Saturday, 26 September 2020

برتری(ایک پرلطف تحریر)

برتری 

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


فطرتِ انسانی کاایک اہم خاصہ یہ بھی ہے کہ جس چیز سے روکاجاتاہے، اُس چیزکو کرڈالنے کاجذبہ دوچند ہوجاتاہے اوراپنی پوری کوشش اُس کے پیچھے صرف کردیتاہے، اب دیکھئے کہ خالقِ ارض وسمانے مردوں کوعورتوں پریک گنافضیلت عطاکی ہے؛ لیکن یہ کیسے ہوسکتاتھا کہ فطرتِ انسانی اس کے خلاف بغاوت پرآمادہ نہ ہو؟اوراُس کے خلاف نہ سوچے؟ سوچناتھا، سوچااورایساسوچا کہ بس ہرجگہ فضیلت کے ثبوت کے طورپراب وہی ہیں، ماچس کی ڈبیاسے لے کربڑے بڑے پوسٹروں اورہورڈنگس تک، ایک ہی جنس مختلف روپ میں، کبھی سایہ میں توکبھی دھوپ میں، مختلف رنگ میں، کبھی اکیلے میں توکبھی کسی کے سنگ میں،  مختلف کردارمیں، کبھی ماں کے روپ میں گھرمیں توکبھی آوارۂ فطرت کی طرح بازارمیں، مختلف رفتارمیں، کبھی بائیک پرتوکبھی کارمیں، مختلف چال میں، کبھی وقاروتمکنت کے ساتھ توکبھی شرابیوں جیسی چال میں، مختلف حال میں، کبھی پورے اورساترلباس میں توکبھی صرف رومال میں، مختلف ڈھنگ میں، مختلف آہنگ میں، جہاں بھی دیکھو، وہ تفوق وبرتری اورفضیلت وبلندی کے ’’اعلیٰ نمونہ‘‘پرہیں۔

اب دیکھئے! کہ اُن کی برتری کوثابت کرنے کے لئے کون کون سے حربے اپنائے اور کون کون سے طریقے اختیارکئے گئے؟ برسوں تک دنیا’’حسینۂ کائنات‘‘(Miss Universe)اور’’حسینۂ عالم‘‘(Miss World)جیسے خطابات سے ناآشناتھی؛ لیکن ترقی کی راہ پرگامزن لوگوں کے عزم ِمبارک کی وجہ سے یہ منصۂ شہودپرآئے، جس کے حصول کے لئے پہناوے کاتومشاہدہ کیاہی جاتاہے، پنہائی بھی باریک بینی کے ساتھ دیکھی جاتی ہے، پھر جاکر خطاب کے لئے سیلیکشن کیاجاتاہے، مردوں کے لئے آج تک ایسے خطابات وجودمیں نہیں آئے، یہ برتری نہیں تواورکیاہے؟

برتری کوثابت کرنے کے لئے دنیاوالوں نے کیاکچھ نہیں کیا؟ ہوٹلوں میں ملازتیں دلوائیں، جہاں گاہکوں سے مسکرامسکراکرباتیں کرنی ہوتی ہیں، جام وخمورنوش جان کرانے کے لئے لوگوں کے سامنے بہت ہی ادب کے ساتھ، سلیقہ سے بن سنورکرکہ دیکھنے والوں کی نگاہیں چشمِ آہوسے سیرابی حاصل کرکے چاہ غبغب اورچاہ زنخداں پربراجمان ہوسکے، انداز میں خرام پیداکرکے، گردن ذراساخم کرکے کہ سامنے والا سوسوجان سے قربان ہوجائے، آناپڑتاہے، مرداپنی چال میں ایسی لچک پیداہی نہیں کرسکتاکہ دیکھنے والوں کی نیندحرام ہوجائے، توہوٹلوں کی ملازمت اُن کے حصہ میں کیوں کرآسکتی ہے؟ ہاں! ایسااُس وقت ہوسکتاہے، جب کوئی نگاہِ جوشؔ سے کسی مردکی چال کودیکھے۔

