجتہادی مسائل‘‘ اور’’فروعات فقہیہ‘‘کہاجاتاہے (الموسوعۃ الفقیہ الکویتیہ، لفظ: اختلاف: ۱؍۲۹۲ ومابعدہا، التقریروالتحبیر: ۳؍۳۰۳)۔
فروعی اوراجتہادی اختلاف درحقیقت اختلاف نہیں؛ بل کہ رحمت، وسعت، گنجائش اور قابل فخرقانونِ اسلامی کاخزانہ ہے، اس اختلاف کے بارے میں قاسم بن محمدؒ کہاکرتے تھے: کان اختلاف أصحاب رسول اللہ رحمۃ للناس۔(الطبقات الکبری: ۵؍۸۹)’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کااختلاف لوگوں کے لئے رحمت ہے‘‘۔
اوراسی اختلاف کے بارے میں امام مالک ؒ نے ہارون رشیدسے اس وقت کہا، جب انھوں نے ان کی کتاب ’’مؤطا‘‘ کوتمام لوگوں کے لئے لازم کرنے کوکہا:
یاأمیرالمؤمنین! إن اختلاف العلماء رحمۃ من اللہ تعالیٰ علی ہذہ الأمۃ، کل یتبع مایصح عندہ، وکلہم علی ہدی، وکل یرید اللہ تعالیٰ۔ (کشف الخفاء ومزیل الإلباس عمااشتھرمن الأحادیث علی ألسنۃ الناس لإسمعیل بن محمدالعجلونی :۱؍ ۸۰)’’اے امیرالمؤمنین! علماء کااختلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت پررحمت ہے، ہرشخص اس کی پیروی کرتاہے، جواس کے نزدیک صحیح ہو، اورتمام لوگ ہدایت پرہیں، اورہرشخص اللہ ہی کاارادہ کرتاہے‘‘۔
امام سیوطی فرماتے ہیں:''جانناچاہئے کہ اس شریعت میں مذاہب کااختلاف ایک بڑی نعمت اورعظیم فضیلت ہے، اوراس میں ایک لطیف رازہے، جاننے والے(علماء) جس کوپالیتے ہیں اور جاہل سے یہ پوشیدہ رہتاہے؛ یہاں تک کہ بعض جاہلوں کومیں نے یہ کہتے ہوئے سناہے کہ : نبی کریم ﷺ ایک شریعت لے کرآئے تھے تویہ مذاہب اربعہ کہاں سے آگئے؟ اوراس پربھی تعجب ہے کہ کچھ لوگ بعض مذاہب کی ایسی تفصیل کرنے لگتے ہیں، جس سے مفضل علیہ کی تنقیص اورتوہین ہوتی ہے، اوربسااوقات یہ ناسمجھوں کے مابین جھگڑاپیداکردیتاہے اوریہ جاہلی عصبیت وحمیت بن جاتی ہے، اورعلماء اس سے بری رہتے ہیں، اوربعض دفعہ صحابہ کے درمیان فروع میں اختلاف ہواہے اوراس امت کے بہترین افرادہیں؛ چنانچہ ان میں سے کسی نے کسی سے جھگڑاکیا، نہ دشمنی کی اورناہی کسی کی طرف خطااور قصورکی نسبت کی‘‘(جزیل المواہب فی اختلاف المذاہب، ص:۲۵، ط:دارالاعتصام)۔
اختلاف کی اس رحمت کافائدہ کسی زمانہ سے زیادہ آج کے ترقی یافتہ دورمیں ہوا،جتنے بھی فقہی ابواب ہیں اورہمارے فقہی ذخیرۂ کتب میں جو مسائل مذکورہیں، اگرآج کسی ایک مذہب پر کوئی شخص عمل کرناچاہے توقدم قدم پر اسے دشواریوں کاسامناکرناپڑے گا، یہی وجہ ہے کہ تمام مسالک نے جمود و تعطل کے راستہ کوترک کرکے اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت محسوس کی اوراپنے علمی سیمیناروں اورورک شاپس میں ایک مسلک سے عدول کرکے دوسرے مسلک کواختیارکیااورامت کودشواری سے بچاکرایک وسیع اورآسان دین فراہم کیا، اگریہ اجتہادی اختلافات نہ ہوتے تو آج دین پرعمل پیرارہناکس قدرددشوراہوتا، وہ کسی بھی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔
لیکن اس کے ساتھ یہ شکوہ بھی بے جانہیں کہ بعض لوگ اس اختلاف کووسعت وگنجائش کے بجائے نزاع باہمی کاذریعہ بناکرامت کے سامنے پیش کرتے ہیں اوراپنے سواتمام مسالک کونادرست قراردیتے ہیں، ظاہرہے کہ یہ سوفیصدغلط ہے؛ کیوں کہ اجتہادی مسائل میں توعہد صحابہ سے اوپراٹھ کرعہد رسالت میں بھی اس کی کئی مثالیں ہمیں مل جاتی ہیں، لہٰذا ہرمجتہدکی رائے کااحترام کرنے کااپنے کوخوگربناناچاہئے اوراللہ کے رسول ﷺکے فرمان کو(إذاحکم الحاکم، فاجتہد، ثم أصاب فلہ أجران، وإذاحکم ، فاجتہد، ثم أخطأ فلہ اجر[بخاری، باب أجرالحاکم إذااجتہد، حدیث نمبر: ۶۸۰۵، مسلم، حدیث نمبر: ۳۲۴۰])اپنے پیش نظررکھتے ہوئے خطاوصواب کے احتمال پراعتمادکرکے صرف اپنے کوہی درست قراردینے کے بجائے دوسرے کے حق پرہونے کابھی یقین رکھناچاہئے۔
ماشاء اللہ بہت خوب
ReplyDelete