مردوں کے شانہ بہ شانہ دفاترمیں نوکریاں دلوائیں، جہاں دن بھرتھکتی رہتی ہیں، شام آتے ہی اپنے گھروں کولوٹ کر’’بال وپر‘‘سنبھالتی ہیں، پھربچوں اورشوہرکے لئے ڈنرتیارکرتی ہیں، واقعی صاحب! یہ برتری ہی توہے کہ بے چارے مردوں کی توایک ہی ذمہ داری نباہنے میں نانی مرنے لگتی ہے، جب کہ عورتیں دوہری ذمہ داری اپنے دامنِ نازک میں سمیٹ کربخوبی نباہ رہی ہیں۔

بہرحال! بات عورتوں کی برتری کی ہورہی تھی، اب دیکھئے کہ بے چارے مردحضرات اتنے کمزورہوچکے ہیں کہ بس، جب بھی گھرسے باہرجاناپڑتاہے توبے چاروں کوبہت اہتمام کرناپڑتاہے، ٹی شرٹ کے اوپرکوٹ، ٹائی اوراب توکچھ لوگ پاجامہ کرتامیں دوپٹہ بھی استعمال کرنے لگے ہیں، پینٹ، پھرجوتے کے ساتھ موزے لازم؛ لیکن عورتیں! نہ دوپٹہ کی ضرورت، نہ آنچل کی حاجت، لباس سے جسم جتنا جھلکتاہو، اتنااچھا، شلوارکی جگہ اسکرٹ اوروہ بھی گھنٹے کے اوپرتک، صاحب ! یہ برتری ہی توہے کہ بے چارہ مرد جب راستہ چلتاہے توشرماتے ہوئے، لجاتے ہوئے، نگاہیں بالکل نیچی ، جیسے کوئی نئی نویلی دلہن ہو؛ لیکن ہماری عورتیں! حسن کاجلوہ بکھیرتے ہوئے، ہونٹوں پرسرخی کی لپائی کرکے، پورے طورپرحسن کی دیوی اور’’قتالۂ عالم‘‘بن کر، خواہ ’’لیلیٰ‘‘ جیسی ہی کیوں نہ ہو، سڑکوں پرنزول اجلال فرماتی ہیں، مردبے چارہ سوچتاہی رہتاہے کہ سامنے سے آنے والی قتالۂ عالم سے کنی کاٹے یا اس سے مس ہوکر’’لمسِ بہار‘‘ کااحساس جگائے کہ اس قدرزورسے دھکاملتاہے کہ اگر’’ہجومِ بے کراں‘‘پیچھے نہ رہے توگرتے ہی بنے، اگرآپ کے دہنِ مکروب سے ’’اُف‘‘ کی آواز بھی نکلی( آہ تودورکی بات ہے) تونازک ہتھیلیوں کی چٹاخ اورسینڈل کی تڑا خ سے اردگردگونج جائے گی، ایسے موقع پراگرپولیس آجائے تو کچھ ’’مٹھی بند‘‘دے دلاکردُم دباکربھاگ نکلنے کی کوشش کیجئے، ورنہ ’’حبسِ بے جا‘‘کے لئے تیار رہئے؛ کیوں کہ بات برترکی سنی جاتی ہے، کم ترکی نہیں۔

برتری کی یہ کھلی اورواضح دلیل ہے کہ عورتیں دنیا کے کسی کونہ میں صدرعالی مرتبت کے عہدۂ جلیلہ پرفائزہیں، کہیں وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنالوہا(خام ہی سہی) منوارہی ہیں، کسی ملک کی وزیراعظم ، کہیں وزیراعلی اورنہ جانے کون کون سے عہدوں پرفائز ہیں، انہی عہدوں کی بدولت کبھی گارڈ آف آنرسے بھی محظوظ ہوتی ہیں اورمسرت کی کلیاں اُس وقت چٹخنے لگتی ہیں، جب مردحضرات گارڈ آف آنرپیش کرتے ہیں، (شاید ان کادل بھی اس وقت دوڈھائی کیلوکا ہوجاتاہوہوگا)، یہ توتسلیم شدہ برتری ہے۔

’’جادووہ، جوسرچڑھ کربولے‘‘، اب توواعظانِ حرم اوردردمندانِ امم نے بھی ان کی برتری کوتسلیم کرلیاہے، چنانچہ جب بھی مائیک پرآنے کااتفاق ہوتاہے، جھپٹ کردھاڑتے ہیں ’’خواتین وحضرات!‘‘، یعنی پہلے خواتین، پھرحضرات، یہ بھی برتری کی ایک کھلی مثال ہے۔

٭٭٭

3 comments: